Abasa 80:16

Abasa · from ayah 16

80:16

كِرَامٍ بَرَرَةٍ ۟ؕكِرَامٍۢ بَرَرَةٍؕ‏

جو سردار اور نیکو کار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Noble and dutiful.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:16

جو سردار اور نیکو کار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو بزرگ اور پاکباز ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو خود بڑی عزت والے، بہت نیک ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو کرم والے نکوئی والے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو بڑے صاحبانِ کرامت (اور) پیکرانِ طاعت ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو معزز ہیں، نیک ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو بڑے بزرگ اور نیکو کار ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو بڑے ہی عزت والے اور نیکوکار ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

جو بڑے معزز اور نیک ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو سردار اور نیکو کار ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

who are honorable, righteous.

— Muhammad Taqi Usmani

who are honorable, righteous.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Honorable and obedient.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Noble and dutiful.

— Saheeh International

and angelic scribes.

— Muhammad Sarwar

Noble, virtuous.

— Muhammad Habib Shakir

Honourable and virtuous.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 80:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة عَبَس 7 جس سلسلہ بیان میں یہ آیات ارشاد ہوئی ہیں ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ قرآن مجید کی یہ تعریف محض اس کی عظمت بیان کرنے کے لیے نہیں کی گئی ہے بلکہ اصل مقصود ان تمام متکبر لوگوں کو، جو حقارت کے ساتھ اس کی دعوت سے منہ موڑ رہے ہیں، صاف صاف بتادینا ہے کہ یہ عظیم الشان کتاب اس سے بدرجہا بلندو برتر ہے کہ تمہاری حضوری میں اسے پیش کیا جائے اور تم سے یہ چاہا جائے کہ تم اسے شرف قبولیت عطا کرو۔ یہ تمہاری محتاج نہیں ہے بلکہ تم اس کے محتاج ہو۔ اپنی بھلائی چاہتے ہو تو جو خناس تمہارے دماغ میں بھرا ہوا ہے اسے نکال کر سیدھی طرح اس کی دعوت کے آگے سر تسلیم خم کردو۔ ورنہ جس قدر تم اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

ۙبِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ 15؀ۙكِرَامٍۢ بَرَرَة۔ بفتحتین سافر کی جمع بھی ہوسکتی ہے جس کے معنی کاتب کے ہیں، اس صورت میں اس سے مراد فرشتے، کرام کاتبین یا انبیا (علیہم السلام) اور ان کی وحی کو لکھنے والے حضرات ہوں گے۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد سے یہی تفسیر منقول ہے۔ اور لفظ سفرہ، سفیر بمعنے قاصد کی جمع بھی ہوسکتے ہے، اس صورت میں اس سے مراد ملائیکہ اور انبیا (علیہم السلام) اور وحی کی کتابت کرنے والے حضرات صحابہ ہوں گے، اور علمائے امت بھی اس میں داخل ہیں، کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان سفیر اور قاصد ہیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرات میں بھی ماہر ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ ’کِرَامٍ‘ میں ان کی عالی مقامی اور بلند کرداری کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایسے بلند مرتبہ اور معزز ہیں کہ ان سے کسی خیانت کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ نہ وہ اس میں خود کمی بیشی کر سکتے، نہ یہ امکان ہے کہ جنات و شیاطین کو اس تک رسائی کا کوئی موقع دیں۔ ’بَرَرَۃٍ‘ جمع ہے ’بَارٌّ‘ کی۔ ’بَارٌّ‘ کہتے ہیں فرماں بردار، باوفا اور اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والے کو۔ یہ صفت ان کی امانت داری کے وصف کو مزید نمایاں کرنے کے لیے آئی ہے مثلاً فرمایا ہے: ’نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ‘ (الشعراء ۲۶: ۱۹۳) (یہ کلام جبریل امین کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے)۔ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت ہے: ’اِنَّہٗ لَقَوْلُ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی خلق کے اعتبار سے وہ کریم یعنی شریف اور بزرگ ہیں اور افعال کے اعتبار سے وہ نیکوکار اور پاکباز ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–16

انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی وہاں فرشتے اس کو لکھتے ہیں اسی کے موافق وحی اترتی ہے۔ اور یہاں بھی اوراق میں لکھنے اور جمع کرنے والے دنیا کے بزرگ ترین پاکباز نیکوکار اور فرشتہ خصلت بندے ہیں جنہوں نے ہر قسم کی کمی بیشی اور تحریف و تبدیل سے اس کو پاک رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

آیت 16{ کِرَامٍم بَرَرَۃٍ۔ } ”جو بڑے معزز اور نیک ہیں۔“ اس سے ملتی جلتی بات ہم سورة الواقعہ کی اس آیت میں بھی پڑھ آئے ہیں : { لاَ یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ۔ } ”اسے چھو نہیں سکتے مگر وہی جو بالکل پاک ہیں“۔ مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا مقام بہت بلند ہے۔ تو اے نبی ﷺ آپ قرآن مجید کے مقام اور مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان لوگوں سے معاملہ کیجیے اور جو شخص قرآن مجید سے اعراض کرتا ہے آپ بھی اس کو منہ نہ لگایئے۔ ان کے مقابلے میں آپ زیادہ توجہ ان لوگوں پر دیجیے جو ہدایت کی تلاش میں آپ کے پاس چل کر خود آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

9 سَفَرَۃٍ : سافِر کی جمع ہے اور السِّفر اس کتاب کو کہتے ہیں جو حقائق کو بےنقاب کرتی ہو اور اسفار بمعنی تورات کی شرح و تفاسیر اور سافر وہ شخص ہے جو ایسی تحریر کرتا یا لکھتا ہو اور اس لفظ کا اطلاق الہامی تحریر لکھنے والے فرشتوں اور انسانوں پر ہوتا ہے۔ نیز نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں پر بھی۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کو لکھنے والے نہایت معزز اور بزرگ فرشتے ہیں۔ اسی کے موافق وحی نازل ہوتی ہے اور یہاں بھی اوراق میں لکھنے اور جمع کرنے والے دنیا کے بزرگ ترین، پاکباز، نیکو کار اور فرشتہ سیرت انسان ہیں۔ جنہوں نے اس قرآن کو ہر قسم کی کمی بیشی یا تحریف و تبدیل سے پاک رکھا ہے۔ گویا قرآن جیسی عظیم الشان کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–19

7۔ اور پھر کیسی کیسی نعمتوں سے سرفراز وسربلند کیا ! مطلب یہ ہوا کہ اگر اور کچھ نہیں تو انسان انہیں چیزوں کا خیال کرلے، جب بھی اس میں ادائے شکر نعمت کی تحریک پیدا ہوسکتی ہے۔ (آیت) ” قتل “۔ صیغہ ماضی میں، عربی محاورہ میں، بددعاء کے لیے آتا ہے۔ (آیت) ” الانسان “۔ مراد کافر انسان ہے (آیت) ” من ای ..... نطفۃ “۔ نطفہ کی تحقیر سے ضمنا ان جاہلی قوموں کی تردید بھی نکل آئی، جنہوں نے اسے ایک مقدس شے قرار دیا ہے۔ 8۔ یعنی نہ صرف عمل تخلیق بلکہ ترکیب انسانی میں تناسب و توازن اور قوی، اعضاء وغیرہ کی ساخت ترتیب، ہر شے قدرت الہی و حکمت کاملہ پر دلیل کا کام دے رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–16

فانت عنہ تلھی، یعنی ایسے شخص کی جن کے دل میں خدا کا خوف ہو جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ وہ آپ ﷺ کی باتوں پر عمل کرے گا اور آپ کی نصیحت اس کیلئے مفید ثابت ہوگی، قدر کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی، ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب آقا و غلام، مرد و عورت چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت ہدایت سے نواز دے گا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–16

(5۔ 16) سو جو شخص اللہ تعالیٰ سے بےپروائی کرتا ہے آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے موحد نہ بننے کا آپ پر کوئی الزام نہیں اور جو شخص نیکی کے شوق میں آپ کے پاس دوڑ کر آتا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے اور حضرت ابن ام مکتوم پہلے ہی سے مشرف بااسلام ہوچکے تھے، چناچہ اس کے بعد جب حضرت ابن ام مکتوم آپ کے پاس آتے تو آپ ان کی بڑی خاطر و احترام کرتے، امیر ہو یا غریب یہ سورت سب کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نصیحت کی چیز ہے لہذا جس کا دل چاہے نصیحت قبول کرے اور یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ثبت ہے جو عنداللہ مکرم ہیں۔ رفیع المکان ہیں اور وہ شرک و…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–16

(1) بایدی سفرۃ…:”سفرۃ“”سافر“ کی جمع ہے، لکھنے والا۔”سفر“ کتاب، اس کی جمع ”اسفار“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(کمثل الحمار یحمل اسفاراً (الحجمۃ : 5)”(بےعمل یہود کی مثال) گدھے کی طرح ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لکھنے والوں کی تعریف فرمائی ہے، خواہ وہ فرشتے ہوں یا کاتبین وحی، صحابہ ہوں یا دوسرے، فرمایا یہ لوگ اللہ کے ہاں بہت عزت والے اور نہایت نیک ہیں۔ اس طرح کتابت کے علاوہ اس کا پڑھنا پڑھانا بھی سب سے بہتر اور نیک ہونے کی دلیل ہے، عثمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ) (بخاری، فضائل القرآن، باب خیر کم من تعلم…: 5028)”تم میں سب سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

کرام بررہ۔ اپنے رب پر کریم ہیں یہ کلبی کا نقطہ نظر ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، وہ معاصی سے بالا ہیں وہ اپنے آپ کو نافرمانیوں سے بلند رکھتے ہیں ضحاک نے حضرت ابن عباس سے کرام کی یہ وضاحت نقل کی ہے وہ فرشتے اس سے بالا ہیں جب خاوند اپنی بیوی کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کرے یاقضاٗے حاجت کے لیے پردہ کھولے تو وہ اس بندے کے ساتھ ہوں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ دوسروں کے منافع کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔ بررۃ۔ بار کی جمع ہے جس طرح کفرہ کافر کی جمع ہے، سحرہ، ساحر کی جمع ہے، فجرہ، فاجر کی جمع ہے برا اور بار جب وہ سچ کا اہل ہو، اس سے برفلان فی یمینہ فلاں اپنی قسم میں سچا ہے فلاں یبر خالقہ، وتبررہ فلاں، اپنے خالق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

17۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایدی سفرۃ سے مراد ہے لکھنے والے کتابت کرنے والے۔ 18۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایدی سفرۃ کرام بررۃ ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو بڑے بزرگ نیکو کار ہیں اس سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سفرۃ سے مراد ہے فرشتوں میں سے لکھنے والے۔ 20۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بایدی سفرۃ سے مراد ہے لکھنے والے۔ 211۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں عطاء بن ابی رباح (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 22۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے ابن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–16

اس کے بعد فرمایا ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ0011 ﴾ آپ ہرگز ایسا نہ کیجیے کہ جو شخص آپ کے پاس دینی باتیں معلوم کرنے آئے اس کی طرف سے بےتوجہی کریں کیونکہ قرآن ایک نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے آپ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے جو قرآن اور اس کی نصیحت قبول نہ کرے اس کا وبال اسی پر ہے، آپ پر کوئی ضرر نہیں اس کے بعد قرآن کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو اللہ کے یہاں مکرم ہیں اور بلند اور مقدس ہیں، کیونکہ شیاطین وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور یہ صحیفے ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں جو باعزت اور نیک ہیں (فرشتے چونکہ لوح محفوظ سے قرآن مجید کو نقل کرتے ہیں اس لیے ﴿…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–16

5:۔ ” کلا “ حرف ردع ہے۔ یوں تو نہیں چاہئے تھا۔ یہ بمعنی ” حقا “ ہے اور ما بعد سے متعلق ہے یعنی یقیناً ۔ یہ آیت قرآنیہ ہر ایک کے لیے عبرت و نصیحت ہیں جو بھی چاہے انہیں پڑھ سن کر ان سے نصیحت حاصل کرے۔ ” فی صحف “ اس سے مراد وہ صحیفے اور تختیاں ہیں جن پر فرشتے لوح محفوظ سے کلام اللہ کو نقل کرتے ہیں وہ صحیفے اللہ کے نزدیک قابل تکریم ہیں، قدر و منزلت میں بہت بلند اور پاکیزہ ہیں کہ فرشتوں کے سوا کسی کا ہاتھ ان کو نہیں لگا۔ وہ صحیفے ایسے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت والے ہیں اور گناہوں سے پاک اور اللہ تعالیٰ کے نہایت فرمانبردار ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ” سفرۃ “ سے صحابہ کرام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(پس منظر) اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كِرَامٍؚبَرَرَۃٍ۝ 16 ۭ كرم الكَرَمُ إذا وصف اللہ تعالیٰ به فهو اسم لإحسانه وإنعامه المتظاهر، نحو قوله : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وإذا وصف به الإنسان فهو اسم للأخلاق والأفعال المحمودة التي تظهر منه، ولا يقال : هو كريم حتی يظهر ذلک منه . قال بعض العلماء : الكَرَمُ کالحرّيّة إلّا أنّ الحرّيّة قد تقال في المحاسن الصّغيرة والکبيرة، والکرم لا يقال إلا في المحاسن الکبيرة، كمن ينفق مالا في تجهيز جيش في سبیل الله، وتحمّل حمالة ترقئ دماء قوم، وقوله تعالی: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ [ الحجرات/ 13] فإنما کان کذلک لأنّ الْكَرَمَ الأفعال المحمودة، وأكرمها وأشرفها ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–16

فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ۔ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ م۔ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ ۔ (عبس : 13 تا 16) (یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو لائقِ تعظیم ہیں۔ بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں۔ ایسے کاتبوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ جو معزز اور باوقار ہیں۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت اوپر جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کی مزید وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے یہ شایانِ شان نہیں کہ آپ ان بددماغ اشرافِ قریش کے سامنے اس طرح بات کریں جیسا چھوٹا بڑوں کے سامنے کوئی درخواست پیش کرتا ہے۔ آپ خالق کائنات کے سفیر ہیں۔ ان اشراف سے بات کرتے ہوئے آپ کی عظمت کا اظہار ہونا بھی ضروری ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–16

فہم القرآن ربط کلام :” اللہ تعالیٰ “ سے ڈرنے اور ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی نصیحت پر عمل کیا جائے۔ قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی نصیحت بہتر نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے طور پر نازل فرمایا ہے۔ اس میں ہدایت اور گمراہی کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں ہدایت کی طلب پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو شخص ہدایت کا طالب نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا کیونکہ اس کا فرمان ہے جو چاہے ہدایت حاصل کرے اور جو چاہے اپنے آپ کو گمراہی کے حوالے کیے رکھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ہدایت اور کفر کا راستہ واضح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : کِرَامٍ (وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہیں) نمبر 2۔ گناہوں سے محفوظ ہیں۔ بَرَرَۃٍ (نیک) یہ بارٌ کی جمع ہے یعنی متقی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” بایدی سفرۃ “ ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں لکھنے والے اور وہ معزز فرشتے لکھنے والے ہیں۔ ان کا واحد سافر ہے۔ کہا جاتا ہے سفرت یعنی میں نے لکھا اور اس سے کتاب کو سفر کہا جاتا ہے اور اس کی جمع اسفار ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے وہ فرشتوں میں سے رسول اس کا واحد سفیر ہے اور وہ رسول (قاصد) اور قوم کا سفیر وہ شخص جو ان کے درمیان صلح کی کوشش کرے اور ” سفرت بین القوم “ جب تو ان کے درمیان صلح کرادے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(كِرَامٍۢ بَرَرَةٍ ) یعنی وہ بہت زیادہ خیروبرکت والے ہیں ان کے دل اور اعمال نیک ہیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(14) اس کتاب حکیم کے حاملین کی صفات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اس کتاب حکیم کے حاملین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ بڑے ہی معزز اور باوفا کا تبوں کے ہاتھوں میں ہے "۔ یعنی " سفرہ " جمع ہے، " سافر " کی، جس کے معنی کاتب کے آتے ہیں، جیسے " کتبتہ " جمع ہے کاتب کی، اور اسی سے " سفر " بمعنی کتاب کے آتا ہے، جس کی جمع " اسفار " آتی ہے، اور دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ " سافر " بمعنی " سفیر " کی جمع ہو کہ فرشتے بھی دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر اور واسطے ہوتے ہیں۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ البیان، مراغی، خازن وغیرہ) سو جو کلام حکیم ایسی عظمتوں کا مالک ہے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

ف 4 یعنی وہاں عزت دار خدا کے تابع دار فرشتے اسے لوح محفوظ سے لکھتے ہیں اور پھر اسی کے مطابق وحی آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:16) کرام بررۃ۔ ہر دو سفرۃ کی صفات ہیں اور اسی مناسبت سے منصوب ہیں۔ کرام، کریم کی جمع ہے۔ باعزت۔ بزرگ۔ بررۃ، بر کی جمع ہے۔ نیکوکار۔ بررۃ ابرار کی نسبت زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ابرابر باز کی جمع ہے۔ اور بررۃ بر کی۔ اور جس طرح عدل (یعنی سرتاپا انصاف) عادل سے زیادہ بلیغ ہے اسی طرح بربار سے زیادہ بلیغ ہے۔ قرآن مجید میں یہ فرشتوں کی صفت میں استعمال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

(ف 1) شان نزول : سورة عبس میں ایک سوتیس کلمے ، پانچ سو تینتیس حروف ہیں نبی ﷺ عتبہ بن ربیعہ ، ابوجہل ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف اشراف قریش کو اسلام کی دعوت فرما رہے تھے اس درمیان عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی حاضر ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اس میں سے تعلیم فرمائیے، جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے حضور کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گذرا، آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ یہ قریش کے بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہیں ان کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–18

[4] یہ اوصاف ان فرشتوں کے بیان ہوئے جو قرآن کو لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو کام فرشتوں کے سپرد کیا گیا ہے اس میں ذرہ برابر خیانت کا امکان نہیں اور وہ اپنی ذمہ داری پوری دیانت کے ساتھ پوری کرتے ہیں۔ قرآن اور اس کے کاتبین کی صفات کے ذکر سے مقصود رسول اکرم ﷺ کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ متکبر لوگوں کے سامنے منت و سماجت کر کے پیش کیا جائے اور ان سے یہ چاہا جائے کہ وہ اسے شرف قبولیت عطا کریں۔ یہ ان کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ اس کے محتاج ہیں۔ اگر وہ اپنی بھلائی چاہتے ہیں تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ورنہ جس قدر وہ اس سے بےنیاز بنتے ہیں اس سے بہت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–36

ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) کہ وہ گزرگ اور نیک کردار ہیں۔ یعنی وہ صحاف ایسے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں اور ایسے لکھنے والے اس کو لکھتے اور نقل کرتے ہیں جو نہایت بزرگ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم اور نیک ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی فرشتے اس کو لکھتے ہیں اس کے موافق وحی اترتی ہے۔ خلاصہ : یہ کہ یہ تمام امور اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ قرآن منجانب اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی تمام حفاظت اور اس کی نقل امر الٰہی سے ہوتی ہے آگے منکرین کی نظاعت اور کلام الٰہی پر ایمان نہ لانے والوں کی تشنیع ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 تا 16 یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

بِأَيْدِي سَفَرَ‌ةٍ كِرَ‌امٍ بَرَ‌رَ‌ةٍ (in the hands of those scribes who are honourable, righteous. [ 80:15-16] ) The word safarah, with fathah [=a+a ] on the first two letters, may be the plural of safir which means a 'scribe'. In this case, it would refer to the recording angels, or to the Prophets (علیہم السلام) and those of their aides who write down the revelation. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and Mujahid (رح) hold this view.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 This refers to the angels who were writing the scrolls of the Qur'an under the direct guidance of Allah, were guarding them and conveying them intact to the Holy Prophet (upon whom be peace) . Two words have been used to qualify them: karim, i.e. noble, and barr, i.e. virtuous. The first word is meant to say that they are . so honoured and noble that it is not possible that such exalted beings would commit even the slightest dishonesty in the trust reposed in them. The second word has been used to tell that they carry out the responsibility entrusted to them of writing down the scrolls,…

Read the full tafseer →