بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍ ۟ۙبِاَيۡدِىۡ سَفَرَةٍ
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Carried] by the hands of messenger-angels,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍ ۟ۙبِاَيۡدِىۡ سَفَرَةٍ
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Carried] by the hands of messenger-angels,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
معزز اور نیک کاتبوں کے
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے
ان لکھنے والوں کے ہاتھ میں رہتے ہیں۔
ایسوں کے ہاتھ لکھے ہوئے،
ایسے سفیروں (اور کاتبوں) کے ہاتھوں سے (آگے پہنچی) ہیں،
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔
ان کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں
کا تبوں کے ہاتھوں میں
ایسے عظیم الشان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں رہتے) ہیں۔
ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں۔
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
borne by the hands of scribes,
in the hands of those scribes
in the hands of those scribes
In the hands of ambassadors (Safarah),
(Set down) by scribes
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[Carried] by the hands of messenger-angels,
by the hands of the noble, virtuous,
In the hands of scribes
By the hands of scribes.
(Written) by the hands of scribes-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–16
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں…
Read the full tafseer →سورة عَبَس 6 ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو قرآن کے ان صحیفوں کو اللہ تعالیٰ کی براہ راست ہدایت کے مطابق لکھ رہے ہیں، ان کی حفاظت کر رہے تھے، اور رسول اللہ ﷺ تک انہیں جوں کا توں پہنچا رہے تھے۔ ان کی تعریف میں دو لفظ استعمال کیے گئے ہیں۔ ایک کرام، یعنی معزز۔ دوسرے بار، یعنی نیک۔ پہلے لفظ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ اتنے ذی عزت ہیں کہ جو امانت ان کے سپرد کی گئی ہے اس میں ذرہ برابر خیانت کا صدور بھی ان جیسی بلند پایہ ہستیوں سے ہونا ممکن نہیں ہے۔ اور دوسرا لفظ یہ بتانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ ان صحیفوں کو لکھنے، ان کی حفاظت کرنے اور رسول تک ان کو پہنچانے کی جو ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی ہے اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ۙبِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ 15ۙكِرَامٍۢ بَرَرَة۔ بفتحتین سافر کی جمع بھی ہوسکتی ہے جس کے معنی کاتب کے ہیں، اس صورت میں اس سے مراد فرشتے، کرام کاتبین یا انبیا (علیہم السلام) اور ان کی وحی کو لکھنے والے حضرات ہوں گے۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد سے یہی تفسیر منقول ہے۔ اور لفظ سفرہ، سفیر بمعنے قاصد کی جمع بھی ہوسکتے ہے، اس صورت میں اس سے مراد ملائیکہ اور انبیا (علیہم السلام) اور وحی کی کتابت کرنے والے حضرات صحابہ ہوں گے، اور علمائے امت بھی اس میں داخل ہیں، کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان سفیر اور قاصد ہیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرات میں بھی ماہر ہے…
Read the full tafseer →اس کلام کے حاملین کی صفات: ’بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کِرَامٍ م بَرَرَۃٍ‘۔ یہ ان ملائکہ کی صفت بیان ہو رہی ہے جن کی امانت میں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عزیز کو محفوظ فرمایا ہے۔ اوپر ’لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ‘ والی آیت کا ہم نے حوالہ دیا ہے۔ اس میں جو بات منفی پہلو سے فرمائی گئی ہے وہی بات یہاں مثبت پہلو سے فرمائی گئی ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ اس کتاب عزیز تک ارواح خبیثہ کی رسائی نہیں ہے بلکہ یہ ان پاک فرشتوں کی تحویل میں ہے جو نہایت باعزت اور نہایت باوفا ہیں۔ ’سَفَرَۃٌ‘ جمع ہے ’سَافِرٌ‘ کی جس کے معنی قاری و کاتب کے ہیں۔ ’سفر‘ پڑھنے اور لکھنے دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ اس کے اشتقاق پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
15۔ 1 یعنی اللہ اور رسول کے درمیان ایلچی کا کام کرتے ہیں۔ یہ قرآن سفیروں کے ہاتھوں میں ہے جو اسے لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
3: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ اس میں دوسری باتوں کے علاوہ قرآن کریم بھی لوح محفوظ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
4 یعنی کیا ان مغرور سر پھروں کے ماننے سے قرآن کی عزت و وقعت ہوگئی ؟ قرآن تو وہ ہے جس کی آیتیں آسمان کے اوپر نہایت معزز، بلند مرتبہ اور صاف ستھرے ورقوں میں لکھی ہوئی ہیں اور زمین پر مخلص ایماندار بھی اس کے اوراق نہایت عزت و احترام اور تقدیس و تطہیر کے ساتھ اونچی جگہ رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
آیت 13{ فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ۔ } ”یہ قرآن ایسے صحیفوں میں درج ہے جو باعزت ہیں۔“ یہ مضمون مختلف انداز اور مختلف الفاظ میں قرآن حکیم کے متعدد مقامات پر آیا ہے۔ سورة الزخرف میں فرمایا گیا : { وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْـکِتٰبِ لَدَیْنَا لَـعَلِیٌّ حَکِیْمٌ۔ } ”اور یہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند وبالا ‘ بہت حکمت والی !“ سورة الواقعہ میں ارشاد ہوا کہ یہ قرآن ایک مخفی کتاب کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ میں درج ہے : { اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ - فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ۔ } ”یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔ ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے“۔ پھر سورة البروج میں فرمایا گیا : { بَلْ ہُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ -…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
9 سَفَرَۃٍ : سافِر کی جمع ہے اور السِّفر اس کتاب کو کہتے ہیں جو حقائق کو بےنقاب کرتی ہو اور اسفار بمعنی تورات کی شرح و تفاسیر اور سافر وہ شخص ہے جو ایسی تحریر کرتا یا لکھتا ہو اور اس لفظ کا اطلاق الہامی تحریر لکھنے والے فرشتوں اور انسانوں پر ہوتا ہے۔ نیز نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں پر بھی۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کو لکھنے والے نہایت معزز اور بزرگ فرشتے ہیں۔ اسی کے موافق وحی نازل ہوتی ہے اور یہاں بھی اوراق میں لکھنے اور جمع کرنے والے دنیا کے بزرگ ترین، پاکباز، نیکو کار اور فرشتہ سیرت انسان ہیں۔ جنہوں نے اس قرآن کو ہر قسم کی کمی بیشی یا تحریف و تبدیل سے پاک رکھا ہے۔ گویا قرآن جیسی عظیم الشان کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
6۔ یعنی فرشتوں کے۔ (آیت) ” فی ..... مطھرۃ “۔ یہ پاک ومتبرک صحیفہ لوح محفوظ ہی کے مختلف اجزاء ہیں۔ (آیت) ” مرفوعۃ یہ رفعت یا بلندی جہت ومکان کے لحاظ سے بھی ہوسکتی ہے اور مرتبہ ومنزلت کے اعتبار سے بھی۔ (آیت) ” مطھرۃ “۔ یعنی ہر قسم کی معنوی آلائشوں سے پاک ومنزہ۔ (آیت) ” سفرۃ کرام بررۃ “۔ یہ اوصاف فرشتوں کے بیان ہوئے، جنہوں نے بحکم الہی ان صحیفوں کی کتابت لوح محفوظ میں کی، مجازا یہ اوصاف ان خادمان کے بھی ہوسکتے ہیں۔ جنہوں نے ابتداء کتابت وحی کی، اور اس کے بعد سے اب تک قرآن کے بھی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
فانت عنہ تلھی، یعنی ایسے شخص کی جن کے دل میں خدا کا خوف ہو جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ وہ آپ ﷺ کی باتوں پر عمل کرے گا اور آپ کی نصیحت اس کیلئے مفید ثابت ہوگی، قدر کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی، ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب آقا و غلام، مرد و عورت چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت ہدایت سے نواز دے گا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →بایدی سفرۃ . سفرۃٌ جمع ہے سافرٌ کی۔ سافر کا معنی لکھنے والا۔ اسی مناسبت سے کتاب کو سفرٌ کہتے ہیں۔ سَفر کی جمع اسفارٌ ہے۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد کا یہی قول ہے۔ سفرۃٌ سے مراد ہیں اعمال لکھنے والے فرشتے یا انبیاء یا وحی کو لکھنے والے لوگ ‘ دوسرے علماء کا قول ہے کہ سفرۃٌ سفیرٌ کی جمع ہے۔ سفیر وہ درمیانی آدمی جو قوم میں باہم صلح کرانے کے در پے ہوتا ہے۔ یہاں مراد ہیں ملائکہ اور انسانوں میں اللہ کے پیغمبر۔ میں کہتا ہوں کہ وحی کے کاتب اور علماء امت بھی اسی طرح کے سفیر ہیں۔ رسول اور امت کے درمیان ان میں سے ہر ایک سفیر ہے۔ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا : جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرآن کا ماہر بھی ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
(5۔ 16) سو جو شخص اللہ تعالیٰ سے بےپروائی کرتا ہے آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے موحد نہ بننے کا آپ پر کوئی الزام نہیں اور جو شخص نیکی کے شوق میں آپ کے پاس دوڑ کر آتا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے اور حضرت ابن ام مکتوم پہلے ہی سے مشرف بااسلام ہوچکے تھے، چناچہ اس کے بعد جب حضرت ابن ام مکتوم آپ کے پاس آتے تو آپ ان کی بڑی خاطر و احترام کرتے، امیر ہو یا غریب یہ سورت سب کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نصیحت کی چیز ہے لہذا جس کا دل چاہے نصیحت قبول کرے اور یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ثبت ہے جو عنداللہ مکرم ہیں۔ رفیع المکان ہیں اور وہ شرک و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(1) بایدی سفرۃ…:”سفرۃ“”سافر“ کی جمع ہے، لکھنے والا۔”سفر“ کتاب، اس کی جمع ”اسفار“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(کمثل الحمار یحمل اسفاراً (الحجمۃ : 5)”(بےعمل یہود کی مثال) گدھے کی طرح ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لکھنے والوں کی تعریف فرمائی ہے، خواہ وہ فرشتے ہوں یا کاتبین وحی، صحابہ ہوں یا دوسرے، فرمایا یہ لوگ اللہ کے ہاں بہت عزت والے اور نہایت نیک ہیں۔ اس طرح کتابت کے علاوہ اس کا پڑھنا پڑھانا بھی سب سے بہتر اور نیک ہونے کی دلیل ہے، عثمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ) (بخاری، فضائل القرآن، باب خیر کم من تعلم…: 5028)”تم میں سب سے…
Read the full tafseer →بایدی سفرہ۔ سفرۃ سے مراد فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ارورسولوں کے درمیان سفیر بنایا ہے وہ نیک ہیں وہ معصیت سے آلودہ نہیں، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، وہ صحیفہ پاکیزہ ہیں اسے بھی پاک بنادیتے ہیں جوان سفرہ کا حامل بنے۔ سفرہ کا معنی کاتب بھی ہے مجاہد نے بھی یہ کہا ہے، اس سے مراد وہ معزز فرشتے ہیں جو نامہ اعمال میں بندوں کے افعال لکھتے ہیں اس کی واحد سافر ہے جس طرح کاتب کی جمع کتبہ ہے کہا جاتا ہے سفرت یعنی میں نے لکھا کتاب کو سفر کہتے ہیں اس کی جمع اسفار آتی ہے زجاج نے کہا، کتاب کو سفر کہتے ہیں اور کاتب کو سافر کہتے ہیں کیونکہ اس کا معنی ہے کہ وہ ایک چیز کو واضح کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
17۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایدی سفرۃ سے مراد ہے لکھنے والے کتابت کرنے والے۔ 18۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایدی سفرۃ کرام بررۃ ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو بڑے بزرگ نیکو کار ہیں اس سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سفرۃ سے مراد ہے فرشتوں میں سے لکھنے والے۔ 20۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بایدی سفرۃ سے مراد ہے لکھنے والے۔ 211۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں عطاء بن ابی رباح (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 22۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے ابن…
Read the full tafseer →[بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ : کچھ ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں سے جو ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 15 ۔ میں سَفَرَۃٍ کا لفظ سَافِرٌ کی جمع بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی کاتب کے ہیں۔ اس صورت میں اس سے مراد فرشتے، انبیاء (علیہ السلام) اور ان کی وحی لکھنے والے حضرات ہوں گے۔ اور یہ لفظ سَفِیْرٌ بمعنی قاصد کی جمع بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں رسل ملائکہ، انبیاء (علیہ السلام) اور وحی کی کتابت کرنے والے صحابہ ؓ کے ساتھ علمائِ امت بھی اس میں داخل ہوں گے، کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان سفیر اور قاصد ہیں۔ (معارف القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
اس کے بعد فرمایا ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ0011 ﴾ آپ ہرگز ایسا نہ کیجیے کہ جو شخص آپ کے پاس دینی باتیں معلوم کرنے آئے اس کی طرف سے بےتوجہی کریں کیونکہ قرآن ایک نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے آپ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے جو قرآن اور اس کی نصیحت قبول نہ کرے اس کا وبال اسی پر ہے، آپ پر کوئی ضرر نہیں اس کے بعد قرآن کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو اللہ کے یہاں مکرم ہیں اور بلند اور مقدس ہیں، کیونکہ شیاطین وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور یہ صحیفے ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں جو باعزت اور نیک ہیں (فرشتے چونکہ لوح محفوظ سے قرآن مجید کو نقل کرتے ہیں اس لیے ﴿…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
5:۔ ” کلا “ حرف ردع ہے۔ یوں تو نہیں چاہئے تھا۔ یہ بمعنی ” حقا “ ہے اور ما بعد سے متعلق ہے یعنی یقیناً ۔ یہ آیت قرآنیہ ہر ایک کے لیے عبرت و نصیحت ہیں جو بھی چاہے انہیں پڑھ سن کر ان سے نصیحت حاصل کرے۔ ” فی صحف “ اس سے مراد وہ صحیفے اور تختیاں ہیں جن پر فرشتے لوح محفوظ سے کلام اللہ کو نقل کرتے ہیں وہ صحیفے اللہ کے نزدیک قابل تکریم ہیں، قدر و منزلت میں بہت بلند اور پاکیزہ ہیں کہ فرشتوں کے سوا کسی کا ہاتھ ان کو نہیں لگا۔ وہ صحیفے ایسے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت والے ہیں اور گناہوں سے پاک اور اللہ تعالیٰ کے نہایت فرمانبردار ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ” سفرۃ “ سے صحابہ کرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(پس منظر) اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی…
Read the full tafseer →بِاَيْدِيْ سَفَرَۃٍ 15 ۙ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ سفر السَّفْرُ : كشف الغطاء، ويختصّ ذلک بالأعيان، نحو : سَفَرَ العمامة عن الرّأس، والخمار عن الوجه، وسَفْرُ البیتِ : كَنْسُهُ بِالْمِسْفَرِ ، أي : المکنس، وذلک إزالة السَّفِيرِ عنه، وهو التّراب الذي يكنس منه، والإِسْفارُ يختصّ باللّون، نحو :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ۔ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ م۔ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ ۔ (عبس : 13 تا 16) (یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو لائقِ تعظیم ہیں۔ بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں۔ ایسے کاتبوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ جو معزز اور باوقار ہیں۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت اوپر جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کی مزید وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے یہ شایانِ شان نہیں کہ آپ ان بددماغ اشرافِ قریش کے سامنے اس طرح بات کریں جیسا چھوٹا بڑوں کے سامنے کوئی درخواست پیش کرتا ہے۔ آپ خالق کائنات کے سفیر ہیں۔ ان اشراف سے بات کرتے ہوئے آپ کی عظمت کا اظہار ہونا بھی ضروری ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فہم القرآن ربط کلام :” اللہ تعالیٰ “ سے ڈرنے اور ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی نصیحت پر عمل کیا جائے۔ قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی نصیحت بہتر نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے طور پر نازل فرمایا ہے۔ اس میں ہدایت اور گمراہی کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں ہدایت کی طلب پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو شخص ہدایت کا طالب نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا کیونکہ اس کا فرمان ہے جو چاہے ہدایت حاصل کرے اور جو چاہے اپنے آپ کو گمراہی کے حوالے کیے رکھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ہدایت اور کفر کا راستہ واضح…
Read the full tafseer →15 : بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ (ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں) سَفَرَۃٍ جمع سافر لکھنے والے۔ مراد وہ ملائکہ جو لوح محفوظ سے کتابیں نقل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →14 ۔” مرفوعۃ “ اللہ کے یہاں بلند مرتبہ والا ہے اور کہا گیا ہے ” مرفوعۃ “ یعنی ساتویں آسمان میں ہے۔ ” مطھرۃ “ اس کو صرف پاک لوگ چھوتے ہیں اور وہ فرشتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا چناچہ فرمایا (فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ۔ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۢ) قابل ادب ورقوں میں جو بلند وبالا اور پاک ہیں۔ یعنی قدرومنزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چراسکیں بلکہ یہ (بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ ) لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(13) کلام حکیم کی دو خاص صفتوں کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلام حکیم کے مکرم ہونے کی دو خاص صفتوں کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بڑے بلند اور انتہائی پاکیزہ ہیں "۔ پس یہ صحیفے ہر قسم کی دست درازی اور ہر طرح کی تحریف و تغییر سے پاک اور محفوظ ہے، اس لیے کسی تحریف و سند کی ان تک نہ کسی طرح کی رسائی ممکن ہوسکتی ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی تبدیلی ان تک راہ پاسکتی ہے۔ اور ان دو میں سے پہلی صفت یعنی " مرفوعہ " سے اس کے معنی اور درجہ بندی دونوں قسم کی بلندیوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وَإِنَّہُ فِیْ أُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْْنَا لَعَلِیٌّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 4 یعنی وہاں عزت دار خدا کے تابع دار فرشتے اسے لوح محفوظ سے لکھتے ہیں اور پھر اسی کے مطابق وحی آتی ہے۔
Read the full tafseer →(80:15) بایدی سفرۃ : ای ھذہ کنبۃ ینسخرنھا من اللوح المحفوظ (السیر التفاسیر) یہ وہ تحریر ہے جسے لوح محفوظ سے نقل کیا ایسے کاتبوں کے ہاتھوں نے جو بڑے بزرگ اور نیکوکار ہیں۔ (ضیاء القرآن) بایدی جار مجرور۔ ایدی سفرۃ مضاف مجاف الیہ، کاتبوں کے ہاتھوں سے سفرۃ جمع سافر کی۔ جیسے کتبۃ جمع ہے کاتب کی۔ سفرۃ ، سفر (باب ضرب) مصدر سے بمعنی لکھنا۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ اسی مناسبت سے کتاب کو سفر کہتے ہیں۔ جس کی جمع اسفار ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ کمثل الحمار یحمل اسفارا (62:5) مثل اس گدھے کے جو اٹھائے پھرتا ہے کتابیں۔ ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے کہ :۔ سفرۃ سے مراد ہیں اعمال لکھنے والے فرشتے، یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(ف 1) شان نزول : سورة عبس میں ایک سوتیس کلمے ، پانچ سو تینتیس حروف ہیں نبی ﷺ عتبہ بن ربیعہ ، ابوجہل ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف اشراف قریش کو اسلام کی دعوت فرما رہے تھے اس درمیان عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی حاضر ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اس میں سے تعلیم فرمائیے، جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے حضور کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گذرا، آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ یہ قریش کے بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہیں ان کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
[4] یہ اوصاف ان فرشتوں کے بیان ہوئے جو قرآن کو لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو کام فرشتوں کے سپرد کیا گیا ہے اس میں ذرہ برابر خیانت کا امکان نہیں اور وہ اپنی ذمہ داری پوری دیانت کے ساتھ پوری کرتے ہیں۔ قرآن اور اس کے کاتبین کی صفات کے ذکر سے مقصود رسول اکرم ﷺ کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ متکبر لوگوں کے سامنے منت و سماجت کر کے پیش کیا جائے اور ان سے یہ چاہا جائے کہ وہ اسے شرف قبولیت عطا کریں۔ یہ ان کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ اس کے محتاج ہیں۔ اگر وہ اپنی بھلائی چاہتے ہیں تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ورنہ جس قدر وہ اس سے بےنیاز بنتے ہیں اس سے بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(15) جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1 تا 16 یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ (in the hands of those scribes who are honourable, righteous. [ 80:15-16] ) The word safarah, with fathah [=a+a ] on the first two letters, may be the plural of safir which means a 'scribe'. In this case, it would refer to the recording angels, or to the Prophets (علیہم السلام) and those of their aides who write down the revelation. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and Mujahid (رح) hold this view.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
5 "Purified" : free from all kinds of mixtures of false ideas and thoughts, and presenting nothing but the pure Truth. There is no tinge whatever in these scrolls of the impurities with which the other religious boors of the we -ld have boon polluted. They have been kept pure and secure from all kinds of human speculation and evil suggestions.
Read the full tafseer →