Abasa 80:14

Abasa · from ayah 14

80:14

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ ۟ۙمَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Exalted and purified,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:14

بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اونچے رتبے والے ہیں، پاکیزہ ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلندی والے پاکی والے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو نہایت بلند مرتبہ (اور) پاکیزہ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو بلند کیے ہوئے، پاک کیے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو بلند مقام پر رکھے ہیں اور پاکیزہ ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو بڑے ہی بلند مرتبہ انتہائی پاکیزہ ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

معزز بلند (جو) مکرم اور نیک

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلند وبالا نہایت پاک۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

exalted, purified,

— Muhammad Taqi Usmani

exalted, purified,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Exalted, purified.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Exalted and purified,

— Saheeh International

exalted, purified,

— Muhammad Sarwar

Exalted, purified,

— Muhammad Habib Shakir

Exalted, Purified,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 80:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة عَبَس 5 یعنی ہر قسم کی آمیزشوں سے پاک ہیں۔ ان میں خالص حق کی تعلیم پیش کی گئی ہے۔ کسی نوعیت کے باطل اور فاسد افکار و نظریات ان میں راہ نہیں پا سکے ہیں۔ جن گندگیوں سے دنیا کی دوسری مذہبی کتابیں آلودہ کردی گئی ہیں ان کا کوئی ادنی سا شائبہ بھی ان کے اندر داخل نہیں ہوسکا ہے۔ انسانی تخیلات ہوں، یا شیطانی وساوس، ان سب سے یہ پاک رکھے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ، مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ صفت سے مراد لوح محفوظ ہے وہ اگرچہ ایک ہی ہے مگر اس کو بصیغہ جمع صحف سے تعبیر اس لئے کیا گیا کہ اس میں سب صحائف آسمانی لکھے ہوتے ہیں یا اس لئے کہ فرشتے اپنے صحیفے اس سے نقل کرتے ہیں۔ مرفوعہ سے مراد ان صحیفوں کا عنداللہ عالیشان ہونا ہے اور مطہرہ سے مراد یہ ہے کہ جنابت والے آدمی اور حیض نفاس والی عورت اور بےوضو کے لئے ان کا چھونا جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ‘۔ یہ دونوں صفتیں بھی اس کے مکرم ہونے کے پہلو ہی کی وضاحت کے لیے آئی ہیں۔ صفت ’مَرْفُوْعَۃٍ‘ معنی اور درجہ دونوں قسم کی بلندیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے، دوسرے مقام میں اس کی وضاحت یوں آئی ہے: ’وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ‘ (الزخرف ۴۳: ۴) (اور یہ اصل کتاب ہمارے پاس ہے، نہایت بلند اور پر حکمت)۔ ’مُطَھَّرَۃٍ‘ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ قرآن مجید شیاطین اور ارواح خبیثہ کی دسترس سے بالکل محفوظ ہے۔ مثلاً فرمایا ہے: ’فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ‘ (الواقعہ ۵۶: ۷۸-۷۹) (وہ ایک محفوظ کتاب میں ہے جس تک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

15۔ 1 یعنی اللہ اور رسول کے درمیان ایلچی کا کام کرتے ہیں۔ یہ قرآن سفیروں کے ہاتھوں میں ہے جو اسے لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–15

3: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ اس میں دوسری باتوں کے علاوہ قرآن کریم بھی لوح محفوظ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–16

انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–15

4 یعنی کیا ان مغرور سر پھروں کے ماننے سے قرآن کی عزت و وقعت ہوگئی ؟ قرآن تو وہ ہے جس کی آیتیں آسمان کے اوپر نہایت معزز، بلند مرتبہ اور صاف ستھرے ورقوں میں لکھی ہوئی ہیں اور زمین پر مخلص ایماندار بھی اس کے اوراق نہایت عزت و احترام اور تقدیس و تطہیر کے ساتھ اونچی جگہ رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–15

آیت 13{ فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ۔ } ”یہ قرآن ایسے صحیفوں میں درج ہے جو باعزت ہیں۔“ یہ مضمون مختلف انداز اور مختلف الفاظ میں قرآن حکیم کے متعدد مقامات پر آیا ہے۔ سورة الزخرف میں فرمایا گیا : { وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْـکِتٰبِ لَدَیْنَا لَـعَلِیٌّ حَکِیْمٌ۔ } ”اور یہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند وبالا ‘ بہت حکمت والی !“ سورة الواقعہ میں ارشاد ہوا کہ یہ قرآن ایک مخفی کتاب کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ میں درج ہے : { اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ - فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ۔ } ”یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔ ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے“۔ پھر سورة البروج میں فرمایا گیا : { بَلْ ہُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ -…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یعنی قرآن کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ اس کی آیات لوح محفوظ میں سات آسمانوں کے اوپر نہایت معزز، بلند مرتبہ اور صاف ستھرے صحیفوں میں مندرج ہیں اور زمین پر مخلص اور ایماندار لوگ اس کے اوراق کو نہایت عزت و احترام اور تقدیس و تطہیر کے ساتھ اونچی جگہ پر رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–15

6۔ یعنی فرشتوں کے۔ (آیت) ” فی ..... مطھرۃ “۔ یہ پاک ومتبرک صحیفہ لوح محفوظ ہی کے مختلف اجزاء ہیں۔ (آیت) ” مرفوعۃ یہ رفعت یا بلندی جہت ومکان کے لحاظ سے بھی ہوسکتی ہے اور مرتبہ ومنزلت کے اعتبار سے بھی۔ (آیت) ” مطھرۃ “۔ یعنی ہر قسم کی معنوی آلائشوں سے پاک ومنزہ۔ (آیت) ” سفرۃ کرام بررۃ “۔ یہ اوصاف فرشتوں کے بیان ہوئے، جنہوں نے بحکم الہی ان صحیفوں کی کتابت لوح محفوظ میں کی، مجازا یہ اوصاف ان خادمان کے بھی ہوسکتے ہیں۔ جنہوں نے ابتداء کتابت وحی کی، اور اس کے بعد سے اب تک قرآن کے بھی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–16

فانت عنہ تلھی، یعنی ایسے شخص کی جن کے دل میں خدا کا خوف ہو جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ وہ آپ ﷺ کی باتوں پر عمل کرے گا اور آپ کی نصیحت اس کیلئے مفید ثابت ہوگی، قدر کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی، ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب آقا و غلام، مرد و عورت چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت ہدایت سے نواز دے گا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مرفوعۃ . اللہ کے ہاں عزت والے ‘ عالی قدر یا ساتویں آسمان میں اٹھائے ہوئے۔ مطھرۃ . جنب اور بےوضو اور حائضہ و نفساء کے چھونے سے پاک۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–16

(5۔ 16) سو جو شخص اللہ تعالیٰ سے بےپروائی کرتا ہے آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے موحد نہ بننے کا آپ پر کوئی الزام نہیں اور جو شخص نیکی کے شوق میں آپ کے پاس دوڑ کر آتا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے اور حضرت ابن ام مکتوم پہلے ہی سے مشرف بااسلام ہوچکے تھے، چناچہ اس کے بعد جب حضرت ابن ام مکتوم آپ کے پاس آتے تو آپ ان کی بڑی خاطر و احترام کرتے، امیر ہو یا غریب یہ سورت سب کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نصیحت کی چیز ہے لہذا جس کا دل چاہے نصیحت قبول کرے اور یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ثبت ہے جو عنداللہ مکرم ہیں۔ رفیع المکان ہیں اور وہ شرک و…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 13–14

(فی صحف مکرمۃ…: ان آیات میں قرآن مجید کی عظمت بیان کی گئی ہے کہ یہ ایسے اوراق میں لکھا ہوا ہے جن کی عزت کی جاتی ہے، جو بلند شان والے اور پاک ہیں۔ اس سے قرآن مجید کے وہ اوراق مراد ہیں جن میں سے فرشتوں نے لوح محفوظ سے نقل کر کے لکھا، وہ بھی جن میں قرآن کے کاتب صحابہ کرام ؓ عنہمانے رسول اللہ ﷺ سے سن کر لکھا اور وہ بھی جن میں ان سے نقل کر کے لکھا گیا اور قیامت تک لکھا جائے گا۔ قرآن مجید کی جس طرح تکریم کی جاتی ہے اور جس طرح یہ شیاطین اور ملحدوں کی دخل اندازی سے محفوظ، ہر قسم کی تحریف اور رد و بدل سے مامون اور ہر قسم کے خلاف عقل اور خلاف حیا مضامین سے مطہر ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کی ان خصوصیات…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مرفوعۃ مطھرہ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی شان بڑی بلند ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے ساتویں آسمان میں بلند ہیں یہ یحییٰ بن سلام کا نقطہ نظر ہے، طبری نے کہا، ان کا ذکر اور قدر بلند ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ شبہ اور تناقض سے بلند ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا وہ ہر میل سے پاک ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اسے محفوظ ہیں کہ کفار اس کو پائیں، یہی سدی کا قول ہے حضرت حسن بصری نے کہا، یہ اس سے پاک ہیں کہ کفار پر نازل ہوں، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قرآن فرشتوں کے لیے صحیفوں میں ثبت کردیا گیا ہے وہ انہیں پڑھتے ہیں اور وہ صحیفے مکرم اور بلند اور پاکیزہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–14

16۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی صفح مکرمہ مرفوعۃ مطہرۃ کہ وہ عزت والے صحیفوں میں ہے جو بلند مرتبہ اور پاک ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے آیت بایدی سفرۃ ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں اور یہ قرآن ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–16

اس کے بعد فرمایا ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ0011 ﴾ آپ ہرگز ایسا نہ کیجیے کہ جو شخص آپ کے پاس دینی باتیں معلوم کرنے آئے اس کی طرف سے بےتوجہی کریں کیونکہ قرآن ایک نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے آپ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے جو قرآن اور اس کی نصیحت قبول نہ کرے اس کا وبال اسی پر ہے، آپ پر کوئی ضرر نہیں اس کے بعد قرآن کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو اللہ کے یہاں مکرم ہیں اور بلند اور مقدس ہیں، کیونکہ شیاطین وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور یہ صحیفے ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں جو باعزت اور نیک ہیں (فرشتے چونکہ لوح محفوظ سے قرآن مجید کو نقل کرتے ہیں اس لیے ﴿…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–16

5:۔ ” کلا “ حرف ردع ہے۔ یوں تو نہیں چاہئے تھا۔ یہ بمعنی ” حقا “ ہے اور ما بعد سے متعلق ہے یعنی یقیناً ۔ یہ آیت قرآنیہ ہر ایک کے لیے عبرت و نصیحت ہیں جو بھی چاہے انہیں پڑھ سن کر ان سے نصیحت حاصل کرے۔ ” فی صحف “ اس سے مراد وہ صحیفے اور تختیاں ہیں جن پر فرشتے لوح محفوظ سے کلام اللہ کو نقل کرتے ہیں وہ صحیفے اللہ کے نزدیک قابل تکریم ہیں، قدر و منزلت میں بہت بلند اور پاکیزہ ہیں کہ فرشتوں کے سوا کسی کا ہاتھ ان کو نہیں لگا۔ وہ صحیفے ایسے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت والے ہیں اور گناہوں سے پاک اور اللہ تعالیٰ کے نہایت فرمانبردار ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ” سفرۃ “ سے صحابہ کرام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(پس منظر) اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍؚ۝ 14 ۙ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( رع ) الرفع کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–16

فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ۔ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ م۔ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ ۔ (عبس : 13 تا 16) (یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو لائقِ تعظیم ہیں۔ بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں۔ ایسے کاتبوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ جو معزز اور باوقار ہیں۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت اوپر جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کی مزید وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے یہ شایانِ شان نہیں کہ آپ ان بددماغ اشرافِ قریش کے سامنے اس طرح بات کریں جیسا چھوٹا بڑوں کے سامنے کوئی درخواست پیش کرتا ہے۔ آپ خالق کائنات کے سفیر ہیں۔ ان اشراف سے بات کرتے ہوئے آپ کی عظمت کا اظہار ہونا بھی ضروری ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–16

فہم القرآن ربط کلام :” اللہ تعالیٰ “ سے ڈرنے اور ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی نصیحت پر عمل کیا جائے۔ قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی نصیحت بہتر نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے طور پر نازل فرمایا ہے۔ اس میں ہدایت اور گمراہی کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں ہدایت کی طلب پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو شخص ہدایت کا طالب نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا کیونکہ اس کا فرمان ہے جو چاہے ہدایت حاصل کرے اور جو چاہے اپنے آپ کو گمراہی کے حوالے کیے رکھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ہدایت اور کفر کا راستہ واضح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍ (رفیع المکان ہیں مقدس ہیں) مَّرْفُوْعَۃٍ یعنی آسمان میں بلند ہیں یا قدرومنزلت کے لحاظ سے بلند ہیں۔ مُّطَہَّرَۃٍ ملائکہ کے علاوہ دوسروں کے چھونے سے پاک ہیں۔ نمبر 2۔ وہ اس سے پاک ہیں جو کلام اللہ میں سے نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” فی صحف مکرمۃ “ یعنی لوح محفوظ اور کہا گیا ہے انبیاء (علیہم السلام) کی کتابیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” ان ھذا نفی الصحف الاولیٰ صحف ابراھیم و موسیٰ “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–15

پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا چناچہ فرمایا (فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ۔ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۢ) قابل ادب ورقوں میں جو بلند وبالا اور پاک ہیں۔ یعنی قدرومنزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چراسکیں بلکہ یہ (بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ ) لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

(13) کلام حکیم کی دو خاص صفتوں کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلام حکیم کے مکرم ہونے کی دو خاص صفتوں کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بڑے بلند اور انتہائی پاکیزہ ہیں "۔ پس یہ صحیفے ہر قسم کی دست درازی اور ہر طرح کی تحریف و تغییر سے پاک اور محفوظ ہے، اس لیے کسی تحریف و سند کی ان تک نہ کسی طرح کی رسائی ممکن ہوسکتی ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی تبدیلی ان تک راہ پاسکتی ہے۔ اور ان دو میں سے پہلی صفت یعنی " مرفوعہ " سے اس کے معنی اور درجہ بندی دونوں قسم کی بلندیوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وَإِنَّہُ فِیْ أُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْْنَا لَعَلِیٌّ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 دوسرے مقام پر فرمایا لایمسہ الا المطھرون۔ اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔ “ (واقعہ :79)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:14) موفوعۃ مطھرۃ۔ یہ بھی تذکرۃ کی صفات ہیں۔ مرفوعۃ رفع ورفاعۃ (باب فتح) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ، بلند مرتبہ ، عالی قدر۔ اللہ کے ہاں عزت والے۔ مطھرۃ۔ یہ بھی تذکرۃ کی صفت ہے تطھیر (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ، ہر طرح کی نسوانی، جسمانی اور نفسانی کثافتوں سے پاک کی ہوئی۔ یا جنب۔ بےوضو۔ حائضہ اور نفساء (نفاس والی عورتوں) کے چھونے سے پاک، جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لا یمسہ الا المطھرون (56:79) اس کو نہیں چھوتے مگر جو پاک کئے گئے ہیں۔ اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو کہ پاک ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

(ف 1) شان نزول : سورة عبس میں ایک سوتیس کلمے ، پانچ سو تینتیس حروف ہیں نبی ﷺ عتبہ بن ربیعہ ، ابوجہل ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف اشراف قریش کو اسلام کی دعوت فرما رہے تھے اس درمیان عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی حاضر ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اس میں سے تعلیم فرمائیے، جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے حضور کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گذرا، آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ یہ قریش کے بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہیں ان کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یعنی کیا ان مغرور سرپھروں کے ماننے سے قرآن کی عزت و وقعت ہوگی ؟ قرآن تو وہ ہے جس کی آیتیں آسمان پر لوح محفوظ کے بلند مرتبہ اور پاکیزہ اوراق میں لکھی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–36

ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) وہ صحیفے بلند مقام اور مقدس ہیں - یعنی اگر مغرور متکبر قرآنی عظمت اور اس کے مرتبے کو نہ سمجھے تو اس سے کیا ہوتا ہے وہ قرآن تو ایسے صحیفوں میں لکھا ہوا ہے جو نہایت پاکیزہ اور بلند مقام میں رکھے ہوئے ہیں یعنی وہ صحیفے لوح محفوظ میں ہیں اور لوح محفوظ عرش الٰہی کے نیچے ہے یا بیت العزت میں رکھے ہوئے ہیں یہ مقام کی بلندی اور رفعت ہوئی مقدس اور پاکیزہ اوراق میں جہا کسی گندگی اور خباثت کا شبہ نہیں شیاطین کی وہاں کوئی دسترس نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 تا 16 یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

فِي صُحُفٍ مُّكَرَّ‌مَةٍ مَّرْ‌فُوعَةٍ مُّطَهَّرَ‌ةٍ (It is [ recorded ] in those scripts [ of the Preserved Tablet ] that are honoured, [ 13] exalted, purified - 14). The word suhuf refers to lauh mahfuz 'the Preserved Tablet'. Although it is a single thing, but suhuf, the plural form of sahifah is used because all divine scriptures are written in it, or because the angels copy their scriptures from them. The word marfuah means 'exalted in the sight of Allah'. The word mutahharah (purified) means 'people in the state of sexual defilement, menstrual discharge, post-natal bleeding and people…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

5 "Purified" : free from all kinds of mixtures of false ideas and thoughts, and presenting nothing but the pure Truth. There is no tinge whatever in these scrolls of the impurities with which the other religious boors of the we -ld have boon polluted. They have been kept pure and secure from all kinds of human speculation and evil suggestions.

Read the full tafseer →