فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ۟ۙفِىۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ
قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)
— Fateh Muhammad Jalandhari
[It is recorded] in honored sheets,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ۟ۙفِىۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ
قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)
— Fateh Muhammad Jalandhari
[It is recorded] in honored sheets,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں
قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)
(یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے)
وہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو بڑے مقدس ہیں۔
ان صحیفوں میں کہ عزت والے ہیں
(یہ) معزّز و مکرّم اوراق میں (لکھی ہوئی) ہیں،
ایسے صحیفوں میں ہے جن کی عزت کی جاتی ہے۔
وہ قابل احترام صحیفوں میں درج ہے
، لائق تعظیم، صحیفوں میں
(جو ثبت ہے) ایسے عظیم الشان صحیفوں میں جو بڑے ہی (معززو) مکرم ہیں
وہ (ثبت) ہے پاک صحیفوں میں
(یہ قرآن) ایسے صحیفوں میں (درج ہے) جو باعزت ہیں۔
قابل ادب ورقوں میں لکھا ہوا
It is contained in scrolls highly honoured,
It is (recorded) in those scripts (of the Preserved Tablet) that are honoured,
It is (recorded) in those scripts (of the Preserved Tablet) that are honoured,
In Records held in honor,
On honoured leaves
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[It is recorded] in honored sheets,
(This Quran) is also recorded in honorable books,
In honored books,
Inscribed in Writs honoured,"
(It is) in Books held (greatly) in honour,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–16
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
سورة عَبَس 3 یعنی ایسا ہرگز نہ کرو۔ خدا کو بھولے ہوئے اور اپنی دنیوی وجاہت پر پھولے ہوئے لوگوں کو بےجا اہمیت نہ دو۔ نہ اسلام کی تعلیم ایسی چیز ہے کہ جو اس سے منہ موڑے اس کے سامنے اسے بالحاح پیش کیا جائے، اور نہ تمہاری یہ شان ہے کہ ان مغرور لوگوں کو اسلام کی طرف لانے کے لیے کسی ایسے اندازے سے کوشش کرو جس سے یہ اس غلط فہمی میں پڑجائیں کہ تمہاری کوئی غرض ان سے اٹکی ہوئی ہے، یہ مان لیں گے تو تمہاری دعوت فروغ پا سکے گی ورنہ ناکام ہوجائے گی۔ حق ان سے اتنا ہی بےنیاز ہے جتنے یہ حق سے بےنیاز ہیں۔ سورة عَبَس 4 مراد ہے قرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ، مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ صفت سے مراد لوح محفوظ ہے وہ اگرچہ ایک ہی ہے مگر اس کو بصیغہ جمع صحف سے تعبیر اس لئے کیا گیا کہ اس میں سب صحائف آسمانی لکھے ہوتے ہیں یا اس لئے کہ فرشتے اپنے صحیفے اس سے نقل کرتے ہیں۔ مرفوعہ سے مراد ان صحیفوں کا عنداللہ عالیشان ہونا ہے اور مطہرہ سے مراد یہ ہے کہ جنابت والے آدمی اور حیض نفاس والی عورت اور بےوضو کے لئے ان کا چھونا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →کلام کی عظمت کا بیان: اوپر کی آیات میں نبی ﷺ کو مستکبرین سے اعراض اور بے پروائی برتنے کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے یہ اسی کی مزید وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہارے شایان شان بات یہ نہیں ہے کہ ان مغروروں کے آگے تم اپنے آپ کو زیادہ جھکاؤ اسی طرح یہ کلام بھی، جو تم ان کو سنا رہے ہو، ایسی چیز نہیں ہے جو منت و سماجت کے ساتھ پیش کی جائے بلکہ یہ نہایت ہی اشرف، نہایت ہی بلند اور نہایت ہی پاکیزہ و برتر چیز ہے۔ یہ کوئی ناقص جنس نہیں ہے کہ تمہیں یہ فکر کرنی پڑے کہ کسی نہ کسی طرح یہ بک ہی جائے اگرچہ اس کی خاطر تمہیں خریداروں کی خوشامد ہی کرنی پڑے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خزانۂ محفوظ کے لعل و گہر ہیں جو تم…
Read the full tafseer →13۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں، کیونکہ وہیں سے یہ قرآن اترتا ہے کہ یہ صحیفے اللہ کے ہاں بڑے محترم ہیں کیونکہ وہ علم و حکم سے پر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
3: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ اس میں دوسری باتوں کے علاوہ قرآن کریم بھی لوح محفوظ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
4 یعنی کیا ان مغرور سر پھروں کے ماننے سے قرآن کی عزت و وقعت ہوگئی ؟ قرآن تو وہ ہے جس کی آیتیں آسمان کے اوپر نہایت معزز، بلند مرتبہ اور صاف ستھرے ورقوں میں لکھی ہوئی ہیں اور زمین پر مخلص ایماندار بھی اس کے اوراق نہایت عزت و احترام اور تقدیس و تطہیر کے ساتھ اونچی جگہ رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
آیت 13{ فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ۔ } ”یہ قرآن ایسے صحیفوں میں درج ہے جو باعزت ہیں۔“ یہ مضمون مختلف انداز اور مختلف الفاظ میں قرآن حکیم کے متعدد مقامات پر آیا ہے۔ سورة الزخرف میں فرمایا گیا : { وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْـکِتٰبِ لَدَیْنَا لَـعَلِیٌّ حَکِیْمٌ۔ } ”اور یہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند وبالا ‘ بہت حکمت والی !“ سورة الواقعہ میں ارشاد ہوا کہ یہ قرآن ایک مخفی کتاب کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ میں درج ہے : { اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ - فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ۔ } ”یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔ ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے“۔ پھر سورة البروج میں فرمایا گیا : { بَلْ ہُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ -…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
7 ذَکَرَہ، کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے اور یہ بھی کہ جو شخص چاہے قرآن کی نصیحت کی باتوں کا بار بار تذکرہ کرتا رہے اور یہ بھی کہ قرآن کو زبانی یاد کرلے۔ غرض قرآن کو پڑھنا، اس کی نصیحت پر عمل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا سب بڑے اجر وثواب کے کام ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ ہے وہ (قیامت کے دن) لکھنے والے معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ اور جو قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور پڑھنا اسے مشکل ہوتا ہے اس کے لیے دہرا اجر ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
6۔ یعنی فرشتوں کے۔ (آیت) ” فی ..... مطھرۃ “۔ یہ پاک ومتبرک صحیفہ لوح محفوظ ہی کے مختلف اجزاء ہیں۔ (آیت) ” مرفوعۃ یہ رفعت یا بلندی جہت ومکان کے لحاظ سے بھی ہوسکتی ہے اور مرتبہ ومنزلت کے اعتبار سے بھی۔ (آیت) ” مطھرۃ “۔ یعنی ہر قسم کی معنوی آلائشوں سے پاک ومنزہ۔ (آیت) ” سفرۃ کرام بررۃ “۔ یہ اوصاف فرشتوں کے بیان ہوئے، جنہوں نے بحکم الہی ان صحیفوں کی کتابت لوح محفوظ میں کی، مجازا یہ اوصاف ان خادمان کے بھی ہوسکتے ہیں۔ جنہوں نے ابتداء کتابت وحی کی، اور اس کے بعد سے اب تک قرآن کے بھی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
فانت عنہ تلھی، یعنی ایسے شخص کی جن کے دل میں خدا کا خوف ہو جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ وہ آپ ﷺ کی باتوں پر عمل کرے گا اور آپ کی نصیحت اس کیلئے مفید ثابت ہوگی، قدر کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی، ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب آقا و غلام، مرد و عورت چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت ہدایت سے نواز دے گا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →فی صحف . یہ تذکرۃٌ کی صفت یا اِنّھا کی دوسری خبر یا مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی وہ تذکرہ صحیفوں میں لکھا ہوا ہے ‘ صحیفوں سے مراد ہے لوح محفوظ یا لوح محفوظ کی نقلیں جو ملائکہ لکھ لیتے ہیں یا انبیاء کے صحیفے کیونکہ اللہ نے فرمایا : وانّہ لفی زبر الاوّلین . ان ھذا لفی الصحف الاولٰی . صحف ابراھیم و موسیٰ ۔ 1 یا وہ صحیفے مراد ہیں جو صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر لکھ رکھے تھے۔ .......... حاشیہ اگلے صفحہ پر مکرمۃ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
(5۔ 16) سو جو شخص اللہ تعالیٰ سے بےپروائی کرتا ہے آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے موحد نہ بننے کا آپ پر کوئی الزام نہیں اور جو شخص نیکی کے شوق میں آپ کے پاس دوڑ کر آتا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے اور حضرت ابن ام مکتوم پہلے ہی سے مشرف بااسلام ہوچکے تھے، چناچہ اس کے بعد جب حضرت ابن ام مکتوم آپ کے پاس آتے تو آپ ان کی بڑی خاطر و احترام کرتے، امیر ہو یا غریب یہ سورت سب کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نصیحت کی چیز ہے لہذا جس کا دل چاہے نصیحت قبول کرے اور یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ثبت ہے جو عنداللہ مکرم ہیں۔ رفیع المکان ہیں اور وہ شرک و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(فی صحف مکرمۃ…: ان آیات میں قرآن مجید کی عظمت بیان کی گئی ہے کہ یہ ایسے اوراق میں لکھا ہوا ہے جن کی عزت کی جاتی ہے، جو بلند شان والے اور پاک ہیں۔ اس سے قرآن مجید کے وہ اوراق مراد ہیں جن میں سے فرشتوں نے لوح محفوظ سے نقل کر کے لکھا، وہ بھی جن میں قرآن کے کاتب صحابہ کرام ؓ عنہمانے رسول اللہ ﷺ سے سن کر لکھا اور وہ بھی جن میں ان سے نقل کر کے لکھا گیا اور قیامت تک لکھا جائے گا۔ قرآن مجید کی جس طرح تکریم کی جاتی ہے اور جس طرح یہ شیاطین اور ملحدوں کی دخل اندازی سے محفوظ، ہر قسم کی تحریف اور رد و بدل سے مامون اور ہر قسم کے خلاف عقل اور خلاف حیا مضامین سے مطہر ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کی ان خصوصیات…
Read the full tafseer →فی صحف مکرمہ۔ صحف، صحیفہ کی جمع ہے وہ صحیفے اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے محترم ہیں یہ سدی کا قول ہے طبری نے کہا، یہ دین میں مکرم ہیں کیونہ ان میں علم اور حکمتیں ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مکرم اس لیے ہیں کہ انہیں معزز فرشتے لاتے ہیں یا اسلیے کہ یہ لوح محفوظ ہے نازل ہونے والا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اس لیے معزز ہیں کیونکہ یہ کریم کی جانب سے نازل ہوئے کیونکہ کتاب کی شرافت کتاب والے کی بزرگی سے ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد انبیاء کی کتب ہیں اس کی دلیل، ان ھذا لفی الصحف الاولی، صحف ابراہیم وموسی۔ (الاعلی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
16۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی صفح مکرمہ مرفوعۃ مطہرۃ کہ وہ عزت والے صحیفوں میں ہے جو بلند مرتبہ اور پاک ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے آیت بایدی سفرۃ ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں اور یہ قرآن ہے۔
Read the full tafseer →[فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ : (اس کو لکھا گیا) معزز کیے ہوئے ایسے صحیفوں میں جو ] ترکیب : (آیات 13 تا 16) فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ سے پہلے فعل کُتِبَ محذوف ہے۔ اس کا نائب فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے جوتَذْکِرَۃٌ کے لیے ہے۔ واضح رہے کہ تَذْکِرَۃٌ مصدر ہے جو مذکر و مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے اس سے پہلے اِنَّھَا میں اس کے لیے ھَا کی مونث ضمیر آئی ہے اور اگلی آیت میں ذَکَرَہٗ میں اسی کے لیے ، کی مذکر ضمیر آئی ہے۔ صُحُفٍ جمع مکسر ہے، اس لیے اس کی صفت مُکَرَّمَۃٍ واحد مونث آئی ہے۔ آگے مَرْفُوْعَۃٍ اور مُطَھَّرَۃٍ بھی صُحُفٍ کی خصوصیات ہیں۔ سَفَرۃٍ نکرہ مخصوصہ ہے۔ جبکہ کِرَامٍ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
اس کے بعد فرمایا ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ0011 ﴾ آپ ہرگز ایسا نہ کیجیے کہ جو شخص آپ کے پاس دینی باتیں معلوم کرنے آئے اس کی طرف سے بےتوجہی کریں کیونکہ قرآن ایک نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے آپ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے جو قرآن اور اس کی نصیحت قبول نہ کرے اس کا وبال اسی پر ہے، آپ پر کوئی ضرر نہیں اس کے بعد قرآن کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو اللہ کے یہاں مکرم ہیں اور بلند اور مقدس ہیں، کیونکہ شیاطین وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور یہ صحیفے ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں جو باعزت اور نیک ہیں (فرشتے چونکہ لوح محفوظ سے قرآن مجید کو نقل کرتے ہیں اس لیے ﴿…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
5:۔ ” کلا “ حرف ردع ہے۔ یوں تو نہیں چاہئے تھا۔ یہ بمعنی ” حقا “ ہے اور ما بعد سے متعلق ہے یعنی یقیناً ۔ یہ آیت قرآنیہ ہر ایک کے لیے عبرت و نصیحت ہیں جو بھی چاہے انہیں پڑھ سن کر ان سے نصیحت حاصل کرے۔ ” فی صحف “ اس سے مراد وہ صحیفے اور تختیاں ہیں جن پر فرشتے لوح محفوظ سے کلام اللہ کو نقل کرتے ہیں وہ صحیفے اللہ کے نزدیک قابل تکریم ہیں، قدر و منزلت میں بہت بلند اور پاکیزہ ہیں کہ فرشتوں کے سوا کسی کا ہاتھ ان کو نہیں لگا۔ وہ صحیفے ایسے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت والے ہیں اور گناہوں سے پاک اور اللہ تعالیٰ کے نہایت فرمانبردار ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ” سفرۃ “ سے صحابہ کرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(پس منظر) اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی…
Read the full tafseer →فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَۃٍ 13 ۙ صحف الصَّحِيفَةُ : المبسوط من الشیء، کصحیفة الوجه، والصَّحِيفَةُ : التي يكتب فيها، وجمعها : صَحَائِفُ وصُحُفٌ. قال تعالی: صُحُفِ إِبْراهِيمَ وَمُوسی [ الأعلی/ 19] ، يَتْلُوا صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ [ البینة/ 2- 3] ، قيل : أريد بها القرآن، وجعله صحفا فيها كتب من أجل تضمّنه لزیادة ما في كتب اللہ المتقدّمة . والْمُصْحَفُ : ما جعل جامعا لِلصُّحُفِ المکتوبة، وجمعه : مَصَاحِفُ ، والتَّصْحِيفُ : قراءة المصحف وروایته علی غير ما هو لاشتباه حروفه، والصَّحْفَةُ مثل قصعة عریضة . ( ص ح) الصحیفۃ کے معنی پھیلی ہوئی چیز کے ہیں جیسے صحیفۃ الوجہ ( چہرے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ۔ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ م۔ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ ۔ (عبس : 13 تا 16) (یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو لائقِ تعظیم ہیں۔ بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں۔ ایسے کاتبوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ جو معزز اور باوقار ہیں۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت اوپر جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کی مزید وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے یہ شایانِ شان نہیں کہ آپ ان بددماغ اشرافِ قریش کے سامنے اس طرح بات کریں جیسا چھوٹا بڑوں کے سامنے کوئی درخواست پیش کرتا ہے۔ آپ خالق کائنات کے سفیر ہیں۔ ان اشراف سے بات کرتے ہوئے آپ کی عظمت کا اظہار ہونا بھی ضروری ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فہم القرآن ربط کلام :” اللہ تعالیٰ “ سے ڈرنے اور ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی نصیحت پر عمل کیا جائے۔ قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی نصیحت بہتر نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے طور پر نازل فرمایا ہے۔ اس میں ہدایت اور گمراہی کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں ہدایت کی طلب پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو شخص ہدایت کا طالب نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا کیونکہ اس کا فرمان ہے جو چاہے ہدایت حاصل کرے اور جو چاہے اپنے آپ کو گمراہی کے حوالے کیے رکھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ہدایت اور کفر کا راستہ واضح…
Read the full tafseer →13 : فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ (وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو مکرم ہیں) نحو : فی صحفٍ یہ تذکرہ کی صفت ہے ای انھا مثبتۃ فی صحف منتسخۃ من اللوح۔ یعنی بیشک وہ ثابت شدہ ہے ایسے صحائف میں جو لوح محفوظ سے لکھے گئے ہیں۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے ایھی فی صحف۔ وہ صحائف میں ہے۔ مُّکَرَّمَۃٍ جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مکرم ہیں۔
Read the full tafseer →12 ۔” فمن شائ “ اللہ کے بندوں میں سے۔ ” ذکرہ “ یعنی اس سے نصیحت حاصل کرے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں پس جو شخص اللہ چاہیں گے اس کو سمجھ دیں گے اپنی مشیت اور تفہیم کے ذریعے اور ھاء (ذکرہ) میں قرآن، تنزیل اور وعظ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پھر اس کی اپنے یہاں عظمت کی خبر دیتے ہوئے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا چناچہ فرمایا (فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ۔ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۢ) قابل ادب ورقوں میں جو بلند وبالا اور پاک ہیں۔ یعنی قدرومنزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چراسکیں بلکہ یہ (بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ ) لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں۔
Read the full tafseer →( 12) قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک اور پہلو کا ذکر وبیان : سو قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک اور پہلو کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ثبت و مندرج ہے بڑے عظیم الشان اور معزز صحیفوں میں "۔ پس ان صنادید قریش دوسرے منکرین و متکبرین کے ماننے سے نہ اس کی عزت و عظمت میں کوئی اضافہ ہوجائے گا، اور نہ ہی ان لوگوں کے انکار و اعراض سے اس میں کوئی فرق آجائے گا۔ بلکہ یہ سب کچھ خود ان لوگوں کے اپنے ہی بھلے کے لیے ہے، پس یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کے لیے کسی کی منت سماجت کی ضرورت ہو، بلکہ یہ تو بڑی ہی پاکیزہ اور نہایت بالا و برتر چیز ہے۔ " صحف " جمع ہے " صحیفہ " کی، اور " صحیفہ " لکھے ہوئے ورق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →ف 2 مراد لوح محفوظ کے ورقے ہیں۔
Read the full tafseer →(80:13) فی صحف مکرمۃ۔ یہ تذکرۃ کی صفت ہے صحف مکرمۃ موصوف و صفت، مکرم صحیفوں میں لکھا ہوا۔ صحف بمعنی صحیفے۔ کتابیں ۔ اور اق۔ صحیفۃ کی جمع۔ واضح رہے کہ یہ جمع نادر ہے کیونکہ فعیلۃ کی جمع صحف نہیں آتی۔ ندرت اور قیاس می اس کی مثال سفینۃ اور سفن ہے۔ مکرمۃ ، تکریم (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ہے ۔ عزت والے۔ قابل ادب۔ معزز۔ علامہ پانی پتی (رح) نے صحف مکرمۃ کی تشریح یوں کی ہے :۔ صحیفوں سے مراد ہے لوح محفوظ ، یا لوح محفوظ کی نقلیں جو فرشتے لکھ لیتے ہیں ۔ یا انبیاء کے صحیفے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے وانہ لفی زبر الاولین (96:196) اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(ف 1) شان نزول : سورة عبس میں ایک سوتیس کلمے ، پانچ سو تینتیس حروف ہیں نبی ﷺ عتبہ بن ربیعہ ، ابوجہل ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف اشراف قریش کو اسلام کی دعوت فرما رہے تھے اس درمیان عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی حاضر ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اس میں سے تعلیم فرمائیے، جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے حضور کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گذرا، آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ یہ قریش کے بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہیں ان کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
[2] یعنی ایسے ناقدروں کو اہمیت دینے کی ہرگز ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ف 1: غور کیجئے ۔ واقعہ کے لحاظ سے یہاں کوئی نافرمانی یا معصیت نہیں ہے ۔ بلکہ معاملہ صرف یہ ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ حضور ﷺ ان باتوں میں کہ کون توجہ اور التفات کا زیادہ مستحق ہے ۔ مکہ والے یا یہ نابینا صحابی صحیح اور اولیٰ فیصلہ نہیں کرپائے اور مسئلہ کے ایسے پہلو کو اختیار کرلیا جو عنداللہ معقول تھا ، افضل نہیں تھا ۔ قرآن کی یہ آیات حضور ﷺ کے صادق اور مامور من اللہ ہونے پر بہترین دال ہے ۔ کیونکہ معاذ اللہ اگر آپ اپنے دعویٰ میں سچے نہ ہوتے تو ان آیتوں کو جس میں آپ کو متنبہ کیا گیا ہے کبھی قرآن کے اوراق میں درج نہ فرماتے ۔ یہ واقعہ بجائے خوددعویٰ نبوت میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔ کہ اتنی بڑی تنبیہ کہ…
Read the full tafseer →(13) وہ قرآن معظم ومکرم اوراق میں لکھا ہوا ہے - یعنی لوح محفوظ کے ایسے اوراق میں ثبت ہے جو اوراق اللہ تعالیٰ کے نزیک مکرم اور قابل تکریم و تعظیم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1 تا 16 یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ (It is [ recorded ] in those scripts [ of the Preserved Tablet ] that are honoured, [ 13] exalted, purified - 14). The word suhuf refers to lauh mahfuz 'the Preserved Tablet'. Although it is a single thing, but suhuf, the plural form of sahifah is used because all divine scriptures are written in it, or because the angels copy their scriptures from them. The word marfuah means 'exalted in the sight of Allah'. The word mutahharah (purified) means 'people in the state of sexual defilement, menstrual discharge, post-natal bleeding and people…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
3 That is, "You should never do so: do not give undue importance to those who have forgotten God and become proud of their high worldly position. The teaching of Islam is not such that it should be presented solicitously before him who spurns it, nor should a man like you try to invite these arrogant people to Islam in a way as may cause them the misunderstanding that you have a selfish motive connected with them, and that your mission would succeed only if they believed, otherwise not, whereas the fact is that the Truth is as self-sufficient of them as they are of the Truth." 4 The allusion…
Read the full tafseer →