فَاَمَّا مَنْ طَغٰی ۟ۙفَاَمَّا مَنۡ طَغٰىۙ
تو جس نے سرکشی کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
So as for he who transgressed
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz
فَاَمَّا مَنْ طَغٰی ۟ۙفَاَمَّا مَنۡ طَغٰىۙ
تو جس نے سرکشی کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
So as for he who transgressed
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
تو جس نے سرکشی کی تھی
تو جس نے سرکشی کی
تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی)
تو وہ جس نے سرکشی کی تھی۔
تو وہ جس نے سرکشی کی
پھر جس شخص نے سرکشی کی ہوگی،
پس لیکن جو حد سے بڑھ گیا۔
سو جس نے سرکشی کی
۔ تو جس نے سرکشی کی
سو جس نے سرکشی کی ہوگی
تو جس کسی نے سرکشی کی ہوگی
پس جس نے سرکشی کی تھی۔
تو جس نے سرکشی کی
then he who transgressed
then for the one who had rebelled,
then for the one who had rebelled,
Then for him who transgressed
Then, as for him who rebelled
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So as for he who transgressed
Those who have rebelled
Then as for him who is inordinate,
Then as for him who waxed exorbitant,
Then, for such as had transgressed all bounds,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 34–46
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
سورة النّٰزِعٰت 21 یہاں چند مختصر الفاظ میں یہ بتادیا گیا ہے کہ آخرت میں اصل فیصلہ کس چیز پر ہونا ہے۔ دنیا میں زندگی کا ایک رویہ ہے کہ آدمی بندگی کی حد سے تجاوز کر کے اپنے خدا کے مقابلے میں سرکشی کرے اور یہ طے کرلے کہ اسی دنیا کے فائدے اور لذتیں اسے مطلوب ہیں خواہ کسی طرح بھی وہ حاصل ہوں۔ دوسرا رویہ یہ ہے کہ یہاں زندگی بسر کرتے ہوئے آدمی اس بات کو پیش نظر رکھے کہ آخر کار ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اور نفس کی بری خواہشات کو پورا کرنے سے اس لیے باز رہے کہ اگر یہاں اس نے اپنے نفس کا کہا مان کر کوئی ناجائز فائدہ کما لیا یا کوئی ناروا لذت حاصل کرلی تو اپنے رب کو کیا جواب دے گا۔ آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی وہ دو ہیں فَاَمَّا مَنْ طَغٰى،ۙوَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا اول طغیان یعنی اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے احکام کی پابندی کے بجائے سر کشی کرنا، دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اسکے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کردے۔ جو شخص دنیا میں ان دو بلاؤں میں مبتلا ہے اس کے لئے فرمایا فان الجحیم ھی الماوی، یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اسکے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتلائی ہیں۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ…
Read the full tafseer →فرمایا کہ جس نے اس دنیا میں سرکشی کی ہو گی اور دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہو گی اس دن اس کا ٹھکانا بس جہنم ہی بنے گا جس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہو گا۔ پیچھے آیت ۱۷ میں فرعون کے طغیان کا ذکر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
37۔ 1 یعنی کفر و گناہوں میں حد سے تجاوز کیا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–45
9: عرب کے کافر لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا جو انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی مردے کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کائنات کی دوسری چیزوں، مثلاً آسمان، کے مقابلے میں انسان کو پیدا کرنا زیادہ آسان ہے، اگر تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
فاما ................................ الماوی (39:79) ” تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی ، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ طغیان اور سرکشی کا مفہوم وسیع تر ہے ، یہ ہر اس شخص پر صادق آتا ہے جو حق اور ہدایت کی راہ سے متجاوز ہوتا ہے۔ اس کے حدود قوت اور جبر اور اقتدار اعلیٰ کے بل بوتے پر ظلم اور تجاوز کرنے والے سرکشوں سے زیادہ وسیع ہیں۔ ہر وہ شخص جو دنیا پرست ہے اور راہ ہدایت سے ادھر ادھر متجاوز ہوتا ہے۔ وہ باغی اور طاغی ہے جس کی بڑی صفت یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ آخرت کی جوابدہی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی فکر ہی انسان کے ضمیر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
2 یعنی دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اسے بہتر سمجھ کر اختیار کیا اور اسے بھلا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آیت 35{ یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی۔ } ”اس دن انسان یاد کرے گا جو کچھ اس نے بھاگ دوڑ کی تھی۔“ اس دن انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور جس شخص نے اپنی ساری زندگی دنیا کے مال و متاع کے پیچھے بھاگتے بھاگتے برباد کردی تھی اسے معلوم ہوجائے گا کہ اب آخرت کے لیے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ سورة الکہف کی اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے : { قُلْ ہَلْ نُـنَـبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا - اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۔ } ”آپ ﷺ کہیے : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
26 بُرّزَت : بَرَزَ بمعنی کسی چیز کا نکل کر کھلے میدان میں آجانا۔ سامنے آنا۔ گم نامی اور پوشیدگی کے بعد ظاہر ہونا۔ اور برز کے معنی فضا اور کھلا میدان اور دعوت مبارزت بمعنی کسی شخص کا میدان جنگ میں آگے بڑھ کر دشمن کے کسی آدمی کو مقابلہ کے لیے للکارنا ہے اور برز بمعنی کسی چھپی ہوئی چیز کو نکال کر سامنے کھلے میدان میں لے آنا۔ یعنی اس دن جہنم کو سب لوگوں کے سامنے لے آیا جائے گا خواہ وہ نیک لوگ ہوں یا بدکردار۔ اسی مضمون کو ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا : ( وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا 71ۚ ) 19 ۔ مریم :71) یعنی تم میں سے ہر شخص جہنم پر پہنچنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
16۔ مجرموں، کافروں کا ذکر ہورہا ہے۔ (آیت) ” واثرالحیوۃ الدنیا “۔ یعنی اخروی زندگی سے منکر ہو کر اسی ناسوتی زندگی کو سب کچھ سمجھ لیا، ذکر یہاں عاصی، خاطی کا نہیں، منکر و کافر کا ہے۔ دوزخ مستقل ٹھکانا صرف اسی کا ہوسکتا ہے۔ وھو الکافر الذی یکون عقابہ مخلدا وتخصیصہ بھذہ الحالۃ یدل علی ان الفاسق الذی کا یکون کذلک لا تکون الجحیم ماوی لہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
فاما من طغی الخ، اول اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی تھیں اور وہ دو ہیں : اول طغیان، یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کرنا، اور دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دینا، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم بتایا ہے۔
Read the full tafseer →پس جو معصیت میں حد سے آگے بڑھ گیا ہے یہاں تک کہ کافر ہوگیا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
(36۔ 39) اور دوزخ داخل ہونے والوں کے سامنے دوزخ ظاہر کی جائے گی، سو جس شخص نے کفر وتکبر اور سرکشی اختیار کی اور دنیا کو آخرت پر اور کفر کو ایمان پر ترجیح دی مثلا نضر بن حارث سو دوزخ ایسے لوگوں کی جگہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
(وبرزت الجحیم لمن یری : یعنی گمراہ لوگوں کیلئے جہنم سامنے کردی جائے گی کہ یہ تمہارا ٹھکانا ہے، البتہ متقی لوگوں کے لئے جنت قریب کی جائے گی، جیسا کہ فرمایا :(وازلفت الجنۃ للمتقین، وبرزت الجحیم للغوین) (الشعرائ : 90، 91)”جنت متقی لوگوں کے قریب کردی جائے گی اور جہنم گمراہوں کے لئے ظاہر کردی جائے گی۔“ یہ معنی بھی درست ہے کہ مومن ہو یا کافر جہنم ہر دیکھنے والے کے سامنے ہوگی، مومن اس سے بچائے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اور کافر شدید حسرت و افسوس میں مبتلا ہوں گے۔ میدان محشر میں جہنم لائے جانے کے متعلق دیکھیے سورة فجر (23) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فاما من طغی۔۔ تا۔۔۔ الماوی فاما من طغی، واثرالحیوۃ الدنیا۔ طغیان سے مراد ہے نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت نضر اور اس کے بیـٹے حارث کے حق میں نازل ہوئی یہ ہراس کافر کو عام ہے جس نے دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی۔ یحییٰ بن کثیر سے مروی ہے جس نے ایک کھانے میں تین قسم کے کھانے تیار کیے تو اس نے سرکشی کی، جویر نے ضحاک سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت حذیفہ نے کہا، اس امت کے بارے میں جس چیز سے میں زیادہ خوف محسوس کرتا ہوں کہ وہ دیکھی ہوئی چیز کو جانی گئی، چیز پر ترجیح دیں گے، یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ کتابوں میں یہ چیز پائی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، میرا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
جہنم ظاہر کردی جائے گی 17۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وبرزت الجیحم لمن یری اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ سامنے لائی جائے گی۔ یعنی ہر دیکھنے والے کے لیے جہنم ظاہر کردی جائے گی۔
Read the full tafseer →[فَاَمَا مَنْ طَغٰى: تو وہ جو ہے جس نے سرکشی کی ] نوٹ۔ 3: آیات۔ 37 تا 41 ۔ میں اہل دوزخ اور اہل جنت کی خاص خاص علامات کا بیان ہے جس سے ایک انسان دنیا ہی میں یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس ضابطہ کے مطابق میرا ٹھکانہ دوزخ میں ہے یا جنت میں۔ ضابطہ اس لیے کہا گیا ہے کہ کسی کی شفاعت سے یا بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کسی جہنمی کو وہاں سے نکال کے جنت میں پہنچا دینا ایک استثنائی حکم ہے اور جنت یا دوزخ میں ٹھکانے کا اصل ضابطہ وہی ہے جو ان آیات میں بیان فرمایا ہے۔ پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئیں، وہ دو ہیں۔ اول طغیان یعنی اللہ اور اس کے رسول 1 کے احکام کی پابندی کرنے کی بجائے سرکشی کرنا۔ دوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ان آیات میں قیامت کا منظر بتایا ہے۔ ﴿ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى ﴾ جس کا ترجمہ بڑی مصیبت سے کیا گیا ہے یہ طم یَطُمُّ سے ماخوذ ہے جو بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے قیامت کے لیے اس لفظ کا اطلاق اس لیے کیا گیا کہ اس دن کی مصیبت ہر مصیبت پر غالب ہوگی۔ اس سے بڑی مصیبت اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھی ہوگی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : والطامة اعظم الدواھی لانہ من طم بمعنی علا کما وردفی المثل جری الوادی فطم علی القری وجاء السیل فطم الر کی وعلوھا علی الدواھی غلب تھا علیھا فیرجع لما ذكر، قیل فوصفھا بالکبریٰ للتاکید ولو فسر کونھا طامة بکونھا غالبة للخلائق لا یقدرون علی دفعھا لکان الوصف مخصصا، وقیل کونھا طامة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
14:۔ ” وبرزرت “۔ دیکھنے والوں کے لیے جہنم کو ظاہر کردیا جائیگا اور ہر شخص اس کا مشاہدہ کرے گا اور اس کے بھڑکتے شعلوں کو دیکھے گا۔ ” فاما من طغی “ لیکن جنہوں نے سرکشی کی اور کفر و عصیان میں حد سے گذر گئے اور آخرت پر دنیا کو ترجیح دی۔ دنیا کے پیچھے پڑے رہے، لیکن ایمان اور عمل صالح سے آخرت کی تیاری نہ کی تو یہی بھڑکتے شعلوں والا جہنم ان کا ٹھکانا جنت میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر حکماء کے نظریہ کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس ضمن میں ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں گروہوں کے نتائج بھی بیان کردیے ہیں ۔ پہلے منکرین کے حالات بیان ہوئے کہ کہتے ہیں ” ء اذاکنا عظاما نخرۃ “ جب ہم مرکر بوسیدہ ہدیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ، اللہ جل شانہ نے دو بار ہ زندگی کی دلیل کے طور پر فرمایاء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا “ کیا تمہارے جیسی چھوٹی چیز کا پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کا بنانا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کردیا تھا ، تو دوبارہ زندہ کرنا کیسے مشکل ہے ۔ اس نے…
Read the full tafseer →فَاَمَّا مَنْ طَغٰى 37 ۙ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
ترکیب ¦ فاذا اشرط الطامۃ قال المبردھی عند العرب الداھیۃ طمم طمم درانپا شتن (ععاض 2) یقال فوق کل ذی طامۃ طامۃ و بریدن والطامۃ قیامت صراح قال المبردھی من قولھم طم افرس طمیما اذا استفرغ جھدہ فی الجری وطم الماء اذا ملاء النھر کا وقال اللیث الطم طم البئیریا بالتراب وھوا لکبس ویقال للشیء الذی یکبر حتی یعلوطم والطامۃ الحاوثۃ تطم علی ماسواھا کبیر۔ والعامل فی اذا جوا بھا وھو معنی قولہ یوم یتذکر قال الواحدی جواب اذا محذوف والتقدیر اذا جاءت الطامۃ الکبرٰی دخل اھل النار النار واھل الجنۃ الجنۃ وقیل جو ابھا قولہ فان الجھیمھی الماویٰ وکانہ جزاء مرکب علی شرطین یوم یتذکر الظرف بدل من اذا وقیل من الطامۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
فَاَمَّا مَنْ طَغٰی۔ وَاٰ ثَرَالْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ھِیَ الْمَاْوٰی۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی۔ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی۔ (النازعات : 37 تا 41) (تو جس نے سرکشی کی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ اور وہ جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرا اور جس نے اپنے نفس کو خواہش کی پیروی سے روکا۔ تو جنت اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ ) جنت و جہنم میں جانے کے اسباب اللہ تعالیٰ کا بےحد کرم ہے کہ ہر انسان کا آخرت میں جو انجام ہونے والا ہے اس کے اسباب و نتائج کو نہایت اختصار کے ساتھ اس طرح سمیٹ کر بیان کردیا ہے کہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والے قیامت کی ہولناکیوں اور ان کی کیفیت کو نہیں جانتے اس لیے قیامت کا انکار اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ ان کی لاپرواہی کو دور کرنے کے لیے قیامت کی ہولناکیوں اور اس کی ہیبت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا ہی ایسے زور دار دھماکے سے ہوگی کہ جو ہر چیز کو ہلا کے رکھ دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا زمین آسما نوں میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اس کے لیے یہاں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ” اَلطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی “ کا معنٰی کسی چیز کا لبالب بھرا ہونا ہے۔ ” الکبریٰ “ یعنی قیامت سب سے بڑی آفت ہوگی اور وہ اپنی حولناکیوں کے اعتبار سے ہمہ…
Read the full tafseer →سرکشی کا انجام : 37 : فَاَمَّا مَنْ طَغٰی (تو جس شخص نے سرکشی کی ہوگی) یہ فاذا کا جواب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگیا اذا جاءت الطامۃ فان الامر کذٰلک من طغٰی ای جاوز الحد فکفر۔ یعنی جب بڑا ہنگامہ آجائے گا پس معاملہ اسی طرح ہوگا کہ جس شخص نے حد سے تجاوز کر کے کفر کیا ہوگا۔
Read the full tafseer →36 ۔” وبرزت الجحیم لمن یریٰ “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس سے پردہ کو کھول دیا۔ پس اس کی طرف مخلوق دیکھے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
34۔ 41۔ دنیا کی موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا و جزا کا دوسرا نظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے طامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہو سکے۔ یہاں طامہ سے مطلب قیامت ہے۔ اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایا جائے گا سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا۔ ادھر سورج کی گرمی اور ادھر دوزخ کی آگ کی گرمی۔ اس لئے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے۔ نیکی بدی کے تولے جانے کا ‘ پل صراط پر گزرنے کا جدا خوف لگا ہوگا غرض ایسی ایسی خوفناک آفتیں اس دن آدمی کو پیش آنے والی ہیں جس کی برداشت اس قدر مشکل ہے کہ جس کو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والساعۃ ادھیٰ وامر جس کا مطلب…
Read the full tafseer →(فَاَمَّا مَنْ طَغٰى) یعنی جس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
(28) دوزخ کی نقاب کشائی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور بےنقاب کردیا جائے گا اس روز دوزخ کو دیکھنے والوں کے لیے " جس سے مومن کی تو خوشی اور مسرت میں اضافہ ہوگا کہ اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم اور اپنی توفیق و عنایت سے مجھے اس برے اور ہولناک انجام سے بچا لیا جبکہ کافروں کی یاس و حسرت میں اضافہ ہوگا کہ اس وقت ان کے لیے اس سے بچنے کی کوئی سبیل نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آج تو ایسے منکروں کو آخرت کا وہ جہاں اور دوزخ سب کچھ بہت بعید از امکان نظر آتا ہے، لیکن اس روز صرف نقاب ہٹانے کی دیر ہوگی، پس جونہی دوزخ کو ان لوگوں کے لیے بےنقاب کردیا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔ ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
آیات 27 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 3 یعنی اس نے اپنی زندگی اس سے ڈرتے ہوئے بسر کی۔
Read the full tafseer →(79:37) فاما من طغیترتیب کا ہے۔ یعنی ان متذکرہ بالاحوال سے یہ امر مترتب ہوگا کہ :۔ اما شرطیہ ہے بمعنی پس۔ سو۔ من موصولہ۔ طغی ماضی واحد مذکر غائب طغیان (باب فتح) مصدر سے بمعنی وہ حد سے نکل گیا۔ اس نے سرکشی کی۔ اس نے نافرمانی کی۔ جاوز الحد فکفر (مدارک) ۔ جو معصیت میں حد سے بڑھ گیا یہاں تک کہ کافر ہوگیا (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
روز قیامت کی مشکلات۔ (ف 5) دنیا کے موجودات کے ذکر کے بعد قیامت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ موجودات ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ سب موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا وجزا کا دوسرا انتظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے۔ الطامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہوسکے، یہاں الطامہ سے مطلب قیامت ہے ، اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایاجائے گا، سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا ادھر سے سورج کی گرمی اورادھر دوزخ کی گرمی، اس لیے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے نیکی وبدی کے تولے جانے کا، پل صراط پر گذرنے کا جداخوف لگا ہوگا، غرض ایسی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
[13] یعنی زمین کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو اور وہ کھائے پیئے اور ختم ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
زمین کب پیدا ہوئی ؟ 1: بعد ذلک دحھا سے نظام لیل ونہار کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو پیدا کیا گیا ہے ۔ حالانکہ دوسرے مقامات میں بالتصریح فرمایا ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے آخر میں ہوئی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ پیدا کرنے میں اور دحو میں لغتہ ایک باریک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ دخو کے منی یہ ہیں کہ زمین کو اس طرح پاؤں تلے بچھادیا جائے کہ اس میں افادہ کی قابلیت اور استعداد ہو ۔ اس لئے معنی یہ ہوں گے کہ گو زمین کو پیدا تو پہلے کیا گیا ہے ۔ مگر مفید بعد میں بنایا گیا ہے ۔ جیسا کہ علم الحیات کے ماہرین کا خیال ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعد یہاں تربیت کے لئے نہ ہو ۔ بلکہ تربیت وتعقیب بیان کے لئے ہو ۔…
Read the full tafseer →(37) پس جس شخص نے سرکشی کی ہوگی اور حد سے تجاوز کیا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–39
ف 7۔ رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب سے ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان میں ہے۔
Read the full tafseer →پھر جس نے سرکشی کی ہو گی ۔ 37 گزشتہ آیت کی وضاحت فرما دی گئی کہ وہ لوگ جو دنیا کی زندگی میں اس قدر مصروف رہے کہ ان کے سامنے آخرت کا تصور جب بھی کسی نے پیش کیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اس کی باتوں کی پروانہ کرتے ہوئے سرکشی کا مظاہرہ کیا اور دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دی اور دنیا کے انہماک نے ان کو آخرت کے تصور سے باز رکھا لہٰذا انہوں نے جو کچھ کیا محض دنیوی زندگی کی رنگینیوں کے لئے کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
First, the special marks of the inmates of Hell are described. They have two characteristics: فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (then for the one who had rebelled, and preferred the worldly life [ to the Hereafter ]...79:38). In other words, [ 1] instead of remaining loyal to Allah and His Messenger and following their commands, they adopt the line of rejection and rebellion; and [ 2] prefer the life of this world to that of the Hereafter. In other words, if he were to do a deed that gives comfort and pleasure in this world but punishment in the Hereafter, he would prefer…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
21 Here, in a few words, it has been told briefly what shall be the criterion of the final judgement in the Hereafter. One kind of the conduct of life in the world is that transgressing all bounds of service man should rebel against his God and should make up his mind that he would seek only the benefits and pleasures of this world in whatever way they could be sought and achieved. The other kind of conduct is that while man passes life in the world he should constantly keep in view the truth that ultimately one day he has to stand before his Lord, and should refrain from fulfilling the evil…
Read the full tafseer →