Explained with ayahs 17–30
جماعت در جماعت حاضری
یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آجائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ01004ۭ) 11۔ ھود :104) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہوگی جیسے فرمایا آیت (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71)…
Read the full tafseer →سورة النَّبَا 18
یعنی ان کے اقوال و افعال، ان کی حرکات و سکنات، حتی کہ ان کی نیتوں اور خیالات اور مقاصد تک کا مکمل ریکارڈ ہم تیار کرتے جا رہے تھے جس سے کوئی چیز چھوٹی ہوئی نہ تھی، اور وہ بیوقوف اس سے بیخبر اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ کسی اندھیر نگر میں جی رہے ہیں جہاں وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں، اس کی باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
جَزَاۗءً وِّفَاقًا یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیسہ کے مطابق ہوگی از روائے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا یعنی جس طرح تم دنیا میں اپنے کفر و انکار میں زیادتی ہی کرتے چلے گئے اور اگر جبراً تمہیں موت نہ آجاتی تو اور بڑھتے ہی رہتے اسی طرح آج اس کی جزاء یہ ہے کہ تمہارا عذاب بڑھتا ہی چلا جائے یہاں تک کفار و فجار کا بیان تھا آگے اس کے بالمقابل مومنین متقین کے ثواب اور نعمائے جنت کا تذکرہ ہے۔
Read the full tafseer →’وَکُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰہُ کِتٰبًا‘۔ یعنی وہ تو اس گمان میں رہے کہ نہ کوئی حساب ہے نہ کوئی سزا۔ لیکن ہم نے ان کی ایک ایک بات لکھ کر شمار کر رکھی تھی۔ لکھ کر شمار کرنا پورے اہتمام کی دلیل ہے۔ یعنی اس میں کسی سہو و نسیان کا کوئی امکان نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
29۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں۔ یا وہ ریکارڈ مراد ہے جو فرشتے لکھتے رہے۔ پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
3: یہ ترجمہ ایک تفسیر کے مطابق ہے جو حضرت عطاء سے منقول ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین میں ہوگی، جو کسی استحقاق کے بغیر ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ دین ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے دیں گے۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ : (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو ہر ایک کے لیے کافی ہوجائے گی۔ یعنی ان کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
Read the full tafseer →وکل .................... کتبا (29:78) ” اور حال یہ تھا کہ ہم ہر چیز گن گن کر لکھ رہے تھے “۔ اس لئے اب یہاں ان کو سخت ملامت کی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →6 یعنی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور اسی علم محیط کے موافق دفاتر میں باقاعدہ مندرج ہے۔ کوئی نیک و بد عمل اس کے احاطہ سے باہر نہیں۔ رتی رتی کا بھگتان کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26{ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ } ”بدلہ ان کے اعمال کا پورا پورا۔“
ان لوگوں نے جیسے اعمال کیے ہوں گے ‘ ویسا ہی ان لوگوں کے ساتھ وہاں سلوک کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
18 یعنی انہیں اتنی ہی سزا دی جائے گی جس قدر اس کے برے اعمال تھے۔ اس سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔ اور ان کے جرائم کی بنیاد یہ بات تھی کہ انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ان کا محاسبہ کیا جانے والا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے آیات کا انکار کیا تھا اور پوری زندگی شتر بےمہار کی طرح آزادانہ گزار دی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
12۔ منکرین مکذبین کے عذاب روز افزوں کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” وکل ..... کتبا “۔ یعنی ہر شے تمہارے نامہ اعمال میں منضبط کر رکھی گئی ہے۔ سو خود تمہارے معیار سے بھی صحت وتحقیق کا خاص اہتمام ہے، اور کسی عمل کی کمی کا کوئی احتمال نہیں۔ (آیت) ” انھم ..... حسابا “۔ ان کا اصلی اور بنیادی جرم ان کی یہی آخرت بیزاری تھی۔ (آیت) ” وکذبوا بایتنا کذابا “۔ کذابا کی قید واقعی ہے احترازی نہیں۔ یعنی ان کافروں کی حالت کا بیان ہے کہ وہ آخرت فراموشی کے ساتھ طرح طرح کی تکذیبوں میں بھی مبتلا تھے۔ یہ مراد نہیں کہ بغیر اتنی تکذیبوں کے مجرم نہ قرار پائیں۔ جرم کفر تو کسی بھی عقیدہ دینی میں شک وتردد سے لازم آجاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–30
وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →و کل شی ءٍ . یہ فعل محذوف کا مفعول ہے جس کی تشریح آئندہ فعل میں کی گئی ہے۔ یعنی طاغیوں کے ہر عمل اور ہر
بیہودگی کو ہم نے گھیر لیا ہے (احاطۂ عددی کرلیا ہے) ۔
احصینہ کتابا . کتابًا یا تمییز ہے یا حال ہے اور کتاب (مصدر) بمعنی مکتوب ہے یا مفعول مطلق ہے جیسے ضربتھُم
سوطًا میں نے ان کو ضرب تازیانہ لگائی یعنی میں نے ان کے ہر عمل کا اس طرح احصاء کرلیا ہے جیسے تحریر احصاء کرلیتی ہے یا کتاباً فعل محذوف کا مفعول ہے یعنی ہم نے ان کے اعمال کو احاطہ کرلیا ہے اور لوح محفوظ میں یا کرامًا کاتبین کے اعمال ناموں میں لکھ رکھا ہے ‘ کہا گیا ہے کہ یہ جملہ معترضہ ہے۔ میرے نزدیک وفاقًا کی علت ہے جیسے : انھم کانوا لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(29۔ 30) اور ہم نے انسانوں کے تمام اعمال لوح محفوظ میں لکھ رکھے ہیں سو دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو، ہم ایک عذاب کے بعد دوسرا عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
انھم کانوا لایرجون…: ان کے جہنم میں جانے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ انہیں اعمال کے حساب کی امیدن ہ تھی ، ورنہ وہ اپنے اعمال کو درست کرلیتے اور دوسری یہ کہ انہوں نے ہماری آیات کو بری طرح جھٹلا دیا۔ ”کذاباً“ مصدر ہے ”کذبوا“ کا، اس کے ساتھ ”کذبوا“ کی تاکید فرمائی ہے۔ ترجمے میں اس تاکید کو ”بری طرح“ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →وکل شئی احصینہ کتبا۔ لفظ کل کو نصب فعل مضمر دے رہا ہے جس پر احصینہ دلالت کرتا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی واحصینا کل شئی احصیناہ، ابوسمال نے اسے مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے، کتبا مفعول مطلق کی حیثیت سے منصؤب ہے کیونکہ احصینا کا معنی کتبنا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی کتبناہ کتابا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ علم کے معنی میں ہے کیونکہ جس چیز کو لکھا جاتا ہے وہ نسیان سے بہت ہی بعید ہوتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے اسے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے تاکہ ملائکہ اسے پہچان لیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ ہے جو بندوں کو اعمال لکھے جاتے ہیں تو یہ وہ کتابت ہے جوان فرشتوں کی طرف سے صادر ہوئی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
34۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت انہم کانوا لایرجون حساب ا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ثواب کی امید نہیں رکھتے تھے اور نہ عذاب سے ڈرتے تھے۔
35۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ اس سے شدید ترین کوئی آیت دوزخ والوں کے لیے نازل نہیں ہوئی۔ یعنی آیت فذوقوا فلن نزیدکم الا عذابا یہ چکھو سو ہم تمہارے لیے عذاب ہی زیادہ کرتے رہیں گے۔ یعنی وہ اللہ کی جانب سے مزدید عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔
36۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے حسن بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو برزہ اسلمی ؓ سے اللہ کی کتاب میں دوزخ والوں پر سب سے زیادہ سخت آیت کے…
Read the full tafseer →[وَكُلَّ شَيْءٍ : اور ہر چیز کو،][ اَحْصَيْنٰهُ : ہم نے احاطہ کیا اس کا ][ كِتٰبًا : بطور لکھی ہوئی ہونے کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
﴿جَزَآءً وِّفَاقًاؕ0026﴾ (یہ جو ان لوگوں کو بدلہ دیا جائے گا ان کے عقیدہ اور عمل کا پورا پورا بدلہ ہوگا) کفر اور شرک بدترین عمل ہے اس لیے ان کا عذاب بھی بدترین ہے اور چونکہ ان کی نیت یہ تھی کہ مشرک ہی رہیں گے اور اسی پہ ان کی موت آئی اس لیے عذاب بھی دائمی رکھا گیا۔ ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ0027﴾ (بلاشبہ وہ حساب کا خیال نہیں رکھتے تھے) ﴿ وَّ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًاؕ0028﴾ (اور انہوں نے ہماری آیات کو دلیری کے ساتھ جھٹلایا) ﴿ وَ كُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ كِتٰبًاۙ0029﴾ (اور ہم نے ہر چیز کو کتاب میں پوری طرح لکھ دیا ہے) ﴿ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا :
گستاخی مجرمین بصورت سوال ومطالبہ روز قیامت وذکر قانون جزاء وسزا مع دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عم یتسآء لون ........ الی ......... فلن نزیدکم الا عذابا “۔
(ربط) سورة نباء مکی سورت ہے جس کی چالیس آیات اور دو رکوع ہیں۔ اس سے قبل سورة المرسلات میں حق تعالیٰ شانہ نے بڑی ہی قوت و عظمت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ جس قیامت کا انسانوں سے وعدہ کیا گیا وہ یقیناً برپا ہو کر رہے گی، اس کے لئے خداوند عالم نے ہواؤں اور فرشتوں کی قسم کھا کر نہ صرف یہ کہ وقوع قیامت کا اعلان فرمایا بلکہ احوال قیامت بھی ذکر کردئیے گئے کہ جب نظام عالم درہم برہم ہوگا، تو زمین و آسمان اور چاند سورج اور کواکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
7:۔ ” لَا یَذُوْقُوْنَ “۔ وہ جہنم میں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ کسی مشروب کا۔ وہاں ان کو کھولتے پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یہ ایک ایسی جزا ہوگی جو ان کے عملوں کے عین مطابق ہوگی اور اس میں ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ ” اِنَّھُمْ کَانُوْا “ یہ ما قبل کی علت ہے اگر یہ کلام قیامت کے دن کافروں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد کہنا مراد ہے تو اس سے پہلے یقال مقدر ہے ورنہ اس تقدیر کی ضرورت نہیں۔ وہ قیامت کے دن کے محاسبہ کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ ” وَکُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ “ ہم نے ان کے تمام اعمال باطلہ اوراقوال زائعغہ کو باقاعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
(سزا کی وجوہات)
فرمایا یہ سخت سزائیں اس لیے دی جائیں گی کہ انھم کانو لایرجون حسابا دنیا میں رہتے ہوئے وہ آخرت کے حساب کتاب کی توقع ہی نہیں رکھتے تھے ۔ رجا کا معنی توقع بھی ہے اور ڈر بھی ۔ یہاں مراد دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں یعنی ان لوگوں کو نہ تو محاسبے کی تو قع تھی نہ ہی یہ اس سے خوف کھاتے تھے ۔ وہ تو وقوع قیامت کے ہی منکر تھے ۔ حساب کتاب تو بعد کی بات ہے۔ وہ قیامت کے متعلق ہی بیہودہ قسم کے سوالات کرتے تھے۔ اور آپس میں اختلافات رکھتے تھے۔ سزا کی دوسری وجہ یہ بیان فرمائی وکذبوابایتنا کذابا کہ یہ لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے ۔ انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی ۔ قیامت اور محاسبے کی…
Read the full tafseer →وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰہُ كِتٰبًا 29 ۙ
شيء
الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم .
( ش ی ء ) الشئی
بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ،
حصا
الإحصاء : التحصیل بالعدد، يقال : قد أحصیت کذا، وذلک من لفظ الحصا، واستعمال ذلک فيه من حيث إنهم کانوا يعتمدونه بالعدّ کا عتمادنا فيه علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
ترکیب ¦ کان میقاتا الجملتہ خبران یوم الفصل اسمہا۔ یوم ینفخ بدل من یوم الفصل اوعطف بیان۔ الصورا ماجمع الصورۃ فالنفخ فی الصور عبارۃ عن نفخ الارواح فی الاجسادوا ماھی عبارۃ عن قرن ینفخ فیہ افواجا حال من فاعل تاتون وھی جمع فوج ای جماعات جماعات والفاء فی فتاتون فصیحۃ وفتحت معطوف علی ینفخ وصیغۃ الماضی علی تحقق الوقوع وقیل عطف علی فتاتون۔ مرصادا خبر کانت والمرصاد اسم للمکان الذی یرصدفیہ کالمضمار للمکان الذی یضمرفیہ الخیل وکذالمنھاج۔ وقیل مفعال من الرصد والمعفال من انبیۃ المبالغۃ کالمھمار علیٰ ھذا ان جھنم ترصدا عداء اللہ وتشھق علیھم للطاغین ان قلنا ان جھنم مرصاد للکفار فقط فکان قولہ للطاغین من تمام ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–30
یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَا تُوْنَ اَفْوَاجًا۔ وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ اَبْوَابًا۔ وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَـکَانَتْ سَرَابًا۔ اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۔ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰ بًا۔ لّٰبِثِیْنَ فِیْھَـآ اَحْقَابًا۔ لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا۔ اَلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا۔ جَزَآئً وِّفَاقًا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ حِسْابًا۔ وَّکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کِذَّابًا۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ کِتٰـبـًا۔ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلاَّ عَذَابًا۔ (النبا : 18 تا 30)
(جس روز صور میں پھونکا جائے گا تو تم آئو کے فوج در فوج۔ اور آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔
اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے :
” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5)
آسمان کے نیچے اور زمین کے…
Read the full tafseer →29 : وَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ کِتٰبًا (اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کررکھا ہے)
نحو : کل شیٔ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے جس کی تفسیر احصینا کررہا ہے۔ کتابؔ یہاں مکتوبا کے معنی میں ہے یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہے۔ یا یہ مصدر ہے جو احصائً کے معنی میں ہے۔ نمبر 2۔ یا احصینا یہ کتبنا کے معنی میں ہے۔ کیونکہ احصاء عموماً کتابت کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ آیت جملہ معترضہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد فذوقوا حساب کے متعلق ان کے کفر اور آیات کی تکذیب کا مسبب ہے۔
Read the full tafseer →28 ۔” وکذبوا بآیاتنا “ یعنی اس کو جو انبیاء (علیہم السلام) لائے۔ ” کذابا “ یعنی تکذیب۔ فراء (رح) فرماتے ہیں یہ یمانی فصیح لغت ہے وہ تقعیل کے مصدر میں فعال کہتے ہیں مجھے ان میں سے ایک بدو نے کہا مروہ پر مجھ سے فتویٰ پوچھتے ہوئے ” الحلق احب الیک ام القصار “ کیا آپ کے نزدیک حلق زیادہ پسندیدہ ہے یا قصر کرنا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
17۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں…
Read the full tafseer →(وَكُلَّ شَيْءٍ ) اور ہر چیز کو۔ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ اچھی یا بری چیز ( اَحْصَيْنٰهُ كِتٰبًا) ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کررکھا ہے پس مجرم یہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انہوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کردے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ووضع الکتاب فتری المجرمین مشفقین۔۔۔ تا۔۔۔۔ ربک احدا۔ الکھف۔ 49) اور اعمال نامے کھول کر رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا جو کچھ اس کتاب میں درج ہوگا وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(27) پرہیزگاروں کے صلہ و بدلہ کا ذکر وبیان : سو باغیوں اور سرکشوں کے انجام کے ذکر کے بعد اب متقی اور پرہیزگار لوگوں کا صلہ و بدلہ بیان فرمایا جارہا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ پرہیزگاروں کے لئے ایک عظیم الشان کامیابی ہے یعنی ان کے لیے ہے جنہوں نے اپنے آپ کو کفر و شرک کی تمام آلائشوں سے بچایا ہوگا، اور معاصی وذنوب کی ظلمت و سیاہی سے محفوظ رکھا ہوگا، فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد والثبات لما تحب وترضی من القول والعمل۔ بہرکیف اس سے سرکشوں اور باغیوں کے مقابلے میں متقیوں اور پرہیزگاروں کے انجام کو بیان فرمادیا گیا، تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے رہے۔ پس جن لوگوں نے روز جزا سے ڈرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
قیامت کے دن زندہ ہونے کا ثبوت
تشریح : پچھلی آیات اور ان آیات میں قرآن پاک فزکس ' اسٹروفزکس ' علم حیاتیات علم روحانیت اور کائنات سے متعلقہ تمام علوم کی طرف بڑے واضح اشارات کرتے ہوئے قیامت ' آخرت ' دوبارہ زندہ کئے جانے کی حقیقت کے سچ اور ضروری ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ان تمام لوگوں کے برے انجام کا بھی بڑی وضاحت سے اعلان کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ان حقیقتوں کے سچ ہونے سے انکار کیا آیت 17 سے 30 تک بڑے آسان ' عام فہم ' اور واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے اور پھر یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کا نظام بڑی نفاست ' حفاظت اور بغیر غلطی کے چل رہا ہے اسی طرح آخرت کا وقت اور بعد کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة النبا۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
کفار اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ بھلاقیامت کب ہوگی جس کے بارے میں اس قدر ڈرایا جارہا ہے پھر اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں کہ کوئی کہتا ہے جواب تک مرچکے ہیں ان کی ہو کیوں نہیں جاتی اور دوسرا کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں لیکن یاد رکھو سب لوگ خوب جان لیں گے کہ جب واقع ہوگی تو سب کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی جس قادرمطلق نے زمین میں بیشمار نعمتیں رکھ کر اسے تمہارے لیے آرام دہ اور زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرنے والی بنادیا جیسے بچھونا آرام فراہم کرتا ہے پھر اس پہاڑوں کو گاڑ دیا کہ مع دنیات سے بھرپورا اور وادیاں پھلوں سے لدی کھڑی ہیں جنگل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 1 یعنی ہمارے پاس ان کے اعمال کا پورا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ لہٰذا وہ کسی عمل کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔
Read the full tafseer →(78:29) وکل شیء احصینہ کتبا : کتابا یا تمیز ہے یا حال ہے اور کتاب مصدر بمعنی مکتوب ہے یا مفعول مطلق ہے۔ جیسے ضربتہ سوطا میں نے اس کو ضرب تازیانہ لگائی۔ یعنی ہم نے ان کے ہر عمل کا اس طرح احصار کرلیا ہے جیسے تحریر احصار کرلیتی ہے یا کتبا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے ۔ یعنی ہم نے ان کے اعمال کو احاطہ کرلیا ہے اور لوح محفوظ میں یا کراما کاتبین کے اعمال ناموں میں لکھ رکھا ہے
کہا گیا ہے کہ یہ جملہ معترضہ ہے میرے نزدیک یہ وفاقا کی علت ہے جیسے انھم کانوا لا یرجعون حسابا علت ہے جزاء کی۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان کو اس لئے سزا دیں گے کہ وہ حساب کا انکار اور تکذیب کرتے تھے اور یہ سزا ان کے اعمال کے موافق ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
لغات القرآن۔
عم۔ کس سے۔ کسی چیز کے متعلق ؟ ۔ یتساء لون (تساول) ۔ وہ پوچھے ہیں۔ النبا العظیم۔ ایک بڑی خبر۔ مھد۔ بچھونا۔ راحت کی چیز۔ اوتاد۔ میخیں۔ سبات۔ راحت و آرام۔ معاش۔ روزی، روز، کمائی۔ بنینا۔ ہم نے بنایا۔ سبع شداد۔ مضبوط سات (آسمان) ۔ سراج۔ چراغ۔ وھاج۔ دھکتا ہوا۔ المعصرات۔ پانی سے بھرپور بادل۔ ثجاج (ثج) ۔ تیز بہنے والی بارش۔ حب۔ غلہ ۔ نبات۔ ہریالی۔ سبزی۔ الفاق۔ گھنے پتوں والے۔ میقات۔ وقت مقرر۔ فتاتون۔ پھر وہ آئیں گے۔ سیرت۔ چلائی گئی۔ سراب۔ چمکتا ریت۔ مرصاد۔ گھات میں بیٹھنے کی جگہ۔ لبثین۔ پڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ رہیں گے۔ احقاب۔ بہت طویل عرصہ۔ غساق۔ پیپ۔ وفاق۔ پوراپورا۔ مفاز۔ کامیابی۔ حدائق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
دوزخ اور اہل دوزخ۔
(ف 4) دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے انتظار میں ہیں یا یہ کہ دوزخ سرکشوں کے لیے انتظار میں ہے اور دوزخ کافروں کے لیے مکین گاہ ہے اور سرکشوں کا وہ ٹھکانہ ہے اور وہ دوزخی دوزخ میں مدت رہیں گے جن کا کوئی شمار نہیں قرن پہ قرن گذرتے چلے جائیں گے اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا، نہ ان کو کچھ کس طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے اور گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے پیاس بجھاسکیں بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا وجزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
[9] یعنی ہم ان کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرتے جا رہے تھے جس میں کوئی چیز بھی چھوٹی ہوئی نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ف 1: وہاں کہیں سایہ نہیں ہے ۔ نہ ٹھنڈک ہے ۔ اور نہ پینے کے لئے کوئی عمدہ چیز ۔ پانی ملے گا تو کھولتا ہوا اور شراب ملے گی تو نہایت ردی ، سیاہ اور متعفن ۔ یہ یاد رہے کہ غساق کے معنی ردی اور بدبودار شراب کے بھی ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کو عارضی آسائشوں کو آخرت کے دائمی آرام پر ترجیح دی ۔ انہوں نے خواہشات نفس کی تکمیل کے سلسلہ میں ہر اخلاقی اور روحانی نصب والعین کو پس پشت ڈال دیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جن سے انسانیت شرمائے ۔ انہوں نے بالکل اس حقیقت پر غور نہ کیا کہ ہمیں احکم الحاکمین خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور ان تمام حرکتوں کا جواب دہ ہونا ہے ۔ دل کھول کر احکام خداوندی کی…
Read the full tafseer →(29) اور ہم نے ہرچیز کو گن رکھا ہے اور شمار کررکھا ہے لکھ کر۔ یعنی ہم نے ان کے ہر عمل کو ان کے نامہ اعمال میں لکھ کر ضبط کررکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–38
ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →اور ہم نے ان کی ہرچیز کو باقاعدہ لکھ لیا ہے
۔ 29 (احصیناہ) ہم نے اس کو گن رکھا۔ ہم نے اس کو شمار کرلیا۔ احصینا احصاء سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم ، ضمیر واحد ، مذکر غائب۔ (کتاباً ) تحریر یا لوح محفوظ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو پیدا کیا ، ان کو عقل و فکر عطا کی ، ان کی راہنمائی کے لئے رسول بھیجے اور رسولوں پر کتابیں نازل کیں اور ان کے ایک ایک عمل کو ہم نے محفوظ کردیا جو ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ ہی چلتا جا رہا ہے اور ان کی ہر ایک چیز ہمارے ہاں بالکل ریکارڈ (Record) میں تحریر ہے اور کوئی چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے کہ وہ ضبط تحریر میں نہ آئی ہو۔ ان کو ان افعال کے کرنے سے پہلے معلوم ہی نہ تھا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
جَزَاءً وِفَاقًا (this being a recompense in full accord [ with their deeds ]..78:26). The punishment given to them in Hell will be based on justice and equity - a fitting recompense - on account of their false beliefs and evil deeds. They will not be wronged in the least.
Read the full tafseer →18 That is, "We were continuously preparing a complete record of their sayings and doings, their movements and occupations, even of their intentions. thoughts and aims in life and nothing was being left un-recorded, whereas the foolish people in their heedlessness thought that they were living in a lawless kingdom where they were free to do whatever they pleased and desired. and there was no power to call them to account. "
Read the full tafseer →