یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۟ۙيٰۤاَيُّهَا الۡمُدَّثِّرُ
اے (محمدﷺ) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
O you who covers himself [with a garment],
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
The Cloaked One · Meccan · 56 ayahs · 2 rukus
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۟ۙيٰۤاَيُّهَا الۡمُدَّثِّرُ
اے (محمدﷺ) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
O you who covers himself [with a garment],
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے
اے (محمدﷺ) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو
اے کپڑا اوڑھنے والے
اے کپڑے میں لپٹنے والے
اے بالا پوش اوڑھنے والے!
اے چادر اوڑھنے والے (حبیب!)،
اے کمبل میں لپٹنے والے !
اے (محمد ﷺ !) جو کمبل اوڑھے سو رہے ہو
اے چادر لپیٹے رکھنے والے !
اے کپڑے میں لپٹنے والے
اے کپڑے میں لپٹنے والے
اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے ﷺ !
اے کپڑے میں لپٹے ہوئے
O you enveloped in your cloak!
O you, enveloped in a mantle,
O you, enveloped in a mantle,
O you enveloped in garments!
O thou enveloped in thy cloak,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
O you who covers himself [with a garment],
Cloaked one,
O you who are clothed!
O thou enveloped?
O thou wrapped up (in the mantle)!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
ابتدائے وحی حضرت جابر سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ) 74۔ المدثر :1) نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی آیت (اقرا باسم) کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کونسی آیتیں نازل ہوئیں ؟ تو فرمایا آیت (یا ایھا المدثر) میں نے کہا لوگ تو آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) بتاتے ہیں فرمایا میں نے حضرت جابر سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے…
Read the full tafseer →سورة الْمُدَّثِّر 1 اوپر دیباچے میں ہم ان آیات کے نزول کا جو پس منظر بیان کر کے آئے ہیں اس پر غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کو یایھا الرسول یا یایھا النبی کہہ کر مخطاب کرنے کے بجائے یایھا المدثر کہہ کر کیوں مخاطب کیا گیا ہے۔ چونکہ حضور ﷺ یکایک جبریل ؑ کو آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے دیکھ کر ہیبت زدہ ہوگئے تھے اور اسی حالت میں گھر پہنچ کر آپ نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا تھا کہ مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یایھا المدثر کہہ کر خطاب فرمایا۔ اس لطیف طرز خطاب سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اے میرے پیارے بندے، تم اوڑھ لپیٹ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر اے کپڑے میں لپٹنے والے اٹھو (یعنی اپنی جگہ سے اٹھو یا یہ کہ مستعد ہوجاؤ) پھر (کافروں کو) ڈراؤ (جو کہ مقتضا منصب نبوت کا ہے اور یہاں تبیشر یعنی جنت کی بشارت کا اسلئے ذکر نہیں فرمایا کہ یہ آیت بالکل ابتدائے نبوت کی ہے اس وقت باسثنا ایک دو کے کوئی مسلمان نہیں تھا تو انداز ہی انسب تھا) اور اپنے رب کی بڑائیاں کرو (کہ تبلیغ میں سب سے پہلی چیز توحید ہے) اور (آگے بعض ضروری اعمال و عقائد واخلاق کی تعلیم ہے جس پر خود بھی عالم رہنا چاہئے کہ تبلیغ کے ساتھ اپنی اصلاح بھی ضروری ہے یعنی ایک تو) اپنے کڑوں کو پاک رکھئے (یہ اعمال میں سے ہے اور چونکہ بالکل ابتداء میں نماز نہ تھی اس لئے اس کا حکم…
Read the full tafseer →’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ کے خطاب کی بلاغت: ’مُدَّثّر‘ اور ’مُزّمّل‘ دونوں کے معنی جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک ہی ہیں۔ ’مُدَّثّر‘ ’دِثَارٌ‘ سے ہے جو اس چادر کے لیے آتا ہے جو سونے والا اپنے اوپر لے لیا کرتا ہے۔ چادر لپیٹے رکھنا، جیسا کہ ہم نے سابق سورہ میں واضح کیا، آدمی کی فکر مندی کی ایک علامت ہے۔ نبی ﷺ کو ابتدائے بعثت میں جو مشاہدات و تجربات ہوئے اول تو وہ خود ہی گراں بار کرنے والے تھے پھر جب آپ نے ان کا اظہار اپنے خاندان والوں کے سامنے کیا اور انھوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا تو آپ کی فکرمندی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ایسی حالت میں آپ زیادہ تر چادر لپیٹے ہوئے، لوگوں سے الگ تھلگ رہتے جس طرح ایک…
Read the full tafseer →1۔ 1 سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ (اِ قْرَاْ باسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) ہے اس کے بعد وحی میں وقفہ ہوگیا اور نبی ﷺ سخت مضطرب اور پریشان رہتے۔ ایک روز اچانک پھر وہی فرشتہ، جو غار حرا میں پہلی مرتبہ وحی لے کر آیا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، جس سے آپ پر ایک خوف سا طاری ہوگیا اور گھر جاکر گھر والوں سے کہا کہ مجھے کوئی کپڑا اوڑھا دو ، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ چناچہ انہوں نے آپ کے جسم پر ایک کپڑا ڈال دیا، اسی حالت میں وحی نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری) اس اعتبار سے یہ دوسری وحی اور احکام کے حساب سے پہلی وحی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: یہ اسی طرح کا خطاب ہے جیسا پچھلی سورت کے شروع میں گزرا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اصل عربی لفظ مزمل تھا اور یہاں مدثر ہے، معنی دونوں کے تقریباً ایک ہیں، اس کی تشریح کے لئے پچھلی سورت کا حاشیہ نمبر 1 ملاحظہ فرمائیں، صحیح احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پر سب سے پہلی وحی کے طور پر تو سورة علق (سورت نمبر : 96) کی پہلی پانچ آیتیں نازل ہوئی تھیں، اس کے بعد ایک عرصے تک وحی کا سلسلہ بندرہا، پھر سورة مدثر کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یہ عالم بالا کی بہت ہی اہم آواز ہے۔ اور اس نہایت ہی اہم معاملے کے بارے میں ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ انسانوں کو ڈرانا ہے ، ان کو جگانا اور بیدار کرنا ہے اور دنیا میں ان کو شر و فساد سے بچانا ہے اور آخرت میں آگ سے بچانا ہے۔ اور وقت ختم ہونے سے قبل ہی نجات کا طریقہ اور امتحان میں کامیابی کی حکمت بتانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً جبکہ یہ ذمہ داری ایک فرد بشر کے کاندھوں پر ڈال دی جائے۔ اگرچہ یہ فردو بشر نبی اور رسول ہو ، کیونکہ انسان اس قدر گمراہ ، سرکش ، باغی ، نافرمان ، معاند ، کج رو اور اپنے روبہ پر اصرار کرنے والا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کی اصلاح کا کام بہت ہی مشکل کام ہے۔…
Read the full tafseer →6 اس کے لیے سورة " مزمل " کا پہلا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2{ قُمْ فَاَنْذِرْ۔ } ”آپ ﷺ اٹھئے اور لوگوں کو خبردار کیجیے۔“ یہ ہے وہ کٹھن ذمہ داری جس کے بارے میں سورة المزمل کی آیت { اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا۔ } میں حضور ﷺ کو بہت پہلے اشارہ دے دیا گیا تھا ‘ یعنی انذارِ آخرت کی ذمہ داری ‘ جس کے لیے تمہیدی کلمات میں قیام اللیل کے مقابلے میں ”قیام النہار“ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ دراصل انبیاء و رسل - کی دعوت کے حوالے سے جو اصطلاح قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آئی ہے وہ ”انذار“ ہی ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ کو بھی بار بار حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو خبردار کریں : { وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ…
Read the full tafseer →1 وحی کی گرانیاری :۔ آپ ﷺ پر سب سے پہلی جو وحی غار حرا میں نازل ہوئی وہ سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ خالق کائنات ہے۔ اسی نے آپ کو بھی پیدا کیا ہے اور اسی نے یہ فرشتہ نازل کیا ہے۔ ان آیات میں آپ کو تبلیغ وغیرہ کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ صرف آپ ﷺ کو آپ ﷺ پر پڑنے والی ذمہ داریوں کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔ فرشتہ جبریل کے ذریعہ نبی کے دل پر جو وحی نازل ہوتی ہے۔ نبی کے لئے سخت تکلیف دہ اور گرانبار ہوتی ہے۔ اس دوران پہلے گھنٹی کی سی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ پھر نبی کا اس عالم سے رشتہ کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا ہے اور اس وحی کا اتنا بار ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو سب سے پہلے تو سورة العلق کی ابتدائی آیتیں (آیت) ” اقرا باسم ربک “۔ الخ) نازل ہوئیں۔ اس کے بعد کسی مصلحت و حکمت خداوندی سے کوئی اور وحی ایک عرصہ دراز تک نہ آئی۔ پھر جب آپ ﷺ اپنی مدت اعتکاف پوری کرکے کوۂ حرا سے اتر کر اپنے کاشانہ مبارک کو آرہے تھے کہ دفعۃ میدان میں ایک زور کی آواز سنائی دی۔ نظر اوپر اٹھائی تو کیا ملا حظہ کرتے ہیں، کہ جبرئیل (علیہ السلام) اپنی اصلی شکل وہئیت میں بصد جاہ و جلال ایک نورانی تخت پر فضائے آسمانی میں جلوہ افروز ہیں۔ بشر (وہ سیدالبشر سہی) پر یہ پہلی بارتجلی ملکوتی اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، اے کپڑا اوڑھنے والے ! نبی ﷺ (مدثر) کی اصل متدثر تھی، تاء کو دال میں ادغام کردیا گیا، یعنی نزول وحی کے وقت اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے ! کھڑا ہوجا اور اہل مکہ کو آگ سے ڈرا اگر ایمان نہ لائیں، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر، مشرکین کے شرک کرنے سے بڑائی بیان کر، اور اپنے کپڑوں کو نجاست سے پاک رکھا کر یا ان کو اونچا رکھ، متکبرین عرب کے کپڑوں کو (زمین) پر گھسیٹنے کے برخلاف، اس لئے کہ بسا اوقات کپڑوں کو نجاست لگ جاتی ہے، اور بتوں کو چھوڑ دے، رجز کی تفسیر آپ ﷺ نے بتوں سے فرمائی ہے، یعنی ترک بتاں پر قائم رہ، اور احسان کر کے زیادہ…
Read the full tafseer →یایھا المدْثر قم . اپنے بستر سے کھڑے ہوجاؤ یا عزم اور حوصلہ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔ ...... 1 فترۃ الوحی : انقطاع وحی کا زمانہ ‘ غار حرا میں نزول وحی ہوا۔ پھر کچھ مدت تک مزید وحی نہیں آئی۔ قلب مبارک میں بےچینی بڑھتی گئی۔ شوق میں اضافہ ہوتا گیا آخر المدثر ...... فاھجر تک نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) محمد اٹھو اور کافروں کو ڈراؤ اور ان کو توحید کی طرف بلاؤ اور بتوں کے پجاریوں کے سامنے اپنے پروردگار کی بڑائیاں بیان کرو۔
Read the full tafseer →(یا یھا المدثر :”المدثر“ اصل میں ”المتدثر“ تھا ”تائ“ کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کردیا گیا۔ جو کپڑا جسم کے ساتھ ملا ہوا ہو اسے ”شعار“ اور جو اس کے اوپر پہنا جائے اسے ”’ ثار“ کہتے ہیں۔ اس خطاب کی وجہ کے لئے دیکھیے سورة مزمل کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Read the full tafseer →یا ایھا المدثر۔۔۔ تا۔۔۔۔ فطھر۔ اس میں چھ مسائل ہیں : مدثر کا معنی اور اس سورت کا نزول۔ مسئلہ نمبر 1۔ یا ایھا المدثر۔ اے وہ ذات جس نے اپنے آپ کو اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیا ہے اور نیند کی حالت میں ہے۔ اس کی اصل المتدثر ہے تاء کو دال میں ادغام کردیا کیونکہ وہ باہم نسبت رکھتے ہیں۔ ابی نے اسے اصل پر المتدثر پڑھا ہے۔ مقاتل نے کہا، اس سورت کا اکثر حصہ ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوا۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت مروی ہے یہ رسول اللہ کے صحابی تھے وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ فترت وحی کے بارے میں بیان کررہے تھے اسی اثنا میں کہ میں چل رہا تھا تو میں نے آسمان کی جانب سے آواز سنی میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن الضریس وابن مردویہ والنحاس والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة المدثر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ طیالسی وعبد الرزاق واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن الضریس وابن جرری وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن الانباری (رح) سے مصاحف میں روایت کیا کہ میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے قرآن مجید میں سب سے اول نازل ہونے والے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یا ایہا المدثر ہے میں کہا لوگ کہتے ہیں آیت اقرأ باسم ربک الذی خلق ہے ابو سلمہ ؓ نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اس بارے میں پوچھا تھا میں ان سے ایسے ہی کہا جیسے تو…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ : اے کپڑے میں لپٹنے والے ] د ث ر [دُثُوْرًا : (ن) ] کپڑے کا میلا ہونا۔ بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونا۔ (تفعل) تَدَثُرا اِدَّثَّرًا۔ کپڑا اوڑھنا۔ کپڑے میں لپٹنا۔ مُدَّثِّرٌ اسم الفاعل ہے۔ کپڑے میں لپٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 1 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
رسول اللہ ﷺ کو دینی دعوت کے لیے کھڑے ہوجانے کا حكم، اور بعض دیگر نصائح کا تذکرہ لفظ مدثر اصل میں متدثر تھا اس میں بھی تفعل کی ت فا کلمہ سے بدل کر اسی میں مدغم ہوگئی، اصل مادہ دثر (د ث ر) ہے جس کا معنی کپڑا اوڑھنے کا اور کپڑے میں لپٹنے کا ہے صحیح بخاری صفحہ 2: ج 1 میں حضرت عائشہ ؓ سے پہلی مرتبہ وحی آنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ غار حرا میں عبادت کے لیے متعدد راتیں گزارا کرتے تھے کھانے پینے کا سامان ساتھ لے جایا کرتے تھے ایک دن فرشتہ آیا اس نے کہا اقراء کہ پڑھیے (آگے آپ کی زبانی بیان کیا) میں نے کہا ما انا بقاری کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اس پر فرشتے نے مجھے پکڑا اور مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ ” یا ایہا المدثر “ اصل میں متدثر تھا۔ فائے تفعل میں دال واقع ہونے کی وجہ سے تائے تفعل کو دال سے بدل کر ادغام کردیا گیا۔ یہ دثار سے ماخوذ ہے۔ دثار اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو بدن سے متصل ملبوسات کے اوپر اوڑھا جاتا ہے مثلا موٹی چادر یا کمبل وغیرہ۔ المتدثر وھو الذی یتدثر بثیابہ لینام او لیستدفئ (کبیر ج 8 ص 347) ۔ پہلی وحی کے بعد رسول اللہ ﷺ حسب معمول غار حرا میں تشریف لے گئے جب اپنے معمول سے فارغ ہو کر پہاڑ سے نیچے اترے تو کسی نے آپ کو آواز دی آپ نے آپ نے ہر طرف دیکھا لیکن آپ کو کوئی شخص نظر نہ آیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کو فضا میں کرسی پر بیٹھا ہوا وہی فرشتہ نظر آیا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الْمُدَّثِّرُ 1 دثر قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ أصله المتدثّر فأدغم، وهو المتدرّع دِثَاره، يقال : دَثَرْتُهُ فَتَدَثَّرَ ، والدِّثَار : ما يتدثّر به، وقد تَدَثَّرَ الفحل الناقة : تسنّمها، والرّجل الفرس : وثب عليه فركبه، ورجل دَثُور : خامل مستتر، وسیف داثر : بعید العهد بالصّقال، ومنه قيل للمنزل الدارس : داثر، لزوال أعلامه، وفلان دِثْرُ مالٍ ، أي : حَسَنُ القیام به . ( د ث ر ) المدثر ۔ ( ازتفعل ) اصل میں متدثر تھا ۔ تاء کو دال سے بدل کر دال کو دال می ادغام کردیا ۔ اس کے معنی کپڑا وڑھنے والے کے ہیں ۔ کہاجاتا ہے دثرثہ فتدثر ( میں نے اسے کپڑے میں لپیٹا جنانچہ وہ لپٹ گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : المدثر اصلہ المتدثر ادغمت التاء فی الدال للمجانستہ وقرء الجمہور بالادغام۔ والدثارما یلبس فوق الشعار والشعار مایلی الجسدومنہ قولہ (علیہ السلام) الانصارشعار والناس دثار۔ فانذر الفاء فیہ وفیما بعدہ لافادۃ معنی الشرط کانہ قال مایکن من شیئ۔ فانذروکبر۔ وقال ابن جنی ھو کقولک زیدا فاضرب فالفاء زائدۃ وربک و ثیابک والرجز منصوب بفعل محذوف یفسرہ مابعدہ تستکثر بالرفع علی انہ حال وبالجزم علی انہ جواب النھی وبالنصب علی تقدیر لتستکثروقیل علی تقدیر ان وبقاء علمھا۔ تفسیر : بخاری و مسلم وغیرہما نے نقل کیا ہے کہ ابوسلمۃ بن عبدالرحمن نے کہا سب سے پہلے یا ایہا المدثر نازل ہوئی اس پر یحییٰ بن ابی کثیر نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یٰٓـاَ یُّھَا الْمُدَّثِّرُ ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ ۔ (المدثر : 1، 2) (اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ اٹھئے اور لوگوں کو ڈرائیے۔ ) مُدَّثِّر اور مُزَّمِّل کا مفہوم اور مراد مُدَّثِّرُ ، دِثَارٌ سے ہے۔ اس چادر کو کہتے ہیں جو سونے والا اپنے اوپر لے لیا کرتا ہے۔ ہم سورة کے تعارف میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اچانک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے دیکھا تو آپ ﷺ ہیبت زدہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر اپنے اہل خانہ سے فرمایا کہ مجھے اڑھائو، مجھے اڑھائو۔ چناچہ آپ ﷺ کو لحاف یا چادر اڑھا دی گئی اور آپ ﷺ اسے اوڑھ لپیٹ کر لیٹ گئے۔ چناچہ اسی حالت میں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن ربط سورت : سورة المزمل کی ابتداء اور اس کے آخر میں نبی ﷺ کو تہجد کا ایک فائدہ یہ بتلایا گیا کہ تہجد کی نماز انسان میں ضبط نفس اور مستعدی پیدا کرتی ہے۔ المدثر کے آغاز میں حکم ہوا کہ اب آرام کا وقت ختم ہوا اس لیے ” اللہ “ کے راستے میں اٹھ کھڑے ہوں اور اپنا لباس پاک صاف رکھیں، شرک کی نجاست سے دور رہیں، تبلیغ کا کام کسی معاوضہ کی غرض سے نہ کریں اور اس راستے میں آنے والے مصائب پر صبر کرتے رہیں۔ سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک مدت تک آپ ﷺ پر وحی نازل نہ ہوئی۔ اس مدت کے بارے میں محدثین اور مفسرین میں اختلاف ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ ایک سال تک وحی نازل نہیں ہوئی لیکن ثقہ…
Read the full tafseer →روایت جابر۔ : 1 : جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں جبل حراء پر تھا کہ مجھے آواز آئی۔ یا محمد ! اے محمد ﷺ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ پس میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو کوئی چیز نظر نہ آئی۔ پھر میں نے اوپر دیکھا تو اچانک وہ آواز دینے والا فرشتہ آسمان و زمین کے مابین ایک تخت پر بیٹھا تھا۔ پس مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور میں خدیجہ ؓ کی طرف واپس لوٹا۔ اور میں نے کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو ! پس خدیجہ ؓ نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور یہ آیات پڑھیں : یٰٓـاَیـُّھَا الْمُدَّثِّرُ ] رواہ البخاری : 4923، مسلم 161[ اے کپڑوں میں لپٹے ہوئے المدثردثار…
Read the full tafseer →سورة المدثر مکی ہے اور اس کی چھپن 56 آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین 1 ؎ کی حضرت جابر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب…
Read the full tafseer →گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ (المزمل) اور (المدثر) کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو حکم دیا کہ آپ اللہ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ وقاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرمادیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں۔
Read the full tafseer →1 ۔ خطاب لطف و عنایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور خطاب لطف و عنایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اے چادر میں لپٹنے والے۔ " مدثر " مشتق ہے دثار سے جو اس بیرونی کپڑے کو کہا جاتا ہے جو کہ عام کپڑوں کے اوپر سردی وغیرہ سے بچاؤ کے لئے پہنا جاتا ہے، اس وصف سے ندا فرمانے میں وہی حکمت کار فرما یہ جو کہ المزمل میں گزر چکی، روایات میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ فترت وحی (وحی کی بندش) کے ذکر کے ذیل میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر میں مکہ مکرمہ میں ایک جگہ چلا جا رہا تھا کہ کسی کے پکارنے کی آواز آئی، میں نے ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا پھر وہی آواز آئی تو میں نے نگاہ اٹھا کر اوپر جو دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اصلاح انسان کے احکامات تشریح : اب تک تو رسول اللہ ﷺ دین کی تبلیغ چپکے چپکے صرف اہل خاندان یا قریبی رفقا تک ہی کرتے تھے مگر اب ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اب اسلام کی تبلیغ سر عام شروع کر دو ۔ جیسا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسلام کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اس کا آغاز 622ء یعنی جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو ہوا اور پھر اسی صدی کے ختم ہونے تک اسلام پورے مشرق وسطی شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیل گیا۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے صرف ایک صدی کے اندر اندر ماوراء النہر سے لے کر اندلس تک سب اسلام کے حلقے میں آگئے۔ تو یہ سب کیسے ہوا ؟ صرف ایک مرد کامل کی مقدس تعلیمات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →ف 6 یہ خطاب آنحضرت سے ہے۔ روایات میں ہے کہ وحی کے آغاز میں جپ آپ نے حضرت جبریل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا تو گھبرا گئے اور آپ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا دشرونی وترونی کہ مجھے کپڑا اوڑھائو مجھے کپڑا اوڑھائو شوکانی
Read the full tafseer →(74:1) یایھا المدثر : یایھا۔ اے ۔ نیز ملاحظہ ہو 73:1 ۔ المدثر : تدثر (تفعل) مصدر سے۔ اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ اصل میں متدثر تھا ت کو دال سے بدل کر دال کو دال میں ادغام کیا۔ اس کے معنی کپڑا اوڑھنے والے کے ہیں۔ دثار اوپر پہننے کا کپڑا۔ چادر۔ کمبل۔ المدثر کمبل اوڑھنے والا۔ یایھا المدثر۔ اے کمبل اوڑھنے والے۔ اے جس نے کمبل اوڑھ رکھا ہے۔ المدثر سے بالاتفاق جناب رسول کریم ﷺ مراد ہیں مگر آپ کو اس لقب سے کیوں ملقب کیا گیا۔ اس کے جواب میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں :۔ (1) دثار سے مراد ظاہری کمبل لینے والے اصحاب کا قول ہے :۔ (1) فرشتہ کو دیکھ کر دہشت ہوئی تھی۔ اور اس سے سردی محسوس ہوئی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ف 1) شان نزول : حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں کوہ حرا پر تھا، کہ مجھے ندا کی گئی یامحمد انک رسول اللہ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کچھ نہ پایا، اوپر دیکھا ایک شخص آسمان زمین کے درمیان بیٹھا ہے یعنی وہی فرشتہ جس نے ندا کی تھی ، یہ دیکھ کر مجھ پر رعب ہوا اور میں خدیجہ ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا مجھے کپڑا وغیرہ اڑھاؤ۔ انہوں نے اڑھادیا تو جبرائیل آئے اور انہوں نے یا ایھا المدثر، یعنی اے کپڑا اوڑھنے والے محبوب۔ (ف 2) یعنی وحی کے ثقل اور فرشتہ کی ہیبت سے آپ کو گھبرانا اور ڈرنا نہیں چاہیے، آپ کا کام تو یہ ہے کہ دوسروں کو خدا کا خوف دلائیں اور کفر ومعصیت کے برے انجام سے ڈرائیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اپنے کپڑے نجاست سے پاک رکھو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنا لباس صاف ستھرا رکھو۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنے لباس کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھو، یعنی اس میں فخروغرور، نمائش، ٹھاٹھ باٹ اور شان و شوکت کا شائبہ تک نہ ہو۔ ارشاد کا چوتھا مفہوم یہ ہے کہ اپنا دامن پاک رکھو، یعنی اپنے اخلاق پاکیزہ رکھو اور ہر قسم کی برائیوں سے بچو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے…
Read the full tafseer →(1) اے لحاف میں لپٹنے والے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ احادیث میں ہے کہ سب سے پہلے سورة اقراء کے شروع کی آیتیں نازل ہو کر بعض حکمتوں سے چندے وحی نازل نہ ہوئی پھر ایک بار جنگل میں آپ کو ایک آواز سنائی دی، اوپر نظر اٹھا کر دیکھا تو جبریل (علیہ السلام) ایک تخت پر درمیان زمین و آسمان کے بیٹھے ہیں، آپ ہیبت سے گھبرا کر گھر لوٹ آئے اور کپڑوں میں لپٹ گئے، اس پر اول کی آیتیں نازل ہوئیں، لفظ مدثر میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ آیتیں شروع نبوت کی ہیں اور بقیہ سورت کا بعد میں نزول ہوا ہے اور اتقان سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة مزمل کے بعد نزوال ہوا ہے یعنی بقیہ کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(اے چادر اوڑھنے والے) اپنی خواب گاہ سے (کھڑے ہوجاؤ) یا قائم ہوجاؤ مراسم نبوت ادا کرنے میں (پھر ڈر سنا دو ) خلق کو عذاب الہی کا اگر اس کے سو وا اور کی عبادت کریں (اور اپنے رب کی بڑائی بولو) یعنی اپنے رب کو تعظیم کے ساتھ یاد کرو۔ (اور اپنے کپڑوں کو پاک ہی رکھو) میل و کچیل سے۔ یا۔۔ کوتاہ کر سرداران عرب کے خلاف ، کہ وہ لباس لمبا پہنتے ہیں ، تاکہ ان کی عادت ترک پر پہلی علامت ہو۔ حضرت علی کا ارشاد ہے کہ اپنا لباس کوتاہ کر ، بیشک وہ بہت پاک اور بہت پسندیدہ اور بہت باقی رہنے والا ہے۔ اور بعضوں نے یہ معنی کہے ہیں کہ جو کچھ نہ چاہیے اس سے اپنے نفس کو پاک رکھ۔ نفحات میں شیخ ابو الحسن علی شاذلی مغربی سے…
Read the full tafseer →Commentary Surah Al-Muddththir is one of the Surahs that was sent down in very early days of the revelation. Therefore, some of the scholars considered this Surah to be the first one in order of revelation. However, according to the well-known authentic aliadith, the first instalment of revelation comprised the initial verses of Surah Iqra'. Traditions show that after a few verses of this Surah had been revealed, further revelation stopped for a period of time. The period of time during which there was a temporary cessation of revelation is termed as fatrat-ul-wahy. Towards the end of this…
Read the full tafseer →1 A study of the background of the revelation of these verses given in the introduction above can help one understand why the Holy Prophet (upon whom be peace) on this occasion has been addressed with Ya ayyuhal-Muddaththiru instead of Ya ayyuhar-Rasulu (O Messenger) , or Ya ayyuhan-Nabiyyu (O Prophet) . As the Holy Prophet had been terrified when he had suddenly seen the Angel Gabriel (on whom be peace) , sitting on a throne between heaven and earth, and had returned hastily home and asked the people of the house to cover him up, so Allah addressed him with Ya ayyuhal-Muddaththiru. From this…
Read the full tafseer →