Ash-Shura 42:43

Ash-Shura · from ayah 43

42:43

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۟۠وَلَمَنۡ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ

اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whoever is patient and forgives - indeed, that is of the matters [requiring] determination.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:43

البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو شخص صبر کر لے اور معاف کردے یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے (ایک کام) ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ حقیقت ہے کہ جو کوئی صبر سے کام لے، اور درگزر کر جائے تو یہ بڑی ہمت کی بات ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک جس نے صبر کیا اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یقیناً جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے تو بیشک یہ بلند ہمت کاموں میں سے ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ جو شخص صبر کرے اور معاف کردے تو بیشک یہ یقینا بڑی ہمت کے کاموں سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ور جس نے صبر کیا اور معاف کیا تو بیشک یہ عزیمت کے اوصاف میں سے ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

البتہ جو کوئی صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو بلاشبہ یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہاں جو کوئی صبر کرے اور معاف کر دے تو یہ واقعتابڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو صبر کرے، قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But he who patiently endures and forgives, that is a conduct of great resolve.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if one observes patience and forgives, it is, of course, one of the courageous conducts.

— Muhammad Taqi Usmani

And if one observes patience and forgives, it is, of course, one of the courageous conducts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, whosoever shows patience and forgives, that would truly be from the things recommended by Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily whoso is patient and forgiveth - lo! that, verily, is (of) the steadfast heart of things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whoever is patient and forgives - indeed, that is of the matters [requiring] determination.

— Saheeh International

To exercise patience and forgive (the wrong done to one) is the proof of genuine determination.

— Muhammad Sarwar

And whoever is patient and forgiving, these most surely are actions due to courage.

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever forbeareth and forgiveth -that verily is of the firmness of affairs.

— Abdul Majid Daryabadi

But indeed if any show patience and forgive, that would truly be an exercise of courageous will and resolution in the conduct of affairs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–43

ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا آیت (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ01904) 2۔ البقرة :194) اور آیت میں ہے (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوجائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–43

سورة الشُّوْرٰی 68 واضح رہے کہ ان آیات میں اہل ایمان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ اس وقت عملاً رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کی زندگیوں میں موجود تھیں، اور کفار مکہ اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے تھے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے دراصل کفار کو یہ بتایا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی بسر کرنے کا جو سر و سامان پاکر تم آپے سے باہر ہوئے جاتے ہو، اصل دولت وہ نہیں ہے بلکہ اصل دولت یہ اخلاق اور اوصاف ہیں جو قرآن کی رہنمائی قبول کر کے تمہارے ہی معاشرے کے ان مومنوں نے اپنے اندر پیدا کیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–43

ساتویں صفت (آیت) وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ۔ یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرتا تو یہ برابر کا انتقام لیتے ہیں۔ اس میں حد مساوات سے تجاوز نہیں کرتے، یہ صفت درحقیقت تیسری صفت کی تشریح و تفصیل ہے۔ کیونکہ تیسری صفت کا مضمون یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے مخالف کو معاف کردیتے ہیں۔ مگر بعض حالات ایسے بھی پیش آسکتے ہیں کہ معاف کردینے سے فساد بڑھتا ہے تو وہاں انتقام لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اس کا قانون اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ اگر کسی جگہ انتقام لینا ہی مصلحت سمجھا جائے تو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس سے انتقام لینے میں برابری سے آگے نہ بڑھیں ورنہ یہ خود ظالم ہوجائیں گے۔ اسی لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولمن صبرو غفر ان ذلک لمن عزم الامور (43) خلاصہ بحث یہ آیت یہاں غلاصہ بحث کی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے کئی باتیں واح ہوئیں۔ ایک یہ کہ اگرچہ تعدی کے بقدر اتنقام کا حق ہر شخص کو حاصل ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسری یہ کہ یہ درگزر صرف وہی لوگ کرسکیں گے جن کے اندر صبر کی خصلت ہوگی۔ جن کے اندر یہ صفت نہیں ہے وہ یہ بازی نہیں کھیل سکیں گے۔ اس وجہ سے لوگوں کو اپنے اندر صبر کی صفت راسخ کرنی چاہئے۔ تیسری یہ کہ یہ کردار عزیمت کا کردار ہے۔ جو لوگ یہ کردار اپنے اندر پیدا کریں گے وہ ارباب عزیمت میں ہیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ ان باتوں کی طرف مسلمانوں کی رہنمائی ان حالات کے مقابلہ کے لئے کی گئی ہے جن سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 41–45

45۔ 1 یعنی دنیا میں یہ کافر ہمیں بیوقوف اور دنیاوی خسارے کا حامل سمجھتے تھے، جب کہ ہم دنیا میں صرف آخرت کو ترجیح دیتے تھے اور دنیا کے خساروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ آج دیکھ لو حقیقی خسارے سے کون دو چار ہے۔ وہ جنہوں نے دنیا کے عارضی خسارے کو نظر انداز کیے رکھا اور آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں یا وہ جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا تھا اور آج ایسے عذاب میں گرفتار ہیں جس سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–46

8: یعنی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے تو مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اتنی ہی تکلیف ظالم کو پہنچا دے جتنی اس نے پہنچائی تھی لیکن آگے اس بات کی بڑی فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ انسان بدلہ لینے کے بجائے صبر کر کے معاف کردے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–43

آیت نمبر 36 تا 43 اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی غصہ کو پی جانا اور ایذائیں برداشت کر کے ظالم کو معاف کردینا بڑی ہمت اور حوصلہ کا کام ہے۔ حدیث میں ہے کہ جس بندہ پر ظلم ہو اور وہ محض اللہ کے واسطے اس سے درگز کرے تو ضرور ہے کہ اللہ اس کی عزت بڑھائے گا اور مدد کرے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43 { وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ } ”اور ہاں جو کوئی صبر کرے اور معاف کر دے تو یہ واقعتابڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔“ بدلہ لینا اگرچہ مظلوم کا حق ہے ‘ لیکن کسی خاص صورت حال میں اگر وہ صبر سے کام لیتے ہوئے اپنا یہ حق معاف کرنا چاہے تو بیشک یہ عزیمت کے اوصاف میں سے ہے۔ یہاں پر سیرت و کردار سے متعلق خصوصی اوصاف کا ذکر ختم ہوا۔ اس کے بعد کی آیات میں مکی سورتوں کے عمومی مضامین آ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

61 یعنی زیادتی کو برداشت کر جانا بذات خود بڑی ہمت اور حوصلہ کا کام ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو کنٹرول اور ضبط میں رکھے۔ پھر اگر وہ صرف برداشت ہی نہ کرے بلکہ زیادتی کرنے والے کو معاف بھی کردے تو پھر اس کے کیا ہی کہنے ہیں ؟ مگر یہ بڑے ہی دل گردہ کا کام ہے اور صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جنہیں اللہ کی توفیق حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

48۔ یہاں سے یہ مسئلہ صاف ہوگیا کہ انتقام کی بھی جائز حدود کے اندر پوری اجازت اسلام میں ہے، لیکن اولی و افضل معاف ہی کردینا ہے۔ فطرت بشری کی کیسی ٹھیک ٹھیک اور پوری رعایت ہماری شریعت میں موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–43

آیت نمبر 30 تا 43 ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور اور جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے (تو وہ افضل ہے) یہ البتہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ یعنی جس نے ظالم کے ظلم پر صبر کیا ‘ انتقام نہیں لیا ‘ معاف کردیا تو یہ صبر و عفو ان امور میں سے ہے جو شرعاً مطلوب ہیں۔ عزم بمعنی معزوم ہے اور معزوم کا مطلب ہے مطلوب ‘ مراد مطلوب شرعی ‘ ایسا آدمی افضل الناس ہے۔ زجاج نے کہا : صابر کو صبر کا ثواب دیا جائے گا اور ثواب کی طلب مکمل طلب ہے۔ مقاتل نے کہا : یعنی ان امور میں سے ہے جن کا حکم اللہ نے دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جو شخص دوسرے کے ظلم پر صبر کرے اور معاف کردے اور اس سے کسی قسم کا بدلہ نہ لے تو یہ صبر اور معاف کردیتا بہترین کاموں میں سے ہے یا یہ کہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ والذین یجتنبون الفواحش سے لمن عزم الامور۔ تک یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی عمرو بن غزیہ انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے دونوں کے درمیان کچھ تیز کلامی اور جھگڑا ہوا تھا تو انصاری نے حضرت ابوبکر صدیق کی شان میں گستاخی کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ولمن صبرو غفر ان ذلک لمن عزم الامور :”عزم“ کا معنی ہے کسی کام کا پختہ ارادہ کرلینا، اسے اپنے آپ پر واجب کرلینا کہ میں یہ کام ضرور کروں گا۔”عزم“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے جو اپنے موصوف کی طرف مضاف ہے : ای الامور المعزومہ“ یعنی یہ کام ان امور میں سے ہے جن کا بڑی ہمت سے عزم کیا جاتا ہے۔ یقینا جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے، جب کہ معاف کرنے میں ظلم اور سرکشی کی حوصلہ افزائی نہ ہو تو یہ بڑی اہمت کا کام ہے جو ہر عقل مند کو اپنے آپ پر واجب کرلینا چاہیے۔ مزید دیکھیے سورة لقمان (17)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر 11 ۔ ولمن صبرو غفر یعنی جس نے تکلیف پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بدلہ نہ لیا۔ یہ اس صورت میں ہے جب مسلمان نے اس پر ظلم کیا ہو۔ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلس میں ایک آدمی نے دوسرے کو گالیاں دیں جس آدمی کو گالیاں دی گئیں غصہ ضی رہا تھا اور اسے پسینہ آرہا تھا وہ اپنا پسینہ صاف کررہا تھا پھر وہ اٹھا اور اس آیت کی تلاوت کی۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ کی قسم ! اس نے اس آیت کو جانا اور سمجھا ‘ جب جاہل لوگوں نے اسے ضائع کیا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ معاف کرنا مستحب ہے بعض صورتوں میں معاملہ الٹ ہوجاتا ہے تو معافی کو ترک کرنا مستحب ہوجاتا ہے ج…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–43

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ماعلیہم من سبیل “ (جو اپنے اوپر ظلم ہوچکنے کے بعد برابر کا بدلہ لیتے ہیں تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں) کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم معمولی زخموں کے بارے میں ہے جو لوگوں کے درمیان آپس میں جھگڑے سے واقع ہوتا ہے جس پر کوئی سزا نہیں ہوتی اور اگر کوئی آدمی تجھ پر ظلم کرے تو اس پر ظلم نہ کر اور اگر وہ تجھ کو برا بھلانہ کہہ اور اگر وہ تیری خیانت کرے تو اس کی خیانت نہ کر کیونکہ مؤمن پورا پورا ادا کرنے والا ہوتا ہے اور بدکار آدمی خیانت کرنے والا اور دھوکہ دینے والا ہوتا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَمَنْ صَبَرَ [ اور بیشک جس نے صبر کیا ] وَغَفَرَ [ اور بخش دیا ] اِنَّ ذٰلِكَ [ تو بیشک یہ ] لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ [ یقینا معاملات کی ثابت قدمی میں سے ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–44

قیامت کے دن ظالموں کی بدحالی، ہلاکت اور ذلت کا سامنا یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ جسے گمراہ کردے یعنی ہدایت سے محروم فرما دے تو اس کے لیے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کا ولی اور کارساز بنے، کوئی شخص اسے ہدایت نہیں دے سکتا اور کوئی اس کی مدد نہیں کرسکتا پھر ظالموں یعنی کافروں کی بدحالی کا تذکرہ فرمایا کہ قیامت کے دن جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو یوں کہیں گے کہ کیا ایسا کوئی راستہ ہے کہ ہم واپس کردئیے جائیں یعنی دنیا میں چلے جائیں پھر وہاں ایمان لائیں کفر اختیار نہ کریں، لیکن وہاں سے واپسی کا کوئی قانون نہیں مزید فرمایا کہ یہ لوگ جب دوزخ پر پیش کیے جائیں گے یعنی اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–43

بیان اوصاف اہل ایمان وتقوی و حسن اخلاق معاشرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والذین یجتنبون کبآئر الاثم ....... الی ....... لمن عزم الامور “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دنیوی زندگی کا فانی ہونا بیان فرمایا گیا تھا اور یہ کہ دنیا کی تمام نعمتیں اور لذتیں درحقیقت ایک دھوکہ ہے اس میں پڑکر انسان کو آخرت سے غفلت نہ اختیار کرنی چاہئے اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور خدا کے برگزیدہ بندوں کے اوصاف بیان کیے جارہے ہیں ایسے اوصاف جن کے باعث ایک طرف ان کی زندگی کا وہ رخ جو اللہ کے ساتھ ہے وہ بھی نہایت اعلی اور اکمل معلوم ہوتا ہے دوسری طرف حسن اخلاق اور معاشرت کی عظمت و برتری ظاہرہورہی ہے، فرمایا اور وہ لوگ جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–44

35:۔ ” ومن یضلل اللہ “ یہ دوسرے دعوے سے متعلق ہے جو شخص انصاف کی آنکھیں بند کر کے اور محض ضد وعناد کی وجہ سے باغی اور گمراہی پھیلانے والے پیشواؤں کی تحریفات کو دیکھ کر گمراہی پھیلانے والے پیشواؤں کی تحریفات کو دیکھ کر گمراہ ہوگیا، شرک کرنے لگا اور حاجات میں غیر اللہ کو پکارنے لگا اور اللہ نے اسے توفیق ہدایت سے محروم کردیا، تو اب اس کا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں جو اسے راہ راست پر لاسکے یا اسے اللہ کے عذاب سے بچا کسے۔ ” وتری الظلمین الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن تم یہ منظر دیکھو گے کہ جب مشرکین عذاب جہنم کا مشاہدہ کریں گے تو التجا کریں گے کہ کیا دنیا میں واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–43

ربط آیات گزشتہ آیات میں جزائے عمل کا ذکر تھا اور ساتھ دنیا اور اسکے سازو سامان کی نا پائیدار ی کا بیان تھا ، اللہ نے فرمایا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ بہتر اور دیرپا ہے ، مگر اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اولین شرط ایمان لانا اور پھر اس کے بتلائے ہوئے فرائض و واجبات کو پورا کرنا ہے ، نیز عقیدے کی درستگی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ بھی ضروری ہے۔ کبائر اور فواحش سے اجتناب اب آج کے درس میں اللہ کے ہاں کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں کی بعض مزید صفات بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کامیابی حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں والذین یجتنبون کبیر ازالم والواحش جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۝ 43 ۧ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–43

ترکیب : وجزاء سیئۃ بالاضافۃ مبتداء سیئۃ مع صفتہا خبرہ، فمن شرطیۃ عفاواصلح شرط فاجرہ الجملۃ جواب الشرط، ویمکن ان یکون موصلۃ متضمنۃ لمعنی الشرط وقس علیھا، ولمن انتصرولمن شرطیۃ صبرو غفرفی محل الجزم بھا ان ذلک الجملۃ جواب الشرط وقد حذف الفاء۔ تفسیر : معاف کرنے اور بدلہ لینے کا تذکرہ آگیا تھا اس لیے اس کی تشریح کرنی مناسب ہوئی فقال و جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا کہ ہم نے پہلے جو بیان فرمایا ہے کہ الذین اذا اصابہم البغی ھم ینتصرون اس بدلہ لینے سے یہ مراد نہیں کہ جس نے کچھ یا ایک محدودتعدی کی ہو تو بدلہ اس سے ایسا لیا جاوے کہ جوش و طیش میں آکر اس کو برباد کردیا جاوے اور بیحد اس پر تعدی کی جاوے بلکہ بدلہ لیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ (الشوری : 43) (البتہ جس نے صبر کیا اور درگزر سے کام لیا یہ بیشک عزیمت کے کاموں میں سے ہے۔ ) حاصلِ بحث اس آیت کریمہ میں حاصل بحث کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اصحابِ ایمان کو حق و باطل کی کشمکش میں اپنی ذات کی نفی کرنا پڑتی ہے اور پیش نظر صرف اعلائے کلمۃ الحق کے مفادات کو رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان مخالفین کی نگاہوں میں کوڑا کرکٹ کا ڈھیر بن کر رہ جائیں، اور ہر متکبر آدمی یہ سمجھے کہ یہ ایسے لدو اونٹ ہیں جن پر بڑی سے بڑی ذلت لادی جاسکتی ہے۔ اس لیے فی الجملہ ان کو یہ اجازت دی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–43

فہم القرآن ربط کلام : اہل ایمان کی نویں صفت۔ اہل ایمان کی یہ بھی صفت ہے کہ ان پر کوئی جارحیّت کرئے تو وہ پوری غیرت کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہیں۔ اس سے پہلے اہل ایمان کی چوتھی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے کو معاف کرنا بہت بڑا کام ہے۔ لیکن جو لوگ اہل ایمان کو کمزور سمجھ کر دبانے اور جھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت اہل ایمان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ جارحیّت کرنے والوں کا پوری جرأت کے ساتھ جواب دیں۔ جارحیّت کرنے والوں سے مراد کافر بھی ہیں اور وہ مسلمان بھی جو کمزوروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ان کا ہاتھ روکنا لازم ہے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43: وَلَمَنْ صَبَرَ (اور جو شخص صبر کرے) ظلم و ایذاء پر وَغَفَرَ (اور بخش دے) بدلہ نہ لے۔ اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ) یعنی صبر اور اس سے درگزر کرنا لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے) یعنی ایسے امور میں سے ہیں جن کی طرف بڑھنا چاہیے۔ یا یہ ایسے امور میں سے ہے جن کے لئے مناسب ہے کہ عقل مندان کو اپنے اوپر لازم کرے اور اس کے چھوڑنے کی رخصت اختیارنہ کرے۔ یہاں منہؔ ضمیر کو حذف کیا گیا ہے کیونکہ وہ درمیان کلام سے سمجھ آرہی ہے جیسا کہ عرب اس قول میں قرینہ کی وجہ سے حذف کرتے ہیں۔ السمن منوان بدرھم۔ قولِ ابو سعید القرشی (رح) : بیداری کی علامت یہ ہے کہ مکارہ پر صبر کرے جس نے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42، انما السبیل علی الذین یظلمون الناس، ظلم کی ابتداء کرتے ہیں۔ ، ویبغون فی الارض بغیر الحق، اس میں نافرمانی والے کام کرتے ہیں۔ ، اولئک لھم عذاب الیم،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–43

36۔ 43۔ دنیا کی کسی چیز کو قیام نہیں جتنی دنیا کی راحت کی چیزیں ہیں ان کے پیچھے ایک مصیبت لگی ہوئی ہے زندگی کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے صحت کے پیچھے بیماری فراغت کے پیچھے تنگ دستی خوشی کے پیچھے رنج جوانی کے پیچھے بڑھاپا لگا ہوا ہے عقبیٰ کی جتنی راحت کی چیزیں ہیں ان کو ہمیشگی اور قیام ہے وہاں کی جوانی کو بڑھاپا نہیں صحت کو بیماری نہیں خوشی کو رنج نہیں دنیا کی ناپائیدار چیزوں میں اس طرح انسان کو گرفتار نہیں ہونا چاہئے جس سے عقبیٰ کی ہمیشہ کی راحت میں خلل پڑجائے اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے اور عقبیٰ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ہمیشہ کے لئے راحت کی چیزیں ہیں یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–45

آیت 41 اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مرتاب بیان کئے ہیں، عقوبات کے تین مرتاب ہیں : عدل، فضل اور ظلم (1) کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اس جیسی برئای، متربہ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اور اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ (2) برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبہ فضل ہے، اس لئے فرمایا : (فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ) ” پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ “ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عضو کے لائق نہ ہو اور مصلحت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–53

انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟ قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔ سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

87 صبر و برداشت کی عظمت شان کا بیان : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ صبر و برداشت اور عفو و درگزر سے کام لینا بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ کہ اس میں نفس امارہ کی سرکوبی کرنا پڑتی ہے جو کہ باہر کے دشمنوں سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ظلم و تعدیّ کا بدلہ و انتقام بقدر ضرورت اگرچہ جائز ہے اور ہر کسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کا بدلہ لے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر اور محبوب طریقہ و عمل یہی ہے کہ صبر و برداشت اور عفو و درگزر ہی سے کام لیا جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک بات تو یہ واضح فرما دی گئی کہ ظلم و زیادتی کے بعد برابری کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–43

مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–43

آیات 30 تا 43۔ اسرار ومعارف۔ اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔ اور اس کی عظمت کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:43) ولمن صبر وغفر : من شرطیہ ہے جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ ان ذلک لمن عزم الامور جواب شرط ہے۔ غفر ماضی واحد مذکر غائب غفران (باب ضرب) مصدر اس نے بخشا۔ اس نے معاف کیا ۔ ذلک : ای الصبر والغفران صبر کرنا اور معاف کردینا۔ من تبعیضیہ ہے۔ عزم الامور۔ مضاف مضاف الیہ۔ العزم والعزیمۃ کسی کام کا قطعی اور حتمی طور پر کرنے کا ارادہ کرنا۔ عزمت الامر میں نے اس کام کو قطعی طور پر کرنے کا ارادہ کرلیا۔ میں نے اس کام کو کر گزرنے پر دل کو پکا کرلیا۔ یہ عزم یعزم کا مصدر ہے اور اسی کا فعل باب ضرب سے آتا ہے۔ یہاں مصدر بمعنی مفعول ہے۔ یعنی عزم بمعنی معزوم ہے۔ اور اس سے مراد ہے وہ عمل جس کو اس کی خوبی بڑائی اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–43

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام) تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–44

کافروں کا انجام اور نافرمانی کی زندگی۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ کی توفیق ودست گیری ہی سے آدمی کو ایمان حاصل ہوسکتا ہے اور اگر اللہ اپنے مقدس مذہب کی راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا اخلاقی پستی اور گمراہی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے، آگے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کافروں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ بروز قیامت عذاب کی سختی اور تکلیف دیکھیں گے تو وہ اس حالت کو دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے اور ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جاکر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت وندامت کے مارے نیچی نظریں سے دیکھتے ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–43

[25] یہاں سے یہ مسئلہ صاف ہوگیا کہ انتقام کی جائز حدود کے اندر پوری اجازت اسلام میں ہے لیکن اولیٰ و افضل معاف ہی کردینا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–43

آیت 37 تا 43: حل لغات :۔ الفواحش ۔ جمع معشہ برائیاں استجابوا ۔ یعنی انہوں نے اللہ کی رضا کو بہرآئینہ مقدم جانا اور ہر حکم کو رضاکارانہ تسلیم کرلینے کا عہد ۔ حل لغات :۔ انتصر ۔ بدلہ اور انتقام لیا ۔ انتصار سے ہے ۔ اہل عقبے 1: ان آیتوں میں ان لوگوں کی صفات کا تذکرہ ہے ۔ جن کیلئے عاقبت کی زندگی ہے ۔ اور جو آخرت میں روحانی سعادتوں سے بہرہ مند ہونگے ۔ فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں ۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور مصائب وشدائد میں اس پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اور سراسر پاکباز ہیں ۔ وہ کوشش کرتے ہیں ۔ کہ ان کا دامن کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو ۔ ان میں یہ صلاحیت اور قوت برداشت ہوتی ہے ۔ کہ جب جذبات میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(43) اور بلاشبہ جو شخص صبر کرے اور معاف کردے اور سخش دے تو یقین جانو یہ کام بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہیں۔ یعنی باوجود اس کے کہ قانون میں انتقام بالمثل کی اجازت ہے پھر بھی کوئی ظلم پر صبر کرلے اور ظالم کو معاف کردے تو یہ بڑی ہمت والوں کا کام ہے …یعنی بدلے کی رخصت ہے اور صبر اور بخشش عزیمت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 43–44

قانونِ الٰہی یہی ہے کہ جو گمراہ رہنا چاہتا ہے اس کو گمراہی ہی دی جاتی ہے 44 ؎ رسول مکرم و نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کو سنت اللہ کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ سنت اللہ یہی ہے کہ جو شخص ہدایت کی بجائے گمراہی اختیار کرنا چاہتا ہے اس کے حصے میں گمراہی ہی آتی ہے اور جو ہدایت کا طالب ہوتا ہے اس کو ہدایت مل جاتی ہے اور یہ وہی بات ہے جس کو اس طرح ادا کیا جاتا ہے کہ جو بیجتا ہے وہ کاٹتا ہے اور جو کچھ بیجتا ہے وہی کچھ کاٹتا ہے۔ اسی اصول کے تحت ساری عمر برائیاں کرنے والے اور ظلم و زیادتیاں کرنے والے جب اپنے کیے کا نتیجہ دیکھیں گے تو بلاشبہ وہ پیٹ کر رہ جائیں گے کہ کبھی ظلم و زیادتی کا بدلہ نیکی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–44

Seventh virtue:۔ وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُ‌ونَ (and those who, when they are subjected to aggression, defend themselves - 39.) The original word used in the text is ` yantasirun' which may be translated as ` defend themselves' and also as ` retaliate'. In the latter case, retaliation must be equal, and should in no case exceed the limit of equality. This quality, in reality, is a further elaboration of the third virtue, i.e forgiving the opponents. It means that though forgiveness is a good quality, yet one may face certain situations where the mischief gets a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–43

68. One should note that the qualities of the believers that have been mentioned in these verses, practically existed in the lives of the Prophet (peace be upon him) and his companions, and the disbelievers of Makkah were their eye-witnesses. Thus, Allah has, in fact, told the disbelievers: The real wealth is not the provisions that you have received for passing the transitory life of the world, and are bursting with pride of it, but the real wealth are the morals and characteristics which the believers from your own society have developed by accepting the guidance given by the Quran.

Read the full tafseer →