Az-Zumar 39:72

Az-Zumar · from ayah 72

39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ۚ— فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَكَبِّرِیْنَ ۟قِيۡلَ ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ

کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[To them] it will be said, "Enter the gates of Hell to abide eternally therein, and wretched is the residence of the arrogant."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 8 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:72

کہا جائے گا، داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، بڑا ہی برا ٹھکانا ہے یہ متکبروں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہیں گے، پس سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ کیونکہ بہت برا ٹھکانا ہے ان کا جو تکبر سے کام لیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا جائے گا جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا متکبروں کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُن سے کہا جائے گا: دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، (تم) اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو غرور کرنے والوں کا ٹھکانا کتنا برا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے، پس وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہیں کہا جائے گا کہ : جہنم کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ تم ہمیشہ اس میں رہو گے۔ تکبر کرنے والوں کے لئے یہ کیسا برا ٹھکانا ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جائو، اس میں ہمیشہ رہنے کے لئے پس کیا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہا جائے گا کہ اب داخل ہوجاؤ تم سب دوزخ کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا پس بڑا ہی برا ٹھکانا ہوگا وہ متکبر لوگوں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

(پھر) کہا جائے گا دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو (اور) اس میں (ہمیشہ) پڑے رہو تو غرض کہ بڑا برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان سے کہ داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ تو بہت برا ہے یہ ٹھکانہ متکبرین کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہا جائے گا کہ ”دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے ‘ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

It will be said: “Enter the gates of Hell. Herein shall you abide.” How evil is the abode of the vainglorious!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It will be said, :Enter the gates of Jahannam to live in it forever. So, how evil is the dwelling-place of the arrogant!

— Muhammad Taqi Usmani

It will be said, :Enter the gates of Jahannam to live in it forever. So, how evil is the dwelling-place of the arrogant!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It will be said: "Enter you the gates of Hell, to abide therein. And what an evil abode of the arrogant!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is said (unto them): Enter ye the gates of hell to dwell therein. Thus hapless is the journey's end of the scorners.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[To them] it will be said, "Enter the gates of Hell to abide eternally therein, and wretched is the residence of the arrogant."

— Saheeh International

They will be told, "Enter the gates of hell to live therein forever. What a terrible dwelling for the arrogant ones!"

— Muhammad Sarwar

It shall be said: Enter the gates of hell to abide therein; so evil is the abode of the proud.

— Muhammad Habib Shakir

It will be said: enter the portals Of Hell to be abiders therein. How ill, then, is the abode of the stiff-necked!

— Abdul Majid Daryabadi

(To them) will be said: "Enter ye the gates of Hell, to dwell therein: and evil is (this) Abode of the Arrogant!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–72

کفار کی آخری منزل۔ بدنصیب منکرین حق، کفار کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ وہ جانوروں کی طرح رسوائی، ذلت ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکی سے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے۔ جیسے اور آیت میں یدعون کا لفظ ہے یعنی دھکے دیئے جائیں گے اور سخت پیاسے ہوں گے، جیسے اللہ جل و علا نے فرمایا (یوم نحشر المتقین) الخ، جس روز ہم پرہیزگاروں کو رحمان کے مہمان بناکر جمع کریں گے اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے۔ اس کے علاوہ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہوں گے اور منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے یہ اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا جب اس کی آتش دھیمی ہونے لگے ہم اسے اور تیز کردیں گے۔ یہ قریب پہنچیں گے دروازے کھل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–73

سورة الزُّمَر 81 یعنی جہنم کے دروازے پہلے سے کھلے نہ ہوں گے بلکہ ان کے پہنچنے پر کھولے جائیں گے، جس طرح مجرموں کے پہنچنے پر جیل کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور ان کے داخل ہوتے ہی بند کردیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–73

(آیت) وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ۔ مراد یہ ہے کہ میدان حشر میں حساب و کتاب کے وقت سب انبیاء بھی موجود ہوں گے اور دوسرے سب گواہ بھی حاضر ہوں گے۔ ان گواہوں میں خود انبیاء (علیہم السلام) بھی ہوں گے، جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے (آیت) جئنا من کل امة بشھید۔ اور فرشتے بھی گواہوں میں ہوں گے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (آیت) معھا سائق و شھید۔ کہ اس میں سائق اور شہید سے مراد فرشتے ہونا (تفسیر در منثور) سورة ق میں مذکور ہے اور ان گواہوں میں امت محمدیہ بھی ہوگی جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (آیت) لتکونوا شھداء علیٰ الناس اور ان گواہوں میں خود انسان کے اعضاء وجوارح بھی ہوں گے جیسا کہ قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قبل ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبرین (72) ان کے اس جواب کے بعد ان سے کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جائو اور یہ داخل ہونا ابدی ہے۔ فئس متوی المتکبرین، متکبرین سے ظاہر ہے کہ وہی لوگ مراد ہیں جن کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ اس صفت سے ان کے اصل سبب اعراض و افکار پر روشنی پڑتی ہے کہ انہوں نے محض بربتائے تکبر حق سے اعراض کیا اور اس ٹھکانے کے سزا وار ٹھہرے جو متکبرین کے لئے خاص ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 72–73

اہل ایمان وتقوی بھی گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے پہلے مقربین پھر ابرار اس طرح درجہ بدرجہ ہر گروہ ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہوگا مثلا انبیاء علیم السلام کے ساتھ صدیقین شہدا اپنے ہم جنسوں کے ساتھ علماء اپنے اقران کے ساتھ یعنی ہر صنف اپنی ہی صنف یا اس کی مثل کے ساتھ ہوگی۔ ابن کثیر۔ حدیث میں آتا ہے جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک ریان ہے جس سے صرف روزے دار داخل ہونگے (صحیح بخاری) اسی طرح دوسرے دروازوں کے بھی نام ہوں گے جیسے باب الصلوۃ باب الصدقۃ باب الجہاد وغیرہ صحیح بخاری کتاب الصیام مسلم کتاب الزکوۃ ہر دروازے کی چوڑائی چالیس سال کی مسافت کے برابر ہوگی اس کے باوجود یہ بھرے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–75

18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 72 یہ جہنمیوں کا قافلہ ہے۔ متکبرین کا قافلہ ہے۔ وہ گیا ، اس کے لیے دوازے کھلے۔۔۔۔ لیکن دیکھئے دوسری طرف متقین کا قافلہ بھی آرہا ہے۔ یہ اہل جنت کا قافلہ ہے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی تم نے شیخی اور غرور میں آکر اللہ کی بات نہ مانی۔ اب ہمیشہ دوزخ میں پڑے اس کا مزہ چکھتے رہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72 { قِیْلَ ادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاج فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ } ”کہہ دیا جائے گا ان سے کہ داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ تو بہت برا ہے یہ ٹھکانہ متکبرین کا۔“ پیغمبروں کی دعوت کے جواب میں جو اکڑفوں تم لوگ دکھاتے رہے تھے اس کی وجہ سے آج تم اس انجام سے دو چار ہوئے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

92 انکار حق کی سب سے بڑی وجہ تکبر :۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبول حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر یا اپنا پندار نفس ہوتا ہے۔ حق کو قبول نہ کرنے کی دوسری وجوہ بھی اسی ذیل میں آتی ہیں۔ جیسا کہ ابلیس کا بھی اصل جرم تکبر ہی تھا۔ اگرچہ اس نے بھی اپنے موقف کی حمایت میں کئی دلائل پیش کئے تھے۔ اسی طرح کافر قبول حق سے انکار کی خواہ کئی وجوہ بتائیں۔ اللہ کی آیات کا تمسخر اڑائیں۔ اللہ کے عذاب کو چیلنج کریں ان سب کی تہ میں یہی تکبر یا پندار نفس ہی کام کر رہا ہوتا ہے۔ لہذا یہ سب جرموں سے بڑا جرم ہوا۔ اسی لئے تمام گروہوں کے الگ الگ جرائم کا نام لینے کے لئے صرف اس جرم کا نام لے لیا گیا ہے جو سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

88۔ یعنی ان لوگوں کے لیے جو اپنی ہوائے نفس اور اپنی چھوٹی سی عقل کو احکام الہی کے سامنے جھکانے میں عار محسوس کرتے تھے۔ (آیت) ” ادخلوا ...... فیھا “۔ چناچہ اس کے بعد دوزخ کے دروازے دوزخیوں پر ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے۔ (آیت) ” الی الجنۃ نار مؤصدۃ “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–75

آیت نمبر 71 تا 75 ترجمہ : اور کافروں کے غول کے غول مختلف گروہوں میں شدت کے ساتھ جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے جب وہ جہنم کے پا سپہنچ جائیں گے تو جہنم کے دروازے کھول دئیے جائیں گے (فتحت ابوابھا) اذا کا جواب ہے، وہاں نگران ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں قرآن وغیرہ پڑھ کر سناتے تھے ؟ اور تمہیں ان دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے، یہ جواب دیں گے ہاں درست ہے، لیکن کلمہ عذاب یعنی لاملان جھنم (الآیۃ) کافروں پر ثابت ہوگیا حکم دیا جائے گا اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، جہاں ہمیشہ رہو گے، حال یہ کہ خلود مقدر ہوچکا پس سرکشوں کا ٹھکانہ بہت ہی برا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قیل ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوے المکتبرین کہا جائے گا : جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ (اور) ہمیشہ اس میں رہو ‘ تکبر کرنے والوں کا (یعنی اللہ کے احکام کے مقابلہ میں تکبر کرنے والوں کا) وہ برا ٹھکانہ ہے۔ قِیْلَ ادْخُلُوْا جو بات کافروں سے کہی جائے گی وہ بڑی ہولناک ہوگی ‘ اسلئے کہنے والے کا نام مبہم رکھا صراحت سے ذکر نہیں کیا۔ الْمُتَکَبِّرُیْنَ الف لام جنسی ہے اور فَبِءْسَ میں فَ سببی ہے ‘ آیت سے درپردہ یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ جہنم کافروں کا ٹھکانہ صرف اس وجہ سے ہوگا کہ حق کے مقابلہ میں انہوں نے تکبر کیا تھا (اور حق کو حقیر سمجھ کر قبول نہیں کیا تھا) ۔ ایک شبہ : اوپر کی آیت میں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ان سے محافظ کہیں گے کہ اب ہمیشہ دوزخ میں رہو غرض کتاب و رسول پر ایمان لانے سے تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ : اس جملے سے معلوم ہوا کہ جہنم میں جانے کی سب سے بڑی وجہ تکبر (یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر حق کا انکار) ہے۔ ابلیس کا بھی اصل جرم تکبر ہی تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے الگ الگ جرم گنانے کے بجائے تمام جرائم کا اصل ذکر فرما دیا، جو تمام مجرموں میں مشترک ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 71–72

(وسیق الذی کفروا۔۔۔ ) وسیق الذین کفروا الی جھنم مرا یہ اس امر کی وضاحت ہے کہ ہر نفس کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا کافر کو آگ کی طرف اور مومن کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا زمرا کا معنی جماعتیں ہیں اس کا واحد زمرۃ ہے جس طرح ظلم اور غرفۃ ہے۔ اخفش اور ابو عبید نے کہا : زمر کا معنی متفرق جماعتیں ہیں جن میں سے بعض بعض کے پیچھے ہوتی ہیں۔ شاعر نے کہا : وتری الناس الی منزلہ زمرا تنتابہ بعد زمر تو دیکھے گا لوگ اس کے گھر کی طرف جماعتوں کی صورت میں پے در پے آتے ہیں۔ ایک اور شاعر نے کہا : حتی احزالت زمر بعد زمر ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ زمر کا معنی ہے آواز کے ساتھ اسے دور کرنا اور جھڑکنا جس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 71–72

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جہنم کی طرف جب اس کے رہنے والوں کو ہانکا جائے گا تو ان کی گردنوں کو آگ کی ایک ایسی لپیٹ پہنچے گی جو گوشت کو نہیں چھوڑے گی کسی ہڈی پر مگر ان کی پنڈلیوں پر ڈال دے گی۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین “ (لیکن ثابت ہوجائے گی عذاب کی بات کافروں پر) یعنی ان کے برے اعمال کی وجہ سے (واللہ اعلم ) ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قِيْلَ ادْخُلُوْٓا [کہا جائے گا تم لوگ داخل ہو ] اَبْوَابَ جَهَنَّمَ [جہنم کے دروازوں میں (سے)] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ [ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] فَبِئْسَ [تو کتنی بری ہے ] مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ [بڑا بننے والوں کی مستقل قیام گاہ ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–72

اہل کفر اور اہل ایمان کی جماعتوں کا گروہ گروہ اپنے ٹھکانوں تک پہنچنا اس رکوع میں اہل کفر اور اہل ایمان کا انجام بیان فرمایا ہے۔ اول کافروں کا حال بیان فرمایا کہ کافروں کو گروہ گروہ بنا کر دوزخ کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا سورة الطور میں فرمایا (یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا) (جس روز انہیں دوزخ کی آگ کی طرف دھکے دے کر لایا جائے گا) جب دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا تو ان کے مختلف گروہ ہوں گے کیونکہ کفر کی بہت سی اقسام ہیں اور کفر کے مراتب بھی جدا جدا ہیں اس لیے ایک ایک طرح کے کافروں کا ایک ایک گروہ ہوگا۔ (قال صاحب الروح ای سیقوا الیھا بالعنف والا ھانۃ افواجا متفرقۃ بعضھا اثر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–75

بیان انجام حقارت وتذلیل کفار ومجرمین وانعام واکرام اہل ایمان ومطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” وسیق الذین کفروا ........ الی ....... الحمد للہ رب العلمین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین و کفار کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ شرک ونافرمانی سے باز نہ آئیں گے، تو زندگی میں کیے ہوئے تمام اعمال حبط وبرباد ہوں گے اور انسان کو نہ قیامت سے بےفکر ہونا چاہئے اور نہ محاسبہ سے لاپرواہی برتنی چاہئے، قیامت بھی برحق ہے، محاسبۂ اعمال بھی۔ اعمال اس پروردگار پر پورشیدہ نہیں وہ اعمال کو دیکھتا اور جانتا ہے، اس نے ہر انسان کا نامہ اعمال بھی تیار کر رکھا ہے، اعمال پر گواہ بھی ہیں اس نوعیت سے مجرم کو اعمال کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–72

69:۔ ” و سیق الخ “ یہ بھی تخویف اخروی ہے قیامت کے دن فصل قضاء کے بعد کفار و مشرکین کو ٹولیوں کی صورت میں جہنم کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا۔ جب وہ جہنم کے دروازوں پر پہنچیں گے تو ان کے لیے جہنم کے دروازے کھول دئیے جائٰں گے اس وقت جہنم پر مقرر فرشتے ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تم ہی میں اسے اللہ کا پیغام پہنچانے والے نہیں آئے تھے۔ جو تمہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے اور تمہیں آج کے دن اللہ کی بارگاہ میں پیشی سے ڈراتے تھے ؟ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں ؟ آئے تو تھے۔ لیکن بد قسمتی سے ہم کافروں پر اللہ کے عذاب کا فیصلہ نافذ ہوگیا۔ کیونکہ کہ ہم نے محض ضد وعناد سے حق کا انکار کیا۔ ” قیل ادخلوا الخ “…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–75

ربط آیات : گذشتہ درس میں دو دفعہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہوا ہے پہلے صور پر ہر چیز بیہوش ہو جائیگی ، اور جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اکٹھے ہوجائیں گے اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی ، اعمال نامے سامنے رکھ دیے جائیں گے ، نبی اور گواہ آئیں گے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا ہر نفس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ، اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی جزائے عمل کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اس کی کیفیت بھی بیان کی ہے کہ نافرمان لوگ جہنم تک اور اہل ایمان جنت تک کیسے پہنچیں گے ۔ (کفار کی جہنم کی طرف روانگی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وسیق الذین کفروا الی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قِيْلَ ادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝ 0 ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۝ 72 دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ باب البَاب يقال لمدخل الشیء، وأصل ذلک : مداخل الأمكنة، کباب المدینة والدار والبیت، وجمعه : أَبْوَاب . قال تعالی: وَاسْتَبَقَا الْبابَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–75

ترکیب : زمرا جمع زمرۃ وھی الجماعۃ، حال فی الموضعین و فتحت الوا و زائدۃ عند قوم لان الکلام جواب حتی اذا ولیست زائدہ عند قوم فالجواب محذوف ای دخلو ھا نتبوا حال من الفاعل او المفعول وحیث مفعول بہ حافین حال من الملائکہ یسبحون حال منھا۔ تفسیر : فیصلہ ہونے کے بعد کا نتیجہ بیان فرماتا ہے کہ کفار کی جماعتیں جہنم کی طرف ہان کی جاویں گی، وہاں فرشتے ان سے ملامت کے طور پر پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس دنیا میں رسول نہ آئے تھے جو آیات الٰہی سنایا کرتے اور اس روز کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں آئے تھے مگر تقدیر میں یہی تھا، فرشتے کہیں گے تو جہنم میں گرو کہ ہمیشہ وہاں رہا کرو گے جو بری جگہ ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قِیْلَ ادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ج فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَـکَبِّرِیْنَ ۔ (الزمر : 72) (کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے پس کیا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبروں کا۔ ) جن کافروں کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور جہنم کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب تم اس جہنم میں داخل ہوجاؤ اور یہ ایک دو دن کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ تمہیں یہیں رہنا ہے۔ اور آیت کے آخر میں ان کے اصل مرض کی نشان دہی بھی فرمائی کہ ان کا حق سے اعراض اور ایمان کی قبولیت سے انکار درحقیقت تکبر کی وجہ سے تھا۔ دنیا کی دولت و رفاہیت نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–72

فہم القرآن ربط کلام : عدالت کبریٰ کے فیصلے بعد کفار کو جہنم کی طرف ہانکا جانا۔ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا تو رب ذوالجلال کی طرف سے حکم ہوگا۔ کہ جہنمیوں کو ان کے جرائم کے مطابق گروہ بندی کرکے جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ جہنمی جہنم کے پاس پہنچیں گے تو جہنم کے دروغے جہنم کے دروازے کھولتے ہوئے جہنمیوں کو طعنہ اور جھڑکتے ہوئے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول نہیں آئے تھے جو تمہارے سامنے تمہارے رب کے ارشادات پڑھتے اور تمہیں آج کے دن سے ڈراتے۔ جہنمی زارو قطارورتے ہوئے اقرار کریں گے۔ کیوں نہیں ! ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول آئے۔ اور انہوں نے ہمیں باربار اخلاص کے ساتھ سمجھایا لیکن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قِيْلَ ادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا، کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو ہمیشہ اس میں رہا کرو۔ نحو : یہ حال مقدرہ ہے یعنی انکے لیے خلود کو مقدر کردیا گیا۔ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ ، (پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانہ ہے) ۔ اس میں لام جنس کا ہے۔ کیونکہ مثوی المتکبرین یہ بئس کا فاعل ہے۔ اور بئس کا فاعل معرف باللام ہوا کرتا ہے یا معرف باللام کی طرف مضاف ہوتا ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ فبئس مثوی المتکبرین جہنم۔ متکبرین کا ٹھکانہ جہنم بہت ہی برا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

71، وسیق الذین کفروا الی جھنھم ، سخت طریقے سے ہانکنا۔ ، زمرا، فوج درفوج ایک دوسرے کے پیچھے ہر امت علیحدہ ہوگی۔ ابوعبیدہ اور اخفش رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ، زمرا، یعنی متفرق جماعتیں اس کا واحدزمرہ آتا ہے۔ ، حتی اذا جاء اذا فتحت ابوابھا، ساتوں دروازے اور یہ اس سے پہلے بند تھے۔ اہل کوفہ نے ، فتحت، تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ کثرت کی بناء پر، وقال لھم خزنتھا، ان کو ڈانٹتے ہوئے۔ ، الم یاتکم رسل منکم ، تم ہی میں سے ، یتلون علیکم ایت ربکم وینذرونکم لقاء یومکم ھذاقالوابلی ولکن حقت، واجب ہوگیا۔ ، کلمۃ العذاب علی الکافرین، اور اللہ تعالیٰ کافرمان، لا ملان جھنم من الجنۃ والنس اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–73

71۔ 73۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے اس نئی زمین پر جو اس وقت پیدا ہوگی لوگوں کے حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا اور زمین اللہ کے نور سے روشن ہوجائے گی اس حساب و کتاب کے بعد جو نتیجہ نکلے گا اس آیت سے آخر سورة تک اب اس کا ذکر ہے کہ جنتی لوگ جنت میں اور دوزخی لوگ دوزخ میں بھیج دیئے جائیں گے جس طرح میدان محشر میں آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے لوگوں کا حساب و کتاب شروع ہوگا اسی طرح ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح 5 ؎ مسلم میں ہے کہ جنتی لوگوں کی جنت میں جانے کی شفاعت بھی پہلے آپ ہی شروع کریں گے اور سب سے پہلے جنت کا دروازہ بھی آپ ہی کھلوا دیں گے چناچہ صحیح مسلم 6 ؎ کی انس ؓ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 71–75

آیت 71 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کردی جائے گی جس طرح انہوں نے دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا، چناچہ فرمایا : (وسیق الذین کفروآ الی جھنم) ” اور جن لوگوں نے کفر کیا انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ “ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ، یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

132 دوزخیوں کا حسرت و افسوس بھرا جواب : سو ان کے اس سوال کے جواب میں دوزخی حسرت و افسوس بھرے انداز میں ان سے کہیں گے کہ " ہاں لیکن پکی ہوگئی عذاب کی بات کافروں پر "۔ یعنی وہ بات جو اللہ پاک نے ایسے گناہ گاروں کے لئے اس طرح ارشاد فرمائی ہے ۔ { لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الجِنّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ } ۔ (ھود : 119) مگر بےوقت کے ان لوگوں کے اس اقرار و اقبال جرم سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے حسرت و ندامت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ دوسرے مقام پر اس بارے صاف وصریح طور پر اور مزید وضاحت کے ساتھ ذکر فرمایا گیا کہ وہ اپنے اس جرم کا صاف اور صریح طور پر اقرار کریں گے۔ سو وہاں پر اس بارے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 71–75

نیکوں اور بدکاروں کا اخروی انجام تشریح : جب ہم یہ آیات پڑھتے ہیں اگر ہمارے اندر توحید کی سچائی اور توحید کا نور موجود ہو تو واقعی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں آنکھیں پرنم ہوجاتی ہیں۔ کتنا عظیم دربار ہوگا اور کتنا عظیم جج ہوگا یہ صرف ہم قرآنی آیات کے کھینچے ہوئے نقشہ کو تصور کی آنکھ سے اور روح کی پاکیزگی سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ گناہگار خوف و ہراس سے پریشان ہوں گے اور جب جہنم کا دروازہ کھولا جائے گا تو کیا حال ہوگا ؟ کوئی سفارش، کوئی مال، کوئی اولاد، کوئی بادشاہ، کوئی وزیر اور کوئی بڑے سے بڑا لیڈر عذاب سے بچا نہ سکے گا۔ بڑے انصاف سے سزا دی جائے گی۔ بےانصافی کرنا تو صرف بندوں کا کام ہے رب العزت کا کام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–75

رکوع نمبر 8 ۔ آیات 71 تا 75: اسرار و معارف : تب فیصلہ ہونے کے بعد کفار کے گروہ یعنی ہر جرم کے لوگ ایک ایک گروہ بن کر دوزخ کی طرف ہنکائے جائیں گے جہاں پہلے سے دروازہ کھولے فرشتے منتظر ہوں گے اور ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے مبعوث نہ ہوئے تھے کہ تمہیں تمہارے پروردگار کا پیغام پہنچاتے اور آج کی اس مشکل گھڑی سے بروقت خبردار کرتے۔ کہیں گے آئے تھے مگر ہم نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا لہذا ہمارے کفر کے سبب ہم پر یہ عذاب آیا اور عذاب کا حکم کافروں پہ نافذ ہوجائے گا۔ اور انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا کہ چلو اب دوزخ میں جہاں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے داخل ہوجاؤ کہ تکبر کرنے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 72–73

ف 1 جیسے کسی معظم و مکرم مہمان کے انتظار میں پہلے سے درازے کھلے رکھے جاتے ہیں اسی کو دوسری آیت میں بصراحت فرمایا ( جنات عدن مفتحۃ لھم الابواب) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہونگے (ص 1، 5) جنت کے آٹھ دروازے ہیں جیسا کہ بعض صحیح احادیث میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے۔ صحیحین میں حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروارے کا نام ” ریان “ ہے اس میں سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔ (شوکانی) ۔2 یعنی تم ہر مصیبت اور ہر آفت سے سلامتی میں ہو۔3 جو دنیا میں کفر، شرک اور گناہوں سے آلودہ نہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:72) خلدین ۔ ہمیشہ رہنے والے۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر منصوب بوجہ حال ۔ فیہا : ای فی جہنم۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جھنم ہے۔ بئس۔ برا ہے۔ فعل ذم ہے۔ اس کی گردن نہیں آتی۔ بئس اصل میں بئس تھا۔ (بروزن فعل باب سمع) عین کلمہ کی اتباع میں اس کے فاء کلمہ کو کسرہ دیا گیا۔ پھر تخفیف کیلئے عین کلمہ کو ساکن کردیا بئس ہوگیا۔ مثوی المتکبرین۔ مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل ہے بئس کا۔ مثوی۔ ظرف مکان۔ فرودگاہ۔ نیز ملاحظہ ہو 39:60 متذکرہ بالا۔ المتکبرین۔ میں الف لام جنس کا ہے۔ تکبر کرنے والے۔ حق کو حقیر سمجھ کر قبول نہ کرنے والے۔ فبئس مثوی المتکبرین۔ پس تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ بہت برا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–75

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75 : وسیق (اس نے کھینچا ، گھسیٹا) زمر (جماعت ، گروہ) خزنۃ (نگران ، دیکھ بھال کرنے والا) حقت (ثابت ہوگئی) طبتم (تمہیں مبارک ہو) اور ثنا (ہمیں مالک بنا دیا) نعم ( بہترین) حافین (گھیرنے والے) حول العرش (عرش کے اردگرد) تشریح : آیت نمبر 71 تا 75 : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے میدان حشر کا نقشہ کھینچ کر بتا دیا تھا کہ یہ وہ انصاف کا دن ہوگا جس میں ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ کفار و مشرکین کو اس دن ذلت و رسوائی اور اہل ایمان کو عزت و عظمت نصیب ہوگی چناچہ مشرکین ، کفار اور منافقین کو نہایت ذلت کے ساتھ گھسیٹ کر جہنم کے دروازوں تک پہنچا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–73

اہل دوزخ کی ذلت اور اہل جنت کی عظمت۔ (ف 1) تمام کافروں کو نہایت ذلت و خواری کے ساتھ دوزخ کی طرف ہانکاجائے گا اور چونکہ کفر کے اقسام و مراتب بہت ہیں ہر قسم اور ہر درجہ کے کافروں کا گروہ الگالگ کردیایاجائے گا اور جس وقت دوزخی دوزخ کے قریب پہنچیں گے دروازے کھول کر اس میں دھکیل دیے جائیں گے، اس کے بعد دروازہ بند کردیے جائیں گے اور جو فرشتے دوزخ کے محافظ ہیں وہ کفار سے بطورملامت کے یہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے احکام لے کر رسول نہیں آئے اور اس دن کی آفت سے انہوں نے تم کو نہیں ڈرایا دوزخی جواب دیں گے کہ ہاں رسول آئے اور انہوں نے اس دن کی آفت سے ہم کو ڈرایا لیکن ہم لوگوں نے ان کا کہنا نہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–73

علم الٰہی کی اکملیت 2: منکرین حق وصداقت کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف کشاں کشاں لیجایا جائے گا ۔ اور جب وہ جہنم کے قریب پہنچ جائیں گے ۔ تو اس کے دروازے ان کے لئے کھل جائیں گے ۔ محافظ پوچھیں گے ۔ کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول نہیں آئے تھے ۔ جو تمہیں اللہ کے احکام سناتے اور آج کے دن کی اہمیت سے آگاہ کرتے ۔ وہ کہیں گے کہ ہاں پیغمبر تو تشریف لائے تھے مگر ہم نے محرومی وشقاوت کی وجہ سے ان کو تسلیم نہ کیا ۔ اور کبر و غرور میں مبتلا ہوکر ان کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ جہنم کے محافظ فرشتے یہ سارا مکالمہ زجر وتوبیخ کے انداز میں کرینگے ۔ کہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ کے مرسلوں کی تکذیب کا انجام کتنا خوفناک…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(72) ان کو کہا جائے گا داخل ہوجائو دوزخ کے دروازوں میں ہمیشہ اس میں رہنے کو پس وہ دوزخ بری جگہ اور برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا - یعنی دوزخ کے دروازوں میں ان منکروں کو داخل ہونے کا حکم ہوگا اور ہمیشہ رہنے کا حکم دیا جائیگا آخر میں فرمایا سو کیا برا ٹھکانا ہے دوزخ تکبر کرنے والوں کا یہ بات یا تو فرشتے کہیں گے یا حضرت حق تعالیٰ کا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ پھر اس حکم کے بعد وہ جہنم میں داخل کئے جاویں گے اور دروازے بند کردیئے جاویں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کہا جائے گا کہ جہنم میں داخل ہو جائو کہ تکبر کرنے والوں کا یہی ٹھکانا ہے 72۔ جہنم میں داخل ہونے والے ہر گروہ کے تصدیق کرلینے کے بعد اور اتمام حجت کے بعد ان کو دوزخ میں اتر جانے کے لیے کہا جائے گا اور یہ بات ہم نے قبل ازیں کئی بار عرض کی ہے کہ داخل ہونے کے بعد بلاشبہ وہ چاہیں گے کہ کسی صورت یہاں سے نکل سکیں لیکن وہاں سے نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی اس لیے ہم نے جہنم کو چوہوں کے پنجرے سے مشابہت دی ہے کہ داخل ہونے والا تو آسانی سے داخل ہوجائے لیکن وہاں سے نکل کسی مشکل طریقہ سے بھی نہ سکے۔ اس جگہ کہا گیا ہے کہ اس کے بعد دوزخ کے دربان ان سے کہیں گے کہ اچھا اب جہنم میں داخل ہو جائو اور بلاشبہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–73

In verse 69, it was said: وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ (and the prophets and the witnesses will be brought,) It means that, at the time of reckoning on the plains of Resurrection, present there will be all prophets as well as all other witnesses. The prophets themselves will also be among the witnesses as said in the Qur'an: جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ (We shall bring a witness from every community - An-Nisa', 4:41). And angels too will be among the witnesses, as in the Qur'an: مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ (with each someone [ meaning an angel ] to drive and someone [ meaning…

Read the full tafseer →