Explained with ayahs 68–70
قیامت کی ہولناکی کا بیان۔
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہوگا جس سے ہر زندہ مردہ ہوجائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔ صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی وقیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے ؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد وقہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہر چیز کو اپنی ماتحتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
سورة الزُّمَر 80
گواہوں سے مراد وہ گواہ بھی ہیں جو اس بات کی شہادت دیں گے کہ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا، اور وہ گواہ بھی جو لوگوں کے اعمال کی شہادت پیش کریں گے۔ ضروری نہیں ہے کہ یہ گواہ صرف انسان ہی ہوں۔ فرشتے اور جن اور حیوانات، اور انسانوں کے اپنے اعضاء اور در و دیوار اور شجر و حجر، سب ان گواہوں میں شامل ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
(آیت) وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ۔ مراد یہ ہے کہ میدان حشر میں حساب و کتاب کے وقت سب انبیاء بھی موجود ہوں گے اور دوسرے سب گواہ بھی حاضر ہوں گے۔ ان گواہوں میں خود انبیاء (علیہم السلام) بھی ہوں گے، جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے (آیت) جئنا من کل امة بشھید۔ اور فرشتے بھی گواہوں میں ہوں گے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (آیت) معھا سائق و شھید۔ کہ اس میں سائق اور شہید سے مراد فرشتے ہونا (تفسیر در منثور) سورة ق میں مذکور ہے اور ان گواہوں میں امت محمدیہ بھی ہوگی جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (آیت) لتکونوا شھداء علیٰ الناس اور ان گواہوں میں خود انسان کے اعضاء وجوارح بھی ہوں گے جیسا کہ قرآن کریم…
Read the full tafseer →ووفیت کل نفس ماعملت وھوا علم بما یفعلون 70
یہ وھم لایظلموکن کی وضاحت ہے کہ ہر ایک کو وہی دیا جائے گا جو اس نے کیا ہوگا اور پورا پورا دیا جائے گا۔ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی اس وجہ سے کسی ناانصافی کا کوئی سوال نہیں ہے۔ ہر ایک اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کاٹے گا اور اپنے ہی لگائے ہوئے درخت کا پھل چکھے گا۔ وھواعلم بما یفعلون اور اس کا بھی کوئی امکان نہی ہے کہ خدا کسی کا کوئی عمل بھول جائے۔ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس سے اچھی طرح واقف ہے اور ہر چیز اس کے واضح رجسٹر میں درج ہے۔
اس ساری تفصیل سے مدعا مشرکین کی آنکھیں کھولنا ہے کہ وہ کیا آرزوئیں لئے بیٹھے ہیں اور اصل حقیقت کیا ہے جس سے سب کو…
Read the full tafseer →70۔ 1 یعنی اس کو کسی کاتب، حاسب اور گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اعمال نامے اور گواہ صرف بطور حجت اور قطع معذورت کے ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →یہاں کسی کو کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، نہ کوئی آواز اٹھانے کی یہاں کوئی ضرورت ہے۔ چناچہ پوری انسانیت کا حساب و کتاب بڑی خاموشی کے ساتھ لپیٹ لیا جاتا ہے اور اجمال کے ساتھ جبکہ دوسرے مناظر میں تفصیلات دی گئی ہیں ، کیونکہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اس دن اللہ کا رعب اور خوف چھایا ہوا ہوگا۔ اور اللہ کے جلال کے سامنے کسی کو دم مارنے کی سکت نہ ہوگی
Read the full tafseer →3 یعنی نیکی کے بدلہ میں کمی اور بدی کے بدلہ میں زیادتی نہ ہوگی جس کا جتنا اچھا یا برا عمل ہے سب خدا کے علم میں ہے اسی کے موافق بدلہ ملے گا۔ جس کی کچھ تفصیل آگے آتی ہے۔
4 یعنی گواہ آتے ہیں ان کے الزام کو۔ ورنہ اللہ سے کیا چیز پوشیدہ ہے۔ (کذا فی الموضح)
Read the full tafseer →آیت 70 { وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَہُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ } ”اور پورا پورا دے دیا جائے گا ہر جان کو جو کچھ کہ اس نے عمل کیا ہوگا ‘ اور اللہ خوب جانتا ہے جو عمل یہ لوگ کر رہے ہیں۔“
اس موضوع سے متعلق قرآن کے مختلف مقامات پر جو اشارے ملتے ہیں ان سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میدانِ حشر اسی زمین پر ہوگا۔ اس کے لیے زمین کو کھینچ کر پھیلا دیا جائے گا ‘ جیسا کہ سورة الانشقاق کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے : { وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ }۔ پھر اسے بالکل ہموار اور چٹیل میدان کی شکل دے دی جائے گی ‘ اس طرح کہ : { لَا تَرٰی فِیْہَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا } طٰہٰ ”تم نہیں دیکھو گے اس میں کوئی…
Read the full tafseer →89 کیا قاضی اپنے ذاتی علم کی بنا پر فیصلہ دے سکتا ہے ؟:۔ اگرچہ اللہ ان کے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ پھر بھی ان پر گواہیاں قائم کی جائیں گی۔ حتیٰ کہ یا تو مجرم خود اپنے گناہ کا اقرار کرلے یا پھر اس کے خلاف گواہیوں کی بنا پر الزام پوری طرح ثابت ہوجائے اور ان کی سزا کے لئے اتمام حجت ہوجائے۔
اس آیت سے نیز اسی آیت کی تائید میں بعض احادیث سے شریعت کا ایک نہایت اہم مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ قاضی محض اپنے علم کی بنا پر کسی مقدمہ کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ فیصلہ کا انحصار گواہیوں پر ہونا ضروری ہے۔ یہی عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ اور اسی عدل و انصاف کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ گواہیاں قائم کریں گے۔…
Read the full tafseer →84۔ (اس کی عدالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی کی جزائے خیر میں کچھ بھی کمی رہی جائے) حق تعالیٰ نے علم کامل و محیط کا بار تذکرہ ان جاہلی مذاہب کی تردید میں ہے، جو خدا کے علم کو ناقص و محدود سمجھتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
آیت نمبر 64 تا 70
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے، اے جاہلو ! پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کو کہتے ہو غَیْرَ ، تامُرونی کے معمول اَعْبُدُ کے ذریعہ منصوب ہے اَنْ کی تقدیر کے ساتھ ایک نون اور دو نونوں اور ادغام اور بدون ادغام کے یقیناً تیری طرف اور ان نبیوں کی طرف جو تجھ سے پہلے گزر چکے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ واللہ، اگر بالفرض اے محمد ﷺ تو (بھی) شرک کرے گا تو بلاشبہ تیرا عمل (بھی) ضائع ہوجائے گا، اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا بلکہ تو اللہ وحدہٗ کی عبادت کر اور تیرے اوپر اس کے انعام کا شکر کرنے والوں میں سے رہ اور ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننی…
Read the full tafseer →ووفیت کل نفس ما عملت وھو اعلم بما یفعلون اور ہر شخص کو اسکے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور
وہ (ا اللہ) سب کے کاموں کو (بغیر کسی کے خبر دئیے خود ہی) خوب جانتا ہے۔ عطاء نے کہا : مراد یہ ہے کہ بندوں کے افعال کا اللہ خود عالم ہے ‘ سب اعمال کو جانتا ہے۔ اس کو نہ کسی کاتب کی ضرورت ہے ‘ نہ گواہ کی۔ یہ اعمال نامے اور گواہ تو حسب عادت کافروں کے جرائم ثابت کرنے کیلئے ہوں گے۔
آئندہ آیت میں اعمال کا پورا پورا بدلہ دینے کی تفصیل بیان فرمائی۔
Read the full tafseer →اور ایک شخص کو خواہ نیک ہو یا بد اس کے اعمال کا خواہ نیکیاں ہوں یا برائیاں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ : ہر جان کو اس کے نیک یا بد عمل کا پورا بدلا دیا جائے گا، ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب عز و جل سے جو کچھ روایت کیا اس میں یہ بھی فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَ السَّیِّءَاتِ ، ثُمَّ بَیَّنَ ذٰلِکَ فَمَنْ ہَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہُ عِنْدَہُ حَسَنَۃً کَامِلَۃً ، فَإِنْ ہُوَ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہُ عِنْدَہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلٰی سَبْعِمِاءَۃِ ضِعْفٍ إِلٰی أَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ ، وَ مَنْ ہَمَّ بِسَیِّءَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہُ عِنْدَہُ حَسَنَۃً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
69 ۔ 72:۔ واشرقت الارض بنور ربھا اس کے اشراق سے مراد اس کا روشن ہونا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : الشرقت الشمس۔ جس وقت سورج روشن ہوجائے و شرقت الشمس جب وہ طلوع ہوجائے اور بنوربھا کا معنی ہے بعدل ربھا یعنی نور کا معنی عدل ہے (2) یہ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ ضحاک نے نور معنی حکم کیا ہے ‘ معنی ایک ہی ہے یعنی زمین اللہ تعالیٰ کے عدل اور بندوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرنے کے لئے روشن ہوگی ظلم تاریکیاں ہیں اور عدل نور ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نور پیدا کرے گا جو روئے زمین پر پڑے گا تو اس کی وجہ سے زمین روشن ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہاں جس نور کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
1:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واشرقت الارض “ (اور زمین جگمگاجائے گی) یعنی روشن ہوجائے گی (آیت ) ” ووضع الکتاب “ (اور اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا) میں الکتاب سے مراد حساب ہے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واشرقت الارض بنورربھا “ یعنی وہ لوگ جس کے پورے سے کوئی تکلیف نہیں پائیں گے مگر اتنی تکلیف جیسے وہ صاف دن میں تکلیف محسوس کرتے ہیں جس میں دھواں نہ ہو (آیت) وجای ٓ ء بالنبین والشھدآء “ (اور لایا جائے گا نبیوں کو اور گواہوں کو) یہاں شہداء سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو اللہ کے راستے میں شہید کیا گیا۔
3:۔ عبد…
Read the full tafseer →وَوُفِّيَتْ [اور پورا پورا دیا جائے گا ] كُلُّ نَفْسٍ [ہر ایک جان کو ] مَّا عَمِلَتْ [وہ جو اس نے عمل کیا ] وَهُوَ اَعْلَمُ [اور وہ خوب جاننے والا ہے ] بِمَا يَفْعَلُوْنَ [اس کو جو یہ لوگ کرتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →(وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ ) (اور ہر جان کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا) (وَھُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ) (اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ لوگ کرتے ہیں) یعنی اسے سب کے اعمال معلوم ہیں وہ اپنی حکمت کے مطابق جزا و سزا دے گا، یہ جو فرمایا کہ ہر شخص کو پورا بدلہ دیا جائے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے بدلے میں کمی نہ ہوگی البتہ نیکیوں میں اضافہ کرکے ثواب میں اضافہ کردیا جائے گا جیسا کہ (مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) میں بیان فرمایا ہے اور برے اعمال کا پورا بدلہ دینے کا یہ مطلب ہے کہ جس قدر برے عمل ہوں گے ان کے بقدر عذاب دیا جائے گا اور ان کی جزائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
اعلان برأت از شرک وتنبیہ ووعید بحبط اعمال و خسران انجام برنافرمانی رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل افغیر اللہ تامرونی ...... الی ....... وھو اعلم بما یفعلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت رحمت دی گئی اور یہ کہ دلائل حق واضح ہونے پر اگر کوئی شخص قبول حق سے محض اس وجہ سے اعراض کرتا ہے کہ اس کو اپنے سابق اعمال کا ڈر ہے اور یہ تصور ہے کہ اس کی نجات ممکن نہیں تو اس کا یہ خیال غلط ہے، اس کو چاہئے کہ مایوسی کا یہ تصور قلب و دماغ سے نکال دے، اب ان آیات میں اس امر کی ہدایت کی جارہی ہے کہ ہر حق پرست اور موحد انسان کو شرک سے برأت وبیزاری کا اعلان کردینا چاہئے، تاکہ…
Read the full tafseer →68:۔ ” ووفیت الخ “ ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری پوری جزاء و سزا دی جائے گی۔ اور کسی شخص کا کوئی عمل نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے تمام اعمال کا پورا پورا علم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
(عبادت غیر اللہ کی ترغیب)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل بیان فرمائے اور مشرکین کے انجام کا ذکر کیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان نیکوکاروں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اب آج کے درس میں وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور کافروں اور مشرکوں کی حسرت اور افسوس کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ توحید کی بات بھی سمجھائی گئی ہے آج کی پہلی آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کافر اور مشرک لوگ حضور ﷺ پر طعنہ زنی کرتے ہے کہ آپ نے اپنے آباؤ واجدا کے دین کو باطل اور خود ان کو گمراہ ٹھہرایا ہے جو کہ سراسر غلط بات ہے ، پھر آپ کو سابقہ دین پر قائم رہتے ہوئے معبودان باطلہ کی پرستش کی ترغیب دیتے ، اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَہُوَاَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ 70ۧ
وُفِّيَتْ
وتَوْفِيَةُ الشیءِ : ذله وَافِياً ، واسْتِيفَاؤُهُ : تناوله وَافِياً. قال تعالی: وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] اور توفیتہ الشیئ کے معنی بلا کسی قسم کی کمی پورا پورادینے کے ہیں اور استیفاء کے معنی اپنا حق پورا لے لینے کے ۔ قرآن پا ک میں ہے : ۔ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا ۔
اسْتِيفَاؤُهُ :
تناوله وَافِياً. قال تعالی: وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] ، وقال : وَإِنَّما تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
تفسیر : آسمانوں کے لپیٹنے یعنی فنا کرنے کا ذکر آگیا تھا، اس طرح پر کہ اللہ کی قدرت کی اور اللہ ایسا جلیل و جبار ہے کہ آسمانوں و زمین دنیا کو فنا کردے گا۔ قیامت کے روز اس مناسبت سے اور حشر کی مجملہ کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال و نفح فی الصور کہ صور پھونکا جائے گا۔ صور تر ہی یا بگل کی قطع کی ایک چیز ہوگی کہ جس کو زور سے اسرافیل بجاویں گے، اس میں پھونک مار کر بعض کہتے ہیں، ان کے ساتھ جبرئیل بھی ہوں گے، جیسا کہ حدیث ابن ماجہ اور ابو دائود سے پایا جاتا ہے۔ صور کئی بار پھونکے گا یہ اول بار پھونکنے کا ذکر ہے فصعق من فی السمٰوٰت والارض الامن شاء اللہ اس کے پھونکنے سے آواز کی کڑک اور تیزی ہوگی جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِرَبِّھَا وَوُضِعَ الْـکِتٰبُ وَجِایْٓ ئَ بِالنَّبِیّٖنَ وَالشُّھَدَٓائِ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْحَقِّ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ۔ (الزمر : 69، 70)
(اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی، اور انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اور ہر متنفس کو جو کچھ اس نے کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ )
حشر قائم ہونے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کا اپنی اپنی جگہ سے نکل کر محشر کے میدان میں جمع ہونا اور عدالت کبریٰ کا قیام۔
قرآن مجید نے یہ بھی بتلایا ہے کہ پہلے نفخہ کے بعد زمین و آسمانوں کو تبدیل کردیا جائے گا۔ ( ابراہیم : 8 4) زمین اس قدر چٹیل میدان ہوگی کہ کوئی اس پر نشیب و فراز نہیں ہوگا۔ (طہٰ : 106، 107) اس کے بعد اسرا فیل کو دوسری مرتبہ صور پھونکنے کا حکم صادر ہوگا جونہی وہ صور پھونکے گا لوگ اپنے اپنے مقام سے نکل کر محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے۔ قرآن مجید اور احادیث میں اس بات کی پوری تفصیل بیان کی گئی ہے کہ لوگوں کو کس طرح میدان محشر میں اکٹھا کیا جائے گا۔ لوگ محشر کے میدان میں اکٹھے ہوجائیں گے تو…
Read the full tafseer →وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ ، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ماعملت سے جزائے عمل مراد ہے۔
وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ ، وہ سب کے کاموں کو خوب جانتا ہے۔ بغیر لکھے اور بغیر گواہ کے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت و ھم لا یظلمون کی تفسیر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگا۔ ووفیت کل نفس ما عملت من خیر و شر لا یزاد فی شر ولا ینقص من خیر کہ ہر نفس کو جو اس نے عمل کیا خواہ خیر ہے یا شر اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ نہ شر میں اضافہ ہوگا اور نہ خیر میں کمی کی جائے گی۔
Read the full tafseer →تفسیر 69۔ ، واشرقت الارض ، روشن ہوگئی۔ ، بنورربھا، اپنے خالق کے نور کے ساتھ ۔ اور یہ اس وقت ہوگا جب رب تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصہ کرنے کے لیے تجلی ڈالیں گے۔ پس وہ اس کے نور میں بالکل شک نہ کریں گے جیسے روشن دن میں سورج کی روشنی میں کوئی شک نہیں کرتے ۔ حسن اور سدی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے رب کے انصاف کے ساتھ اور زمین سے میدان قیامت مراد ہے۔ ، ووجع الکتاب، یعنی اعمال نامہ، وجای بالنبیین والشھدائ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی وہ لوگ جو رسولوں کے پیغام پہنچانے کی گواہی دیں گے اور وہ محمد ﷺ کی امت ہے۔ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں یعنی حافظ فرشتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کافرمان، وجائت کل نفس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
67۔ 70۔ ترمذی 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ایک یہودی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس بات میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان و زمین اور پہاڑوں کے سوا تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اور زمین پر ایک انگلی پر اور آسمان ایک انگلی پر اور پہاڑ ایک انگلی پر رکھے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہی آیت نازل فرمائی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح بتلایا ہے لیکن صحیح بخاری 2 ؎ اور مسلم نسائی ابن ماجہ مسند امام (2 ؎ صحیح بخاری باب ما قدروا اللہ حق قدرہ ص 711 ج 2۔ ) احمد اور خود ترمذی کی ایک روایت میں اس قصہ کے بعد…
Read the full tafseer →آیت 70
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عظمت کا خوف دلانے کے بعد، قیامت کے احوال کے ذریعے سے انہیں ڈرایا اور انہیں ترغیب و ترہیب دی، چناچہ فرمایا : (ونفخ فی الصور) ” اور صور پھونکا جائے گا۔ “ یہ بہت بڑا سینگ ہے جس کی عظمت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا یا صرف اس شخص کو علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مطلع کردیا ہو، اس صور میں اسرافیل جو اللہ تعالیٰ نے مطلع کردیا ہو، اس صور میں اسرافیل جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کا عرش اٹھانے والے فرشتوں میں ہیں۔ پھونک ماریں گے۔ (فصعق) تو بےہوش ہوجائیں گے یا مرجائیں گے۔ اس بارے میں یہ دونوں قول منقول ہیں۔ (من فی السموت ومن فی الارض) ” جو بھی آسمانوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →125 اعمال کا پورا بدلہ صرف قیامت کے روز : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ماضی کے صیغے کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر کسی کو اس کے ۔ زندگی بھر کے ۔ کیے کرائے کا "۔ سو اعمال کا کچھ بدلہ مختلف شکلوں میں اگرچہ اس دنیا میں بھی بعض اوقات مل جاتا ہے مگر پورا اور کامل بدلہ بہرحال آخرت ہی میں دیا جائے گا کہ دنیا کے ظرف میں اتنی گنجائش ہی نہیں کہ کسی کو اس کے عمل کا پورا بدلہ اس میں دیا جاسکے۔ اور دنیا اس کا محل بھی نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا " دارالعمل " ہے نہ کہ "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
مشرک اللہ کی قدر نہیں پہچانتے
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی مذمت کے بعد مشرکین کے مرض کا سبب بتا رہے ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کی شان باالکل نہیں پہچانی۔ اگر یہ اللہ کے قدر شناس ہوتے تو کبھی اس کے ساتھ شرک نہ کرتے۔ حالانکہ ارض وسماء کی تخلیق اسی نے کی اور تباہی بھی اسی کی طرف سے ہوگی، جس وقت صور پھونکا جائے گا تو سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے اور پھر جب دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ زمین اللہ کے نور سے چمک اٹھے گی، دفتر کھولا جائے گا، نبیوں اور دیگر گواہوں کی طلبی ہوگی اور لوگوں کے درمیان بالکل انصاف کیساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 64 تا 70:
آپ فرم ادیجیے کہ میری بات سمجھنے اور اس پر غور کرنے یا قبول کرنے کی بجائے تم مجھ سے امید کر رہے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی غیر اللہ کی عبادت کرنے لگوں اب اس سے بڑی جہالت کیا ہوگی کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اللہ نے وحی سے سرفراز فرمایا اور سب انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے رک جانے کا پیغام دینے کا حکم ہوا کہ اگر کوئی اللہ کا شریک بنانے سے باز نہ آیا تو جو دوسرے بھلے کام بھی کرے گا وہ بھی ضائع ہوجائیں گے اور وہ بہت زیادہ نقصان میں رہے گا بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے کہ یہی طریق شکر ہے لہذا شکر کرنے والے میں شامل ہوا جائے۔ انہیں عظمت الہی کا شعور ہی…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی دنیا میں لوگ جو عمل کر رہے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ اسے کسی لکھنے والے یا حساب رکھنے والے یا گواہی پیش کرنے والے کی ضرورت نہیں لیکن اعمال نامہ اس لئے رکھا جائے گا اور پیغمبروں ﷺ اور گواہوں کو اس لئے لایا جائے گا کہ لوگوں پر حجت تمام ہو۔
Read the full tafseer →(39:70) وقیت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب توفیۃ (تفعیل) مصدر۔ پورا پورا دیا جائے گا۔ (ماضی بمعنی مستقبل)
الوافی مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے اوفیت الکیل والوزن۔ میں نے باپ یا تولکو پورا پورا دیا۔ یا جیسے قرآن مجید میں ہے واوفوا الکیل اذا کلتم (17:35) اور جب (کوئی چیز) ماپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھر کر دو ۔
وھو اعلم : میں ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 70 :۔ تامرونی ( تم مجھے حکم دیتے ہو ، سکھاتے ہو) ما قدروا ( انہوں نے قدر نہ کی) مطویت (لپیٹ دی گئی) نفخ ( پھونک ماری گئی) صعق ( وہ گر پڑا) اشرقت ( روشن ہوگئی ، جگمگا اٹھی) وقیت ( پورا دیا گیا)
تشریح : آیت نمبر 64 تا 70 :۔ کفار قریش نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کے مذہب پر واپس آجائیں ، کبھی کہتے تھے کہ آپ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیجئے کہ جس سے ہمارے یہ اختلافات دور جائیں ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے اور ایک سال ہم آپ کے مبعود کی عبادت و بندگی کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جاہل ، ناواقف اور بےعلم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
حاکمیت اور اعلی قیامت کا منظر۔
(ف 1) ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ایک عالم علماء یہود میں سے نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد ﷺ ہماری کتاب میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر، اور زمین کو ایک انگلی اور درختوں پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور باقی تمام خلقت کو ایک انگلی پر رکھے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ مشرکین نے اس کی عظمت و جلال اور بزرگی و برتری کو وہاں تک نہ سمجھا اور ملحوظ نہ رکھا، جہاں تک ایک بندہ کو سمجھنا اور ملحوظ رکھنا چاہیے تھا اس کے بعدا للہ کی عظمت و جلال کا بیان ہیی اس کی عظمت وشان کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن کل زمین اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
[37] صور کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طہٰ حاشیہ 45 صفحہ 740۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ف 3: یعنی اس وقت جب سب حضرات اللہ کے حضور میں پیش ہوں گے ۔ دنیا اس کے نور سے چمک اٹھے گی ۔
1: قیامت کے دن صحائف اعمال کو پیش کیا جائیگا ۔ اور ایک ایک سے اس کے اعمال کے متعلق پوچھا جائیگا ۔ اور گو ان کے اعمال کے موافق انکو جزا اور سزا دی جائیں گی ۔ اور کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا یہ آیت جہاں تک سیاق وسباق کا تعلق ہے ۔ یکسر عرصہ محشر کی کیفیت احتساب سے لعلق رکھتی ہے ۔ اس سے نبوت جدیدہ پر استدلال کرنا ۔ قرآن کے بیان سے اعراض کرنا ہے اور معاذ اللہ یہ کہنا ہے کہ قرآن کی دو آیتوں میں بھی باہمی ربط نہیں ہے ۔
حل لغات :۔ قبضتہ اور بیمینہ کے الفاظ محض تمثیل کے لئے ہیں ۔ ورنہ اس کی ذات اعضاوجوارح…
Read the full tafseer →(70) اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے کئے ہوئے کاموں کا پورا پورا بدلے ملے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے ان کاموں کو خوب جانتا ہے جو وہ کرتے رہتے ہیں۔ یعنی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی آگے فیصلے کے بعد نتائج مذکور ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی گواہ آتے ہیں ان کے الزام کو نہیں تو اللہ پر کیا چھپا ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ اعمال نیک میں بدلہ کے پورا ہونے سے مقصود نفی کمی کی ہے، اور اعمال بد میں بدلہ کے پورا ہونے سے مقصود زیادتی کی نفی ہے۔
Read the full tafseer →ہر جان کو جو اس نے کیا ہے اس کا پورا پورا صلہ دیا جائے گا
70۔ پورا پورا ادا کردینے میں یہ تو لازم وضروری ہے کہ جو کسی کا حق بنتا ہے اس سے ایک ذرہ برابر بھی اس کو کم نہ دیا جائے لیکن اگر اس کو اس کے حق سے زیادہ دے دیا جائے تو یہ پورا پورا ادا کردینے کے منافی نہیں ہے۔ یہ اس لیے عرض کرنا پڑا کہ کوئی سرسڑا یہ اعتراض نہ کر دے کہ ایک نیکی کا عوض دس گنا تو اکم ازکم ہے اور زیادہ کی حد مقرر نہیں تو پھر وہ پورا پورا کیسے ہوا وہ تو بہت زیادہ ہوا لیکن چونکہ وہ کم نہ ہوا اس لیے ظلم نہ ہوا۔ خیال رہے کہ زیادہ دینے اور زیادہ لینے میں بہت بڑا فرق ہے اور حق سے زیادہ لینا ظلم ہے اور کسی کو حق سے زیادہ ادا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
In verse 69, it was said: وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ (and the prophets and the witnesses will be brought,) It means that, at the time of reckoning on the plains of Resurrection, present there will be all prophets as well as all other witnesses. The prophets themselves will also be among the witnesses as said in the Qur'an: جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ (We shall bring a witness from every community - An-Nisa', 4:41). And angels too will be among the witnesses, as in the Qur'an: مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ (with each someone [ meaning an angel ] to drive and someone [ meaning…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
80 "The witnesses" : those who will bear witness to the effect that the Message of Allah had been conveyed to the people as well as those who will bear witness to the acts and deeds of the people. It is not necessary that these witnesses will be only human beings. The angels, the jinns, the beasts, men's own limbs, their dwelling places and the trees and stones, will all be included among the witnesses.
Read the full tafseer →