As-Saaffaat 37:9

As-Saaffaat · from ayah 9

37:9

دُحُوْرًا وَّلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ ۟ۙدُحُوۡرًا ۖ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ

(یعنی وہاں سے) نکال دینے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Repelled; and for them is a constant punishment,

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:9

(یعنی وہاں سے) نکال دینے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہیں دھکے دیے جاتے ہیں اور ان کو (آخرت میں) دائمی عذاب ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انہیں بھگانے کو اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُن کو بھگانے کے لئے اور اُن کے لئے دائمی عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بھگانے کے لیے اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ وہ بھاگ کھڑے ہوں اور ان کے لئے پیہم عذاب ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

، کھدیڑ کے لئے اور ان کے لئے ایک دائمی عذاب ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بھگانے کے لئے اور ان کے لئے ایک دائمی عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان کے لئے عذاب دائمی ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بھگانے کے لیے اور ان کے لیے (پھر) ایک دائمی عذاب ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ وہ بھاگ کھڑے ہوں اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and are repelled. Theirs is an unceasing chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

to be driven off, and for them there is a lasting punishment;

— Muhammad Taqi Usmani

to be driven off, and for them there is a lasting punishment;

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Outcast, and theirs is a constant torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Outcast, and theirs is a perpetual torment;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Repelled; and for them is a constant punishment,

— Saheeh International

and driven away to suffer the necessary torment.

— Muhammad Sarwar

Being driven off, and for them is a perpetual chastisement,

— Muhammad Habib Shakir

With a driving fusillade, and theirs shall be a torment perpetual;

— Abdul Majid Daryabadi

Repulsed, for they are under a perpetual penalty,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–10

شیاطین اور کاہن۔ آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ اس کے ستاروں کی، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ۔ اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–9

سورة الصّٰٓفّٰت 6 یعنی عالم بالا محض خلا ہی نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے اس میں نفوذ کر جائے، بلکہ اس کی بندش ایسی مضبوط ہے، اور اس کے مختلف خطے ایسی مستحکم سرحدوں سے محصور کیے گئے ہیں کہ کسی شیطان سرکش کا ان حدوں سے گزر جانا ممکن نہیں ہے۔ کائنات کے ہر تارے اور ہر سیارے کا اپنا ایک دائرہ اور کرہ (Sphere) ہے جس کے اندر سے کسی کا نکلنا بھی سخت دشوار ہے اور جس میں باہر سے کسی کا داخل ہونا بھی آسان نہیں ہے۔ ظاہری آنکھ سے کوئی دیکھے تو خلائے محض کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ لیکن حقیقت میں اس خلا کے اندر بےحد و حساب خطے ایسی مضبوط سرحدوں سے محفوظ کیے گئے ہیں جن کے مقابلے میں آہنی دیواروں کی کوئی حقیقت نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–10

(آیت) وحفظا من کل شیطن مارد (الی قولہ تعالیٰ) فاتبعہ شھاب ثاقب، ان آیات میں زینت و آرائش کے علاوہ ستاروں کا ایک فائدہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ شریر قسم کے شیاطین کو عالم بالا کی باتیں سننے سے روکا جاتا ہے۔ وہ غیبی خبروں کی سن گن لینے کے لئے آسمان کے قریب جاتے ہیں، لیکن انہیں فرشتوں کی باتیں سننے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ کوئی شیطان اگر کوئی آدھی تہائی بات سن بھاگتا ہے تو اسے ایک دہکتے ہوئے شعلہ کے ذریعے مار لگائی جاتی ہے، تاکہ وہ دنیا میں پہنچ کر اپنے معتقد کاہنوں اور نجومیوں کو کچھ بتا نہ سکے، اسی دہکتے ہوئے شعلے کو ”شہاب ثاقب“ کہا گیا ہے۔ ”شہاب ثاقب“ کی کچھ تفصیل سورة حجر میں گزر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–9

لا یسمعون الی الملا الاعلی ویقذفون من کل جانب۔ وحرورا ولھم عذاب واصب (8۔ 9) ’ لا یسمعون یہ نفی فعل، نفی فائدہ فعل کے پہلو سے ہے۔ یعنی شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کی کوشش کرتے تو ہیں لیکن وہ کان لگانے پاتے نہیں۔ جب وہ یہ کرنا چاہتے ہیں تو ہر جانب سے ان پر سنگ باری ہوتی ہے۔ ’ دحور ‘ کے معنی دھتکارنے اور کھدیڑ کے ہیں اور ’ واصب ‘ کے معنی دائم کے۔ یعنی اس دنیا میں تو وہ اس طرح ملعون و مرجوم رہیں گے اور آخرت میں ان کے لئے ایک دائمی عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–11

11۔ 1 یعنی ہم نے جو زمین ملائکہ اور آسمان جیسی چیزیں بنائی ہیں جو اپنے حجم اور وسعت کے لحاظ سے نہایت انوکھی ہیں۔ کیا ان لوگوں کی پیدائش اور دوبارہ زندہ کرنا، ان چیزوں کی تخلیق سے زیادہ سخت اور مشکل ہے ؟ یقینا نہیں۔ 11۔ 2 یعنی ان کے باپ آدم ؑ کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ انسان آخرت کی زندگی کو اتنا بعید کیوں سمجھتے ہیں درآں حالیکہ ان کی پیدائش ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور چیز سے ہوئی ہے۔ جبکہ خلقت میں ان سے زیادہ قوی، عظیم اور کامل و اتم چیزوں کی پیدائش کا ان کو انکار نہیں۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–9

4: اس سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوسکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغولیت بھی، بہرحال ! یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان میں بندگی کی تمام صورتیں جمع ہیں، یعنی صف باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، طاغوتی طاقتوں پر روک ٹوک رکھنا، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت اور ذکر کی مشغول رہنا۔ ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور اس کا نہ کوئی شریک ہے، اور نہ اسے اولاد کی حاجت ہے۔ فرشتوں کے ان اوصاف کی قسم کھا کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر فرشتوں کے ان حالات پر غور کرو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ باپ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–10

وحفظا من ۔۔۔۔ شھاب ثاقب (37: 7 – 10) اور ہر سرکش شیطان سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے۔ ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے۔ تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے آرے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ بعض سیارے ایسے ہوتے ہیں جو عالم بالا کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ یہ عالم بالا میں جو فیصلے اس عالم کے بارے میں ہوتے ہیں ، شیاطین کو ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے روکتے رہیں۔ جب بھی کوئی شیطان عالم بالا سے کوئی راز چرانے کی سعی کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اور ان کو مار کا ہانک دیتے ہیں۔ ایسے شیاطین…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9{ دُحُوْرًا وَّلَہُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ۔ ”بھگانے کے لیے ‘ اور ان کے لیے پھر ایک دائمی عذاب ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 8–9

5 دور نبوی میں کہانت کا چرچا :۔ دور نبوی میں عرب میں کہانت کا بڑا چرچا تھا اور کاہنوں کو معاشرہ میں ایک معزز مقام حاصل تھا۔ ان کے متعلق مشہور یہ تھا کہ جن اور شیطان کاہنوں کے قبضہ میں ہوتے ہیں جو انہیں غیب کی خبریں مہیا کرتے ہیں۔ اچھے بھلے لوگ ان کے ہاں آتے اور ان کی خدمات حاصل کرتے تھے حتیٰ کہ بعض دفعہ اپنے مقدمات کے فیصلے کے لئے ان کے ہاں آتے تھے۔ ایسے ہی ایک کاہن کا واقعہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ قرآن جب نازل ہوا تو اس میں کچھ سابقہ انبیاء و اقوام کے حالات تھے اور کچھ آئندہ کی خبریں بھی تھیں۔ پھر آپ نے لوگوں کو یہ بھی بتایا تھا کہ آپ کے پاس فرشتہ آتا ہے جو آپ پر یہ کلام نازل کرتا ہے۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (آخرت میں) یعنی رجم واستراق تو اسی دنیا کی سزائیں تھیں، باقی آخرت کی دائمی سزا اس کے علاوہ ہے۔ اور یہ عذاب دائمی شیطانوں پر ان کے کفر کی بناء پر مرتب ہوگا۔ (آیت) ” یقذفون ...... دحورا “۔ یعنی جو شیطان جدھر سے بھی جانے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرف سے مرجوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(8۔ 10) وہ شیاطین ان محافظ فرشتوں کی باتوں کی طرف کان بھی نہیں لگا سکتے اور اگر وہ اس چیز کی کوشش بھی کرتے ہیں تو ہر طرف سے مار کر دھکے دے دیے جاتے ہیں۔ اور یہ ستاروں کی مار کا یا یہ کہ جہنم کا ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہوگا۔ مگر جو شیطان کچھ خبر سن کرلے ہی بھاگے اور فرشتوں کی گفتگو سے کچھ اچک ہی لے تو ایک دھکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے ہولیتا ہے جو اس کو جلا کر ختم کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

دُحُوْرًا وَّلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ:”دَحَرَ یَدْحَرُ دَحْرًا وَ دُحُوْرًا“ (ف) بھگانا، دفع کرنا۔ ”وَّاصِبٌ“ ”وَصَبَ یَصِبُ وُصُوْبًا“ (ض) دائمی ہونا۔ یعنی ان کے لیے دائمی عذاب ہے، کیونکہ دنیا میں بھگانے کے لیے ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–10

قتادہ نے کہا : ستارے تین مقاصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں (1) شیاطین کو رجم کرنے کے لئے ‘ ایسے نور کے لئے جس کیساتھ راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور آسمان دنیا کی زینت کے لئے۔ مسروق ‘ اعمش ‘ نحفی ‘ عاصم اور حمزہ نے بزیۃ پڑھا ہے یعنی مجرور اور منون اور لکواکب کو زینۃ سے بدل کے طور پر مجرور پڑھا ہے کیونکہ کواکب ہی زینت ہیں۔ ابوبکر نے اسی طرح پڑھا ہے مگر الکواکب کو زینۃ مصدر کی وجہ سے نصب دی ہے اس کا معنی ہے ہم نے آسمانوں سے ستاروں کو مزین کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ زینۃ سے بدل ہے۔ یہ بھی جائزہ ہے کہ اسے زینۃ الکواکب پڑھا جائے معنی ہوگا اس کی زینت ستارے ہیں یا معنی ہو یہی کواکب ہیں۔ باقی قراء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–9

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آپ (آیت) ” بزینۃ الکواکب “ کو تنوین کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابوبکر بن عیاش (رح) سے روایت کیا کہ عاصم (رح) نے فرمایا جس نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” بزینۃ الکواکب “ کو مضاعف پڑھا اور ” بزینۃ “ پر تنوین نہ لگائی۔ تو اس نے اس کو آسمان کی زینت نہ بنایا بلکہ اس نے ستاروں کی زینت بنادیا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفظا “ کہ ہم نے اس کو حفاظت کے لئے بنادیا (آیت) ” من کل شیطن مارد (7) لایسمعون الی الملا الاعلی “ (ہر شریر شیطان سے اور وہ شیطان عالم بالا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

دُحُوْرًا [کھدیرنے کے لئے ] وَّلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ [اور ان کے لئے ایک دائمی عذاب ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–9

ستارے آسمان دنیا کے لیے زینت ہیں اور شیاطین سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہیں رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین نے ایک دھندہ بنا رکھا تھا اوپر جاتے تھے باتیں سنتے تھے اور باتیں لاکر کاہنوں میں ڈالتے تھے وہ اس میں سو جھوٹ ملا کر آگے بڑھاتے تھے، اوپر سے سنی ہوئی سچی بات نکل جاتی تھی تو لوگ کاہنوں کے معتقد ہوجاتے تھے کہ دیکھو یہ غیب کی باتیں بتاتے ہیں، جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو وہاں پہرہ لگ گیا، اب شیاطین اوپر جاتے ہیں تو مار کھاتے ہیں۔ اسی کو فرمایا (اَ یَسَّمَّعُوْنَ اِِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی) (اور وہ ملاء اعلیٰ کی بات نہیں سن سکتے) (وَیُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ دُحُوْرًا) (اور وہ مارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

اثبات توحید اور منکرین حشر کی تردید اور تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ والصفت صفا۔۔۔ الی۔۔۔ فاتبعہ شھاب ثاقب۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو بارگاہ الوہیت اور مقام عبودیت میں اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اور اس کھڑے ہونے میں آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں جیسے دنیا میں اہل دنیا عبادت میں خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آگے آنے والا ہے وانا لنحن الصافون۔ پس جس طرح ہم صف باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتے قطار باندھ کر اللہ کا حکم سننے کے انتظار میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–11

5:۔ فاستفتہم الخ :۔ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے جو توحید کے ساتھ ساتھ حشر و نشر کا بھی انکار کرتے تھے۔ فرمایا ان سے پوچھو تو کہ ان کی پیدائش مشکل ہے یا ان کے علاوہ دوسری مخلوقات کی۔ مثلاً فرشتے، آسمان، زمین، ستارے وغیرہ۔ انا خلقنہم من طین لازب۔ ان کو تو ہم چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے اور ان کی پیدائش فرشتوں اور زمین و آسمان کی پیدائش کے مقابلے میں بہت معمولی بات ہے تو جو ذات پاک ایسی اہم اور غیر معمولی مخلوقات کو پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ ومن قدر علی خلق ھذہ الاشیاء قدر علی خلق مالا یعتد بہ بالاضافۃ الیہا (بیضاوی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصفت ہے جو کہ اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی دور میں سورة انعام کے بعد نازل ہوئی۔ یہ مکی زندگی کا درمیانی عرصہ ہے۔ اس سورة کی ایک سو بیاسی آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة آٹھ سو ساٹھ الفاظ اور تین ہزار آٹھ سو انتیس حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی ذکر ہے ، تاہم توحید کا بیان سب سے زیادہ ہے۔ اس سورة میں بعض ایسے دلائل قدرت بیان کیے گئے ہیں ، جو دلائل توحید اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

دُحُوْرًا وَّلَہُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ۝ 9ۙ دحر الدَّحْر : الطّرد والإبعاد، يقال : دَحَرَهُ دُحُوراً ، قال تعالی: اخْرُجْ مِنْها مَذْؤُماً مَدْحُوراً [ الأعراف/ 18] ، وقال : فَتُلْقى فِي جَهَنَّمَ مَلُوماً مَدْحُوراً [ الإسراء/ 39] ، وقال : وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جانِبٍ دُحُوراً [ الصافات/ 8- 9] . ( د ح ر ) الدحر والداحور ۔ ( ن) کے معنی دھتکار دینے اور دور کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ اخْرُجْ مِنْها مَذْؤُماً مَدْحُوراً [ الأعراف/ 18] نکل جا یہاں سے ذلیل دھتکارا ہوا ۔ فَتُلْقى فِي جَهَنَّمَ مَلُوماً مَدْحُوراً [ الإسراء/ 39] ملامت زدہ اور درگاہ خدا سے راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–10

لاَ یَسَّمَّعُوْنَ اِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی وَیُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ ۔ دُحُوْرًا وَّ لَھُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ۔ اِلاَّ مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ ثَاقِبٌ۔ (الصآفات : 8 تا 10) (وہ ملاِاعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے دھتکارے جاتے ہیں۔ کھدیڑنے کے لیے اور ان کے لیے ایک دائمی عذاب ہے۔ مگر یہ کہ کوئی اچک لے کوئی بات تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ ) جنات کی بےبسی اور اہل عرب کے مشرکانہ خیالات کی تردید اہلِ عرب میں جس طرح فرشتوں کے بارے میں مشرکانہ خیالات پائے جاتے تھے اسی طرح وہ جنات کے بارے میں بھی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انھیں آسمان پر جانے، فرشتوں کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–10

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے آسمانوں کو بنایا ہے اسی نے پہلے آسمان کو ستاروں سے روشن فرمایا ہے اور اس کی حفاظت کا بندوبست بھی کیا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے کہ آسمان دنیا یعنی پہلا آسمان جو لوگوں کو نظر آتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ستاروں سے مزّین فرمایا ہے۔ ستاروں کے دو فائدے اور بھی ذکر فرمائے ہیں۔ ان سے لوگ راستوں کی راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور انہی ستاروں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندو بست کیا گیا ہے۔ کیونکہ شیاطین آسمان دنیا کے دروازوں کے قریب جا کر ملائکہ کی گفتگو سننا چاہتے ہیں تو ستارے شیاطین پر انگارے بن کر بر ستے ہیں اس طرح شیاطین پر مستقل طور پر عذاب مسلّط…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دُنیا میں شہاب سے آخرت میں عذاب سے : 9: دُحُوْرًا : یہ مفعول لہ ہے۔ ای یقذفون للدحور (دھتکارنے کیلئے) ان پر شہاب پھینکے جاتے یا یہ حال ہے۔ اس حال میں کہ وہ دھکتارے ہوئے ہیں۔ یا یہ مفعول مطلق معناً مان لیں۔ کیونکہ قذف وطرد قریب المعنی ہیں۔ گویا اس طرح کہا گیا یدحرون دحورًا۔ یا یقذفون قذفا وَّلَہُمْ عَذَابٌ وَّ اصِبٌ (اور ان کے لئے دائمی عذاب ہوگا) واصبؔ دائم کے معنی میں ہے یہ وصوب سے بنا ہے کہ یہ دنیا میں شہابوں سے سنگ سار کیے جاتے ہیں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عذاب دائمی کی خاص قسم تیار کر رکھی ہے جو ان سے منقطع نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9، دحورا، وہ فرشتوں کی جماعت سے بہت دورہوتے ہیں ۔ کہاجاتا ہے، دحرہ دحراو دحورا، جب اس کو دھتکا را اور دور کیا جائے۔ ، ولھم عذاب واصب ، اس کا معنی ہے ہمیشہ رہنے والا عذاب ۔ مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد دنیاوی عذاب ہے جو نفخہ اولی تک قائم رہے گا اور شعلے کی آگ میں جلتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–10

6۔ 10۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی ہے کہ اس نے آسمان میں تارے پیدا کرکے آسمان کی رونق بڑھائی پھر فرمایا چوری سے شیاطین آسمان پر کی کچھ باتیں سننے کو جو آجاتے ہیں۔ تو ان ہی تاروں میں سے آگ کے شعلے لے کر اللہ کے فرشتے ان شیاطینوں پر آگ کے انگارے برساتے ہیں تاکہ وہ شیاطین آسمان پر کی باتیں نہ سننے پاویں۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ ایک دن رسول ﷺ کے روبرو کاہن لوگوں کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ کاہن لوگ جھوٹے ہیں بعضے صحابہ نے عرض کیا کہ کاہنوں کی بعضی بعضی بات تو سچ نکلتی ہے آپ نے فرمایا کہ کبھی شیطان آسمان کی باتوں میں سے کوئی بات جو چرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

7 شیطانوں کے لیے دائمی عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ دنیا میں یہ اس طرح ملعون و مطرود رہیں گے اور آخرت میں ان کیلئے دائمی عذاب ہے۔ ان کے ضلال واضلال اور کفر و باطل پر اصرار کی بنا پر جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاب السَّعِیْرِ } ۔ سو شیاطین ملائِ اعلیٰ کی باتیں سننے کیلئے کوشش تو کرتے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرپاتے۔ جونہی وہ کان لگاتے ہیں ان پر شعلہ باری کی جاتی ہے۔ انکو مارا، کھدیڑا اور دھتکار دیا جاتا ہے۔ " دحوراً " کے معنیٰ دھتکارنے او کھدیڑنے کے آتے ہیں اور " واصب " کے معنیٰ " دائم " کے آتے ہیں۔ یعنی دنیا میں یہ اس طرح ملعون…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فرشتوں کی قسمیں اور شیاطین کے لیے عذاب تشریح : یہ آیات بھی ایمان کی بنیادی باتوں پر منحصر ہیں۔ یعنی توحید، رسالت اور آخرت۔ انسانی زندگی کا پورا انحصار ہی ان عقائد پر ہے اس لیے بار بار اور مختلف دلیلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی دنیوی زندگیاں سنوار کر آخرت میں جنت میں جاسکیں۔ یہاں اسی بات پر زور دینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان تین چیزوں کی قسم کھاتا ہے۔ کیونکہ عام زندگی میں انسان کسی بات میں، وزن اور یقین پیدا کرنے کے لیے قسم کھاتا ہے۔ تو بندوں کو سمجھانے کے لیے بندوں کے طریقے کے مطابق اللہ تین چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بیشک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–10

ف 3 چناچہ کبھی تو وہ انگارہ نیچے کے شیطان تک اس بات کو پہنچانے سے پہلے ہی لگ کر اسے ہلاک کر ڈالتا ہے اور کبھی پہنچانے کے بعد پھر جب کلمہ کاہن تک پہنچ جاتا ہے تو کاہن اس میں سو طرح کے جھوٹ ملا کر لوگوں کے درمیان پھیلا دیتا ہے۔ ( کما ورد فی الحدیث) یہ بحث حکما اور علماء کے مابین مختلف فیہ چلی آئی ہے کہ آیا یہی تارے شہاب ثاقب کا بھی کام دیتے ہیں یا وہ شہاب ان کے علاوہ ہیں یا ان تاروں کی گرمی سے آگ پیدا ہو کر ہی انگارہ بن جاتا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” انہی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے جیسے سورج اور آتشی شیشے سے ( حجر : 16، 18)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:9) دحورا۔ دحر یدحر (فتح) کا مصدر ہے ، بھگانا۔ ہانکنا۔ دھتکارنا۔ یقذفون کا مفعول لہ ہے وقذف کی علت، ای یقذفون للدحور۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ اخرج منھا مذء وما مدحورا (7:18) نکل جا یہاں سے ذلیل اور دھتکارا ہوا۔ عذاب واصب۔ موصوف وصفت واصب اسم فاعل واحد مذکر وصب یصب (ضرب) وصوبا مصدر سے جس کے معنی ہیں دائم رہنا۔ یعنی ہمیشہ رہنے والا۔ عذاب، دائمی عذاب۔ اسی مادہ سے وصب یوصب وصبا (سمع ) بمعنی بیمارہونا ہے۔ فائدہ : آیات 8 ۔ 9 ۔ میں لا یسمعون۔ یقذفون اور ولہم میں ضمیر جمع مذکر غائب کل شیطان (بمعنی الشطین) آیت 7) کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 10 : الزجرت (ڈانٹنے والے ، بندش ڈالنے والے) تلیث ( پڑھنے والے) الکواکب (ستارے) مارد (سرکش ، ضدی) لا یسمعون (کان نہیں لگا سکتے) الملاء الاعلیٰ (سب سے اونچی مجلس) یقذفون (مارتے ہیں) دحور (بھگانا) واصب (ہمیشہ ، دائمی) خطف (چرا کرلے بھاگا) اتبع (اس کے پیچھے لگ گیا) ثاقب (دہکنے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 :۔ سورة الصفت کی ابتداء دو باتوں کی تردید سے کی گئی ہے پہلی تردید تو یہ ہے کہ کفار و مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں دوسرے یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرنے شروع کئے تو عام رواج کے مطابق آپ کو کاہن کہا جانے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–10

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی کہ اس نے آسمان میں ستارے پیدا کرکے آسمان کو زینت سے آراستہ کیا ہے پھر فرمایا کہ ہر شیطان سرکش سے ہم نے آسمان کو اوپرجانے سے محفوظ رکھا ہے اب نبی ﷺ کے زمانہ میں وہ شیاطین عالم بالا کی باتوں کی طرف کان نہیں لگاسکتے اور وہ طاقت نہیں رکھتے کہ باتیں سن سکیں اور وہ ہر طرف سے در در پھٹ پھٹ کرکے نکالے جاتے ہیں اور ہرچہار طرف سے فرشتے ان پر آگ کے انگارے پھینکتے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں ہمیشگی کا عذاب ہے مگر ہاں جو کوئی شیطان فرشتوں کا ایک آدھا لفظ سن کر بھاگا تو اس کا ایک دہکتا ہواشعلہ اس کو جلانے کے لیے پیچھا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–12

سورة صفات 1: اس سے قبل بنایا جاچکا ہے ۔ کہ قرآن میں قسم سے غرض استشہاد ہے ۔ منقسم بہ کی جلالت قدر یا عظمت کا اظہار نہیں ہے ۔ چناچہ سورة صافات کی تشریح اس نظریہ کے مطابق یوں ہوگی ۔ کہ اصل دعویٰ جو قابل اثبات ہے ۔ وہ توحید ہے ۔ جیسے کہ ارشاد ہے ان الھکم واحد اور دلیل میں ان حقائق کو پیش فرمایا ہے ۔ کہ اس تعلیم کو لانے والے اطاعت شعار فرشتے ہیں ۔ جو عتبہ جلال خداوندی کے سامنے حکم کے منتظر صف باندھے کھڑے رہتے ہیں ۔ وہ اپنے مواعظ وانوار سے نفوس قدسیہ کو مجل کرتے رہتے ہیں ۔ اور ان کو معاصی سے روکتے ہیں جو ذکرو فکر کے صحائف کو پڑھتے ہیں ۔ اور اقاء والہام کی خدمات سرانجام دیتے ہیں ۔ یعنی جہاں تک اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) ہنکانے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔ یعنی اول تو شیاطین کی یہ ہمت نہیں کہ وہ ملاء اعلیٰ یعنی فرشتوں کی باتیں سننے کو اوپر جاسکیں اور اگر جاتے ہیں تو ان کو ہنکانے کی غرض سے مار کر دھکے دیئے جاتے ہیں اور ان پر شعلے پھینکے جاتے ہیں یہ سلوک تو ان کے ساتھ اس عالم میں کیا جاتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے دائمی عذاب مقرر ہے۔ غرض ! ان کو یہ موقع حاصل نہیں کہ کچھ خبریں آسمانی فرشتوں کو حاصل کرسکیں اور کاہنوں کو بتاسکیں جو لوگ شیاطین کی بندگی کرتے ہیں ان کے لئے شیاطین کی یہ بےبسی اور بےچارگی موجب عبرت اور موجب غیرت ہے ۔ غرض ! یہ ہے کہ جب یہ اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو فرشتے ان کو دھکے دے کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 4۔ غرض قبل خبر سننے ہی کے رجم کردیا جاتا ہے، اور استماع کا قصد کر کے سمع خبر میں ناکام رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کو بھگانے کے لیے اور یہ چھیڑ خانی کرنے والوں کے لئے دائمی عذاب ہے : 9۔ (دحورا) کا مادہ د ح ر ہے اور دحور کے معنی بھگانا ‘ ہانکنا ‘ دھتکارنا اور دور کرنا کے ہیں اور اس کا تعلق گزشتہ آیت میں لفظ جانب سے ہے گویا کہ ہر طرف سے ان کو بھگانے ‘ ہانکنے ‘ دھتکارنے اور دور کرنے کی کوشش کی جائے گی ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ نازک ترین مقامات ہیں جن پر ان اجرام فلکی کا آپس میں تعلق جوڑ دیا گیا ہے اور اسی تعلق کی بنا پر ان کے اندر یہ باقاعدگی قائم کی گئی ہے اگرچہ وہ ہماری دسترس سے تاحال باہر ہے اور نظروں سے تو پہلے ہی اوجھل ہے کہ اتنی دور کی چیز کو یہ آنکھ دیکھ ہی کب سکتی ہے ان آیات کریمات کے مضمون کے اندر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–10

In the last four verses, (37:7-10): وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِ‌دٍ ﴿7﴾ لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ ﴿8﴾ دُحُورً‌ا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ ﴿9﴾ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ﴿10﴾ and [ have made them ] a security against every rebellious shaitan [ shaitan ]. They cannot listen to the Upper Realm and are hit from every side, to be driven off, and for them there is a lasting punishment, (however, if one snatches a little bit, he is pursued by a bright flame - 37:10). It has been said that stars have yet…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

6 That is, "Heaven is not merely empty space so that anyone who likes may enter it, but it has been fortified strongly, and its different regions have been bounded by such strong barriers that it is impossible for any rebel satan to exceed them. Every star and planet in the universe has its own circle and sphere escaping from which is as difficult as entering it. With the naked eye one can only see empty space, but, in reality, there are countless regions in space which have been even more strongly fortified and protected than they could be by steel walls. One can imagine and estimate the…

Read the full tafseer →