As-Saaffaat 37:85

As-Saaffaat · from ayah 85

37:85

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَقَوْمِهٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ ۟ۚاِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ‌ۚ

جب انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

[And] when he said to his father and his people, "What do you worship?

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:85

جب اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا "یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کیا پوج رہے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ : تم کن چیزوں کی عبادت کرتے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا تم کیا پوجتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جبکہ انہوں نے اپنے باپ (جو حقیقت میں چچا تھا، آپ بوجہ پرورش اسے باپ کہتے تھے) اور اپنی قوم سے کہا: تم کن چیزوں کی پرستش کرتے ہو؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا : تم کن چیزوں کی عبادت کرتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب کہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھلا تم لوگ کس چیز کو پوجتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے (ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے) کہا کہ کیا ہیں یہ چیزیں جن کی پوجا تم لوگ کر رہے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

جب کہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کرتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب کہ اس نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ کن چیزوں کو پوجتے ہو !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

and said to his father and his people: “Whom do you worship?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

when he said to his father and his people, :What is that which you worship?

— Muhammad Taqi Usmani

when he said to his father and his people, :What is that which you worship?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When he said to his father and to his people: "What is it that which you worship"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When he said unto his father and his folk: What is it that ye worship?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[And] when he said to his father and his people, "What do you worship?

— Saheeh International

and asked his father and his people, "What is that you worship?

— Muhammad Sarwar

When he said to his father and his people: What is it that you worship?

— Muhammad Habib Shakir

Recall what time he said Unto his father and his people: What is it that ye worship?

— Abdul Majid Daryabadi

Behold! he said to his father and to his people, "What is that which ye worship?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:85

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–87

اب بھی سنبھل جاؤ۔ ابراہیم ؑ بھی نوح کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک وکفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کررہے ہو ؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کریگا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا ؟

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 84–86

سورة الصّٰٓفّٰت 44 رب کے حضور آنے سے مراد اس کی طرف رجوع کرنا اور سب سے منہ موڑ کر اسی کا رخ کرنا ہے۔ اور " قلب سلیم " کے معنی " صحیح سلامت دل " کے ہیں۔ یعنی ایسا دل جو تمام اعتقادی اور اخلاقی خرابیوں سے پاک ہو، جس میں کفر و شرک اور شکوک و شبہات کا شائبہ تک نہ ہو، جس میں نافرمانی اور سرکشی کا کوئی جذبہ نہ پایا جاتا ہو، جس میں کوئی ایچ پیچ اور الجھاؤ نہ ہو، جو ہر قسم کے برے میلانات اور ناپاک خواہشات سے بالکل صاف ہو، جس کے اندر کسی کے لیے بغض و حسد یا بد خواہی نہ پائی جاتی ہو، جس کی نیت میں کوئی کھوٹ نہ ہو۔ سورة الصّٰٓفّٰت 45 حضرت ابراہیم ؑ کے اس قصے کی مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 84–87

اِذْ جَاۗءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِـيْمٍ ، اس کے ٹھیٹھ لفظی معنی یہ ہیں”جبکہ وہ آئے اپنے پروردگار کے پاس صاف دل لے کر“ اور پروردگار کے پاس آنے سے مراد ہے، اللہ کی طرف رجوع کرنا، اس کی طرف متوجہ ہونا اور اس کی عبادت کرنا۔ اس کے ساتھ ”صاف دل“ کی قید لگا کر اشارہ کردیا گیا ہے کہ اللہ کی کوئی عبادت اس وقت تک قابل قبول نہیں ہے جب تک کہ عبادت کرنے والے کا دل غلط عقیدوں اور برے جذبات سے پاک نہ ہو، اگر غلط عقیدے کے ساتھ کوئی عبادت کی جائے تو خواہ عبادت گزار نے اس میں کتنی محنت اٹھائی ہو وہ قابل قبول نہیں۔ اسی طرح اگر عبادت کرنیوالے کا اصل مقصد اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے بجائے دکھلاوا ہو یا کوئی مادی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 85–86

اذ قال لائیہ وقومہ ماذا تعبدون، ائفکا الھۃ دون اللہ تریدون (86-85) یہ حضرت ابراہیم ؑ کی حنیفیت اور ان کے کمال اخلاص و توحی کے بیان کے لئے ان کی اس وحوت کا حوالہ ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو دی۔ ما ذا تعبدون کے الفاظ تحقیر پر دلیل ہیں۔ یعنی انہوں نے ان کو ملامت فرمائی کہ بھلا یہ کیا بےحقیقت چیزیں ہیں جن کو تم لوگ پوج رہے ہو ! افک کے معنی جھوٹ اور بےحقیقت بات کے ہیں۔ یعنی کیا محض جھوٹ موٹ، اپنے جی سے گھڑ کر خدا کے سوا تم دوسرے معبودوں کے طالب بنے ہو !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 84–86

86۔ 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کے کہ یہ معبود ہیں، تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو، درآں حالیکہ یہ پتھر اور مورتیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 82–88

15: حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کا پورا واقعہ سورة ہود : 36 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 85–87

اذ قال ۔۔۔۔ برب العلمین (37: 84 – 87) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو۔ کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو۔ آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے “۔ حجرت دیکھ رہے تھے کہ وہ بتوں اور آستھانوں کو پوجتے تھے۔ چناچہ وہ اپنی فطرت سلیمہ کی رد سے ان پر شدید گرفت کرتے ہیں کہ تم یہ کیا کر رہے ہو ؟ ماذا تعبدون (37: 84) ” یہ کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو “۔ یعنی یہ کیا چیزیں ہیں ؟ یہ تو اس قابل ہرگز نہیں کہ ان کی بندگی کی جائے یا کوئی ان کا بندہ ہو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ انسان ان کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 85–86

6 یعنی یہ آخر پتھر کی مورتیاں چیز کیا ہیں جنہیں تم اس قدر چاہتے ہو کہ اللہ کو چھوڑ کر ان کے پیچھے ہو لیے۔ کیا سچ مچ ان کے ہاتھ میں جہان کی حکومت ہے ؟ یا کسی چھوٹے بڑے نقصان کے مالک ہیں ؟ آخر سچے مالک کو چھوڑ کر ان جھوٹے حاکموں کی اتنی خوشامد اور حمایت کیوں ہے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 85{ اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ } ”جب کہ اس نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ کن چیزوں کو پوجتے ہو !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 84–86

48 یعنی اپنے معاشرہ، اپنے ماحول، اپنے گھر والوں سب قسم کے لوگوں کے عقائد و رسومات سے بالکل خالی الذہن ہو کر اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے حوالے کردیا کہ جو کچھ تیری طرف سے ہدایت یا حکم ملے میں اسے بلاچوں و چرا تسلیم کروں گا اور سر تسلیم خم کر دوں گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 85–87

40۔ (جو سورج اور چاند اور تمہارے سارے بڑے بڑے دیوتاؤں کا خالق ہے) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اب توحید کی تبلیغ شروع کرتے ہیں۔ (آیت) ” لابیہ “۔ آپ کے والد کا نام آزر تھا۔ ان کی بت پرستی وبت تراشی پر حاشیے پہلے گزر چکے۔ (آیت) ” وقومہ “۔ آپ کی یہ قوم بابل کلدانیہ میں سکونت گزیں، ستارہ پرستی اور بت پرستی کے دہرے دہرے شرک میں مبتلا تھی، ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذ قال لابیہ وقومہ ماذا تعبدون جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا : تم کس (واہیات) چیز کو پوجتے ہو ؟ یہ استفہام توبیخی ہے (یعنی سوال حصول کیلئے نہیں ہے ‘ بلکہ پتھروں کی پوجا پر زجر کرنے کیلئے ہے۔ مترجم)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 84–87

(84۔ 87) جبکہ ابراہیم اپنے پروردگار کی اطاعت کی طرف سچے دل سے متوجہ ہوئے جبکہ انہوں نے اپنے باپ آزر اور اپنی بت پرست قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کے علاوہ کس بیہودہ چیز کی عبادت کیا کرتے ہو قوم کہنے لگی بتوں کی طرف حضرت ابراہیم نے فرمایا کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کی عبادت کرنا چاہتے ہو۔ سو تمہارا رب العالمین کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جب تم اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کرو گے تو وہ تمہیں کیا بدلہ دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ : ابراہیم ؑ کا یہ سوال پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ان کی عبادت کے انکار کے لیے تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 83–90

83 ۔ 90:۔ حضرت ابن عباس رضی للہ عنہما نے کہا : من شیعتہ سے مراد ہے ان کے دین والے (1) مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے طریقہ اور سنت پر ہیں (2) ۔ اصمعی نے کہا : شیعہ سے مراد حمایتی و مددگار ہیں (3) ۔ یہ شیاع سے ماخوذ ہے اس سے مراد وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں جو بڑی کے ساتھ جلائی جاتی ہیں تاکہ آگ روشن ہو۔ کلبی اور فراء نے کہا : معنی ہے حضرت محمد ﷺ کے اعوان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں (4) ۔ شیعتہ میں ضمیر سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ پہلی تعبیر کی صورت میں ضمیر سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں یہ تعبیر زیادہ نمایاں ہے کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہی پہلے ذکر ہے۔ حضرت نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِذْ قَالَ [جب انھوں نے کہا ] لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ [اپنے والد اور اپنی قوم سے ] مَاذَا تَعْبُدُوْنَ [تم لوگ کس کی بندگی کرتے ہو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–98

(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 84–85

37:۔ اذ قال الخ : یہ پہلے اذ سے بدل ہے۔ اور یہ ان کے دل کی سلامتی کا بیان ہے کہ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو شرک کرتے دیکھا تو فورًا اس پر انکار کیا۔ اور فرمایا سوچو تو سہی تم اللہ کے سوا کس کی عبادت کرتے اور کس کو پکارتے ہو ؟ کیا وہ عبادت اور پکارے جانے کے لائق ہیں ؟ افک، بدترین جھوٹ۔ والفک، اسوا الکذب (جلالین) ۔ الھۃ، افکا سے بدل الکل ہے۔ کیا تم باطل یعنی معبودان غیر اللہ کے خواہشمند اور طلبگار ہو ؟ پھر اس رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو حقیقت میں عبادت کا مستحق ہے ؟ کیا اس کی قدرت و عظمت میں اور اس کی ربوبیت عامہ میں تم کسی شک و شبہ میں پڑگئے ہو کہ اس کے سوا اس کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ قَالَ لِاَبِيْہِ وَقَوْمِہٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ۝ 85ۚ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 85–86

اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ ۔ اَئِفْکًا اٰلِھَۃً دُوْنَ اللّٰہِ تُرِیْدُوْنَ ۔ (الصآفات : 85، 86) (جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم لوگ کس چیز کو پوجتے ہو۔ کیا اللہ کے سوا دوسرے جھوٹ گھڑے ہوئے معبودوں کے طالب ہو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو فکروعمل اور دعوت و تبلیغ میں چونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا جانشین اور ساتھی قرار دیا ہے۔ اس لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو نورتوحید عطا کیا گیا تھا آپ اسے دوسرے لوگوں کے سامنے پیش نہ فرماتے۔ اور آپ کو جس قلب سلیم سے آراستہ فرما کر دنیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 85–87

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ اور قوم کو مشتر کہ خطاب۔ سورۃ مریم آیت 42 تا 45 میں موجود ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنے وا لد گرامی کو سمجھایا کہ اے میرے والد گرامی ! جن کے سامنے آپ اپنی حاجات اور نذر ونیاز پیش کرتے ہیں نہ یہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں۔ اسی بات کو ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ اور قوم سے مشترکہ خطاب میں یوں بیان فرمایا۔ اے والد گرامی اور میری قوم کے لوگو ! اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور جن کے سامنے تم اپنی حاجات پیش کرتے ہو ان کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں۔ یہ بتاؤ ! کہ رب العالمین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 85–86

ابراہیم ( علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ قصہ : 85، 86: اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ ۔ اَ ئِفْکًا اٰلِھَۃً دُوْنَ اللّٰہِ تُرِیْدُوْنَ (جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے فرمایا۔ تم کس چیز کی عبادت کیا کرتے ہو کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا چاہتے ہو) نحو : افکًا یہ مفعول لہ ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ اتریدون آلھۃ من دون اللّٰہ افکًا (کیا تم ارادہ کرتے ہو اللہ کے سوا معبودوں کا افتراء کرتے ہوئے) مفعول بہٖ کو فعل پر بطورعنایت کے مقدم کیا اور مفعول لہٗ کو مفعول بہٖ پر مقدم کردیا۔ کیونکہ سب سے اہم بات آپ کے ہاں یہی تھی کہ آپ ان کا مقابلہ اس طور پر کریں کہ وہ اپنے شرک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–95

83۔ 95۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے من شیعۃ کی تفسیر میں من اھل دینہ 2 ؎ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین والوں میں سے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو حنیف اور ملت ابراہیمی کو حنیفی کہتے ہیں۔ حنیف کے معنی ایک طرف کا ہوجانا حضرت ابراہیم نے شرک سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو، باپ کو اور قوم کو چھوڑا اور اللہ کی وحدانیت کو ہاتھ سے نہ دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا یہ لقب ہو۔ حضرت ابراہیم اور نبی آخر الزمان ﷺ کا قصہ ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم کی طرح نبی آخر الزمان ﷺ کو بھی توحید کی حفاظت میں وطن کو قوم کو سب کو چھوڑنا پڑا۔ اور پھر جس طرح ہجرت کے بعد ابراہیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 84–85

57 حضرت ابراہیم کی حنیفیت کاملہ کا حوالہ و ذکر : سو حضرت ابراہیم کی حنیفیت کاملہ، اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی پوری یکسوئی اور آنجناب کے کمال صدق و اخلاص کے حوالے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جب وہ حاضر ہوئے اپنے رب کے حضور قلب سلیم کے ساتھ "۔ یعنی ہر قسم کے شرک و شک، کفر و نفاق اور بدعت و انحراف سے۔ اور توحید فطرت پر قائم ہر طرح کے دنیاوی شوائب و شواغل سے پاک و صاف اور طاہر و نقی دل کے ساتھ۔ (المراغی، المحاسن اور الصفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ حضرت ابراہیم کے کمال صدق و اخلاص اور آپ (علیہ السلام) کی کامل حنیفیت کی تعبیر ہے جس کا ذکر دوسرے مختلف مقامات پر بھی فرمایا گیا ہے۔ مثلاً سورة نحل میں ارشاد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–102

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ مختصرا بیان کیا گیا ہے یہ قصہ سورة الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں تو صرف اس لیے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اہل مکہ سے پہلے بہت سی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے پیغام ہدایت حاصل کر کے بھی رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایسے ہی ماحول میں ہوئی تھی کہ جہاں بت بنتے، بتوں کی پوجا کی جاتی اور ہر قسم کی اخلاقی برائی کا دور دورا تھا۔ مگر آپ کو اللہ نے ایسا دل ایسا دماغ، ایسی عقل اور ایسی پاکیزہ روح عطا کی تھی کہ آپ ان تمام برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:85) اذ۔ پہلے اذ کا بدل ہے یا جاء کا ظرف زمان۔ ماذا۔ اس کی حسب ذیل صورتیں ہیں :۔ (الف) یہ لفظ مرکب ہے اور (1) ما استفہامیہ اور ذا موصولہ ہے جیسے ویسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو (قرات ابو عمرو (2:219) ۔ (2) ما استفہامیہ اور ذا اسم اشارہ ہے۔ (3) ما زائدہ اور ذا اسم اشارہ ہے۔ (4) ما استفہامیہ اور ذا فصل کے لئے ہے تاکہ ما نافیہ اور ما استفہامیہ میں امتیار ہوجائے۔ (5) ما استفہامیہ ہے اور ذا زائدہ ہے : (ب) یہ لفظ بسیط ہے اور پورا :۔ (1) اسم جنس ہے۔ (2) اسم موصول۔ (3) پورا حرف استفہام ہے۔ جیسے ویسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو (2:219) ۔ ماذا۔ کیا چیز ہے ۔ کیا ہے۔ یہاں استفہام توبیخ کے لئے ہے ! یعنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–98

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 98 : شیعۃ (کسی کے طریقے پر چلنے والا) قلب سلیم ( پاک صاف دل ) اء فکا (کیا تم گھڑتے ہو) النجوم (نجم) ( ستارے) سقیم (بیمار ، طبیعت کا خراب ہونا) مد برین ( پیٹھ پھیرنے والے) راغ ( وہ گھس گیا) لا تنطقون ( تم بات نہیں کرتے ہو) یمین (داہنا ہاتھ ، طاقت و قوت) یزقون (وہ دوڑتے ہیں) تنحتون (تم تراشتے ہو) بنیان ( عمارت ، جگہ) القوا (ڈالو) اسفلین (نیچے ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 83 تا 98 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سال تک اپنی قوم کو کفر و شرک سے بچانے اور خالص توحید پر لانے کی دن رات جدوجہد کی ۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک نسل سے دوسری نسل تک آپ نے اپنی قوم کو ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–89

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا قصہ مختصر طور پر بیان فرمایا، سورة الانبیاء میں اس قصہ کی زیادہ تفصیل گزرچکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے ابراہیم نے اپنے باپ آزر اور قوم کے لوگوں کے روبرو بت پرستی کی مذمت بیان کی جب ان لوگوں پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا تو ابراہیم نے دبی ہوئی آواز میں قسم کھائی کہ کبھی موقع پاکر میں ان بتوں کا پوراعلاج کروں گا سال بھر میں ایک میلہ بستی کے باہرہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جاتے تھے اور میلہ میں جاتے وقت کچھ کھاناپکاکربت خانہ میں رکھ دیتے تھے اور میلہ میں پلٹ کر جب آیا کرتے تھے وہ کھانا کھالیتے تھے اس قصے کے سال جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 79–87

[15] چناچہ ملائکہ اور مومنین ان پر سلام بھیجتے ہیں اور وہ نوح (علیہ السلام) کہہ کر یاد کئے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 82–87

ف 1: کس طرح ہم نے اس (نوح) کو جو اس کے وابستگان کو نجات دی اور انکی اولاد کو باقی رکھا اور کیونکر آنے والی نسلوں میں نوح (علیہ السلام) کے لئے تعریف اور ستائش کا تذکرہ چھوڑا ۔ حقیقت یہ ہے کہ نوح پر سل امتی ہے اور وہ فلاح ومحوذ سے بہرہ ور ہے ہم اسی طرح پاکبازوں سے حسن سلوک روا رکھتے ہیں ہماری یہ سنت ہے کہ اپنے مومن بندوں کو شرف التفات سے محروم نہیں رکھتے ۔ نوح (علیہ السلام) کے مخالفین چونکہ عناد ودشمنی میں حد سے تجاوز کرچکے تھے اس لئے ہم نے ان کو غرق کردیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کا نام ونشان مٹا دیا ۔ میں بیزار ہوں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(85) جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے دریافت کیا تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو اور تم یہ کیا پوجا کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 84–88

ف 4۔ صاف دل کا مطلب یہ کہ سوء عقائد دریا وغیرہ سے پاک تھا، جس کا حاصل توحید خالص و اخلاص کامل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کی پرستش کرتے ہو : 85۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے باپ اور قوم کو دیکھا کہ وہ کود ہی بت تراشتے اور خود ہی ان کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں تو آپ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا ‘ یہ کیا ہے ؟ جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ دراصل قوم کے تسلیم شدہ بزرگ تھے جب وہ مر گئے تو ان لوگوں نے ان کا تصور قائم کرنے کے لیے یہ بت تراشے ہیں کہ ان کو سامنے رکھنے سے ان بزرگوں کا تصور قائم ہوتا ہے تو فطری تقاضا کے مطابق ان کے اندر اللہ نے یہ صدا پیدا کردی کہ بھلا کبھی انسان کا کوئی انسان بھی حاجت روا اور مشکل کشا اور بگڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 84–87

In verse 84, it was said: إِذْ جَاءَ رَ‌بَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (when he came to his Lord with a pure heart). Here, 'coming to his Lord' means 'to turn to Allah, to zero in one's attention towards Him and to worship Him.' By placing the restriction of 'with a pure heart' it has been indicated that no act of devotion (ibadah) to Allah is acceptable until the heart of the devotee is cleansed pure from false beliefs and ill intentions. If a certain act of devotion is performed while laced with some false belief, then, no matter how hard the devotee has worked in this process, it will still not be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 85–86

45 For further details of this story of the Prophet Abraham, please see Surah Al-An'am: 72-90; Maryam: 41-60; AI-Anbiya: 51-75; Ash-Shu'ara; 69-89; Al-'Ankabut: 16-17, and the E.N's thereof.

Read the full tafseer →