As-Saaffaat 37:80

As-Saaffaat · from ayah 80

37:80

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۟اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ

نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We thus reward the doers of good.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:80

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نیک عمل کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی صلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم خوب کاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک ہم اسی طرح صلہ (اور بدلہ) دیتے ہیں نیکو کاروں کو

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ہم مخلصین کو (ایسا ہی) صلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نیکو کاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus do We reward all those who do good.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Certainly, this is how We reward those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

Certainly, this is how We reward those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, thus We reward the gooddoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, We thus reward the doers of good.

— Saheeh International

Thus do We reward the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

Thus do We surely reward the doers of good.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! thus We recompense the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus indeed do we reward those who do right.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–82

نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 79–83

سورة الصّٰٓفّٰت 43 یعنی آج دنیا میں حضرت نوح ؑ کی برائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ طوفان نوح کے بعد سے آج تک ہزار ہا برس سے دنیا ان کا ذکر خیر کر رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–82

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ ، سَلٰمٌ عَلٰي نُوْحٍ فِي الْعٰلَمِيْنَ (اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ نوح ؑ پر سلام ہو عالم والوں میں) اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد جو لوگ پیدا ہوئے ان کی نظر میں حضرت نوح ؑ کو ایسا معزز و مکرم بنادیا کہ وہ قیامت تک حضرت نوح ؑ کے لئے سلامتی کی دعا کرتے رہیں گے چناچہ واقعہ بھی یہی ہے کہ تمام وہ مذاہب جو اپنے آپ کو آسمانی کتابوں سے منسوب کرتے ہیں سب کے سب حضرت نوح ؑ کی نبوت اور تقدس کے قائل ہیں، مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور نصرانی بھی آپ ﷺ کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 79–82

سلم علی نوح فی العلمین انا کذلک نجزی المحسنین انہ من عباد نا الامومنین ثم اغرقنا الاخرین (82-78) یہ حضرت نوح ؑ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین اور دنیا و آخرت دونوں میں برکت و سلامتی کی بشارت ہے کہ اس دنیا میں جو مقام اس کو حاصل ہوا وہ اس سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ تمام خلق میں یہ بازی اسی نے جیتی۔ خوب کاربندوں کے لئے اباری بشارت انا کذلک … الایۃ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ یہ معاملہ صرف حضرت نوح ؑ ہی کے لئے خاص نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خوب کار بندوں کے ساتھ ہمیشہ یہی معاملہ کیا ہے اور آئندہ بھی وہ اپنے مخلص بندوں کے ساتھ یہی کرے گا۔ یہ فضیلت کسی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 79–80

80۔ 1 یعنی جس طرح نوح ؑ کی دعا قبول کرکے، ان کی ذریت کو باقی رکھ کے اور پچھلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھ کے ہم نے نوح ؑ کو عزت و تکریم بخشی۔ اسی طرح جو بھی اپنے اقوال و افعال میں محسن اور اس باب میں راسخ اور معروف ہوگا، اس کے ساتھ بھی ہم ایسا معاملہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–81

14: لپکنے کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور اشتیاق سے وہی راستہ اختیار کیا اور نہ خود اپنی عقل سے سوچا اور نہ پیغمبروں کی بات مانی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 79–81

سلم علی نوح۔۔۔۔۔ المحسنین (37: 80) ” سلام ہے نوح پر تمام دنیا والوں میں۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں “۔ اللہ کے سلام کے بعد اور کیا جزاء درکار ہے کسی بندے کو۔ اور تمام جہاں میں قیامت تک کسی کے نام کو باقی رکھنے کے بعد اور کیا انعام ہے کسی بندے کے لیے۔ احسان اور اس کے بعد انعام کا حقیقی سبب بہرحال ایمان ہے ۔ اس لیے کہا گیا۔ انہ من عبادنا المومنین (37: 81) ” درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا “۔ اور یہی جزاء ہے اہل ایمان کی۔ رہے وہ لوگ جو قوم نوح سے غیر مومن تھے تو ان پر اللہ نے ہلاکت اور فنا لکھ دی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 75–82

3 تقریباً ہزار سال تک حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے اور نصیحت کرتے رہے۔ مگر ان کی شرارت اور ایذاء رسانی برابر بڑھتی رہی۔ آخر حضرت نوح نے مجبور ہو کر اپنے بھیجنے والے کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔ (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) اے پروردگار ! میں مغلوب ہوں آپ میری مدد کو پہنچئے۔ دیکھ لو کہ اللہ نے ان کی پکار کیسی سنی اور مدد کو کس طرح پہنچا۔ نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے گھرانے کے رات دن کی ایذاء سے بچایا۔ پھر ہولناک طوفان کے وقت ان کی حفاظت کی۔ اور تنہا اس کی اولاد سے زمین کو آباد کردیا۔ اور رہتی دنیا تک اس کا ذکر خیر لوگوں میں باقی چھوڑا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔“ ”محسن“ وہ شخص ہے جو اسلام اور ایمان کے مدارج طے کر کے درجہ احسان تک پہنچ جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 78–82

46 یعنی رہتی دنیا تک سیدنا نوح کا نام بھلائی سے لیا جاتا رہے گا۔ چناچہ اس وقت دنیا میں جتنی بھی قومیں آباد ہیں۔ سب اپنا سلسلہ نسب سیدنا نوح سے ملاتی اور اس میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ نیز اکثر اقوام انہیں اپنا مذہبی قائد تسلیم کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایران کے مجوسی اور صابی بھی انہیں اپنا نبی تسلیم کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 80–82

37۔ یعنی دوسرے کیش اور مذہب والوں کو، مشرکوں کو۔ اے المغابرین لنوح واھلہ وھم کفارقومہ اجمعین (روح) (آیت) ” ثم “۔ یہاں تراخی ذکر ہی کے لئے ہے۔ ورنہ آسمانی اعتبار سے (آیت) ” جعلنا زریتہ ھم البقین “۔ اور (آیت) ” اغرقنا الاخرین “۔ دونوں فعلوں کا وقوع ساتھ ہی ساتھ ہوا تھا۔ (آیت) ” انا ..... المحسنین “۔ سے یہ لازم نہیں آتا کہ تشبیہ تمام امور میں ہے۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ محسنین کو جزائے حسن دیا کرتے ہیں، اب جس مرتبہ کا احسان، اس مرتبہ کی جزاء بس انبیاء میں تساوی لازم نہیں آتی (تھانوی (رح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا کذلک نجزی المحسنین ہم بھلائی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ جیسے نوح کو دی کہ ان پر اپنی طرف سے سلام بھیجا اور آنے والے لوگوں میں ان کا ذکر جمیل باقی رکھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 80–83

(80۔ 83) ہم مخلصین کو اچھی تعریف اور نجات کے ذریعے سے ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔ پھر ہم نے ان کے علاوہ دوسرے طریقے کے لوگوں کو ہلاک کردیا اور نوح کے طریقہ والوں میں سے یا یہ کہ رسول اکرم کے طریقہ والوں میں سے ابراہیم بھی تھے کیونکہ ابراہیم، نوح کے طریقہ اور ان کے اصول پر تھے اور رسول اکرم ابراہیم کے اصول پر اور ان کے طریقہ پر تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ : ”احسان“ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی ہوتا ہے اور بندوں کے ساتھ بھی۔ اللہ کی عبادت میں احسان کا ذکر حدیث جبریل میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : (أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ) [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي ﷺ۔۔ : 50 ] ”(احسان یہ ہے) کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، تو اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو یقیناً وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ بندوں کے ساتھ احسان کا ذکر قارون کو اس کی قوم کی نصیحت میں ہے، فرمایا : (وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ) [ القصص : 77 ] ”جس طرح اللہ نے تجھ پر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–82

75 ۔ 82:۔ یہاں ندا سے مراد استغاثہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے دعا کی اور یوں عرض کی : رب الاتذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ ) نوح ( ہم کتنے ہی اچھے دعا قبول کرنے والے تھے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یوں ہے فلنعم المجیبون لہ کنا ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کی نجات دی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لا چکے تھے جس طرح پہلے گذر چکا ہے ان کی تعداد اسی تھی۔ الکرب العظیم۔ سے مراد غرق ہونا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی سے باہر نکلے تو جو مرد اور عورتیں آپ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–101

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي [بیشک اسی طرح ہم جزاء دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کاروں کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (ہم احسان والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں) کسی کام کا اچھی طرح انجام دینے کو احسان کہا جاتا ہے۔ نیت کو درست کرنا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عمل کرنا اس کی بڑی اہمیت ہے، اسی لیے ترجمہ میں (الْمُحْسِنِیْنَ ) کا ترجمہ (مُخْلِصِیْن) کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

قصہ اول نوح (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون۔۔۔ الی۔۔۔ ثم اغرقنا الاخرین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں توحید اور جنت اور جہنم کا مضمون بیان فرمایا اور پھر اس کے ختم پر یہ فرمایا۔ ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب آگے چند پیغمبروں کے واقعات ذکر فرماتے ہیں جن سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد مخلصین کو اور ان کے پیروؤں کو دنیا کے عذاب سے بچا لیا اسی طرح وہ ان کو آخرت میں عذاب سے بچا لے گا اس سلسلہ میں سات قصے ذکر کئے سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اور البتہ تحقیق نوح جو ہمارے عباد مخلصین میں سے تھا جب وہ اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوا تو اس نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 79–80

35:۔ انا کذلک الخ : ہم نیکو کار لوگوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے کامل الایمان بندوں میں سے تھے۔ ان کو اور ان کے متبعین کو ہم نے غرق ہونے سے بچا لیا اور دوسروں یعنی کفار کو غرق کر کے ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–98

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 80 جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–101

تفسیر : فرمایا تھا ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب اس جگہ بعض اولو العزم منذرین کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کی امتوں کی سرکشی اور ان پر بلا نازل ہونے اور دنیا و آخرت میں برباد ہونے کا حال سن کر نبی ( علیہ السلام) کے زمانہ کے سرکش کفار کو عبرت حاصل ہو اور ان کے حادثہ کو پیش نظر رکھیں۔ ان منذرین میں سے دو شخص بڑے اولو العزم کا حال بیان فرماتا ہے۔ اول حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ان کے قصہ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ سے یہ مناسبت ہے کہ جس طرح نوح ( علیہ السلام) کے عہد میں عالم میں گمراہی پھیلی ہوئی تھی جس کے علاج کے لیے نوح ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے اور جب لوگوں نے نہ مانا تو غرق ہوئے، صرف چند…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 79–82

سَلٰمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 79 تا 82) (اور سلامتی ہے نوح پر دنیا والوں میں۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے صاحب ایمان بندوں میں سے تھا۔ پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے دنیا ہی میں اظہارِتحسین اس سے بڑے اعزاز کی بات اور کیا ہوگی کہ دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے تحسین و آفرین اور دنیا و آخرت دونوں میں برکت و سلامتی کی بشارت دی گئی ہے۔ اور بشارت بھی ایسی کتاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–82

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں مخلص بندوں کا انجام ان میں حضرت نوح (علیہ السلام) بھی شامل ہیں لہٰذا ان کا واقعہ سماعت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی اقوام میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ مگر لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کی انہیں دنیا کے عذاب سے بچا لیا گیا اور آخرت میں وہ کامیاب ٹھہریں گے۔ ان مخلصین میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے رفقائے کرام سر فہرست ہیں۔ جب نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے یکسر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

80: اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں) اپنے مجازات اور بدلے کے اس شاندار انعام کو آپ کے محسن ہونے سے معلل قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 80–81

80، انا کذلک نجریالمحسنین، مقاتل کا بیان ہے کہ اللہ ان کو احسان کے ساتھ بدلہ دیں گے اور وہ احسان دونوں جہانوں میں ان کا بہترین تذکرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–82

75۔ 82۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جس طرح قریش اللہ کے رسول کی نصیحت نہیں مانتے اور شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوتے ہیں۔ اسی طرح قریش سے پہلے بھی بہت قومیں بہک چکی ہیں۔ اور اللہ کے رسولوں کی نصیحت کے نہ ماننے وہ قومیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ اب اس آیت سے آخر سورة تک اس ارشاد کی تائید میں حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت اسمعیل حضرت موسیٰ حضرت ہارون حضرت الیاس ‘ حضرت لوط حضرت یونس کے سات قصے ذکر فرمائے۔ ان میں سے یہ پہلا قصہ حضرت نوح سب سے پہلے صاحب شریعت نبی کا ہے مدت تک حضرت نوح نے اپنی قوم کو سمجھایا۔ جب ان لوگوں نے حضرت نوح کی نصیحت کو نہ مانا۔ اس وقت حضرت نوح نے اکتا کر رب انی مغلوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–82

آیت 75 اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول حضرت نوح کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ لوگ اس دعوت سے دور بھگاتے رہے۔ تب حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارتے وہئے دعا کی : (آیت) ” اے میرے رب ! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ “ اور فرمایا (آیت) ” اے میرے رب ! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فلنعم المجیبون) ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ وزاری کو سنتے ہیں اور خب جواب دیتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 80–83

55 نیکوکاروں کے لیے جزائے خیر کے قانون عام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو "۔ کہ دنیا میں بھی ان کی فریاد رسی اور حاجت روائی و مشکل کشائی کرتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کو بےمثال اور لازوال نعمتوں سے نوازتے ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ مُحْسِنِیْ عِبَادِکَ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا مَنْ لاَّحَدَّ لِکَرَمِہ وَلا نِہَایَۃَ لِمَنِّہِ وَاِحْسَانہٖ ۔ بہرکیف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنے اس ارشاد سے واضح فرما دیا کہ ہمارا یہ معاملہ صرف حضرت نوح ہی سے خاص نہیں بلکہ تمام نیکوکاروں کیلئے عام ہے۔ اس سے پہلے کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ ٔ خیر اور ان کی قوم کا انجام تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کا مکمل قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے یہاں ہلکا سا ذکر کیا جاتا ہے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھاتے رہے مگر وہ نہ مانے تو سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی ” میں مغلوب ہوں میری مدد کیجیے ـ“ ( سورة قمر) تو اللہ نے ان کی دعا سنی۔ پوری قوم طوفان میں غرق ہوگئی سوائے آپ کے اور آپ کے اہل و عیال کے۔ آپ کو آپ کی اطاعت گزاری کا انعام دنیا میں یہ دیا کہ آنے والی سب نسلیں آپ کا نام عزت و احترام سے لیتی ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ تمام مسلمان، یہودی اور نصرانی سب آپ کو اپنا پیشوا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 79–80

ف 8 یعنی زندگی میں ان کی مدد کرتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کا ذکر خیر باقی رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 80–81

(37:80) انا کذلک تجزی المحسنین۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ ذلک کا اشارہ حضرت نوح (علیہ السلام) پر خدا کے انعامات کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–82

لغات القرآن (آیت نمبر 75 تا 82) نادی (اس نے پکارا) نعم ( بہترین) مجیبون (قبول کرنے والے) کرب (مصیبت، مشکل) المحسینین (نیک کام کرنے والے) اغرقنا (ہم نے ڈبو دیا ، غرق کردیا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 :۔ ان آیات سے پہلے فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ اور ہر قوم کی ہدایت و رہنمائی اور برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کرنے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا تھا ۔ جن لوگوں نے ان کے بتائے ہوئے راستے کو اپنایا اور اس پر پورے خلوص سے چلے تو اللہ نے ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو ان کی نجات کا ذریعہ بنا دیا لیکن جن بد نصیبوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری نہیں کی ان کی نہ صرف دنیا اجاڑدی گئی بلکہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–82

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو ساڑھے نوسوسال سمجھایارونصیحت کرتے رہے مگر ان کی شرارت اور ایذارسانی برابر بڑھتی رہی آخر حضرت نوح نے مجبورہوکر یہ دعامانگی ، یا اللہ اب میں قوم کے لوگوں کی سرکشی سے عاجز آگیا اس لیے ان سے ایسابدلہ لے کہ ان کا ایک گھر بھی زمین پر باقی نہ رہے ، طوفان کے بعد، سام ، حام اور یافث نوح کے تین بیٹے جو طوفان سے نچے ان کی نسل سے تمام دنیا چلی پھر فرمایا کہ رہتی دنیاتک نوح کا ذکر خیرلوگوں میں باقی چھوڑا، چناچہ آج تک خلقت ان پر سلام بھیجتی ہے اور سارے جہان میں نوح (علیہ السلام) کہہ کریاد کیے جاتے ہیں، پھر فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 79–87

[15] چناچہ ملائکہ اور مومنین ان پر سلام بھیجتے ہیں اور وہ نوح (علیہ السلام) کہہ کر یاد کئے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 75–81

حضرت نوح (علیہ السلام) 3: یعنی وہ لوگ جن میں اخلاص ہوتا ہے جو خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں ۔ وہ عذاب میں گرفتار نہیں ہوتے وہ اللہ کے غضب اور غصہ کا مورد نہیں بنتے اور اگلا انجام دنیا وعقبیٰ کے لحاظ سے دوسروں سے کہیں بہتر اور برتر ہوتا ہے اس کے بعد تذکیر یا نام اللہ کے اصول کے مطابق یہ فرمایا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) (آدم ثانی) نے قوم کی مخالفت عنایت تنگ آکر آخر دعا مانگی تو ہم نے قبول کرلی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(80) ہم اسی طرح نیک روشن اختیار کرنے والوں کو جزا اور صلہ دیا کرتے ہیں ۔ یعنی محسنین کو جزائے حسن دیا کرتے ہیں یہ ضروری نہیں کہ تمام امور میں تشبیہہ ہو صرف اتنی بات ہے کہ اچھوں کو اچھا صلہ دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ہم نیک بندوں کو اس طرح بدلہ دیا کرتے ہیں : 80۔ زیر نظر آیت کے مضمون پر غور کریں کہ یہ مضمون تقریبا جتنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلامکا اس سورت میں ذکر کیا گیا سب کے ساتھ موجود ہے اور یہ آیت خود بول بول کر کہہ رہی ہے کہ میرے اندر اتنی وسعت رکھ دی گئی کہ آج تک اور آج کے بعد رہتی دنیا تک جتنے محسنین آئے اور آئیں گے سب کے ساتھ میرا یہ وعدہ ہے کہ جو جو بھی نیک کام کرے گا اس کو اس کا عوض ومعاوضہ بھی دیا جائے گا جو اس کے مطابق ہی ہوگا جو اس کی نیکیاں ہوں گی اور اس معاملہ میں کسی کے ساتھ بھی کمی و زیادتی نہیں کی جائے گی اور یہ بدلہ صرف انبیاء ورسل کے ساتھ ہی خاص نہیں رکھا گیا بلکہ سارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–82

In verses 78 and 79, it was said: وَتَرَ‌كْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِ‌ينَ سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ (And We left for him (a word of praise) among the later people, (that is): Salam be on Nuh (علیہ السلام) among [ the people on all the worlds.). It means that, in the sight of those who were born after Sayyidna Nuh (علیہ السلام) he was made so revered that they would continue praying for his peace and well-being right through the last day of the Qiyamah. As such, this is how it actually happened. All religions with attribution to Divine Scriptures subscribe to the mission of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 79–83

43 That is there is none in the world today, who would talk coil of the Prophet Noah. After the Flood till today the world has been praising and speaking well of him for thousands of years.

Read the full tafseer →