Explained with ayahs 71–74
سابقہ آیتیں۔
گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کردیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟ تہس نہس کردئیے گئے تباہ برباد کردئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–74
سورة الصّٰٓفّٰت 37
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ جب بھوک پیاس سے بےتاب ہونے لگیں گے تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا جہاں زقوم کے درخت اور کھولتے ہوئے پانی کے چشمے ہوں گے۔ پھر جب وہ وہاں سے کھا پی کر فارغ ہوجائیں گے تو انہیں دوزخ کی طرف لایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–74
(آیت) طلعھا کانہ رءوس الشیاطین، اس آیت میں زقوم کے پھل کو ”شیاطین کے سروں“ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے تو یہاں ”شیاطین“ کا ترجمہ ”سانپوں“ سے کیا ہے، یعنی زقوم کا پھل ایسی شکل کا ہوتا ہے جیسے سانپ کا پھن، اردو میں اسے ”ناگ پھن“ اسی لئے کہتے ہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہاں ”شیاطین“ سے اس کے معروف معنی ہی مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ زقوم کا پھل اپنی بدصورتی میں شیطانوں کے سر کی طرح ہوتا ہے۔ اب یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ شیطان کو تو کسی نے دیکھا نہیں، پھر اس کے ساتھ تشبیہ کیوں دی گئی ؟ اس لئے کہ یہ ایک تخیلی تشبیہ ہے، محاورہ میں بدصورت اور بدہئیت اشیاء کو شیطان اور جن بھوت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین، ولقد ارسلنا فیھم منذرین، فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین، الاعباد اللہ المخلصین (74-71)
قبلھم میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں۔ اب یہاں سے کلام کا رخ تاریخی دلائل کی طرف مڑ رہا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح کی گمراہی میں یہ (قریش) مبتلا ہیں اسی طرح کی گمراہی میں ان سے پہلے اکثر قومیں مبتلا ہو کر کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔ یہ اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کا ذکر تفصیل سے پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے اور وہ اس سورة میں بھی آگے آ رہا ہے۔ فرمایا کہ ان کی اصلاح کے لئے ہم نے ان کے اندر اپنے مذر بھیجے کہ وہ ان کی غلط روش کے انجام سے ان کو آگاہ کردیں لیکن انہوں نے انہی کی طرح باپ دادا کی تقلید…
Read the full tafseer →71۔ 1 یعنی یہی گمراہ نہیں ہوئے، ان سے پہلے لوگ بھی اکثر گمراہی پانے کے باوجود یہ انہی کے نقشے قدم پر چلنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–81
14: لپکنے کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور اشتیاق سے وہی راستہ اختیار کیا اور نہ خود اپنی عقل سے سوچا اور نہ پیغمبروں کی بات مانی
Read the full tafseer →ولقد ضل۔۔۔۔ الاولین (37: 71) ” حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے ہیں “۔ اور یہ گمراہی اس
کے باوجود تھی کہ ہم نے ان کی خاطر ڈرانے والے بھیجے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
2 یعنی ہر زمانہ میں انجام سے آگاہ کرنے والے آخرت کا ڈر سنانے والے آتے رہے۔ آخر جنہوں نے نہ سنا اور نہ مانا دیکھ لو ! ان کا انجام کیسا ہوا۔ بس اللہ کے وہ ہی چنے ہوئے بندے محفوظ رہے جن کو خدا کا ڈر اور عاقبت کی فکر تھی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ڈر سب ہی کو سناتے ہیں ان میں نیک بچتے ہیں اور بدکھیتے ہیں۔ " آگے بعض منذرین (بالکسر) اور منذرین (بالفتح) کے قصے سنائے جاتے ہیں۔ مکذبین کی عبرت اور مومنین کی تسلی کے لیے۔
Read the full tafseer →آیت 71{ وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ } ”اور ان سے پہلے لوگوں کی بھی اکثریت گمراہ تھی۔“
یعنی ماضی میں بھی لوگوں کی اکثریت گمراہ ہی تھی۔ اس حوالے سے ہم سورة الانعام کی آیت 116 میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی پڑھ چکے ہیں : { وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِط } ”اور اگر تم پیروی کرو گے زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے لازماً گمراہ کردیں گے“۔ یہی مضمون سورة یوسف میں اس طرح بیان ہوا ہے : { وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللّٰہِ اِلاَّ وَہُمْ مُّشْرِکُوْنَ } ”اور ان میں اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
42 تقلید آباد کی مذمت :۔ انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہ کی کہ جو کچھ ان کے آباء و اجداد کرتے آرہے ہیں۔ وہ درست ہے یا غلط ہے۔ جس راہ پر انہیں چلتے دیکھا اسی پر دوڑنے لگے، کنواں کھائی کچھ نہ دیکھا اور اگر ان کے پاس رسول آئے تو انہیں بھی جھٹلا دیا۔ اور اپنی آبائی رسوم کی حمایت میں رسولوں کی مخالفت پر اتر آئے حالانکہ اگر وہ سابقہ اقوام کی روش سے اور ان کے انجام سے کچھ سبق حاصل کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
33۔ (بلکہ وہ اس عذاب دنیوی سے بھی محفوظ نہ رہے) یعنی جنہوں نے پیغمبروں کی نہ سنی، ان پر دنیا میں بھی کیسے کیسے عذاب آئے۔ (آیت) ” عباد اللہ المخلصین “۔ یعنی اہل ایمان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
آیت نمبر 51 تا 84
ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…
Read the full tafseer →ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین۔ اور ان سے پہلے (اگلے لوگوں میں) اکثر گمراہ ہوچکے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(71۔ 72) اور آپ کی قوم سے پہلے بھی پچھلی قوموں میں بہت سے گمراہ ہوچکے ہیں اور ہم نے ان میں بھی ڈرانے والے پیغمبر بھیجے تھے مگر وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ اور داعیان حق کو تسلی دی ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے پر زیادہ پریشان نہ ہوں، ان سے پہلے بھی اکثر لوگ گمراہ ہوئے۔ اگر یہ گمراہ ہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ حق کی پیروی کرنے والی ایک جماعت ہمیشہ موجود رہی ہے، اگرچہ اکثریت گمراہوں کی رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
69 ۔ 74:۔ یعنی انہوں نے آباء کو گمراہ پایا تو ان کی اقتدا کی تو یہ ان کے پیچھے تیزی سے بھاگے جا رہے ہیں ‘ یہ قتادہ سے مروی ہے مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے ہر ولہ) چال کا انداز ( کے انداز میں جا رہے ہیں۔ فراء نے کہا : امراع سے مراد کا نپتے ہوئے تیز چلنا۔ ابو عبیدہ نے کہا : یھرعون کا معنی ہے پیچھے سے ان پر مٹی ڈالی جا رہی ہوگی اسی کی مثل مبرد کا قول ہے۔ المھرع سے مراد ہے جس کو تیزی سے چلایا جا رہا ہو یہ جملہ کہا جاتا ہے : جاء فلان یھرع الی النار۔ فلاں آیا اسے اگ کی طرف تیزی سے لے جایا جا رہا ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب سردی اسے آگ کی طرف تیزی سے لے جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں تیزی کی سختی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
1:۔ ابن جریر (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم الفوا اباء اباء ھم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنے آباؤاجداد کو پایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم الفوا اباء اباء ھم “ یعنی انہوں نے پایا اپنے آباؤاجداد کو۔ (آیت ) ” ضآلین “ یعنی گمراہ (آیت ) ” فھم علی اثرھم یھرعون “ (کہ وہ ان کے نقش قدم پر تیزی سے دوڑے جارہے ہیں یعنی تیزی کے ساتھ۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم الفوا اباء اباء ھم ضآلین “ کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو جاہل پایا۔ (آیت…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ ضَلَّ [اور بیشک گمراہ ہوچکے ] قَبْلَهُمْ [ان سے پہلے ] اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ [اگلوں کے اکثر ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ ) (اور یہ بات واقعی ہے کہ ان موجود ظالموں یعنی کافروں سے پہلے گزشتہ امتوں میں سے اکثر لوگ گمراہ ہوچکے ہیں) (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ ) (اور یہ بات بھی واقعی ہی ہے کہ ہم نے ان میں ڈرانے والے بھیجے تھے) یعنی حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) حق کی دعوت لے کر پہنچے اور انہیں بتایا کہ اگر باطل میں لگے رہو گے، حق قبول نہ کرو گے تو تمہارا برا انجام ہوگا، لیکن وہ لوگ نہ مانے دنیا میں بھی ان پر عذاب آیا اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب ہے۔ (فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ) (سو دیکھ لیجیے جن لوگوں کو ڈرایا گیا ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–74
افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین۔
گذشتہ آیت میں اس جنتی قاتل کے کلام کا ذکر تھا جس نے اپنے ایک دنیاوی قرین (ساتھی) کو جہنم میں جھانک کر دیکھا تھا اب اس آیت میں (یعنی افما نحن بمیتین) میں پھر اسی کے کلام کا ذکر ہے۔
امام رازی (رح) اور امام قرطبی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں دو قول نقل کئے ہیں دیکھو تفسیر کبیر (ف 1) ص 138 ج 7۔
1 قال الامام الرازی قولہ تعالیٰ افما نحن بمیتین فیہ قولان الاول ان اھل الجنۃ لا یعلمون فی اول دخولہم فی الجنۃ انہم لا یموتون فاذا جییء بالموت علی صورۃ کبش املح وذبح فعند ذلک یعلمون انہم لا یموتون والثانی ان الذی یتکامل خیرہ وسعادتہ فاذا عظم تعجبہ بھا قد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
32:۔ ولقد اضل الخ : ان سے پہلی قوموں کے اکثر لوگ بھی جو اپنے گمراہ باپ دادا کی راہ و رسم سے چمٹ کر گمراہ ہوئے۔ حالانکہ ان کی رہنمائی کے لیے بھی ہم نے پیغمبر بھیجے۔ آخر انہوں نے پیغمبران (علیہم السلام) کی تعلیم سے سرتابی کی تو انہیں دنیا ہی میں عبرتناک سزاؤں سے ہلاک کردیا گیا۔ عذاب الٰہی سے صرف وہی لوگ بچے جو معاند اور ضدی نہ تھے بلکہ منیب و منصف تھے۔ اور اللہ نے اپنی توفیق سے ان کو ایمان و عمل صالح کے لیے چن لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–74
توحید کے بیان کے بعد جزائے عمل کے سلسلے میں اللہ نے اپنے مخلص بندوں کا ذکر فرمایا اور ان کو جنت میں ملنے والے انعامات کی ایک جھلک پیش کی۔ اللہ نے ان کے سکون و راحت ، ان کی بیویوں اور ان کے عزت کے مقام کا ذکر کیا۔ اس عیش و آرام کی زندگی میں انہیں دنیا کے اپنے بعض ساتھیوں کی یاد بھی آئے گی اور وہ انہیں جہنم میں پا کر ان سے بات چیت کریں گے۔ انعامال الٰہیہ کا شکر ادا کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو آج ہم بھی تمہارے ساتھ جہنم میں ہوتے۔ اللہ کی رحمت سے ہم نے ایمان قبول کیا اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہزوئے تو اللہ نے ہمیں راحت کے اس مقام تک پہنچایا ، جہاں ہم ہمیشہ کی زندگی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ 71ۙ
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15]
( ض ل ل ) الضلال
۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔
كثر
الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–74
طلعہا کانہ رؤس الشیاطین طلع شگوفہ نخستیں بر درخت خرما (صراح) اس کا گابھا ایسا ہوگا کہ جیسا شیطان کا سر، عرف میں بری چیز کو شیطان سے تشبیہ دیا کرتے ہیں، اس لیے کہ اذہان بنی آدم میں شیطان نہایت مکروہ چیز ہے، یعنی اس پیڑ کی صورت بھی نہایت مکروہ ہوگی، جہنم میں جب کھانے کو اور کچھ نہ ملے گا تو بھوکا مرتا کیا نہ کرتا، اسی کو کھاویں گے۔ فانہم لاکلون منہا اور بھوک کے مارے ایسا کھاویں گے کہ فما لئون منہا البطون کہ پیٹ بھرلیں گے، پھر اس کی سوزش سے پانی کے لیے محتاج ہوں گے۔ ثم ان لہم تو کھولتا ہوا گرم پانی دیا جائے گا، اس کے بعد پھر جہنم کی کوٹھڑیوں میں بند کردیے جاویں گے۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی ثم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَھُمْ اَکْثَرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ ۔ فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ۔ اِلاَّ عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 71 تا 74)
(حالانکہ اس سے پہلے بھی اگلوں میں بہت سے لوگ گمراہ ہوئے۔ ان میں ہم نے اپنے انذار کرنے والے بھیجے۔ پس دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جن کو انذار کیا گیا تھا۔ (اس بدانجامی سے) صرف وہی لوگ بچے جنھیں اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا تھا۔ )
گمراہی کا اصل سبب آباء پرستی ہے
آبائواجداد کی تقلید سے تباہ ہونے والے صرف قریش ہی نہیں بلکہ تاریخ میں بار بار اس حادثہ کا ظہور ہوچکا ہے۔ ان سے پہلے گزرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–74
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کی نعمتوں اور عیش و عشرت کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزا اور ان کی بدترین خوراک۔
جنتیوں کی تکریم و تعظیم اور اس کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم کی بدترین خوراک بتلا کر استفسار فرمایا ہے کہ بتاؤ ! جنت کے انواع و اقسام کے کھانے اور پھل بہتر ہیں یا کہ تھوہر کا درخت ؟ جسے اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے یہ درخت جہنم کی تہہ سے اگے گا اس کے شگوفے شیطانوں کے سروں کی طرح ہوں گے۔ جہنمی اس کو کھائیں گے اور اپنے پیٹ بھرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کو نگلنے کے لیے ابلتا ہوا پانی دیا جائے گا اور پھر انہیں جہنم کے ایک اور گڑھے کی طرف دھکیلا جائے گا۔ یہ سزا اس لیے ہوگی کیونکہ…
Read the full tafseer →71: وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَھُمْ (اور ان سے پہلے بھی گمراہ ہوچکے ہیں) قبلہم سے مراد قریش سے پہلے اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ (اگلے لوگوں میں اکثر) گزشتہ زمانہ میں گزرنے والے لوگ جنہوں نے غور وفکر کو چھوڑ کر محض گمراہ آباء کی تقلید کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
71، ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین، اس سے مراد گزشتہ امتیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–74
62۔ 74۔ اوپر جنت کی نعمتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ کہ یہ جنت کی نعمتیں بہتر ہیں۔ یا دوزخیوں کی خوراک سینڈھ کا درخت بہتر ہے۔ ترمذی 1 ؎ نسانی ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے صحیح روایت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اس دوزخ کے سینڈھ کے عرق کا ایک قطرہ بھی اگر زمین پر ٹپک پڑے تو تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوجاوے۔ اور اگر دنیا کے دریاؤں میں وہ قطرہ پڑجاوے۔ تو دریاؤں کا پانی بالکل بگڑ جاوے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا افسوس ہے۔ ان لوگوں کے حال پر جن کی خوراک یہ سینڈھ کا پھل ہوگا۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ وہ سینڈھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–74
آیت 74
(اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
46 تاریخی دلائل کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ان سے پہلے کے لوگوں کی اکثریت بھی گمراہوں ہی کی تھی "۔ پس نہ تو عوام کی اکثریت کا کسی ایک طرف ہوجانا حقانیت کی دلیل ہوسکتا ہے اور نہ ہی عوام کالانعام کی اس اکثریت کا کسی کے خلاف ہوجانا اس کے باطل اور ناحق ہونے کی دلیل بن سکتا ہے۔ کیونکہ اکثریت تو ہمیشہ غلط کاروں اور باطل پرستوں ہی کی رہی۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ پس اس سے آپ کو اپنے دور کی اکثریت کی گمراہی و باطل پرستی پر کوئی غم اور تعجب نہیں ہونا چاہیئے کہ یہ تو پہلے سے ہی ہوتا چلا آیا ہے کہ اکثریت ہمیشہ غلط کاروں اور باطل پرستوں کی رہی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–74
برُے لوگوں کی سزا بہتر ہے یا جنت کا انعام
تشریح : ان آیات میں جہنم کے عذاب کو بڑے درد ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر انسانی فطرت کا ذکر کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی ہے کہ لکیر کا فقیر بن کر اپنی عاقبت اور دنیا خراب نہیں کر لینی چاہیے بلکہ اپنی عقل سے کام لے کر صحیح راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ تو اس طرح گمراہی میں پڑے رہے کہ ان کے ماں باپ نے گمراہی میں زندگی گزاری وہ بھی اسی راستے پر چلتے رہے اور کچھ لوگ اس طرح گمراہ رہے کہ پیغمبر کی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔ الٹا اس کو ہی الزام دیا برا بھلا کہا اور بعضوں نے تو اپنے پیغمبروں کو قتل تک کردیا۔ تو ایسے لوگوں کا راستہ اختیار کرنا اچھا ہے یا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →ف 4 اوپر ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے پہلے لوگوں کے پاس ڈرانے والے بھیجے۔ اس کی تفصیل کے لئے یہاں سے بعض پیغمبروں کی سرگزشت بیان کی جا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
(37:70) اثرہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے نشانات ۔ ان کے نشانات قدم ان کے پیچھے پیچھے۔ اثر واحد۔
یھرعون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ اھراع (افعال) مصدر بمعنی سختی اور تخویف سے ہانکنا۔ اور چلانا۔ ھریع تیز رو اور چلا کر رونے والا۔ ھرع برمحہ فتھرع : کے معنی نیزے کو سرعت کے ساتھ سیدھا کرنا کے ہیں۔ اھراع میں تیزی یا تیز رفتار کا مفہوم پایا جاتا ہے خواہ وہ تیزی شدت جذبات سے ہو یا کسی بیرونی طاقت کی سختی کی وجہ سے یا کسی خوف کی وجہ سے۔
یہاں فہم علی اثرہم یھرعون کے معنی ہیں وہ (جذبہ تقلید کی شدت کے زیر اثر) ان کے (یعنی اپنے آبائو اجداد کے ) نقش قدم پر چلے جارہے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وجاء ہ قومہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–74
لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا)
تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–74
(ف 2) قتادہ کا قول ہے کہ قرآن شریف میں تھوہر کے درخت کا ذکر آیا ہے تو مشرکین تعجب سے کہنے لگے کہ سبزدرخت دوزخ کی آگ میں کیونکر ہوسکتا ہے اس پر اللہ نے فرمایا یہ اللہ کی قدرت ہے کہ دوزخ کے کنارے پر نہیں بیچ دوزخ کی جڑ میں یہ درخت نکلے گا، جو آخرت میں ظالموں کے واسطے ایک بلا ہے کیونکہ جب دوزخی بھوک سے بےقرار ہوں گے تو یہ ہی کھانے کو دیاجائے گا، جہنمی تھوہر سے ان کے پیٹ پھریں گے وہ جلتا ہوگا پیٹوں کو جلائے گا اس کی سوزش سے پیاس کا غلبہ ہوگا اور مدت تک تو پیاس کی تکلیف میں رکھے جائیں گے پھر جب وہ پانی ان کو پلائے گا تو کٹ کر انتڑیاں نکل پڑیں گی اس کھولتے ہوئے پانی کو ملونی کا پانی جو فرمایا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–78
[14] یعنی ہم نے اس درخت کو آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے کہ اس کا ذکر سن کر کفار بطور استہزا کہتے کہ فلاں لغت میں زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ پھر انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے کہ آؤ زقوم کھائیں۔ کوئی ٹھٹھا مار کر کہتا لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
ف 1: شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم ۔ اس پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ جہنم میں یہ درخت کیونکر پیدا ہوسکتے ہیں ۔ مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ اول تو جہنم کے متعلق یہ ٹھیک ٹھیک ہے نہیں ۔ کہ وہ کیا چیز ہوگی ۔ یہ درست ہے ۔ وہاں آگ ہوگی مگر بعض ایسے گرم کرے ہیں ۔ جن میں آگ برستی ہے ۔ اور وہ حدرجہ گرم ہیں ۔ اور ان میں نباتات کا وجود ممکن ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ کرہ ہائے جار جہنم کا حصہ ہوں ۔ دوسرے آگ میں آتشین صفت نباتات کا ہونا ممکن ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ جہنم کا زقوم دنیا کے زقوم سے بالکل مختلف ہوگا ۔ فاندفع ماقیل
اہل جہنم کے حالات بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا ۔ کہ اس عذاب الیم کا سبب یہ ہے کہ دنیا میں انہوں نے…
Read the full tafseer →(71) اور بلا شبہ ان سے پہلے بھی اکثر لوگ گمراہ ہوچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
ف 5۔ یعنی شوق اور رغبت سے ان کی راہ بےراہی پر چلتے تھے۔
Read the full tafseer →پہلوں کی اکثریت بھی اسی طرح گمراہ ہوتی رہی :
71۔ گزشتہ قوموں کی اکثریت اسی طرح گمراہ ہوتی رہی کہ انہوں نے کبھی غور وغوض نہ کیا اور وہی کچھ کرتے رہے جو ان کے آباء و اجداد کرتے آرہے تھے بلکہ جب انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور رسل عظام نے ان کو منع کیا اور روکا تو بھی وہ اپنی ضد پر قائم رہے اور انہوں نے واضح طور پر یہ جواب دیا کہ ہم تو وہی کریں گے جو ہمارے باپ دادا کرتے آرہے ہیں اور ہم اپنے بزرگوں کو چھوڑ کر آپ کی بات کیسے مان سکتے ہیں ؟ اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقی کی پہلی جلد سورة البقرہ کی آیت 170 میں کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–74
By saying: طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ (Its fruits are like the heads of the shaitans.- 65), the fruits of zaqqum have been likened to the heads of the satans. Some commentators have translated the word: الشَّيَاطِينِ (ash-shayatin) in this verse as 'serpents' since the fruit of zaqqum resembles the hood of the serpent. Therefore, in Urdu and Hindi too, it is called 'nagphan' (hood of the serpent) for this very reason. But most
commentators have said that the word: الشَّيَاطِينِ (ash-shayatin) here should be taken in its well-recognized sense. Thus, it would mean that, in its…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
37 This shows that when the dwellers of Hell will be in distress due to hunger and thirst, they will be driven to the side where there would be the zaqqum trees and the springs of boiling water. When they will have eaten and drunk, they will be brought back to Hell.
Read the full tafseer →