As-Saaffaat 37:68

As-Saaffaat · from ayah 68

37:68

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَی الْجَحِیْمِ ۟ثُمَّ اِنَّ مَرۡجِعَهُمۡ لَا۟اِلَى الۡجَحِيۡمِ

پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then indeed, their return will be to the Hellfire.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:68

اور اس کے بعد ان کی واپسی اُسی آتش دوزخ کی طرف ہو گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی (آگ کے ڈھیرکی) طرف ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر وہ لوٹیں گے تو اسی دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ان کی بازگشت ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(کھانے کے بعد) پھر یقیناً ان کا دوزخ ہی کی طرف (دوبارہ) پلٹنا ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر بلاشبہ ان کی واپسی یقینا اسی بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر انہیں دوزخ کی طرف لوٹنا ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ان کا مرجع دوزخ کی طرف ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ان کی واپسی دوزخ ہی کی اس (بھڑکتی) دہکتی ہولناک آگ کی طرف ہوگی

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اخیر ٹھکانا ان کا دوزخ ہی کی طرف ہوگا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ان کا لوٹ کر آنا ہے جہنم کی طرف۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹا یا جائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

Then their return will be to the same blazing Hell.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, their final return is to the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, their final return is to the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And afterward, lo! their return is surely unto hell.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then indeed, their return will be to the Hellfire.

— Saheeh International

They can only return to hell.

— Muhammad Sarwar

Then most surely their return shall be to hell.

— Muhammad Habib Shakir

And thereafter verily their return is Unto the Flaming Fire.

— Abdul Majid Daryabadi

Then shall their return be to the (Blazing) Fire.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–70

زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 68–74

سورة الصّٰٓفّٰت 37 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ جب بھوک پیاس سے بےتاب ہونے لگیں گے تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا جہاں زقوم کے درخت اور کھولتے ہوئے پانی کے چشمے ہوں گے۔ پھر جب وہ وہاں سے کھا پی کر فارغ ہوجائیں گے تو انہیں دوزخ کی طرف لایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–74

(آیت) طلعھا کانہ رءوس الشیاطین، اس آیت میں زقوم کے پھل کو ”شیاطین کے سروں“ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے تو یہاں ”شیاطین“ کا ترجمہ ”سانپوں“ سے کیا ہے، یعنی زقوم کا پھل ایسی شکل کا ہوتا ہے جیسے سانپ کا پھن، اردو میں اسے ”ناگ پھن“ اسی لئے کہتے ہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہاں ”شیاطین“ سے اس کے معروف معنی ہی مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ زقوم کا پھل اپنی بدصورتی میں شیطانوں کے سر کی طرح ہوتا ہے۔ اب یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ شیطان کو تو کسی نے دیکھا نہیں، پھر اس کے ساتھ تشبیہ کیوں دی گئی ؟ اس لئے کہ یہ ایک تخیلی تشبیہ ہے، محاورہ میں بدصورت اور بدہئیت اشیاء کو شیطان اور جن بھوت سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ثم ان مرجمھم لابی الجحیم (68) یہ زقوم اہل دوزخ کو بطور تزل کے ملے گا جیسا کہ آیت 62 میں تصریح ہے۔ نزل اس چیز کو کہتے ہیں جو اولین ضیافت کے طور پر مہمان کے سامنے پیش کی جائے۔ فرمایا کہ ان کی اولین ضیافت تو اس زقوم اور کھولتے پانی سے ہوگی۔ پھر اس کے بعد ان کا اصل ٹھکانا جہنم بنے گی جہاں ان کے سارے اعمال کے نتائج ان کے سامنے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

68۔ 1 یعنی زقوم کے کھانے اور گرم پانی کے پینے کے بعد انہیں دوبارہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–69

13: یعنی یہ عذاب بھگتنے کے بعد بھی وہ دوزخ سے نہیں نکلیں گے، بلکہ دوزخ ہی میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم ان ۔۔۔۔۔ الجحیم (37: 68) ” “۔ یوں اس منفرد منظر کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اور اس سورت کا پہلا سبق ختم ہوتا ہے۔ گویا یہ منظر ایک دیکھا ہوا منظر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی بہت بھوکے ہوں گے تو آگ سے ہٹا کر یہ کھانا پانی کھلا پلا کر پھر آگ میں ڈال دیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 68{ ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَہُمْ لَا اِلَی الْجَحِیْمِ } ”پھر ان کا لوٹ کر آنا ہے جہنم کی طرف۔“ یعنی زقوم کا کھانا اور کھولتا ہوا مشروب تو ان لوگوں کو ابتدائی ”مہمان نوازی“ کے طور پر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں ان کے مستقل ٹھکانے یعنی جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 68–69

41 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخی جب بھوک سے بےتاب ہوجائیں گے تو انہیں جہنم کے اس علاقہ کی طرف لے جایا جائے گا جہاں بہت سے تھوہر کے درخت اگے ہوئے ہوں گے۔ وہ بھوک کے مارے اسے کھانے کی کوشش کریں گے تو وہ حلق میں پھنس جائے گا۔ جس پر انہیں پانی کی طلب ہوگی تو پیپ ملا کھولتا پانی پینے کو دیا جائے گا اس طرح ان کی بھوک کا علاج کیا جاوے گا اس مہمانی کے بعد انہیں پھر ان کے اصل ٹھکانوں تک لے جایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 68–70

32۔ یعنی گمراہی کے راستہ میں بڑے شوق ورغبت سے چلنے لگے (آیت) ” انھم ...... ضآلین “۔ آیت نے صاف کردیا کہ ان نتیجہ کا ترتب اہل جہنم پر صرف اس لئے ہوگا کہ انہوں نے دلیل صحیح کی پیروی چھوڑ کر محض اندھی تقلید شروع کردی تھی۔ والمقصود من الایۃ انہ تعالیٰ علل استحقاقھم للوقوع فی تلک الشدائد کلھا بتقلید الابآء فی الدین وترک اتباع الدلیل (کبیر) اور امام رازی نے لکھا ہے کہ اندھی تقلید کے ذم میں اگر کوئی اور آیت قرآن میں نہ ہوتی تو یہی ایک آیت کافی تھی، ولولم یوجد فی القران غیرھذہ الایۃ فی ذم التقلید لکفی (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم ان مرجعھم لا الی الجحیم پھر ان کی واپسی جحیم کی طرف ہوگی۔ بغوی نے لکھا ہے : پہلے گرم پانی پلانے کیلئے ان کو کھولتے پانی کے مقام پر لے جایا جائے گا ‘ پھر لوٹا کر جحیم میں لے آیا جائے گا ‘ گرم پانی کا مقام جحیم سے باہر ہوگا۔ اسی مضمون پر دلالت کر رہی ہے آیت یَطُوْفُوْنَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ وہ چکر کاٹتے رہیں گے دوزخ اور گرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 64–69

شان نزول : اِنَّهَا شَجَــرَةٌ تَخْرُجُ فِيْٓ اَصْلِ الْجَحِيْمِ (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے ابو جہل کہنے لگا کہ تمہارا ساتھی (یعنی حضور اکرم) کہتا ہے کہ دوزخ میں ایک درخت ہوگا حالانکہ آگ تو درخت کو کھا جاتی ہے میرے خیال میں تو زقوم کا درخت مکھن اور کھجور کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ چناچہ جب کفار دوزخ میں درخت ہونے کے بارے میں تعجب ہوا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی گہرائی میں سے نکلتا ہے اور اسی طرح سدی سے روایت نقل کی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ : اس سے معلوم ہوا کہ زقوم کا درخت اور کھولتے پانی کے چشمے جہنم کے کسی خاص حصے میں ہوں گے، جب انھیں بھوک یا پیاس لگے گی تو انھیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا، یا وہ خود ہی چلے جائیں گے، پھر دوبارہ انھیں بھڑکتی ہوئی آگ میں اپنے ٹھکانے کی طرف واپس لایا جائے گا، جیسا کہ فرمایا : (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ) [ الرحمٰن : 44 ] ”وہ اس (جہنم) کے درمیان اور کھولتے ہوئے سخت گرم پانی کے درمیان چکر کاٹتے رہیں گے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–68

62 ۔ 68:۔ اذلک خیر یہ مبتدا اور خبر ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : نزلا اس کا بیان ہے اس کا معنی ہے کیا جنت کی نعمتیں بہتر ہیں ضیافتیں ہیں یا زقوم کا درخت بہترین ضیافت ہے ؟ نزل لغت میں اس رزق کو کہتے ہیں جس میں وسعت ہو۔ نحاس نے کہا : اسی طرح النزل اور نزل ہے مگر یہ بھی جائز ہے کہ نزل بھی اس کی ایک لغت ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ اصل میں یہ نزل ہو اس سے یہ جملہ ہو قیم للقوم نزلھم قوم کے لئے ان کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اس کا اشتقاق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ وہ غذا ہے جو اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ وہ پڑائو کرتے اور اس ہی میں مقیم رہتے۔ سورة آل عمران کے آخر میں یہ گذر چکا ہے۔ شجرۃ الزقیوم یہ تزقم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–68

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زقوم کے درخت کا ذکر فرمایا تو اس کی وجہ سے ظالم لوگوں نے بڑا فتنہ کھڑا کردیا۔ ابوجہل نے کہا تمہارا ساتھی (یعنی محمد ﷺ یہ گمان کرتا ہے کہ آگ میں ایک درخت ہوگا جبکہ آگ درخت کو کھا جاتی ہے اور اللہ کی قسم ! ہم جانتے ہیں زقوم کو کہ وہ کھجور اور مکھن ہے تو تم بھی زقوم سے لطف اندوز ہو جب انہوں نے تعجب کیا کہ آگ میں درخت ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم “ (کہ وہ درخت نکلے گا جہنم کی جڑ میں سے) یعنی اس کو آگ سے غذا دی جائے گی اور آگ سے ہی اس کو پیدا کیا جائے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ [پھر بیشک ان کا لوٹنا ] لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ [یقینا دوزخ کی طرف ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(ثُمَّ اِِنَّ مَرْجِعَہُمْ لاَ اِلَی الْجَحِیْمِ ) (پھر ان کا لوٹنا دوزخ ہی کی طرف ہوگا) زقوم کھانے اور گرم پانی پینے کے لیے جس جگہ جائیں گے وہ بھی دوزخ ہی میں ہوگی اور یہ چیزیں کھا پی کر بھی دوزخ میں ہی رہیں گے، اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائیں گے۔ (قال صاحب الروح ای التی مقرھم من النار فانّ فی جھنّم مواضع اعدفی کل موضع منھا نوع من البلاء) (تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں یعنی جہنم میں ان کے ٹھکانے کی طرف لوٹنا ہے کیونکہ جہنم میں کئی درجے ہیں ہر جگہ ایک الگ قسم کا عذاب ہے۔ ) زقوم کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ ہم نے اسے ظالموں کے لیے امتحان کی چیز بنایا ہے (یعنی موت کے بعد دوزخ میں داخل ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–74

افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین۔ گذشتہ آیت میں اس جنتی قاتل کے کلام کا ذکر تھا جس نے اپنے ایک دنیاوی قرین (ساتھی) کو جہنم میں جھانک کر دیکھا تھا اب اس آیت میں (یعنی افما نحن بمیتین) میں پھر اسی کے کلام کا ذکر ہے۔ امام رازی (رح) اور امام قرطبی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں دو قول نقل کئے ہیں دیکھو تفسیر کبیر (ف 1) ص 138 ج 7۔ 1 قال الامام الرازی قولہ تعالیٰ افما نحن بمیتین فیہ قولان الاول ان اھل الجنۃ لا یعلمون فی اول دخولہم فی الجنۃ انہم لا یموتون فاذا جییء بالموت علی صورۃ کبش املح وذبح فعند ذلک یعلمون انہم لا یموتون والثانی ان الذی یتکامل خیرہ وسعادتہ فاذا عظم تعجبہ بھا قد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 67–69

31:۔ انہم الفوا الخ : یہ ماقبل کے لیے تعلیل ہے۔ اس میں ان کے استحقاق عذاب کا سبب بیان کیا گیا۔ انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا۔ اور ان کی گمراہی ان پر واضح ہوگئی۔ کیونکہ وقتاً فوقتاً ہمارے پیغمبر اور ان کے جانشین ان کو ہدایت کی راہ بتاتے رہے۔ اور حق و باطل کو کھلی دلیلوں سے ان پر واضح کرتے رہے۔ مگر یہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات کو ماننے کی بجائے آنکھیں بند کر کے اپنے گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر تیزی سے چلتے رہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 62–74

توحید کے بیان کے بعد جزائے عمل کے سلسلے میں اللہ نے اپنے مخلص بندوں کا ذکر فرمایا اور ان کو جنت میں ملنے والے انعامات کی ایک جھلک پیش کی۔ اللہ نے ان کے سکون و راحت ، ان کی بیویوں اور ان کے عزت کے مقام کا ذکر کیا۔ اس عیش و آرام کی زندگی میں انہیں دنیا کے اپنے بعض ساتھیوں کی یاد بھی آئے گی اور وہ انہیں جہنم میں پا کر ان سے بات چیت کریں گے۔ انعامال الٰہیہ کا شکر ادا کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو آج ہم بھی تمہارے ساتھ جہنم میں ہوتے۔ اللہ کی رحمت سے ہم نے ایمان قبول کیا اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہزوئے تو اللہ نے ہمیں راحت کے اس مقام تک پہنچایا ، جہاں ہم ہمیشہ کی زندگی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَہُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ۝ 68 رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–74

طلعہا کانہ رؤس الشیاطین طلع شگوفہ نخستیں بر درخت خرما (صراح) اس کا گابھا ایسا ہوگا کہ جیسا شیطان کا سر، عرف میں بری چیز کو شیطان سے تشبیہ دیا کرتے ہیں، اس لیے کہ اذہان بنی آدم میں شیطان نہایت مکروہ چیز ہے، یعنی اس پیڑ کی صورت بھی نہایت مکروہ ہوگی، جہنم میں جب کھانے کو اور کچھ نہ ملے گا تو بھوکا مرتا کیا نہ کرتا، اسی کو کھاویں گے۔ فانہم لاکلون منہا اور بھوک کے مارے ایسا کھاویں گے کہ فما لئون منہا البطون کہ پیٹ بھرلیں گے، پھر اس کی سوزش سے پانی کے لیے محتاج ہوں گے۔ ثم ان لہم تو کھولتا ہوا گرم پانی دیا جائے گا، اس کے بعد پھر جہنم کی کوٹھڑیوں میں بند کردیے جاویں گے۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی ثم ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَھُمْ لَاْ اِلَی الْجَحِیْمِ ۔ (الصآفات : 68) (پھر ان کا لوٹنا دوزخ کی طرف ہوگا۔ ) اصل ٹھکانہ جہنم اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب اہل دوزخ بھوک اور پیاس سے بیتابی کا اظہار کریں گے تو انھیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا جہاں زقوم کے درخت اور کھولتے ہوئے پانی کے چشمے ہوں گے۔ زقوم سے جیسے کیسے وہ اپنا پیٹ بھریں گے اور پانی کے ابلتے ہوئے چشموں سے پیاس بجھائیں گے۔ پھر وہاں سے انھیں واپس جہنم کی اسی جگہ پر بھیج دیا جائے گا جہاں سے انھیں کھانے پینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اہل جہنم کو اولین ضیافت کے طور پر تو زقوم اور کھولتا ہوا پانی ملے گا، پھر وہاں سے ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 62–74

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی نعمتوں اور عیش و عشرت کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزا اور ان کی بدترین خوراک۔ جنتیوں کی تکریم و تعظیم اور اس کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم کی بدترین خوراک بتلا کر استفسار فرمایا ہے کہ بتاؤ ! جنت کے انواع و اقسام کے کھانے اور پھل بہتر ہیں یا کہ تھوہر کا درخت ؟ جسے اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے یہ درخت جہنم کی تہہ سے اگے گا اس کے شگوفے شیطانوں کے سروں کی طرح ہوں گے۔ جہنمی اس کو کھائیں گے اور اپنے پیٹ بھرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کو نگلنے کے لیے ابلتا ہوا پانی دیا جائے گا اور پھر انہیں جہنم کے ایک اور گڑھے کی طرف دھکیلا جائے گا۔ یہ سزا اس لیے ہوگی کیونکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

68: ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَھُمْ لَا اِلَی الْجَحِیْمِ (پھر ٹھکانہ ان کا دوزخ ہی کی طرف ہوگا) یعنی ان کے مقامات اور مکانات سے جو جہنم میں ہونگے اور وہ مقامات درکات جہنم ہیں۔ زقوم کے درخت کی طرف لے جایا جائے گا۔ وہ اس سے کھاتے جائیں گے یہاں تک کہ اکتا جائیں گے۔ پھر ان کو گرم پانی پلا کر واپس طبقات دوزخ میں کردیا جائے گا۔ ثم تراخی کیلئے آتا ہے۔ تراخی کا معنی اس میں ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

68، ثم ان مرجعھم، گرم پانی پینے کے بعد ، لا لی الجحیم ، پانی پلانے کے لیے ان کو گرم پانی کے قریب لے جایا جائے گا، پھر لوٹا کر جحیم میں لیجایاجائے گا ، گرم پانی کا مقام حجیم سے باہر ہوگا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کررہا ہے۔ ، یطرفون بینھا وبین حمیم ان، حضرت ابن مسعود ؓ نے اس طرح پڑھا ہے، ثم ان منقلبھم لا الی الجحیم ،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–74

62۔ 74۔ اوپر جنت کی نعمتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ کہ یہ جنت کی نعمتیں بہتر ہیں۔ یا دوزخیوں کی خوراک سینڈھ کا درخت بہتر ہے۔ ترمذی 1 ؎ نسانی ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے صحیح روایت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اس دوزخ کے سینڈھ کے عرق کا ایک قطرہ بھی اگر زمین پر ٹپک پڑے تو تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوجاوے۔ اور اگر دنیا کے دریاؤں میں وہ قطرہ پڑجاوے۔ تو دریاؤں کا پانی بالکل بگڑ جاوے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا افسوس ہے۔ ان لوگوں کے حال پر جن کی خوراک یہ سینڈھ کا پھل ہوگا۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ وہ سینڈھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–74

آیت 74 (اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–69

42 شجرئہ زقوم ظالموں کیلئے ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے اس کو فتنہ اور آزمائش کا سامان بنادیا ظالموں کے لیے۔ یعنی دنیا میں ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ کہ ظالموں نے اس کا مذاق اڑایا اور اس کو جھٹلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلا دوزخ کی دہکتی آگ میں کوئی درخت کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ اور ابو جہل اپنے حواریوں سے کہتا تھا کہ محمد ﷺ تو تمہیں زقوم سے ڈراتا ہے حالانکہ وہ تو پنیر اور کھجور ہے۔ اور پھر وہ بدبخت پنیر اور کھجور لا کر ان کو کھلاتا اور مذاق اڑاتا۔ سو اس طرح یہ درخت آخرت میں ان کے لئے دوزخ کے اس دائمی عذاب کا ذریعہ بن گیا ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–74

برُے لوگوں کی سزا بہتر ہے یا جنت کا انعام تشریح : ان آیات میں جہنم کے عذاب کو بڑے درد ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر انسانی فطرت کا ذکر کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی ہے کہ لکیر کا فقیر بن کر اپنی عاقبت اور دنیا خراب نہیں کر لینی چاہیے بلکہ اپنی عقل سے کام لے کر صحیح راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ تو اس طرح گمراہی میں پڑے رہے کہ ان کے ماں باپ نے گمراہی میں زندگی گزاری وہ بھی اسی راستے پر چلتے رہے اور کچھ لوگ اس طرح گمراہ رہے کہ پیغمبر کی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔ الٹا اس کو ہی الزام دیا برا بھلا کہا اور بعضوں نے تو اپنے پیغمبروں کو قتل تک کردیا۔ تو ایسے لوگوں کا راستہ اختیار کرنا اچھا ہے یا کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زقوم کا درخت اور کھولتے پانی کے چشمے دوزخ کے کسی خاص علاقہ میں ہوں گے۔ جب ان کی بھوک یا پیاس لگے گی تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا اور پھر دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف واپس لایا جائیگا

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:68) مرجعہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا مرجع۔ لوٹنا۔ رجوع کرنا۔ رجع یرجع (ضرب) سے مصدر میمی ہے۔ رجوع مرجعۃ۔ رجعی ورجعان بھی مصدر ہیں۔ لا الی الجحیم۔ لا میں لام کے بعد الف زائد ہے۔ پڑھا نہیں جاتا۔ یہ قرآن مجید میں کئی جگہ اس صورت میں آیا ہے مثلاً ۔ لا اوضعوا (9:47) قواریرا (76:16) وغیرہ۔ لا الی الجحیم۔ جہنم کی طرف۔ فائدہ : 62 تا 68 آیات کی تشریح۔ جہنمیوں کو پہلے وسط جہنم میں لے جایا جائے گا۔ جہاں زقوم کا درخت اپنی بدصورتی ، بد ذائقی، زہریلی خاصیت کے ساتھ اگتا ہے وہاں بھوک کی شدت سے وہ پیٹ بھر کر کھائیں گے۔ پھر ان کو نہایت سخت گرم پانی کا محلول پلایا جائے یہ گرم پانی مقام جحیم سے باہر ہوگا :۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–74

لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا) تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–74

(ف 2) قتادہ کا قول ہے کہ قرآن شریف میں تھوہر کے درخت کا ذکر آیا ہے تو مشرکین تعجب سے کہنے لگے کہ سبزدرخت دوزخ کی آگ میں کیونکر ہوسکتا ہے اس پر اللہ نے فرمایا یہ اللہ کی قدرت ہے کہ دوزخ کے کنارے پر نہیں بیچ دوزخ کی جڑ میں یہ درخت نکلے گا، جو آخرت میں ظالموں کے واسطے ایک بلا ہے کیونکہ جب دوزخی بھوک سے بےقرار ہوں گے تو یہ ہی کھانے کو دیاجائے گا، جہنمی تھوہر سے ان کے پیٹ پھریں گے وہ جلتا ہوگا پیٹوں کو جلائے گا اس کی سوزش سے پیاس کا غلبہ ہوگا اور مدت تک تو پیاس کی تکلیف میں رکھے جائیں گے پھر جب وہ پانی ان کو پلائے گا تو کٹ کر انتڑیاں نکل پڑیں گی اس کھولتے ہوئے پانی کو ملونی کا پانی جو فرمایا۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–78

[14] یعنی ہم نے اس درخت کو آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے کہ اس کا ذکر سن کر کفار بطور استہزا کہتے کہ فلاں لغت میں زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ پھر انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے کہ آؤ زقوم کھائیں۔ کوئی ٹھٹھا مار کر کہتا لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–71

ف 1: شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم ۔ اس پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ جہنم میں یہ درخت کیونکر پیدا ہوسکتے ہیں ۔ مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ اول تو جہنم کے متعلق یہ ٹھیک ٹھیک ہے نہیں ۔ کہ وہ کیا چیز ہوگی ۔ یہ درست ہے ۔ وہاں آگ ہوگی مگر بعض ایسے گرم کرے ہیں ۔ جن میں آگ برستی ہے ۔ اور وہ حدرجہ گرم ہیں ۔ اور ان میں نباتات کا وجود ممکن ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ کرہ ہائے جار جہنم کا حصہ ہوں ۔ دوسرے آگ میں آتشین صفت نباتات کا ہونا ممکن ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ جہنم کا زقوم دنیا کے زقوم سے بالکل مختلف ہوگا ۔ فاندفع ماقیل اہل جہنم کے حالات بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا ۔ کہ اس عذاب الیم کا سبب یہ ہے کہ دنیا میں انہوں نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(68) پھر ان کی باز گشت دوزخ کی طرف ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بہت بھوکے ہوں گے تو آگ سے ہٹا کر یہ کھانا پانی کھلا پلا کر پھر آگ میں ڈال دیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر ان کو آگ کے انگاروں میں واپس کیا جائے گا : 68۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھوک اور پیاس لگے گی لیکن وہ بھوک ہڑتال بھی نہیں کرسکیں گے کیونکہ وہاں جو کچھ ہے وہ سب کا سب اختیاری نہیں ہوگا بلکہ غیر اختیار طور پر ہر ایک کو کرنا ہی پڑے گا اور بغیر کیے کوئی چارہ کار نہیں ہوگا لہذا معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ کے جس حصہ میں تھوہر اور کھولتا ہوا پانی ہوگا اس طرح ان کو لایا جائے گا اور پھر بزور وہاں سے یہ دو چیزیں ان کو کھلائی جائیں گی اور ان کو کھالینے کے بعد دوبارہ ان کو ہانک کر دوزخ کے کوئلوں کی طرف کردیا جائے گا جہاں ان کو خوب بھونا جائے گا اور اسی طرح اس دوزخ میں مسلسل عذاب دیئے جاتے رہیں گے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–74

By saying: طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُ‌ءُوسُ الشَّيَاطِينِ (Its fruits are like the heads of the shaitans.- 65), the fruits of zaqqum have been likened to the heads of the satans. Some commentators have translated the word: الشَّيَاطِينِ (ash-shayatin) in this verse as 'serpents' since the fruit of zaqqum resembles the hood of the serpent. Therefore, in Urdu and Hindi too, it is called 'nagphan' (hood of the serpent) for this very reason. But most commentators have said that the word: الشَّيَاطِينِ (ash-shayatin) here should be taken in its well-recognized sense. Thus, it would mean that, in its…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–73

37 This shows that when the dwellers of Hell will be in distress due to hunger and thirst, they will be driven to the side where there would be the zaqqum trees and the springs of boiling water. When they will have eaten and drunk, they will be brought back to Hell.

Read the full tafseer →