As-Saaffaat 37:66

As-Saaffaat · from ayah 66

37:66

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِـُٔوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ ۟ؕفَاِنَّهُمۡ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡهَا فَمٰلِـئُــوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ

سو وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, they will eat from it and fill with it their bellies.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:66

جہنم کے لوگ اُسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(جہنمی) اسی درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ دوزخی لوگ اسی میں سے خوراک حاصل کریں گے، اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس وہ (دوزخی) اسی میں سے کھانے والے ہیں اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس بیشک وہ یقینا اس میں سے کھانے والے ہیں، پھر اس سے پیٹ بھرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اہل دوزخ) اسی کو کھائیں گے اور اس سے اپنے پیٹ بھریں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ لوگ اسی کو کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو ان لوگوں کو اس سے کھانا ہوگا اور (کھانا بھی ایسا کہ) اسی سے ان کو پیٹ بھرنا ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

تو وہ لوگ اس سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ اس میں سے کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

(The people of Hell) will surely eat of it, filling their bellies with it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, they have to eat from it and have to fill their bellies with it.

— Muhammad Taqi Usmani

So, they have to eat from it and have to fill their bellies with it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, they will eat thereof and fill their bellies therewith.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! they verily must eat thereof, and fill (their) bellies therewith.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, they will eat from it and fill with it their bellies.

— Saheeh International

The dwellers of hell will eat that fruit and fill-up their bellies.

— Muhammad Sarwar

Then most surely they shall eat of it and fill (their) bellies with it.

— Muhammad Habib Shakir

And verily they must eat thereof and fill their bellies therewith.

— Abdul Majid Daryabadi

Truly they will eat thereof and fill their bellies therewith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–70

زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–67

سورة الصّٰٓفّٰت 36 کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ شیطان کا سر کس نے دیکھا ہے جو زقوم کے شگوفوں کو اس سے تشبیہ دی گئی۔ دراصل یہ تخییلی نوعیت کی تشبیہ ہے اور عام طور پر زبان کے ادب میں اس سے کام لیا جاتا ہے۔ مثلاً ہم ایک عورت کی انتہائی خوبصورتی کا تصور دلانے کے لیے کہتے ہیں وہ پری ہے۔ اور انتہائی بدصورتی بیان کرنے کے لیے کہتے ہیں، وہ چڑیل ہے یا بھتنی ہے۔ کسی شخص کی نورانی شکل کی تعریف میں کہا جاتا ہے، وہ فرشتہ صورت ہے۔ اور کوئی نہایت بھیانک ہیئت کذائی میں سامنے آئے تو دیکھنے والے کہتے ہیں کہ وہ شیطان بنا چلا آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–74

(آیت) طلعھا کانہ رءوس الشیاطین، اس آیت میں زقوم کے پھل کو ”شیاطین کے سروں“ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے تو یہاں ”شیاطین“ کا ترجمہ ”سانپوں“ سے کیا ہے، یعنی زقوم کا پھل ایسی شکل کا ہوتا ہے جیسے سانپ کا پھن، اردو میں اسے ”ناگ پھن“ اسی لئے کہتے ہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہاں ”شیاطین“ سے اس کے معروف معنی ہی مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ زقوم کا پھل اپنی بدصورتی میں شیطانوں کے سر کی طرح ہوتا ہے۔ اب یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ شیطان کو تو کسی نے دیکھا نہیں، پھر اس کے ساتھ تشبیہ کیوں دی گئی ؟ اس لئے کہ یہ ایک تخیلی تشبیہ ہے، محاورہ میں بدصورت اور بدہئیت اشیاء کو شیطان اور جن بھوت سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 66–67

فانھم لاکلون … من خمیم فرمایا کہ یہ زقوم ان کی غذا بنے گا اور یہ اس کے کھانے پر اس طرح مضطر ہوں گے کہ اسی سے اپنے پیٹ بھریں گے اور پھر اس کو حلق سے اتارنے اور ہضم کرنے کے لئے اس کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی پئیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

66۔ 1 یہ انہیں نہایت کراہت سے کھانا پڑے گا جس سے ظاہر بات ہے پیٹ بوجھل ہی ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 65–66

11: اس کا ایک ترجمہ سانپوں کے سر سے بھی کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اردو میں جس درخت کو ناگ پھنی کا درخت کہا جاتا ہے، وہی زقوم ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فانھم لا ۔۔۔۔ البطون (37: 66) ” “۔ اور اس کے کھانے میں اور نکلنے میں ان کو تکلیف ہوگی کیونکہ یہ تو شیاطین کے سروں جیسا ہوگا۔ اور اس سے ان کے پیٹ جل اٹھیں گے۔ اس لئے کہ یہ تو پیدا ہی جہنم میں ہوگا۔ اور یہ خود نہیں جلے گا یہ ہوگا ہی آگ کی نوعیت کا۔ اب یہ پانی کی طرف متوجہ ہوں گے تاکہ پیاس بجھا سکیں۔ چناچہ پینے کے لیے ان کو غیر خالص پانی ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 66–67

7 " زقوم " کھا کر پیاس لگے گی تو سخت جلتا پانی پلایا جائے گا جس سے آنتیں کٹ کر باہر آپڑیں گی۔ (فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَهُمْ ) 47 ۔ محمد :15) اعاذنا اللہ منہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 66{ فَاِنَّہُمْ لَاٰکِلُوْنَ مِنْہَا فَمَالِئُوْنَ مِنْہَا الْبُطُوْنَ } ”پھر وہ اس میں سے کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔“ ویسے تو وہ درخت ایسا ہوگا کہ کوئی اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا لیکن ‘ اہل جہنم بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر اس درخت کو کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 65–66

39 شیطان کے مختلف مفہوم :۔ شیطان دراصل ہر بد روح کو کہتے ہیں جو اپنی سرکشی اور نافرمانی کی بنا پر حق سے دور ہوچکا ہو۔ اور جنوں میں سے جو خبیث، موذی اور بدکردار قسم کے جن ہوں انہیں ہی شیطان کہا جاتا ہے۔ پھر اس کا اطلاق ہر ایسی صفات رکھنے والی چیز پر ہونے لگا۔ خواہ وہ جن ہو یا انسان ہو یا کوئی جانور ہو۔ اور سانپ کو اس کی ایذا ہی کی وجہ سے شیطان کہتے ہیں۔ (منجد) اور اس معنی کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جب تم گھر میں کوئی سانپ دیکھو تو اسے مارنے سے پہلے یہ کہہ دو کہ اگر وہ کوئی جن یا شیطان ہے تو چلا جائے۔ اگر پھر بھی نہ جائے تو اسے مار ڈالو۔ (مسلم۔ باب قتل الحیات، بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 66–67

31۔ (غساق یعنی پیپ کے ساتھ) یعنی بھوک سے مضطر ہو کر تو زقوم سے پیٹ بھریں گے، اور پیاس سے بےقرار ہوکرکھولتا ہوا پانی پیپ ملا ہوا پیٹ میں انڈیلیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–84

آیت نمبر 51 تا 84 ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فانھم لاکلون منھا فما لؤن منھا البطون سو دوزخی اس (درخت یا درخت کے پھلوں) کو کھائیں گے اور اس سے پیٹ بھریں گے۔ مَلْاٌ برتن کو اتنا بھرنا کہ اس سے زیادہ ممکن نہ ہو (لبریز کردینا) یعنی بھوک کے غلبہ کی وجہ سے یا کسی جابر کے جبر کی وجہ سے وہ پیٹ بھر کر زقوم کھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 64–69

شان نزول : اِنَّهَا شَجَــرَةٌ تَخْرُجُ فِيْٓ اَصْلِ الْجَحِيْمِ (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے ابو جہل کہنے لگا کہ تمہارا ساتھی (یعنی حضور اکرم) کہتا ہے کہ دوزخ میں ایک درخت ہوگا حالانکہ آگ تو درخت کو کھا جاتی ہے میرے خیال میں تو زقوم کا درخت مکھن اور کھجور کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ چناچہ جب کفار دوزخ میں درخت ہونے کے بارے میں تعجب ہوا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی گہرائی میں سے نکلتا ہے اور اسی طرح سدی سے روایت نقل کی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا : یعنی جہنمیوں پر ایسی خوف ناک بھوک مسلط ہوگی کہ زقوم کے نہایت تلخ ہونے اور گلے میں اٹکنے کے باوجود اسے چارو ناچار کھائیں گے۔ دیکھیے سورة مزمل (12، 13) اور غاشیہ (6، 7) اور پیٹ بھر کر کھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–68

62 ۔ 68:۔ اذلک خیر یہ مبتدا اور خبر ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : نزلا اس کا بیان ہے اس کا معنی ہے کیا جنت کی نعمتیں بہتر ہیں ضیافتیں ہیں یا زقوم کا درخت بہترین ضیافت ہے ؟ نزل لغت میں اس رزق کو کہتے ہیں جس میں وسعت ہو۔ نحاس نے کہا : اسی طرح النزل اور نزل ہے مگر یہ بھی جائز ہے کہ نزل بھی اس کی ایک لغت ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ اصل میں یہ نزل ہو اس سے یہ جملہ ہو قیم للقوم نزلھم قوم کے لئے ان کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اس کا اشتقاق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ وہ غذا ہے جو اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ وہ پڑائو کرتے اور اس ہی میں مقیم رہتے۔ سورة آل عمران کے آخر میں یہ گذر چکا ہے۔ شجرۃ الزقیوم یہ تزقم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–68

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زقوم کے درخت کا ذکر فرمایا تو اس کی وجہ سے ظالم لوگوں نے بڑا فتنہ کھڑا کردیا۔ ابوجہل نے کہا تمہارا ساتھی (یعنی محمد ﷺ یہ گمان کرتا ہے کہ آگ میں ایک درخت ہوگا جبکہ آگ درخت کو کھا جاتی ہے اور اللہ کی قسم ! ہم جانتے ہیں زقوم کو کہ وہ کھجور اور مکھن ہے تو تم بھی زقوم سے لطف اندوز ہو جب انہوں نے تعجب کیا کہ آگ میں درخت ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم “ (کہ وہ درخت نکلے گا جہنم کی جڑ میں سے) یعنی اس کو آگ سے غذا دی جائے گی اور آگ سے ہی اس کو پیدا کیا جائے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنَّهُمْ [تو وہ لوگ ] لَاٰكِلُوْنَ [یقینا کھانے والے ہیں ] مِنْهَا [اس میں سے ] فَمَالِـــــُٔوْنَ [پھر بھرنے والے ہیں ] مِنْهَا [اس سے ] الْبُطُوْنَ [پیٹوں کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 62–67

شجرۃ الزقوم کا تذکرہ جسے اہل جہنم کھائیں گے اوپر اہل جنت کی نعمتوں کا اور وہاں کی کامیابیوں کا تذکرہ فرمایا ہے، اور ان آیتوں میں اہل دوزخ کے کھانے کی چیزوں میں سے ایک چیز یعنی زقوم کا تذکرہ فرمایا، اہل جنت کے بارے میں فرمایا (اُولٰٓءِکَ لَھُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمُ ) اور یہاں یوں فرمایا (اَذٰلِکَ خَیْرٌ نُزُلًا اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّومِ ) (کیا اہل جنت کا رزق بہتر ہے جو بطور مہمانی ان کو دیا جائے گا یا زقوم کا درخت بہتر ہے) زقوم کا درخت بہت ہی زیادہ بدمزہ اور کڑوا ہوگا جو دوزخ کی گہرائی میں سے نکلے گا، اس کے پھل ایسے ہوں گے جیسے سانپوں کے پھن ہوں۔ اس میں درخت کی بدصورتی بیان فرمائی، مزہ بھی بہت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–74

افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین۔ گذشتہ آیت میں اس جنتی قاتل کے کلام کا ذکر تھا جس نے اپنے ایک دنیاوی قرین (ساتھی) کو جہنم میں جھانک کر دیکھا تھا اب اس آیت میں (یعنی افما نحن بمیتین) میں پھر اسی کے کلام کا ذکر ہے۔ امام رازی (رح) اور امام قرطبی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں دو قول نقل کئے ہیں دیکھو تفسیر کبیر (ف 1) ص 138 ج 7۔ 1 قال الامام الرازی قولہ تعالیٰ افما نحن بمیتین فیہ قولان الاول ان اھل الجنۃ لا یعلمون فی اول دخولہم فی الجنۃ انہم لا یموتون فاذا جییء بالموت علی صورۃ کبش املح وذبح فعند ذلک یعلمون انہم لا یموتون والثانی ان الذی یتکامل خیرہ وسعادتہ فاذا عظم تعجبہ بھا قد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 63–66

30:۔ فانہم لاکلون الخ : دوزخی بھوک مٹانے کے لیے اس شجرہ خبیثہ سے پیٹ بھر کھائیں گے لیکن اس سے ان کی تسلی نہیں ہوگی۔ بلکہ اس سے انہیں سخت پیاس لگے گی۔ اس پر انہیں کھولتا ہوا پانی پینے کے لیے دیا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو بھی کاٹ ڈالے گا۔ اس پانی میں غلیظ و متفن مواد مخلوط ہوگا۔ لشرابا من غساق اوصدید بماء حمیم یقطع امعاءھم (بیضاوی) ۔ اس کے بعد ان کو جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں پہنچا دیا جائے گا۔ گرم پانی پلانے کے لیے جہنم میں ایک علیحدہ طبقہ ہوگا۔ فالقوم یخرجون من محل قرارہم حیث تاجح النار و یساقون الی موضع اخر مما دارت علیہ جہنم فیہ ذلک الشراب لیردوہ و یسقوا منہ ثم یردون الی محلہم الخ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 62–74

توحید کے بیان کے بعد جزائے عمل کے سلسلے میں اللہ نے اپنے مخلص بندوں کا ذکر فرمایا اور ان کو جنت میں ملنے والے انعامات کی ایک جھلک پیش کی۔ اللہ نے ان کے سکون و راحت ، ان کی بیویوں اور ان کے عزت کے مقام کا ذکر کیا۔ اس عیش و آرام کی زندگی میں انہیں دنیا کے اپنے بعض ساتھیوں کی یاد بھی آئے گی اور وہ انہیں جہنم میں پا کر ان سے بات چیت کریں گے۔ انعامال الٰہیہ کا شکر ادا کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو آج ہم بھی تمہارے ساتھ جہنم میں ہوتے۔ اللہ کی رحمت سے ہم نے ایمان قبول کیا اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہزوئے تو اللہ نے ہمیں راحت کے اس مقام تک پہنچایا ، جہاں ہم ہمیشہ کی زندگی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنَّہُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْہَا فَمَالِـــــُٔوْنَ مِنْہَا الْبُطُوْنَ۝ 66ۭ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ مِلْء) بهرنا) مقدار ما يأخذه الإناء الممتلئ، يقال : أعطني ملأه ومِلْأَيْهِ وثلاثة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–74

طلعہا کانہ رؤس الشیاطین طلع شگوفہ نخستیں بر درخت خرما (صراح) اس کا گابھا ایسا ہوگا کہ جیسا شیطان کا سر، عرف میں بری چیز کو شیطان سے تشبیہ دیا کرتے ہیں، اس لیے کہ اذہان بنی آدم میں شیطان نہایت مکروہ چیز ہے، یعنی اس پیڑ کی صورت بھی نہایت مکروہ ہوگی، جہنم میں جب کھانے کو اور کچھ نہ ملے گا تو بھوکا مرتا کیا نہ کرتا، اسی کو کھاویں گے۔ فانہم لاکلون منہا اور بھوک کے مارے ایسا کھاویں گے کہ فما لئون منہا البطون کہ پیٹ بھرلیں گے، پھر اس کی سوزش سے پانی کے لیے محتاج ہوں گے۔ ثم ان لہم تو کھولتا ہوا گرم پانی دیا جائے گا، اس کے بعد پھر جہنم کی کوٹھڑیوں میں بند کردیے جاویں گے۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی ثم ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاِنَّھُمْ لَاٰکِلُوْنَ مِنْھَا فَمَالِئُوْنَ مِنْھَا الْـبُطُوْنَ ۔ (الصآفات : 66) (پس وہ اسی سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔ ) تکلیف دہ غذا یعنی آگ کی تپش اور عذاب کی شدت سے جبکہ وہ بھوک اور پیاس سے کلبلائیں گے تو اسی درخت کے پھل اور شاید اس کے پتوں کو انھیں کھانے پر مجبور کیا جائے گا۔ چونکہ اور کچھ کھانے کو نہیں ہوگا اس لیے وہ اسی سے اپنا پیٹ بھریں گے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 62–74

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی نعمتوں اور عیش و عشرت کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزا اور ان کی بدترین خوراک۔ جنتیوں کی تکریم و تعظیم اور اس کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم کی بدترین خوراک بتلا کر استفسار فرمایا ہے کہ بتاؤ ! جنت کے انواع و اقسام کے کھانے اور پھل بہتر ہیں یا کہ تھوہر کا درخت ؟ جسے اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے یہ درخت جہنم کی تہہ سے اگے گا اس کے شگوفے شیطانوں کے سروں کی طرح ہوں گے۔ جہنمی اس کو کھائیں گے اور اپنے پیٹ بھرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کو نگلنے کے لیے ابلتا ہوا پانی دیا جائے گا اور پھر انہیں جہنم کے ایک اور گڑھے کی طرف دھکیلا جائے گا۔ یہ سزا اس لیے ہوگی کیونکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

66: فَاِنَّھُمْ لَاٰ کِلُوْنَ مِنْھَا (تو وہ لوگ اس میں سے کھائیں گے) یا اس کے پھل سے کھائیں گے۔ فَمَا لِئُوْ نَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ (اور اسی سے پیٹ بھریں گے) سخت بھوک کے غالب آنے کی وجہ سے وہ اسی سے پیٹ بھریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

66، فانھم لاکلون منھا فمالئون منھا البطون، مل برتن کو اتنا بھر نا کہ اس سے زیادہ ممکن نہ ہو۔ یعنی بھوک کے غلبہ کی وجہ سے یا کسی جابر کے جبر کی وجہ سے وہ پیٹ بھر کر زقوم کھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–74

62۔ 74۔ اوپر جنت کی نعمتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ کہ یہ جنت کی نعمتیں بہتر ہیں۔ یا دوزخیوں کی خوراک سینڈھ کا درخت بہتر ہے۔ ترمذی 1 ؎ نسانی ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے صحیح روایت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اس دوزخ کے سینڈھ کے عرق کا ایک قطرہ بھی اگر زمین پر ٹپک پڑے تو تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوجاوے۔ اور اگر دنیا کے دریاؤں میں وہ قطرہ پڑجاوے۔ تو دریاؤں کا پانی بالکل بگڑ جاوے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا افسوس ہے۔ ان لوگوں کے حال پر جن کی خوراک یہ سینڈھ کا پھل ہوگا۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ وہ سینڈھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–74

آیت 74 (اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–69

42 شجرئہ زقوم ظالموں کیلئے ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے اس کو فتنہ اور آزمائش کا سامان بنادیا ظالموں کے لیے۔ یعنی دنیا میں ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ کہ ظالموں نے اس کا مذاق اڑایا اور اس کو جھٹلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلا دوزخ کی دہکتی آگ میں کوئی درخت کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ اور ابو جہل اپنے حواریوں سے کہتا تھا کہ محمد ﷺ تو تمہیں زقوم سے ڈراتا ہے حالانکہ وہ تو پنیر اور کھجور ہے۔ اور پھر وہ بدبخت پنیر اور کھجور لا کر ان کو کھلاتا اور مذاق اڑاتا۔ سو اس طرح یہ درخت آخرت میں ان کے لئے دوزخ کے اس دائمی عذاب کا ذریعہ بن گیا ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–74

برُے لوگوں کی سزا بہتر ہے یا جنت کا انعام تشریح : ان آیات میں جہنم کے عذاب کو بڑے درد ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر انسانی فطرت کا ذکر کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی ہے کہ لکیر کا فقیر بن کر اپنی عاقبت اور دنیا خراب نہیں کر لینی چاہیے بلکہ اپنی عقل سے کام لے کر صحیح راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ تو اس طرح گمراہی میں پڑے رہے کہ ان کے ماں باپ نے گمراہی میں زندگی گزاری وہ بھی اسی راستے پر چلتے رہے اور کچھ لوگ اس طرح گمراہ رہے کہ پیغمبر کی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔ الٹا اس کو ہی الزام دیا برا بھلا کہا اور بعضوں نے تو اپنے پیغمبروں کو قتل تک کردیا۔ تو ایسے لوگوں کا راستہ اختیار کرنا اچھا ہے یا کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی چار و ناچار کھائیں گے۔ حدیث ہے کہ زقوم کا ایک قطرہ اگر دنیا کے سمندروں میں گرجائے تو سب دنیا والوں کی زندگی دو بھر ہوجائے۔ اب سوچو کہ اس شخص کا کیا حال ہوگا جس کی غذا ہی یہ زقوم ہو۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:66) فانہم۔ فاء تعقیب کا ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع ظلمین (آیتہ 63) ہے۔ لاکلون۔ لام تاکید کا ہے اکلون اسم فاعل جمع مذکر بحالت رفع (باب نصر) سے اکل مصدر۔ کھانے والے۔ فانہم لاکلون پس ان کو ضرور کھانا ہوگا۔ پس وہ ضرور کھائیں گے۔ یعنی بھوک کی وجہ سے یا جبر کے تحت وہ ضرور کھائیں گے۔ منھا۔ میں من تبعیضیہ ہے۔ ای من ثمرھا او من طلعھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الشجرۃ ہے۔ فمالئون۔ الفاء عطف وتعقیب کا ہے۔ مالؤن اسم فاعل جمع مذکر مرفوع مالی واحد ملأ۔ ملأۃ۔ ملأۃ مصدر (باب فتح) بھرنے والے، ملأ برتن کو اتنا بھرنا کہ اس سے زیادہ ممکن نہ ہو۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ باوجود زقوم کے مکروہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–74

لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا) تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–74

(ف 2) قتادہ کا قول ہے کہ قرآن شریف میں تھوہر کے درخت کا ذکر آیا ہے تو مشرکین تعجب سے کہنے لگے کہ سبزدرخت دوزخ کی آگ میں کیونکر ہوسکتا ہے اس پر اللہ نے فرمایا یہ اللہ کی قدرت ہے کہ دوزخ کے کنارے پر نہیں بیچ دوزخ کی جڑ میں یہ درخت نکلے گا، جو آخرت میں ظالموں کے واسطے ایک بلا ہے کیونکہ جب دوزخی بھوک سے بےقرار ہوں گے تو یہ ہی کھانے کو دیاجائے گا، جہنمی تھوہر سے ان کے پیٹ پھریں گے وہ جلتا ہوگا پیٹوں کو جلائے گا اس کی سوزش سے پیاس کا غلبہ ہوگا اور مدت تک تو پیاس کی تکلیف میں رکھے جائیں گے پھر جب وہ پانی ان کو پلائے گا تو کٹ کر انتڑیاں نکل پڑیں گی اس کھولتے ہوئے پانی کو ملونی کا پانی جو فرمایا۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–78

[14] یعنی ہم نے اس درخت کو آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے کہ اس کا ذکر سن کر کفار بطور استہزا کہتے کہ فلاں لغت میں زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ پھر انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے کہ آؤ زقوم کھائیں۔ کوئی ٹھٹھا مار کر کہتا لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–71

ف 1: شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم ۔ اس پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ جہنم میں یہ درخت کیونکر پیدا ہوسکتے ہیں ۔ مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ اول تو جہنم کے متعلق یہ ٹھیک ٹھیک ہے نہیں ۔ کہ وہ کیا چیز ہوگی ۔ یہ درست ہے ۔ وہاں آگ ہوگی مگر بعض ایسے گرم کرے ہیں ۔ جن میں آگ برستی ہے ۔ اور وہ حدرجہ گرم ہیں ۔ اور ان میں نباتات کا وجود ممکن ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ کرہ ہائے جار جہنم کا حصہ ہوں ۔ دوسرے آگ میں آتشین صفت نباتات کا ہونا ممکن ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ جہنم کا زقوم دنیا کے زقوم سے بالکل مختلف ہوگا ۔ فاندفع ماقیل اہل جہنم کے حالات بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا ۔ کہ اس عذاب الیم کا سبب یہ ہے کہ دنیا میں انہوں نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(66) سو یہ اہل جہنم اسی زقوم سے کھائیں گے اور اسی زقوم سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔ یعنی کچھ اور کھانے کو نہ ہوگا۔ اور بھوک سے بیقرار ہوں گے تو اسی کو مجبوراً کھائیں گے اور اسی سے پیٹوں کو بھریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوزخی اس کا کھائیں گے اور اسی سے اپنا پیٹ بھریں گے : 66۔ گویا دوزخیوں کو یہ سزاء کھانا پڑے گا ورنہ ان کو کوئی ایسی سزا دی جائے گی جو اس قسم کے کھانے سے بری ہوگی اور عین ممکن ہے کہ اس کو مثل کے مطابق جوتے بھی کھانے ہوں اور تھوہر بھی جیسے مثل میں جوتے کھانے کے ساتھ پیاز کھانے کا ذکر ہے کہ کسی آدمی کو دو قسم کی سزا سنائی گئی کہ یا تو سو جوتا کھالو یا سوپیاز تو اس نے پیاز کو آسان سمجھ کر کھانا شروع کردیا مگر دس کی تعداد مشکل سے پوری کی اور پکارنے لگا کہ میں جوتے کھالیتا ہوں پیاز نہیں کھا سکتا بہرحال پھر جوتے لگانے والا آیا تو ابھی دس ہی جوتے کھائے تھے کہ پھر وہ چیخا اور چلایا کہ مجھے چھوڑ دو میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–74

By saying: طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُ‌ءُوسُ الشَّيَاطِينِ (Its fruits are like the heads of the shaitans.- 65), the fruits of zaqqum have been likened to the heads of the satans. Some commentators have translated the word: الشَّيَاطِينِ (ash-shayatin) in this verse as 'serpents' since the fruit of zaqqum resembles the hood of the serpent. Therefore, in Urdu and Hindi too, it is called 'nagphan' (hood of the serpent) for this very reason. But most commentators have said that the word: الشَّيَاطِينِ (ash-shayatin) here should be taken in its well-recognized sense. Thus, it would mean that, in its…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–67

36 Nobody should have the misunderstanding that since no one has seen the head of Satan, it was no use likening the buds of zaqqum to it. This is, in fact, an imaginative kind of the simile, and is employed in the literature of every language. For example, in order to give an idea of the rare beauty of a woman, it is said she is a fairy, and in order to describe her ugliness, it is said that she is a hag or a demon. Likewise, a pious-looking person is described as an angel and a dreadful-looking person as a devil.

Read the full tafseer →