Explained with ayahs 50–61
محسن مقروض۔
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
سورة الصّٰٓفّٰت 30
اصل الفاظ ہیں کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ۔ " گویا وہ چھپے ہوئے یا محفوظ رکھے ہوئے انڈے ہیں " ان الفاظ کی مختلف تعبیرات اہل تفسیر نے بیان کی ہیں۔ مگر صحیح تفسیر وہی ہے جو حضرت ام سلمہ ؓ نے نبی ﷺ سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نرمی و نزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے اور اس کے گودے کے درمیان ہوتی ہے (ابن جریر)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
ایک جنتی اور اس کا کافر ملاقاتی
ابتدائی دس آیتوں میں اہل جنت کے عمومی حالات بیان فرمانے کے بعد ایک جنتی کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے، کہ وہ جنت کی مجلس میں پہنچنے کے بعد اپنے ایک کافر دوست کو یاد کرے گا جو دنیا میں آخرت کا منکر تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اسے جہنم کے اندر جھانک کر اس سے باتیں کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں اس شخص کا کچھ نام و پتہ نہیں بتایا گیا۔ اس لئے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کون ہوگا ؟ تاہم بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس مومن شخص کا نام یہو واہ اور اس کے کافر ملاقاتی کا نام مطروس ہے۔ اور یہ وہی دو ساتھی ہیں جن کا ذکر سورة کہف کی آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون (50)
اہل جنت کا ایک مکاملہ
اب آگے آیت 59 تک اہل جنت کے ایک باہمی مکاملے کا حالہ ہے جو اس وقت ان کے مابین ہوگا جب وہ تختوں پر ٹیک لگائے جنت میں بیٹھے ہوں گے۔ اس دنیا میں حق کی خاطر مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے جو کامیابیاں حاصل کی ہوں گی ان پر ان کو جو خوشی ہوگی اس کا بھی اس مکاملہ سے اندازہ ہوتا ہے اور اس لئے خودی کا بھی جو اس تصور سے ان پر طاری ہوگی کہ اب موت، اور عذاب کے اندیشوں سے ان کو ہمیشہ کے لئے رہائی حاصل ہوگئی۔
(آیت)
اصحاب جنت میں سے ایک صاحب اپنے پاس بیٹھے ہوئے دوسرے ساتھیوں کو اپنے ماضی کی ایک سرگزشت سنائیں گے کہ میرا ایک ملنے والا تھا جو بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
52۔ 1 یعنی یہ بات وہ مذاق کے طور پر کہا کرتا تھا، مقصد اس کا یہ تھا یہ تو نہ ممکن ہے کیا ایسی ناممکن الواقع بات پر تو یقین رکھتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–62
9: یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
فاقبل بعضھم ۔۔۔۔۔۔۔ انا لمدینون (50-53) ”
اس جتنی کا یہ دوست وقوع قیامت اور حسان و کتاب کا منکر تھا اور وہ اس جتنی کو ملا مت کرتا تھا کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ لوگ قیامت میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد کہ وہ مٹی ہوجائیں اور محض ہڈیاں رہ جائیں گی ۔ یہ جتنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محو گفتگو ہے کہ اچانک اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ ذرا تلاش تو کرے کہ اس کے دوست کا انجام کیا ہوا ہے ۔ اسے یقین ہے کہ جنت میں تو وہ ہو نہیں سکتا لازما جہنم میں ہوگا۔ وہ خود بھی تلاش کرتا ہے اور دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ اسے تلاش کیا جائے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
1 یعنی یاران جلسہ جمع ہوں گے اور شراب طہور کا جام چل رہا ہوگا۔ اس عیش و تنعم کے وقت اپنے بعض گذشتہ حالات کا مذاکرہ کریں گے۔ ایک جتنی کہے گا کہ میاں دنیا میں میرا ایک ملنے والا تھا۔ جو مجھے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے ملامت کیا کرتا اور احمق بنایا کرتا تھا۔ اس کے نزدیک یہ بالکل مہمل بات تھی کہ ایک شخص مٹی میں مل جائے اور گوشت پوست کچھ باقی نہ رہے محض بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں، پھر اسے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ازسر نو زندہ کردیں ؟ بھلا ایسی بےتکی بات پر کون یقین کرسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →آیت 51{ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْہُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ} ”ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
29 قرین ایسے ساتھی یا دوست کو کہتے ہیں جو اپنا ہم عمر ہو یا بہادری، قوت اور اسی طرح کے دیگر اوصاف میں ہمسر ہو اور اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
22۔ یعنی دنیا میں میرا ایک ملنے والا تھا، وہ مجھ سے طنزا کہا کرتا تھا کہ کیوں میاں ! تم بھی حشر ونشر کے ڈھکوسلوں کے قائل ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
آیت نمبر 51 تا 84
ترجمہ : ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا ایک رفیق تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا، وہ مجھ سے مجھے لاجواب کرنے کے لئے کہتا تھا کہ کیا تم بھی بعث بعد الموت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہو ؟ بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا ہم کو جزاء دی جائے گی، اور ہمارا حساب کیا جائیگا، اور وہ اس (جزاء و سزا) کا بھی منکر تھا یہ قائل اپنے بھائیوں (احباب) سے کہے گا کیا تم اس کو میرے ہمراہ دوزخ میں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ! ! تاکہ ہم اس کی حالت دیکھیں، تو وہ جواب دیں گے کہ نہیں، تو یہ قائل جنت کے بعض روشندانوں سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے رفیق کو دوزخ کے بیچوں بیچ…
Read the full tafseer →قال قائل منھم انی کان لی قرین۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ (دنیا میں) میرا ایک ساتھی تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
(51۔ 53) چناچہ ان اہل جنت میں سے ایک شخص یعنی یہوذا مومن کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ملنے والا تھا یعنی ابو فطروس اسی کا بھائی۔
وہ مجھے بطور انکار بعث کہا کرتا تھا کہ کیا تو بعث کے معتقدین میں سے ہے۔
کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ زندہ کر کے ہم سے حساب و کتاب لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ اِنِّىْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ : ”قَرِيْنٌ“ ایسے ساتھی یا دوست کو کہتے ہیں جو ہم عمر ہو، یا بہادری، قوت اور اس طرح کے دوسرے اوصاف میں ہم سر ہو، اور اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔ (کیلانی) ان میں سے ایک جنتی کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا، جو مرنے کے بعد اٹھنے کا منکر تھا، وہ مذاق کرتے ہوئے انکار کے طور پر کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے جیسی بعید از عقل بات کو مانتے ہیں، کیا جب ہم مرکر مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا واقعی ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دی جائے گی ؟ ”مَدِیْنُوْنَ“ ”مَدِیْنٌ“ کی جمع ہے، جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–61
وہ آپس میں گفتگو شروع کردیں گے جو دنیا میں ہوا کرتی تھی۔ یہ جنت میں ان کی حددرجہ انس کا اظہار ہے اس کا عطف یطاف علیھم کے معنی پر ہے معنی یہ بنے گا وہ پئیں گے اور شراب پر باہم گفتگو کریں گے جس طرح شراب نوشوں کی عادت ہوا کرتی ہے۔ ایک شاعر نے کہا :
وما بقیت من اللذات الا احادیث الکرام علی المدام (1)
لوگوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر یہ کہ کریم لوگ شراب پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔
یعنی وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور جو اچھی یا بری صورتحال گذری ہوگی اس کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے مگر اسے ماضی کے صیغے کے ساتھ تعبیر کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا خبر دیتے وقت معمول ہے۔
ایک جنتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–61
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے) یعنی جنت والے۔
2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی کان لی قرین “ (میرا ایک ساتھی تھا) یعنی شیطان۔
جنت کی خریداری کا عجیب واقعہ :
3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی آپس میں شریک تھے ان دونوں کا کل مال آٹھ ہزار دینار تھا۔ جو انہوں نے آپس میں تقسیم کرلیا ان میں سے ایک نے ایک ہزار…
Read the full tafseer →قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ [کہے گا ایک کہنے والا ان میں سے ] اِنِّىْ [بیشک ] كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ [میرا یک ساتھی تھا ] ۔
نوٹ۔ 1: آیات 51 تا 57 میں دو اشخاص کا ذکر کرنے سے قرآن کا اصل منشاء لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ اپنے حلقہء احباب کا جائزہ لے کر یہ دیکھیں کہ اس میں کوئی ایسا شخص تو نہیں ہے جو انہیں کشاں کشاں دوزخ کی طرف لے جارہا ہو۔ بری صحبت سے جو تباہی آسکتی ہے اس کا صحیح اندازہ آخرت ہی میں ہوگا اور اس وقت تباہی سے بچنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ اس لئے دنیا میں تعلقات دیکھ بھال کر قائم کرنے چاہئیں۔ بسا اوقات کسی نافرمان شخص سے تعلقات قائم کرنے کے بعد انسان غیر محسوس طریقے پر اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
ایک جنتی اور ایک دوزخی کا مکالمہ
اہل جنت، جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے، آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے آپس میں باتیں بھی ہوں گی، دل لگی کے طور پر چھینا جھپٹی بھی ہوگی، جیسا کہ سورة الطور میں (یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا) فرمایا۔ انہی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہوگی کہ جنتیوں میں سے ایک جنتی یوں کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جس سے ملاقات ہوتی رہتی تھی وہ خود مومن نہ تھا مجھے بھی سرزنش کرتا تھا اور قیامت پر ایمان لانے کو بیوقوفی سمجھتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور مردے زندہ ہو کر قبروں سے اٹھیں گے، تو ہی بتا کہ جب ہم مرجائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–57
احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید
فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔
فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
27:۔ فاطلع الخ :۔ چناچہ جب وہ دوزخ میں جھانک کر دیکھے گا تو وہ ساتھی اسے جہنم کے عین وسط میں نظر آئے گا۔ اور اسے خطاب کر کے کہے گا۔ خدا کی قسم ! تو تو مجھے بھی گمراہ کر کے اس ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنے ہی والا تھا لیکن توفیق الٰہی میں میری دستگیری کی۔ اگر اللہ کا فضل و احسان اور اس کی توفیق میرے شامل حال نہ ہوتی تو آج میں ساتھ اس دردناک عذاب میں شرک ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–61
اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…
Read the full tafseer →قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْہُمْ اِنِّىْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ 51ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
قرین
الِاقْتِرَانُ کالازدواج في كونه اجتماع شيئين، أو أشياء في معنی من المعاني . قال تعالی: أَوْ جاءَ مَعَهُ الْمَلائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ [ الزخرف/ 53] .
يقال : قَرَنْتُ البعیر بالبعیر : جمعت بينهما، ويسمّى الحبل الذي يشدّ به قَرَناً ، وقَرَّنْتُهُ علی التّكثير قال : وَآخَرِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–62
الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔
فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ۔ یَّـقُوْلُ اَئِنَّـکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًاوَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ۔ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآئِ الْجَحِیْمِ ۔ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ ۔ وَلَوْ لاَ نِعْمَۃُ رَبِّیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۔ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ ۔ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الصآفات : 50 تا 59)
(پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔ ان میں سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–61
فہم القرآن
ربط کلام : جنت میں بیٹھے ہوئے جنتیوں کا جہنمیوں کے ساتھ ہم کلام ہونا۔
جنتی حضرات جنت میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ اس ماحول میں اچانک ایک جنتی دوسرے سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو مجھے کہا کرتا تھا کہ کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گی تو ہمیں اٹھا کر سزا یا جزا دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا اسے دیکھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے کے بعد وہ نظر اٹھائے گا تو اسے اس کا ساتھی جہنم میں جلتا ہوا دکھائی دے گا۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ کیا اپنے ساتھی کو دیکھنا چاہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51، 52: قَالَ قَآپلٌ مِّنْہُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ (ان میں ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ملاقاتی تھا) یَّقُوْلُ اَئِنَّکَ (وہ کہا کرتا تھا کیا تو )
قراءت : شامی، کوفی نے دو ہمزہ سے پڑھا ہے۔ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ (تصدیق کرنے والوں میں سے ہے) قیامت کے دن کی۔
Read the full tafseer →51، قال قائل منھم، یعنی اہل جنت ان میں سے کہیں گے۔ ، انی کان لی قرین، کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو قیامت کامنکر تھا۔
قرین سے کیا مرادہے
مجاہد کا قول ہے قرین سے مراد ہے شیطان یعنی شیطان میرا ساتھی تھا۔ دوسرے مفسرین کے نزدیک قرین سے مرادانسان ہی ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ قرین سے مراد ہے بھائی اور بعض علماء کا قول ہے وہ دونوں دنیا میں شریک تھے ۔ ایک کافر تھا جس کا نام مطروس تھا۔ دوسرامؤمن تھا جس کا نام یہودا تھا انہی دونوں کے بارے میں سورة کہف کی آیت، واضرب لھم مثلا رجلین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
51۔ 61۔ تفسیر اسمعیل سدی اور تفسیر 2 ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں بنی اسرائیل کا ایک قصہ اس آیت کے متعلق جو لکھا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے۔ کہ کسی تجارت میں دو شخص ساجھی تھے۔ جس میں ایک شخص مشرک تھا اور ایک مسلمان تھا۔ یہ مسلمان شخص اکثر اپنے دین کے کاموں میں مصروف رہ کر تجارت کے کاموں سے بیخبر رہتا تھا۔ اس مشرک ساجھی نے اپنے اس مسلمان ساتھی کا یہ حال دیکھ کر اپنے ساجھے سے اس کو الگ کردیا۔ اس ساجھی کے الگ ہونے کے وقت دونوں شخصوں کے حصہ میں چار چار ہزار اشرفیاں آئیں۔ اس مشرک شخص نے تو اپنی اشرفیاں دنیا کے طرح طرح کے کاموں میں لگائیں اور مسلمان شخص نے رفتہ رفتہ وہ اپنی سب اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
آیت 50
اللہ تبارک و عالیٰ نے ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں، کامل مسرتوں، ماکولات و مشروبات، خوبصورت بیویوں اور خوش نما مجالس کا ذکر کرنے کے بعد ان میں آپس کی بات چیت اور ایک دوسرے کو ماضی کے واقعات وا حوال سنانے کا ذکر کیا، نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہیں گے حتی کہ ان میں سے ایک شخص کہے گا : (انی کان لی قرین) ” دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا “ جو قیامت کا منکر تھا اور مجھے اس بات پر ملامت کیا کرتا تھا کہ میں قیامت پر ایمان رکھتا ہوں۔
اور (قال) ” وہ کہا کرتا تھا “ مجھ سے : (آیت) ” یعنی کیا ہمیں ہمارے اعمال کی جزاو سزا دی جائے گی ؟ یعنی تم اس امر محال کی کیسے تصدیق کرتے ہو جو انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
33 حوران جنت کی ایک خاص صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " گویا کہ وہ انڈے ہیں پردوں میں رکھے ہوئے " رنگ کی صفائی اور عمدگی میں۔ اور بعض مفسرین نے اس سے شتر مرغ کا انڈہ مراد لیا ہے کہ اس میں یہ وصف زیادہ نمایاں اور واضح ہوتا ہے۔ (روح، قرطبی، کبیر وغیرہ) ۔ اور اس سے شترمرغ کے انڈے مراد لینے کے اس احتمال کی تایید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اہل عرب اپنے کلام میں نازنینوں کو اکثر و بیشتر شترمرغ کے انڈوں ہی سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ اور شترمرغ کے انڈے سے اس تشبیہہ میں ایک اور خاص پہلو یہ ہے کہ عرب لوگ اپنی کنواری لڑکیوں کی حفاظت اور پاکدامنی کے سلسلے میں انکو شترمرغ کے انڈوں سے تشبیہ اس لیے دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–61
ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ
تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–74
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔
اسرار و معارف :
حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ف 5 یعنی کیا یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ وہ کہاں ہے اور اس کا کیا حال ہے ؟
Read the full tafseer →(37:51) قال قائل منہم۔ ای قال قائل من اھل الجنۃ۔ آپس میں گفتگو کرنے والے اہل جنت میں ایک بولے گا۔ یا کہے گا۔ اس جملہ کا عطف یطاف علیہم پر ہے دونوں کے درمیان کی عبارت بطور کلام معترضہ ہے۔
قرین۔ الاقتران۔ ازدواج کی طرح اقتران کے معنی بھی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں۔ قرنت البعیر مع البعیر میں نے دو اونٹوں کو ایک رسی سے باندھ دیا۔
وہ آدمی جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری وقوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہم پلہ ہو اسے اس کا قرن کہتے ہیں۔ اور ہم پلہ یا ہمسر یا ہمنشین کو قرین کہتے ہیں۔ یہاں آیہ ہذا میں بمعنی ساتھی یا ہمنشین ہی آیا ہے۔ قرین کی جمع قرناء ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–74
لغات القرآن ( آیت نمبر 50 تا 74) قرین ( دوست ، ساتھی ، ملاقاتی) یدینون ( جزا یا سزا دیئے جائیں گے) مطلعون ( جھانکنے والے) ان کدت ( اگرچہ قریب تھا) لتردین ( تردی) البتہ تو مجھے ہلاک کردیتا) اصل ( جڑ ، بنیاد) طلع ( پھل ، گابھا)
تشریح : آیت نمبر 50 تا 74 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں پر گزرنے والے حالات اور کیفیات کو بیان کر کے ہر شخص کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے۔ جب اہل جنت اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے تو اس وقت دنیا کے متعلق بھی کچھ باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو میرے آخرت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بہشتی لوگ ایک دوسر سے پوچھتے وقت متوجہ ہوں گے کہ میاں دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا جو مجھے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے ملامت کیا کرتا اور احمق بنایا کرتا تھا، اس کے نزدیک یہ بالکل مہمل بات تھی کہ ایک شخص ، مٹی میں مل جائے اور گوشت پوست کچھ باقی نہ رہے محض بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں پھر اسے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ازسر نوزندہ کردیں، بھلا ایسی بےتکی بات پر کون یقین رکھتا ہے۔ تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو وہ ہم نشین ضرور دوزخ میں پڑا ہوگا اور آؤ ذراجھانک کردیکھیں کس حال میں ہے پھر جو دیکھا کہ بیچ دوزخ کی آگ میں پڑا ہے یہ حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
[11] آیت ( كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49) 37 ۔ الصافات :49) (گویا وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں) کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں لیکن صحیح تفسیر وہی ہے جو اُمّ سلمہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نرمی ونزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے کے نیچے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–61
ف 2: ان آیات میں اللہ کے ان مخلص بندوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے وقت اور اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کیا ۔ اور اس کے پھیلانے میں ہر نوع کی مصیبتوں کو نجندہ پیشانی برداشت کیا ۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں ہر قسم کی آسودگی اور تنعم کا سامان ہوگا ان کو ایسی غذائیں ملیں گی ۔ جن کے متعلق اس سے پہلے آیات میں شاید جاچکا ہے ۔ یعنی میو وں سے ان کے کام وذہن کی تواضع کی جائے گیا ۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ آرام کے باغوں میں رہیں گے ۔ اور آراستہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے اللہ کی نعمتوں کا نظارہ کرینگے ۔ لطیف اور عمدہ جام ہائے شراب کی گردش ہوگی جو دودھ کی طرح سفید ہوگی ۔ اور نہایت لذیذ درد سر اور تکلیف دہ خمار سے…
Read the full tafseer →(51) ان اہل جنت میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا دنیا میں ایک ملنے والا اور میرا ہم نشین تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ف 1۔ تشبیہ محض صفائی میں ہے رنگت میں نہیں۔
Read the full tafseer →ایک کہنے والا کہتا ہے کہ یار دنیا میں تیرا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا :
51۔ اہل جنت میں سے ایک پہل کرتے ہوئے دوسروں سے مخاطب ہوتا ہے کہ دوستوں جب ہم دنیا میں رہتے تھے تو وہاں ایک میرا دوست ہوا کرتا تھا ۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک بار غور کرو کہ اہل جنت میں سے ایک جنتی بول رہا ہے اور یہ وہ جنتی ہیں جو یا تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے والے ہیں یا اگر باقاعدہ حساب دے کر جنت میں داخل ہوئے تو بھی وہ ہیں جو براہ راست جنت میں داخل ہوگئے ۔ اس جنتی کے بیان سے جو (لی قرین) کہہ کر دے رہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس اللہ کے بندے نے اپنے اس ساتھی کو جنت میں نہیں پایا اور اس کے متعلق اب بھی اس کے جذبات اچھے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
An inmate of Jannah and his disbelieving acquaintance
After having described the general condition of the people of Jannah, one of them has been mentioned particularly. Once he has settled down with other inmates of Jannah, he will recall a disbelieving acquaintance who denied the possibility of the Hereafter during his mortal life. Then, with the permission of Allah Ta’ ala, he will be given an opportunity to talk to him by peeping into the Jahannam. The identity of this man has not been given in the Qur'an. Therefore, it cannot be said with any degree of certainty as to who this person…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
29 "Restraining their looks": Restraining their looks from everyone except their husbands.
30 The words of the Text actually mean this: "As if they were the hidden or well preserved eggs." The commentators have given different interpretations of these words, but the correct commentary is the one which Hadrat Umm Salamah has related from the Holy Prophet. She says that when she asked the meaning of this verse from the Holy Prophet, he said: "Their delicacy and elegance and tenderness will be like the thin skin which is there between the shell of the egg and its fleshy part." (Ibn Jarir).
Read the full tafseer →