As-Saaffaat 37:43

As-Saaffaat · from ayah 43

37:43

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۟ۙفِىۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِۙ

نعمت کے باغوں میں

— Fateh Muhammad Jalandhari

In gardens of pleasure

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:43

نعمت کے باغوں میں

— مولانا فتح محمد جالندہری

نعمتوں والی جنتوں میں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نعمت بھرے باغات میں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نعمتوں اور راحتوں کے باغات میں (مقیم ہوں گے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نعمت کے باغوں میں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان نعمت بھری جنتوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

نعمتوں والے باغات میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نعمت کے باغوں میں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

in Gardens of Bliss

— Muhammad Taqi Usmani

in Gardens of Bliss

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In the Gardens of Delight,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

In gardens of pleasure

— Saheeh International

(They will live) in the bountiful gardens,

— Muhammad Sarwar

In gardens of pleasure,

— Muhammad Habib Shakir

In Gardens of Delight.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–49

متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71؀ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 42–44

سورة الصّٰٓفّٰت 23 اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جنت میں کھانا غذا کے طور پر نہیں بلکہ لذت کے لیے ہوگا۔ یعنی وہاں کھانا اس غرض کے لیے نہ ہوگا کہ جسم کے تحلیل شدہ اجزاء کی جگہ دوسرے اجزاء غذا کے ذریعہ فراہم کیے جائیں، کیونکہ اس ابدی زندگی میں سرے سے اجزائے جسم تحلیل ہی نہ ہوں گے، نہ آدمی کو بھوک لگے گی جو اس دنیا میں تحلیل کے عمل کی وجہ سے لگتی ہے، اور نہ جسم اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے غذا مانگے گا۔ اسی بنا پر جنت کے ان کھانوں کے لیے " فواکہ " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں تغذیہ کے بجائے تلذُّذ کا پہلو نمایاں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–43

(2) فواکہ، اس لفظ کے ذریعہ قرآن نے جنت کے رزق کی خود تفسیر فرما دی ہے کہ وہ رزق میووں پر مشتمل ہوگا۔ فواکہ، فاکہة کی جمع ہے، اور عربی میں فاکہة ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو بھوک کی ضرورت رفع کرنے کے لئے نہیں، بلکہ لذت حاصل کرنے کے لئے کھائی جائے اردو میں اس کا ترجمہ ”میوہ“ اس لئے کردیا جاتا ہے کہ میوہ بھی لذت حاصل کرنے کے لئے کھایا جاتا ہے، ورنہ درحقیقت ”فاکہتہ“ کا مفہوم میوے کے مفہوم سے زیادہ عام ہے امام رازی نے اسی ”فواکہ“ کے لفظ سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ جنت میں جتنی غذائیں دی جائیں گی وہ سب لذت بخشنے کے لئے دی جائیں گی، بھوک کی حاجت رفع کرنے کے لئے نہیں۔ اس لئے کہ جنت میں انسان کی حاجت کسی چیز…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 42–44

فواکہ، وھم مکرمون فی جنت النعیم، علی سرر متقملین (44-42) یعنی ان کے سامنے میوے پیش کئے جائیں گے اور ان کے ساتھ نہایت اعزازو اکرام کا معاملہ ہوگا۔ اہل دوزخ کے متعلق تو آیت 18 میں گزر چکا ہے کہ نہایت ذلت کے ساتھ وہ دوزخ کے باڑے میں بھر دیئے جائیں گے اور آگے آیات 67-62 میں آ رہا ہے کہ زقوم ان کو کھانے کے لئے اور کھولتا پانی پینے کو دیا جائے گا۔ اس کے برعکس اہل جنت کو کھانے کے لئے میوے ملیں گے اور ان کے ساتھ نہایت عزت کا سلوک ہوگا۔ فی جنت النعیم سے ان کے متقل مستقر کا پتہ دے دیا کہ وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے اس وجہ سے ان کو تمام نعمتیں بھی جو وہ چاہیں گے اور جتنی چاہیں گے، حاصل ہوں گی۔ اہل جنت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 41–45

45۔ 1 کَاْسً شراب کے بھرے ہوئے جام کو اور قدح خالی جام کو کہتے ہیں مَعِیْن کے معنی ہیں، جاری چشمہ۔ مطلب یہ ہے کہ جاری چشمے کی طرح، جنت میں شراب ہر وقت میسر ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–47

8: مطلب یہ ہے کہ ہم چونکہ خود بہکے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے تمہیں بہکایا ضرور، لیکن ہمارے بہکانے سے تم کفر پر مجبور نہیں ہوگئے تھے، اگر تم ہمارے بہکائے میں نہ آتے تو ہمارا تم پر کوئی زور نہ چلتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 41–44

اولئک لھم رزق۔۔۔۔۔۔ کانھن بیض مکنون (41 – 49 “۔ جنت کی نعمتیں کیسی ہوں گی ؟ اس میں نعمتوں کا ہر رنگ ہوگا جس میں نفس انسانی کی غذا بھی ہوگی اور انسانی احساسات اور انسانی جسم سب کے لیے متاع ہوگا ۔ مزید یہ کہ وہاں جو نفس جو کچھ چاہے گا وہ اسے ملے گا ۔ قسماقسم انعامات ، اس لیے کہ یہ لوگ سب سے پہلے تو اللہ کے مکرم بندے ہیں ، اللہ کی بندگی انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔ پھر عالم بالا میں وہ معزز ترین مہمان ہوں گے ۔ یہ ان کے آرام کی جگہ ہوگی اور وہاں ان کو کوئی مشقت اور ذیوئی نہ کرنا ہوگی ۔ پھر مزید یہ کہ آرام کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی انہیں حاصل ہوگی ۔ جو سب سے بڑی نعمت ہوگی ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 43–47

9 یعنی مزہ اور نشاط پورا ہوگا۔ اور دنیا کی شراب میں جو خرابیاں ہوتی ہیں ان کا نام و نشان نہ ہوگا نہ سرگرانی ہوگی نہ نشہ چڑھے گا، نہ قے آئے گی، نہ پھیپھڑے وغیرہ خراب ہوں گے، نہ اس کی نہریں خشک ہو کر ختم ہو سکیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 42–43

22 فواکہ کیسے پھل ہیں ؟ یہاں فواکہ کا لفظ آیا ہے اور فواکہ ایسے پھلوں کو کہتے ہیں جن سے لذت و سرور حاصل ہو۔ (مقاییس اللغۃ) اور اس لفظ کا اطلاق عموماً خشک پھلوں پر ہوتا ہے۔ اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کو جو رزق دیا جائے گا وہ بطور غذا نہیں بلکہ لذت کے حصول کے لئے دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 40–43

18۔ چناچہ یہ سارے ماکولات ان کے سامنے عزت واحترام کے ساتھ پیش کئے جائیں گے، یہ نہیں کہ جیسے گداگر کی جھولی میں کچھ ڈال دیا گیا۔ (آیت) ” فواکہ “۔ عربی میں یہ لفظ بڑی وسعت رکھتا ہے اور اردو کے کسی ایک لفظ سے اس کا ترجمہ ممکن نہیں۔ عربی میں فاکھہ سے مراد صرف میوے ہی نہیں۔ بلکہ ہر وہ لذیذ نفیس چیز ہے جو انسان پیٹ بھرنے کے لئے نہیں، بلکہ ذائقہ کے لئے کھاتا ہے۔ جنت میں اہل جنت کے جسم کو تغذیہ کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہوگی اس لئے کہ وہاں جسم فنا پذیر نہ ہوں گے۔ اہل جنت تو جو کچھ کھائیں پئیں گے صرف مزے اور لطف ہی کیلئے۔ وھی کل مایتلذذ بہ ولا یتقوت کحفظ الصحۃ یعنی ان رزقھم کلہ فواکہ لانھم مستغنون عن حفظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–50

آیت نمبر 22 تا 50 ترجمہ : اور فرشتوں سے کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور ان کے شیطانی رفیقوں کو اور ان کے معبودوں کو جن کی وہ خدا کے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے کہ وہ بت ہیں جمع کرلو اور ان کو جہنم کا راستہ دکھلا دو اور گھسیٹ کرلے جاؤ اور ان کی صراط کے پاس ٹھہراؤ ان سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں سوال کرنا ہے اور ان سے توبیخاً کہا جائے گا تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ جیسا کہ دنیا میں تمہارا طریقہ تھا، اور ان (کی حالت کے بارے میں) کہا جائے گا بلکہ وہ آج سرنگوں ذلیل ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت اور الزام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 40–47

(40۔ 47) سوائے ان لوگوں کے جو کفر و شرک سے محفوظ تھے۔ یا یہ کہ عبادت و توحید کے ساتھ اللہ کے خاص کیے ہوئے بندے ہیں۔ ان کے لیے صبح و شام کے اندازہ کے مطابق ایسی غذائیں ہیں جن کا حال معلوم ہوچکا ہے۔ یعنی میوے وہ لوگ بڑی عزت سے ایسے باغوں میں جن کی نعمتیں ختم نہ ہوں گی تختوں پر آمنے سامنے زیارت کے لیے بیٹھے ہوں گے۔ ان کے پاس پاکیزہ جام شراب لایا جائے گا جو سفید ہوگی اور پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی۔ نہ اس کے پینے سے پیٹ میں درد ہوگا نہ عقل میں فتور آئے گا نہ اور کسی قسم کی تکلیف ہوگی نہ گناہ ہوگا اور نہ اس سے نشہ آئے گا اور نہ سر میں درد ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ : کھانے پینے اور اکرام کے ساتھ رہنے کی عمدہ جگہ بھی ضروری ہے، اس لیے فرمایا، وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے، جہاں نعمت کے سوا کسی چیز کا تصور ہی نہیں۔ وہاں نہ فقر ہے نہ بیماری، نہ بغض ہے نہ عداوت، نہ غم ہے نہ خوف اور نہ ہی وہاں موت ہے۔ غرض نعمت ہی نعمت ہے، نہ کوئی زحمت ہے نہ کسی نعمت کا زوال۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–49

لھم سے مراد مخلصین ہیں یعنی ان کے لئے معلوم عطیہ ہے جو ختم ہوگا۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد جنت ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اس سے مراد جنت کا رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ پھل ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ اس کی خواہش کریں گے۔ ابن سائب نے کہا : یہ صبح اور شام کے کھانے کے مقدار کے مطابق ہوں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و لھم رزقھم فیھا بکرۃ و عشیا۔ ) مریم ( فواکہ یہ فاکھۃ کی جمع ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و امدادنھم بفاکھۃ) طور (22: ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے درجات کی بلندی ‘ کلام کے سننے اور اس کی ملاقات کے ذریعے اکرام ہے۔ جنات نعیم سے مراد ایسے باغات ہیں جن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–44

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–49

کافر درد ناک عذاب میں ہوں گے اور اللہ کے مخلص بندے عزت کے ساتھ تختوں پر جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے اس میں منکرین اور معاندین کی تردید ہے، ارشاد فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ ہمارا رسول شاعر یا دیوانہ ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ حق لے کر آیا ہے اور آپ نے اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کی ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے آئے، ان کی دعوت حق تھی اور اس نبی (یعنی امام الانبیاء) کی دعوت بھی حق ہے، تم شرک پر اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو اور دعوت توحید قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہو، لا محالہ تمہیں درد ناک عذاب چکھنا ہی ہوگا اور تمہیں جو عذاب ہوگا وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–57

احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–45

21:۔ یطاف علیہم الخ :۔ غلمانِ جنت تازہ بتازہ، سفید شفاف، لذت و سرور سے بھرپور شراب کے لبریز ساغروں سے اہل جنت کی تواضع کریں گے۔ معین، جاری، یہ شراب، شراب کی ان نہروں میں سے ہوگی جو جنت میں رواں ہوگی۔ بیضاء سفیدشفاف، جنت کی شراب بالکل سفید ہوگی، جن آبگینوں میں شراب پیش کی جائے گی وہ بھی سفید شفاف ہوں گے۔ اس طرح شراب جنت کے لبریز ساغر بھی بالکل سفید اور شفاف نظر آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–61

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۝ 43ۙ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–62

الا عباد اللہ المخلصین سے خالص بندوں اہل توحید وطاعت کی جزائِ دارِ آخرت بیان فرماتا ہے کہ وہاں ان کو ہر قسم کی نعیم و ناز اور طرح طرح کی ابدی نعمتیں ملیں گی۔ فاقبل بعضہم علی بعض یتساء لون سے یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ایک جنتی اپنے کسی دوسرے دوست سے دنیا کا تذکرہ کرے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست آخرت کا منکر تھا تو پھر وہ اپنے احباب اہل جنت سے کہے گا کہ کیا آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ پس جھانک کر دیکھے گا تو اس کو جہنم میں پڑا ہوا پاوے گا اور اس سے کہے گا کہ اگر میں تیرے کہنے میں آجاتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوتا، اللہ نے اپنے فضل سے بچالیا، اب دیکھ ہم کو وہی ایک موت تھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–44

اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ۔ فَوَاکِہُ ج وَھُمْ مُّکْرَمُوْنَ ۔ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ عَلٰی سُرُرٍمُّتَقٰبِلِیْنَ ۔ (الصآفات : 41 تا 44) (یہ لوگ ہیں جن کے لیے روزی ہے جانی پہچانی۔ میوے، اور وہ عزت سے رکھے جائیں گے۔ نعمت کے باغوں میں۔ تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ) اہلِ جنت کا تذکرہ اہلِ جہنم کے حالات بیان کرنے کے بعد اہل جنت کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ پہلی دس آیتوں میں عام اہل جنت کا اکرام اور ان کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد کی آیات میں ایک خاص جنتی کا عبرت آموز واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ عام اہل جنت کے بارے میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 40–47

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنت میں داخل ہونے والوں کا مقام اور احترام۔ قرآن مجیدنے اپنے دلنشین اسلوب کے تحت یہاں بھی دو قسم کے افراد اور ان کے انجام کا تقابل پیش کیا ہے۔ جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کے لیے اللہ کے مخلص بندوں کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے۔ مخلصین کے القاب سے یہ ثابت کیا ہے کہ جنت میں وہی لوگ داخل ہو پائیں گے جن کے عقیدہ اور کردار میں شرک کی ملاوٹ نہ ہوگی اور نہ ہی وہ نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کے مرتکب ہوں گے بلکہ یہ لوگ انتہائی فرمانبردار اور آپ ﷺ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ ان کے لیے انواع و اقسام کا رزق ہوگا جو بڑے اہتمام اور تکریم کے ساتھ انہیں پیش کیا جائے گا۔ وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43: فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ (آرام کے باغوں میں) جائز ہے کہ یہ ظرف بنے اور یہ بھی درست ہے کہ حال ہو اور یہ بھی احتمال ہے۔ کہ یہ دوسری خبر ہو اور اسی طرح عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 43–44

(43۔ 44) ، فی جنت النعیم ، علی سرر متقابلین، وہ ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے نہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–50

35۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–49

آیت 40 (الا عباد اللہ المخلصمین) ” مگر اللہ تعالیٰ کے خلا برگزیدہ بندے “ بیشک وہ درد ناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کرلیا ان کو اپنی رحمت کے لئے مختص کیا اور انہیں اپنے لطف و کرم سے نوازا (اولئک لھم رزق معلوم) ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے رزق معلوم ہے۔ ‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہوگا۔ یہ رزق بہت عظیم اور جلی القدر ہوگا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جاسکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فواکہ) یعنی تمام اقسا مکہ پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

28 اہل جنت کے سامانہائے لذت اور ان کے اعزازو اکرام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کیلئے لذت کی طرح طرح کی چیزیں بھی ہونگی اور ان کو خاص اعزازو اکرام سے بھی نوازا جائے گا "۔ سو یہ اس رزق معلوم کی ایک اہم صفت اور امتیازی شان کا بیان ہے کہ وہ بھوک پیاس رفع کرنے کے لئے نہیں کھایا جائے گا کہ وہاں بھوک پیاس ہوگی ہی نہیں کہ اس کی شان ہے ۔ { اَلاَّ تَجُوْعَ فِیْہٰا } ۔ اور نہ وہاں پر صحت اور قوت کے لئے کھایا جائے گا۔ جیسا کہ دنیا میں کھایا جاتا ہے کہ ان کو ضعف و بیماری وغیرہ کا کوئی عارضہ سرے سے لاحق ہی نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کو ایک نئی پیدائش اور نئی اٹھان کے ساتھ ابدی زندگی اور خلود و دوام کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–61

ﷲ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات اور ایک جہنمی کا تذکرہ تشریح : سبحان اللہ کس قدر شان دارانعامات ہیں جنت کے، یہ سب کلام الہٰی ہے قرآن پاک کا بیان ہے۔ بالکل سچ ہے۔ بلکہ یہ ہمیں دنیا کی نعمتوں کی مناسبت سے بتایا گیا ہے۔ وہاں کی نعمتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اس دنیا سے مناسبت رکھتی ہوئی 9 نعمتوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ (1) مقرر کردہ رزق (2) ہر طرح کے بہترین پھل (3) نہایت عزت و احترام (4) پر آسائش آرام دہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تخت (5) بہترین مشروبات (6) ایسے مشروبات جو اس دنیا کی شراب کی طرح نہ بدبودار نہ کڑوی نہ صحت کے لیے مضر ہوگی (7) شرمیلی، پاکباز حوریں (8) ایسی خوبصورت، نازک اور وفا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–74

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:43) جنت النعیم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ال۔ اختصاص کے لئے ہے ای جنۃ لیس فیھا الا النعیم۔ ایسے باغات جہاں راحتیں ہوں گی کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہوگی نہ محنت نہ مشقت نہ دوڑ دھوپ نہ کسی سے سوال کرنے کی ضرورت۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–50

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جنت میں جنتی لوگ اس طرح جڑاؤ تختوں پر بیٹھیں گے کہ ایک کی پیشت دوسرے کی طرف نہ ہوگی۔ دنیا کی شراب سے دردسر ہوتا ہے طبعیت نالش کرتی ہے نشہ چڑھ کر عقل زائل ہوجاتی ہے اس واسطے فرمایا کہ جنت کی شراب میں کوئی بات نہ ہوگی نہروں میں جس طرح پانی بہتا ہے اس طرح جنت میں شراب اور دودھ اور شہد اور میٹھے پانی کی نہایت، صاف نہریں ہوں گی اس شراب کا رنگ ایسا ہوگا کہ جس کے دیکھنے سے رغبت آئے گی دودھ نہ کبھی جمے گا اور نہ کبھی کھٹا ہوگا، یہ شہد موم کے میل سے بالکل صاف ہوگا، جنت کی اور نعمتوں اور جنت کے میووں کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے مختصر سی بندوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–48

[10] اصل میں لفظ '' یمین '' استعمال ہوا ہے اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یمین کے دوسرے معنی قسم کے ہیں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو اور رسول کی تعلیم باطل ہے۔ یمین کے ایک اور معنی خیر اور بھلائی کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیرخواہ بن کر ہمیں دھوکہ دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–48

عقیدت مندی کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے 1: قیامت میں یہ عجیب لطف کی بات ہوگی ۔ کہ معتقدین اپنے مقتداوں کو ڈھونڈنے جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تم لوگ ہماری نجات کی ذمہ داری لیتے تھے ۔ اور کھلے بندوں کہتے تھے ۔ کہ ہماری عقیدت مندی تمہارے لئے بمعنی میں مفید ثابت ہوگی ۔ اور بجز ہماری اطاعت کے نجات اور سعادت کی سب راہیں مسدود ہیں ۔ آج ہم تکلیف میں ہیں ۔ عذاب الٰہی کو اپنے روبرو دیکھ رہے ہیں ۔ تمہماری مدد کرو ۔ اور عذاب سے چھڑاؤ۔ کہ کہیں گے غلط ہے ۔ ہم تمہاری بدبختی اور محرومی کے ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں ۔ ہمارے پاس کوئی قرت نہیں تھی ۔ کہ ہم مجبور کرکے تم کو اپنے حلقہ اراوت میں داخل کرتے ۔ تم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–48

ف 7۔ مراد اس سے اہل ایمان ہیں کہ انہوں نے حق کا اتباع کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مقبول اور مخصوص فرمالیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے : 43۔ وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے گویا وہ باغ جن کو قرآن کریم نے (جنۃ) کہا ہے وہ باغ کیا ہیں ؟ فرمایا وہ انعامات الہی کے باغات ہیں جو ان لوگوں کے حصے میں آئیں گے جو دنیا میں نیک کام کرتے رہے اور شرک کے قریب بھی نہ بھٹکے اور اصل مراد ان باغات سے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے جن کو دیکھ کر اس وقت دلوں کو فرحت محسوس ہوگی اور آنکھیں ان کو دیکھنا چاہیں گی اور طبیعت میں انکی خواہش پیدا ہوگی ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

2. By saying: فَوَاكِهُ (fawakih: fruits - 42) immediately after, the Qur'an has itself explained 'rizq' (provision) - that it will comprise fruits. The word: فَواکِہِ explained (fawakih) is the plural form of: فَاکِہا fakihah) and it denotes everything eaten for the taste and not to remove hunger. It is conveniently translated as fruit since it is eaten for the taste. Otherwise, the sense of fakihah is much wider than that of fruit. Imam Razi has culled the subtle point from this very word that the cuisine offered in Jannah will be for the taste of it, and not for removing hunger. The reason…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–44

23 In this there is a subtle allusion to this also that in Paradise food will be provided not to serve as food but for pleasure and delight. That is, the food there will not be meant to replenish the bodily deficiencies through diet, for no deficiency whatever will occur in the body in that eternal life, nor will man have appetite, for appetite is caused by the process of assimilation in the body, nor will the body demand food for its survival. That is why the word fawakih has been used for the different kinds of food in Paradise, which contains the sense of taste and pleasure more than that…

Read the full tafseer →