Explained with ayahs 180–182
اللہ تعالیٰ مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برات بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔ اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لئے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لئے تمام حمد وثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتدا اور انتہاء کا وہی سزا وار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–182
سورة الصّٰٓفّٰت 94
یعنی کچھ زیادہ مدت نہ گزرے گی کہ اپنی شکست اور تمہاری فتح کو یہ لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یہ بات جس طرح فرمائی گئی تھی اسی طرح پوری ہوئی۔ ان آیات کے نزول پر بمشکل 14۔ 15 سال گزرے تھے کہ کفار مکہ نے اپنی آنکھوں سے رسول ﷺ کا فاتحانہ داخلہ اپنے شہر میں دیکھ لیا، اور پھر اس کے چند سال بعد انہی لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ اسلام نہ صرف عرب پر، بلکہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں پر بھی غالب آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
خلاصہ تفسیر
آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ (کافر) بیان کرتے ہیں (پس خدا کو ان باتوں سے پاک ہی قرار دو) اور (پیغمبروں کو واجب الاتباع سمجھو، کیونکہ ہم ان کی شان میں یہ کہتے ہیں کہ) سلام ہو پیغمبروں پر اور (خدا کو شرک وغیرہ سے پاک سمجھنے کے ساتھ ساتھ تمام کمالات کا جامع بھی سمجھو، کیونکہ) تمام تر خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام عالم کا پروردگار (اور مالک) ہے۔
معارف و مسائل
ان آیتوں پر سورة صافات کو ختم کیا گیا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس حسین خاتمے کی تشریح کے لئے دفتر چاہئیں۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان تین مختصر آیتوں میں سورت کے جملہ مضامین کو سمیٹ دیا ہے۔ سورت کی…
Read the full tafseer →سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون (180)
یعنی تمہارا رب جو تمام عزت و اقتدار کا حقیقی مالک ہے وہ تمام باتوں سے ارفع اور پاک ہے جو یہ مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس نے ان کو ان خرافات سے آگاہ اور ان کے نتائج سے باخبر کردیا۔ اگر وہ اب بھی ان باتوں سے باز نہیں آتے تو اس کا انجام دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →180۔ 1 اس میں عیوب و نقائص سے اللہ کے پاکیزہ ہونے کا بیان ہے جو مشرکین اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں، مثلًا اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے۔ یہ کو تاہیاں بندوں کے اندر ہیں اور اولاد یا شریکوں کے ضرورت مند بھی وہی ہیں، اللہ ان سب باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے۔ کیونکہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے کہ اسے اولاد کی یا کسی شریک کی ضرورت پیش آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–182
33: کفار آنحضرت ﷺ سے مذاق اڑانے کے انداز میں کہا کرتے تھے کہ آپ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہیں، وہ ابھی جلدی کیوں نہیں آجاتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
سورت کا خاتمہ اللہ کی پاکی کے بیان پر ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عزت اور غلبہ اسی کا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے جس طرح تمام رسولوں پر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلا شرکت غیرے رب العالمین ہے۔
سبحن ربک رب العزۃ۔۔۔۔۔۔ رب العالمین (180 – 182) ”
یہ ایسا خاتمہ ہے جو اس سورت کے تمام موضوعات پر حاوی ہے اور مضامین سورت اور مسائل زیر بحث کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
2 خاتمہ سورت پر تمام اصولی مضامین کا خلاصہ کردیا۔ یعنی اللہ کی ذات تمام عیوب و نقائص سے پاک اور تمام محاسن و کمالات کی جامع ہے۔ سب خوبیاں اسی کی ذات میں مجتمع ہیں۔ اور انبیاء و رسل پر اس کی طرف سے سلام آتا ہے۔ جو ان کی عظمت و عصمت اور سالم و منصور ہونے کی دلیل ہے۔ (تنبیہ) احادیث سے بعد نماز اور ختم مجلس پر ان آیات کے پڑھنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے سورة ہذا کے فوائد کو ان ہی آیات متبرکہ پر ختم کرتا ہوں۔ اے اللہ میرا خاتمہ بھی اسی عقیدہ محکم پر کیجیو۔ (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ 180ۚ وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ 181ۚ وَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ…
Read the full tafseer →آیت 180{ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”پاک ہے آپ ﷺ کا ربّ ‘ عزت اور اقتدار کا مالک ‘ ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔“
یَصِفُوْنَ کا مادہ وصف ہے اور اسی مادہ سے لفظ ”صفت“ مشتق ہے۔ اس لفظی مادہ کے حوالے سے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سے مشتق مختلف الفاظ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور خوبی بیان کرنے کے لیے احادیث میں تو آئے ہیں لیکن قرآن میں ایجابی اور مثبت طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے اس مادہ سے کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے صفاتی نام آئے ہیں اور اس حوالے سے یہ بھی فرمایا گیا : { لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰیط } الحشر : 24 ‘ لیکن لفظ ”صفت“ یا وصف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
98 یہ اس سورة کا تتمہ ہے۔ مشرکوں کے شرکیہ عقائد کی مدلل تردید کے بعد نتیجہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات کے متعلق ان لوگوں نے جو باتیں گھڑ رکھی ہیں اور جن سے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کچھ عیوب اور نقص لازم آتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ایسے تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ رسولوں پر سلامتی ہو کہ وہ اپنی اپنی قوموں سے دکھ سہہ سہہ کر بھی خالص توحید کی دعوت مسلسل پیش کرتے رہے۔ انہوں نے صرف اللہ کی عیوب سے پاکیزگی کا سبق ہی نہیں دیا بلکہ یہ تعلیم بھی دی کہ ہر طرح اچھی صفات، خوبیاں اور تعریف کی مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ کیونکہ وہی تمام کائنات کا پروردگار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
96۔ (معبودیت، الوہیت، ربوبیت کا حقدار وہی اکیلا، بلاشائبہ شرکت غیرے ہے) (آیت) ” سبحن .... یصفون “۔ حق تعالیٰ پاک ومنزہ ہے ان تمام لغویات و خرافات سے جو اہل شرک اس کی جانب منسوب کرتے رہتے ہیں۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ قرآن کا یہ فقرہ بڑا جامع ہے۔ معرفت باری کے سارے مدارج اس مختصر سے فقرہ میں آگئے۔ کلمۃ محتویۃ علی اقصی الدرجات واکمل النھایات فی معرفۃ الہ العالم (کبیر) (آیت) ” رب العزۃ “۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ رب میں اشارہ ہے کمال حکمت و رحمت کی جانب، اور عزت میں کمال قدرت کی جانب۔ (آیت) ” یصفون “۔ کے عموم واطلاق سے اہل لطائف نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ حق تعالیٰ جس طرح اہل شرک وضلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ (کافر)
بیان کرتے ہیں۔
الْعِزَّت غلبہ ( عظمت) قوت ‘ رب کی اضافت عزت کی طرف بتارہی ہے کہ عزت اسی کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ‘ یا ان پیغمبروں اور مؤمنوں کی عزت (واقعی) حاصل ہے جو اللہ سے خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔ آیت میں دلالت ہے اس امر پر بھی کہ اللہ کی صفات بذات خود واجب ہیں ‘ ذات خداوندی ان صفات کی متقضی ہے۔
عَمَّا یَصِفُوْنَ یعنی مشرکوں کے اس بیان سے اللہ پاک ہے جو اس سورت میں آیا ہے اور اسی کے ذیل میں اللہ کے اپنی اور سلبی صفات کا ذکر کردیا ہے اور توحید پر بھی تنبیہ کردی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–181
(180۔ 181) آپ کا رب جو بڑی عظمت وقدرت والا ہے وہ ان شرکیہ باتوں سے پاک ہے جو یہ کہہ رہے ہیں اور ہماری طرف سے انبیاء کرام پر سلم ہو کہ انہوں نے تبلیغ رسالت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ : چونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے متعلق کفار کے برے اقوال، مثلاً اس کی اولاد یا اس کے شرکاء بنانے کا ذکر ہے، اس لیے آخر میں ان کی ایسی تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ کے پاک ہونے کا ذکر فرمایا۔ گویا یہ ان کے شرکیہ عقائد و اقوال کی تردید اور انبیاء اور ان کی اقوام کے احوال کے ذکر کے بعد پوری سورت کا خلاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق ان لوگوں نے جو باتیں گھڑ رکھی ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب یا نقص لازم آتا ہے، اللہ کی ذات ایسے تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے، کیونکہ وہ ساری عزت کا مالک ہے اور رسولوں پر سلام ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
180 ۔ 182:۔ اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر -1 سبحن ربک اللہ تعالیٰ نے اپنی ان چیزوں سے پاکی زیادہ بیان کی ہے جو مشرکوں نے ان کی طرف منسوب کی تھیں رب العزۃ یہ ربک سے بدل ہے مدح کے طور پر اسے نصب دینا بھی جائز ہے اور رفع پڑھنا بھی جائز ہے اس وقت یہ ھو رب العزۃ کے معنی میں ہوگا۔
عما یصفون یعنی بیوی اور بچے سے پاک ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے سبحان اللہ کے معنی کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا : ” ہر برائی و عیب سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا “ سورة بقرۃ میں بحث گذر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر -2 محمد بن سحنون سے رب العزۃ کے معنی کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کس طرح جائز ہے جب کہ عزت صفات ذات میں سے ہے یہ کہتا جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ “ (آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ہے) یعنی وہ اپنی ذات کی تسبیح بیان کرتا ہے جب اس پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور اس پر بہتان لگایا جاتا ہے۔ (آیت) ” عما یصفون “ یعنی ان باتوں میں سے جو وہ جھوٹ بولتے ہیں (آیت) ” وسلم علی المرسلین “ (اور نماز پیغمبروں پر سلام ہو) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم مجھ پر سلام بھیجو تو سارے پیغمبروں پر سلام بھیجو کیونکہ میں رسولوں میں سے ایک رسول ہوں۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوالعوام کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد…
Read the full tafseer →سُبْحٰنَ رَبِّكَ [آپ ﷺ کے رب کی پاکیزگی ہے ] رَبِّ الْعِزَّةِ [جو ساری عزت کا مالک ہے ] عَمَّا [اس سے جو ] يَصِفُوْنَ [یہ لوگ بتاتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
اللہ رب العزت ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں
یہاں سورة الصّٰفّٰت ختم ہو رہی ہے، جو تین آیات اوپر ذکر کی گئی ہیں ان میں پوری سورة کا خلاصہ آگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت اور اس کا رب العزت ہونا بیان فرمایا اور جو بھی لوگ اس کی ذات متعالیہ کے بارے میں غلط باتیں کہتے ہیں یا دل میں اعتقاد رکھتے ہیں ان کی تردید فرمائی اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کو سلام کی نعمت سے نواز دیا جو اللہ کے بندوں کے درمیان خیر پہنچانے کا ذریعہ تھے۔ آخری رکوع سے پہلے دو رکوع میں متعدد انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے سلام کا تذکرہ فرمایا تھا یہاں ختم سورة پر (وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ) فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
خاتمہ سورت بر تنزیہ وتحمید رب العالمین
وتنویہ شان حضرات مرسلین صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین
سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین۔
اب ان مضامین کے بعد اس سورت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ وتحمید پر اور مرسلین کے سلام پر ختم فرماتے ہیں جو مضمون توحید اور مضمون رسالت کا خلاصلہ اور لب لباب ہے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی تیرا پروردگار جو خداوند عزت و غلبہ ہے وہ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو مشرکین اس کی بابت کرتے ہیں پس خدا تعالیٰ کو ان تمام قبیح باتوں سے منزہ جانو جو مشرکین اس کی شان میں کہتے ہیں وہ عزیز غالب ہے وہ جب چاہے ان جلد بازوں کو پکڑ سکتا ہے جو عذاب میں جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–182
69:۔ سبحن ربک الخ : یہ سورت کا خلاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جو آپ کا مربی ہے۔ اور جس کے ہاتھ میں عزت و غلبہ ہے، مشرکین کے شرک و افتراء سے پاک ہے۔ وسلام علی المرسلین انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے نہایت برگزیدہ اور عاجز بندے ہیں۔ وہ خدائی اختیارات میں اس کے بالکل شریک نہیں۔ بلکہ مصائب و بلیات میں وہی ان کو نجات اور سلامتی عطا فرماتا ہے۔ والحمد للہ رب العالمین، صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں جو ساری کائنات کا رب ہے۔ ان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اور نہ اس کی بارگاہ میں کوئی شفیع غالب ہے۔ لہذا ہر قسم کی عبادت اسی کی بجا لاؤ۔ اور مصائب و مشکلات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
ربط آیات
گزشتہ درس کی آخری تین آیات میں فرشتوں کا کلام ذکر کیا گیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کیلئے ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے جس سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم صف بستہ رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یہی وہ فرشتے ہیں جن کو مشرک لوگ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں ، ان کو معبود مان کر ان سے حاجت براری کرتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جو مخلوق اپنے پروردگار کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ صف بستہ کھڑی ہے ، اس کی تسبیحو تنزیہہ بیان کرتی اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہے ، اور ان میں سے ہر ایک کا ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے ، دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کرے…
Read the full tafseer →سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا يَصِفُوْنَ 180ۚ
سبحان
و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر
«1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة .
( س ب ح ) السبح
۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
اس کے بعد خدا تعالیٰ سورة کو کن عمدہ مطالب کی طرف اشارہ کرکے تمام کرتا ہے۔ فقال سبحان ربک رب العزت عما یصفون۔ وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین، عاقل کے لیے تین باتوں کی معرفت اور علم اعلیٰ درجہ کا کام ہے۔ (1) خدا تعالیٰ اور اس کے صفات کا جاننا حتی المقدور اور اس کے صفات تین قسم کے ہیں۔ اول تمام عیوب و نقص سے اس کو پاک جاننا اس کے لیے لفظ سبحان آیا۔ دوم اس کے لائق صفات الوہیۃ سے واقف ہونا اس کے لیے ربک رب العزۃ آیا۔ ربوبیت ‘ حکمت و رحمت ‘ علم وقدرت پر دال ہے۔ عزۃ کمال قدرت و جبروت پر۔ سوم یہ کہ وہ اپنی خدائی میں شریک ہونے سے پاک ہے، اس کے لیے عما یصفون آیا۔ (2) یہ کہ دنیا میں کن لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ وَسَلٰـمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الصآفات : 180 تا 182)
(پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ اور پیغمبروں پر سلامتی ہے۔ اور ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔ )
خلاصہ سورة
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے ان تین آیتوں میں سورة کے جملہ مضامین کو سمیٹ دیا ہے۔ سورة میں سب سے زیادہ جس مضمون پر زور دیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، الوہیت اور ان تمام باتوں اور چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کرنا ہے جو مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں مشرکین کو چیلنج کیا گیا ہے کہ بہت جلد تمہیں اپنے انجام اور نبی آخر الزمان ﷺ کی کامیابی کا علم ہوجائے گا اور یہ ہو کر رہے گا۔ کیونکہ ہر قسم کی عزت اور عظمت رب العالمین کے لیے ہے اس کی طرف سے مرسلین پر سلام ہو۔
سورۃ کا خاتمہ ان الفاظ پر ہو رہا ہے کہ اے کفار اور مشرکین ! کان کھول کر سن لو ! کہ اللہ تعالیٰ نا صرف تمہارے غلیظ نظریات، شرکیہ عقائد اور تمہاری ہرزہ سرائی سے پاک ہے بلکہ وہ ہر قسم کی کمزوری سے بھی مبرّا ہے۔ وہ بڑی عزت و عظمت والا ہے۔ اس کی عزت و عظمت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ وہ جسے عزت اور عظمت دینا چاہے تو اسے کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ اس نے…
Read the full tafseer →تمام عزتیں اسی ہی کے ساتھ خاص ہیں :
180: سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ (آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ہے) ۔ عزت کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی کیونکہ تمام عزتیں اسی ہی کے ساتھ خاص ہیں۔ گویا اس طرح فرمایا ذوالعزۃ۔ (وہ عزت والا ہے) جیسا کہتے ہیں صاحب صدق۔ سچائی کے ساتھ مخصوص ہونے کی وجہ سے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس طرح کہا جائے کسی کو جو عزت حاصل ہے۔ وہی اس کا مالک و رب ہے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ و تعزمن تشاء ] آل عمران : 26[ عَمَّا یَصِفُوْنَ (پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں) یعنی بیٹا ‘ بیوی ‘ شریک وغیرہ۔
Read the full tafseer →180، سبحان ربک رب العزۃ، غلبہ اور قوت ، عما یصفون، جو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد مقرر کررکھی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
180۔ 182۔ طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت 3 ؎ سے بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نماز سے فراغت کا حاصل کرنا صحابہ کو اس سے معلوم ہوجاتا تھا کہ نماز کے بعد آپ اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور حضرت زید ؓ زرقی سے طبرانی میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرضوں کے بعد تین دفعہ اس آیت کو پڑھنا ثواب ہے۔ طبرانی میں عبد اللہ بن ارقم 4 ؎ کی بہی اس مضمون کی ایک حدیث ہے ان روایتوں میں ایک روایت کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سورة میں مشرکوں کو اس بےہودہ گوئی کا ذکر تھا جو مشرک لوگ اللہ کی شان میں کہتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو اس پاکی کی آیت پر ختم فرمایا ہے۔
(3 ؎…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
آیت 167
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خلاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ (فسوف یعلمون) عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہوگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے جس کو کوئی رد کرسکتا ہے نہ اس کی مخالفت کرسکتا ہے۔۔۔ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–181
118 حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی تنزیہ و تقدیس کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پاک ہے تمہارا رب عزت کا مالک ان تمام باتوں سے جو کہ یہ لوگ بناتے ہیں "۔ یعنی مشرکین عرب اور دوسرے گمراہ لوگوں نے خدا وند تعالیٰ کے لئے جو جو تصورات اپنی عقل و فکر کے مطابق قائم کر رکھے ہیں وہ ان سب سے منزہ و پاک اور وراء الوراء اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو کہ تمام عزت و اقتدار کا حقیقی مالک ہے اور اس نے ایسے لوگوں کو ان خرافات سے آگاہ اور انکے نتائج سے باخبر کردیا۔ اب اگر وہ ان باتوں سے باز نہیں آئے تو اسکا انجام وہ خود دیکھ لیں گے۔ سو جب وہ رب ہے سب کا اور عزت و عظمت کا اصل اور حقیقی مالک بھی وہی ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
رسولوں کی مدد اور کفار پر عذاب
تشریح : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ” اگر ہمارے پاس بھی کوئی پیغمبر آتا جس طرح یہود و نصاریٰ کے پاس آئے تھے تو ہم ضرور نیک پاک فرمانبردار لوگ ہوتے “ لیکن اب جب کہ ان کے پاس پیغمبر آیا ہے تو یہ ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں بلکہ ہر وقت رسول اور ان کے پیرؤوں کے دشمن بنے رہتے ہیں تو اللہ الہ العٰلمین نبی اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں اور خوشخبری بھی دیتے ہیں کہ فتح ہمیشہ حق کی ہی ہوگی یہ لوگ چاہے جو مرضی ہے کرلیں اللہ کے نیک بندوں کی ہی مدد کی جائے گی اور انہی کو کامیابیاں بھی دی جائیں گی۔ یہ خوشخبری جنگ بدر اور فتح مکہ میں مسلمانوں کی شاندار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–182
ف 1 اس میں بندوں کی تعلیم کو دی گئی ہے کہ انہیں جب کوئی نعمت حاصل ہو یا ان سے کوئی مصیبت ٹلے تو انہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا لشکربجا لائیں۔ حدیث میں ہے کہ جب تم رسولوں پر سلام بھیجو تو مجھ پر ( بھی) سلام بھیجو۔ آنحضرت ﷺ جب نماز سے واپس ہوتے تو ” سبحان ربک “ تا آخر پڑھتے اور ہر مجلس کے خاتمہ پر اس کا پڑھنا مستحب ہے۔ ( قرطبی، شوکانی)
Read the full tafseer →(37:180) سبحان۔ پاک ہے۔ یہ مصدر ہے بمعنی تسبیح (یعنی پاکی بیاں کرنے کے) آتا ہے اس کا نصب لازم ہے نیز اس کی مفرد کی طرف اضافت ضروری ہے مفرد خواہ اس میں ظاہر ہو جیسے سبحان اللّٰہ یا اسم ضمیر ہو جیسے سبحنک لاعلم لنا (2:32) اس سے فعل کا کوئی صیغہ نہیں آتا۔
ربک مضاف مضاف الیہ۔ تیرا رب۔ بمعنی پروردگار۔ مالک، صاحب، یہاں بمعنی پروردگار ہے۔ ربک موصوف اس کی صفت آگے آتی ہے۔ رب العزۃ۔
رب العزۃ۔ مضاف مضاف الیہ صفت (ربک موصوف) یہاں رب بمعنی مالک، صاحب۔ آیا ہے۔ العزۃ بمعنی غلبہ۔ عزت، قوت۔ رب کی اضافت عزت کی طرف بتارہی ہے کہ عزت اسی کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔
عما ۔ عن اور ما سے مرکب ہے ما موصولہ ہے اور یصفون اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
لغات القرآن آیت نمبر 167 تا 182 :۔ سبقت (گزر چکا ہے ، صادر ہوچکا) المنصورون (فتح حاصل کرنے والے) جند (لشکر) تول (منہ پھیرا) تول (منہ پھیرا) ساحۃ (میدان ، گھر کا آنگن) سائ (برا ہے) صباح ( صبح) یصفون (وہ بناتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 167 تا 182 :۔ اصل میں جن لوگوں کو ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرنا ہوتا ہے ان کے لئے کسی معجزہ ، دلیل اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ہی حق و صداقت کی روشنی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس کو فوراً قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیتے ہیں لیکن جن لوگوں کو عمل کرنا نہیں ہوتا وہ سو بہانے بنا کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔
یہی صورتحال عربوں کی تھی جو لوگ کفر و شرک پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
(ف 1) اللہ کی ذات تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے اور تمام محاسن و کمالات کی جامع ہے سب خوبیاں اسی کی ذات میں مجتمع ہیں اور انبیاء اور رسول پر اس کی طرف سے سلام آتا ہے جو ان کی عظمت وعصمت اور سالم ومنصور ہونے کی دلیل ہے احادیث سے بعد نماز اور ختم مجلس پر ان آیات کے پڑھنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور حضرت زید سے طبرانی میں روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا فرضوں کے بعد تین دفعہ اس آیت کو پڑھنا بڑا ثواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–182
[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
ف 1: اور دیکھتے رہئے ۔ یہ بھی حالات پر نظر رکھیں ۔ رب العزت کی پاکیزگی اور شوائب شرک سے بلندی ثابت ہکر رہے گی ۔ اور اللہ کے رسول پر سل امتی کے انوار برسیں گے ۔ اور فضا مہر و ستائش خداوندی کے نغموں سے گونج اٹھے گی ۔
Read the full tafseer →(180) اے پیغمبر آپ کا پروردگار جو کمال عزت وقوت کا مالک ہے ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کی نسبت گھڑا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–182
ف 4۔ مطلب اہل حق کے غالب ہونے کا یہ ہے کہ اس کا مقتضائے اصل یہی ہے۔ پس عارضی مغلوبیت حکمت ابتلاء سے اس کے مناقض نہیں۔
Read the full tafseer →آپ کا رب عظمت والا ہے اور پاک ہے اس سے جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں :
180۔ عظمت والا ہے اس لیے وہی اول ہے وہی آخر وہی ظاہر ہے اور وہی باطن نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد وہ بےنیاز ہے سب کو اس کی احتیاج ہے اور اس کو کسی کی احتیاج نہیں ۔ وہ ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں نہ اس کی ذات میں اور نہ ہی صفات میں ، وہ عظمت والا ہے ، دیکھتا ہے لیکن آنکھ نہیں رکھتا ، سنتا ہے لیکن کان نہیں رکھتا ، پکڑتا ہے لیکن ہاتھ نہیں رکھتا ، وہ عظمت والا ہے ہر جگہ موجود ہے کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ موجود نہ ہو ۔ ہر عیب سے پاک ہے ۔ اولاد سے پاک ، بیوی بچوں سے پاک ہے ، کھانے پینے سے پاک ، سونے اور اونگھنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
Commentary
Surah As-Saffat has been concluded on these verses, and the truth of the matter is that it would take volumes to explain this beautiful finale. In sum, Allah Ta’ ala has compressed all subjects of this Surah in these three verses. The Surah began with a description of tauhid, the theme of the Oneness of Allah, the essence of which was that Allah Ta’ ala is free from everything the Mushriks attribute to Him. Accordingly, the first verse serves as an indicator of this very detailed subject. After that, described in the Surah there were events relating to the noble prophets.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–182
94 That is. `It will not take long when they will see their defeat and your victory with their own eyes." This proved to be true as it had been foretold. Hardly 14 to 15 years had passed after the revelation of these vases when the pagans of Makkah witnessed the Holy Prophet enter their city as a conqueror, and then a few years later the same people saw that Islam had overwhelmed not only Arabia but the mighty empires of Rome and Iran as well.
Read the full tafseer →