Explained with ayahs 171–179
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–182
سورة الصّٰٓفّٰت 94
یعنی کچھ زیادہ مدت نہ گزرے گی کہ اپنی شکست اور تمہاری فتح کو یہ لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یہ بات جس طرح فرمائی گئی تھی اسی طرح پوری ہوئی۔ ان آیات کے نزول پر بمشکل 14۔ 15 سال گزرے تھے کہ کفار مکہ نے اپنی آنکھوں سے رسول ﷺ کا فاتحانہ داخلہ اپنے شہر میں دیکھ لیا، اور پھر اس کے چند سال بعد انہی لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ اسلام نہ صرف عرب پر، بلکہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں پر بھی غالب آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
(آیت) فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاۗءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ (پس جب وہ عذاب ان کے صحن میں آنا نازل ہوگا تو جن لوگوں کو پہلے ڈرایا جا چکا تھا ان کی وہ صبح بہت بری ہوگی) ساحة کے لفظی معنی صحن کے ہیں اور نزل بساحتہ (اس کے صحن میں اترا) عربی محاورہ ہے، جس کا مفہوم کسی آفت کا سامنے آجانا ہے اور صبح کے وقت کی تخصیص یہ ہے کہ اہل عرب میں دشمن کا حملہ عموماً اس وقت ہوا کرتا تھا۔ آنحضرت محمد ﷺ کا معمول بھی یہی تھا کہ اگر کسی دشمن کے خطے میں رات کے وقت پہنچتے تو حملے کے لئے صبح کے وقت تک انتظار فرماتے تھے (مظہری) روایات میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے قلعہ خیبر پر صبح کے وقت حملہ کیا تو ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
آیت
یعنی رسول کی تکذیب کی صورت میں ان کو جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اگر وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہوئے اور کہتے ہیں کہ جب تک وہ عذاب یا اس کا کوئی نمونہ ان کو دکھا نہ دیا جائے گا وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں تو ان کو آگاہ کردو کہ وہ عذاب کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ وہ جب ان کے صحنوں اور میدانوں میں اترے گا تو جن کو اس سے آگاہ کیا جا چکا ہے ان کے لئے وہ وقت نہایت برا ہوگا رسولوں کے انذار کے بعد جو عذاب آیا کرتا ہے وہ اس قوم کو ہمیشہ کے لئے پامال کردیتا ہے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ عرب میں غارتگری کا اصلی قوت صبح کا وقت وتا تھا اس وجہ سے لفظ صباح غارت گر اور جملہ کے مفہوم میں بھی آتا ہے اور واصبا حا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
177۔ 1 مسلمان جب خیبر پر حملہ کرنے گئے، تو یہودی انہیں دیکھ کر گھبرا گئے، جس پر نبی ﷺ نے بھی اللہ اکبر کہ کر فرمایا (خَربَتْ خیبرُ ، اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ فَوْمِ فَسَاءَ صَبَاحْ الْمُنْذَرِیْنَ) (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–182
33: کفار آنحضرت ﷺ سے مذاق اڑانے کے انداز میں کہا کرتے تھے کہ آپ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہیں، وہ ابھی جلدی کیوں نہیں آجاتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–179
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
12 شاید " فسوف یبصرون " سن کر کہا ہوگا کہ پھر دیر کیا ہے ہم کو ہمارا انجام جلدی دکھلا دو ۔ اس کا جواب دیا کہ اپنے اوپر جو آفت لائے جانے کی جلدی مچا رہے ہو، جب وہ آئے گی تو بہت برا وقت ہوگا۔ عذاب الٰہی اس طرح آئے گا جیسے کوئی دشمن گھات میں لگا ہوا ہو اور صبح کے وقت یکایک میدان میں اتر کر چھاپہ مارا جائے۔ عذاب آنے کے وقت یہ ہی حشر ان لوگوں کا ہوگا جنہیں پہلے سے ڈر سنا کر ہشیار کردیا گیا تھا۔ چناچہ فتح مکہ وغیرہ میں ایسا ہی ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 177{ فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمْ فَسَآئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ } ”تو جب وہ نازل ہوگا ان کے میدان میں تو وہ بہت بری صبح ہوگی ان لوگوں کی جنہیں خبردار کردیا گیا تھا۔“
”سَاحَۃ“ خیموں کے درمیان کھلی جگہ یا گھروں کے درمیان کھلے میدان کو کہا جاتا ہے۔ جیسے ہمارے ہاں عام طور پر آبادی کے درمیان میں ایک بڑا پارک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
97 کفار مکہ پر جو عذاب آتے رہے :۔ جس عذاب کے لئے کفار مکہ جلدی مچا رہے ہیں وہ آئے گا ضرور مگر اپنے مقرر وقت پر آئے گا۔ اور اس طرح آئے گا کہ ان کو یہ بھی معلوم نہ ہوسکے گا کہ کس طرف سے ان کی جڑ کٹ رہی ہے۔ چناچہ جنگ بدر کے موقع پر ابو جہل کے سوا اکثر سرداروں کا یہ خیال تھا کہ ہمارا تجارتی قافلہ محفوظ نکل گیا ہے تو اب ہمیں جنگ نہ کرنا چاہئے مگر ابو جہل اکیلا اس بات پر مصر تھا کہ ہم میدان میں نکل آئے ہیں تو ہمیں اب اسلام کا سر کچل کے دم لینا چاہئے۔ مگر اس کا یہی اصرار اس کی اپنی موت اور کفر کی کمر توڑنے کا سبب بن گیا بالکل ایسی ہی صورت حال جنگ احزاب کے موقع پر پیش آئی اور فتح مکہ تو حقیقتاً کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
94۔ یعنی جب وہ وقت موعود آجائے گا، پھر ٹالے ٹل نہ سکے گا۔ ساحۃ کے لفظی معنی صحن یا انگنائی کے ہیں۔ یعنی جب وہ عذاب ان سے ایسا متصل ہوجائے گا کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہ رہے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →فاذا نزل بساحتھم فسآء صباح المنذرین سو وہ عذاب جب ان کے رو در رو آ نازل ہوجائے گا ‘ سو وہ دن
ان لوگوں کا جن کو ڈرایا گیا ہے ‘ بہت ہی برا ہوگا (ٹل نہ سکے گا) ۔
ساحتصحن۔ فراء نے کہا : عرب ‘ قوم کی جگہ ساحت کا ذکر کافی سمجھتے ہیں (یعنی ساحت سے مراد وہ قوم ہوتی ہے جس کا وہ ساحت ہو ‘ یا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کے ساتھ جس روز ان کے صحن میں اتریں گے ‘ وہ دن ان کیلئے برا دن ہوگا۔
صباح سے مراد ہے شبخون مارنے والے لشکر کے حملہ کرنے کی صبح۔ عرب کا حملہ کرنے کا زیادہ قاعدہ یہی تھا کہ آخر شب میں صبح کے قریب چھاپہ مارتے تھے ‘ اسلئے چھاپہ مارنے اور لوٹنے کو صباح کہنے لگے ‘ خواہ غارت گری کسی وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
(176۔ 179) کیا یہ ہمارے عذاب کا وقت آنے سے پہلے ہی اس کا تقاضا کر رہے ہیں سو وہ عذاب جب ان کے قریب ہی آپہنچے گا تو وہ دن ان لوگوں کا جن کو انبیاء کرام نے ڈرایا تھا اور پھر وہ ایمان نہیں لائے تھے بہت ہی برا ہوگا۔
آپ ان کی ہلاکت کے وقت تک صبر کیجیے اور ذرا ان کو دیکھتے رہیے بہت جلد یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔
شان نزول : اَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْــجِلُوْنَ (الخ)
اور ابن منذر نے ابن جریح سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ کفار بولے محمد جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں وہ ہمیں دکھائیں اور اس کو جلدی لے آئیں اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ یہ روایت شرط شیخین پر صحیح ہے۔
Read the full tafseer →فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ : یعنی یہ عذاب ہر حال میں ان پر آکر رہے گا۔ پھر جب وہ ان کے صحن میں اتر آیا تو جن لوگوں کو عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اور وہ جھٹلا رہے ہیں ان کی صبح بری ہوگی۔ صبح کا لفظ خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا کہ عرب عموماً صبح کے وقت حملہ کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کا معمول بھی یہی تھا۔ چناچہ انس ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ خَرَجَ إِلٰی خَیْبَرَ فَجَاءَ ہَا لَیْلاً ، وَ کَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَیْلٍ لاَ یُغِیْرُ عَلَیْہِمْ حَتّٰی یُصْبِحَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، خَرَجَتْ یَہُوْدُ بِمَسَاحِیْہِمْ وَ مَکَاتِلِہِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–179
171 ۔ 179:۔ فراء نے بالسعادۃ کا لفظ مقدر مانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کتب اللہ لا غلبن انا و رسلی) المجادلۃ (21: حضرت حسن بصری نے کہا : صاحب شریعت کو کبھی بھی قتل نہیں کیا گیا حجت اور غلبہ کے ساتھ ان کی مدد کا وعدہ پہلے ہوچکا ہے آیت میں الغالبون کا لفظ زکر ہوا یہ جند کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے۔ اگر لفظ کا اعتبار ہوتا تو جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے جند ما ھنالک مھزوم میں الاحزاب۔ ) ص ( شیبانی نے کہا : یہاں جمع کا صیغہ آیا ہے کیونب کہ یہ آیت کا سرا ہے۔
آپ ان سے موت کے وقت تک اعراض کریں۔ قتادہ نے حسین کا معنی موت کیا ہے (1) زجاج نے کہا : اس وقت تک ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
1:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین “ (کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کی طرح پر آتی) یعنی جب مشرکین اہل مکہ کے پاس پہلوں کا ذکر اور بعد والوں کا علم آیا تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا انکار کردیا (آیت ) ” فسوف یعلمون “ (عنقریب وہ اپنے انجام کو جان لیں گے ) ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کانوا لیقولون “ یعنی انہوں نے یہ بات بعثت سے پہلے کی اور یہ بات اہل مکہ کے مشرکین جب ان کے پاس اولین کا ذکر اور آخرین کا علم آیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح)…
Read the full tafseer →فَاِذَا [پھر جب ] نَزَلَ [وہ نازل ہوگا ] بِسَاحَتِهِمْ [ان کے آنگن پر ] فَسَاۗءَ [تو بری ہوگی ] صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ [خبردار کئے جانے والوں کی صبح ] ۔
س و ح
فعل استعمال نہیں ہوتا۔
ساحۃ آبادی میں کھلی جگہ۔ پلاٹ۔ پارک۔ میدان۔ آنگن۔ زیر مطالعہ آیت۔ 177 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ان سے اعراض فرمائیے وقت گزرنے دیجیے، آپ ان کو دیکھتے رہے یہ بھی دیکھ لیں گے، چناچہ آپ نے دیکھ لیا اور اہل مکہ بدر میں مغلوب ہوئے۔ آپ نے بھی ان کا انجام دیکھ لیا اور انہوں نے بھی۔
(اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) یعنی عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ (مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو) ان کا یہ تقاضا کرنا ان کے حق میں اچھا نہیں ہے۔ (فَاِِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ ) (سو جب وہ ان کے میدان میں نازل ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین فکفروا بہ فسوف یعلمون۔
یہاں تک مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد فرمایا اب آگے مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہود ونصاریٰ کی سرکشی اور ہلاکت کا حال سن کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر پہلوں کی طرح ہمارے پاس بھی توریت وانجیل جیسی کوئی کتاب ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص فرمانبردار بندے ہوئے اور خوب اس پر عمل کرتے لیکن جب توریت وانجیل سے بڑھ کر ان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل ہوا اور نبی کریم ان کی طرف مبعوث ہوئے تو منکر ہوگئے اور آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–182
69:۔ سبحن ربک الخ : یہ سورت کا خلاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جو آپ کا مربی ہے۔ اور جس کے ہاتھ میں عزت و غلبہ ہے، مشرکین کے شرک و افتراء سے پاک ہے۔ وسلام علی المرسلین انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے نہایت برگزیدہ اور عاجز بندے ہیں۔ وہ خدائی اختیارات میں اس کے بالکل شریک نہیں۔ بلکہ مصائب و بلیات میں وہی ان کو نجات اور سلامتی عطا فرماتا ہے۔ والحمد للہ رب العالمین، صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں جو ساری کائنات کا رب ہے۔ ان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اور نہ اس کی بارگاہ میں کوئی شفیع غالب ہے۔ لہذا ہر قسم کی عبادت اسی کی بجا لاؤ۔ اور مصائب و مشکلات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
ربط آیات
گزشتہ درس کی آخری تین آیات میں فرشتوں کا کلام ذکر کیا گیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کیلئے ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے جس سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم صف بستہ رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یہی وہ فرشتے ہیں جن کو مشرک لوگ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں ، ان کو معبود مان کر ان سے حاجت براری کرتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جو مخلوق اپنے پروردگار کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ صف بستہ کھڑی ہے ، اس کی تسبیحو تنزیہہ بیان کرتی اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہے ، اور ان میں سے ہر ایک کا ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے ، دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کرے…
Read the full tafseer →فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمْ فَسَاۗءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ 177
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–179
فتول عنہم حتی حین وہ کس لیے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور ہمارا عذاب جب کسی قوم پر آتا ہے تو ان کا برا دن اور ان کی صبح بری صبح ہوتی ہے۔ اے محمد ﷺ تو تھوڑے زمانہ تک ان سے اعراض کر اور صبر کر اور دیکھتا رہ وہ آپ دیکھ لیں گے، اس میں فتح بدر و دیگر فتوحات کی طرف بھی اشارہ ہے اور نیز مرنے کے بعد جو کچھ بلا پیش آنے والی ہے اس کی طرف بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِھِمْ فَسَآئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ ۔ وَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۔ وَّاَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (الصآفات : 176 تا 179)
(کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ پس جب وہ ان کے صحن میں اترے گا تو بڑی ہی بری ہوگی ان لوگوں کی صبح جن کو اس سے متنبہ کیا جا چکا ہے۔ تو کچھ مدت کے لیے ان سے اعراض کرو۔ اور دیکھو، وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔ )
گزشتہ امتوں کے حوالے سے قریش کو انجامِ بد سے بچنے کی ہدایت
نبی کریم ﷺ تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں مخالفین کی مخالفت کو روکنے اور ان کے دلوں میں ایمان اتارنے کے لیے کبھی کبھی انھیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–179
فہم القرآن
ربط کلام : اے نبی ﷺ آپ کے ساتھ بھی اللہ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا اس لیے آپ کو ان سے الجھنے کی بجائے ایک وقتتک ان سے اعراض اور انتظار کرنا چاہیے۔
بے شک یہ آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن آپ ان کو ایک وقت کے لیے صرف نظر فرمائیں کیونکہ عنقریب یہ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لیں گے کہ ہمارا عذاب ان کو کس طرح آلیتا ہے۔ جہاں تک دنیا کی پکڑ کا معاملہ ہے جب ہم نے انہیں ذلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو پھر کوئی طاقت انہیں بچانے والی نہ ہوگی۔ لہٰذا جب اللہ کے وعدے کا وقت آن پہنچا تو نبی آخر الزمان ﷺ اس طرح اہل مکہ اور یہود ونصارٰی پر غالب آئے کہ کوئی دم مارنے کی جرأت نہ کرسکا۔ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →177: فَاِذَا نَزَلَ بِسَا حَتِہِمْ (پس وہ ان کے رودر رو نازل ہوگا) ساحتھمؔ ان کے صحن میں۔ فَسَآ ئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ (وہ دن ان لوگوں کا جن کو ڈرایا جاچکا تھا بہت ہی برا ہوگا) ان کی صبح۔ المنذرینؔ میں لام مبہم ہے اس چیز کے سلسلہ میں جس سے ان کو ڈرایا گیا کیونکہ ساء اور بئس اس کو پورا کر رہے ہیں۔ ایک قول یہ ہے اس سے مراد فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کا مکہ میں اترنا ہے اور یہ ان پر اترنے والے عذاب ہی کی طرح ہے۔ اس لئے کہ ان کو ڈرایا گیا مگر انہوں نے انکار کیا۔ ایک ایسے لشکر کے ساتھ جس کے اچانک حملہ سے قوم کو بعض ناصحین نے ڈرایا مگر قوم کے لوگوں نے ان کے انذار کی طرف توجہ نہ دی۔ یہاں تک کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
771، فاذا نزل، جب ان پر عذاب نازل ہوگا۔ ، بساحتھم ، مقاتل (رح) کا بیان ہے جب عذاب ان کے سامنے حاضرہو جائے گا۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد صحن ہے۔ فراء کے نزدیک یہ ہے کہ عرب قوم کی جگہ ساحت کا ذکرکافی سمجھتے ہیں۔
، فساء صباح المنذرین، یعنی صبح کے وقت کافروں کے لیے برا ہوگا۔ اس لیے عذاب سے ان کو ڈرائیں ۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خیبر کی طرف نکل چلے اور رات کو وہاں پہنچے اور آپ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ رات کو اگر (دشمن) پر پہنچ جاتے تھے قوم پر پہنچ جاتے تھے تو صبح تک حملہ نہیں کرتے تھے۔ جب صبح ہوتی تو خیبر کے یہودی اپنے پھادڑے اور ٹوکرے لے کر (باہر) نکلے اور جو نہی رسول اللہ ﷺ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
167۔ 179۔ اور مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ان مشرکین کو یوں قائل کیا۔ کہ اہل کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آوے اور قسمیں کھا کر یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خالص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے۔ لیکن اس میں انہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اس کا انجام انہی کے حق میں جو کچھ ہوگا وہ ان کو معلوم ہوگا۔ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے اسلام کی مخالف بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
آیت 167
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خلاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ (فسوف یعلمون) عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہوگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے جس کو کوئی رد کرسکتا ہے نہ اس کی مخالفت کرسکتا ہے۔۔۔ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
115 انجام کے انتظار کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ دیکھتے رہو ان کے انجام کو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے اپنے انجام کو "۔ یعنی اپنے وقت مقرر پر۔ اور وہ دور نہیں۔ کبھی بھی آسکتا ہے۔ پس یہ لوگ اس کی جلدی مچانے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کریں کہ عقل و خرد اور ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے اور یہی ہوسکتا ہے کہ انسان اس آخری انجام کے آنے سے پہلے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرے ورنہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد میں انجام کے انتظار کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جب یہ ہٹ دھرم لوگ ماننے کو تیار نہیں تو ان کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دو کہ عنقریب یہ خود ہی دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
رسولوں کی مدد اور کفار پر عذاب
تشریح : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ” اگر ہمارے پاس بھی کوئی پیغمبر آتا جس طرح یہود و نصاریٰ کے پاس آئے تھے تو ہم ضرور نیک پاک فرمانبردار لوگ ہوتے “ لیکن اب جب کہ ان کے پاس پیغمبر آیا ہے تو یہ ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں بلکہ ہر وقت رسول اور ان کے پیرؤوں کے دشمن بنے رہتے ہیں تو اللہ الہ العٰلمین نبی اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں اور خوشخبری بھی دیتے ہیں کہ فتح ہمیشہ حق کی ہی ہوگی یہ لوگ چاہے جو مرضی ہے کرلیں اللہ کے نیک بندوں کی ہی مدد کی جائے گی اور انہی کو کامیابیاں بھی دی جائیں گی۔ یہ خوشخبری جنگ بدر اور فتح مکہ میں مسلمانوں کی شاندار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →ف 16 یعنی وہ صبح جس میں ان پر عذاب نازل ہوگا ان کے حق میں انتہائی بری ہوگی۔ عرب عموماً صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے اس لئے صبح کا لفظ خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ ( قرطبی)
Read the full tafseer →(37:177) ساحتہم مضاف مضاف الیہ ساحۃ سوح مادہ سے ہے۔ صحن۔ کھلی جگہ۔ چوک۔ اس کی جمع ساح وسوح وساحات ہے۔ ان کا صحن۔ فاذا نازل بساحتھم۔ جب وہ (عذاب) ان کے گھر کے صحن میں آنازل ہوگا۔ یعنی ان کے روبرو آنازل ہوگا۔
فساءترتیب کا ہے۔ ساء یسوء سواء ۔۔ الشیئ۔ کسی چیز کا قبیح ہونا۔ برا ہونا۔
صباح۔ صبح۔ دن کا ابتدائی حصہ۔ مضاف المنذرین۔ اسم مفعول جمع مذکر جن کو ڈرایا گیا ہو۔ مضاف الیہ۔
فساء صباح المنذرین ۔ سو جن کا ڈرایا جا چکا ہے ان کی وہ صبح بہت بری ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
لغات القرآن آیت نمبر 167 تا 182 :۔ سبقت (گزر چکا ہے ، صادر ہوچکا) المنصورون (فتح حاصل کرنے والے) جند (لشکر) تول (منہ پھیرا) تول (منہ پھیرا) ساحۃ (میدان ، گھر کا آنگن) سائ (برا ہے) صباح ( صبح) یصفون (وہ بناتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 167 تا 182 :۔ اصل میں جن لوگوں کو ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرنا ہوتا ہے ان کے لئے کسی معجزہ ، دلیل اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ہی حق و صداقت کی روشنی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس کو فوراً قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیتے ہیں لیکن جن لوگوں کو عمل کرنا نہیں ہوتا وہ سو بہانے بنا کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔
یہی صورتحال عربوں کی تھی جو لوگ کفر و شرک پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–179
(ف 2) اوپر مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرماکران آیتوں میں ان مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ اس کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آئے اور قسمیں کھاکریہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خاص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے اور وہ قول وقرار کچھ یاد نہ رکھا سو اس انکار و انحراف کا جوانجام ہونے والا ہے عنقریب دیکھ لیں گے پھر فرمایا کہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہرچ کی ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو مدد پہنچاتا ہے اور آخرکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–182
[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
ف 1: یعنی آج یہ لوگ گواز راہ عناد ودشمنی طلب عذاب میں مستعجل ہیں ۔ مگر آپ گھبرائیں نہیں ۔ جب اللہ کا غضب بھڑکے گا ۔ اور عذاب کو یہ لوگ روبرو دیکھیں گے ۔ تو اس و قت ان کے لئے حسرت اور ندامت کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا ۔ اس حالت میں ان کو احساس ہوگا ۔ کہ ہم نے اللہ کی غیرت کو آزمانے میں بہت بڑی گستاخی کا ارتکاب کیا ہے ۔ آپ ان سے فی الحال تعرض نہ فرمائیے ۔
حل لغات :۔ سبقت کلمتنا ۔ یعنی یہ مقدارات میں سے ہے ۔ کہ انبیاء کرام اپنے مخالفین پر غالب رہیں اور ان کو ہر حال میں مظفر ومنصور رکھا جائے بساحبھم ۔ آنگن ۔ کشادگی ۔
Read the full tafseer →(177) پھر جب وہ عذاب ان لوگوں کے میدان میں اترآئے گا تو جن کو ڈرایا گیا ہے ان کے لئے وہ وقت بہت برا وقت ہوگا۔ یعنی جب عذاب ان کے سامنے اور ان کے روبرو آنازل ہوگا تو وہ صبح یا وہ دن ان لوگوں کیلئے بہت برا ہوگا جو ڈرائے جاچکے ہیں یعنی منکروں کے لئے چونکہ عام طور سے صبح کے وقت مسلمان حملہ کرتے تھے اس لئے وہی اصطلاح عذاب کے لئے استعمال فرمائی۔
عرب کے لوگ ساحت بول کر قوم مراد لیتے ہیں۔ یعنی عذاب سامنے آموجود ہو نبی کریم ﷺ جب خیبرپر حملہ آور ہوئے تورات ہی کو پہنچ گئے مگر صبح تک انتظار کرتے رہے جب صبح ہوگئی اور لوگ گھروں سے نکلے تو انہوں نے کا قسم خدا کی یہ محمد اور ان کا لشکر ہے۔ حضور ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–182
ف 4۔ مطلب اہل حق کے غالب ہونے کا یہ ہے کہ اس کا مقتضائے اصل یہی ہے۔ پس عارضی مغلوبیت حکمت ابتلاء سے اس کے مناقض نہیں۔
Read the full tafseer →پھر عذاب ان کے سامنے ہوگا اور ان کی وہ صبح بہت بری ہوگی :
177۔ (بساحتھم) کی اصل س و ح ہے اس مادہ کا لفظ قرآن کریم میں اس جگہ ایک ہی بار استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ’ ان کا میدان “ ان کا صحن “ اور اس طرح جائے فراغ کو بھی کہتے ہیں ۔ کتنے نادان ہیں کہ انہوں نے اپنے ذہن و دماغ میں آپ ﷺ کی صداقت کا معیار یہ مقرر کرلیا ہے کہ اگر ان پر ہمارا عذاب نازل ہوا تو آپ ﷺ سچے ‘ اگر نہ اترا تو پھر آپ ﷺ کی نبوت کو وہ تسلیم نہیں کریں گے لیکن وہ کتنے نادان ہیں اگر عذاب نازل ہوگیا اور انہیں اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق آپ ﷺ کی نبوت کی تصدیق ہوگئی تو انہیں اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا ؟ کیا عذاب آئے گا تو ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–179
The sense of 'the victory of the people of Allah'
In verses 171-173, it was said: وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ (And Our Word has already gone ahead in favor of Our servants - the messengers - they are the ones who will have Allah's support, and verily it will be Our army that prevails). The sense of these verses is that it stands predetermined with Allah that His chosen servants, that is, the prophets would be the ones to prevail. This may raise a difficulty, for in the mortal world, some…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–182
94 That is. `It will not take long when they will see their defeat and your victory with their own eyes." This proved to be true as it had been foretold. Hardly 14 to 15 years had passed after the revelation of these vases when the pagans of Makkah witnessed the Holy Prophet enter their city as a conqueror, and then a few years later the same people saw that Islam had overwhelmed not only Arabia but the mighty empires of Rome and Iran as well.
Read the full tafseer →