Explained with ayahs 161–170
فرشتوں کے اوصاف۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
سورة الصّٰٓفّٰت 91
یعنی اللہ کی اولاد ہونا تو درکنار، ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے جس کا جو درجہ اور مرتبہ مقرر ہے اس سے ذرہ برابر تجاوز تک کرنے کی مجال ہم نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–170
خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ (یعنی کفار عرب آنحضرت محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے) کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت (کی کتاب) پہلے لوگوں (کی کتابوں) کے طور پر آتی (یعنی جیسے یہود و نصاریٰ کے پاس رسول اور کتابیں آئیں، اگر ہمارے لئے ایسا ہوتا) تو ہم اللہ کے خاص بندے ہوتے (یعنی اس کتاب کی تصدیق اور اس پر عمل کرتے، ان کی طرح تکذیب اور مخالفت نہ کرتے) پھر (جب) وہ نصیحت کی کتاب رسول کے ذریعہ سے ان کو پہنچی تو) یہ لوگ اس کا انکار کرنے لگے (اور اپنا وہ عہد توڑ دیا) سو (خیر) اب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہوا جاتا ہے (چنانچہ مرتے ہی کفر کا انجام سامنے آ گیا، اور بعض سزائیں موت سے پہلے بھی مل گئیں) اور (آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکراً من الاولین تکنا عباد اللہ المخلصین، فکفروا بہ فسوف یعلمون (170-167)
قریش کی ایک تعلق
یہ مضمون پیچھے سورة فاطر کی آیت 42 میں بھی گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ قریش کے سامنے جب یہ بات آتی کہ یہود اور دوسری قوموں نے اپنے اپنے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی تو دو بانداز تعلی کہتے کہ بڑے ہی بدقسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی، اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی تعلیم ہوتی یا ہمارے پاس اللہ کا کوئی رسول آتا تو ہم یہ رویہ نہ اختیار کرتے بلکہ ہم اس کی تعلیم کی پیروی کرتے اور خدا کے نہایت خاص بندے بن کر دکھا دیتے آدمی کو جو چیز حاصل نہ ہو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
169۔ 1 ذکر سے مراد کوئی کتاب الٰہی یا پیغمبر ہے، یعنی یہ کفار نزول قرآن سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس بھی کوئی آسمانی کتاب ہوتی، جس طرح پہلے لوگوں پر تورات وغیرہ نازل ہوئیں یا کوئی ہاوی ہمیں وعظ و نصیحت کرنے والا ہوتا، تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے بن جاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
31: یعنی خود فرشتے تو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں نہیں کہتے، بلکہ اپنی بندگی کا اظہار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–170
اب روئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھرجاتا ہے جو ان افسانوی عقیدے کے قائل تھے۔ ان کو ان کے وہ وعدے اور وہ آرزوئیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ جب وہ اہل کتاب کے ساتھ حسد کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ایسی کتاب آجائے جس میں پہلے لوگوں کا ذکر ہو یعنی حضرت ابراہیم اور آپ کے بعد آنے والوں کا تو ہم اللہ کے مخلص اور اعلیٰ بندے بن جائیں اور اللہ کے ہاں ہمارا بلند مقام ہو۔
وان کانوا ۔۔۔۔۔ بہ فسوف یعلمون (167 – 170) “۔ یہ ہے وہ ذکر جو ان کے پاس آگیا اور یہ اس کرہ ارض پر عظیم ترین نصیحت ہے لیکن ان لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔
فکفروا بہ فسوف یعلمون (37: 170) ” مگر جب آگیا تو انہوں نے اس کا انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–170
9 عرب لوگ انبیاء کے نام سنتے تھے ان کے علم سے خبردار نہ تھے تو یہ کہتے یعنی اگر ہم کو پہلے لوگوں کے علوم حاصل ہوتے یا ہمارے ہاں کوئی کتاب اور نصیحت کی بات اترتی تو ہم خوب عمل کر کے دکھلاتے اور معرفت و عبادت میں ترقی کر کے اللہ کے مخصوص و منتخب بندوں میں شامل ہوجاتے۔ اب جو ان کے اندر نبی یا تو پھرگئے وہ قول وقرار کچھ یاد نہ رکھا۔ سو اس انکار و انحراف کا جو انجام ہونے والا ہے عنقریب دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 168{ لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِکْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ } ”کہ اگر ہمارے پاس بھی پہلوں کی کوئی نصیحت ہوتی“
یعنی جس طرح پہلی قوموں کے پاس ”ذکر“ آیا تھا ‘ اگر ہمارے پاس بھی آیا ہوتا ‘ ہم پر بھی کوئی کتاب نازل ہوئی ہوتی :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
94 اللہ اور جبرئیل کے درمیان نور کے ستر (70) حجاب :۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور اپنا معبود قرار دیتے تھے۔ ان تین آیات میں فرشتوں کی زبان سے اصل حقیقت بیان کی گئی ہے۔ یعنی تمہارے اس شرکیہ عقیدہ کے مقابلہ میں فرشتوں کا اپنا بیان یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرشتہ کا ایک مقررہ درجہ اور مقام ہے جس سے آگے ہم بڑھ نہیں سکتے۔ چناچہ ترمذی کی ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ رسول اللہ نے سیدنا جبرئیل سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ؟ تو جبرئیل نے جواب دیا کہ میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نور کے ستر (70) حجاب ہیں اگر میں اپنے مقام سے ذرا بھی آگے بڑھنے کی کوشش کروں تو جل جاؤں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
90۔ (اور تکذیب ومخالفت کرنے والوں میں نہ ہوتے) مشرکین مکہ کہا کرتے تھے کہ کوئی نبی اگر ہم میں پیدا ہوا ہوتا اور اس پر کوئی کتاب نازل ہوئی ہوتی جیسے بنی اسرائیل پر نازل ہوئی تو ہم یقیناً تصدیق کرنے والوں میں ہوتے اور اطاعت الہی کا ایک نمونہ اپنے ذات میں پیش کردیتے۔ اوپر یہ ہی مضمون (آیت) ” لئن جآء ھم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم “۔ (سورۃ الفاطر، پ 22) کے تحت میں آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →لو ان عندنا ذکرًا من الاولین۔ کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کے (کتابوں کے) طور پر آتی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
(167۔ 169) اور یہ کفار مکہ رسول اکرم کی بعثت سے پہلے کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی پہلے لوگوں کی طرح رسول آتا تو ہم اللہ تعالیٰ کے موحد بندے ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–170
”وَاِنْ كَانُوْا لَيَقُوْلُوْنَ“ اصل میں ”وَ إِنَّھُمْ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ“ تھا۔ دلیل اس کی ”لَيَقُوْلُوْنَ“ پر آنے والا لام ہے، جس کی وجہ سے ”إِنَّ“ کو ”إِنْ“ کردیا اور ”ھُمْ“ کو حذف کردیا۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة فاطر (42) اور سورة انعام (156، 157) یعنی یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ گزشتہ لوگوں کی طرح ہمارے پاس کوئی پیغمبر آتا، یا ہم پر اللہ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے۔ مگر جب یہ کتاب ان کے پاس آگئی تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اب اس انکار کا نتیجہ وہ بہت جلدی جان لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–170
167 ۔ 170 مشرکین نے جو باتیں کیں ان کی خبر دینے کی طرف رجوع کیا یعنی جب حضور ﷺ کی بعثت سے قبل انہیں جہالت کے ساتھ عار دلائی جاتی تو مشرکین مکہ کہتے : لو ان عندنا ذکر امن الاولین۔ یعنی وہ کہتے اگر ہماری طرف کوئی نبی مبعوث کیا جاتا جو شرعی احکام کی وضاحت کرتا تو ہم اس کی اتباع کرتے جب ان کو مخفف کیا تو وہ فعل پر داخل ہوا اور اسے لام لازم ہوگیا تاکہ نفی اور ایجاب میں فرق ہو۔ کوفی کہتے ہیں ان ‘ ما کے معنی میں ہے اور لام ‘ الا کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر ہمارے پاس انبیاء کی کتب میں سے ایک کتاب ہوتی تو ہم اللہ کے مخلص بندے ہوتے یعنی ہمارے پاس ذکر آتا جس طرح پہلے لوگوں کے پاس ذکر آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
1:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین “ (کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کی طرح پر آتی) یعنی جب مشرکین اہل مکہ کے پاس پہلوں کا ذکر اور بعد والوں کا علم آیا تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا انکار کردیا (آیت ) ” فسوف یعلمون “ (عنقریب وہ اپنے انجام کو جان لیں گے ) ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کانوا لیقولون “ یعنی انہوں نے یہ بات بعثت سے پہلے کی اور یہ بات اہل مکہ کے مشرکین جب ان کے پاس اولین کا ذکر اور آخرین کا علم آیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح)…
Read the full tafseer →لَوْ اَنَّ [اگر یہ کہ ] عِنْدَنَا [ہمارے پاس ] ذِكْرًا [کوئی نصیحت ہوتی ] مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ [اگلے لوگوں سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–170
فرشتوں کی بعض صفات کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو مشرکین کو خطاب فرمایا کہ تم اور تمہارے سارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ شانہٗ کی توحید سے کسی کو نہیں پھیر سکتے حالانکہ تمہاری کوششیں برابر جاری ہیں ہاں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جس کسی کا دوزخ میں جانا مقرر و مقدر ہے اسی کو توحید کے راستے سے ہٹا سکتے ہو۔
چونکہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اور اس لیے ان کی شان عبدیت انہی کی زبانی بیان فرمائی (پہلے جنات کے بارے میں بتایا جاچکا ہے کہ وہ اپنے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص مجرم ہوگا گرفتار ہو کر حاضر کیا جائے گا) جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین فکفروا بہ فسوف یعلمون۔
یہاں تک مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد فرمایا اب آگے مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہود ونصاریٰ کی سرکشی اور ہلاکت کا حال سن کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر پہلوں کی طرح ہمارے پاس بھی توریت وانجیل جیسی کوئی کتاب ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص فرمانبردار بندے ہوئے اور خوب اس پر عمل کرتے لیکن جب توریت وانجیل سے بڑھ کر ان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل ہوا اور نبی کریم ان کی طرف مبعوث ہوئے تو منکر ہوگئے اور آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–171
67:۔ ولقد سبقت الخ : یہ بشارت دنیوی ہے۔ ہمارا فیصلہ انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں صادر ہوچکا ہے کہ آخر الامر وہ اور ان کے متبعین غالب و منصور اور ان کے دشمن مغلوب و مقہور ہوں گے۔ فتول عنہم الخ یہ مشرکین پر زجر اور تخویف دنیوی ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ کچھ دیر تک آپ ان سے تعرض نہ فرمائیں اور دیکھیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس وقت وہ خود بھی اپنا انجام سے جنگ بدر میں ان کا قتل اور قید ہونا مراد ہے۔ الی حین، المراد الی یوم بدر (کبیر) ۔ فسوف یبصرونہا وما یحل بہم من العذاب والاسر والقتل (بحر ج 7 ص 380) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
ربط آیات
گزشتہ درس کی آخری تین آیات میں فرشتوں کا کلام ذکر کیا گیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کیلئے ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے جس سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم صف بستہ رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یہی وہ فرشتے ہیں جن کو مشرک لوگ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں ، ان کو معبود مان کر ان سے حاجت براری کرتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جو مخلوق اپنے پروردگار کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ صف بستہ کھڑی ہے ، اس کی تسبیحو تنزیہہ بیان کرتی اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہے ، اور ان میں سے ہر ایک کا ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے ، دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کرے…
Read the full tafseer →لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 168ۙ
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔
ذكر
الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–173
وان کانوا لیقولون الخ مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد کرکے ان کی نبی ( علیہ السلام) کے مبعوث ہونے سے پہلے جو تمنا تھی، اس کو بیان کرکے ان کو نادم کرتا ہے کہ پہلے تو وہ یہود و نصاریٰ کی سرکشی و ہلاکت کا حال سن کر یہ کہتے تھے کہ اگر پہلوں کی کتابوں میں کی کوئی کتاب تورات و انجیل جیسی ہمارے پاس ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے ہوجاتے، اس پر خوب عمل کرتے، پھر جب وہ کتاب یعنی قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ ان کے پاس آئے تو اس کے منکر ہوگئے، اب اس انکار کا نتیجہ ان کو بہت جلد معلوم ہوجاوے گا، جو کچھ ہم نے رسولوں کی معرفت فرمایا ہے۔ وہ سچ ہو کر رہے گا اور ہمارا گروہ غالب رہے گا۔
اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–170
وَاِنْ کَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَ ۔ لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِکْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ لَـکُنَّا عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ فَـکَفَرُوْا بِہٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الصآفات : 167 تا 170)
(اور بیشک یہ لوگ کہتے تھے۔ کہ کاش ہمارے پاس پہلوں کی تعلیم ہوتی۔ تو ہم اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے۔ تو انھوں نے اس کا انکار کردیا تو وہ عنقریب جان لیں گے۔ )
قریش کی بڑ اور اس پر تنبیہ
یہ مضمون اس سے پہلے سورة فاطر کی آیت 42 میں بھی گزر چکا ہے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ قریش کے سامنے جب ان قوموں کا ذکر آتا جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول مبعوث کیے گئے اور انھوں نے ان کی تکذیب کردی، جس کے نتیجہ میں ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–173
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ اور دیگر لوگوں کا دعویٰ ۔
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل مکہ کے پاس براہ راست کوئی نبی نہیں آیا۔ جس بنا پر اہل مکہ اپنے آپ میں یہ کمی محسوس کرتے اور کہتے تھے کہ کاش ! ہمارے ہاں بھی کوئی نبی مبعوث کیا جاتا۔ جس کی اتّباع کرکے ہم دوسری اقوام بالخصوص اہل کتاب پر برتری حاصل کرلیتے اور اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ اس خواہش اور نبی ﷺ کو پہنچاننے کے باوجود یہ لوگ انکار کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی روش سے باز نہ آئے تو انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی کس طرح مدد کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت ان…
Read the full tafseer →168: لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِکْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ (اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت پہلے لوگوں کی آتی (کتابوں کے طور پر آتی) یعنی کوئی کتاب ان کتابوں میں سے جو پہلے لوگوں کے پاس آئیں جیسے تورات وانجیل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
168، لوان عند نا ذکرا من الووالین، پہلے لوگوں کی طرح کتابیں لے کر آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–179
167۔ 179۔ اور مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ان مشرکین کو یوں قائل کیا۔ کہ اہل کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آوے اور قسمیں کھا کر یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خالص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے۔ لیکن اس میں انہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اس کا انجام انہی کے حق میں جو کچھ ہوگا وہ ان کو معلوم ہوگا۔ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے اسلام کی مخالف بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
آیت 167
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خلاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ (فسوف یعلمون) عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہوگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے جس کو کوئی رد کرسکتا ہے نہ اس کی مخالفت کرسکتا ہے۔۔۔ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
109 فرشتوں کا کام اپنے رب کی تسبیح کرنا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہمارا کام تو تسبیح کرتے رہنا ہے اپنے رب کی "۔ یعنی اللہ پاک کی پاکی بیان کرنا ہر نقص و عیب اور ہر طرح کی خامی و کمزوری سے۔ نیز ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب سے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو خداوند قدوس کی خدائی میں شرکت تو دور کی بات ہے ہم تو ہمیشہ اس کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تسبیح میں اللہ پاک کی تنزیہ کا پہلو غالب ہوتا ہے۔ یعنی اللہ پاک کو ان تمام باتوں سے منزہ اور اعلیٰ وارفع قرار دینا جو اس کی شان کے منافی ہیں۔ پس وہ شرک کے ہر شائبے سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
رسولوں کی مدد اور کفار پر عذاب
تشریح : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ” اگر ہمارے پاس بھی کوئی پیغمبر آتا جس طرح یہود و نصاریٰ کے پاس آئے تھے تو ہم ضرور نیک پاک فرمانبردار لوگ ہوتے “ لیکن اب جب کہ ان کے پاس پیغمبر آیا ہے تو یہ ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں بلکہ ہر وقت رسول اور ان کے پیرؤوں کے دشمن بنے رہتے ہیں تو اللہ الہ العٰلمین نبی اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں اور خوشخبری بھی دیتے ہیں کہ فتح ہمیشہ حق کی ہی ہوگی یہ لوگ چاہے جو مرضی ہے کرلیں اللہ کے نیک بندوں کی ہی مدد کی جائے گی اور انہی کو کامیابیاں بھی دی جائیں گی۔ یہ خوشخبری جنگ بدر اور فتح مکہ میں مسلمانوں کی شاندار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
ف 9 یعنی اگر گزشتہ قوموں کی طرح ہمارے پاس کوئی پیغمبر آتا یا ہم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم۔۔۔ “ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ بات مشرکین مکہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے کہا کرتے تھے، نیز دیکھئے۔ آیت 42( شوکانی)
Read the full tafseer →(37:168) ذکرا۔ پندو نصائح کی کتاب، نصحیت، بیان ، یہاں مراد کتاب منزل مین اللہ ہے۔ ای کتابا من جنس الکتب التی نزلت علیہم ومثلہا فی کونہ من عند اللہ تعالیٰ ۔ یعنی پہلے لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتابیں نازل ہوئیں تھیں اگر ایسی ہی کوئی کتاب ہمارے پاس بھی آئی ہوتی۔
قرآن مجید کو بھی کئی جگہ ذکر ہی کہا گیا ہے مثلا انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظوں ۔ (15:9) اس نصیحت نامہ (قرآن) کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ یہ جملہ شرطیہ ہے اور اگلی آیت اس کی جزا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–182
لغات القرآن آیت نمبر 167 تا 182 :۔ سبقت (گزر چکا ہے ، صادر ہوچکا) المنصورون (فتح حاصل کرنے والے) جند (لشکر) تول (منہ پھیرا) تول (منہ پھیرا) ساحۃ (میدان ، گھر کا آنگن) سائ (برا ہے) صباح ( صبح) یصفون (وہ بناتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 167 تا 182 :۔ اصل میں جن لوگوں کو ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرنا ہوتا ہے ان کے لئے کسی معجزہ ، دلیل اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے ہی حق و صداقت کی روشنی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس کو فوراً قبول کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیتے ہیں لیکن جن لوگوں کو عمل کرنا نہیں ہوتا وہ سو بہانے بنا کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔
یہی صورتحال عربوں کی تھی جو لوگ کفر و شرک پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–179
(ف 2) اوپر مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرماکران آیتوں میں ان مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ اس کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آئے اور قسمیں کھاکریہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خاص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے اور وہ قول وقرار کچھ یاد نہ رکھا سو اس انکار و انحراف کا جوانجام ہونے والا ہے عنقریب دیکھ لیں گے پھر فرمایا کہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہرچ کی ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو مدد پہنچاتا ہے اور آخرکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–182
[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–176
خدائے خیر اور خدائے شر
1: قرآن حکیم میں تمام عقائد باطلہ کی تردید موجود ہے ۔ جو اس وقت رائج تھے ۔ اور یا ان کے مقبول ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان تھا ۔ گو بظاہر صرف اہل کتاب اور مشرکین کو زیادہ تر مخاطب فرمایا ہے لیکن اگر غور وتعمق سے دیکھا جائے ۔ تو اس کتاب معرفت میں تمام مذہبی اور دینی تصورات کی توضیح اور تردید موجود ہے ۔ عربوں میں ایک عقیدہ اس وقت یہ موجود تھا ۔ کہ دنیا کے دو الگ الگ خدا ہیں ۔ ایک خیر کا خدا ہے جس سے سوائے حسن و جمال کے اور بھلائیوں کے اور کسی بات کا صدور نہیں ہوتا ۔ دوسرا شر کا خدا ہے ۔ جس سے مفاسد اور مضرات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے ۔ کہ علم کلام کا یہ…
Read the full tafseer →(168) اگر ہمارے پاس بھی گزشتہ امتوں کی سی کوئی نصیحت آمیز کتاب ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–172
ف 3۔ یعنی کفار عرب قبل بعثت رسول اللہ ﷺ کے کہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اگر ہمارے پاس اگلے لوگوں کی کوئی نصیحت ہوتی :
168۔ یہ لوگ کیا کہتے تھے ؟ یہی کہ کاش ہمارے پاس وہ ذکر ہوتا جو گزشتہ قوموں کو ملا تھا تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے اس کی وضاحت پیچھے سورة فاطر کی آیت 32 میں وضاحت سے گزر چکی وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔ وہاں ان کا بیان تھا کہ ” یہ لوگ بڑی سخت قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رد ہوتے “ یہ بات آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ لوگ برملا کہتے تھے اور خصوصا یہود ونصاری کی بگڑی ہوئی حالت کے پیش نظر یہ بیان دیا کرتے تھے لیکن جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–170
Commentary
After having provided proofs of the basic beliefs of Islam, these verses now mention the obstinacy of the disbelievers. It has been said that, before the blessed appearance of the Holy Prophet ﷺ ، these people used to crave for the coming of some prophet from Allah, so that they could follow him. But, when he did come, they started confronting him with a posture of obstinacy and hostility. After that, the Holy Prophet has been comforted that he should not worry about the pain these people cause to him. The time was coming very soon when he will prevail, and his oppressors will be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
91 That is, "Not to speak of being Allah's children, we do not have the power to exceed in any way or degree the place and position and status appointed for each of us by Allah. "
Read the full tafseer →