As-Saaffaat 37:160

As-Saaffaat · from ayah 160

37:160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ۟اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ

مگر خدا کے بندگان خالص (مبتلائے عذاب نہیں ہوں گے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except the chosen servants of Allah [who do not share in that sin].

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:160

جو اُس کے خالص بندوں کے سوا دوسرے لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر خدا کے بندگان خالص (مبتلائے عذاب نہیں ہوں گے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

سوائے! اللہ کے مخلص بندوں کے

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ اللہ کے برگزیدہ بندے (محفوظ رہیں گے)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مگر اﷲ کے چُنیدہ و برگزیدہ بندے (اِن باتوں سے مستثنٰی ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے (جو ایسے اتہام نہیں لگاتے)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بجز ان کے جو اللہ کے خاص بندے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے اللہ کے ان خاص بندوں کے جن کو چن لیا گیا

— مولانا اسحاق مدنی

مگر ہاں جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے ہیں (وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو خالص کرلیے گئے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر اللہ کے نیک بندے عذاب میں نہیں ڈالے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

all of them except the chosen servants of Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

except Allah‘s chosen servants.

— Muhammad Taqi Usmani

except Allah‘s chosen servants.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except the servants of Allah, whom He chooses.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Except the chosen servants of Allah [who do not share in that sin].

— Saheeh International

except the servants of God, sincere and devoted.

— Muhammad Sarwar

But not so the servants of Allah, the purified ones.

— Muhammad Habib Shakir

Except the bondmen of Allah sincere.

— Abdul Majid Daryabadi

Not (so do) the Servants of Allah, sincere and devoted.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:160

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 149–160

مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 158–162

سورة الصّٰٓفّٰت 89 اصل میں ملائکہ کے بجائے الجنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے، لیکن بعض اکابر مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں جِنّ کا لفظ اپنے لغوی مفہوم (پوشیدہ مخلوق) کے لحاظ سے ملائکہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ ملائکہ بھی اصلاً ایک پوشیدہ مخلوق ہی ہیں۔ اور بعد کا مضمون اسی بات کا تقا ضا کرتا ہے کہ یہاں الجِنہ کے لفظ کو ملائکہ کے معنی میں لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 158–166

وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبً آ (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان نسبی تعلق قرار دیا ہے) اس جملے کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیاں فرشتوں کی مائیں ہیں۔ گویا معاذ اللہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ تعالیٰ کا زوجیت کا تعلق ہے، اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔ چناچہ ایک تفسیری روایت میں ہے کہ جب مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تو حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ ان کی ماں کون ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ جنات کی سردار زادیاں (تفسیر ابن کثیر، ص 32 ج 4) لیکن اس تفسیر پر یہ اشکال رہتا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 159–160

وجعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبتاً ولقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون، سبحن اللہ عما یصفون الا عباد اللہ المخلصین (160-159) فرشتوں کے علاوہ جنوں کو بھی انہوں نے خدا کے ساتھ بٹور رکھا ہے ان آیات میں سبحن اللہ عما یصفون بطور جملہ معترضہ ہے اور الا عباد اللہ المخلصین کا تعلق ولقد علت الجنۃ انھم لمحضرون سے ہے۔ قرآن میں متعدد نظریں موجود ہیں کہ جب کسی بات کی فوری تردید کی ضرورت ہوتی ہے تو تردید اصل سلسلہ کلام کے بیچ میں آجاتی ہے۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ بات ایسی گھونی ہے کہ متکلم کو اس کی تردید کے معاملہ میں اتنا توقف بھی گوارا نہیں کہ اس کی بات پوری ہو لے۔ آیات کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 159–160

160۔ 1 یعنی اللہ کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کہتے جن سے وہ پاک ہے۔ یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جہنم میں جنات اور مشرکین ہی حاضر کئے جائیں گے، اللہ کے مخلص (چنے ہوئے) بندے نہیں۔ ان کے لئے تو اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 158–165

30: یہ ان مشرکین کے ایک اور بےہودہ عقیدے کی تردید ہے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ جنات کے سرداروں کی بیٹیاں فرشتوں کی مائیں ہیں، گویا العیاذ باللہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیویاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الا عباد اللہ المخلصین (160) یہاں جنوں سے اللہ کے نیک بندوں کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے جو جنوں سے ہیں اور جو ایمان لانے والے ہیں۔ اس کے بعد فرشتوں کی طرف سے خطاب ہے ، ان مشرکین کو اور ان کے ان معبودوں کو ، جن کی وہ بندگی کرتے تھے۔ یہ خطاب ان کے خود ساختہ عقائد پر ہے جو وہ رکھتے ہیں۔ بظاہر انداز کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب فرشتوں کا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جنوں میں سے ہوں یا آدمیوں میں سے اللہ کے چنے ہوئے بندے ہی اس پکڑ دھکڑ سے آزاد ہیں۔ معلوم ہوا وہاں کسی کا رشتہ ناتا نہیں۔ صرف بندگی اور اخلاص کی پوچھ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 160{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو خالص کرلیے گئے ہیں۔“ اللہ کے وہ بندے جنہیں اللہ نے ُ چن لیا ہے ‘ چاہے وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ‘ وہ قیامت کے دن کی پکڑ سے محفوظ و مامون رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 160–162

92 یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے نہ اللہ کے حضور گرفتار کرکے پیش کئے جائیں گے اور نہ انہیں عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 160–163

88۔ (علم الہی میں) یعنی شیاطین میں اور کسی میں بھی، قوت نہیں علم الہی مشیت تکوینی کے مطابق پہلے سے تجویز کئے ہوتا ہے۔ یہ علم الہی بھی ظاہر ہے کہ کسی بندہ کو کفر وضلالت کے اختیار پر مجبور نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 139–182

آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا عباد اللہ المخلصین مگر جو اللہ کے خاص (ایمان والے) بندے ہیں۔ یہ استثناء متصل ہے۔ اگر انھم کی ضمیر تمام انسانوں کی طرف راجع ہو ‘ خواہ وہ مؤمن ہو یا کافر ‘ یا استثناء منقطع ہے ‘ اگر ھُم کی ضمیر صرف ان لوگوں کی طرف راجع کی جائے جو اللہ کو صاحب اولاد کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

مگر جو اللہ تعالیٰ کے موحد و عبادت گزار بندے ہیں وہ ایسی باتیں نہیں کرتے یا یہ کہ جو لوگ کفر و شرک اور برائیوں سے پاک ہیں وہ عذاب میں جکڑے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ : اس کی دو توجیہیں ہیں اور دونوں بیک وقت بھی مراد ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ اللہ کے مخلص بندے ایسی باتیں نہیں کہتے، یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ دوسری یہ کہ جنّ جانتے ہیں کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی حاضر کیے جانے والے ہیں، مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں، جنّ ہوں یا انسان، وہ اس گرفتاری سے آزاد رہیں گے، کیونکہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت تیار کر رکھی ہے۔ وہ نہایت اعزاز کے ساتھ بلائے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 158–160

158 ۔ 160:۔ اکثر اہل تفسیر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہاں الجنہ سے مراد فرشتے ہیں۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے کہ قریش کے کفار نے کہا : ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے پوچھا : ان کی مائیں کونسی ہیں ؟ تو قریش نے جواب دیا : ان کی باپردہ۔ اہل اشتقاق نے کہا : انہیں جن اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ دکھائی نہیں دیتے۔ مجاہد نے کہا : فرشتوں کے خاندانوں میں سے ایک خاندان ہے جنہیں الجنہ کہتے ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اسرائیل ‘ سدی سے وہ ابو مالک سے روایت نقل کرتے ہیں کہا : انہیں جنہ اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ وہ جنتوں کے خازن ہیں تمام فرشتے جنہ ہیں نسبا سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 160–164

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانکم “ یعنی اے مشرکین کی جماعت (آیت ) ” وما تعبدون “ یعنی جھوٹے معبودوں کی جو تم عبادت کرتے ہو۔ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین “ (یعنی تم گمراہ نہیں کرسکتے) یعنی تم نماز پڑھنے والوں کو گمراہ نہیں کرسکتے (آیت ) ” الا من ھو صال الجحیم “ (مگر اسی کو جو جہنم رسید ہونے والا ہے) یعنی اس کو جس کے بارے میں میرے علم میں یہ بات گزر چکی کہ وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوگا۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) واللالکائی (رح) نے السنہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین (162) الامن ھو صال الجحیم “ یعنی نہ تم گمراہ ہو مگر جس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ [مگر ملاوٹ سے پاک کئے ہوئے اللہ کے بندے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 149–160

مشرکین کی تردید جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے شیطان نے اپنی کوششوں سے انسانوں کو توحید سے ہٹایا اور شرک کا رواج ڈالا، اس سلسلہ میں اس کی جو کوششیں آگے بڑھیں ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے بتوں کی عبادت پر تو ڈالا ہی تھا جنات اور فرشتوں کے بارے میں بھی لوگوں کو یہ سمجھایا کہ ان میں اور خالق کائنات جل مجدہ کے درمیان رشتہ داری ہے چناچہ انہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتادیا، لوگ شیاطین کی بات مانتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ وہ باتیں لگا دیں جن سے وہ بری ہے اور پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ہونا اس کی شان یکتا کے خلاف ہے، اس کی شان (لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ) ہے نہ اس نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–166

مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔ (ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 159–161

64:۔ فانکم الخ : خطاب مشرکین سے ہے۔ اے مشرکین ! تم اور تمہارے معبود از جنس جنات و شیاطین اپنے مکر و فریب سے اللہ کے مقابلے میں وہ کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے۔ البتہ جس کا علم الٰہی میں جہنمی ہونا مقدر ہوچکا ہے وہی تمہارے دام فریب میں آئے گا۔ لعلمہ تعالیٰ بانہ یصبر علی الکفر بسوء اختیارہ و یصیر من اھل النار لا محالۃ (ابو السعود ج 7 ص 167) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 149–166

ربط آیات اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا عِبَادَ اللہِ الْمُخْلَصِيْنَ۝ 160 عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 149–163

فاستفتہم الربک البنات و لہم البنون انبیاء کے قصے بیان فرما کر مذاہب مشرکین اور اس کے قبح کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ عرب خصوصاً قریش کے چند قبائل سلیم ‘ خزاعہ ‘ جہینہ ‘ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان سے مدد مانگتے تھے اور ان کے نام کے بت بناکر پرستش کرتے تھے، ان کے رد میں فرماتا ہے کہ ان سے یہ تو پوچھو کہ بیٹیوں کا ہونا تم پسند نہیں کرتے ہو، بیٹوں کے مقابلہ میں پھر خدا کیوں پسند کرنے لگا ؟ دوم خود فرشتوں کا اناث ہونا ان کو یا تو حس سے معلوم ہوا، سو وہ بھی غلط ہے کس لیے کہ ان لوگوں نے ان کو دیکھا نہیں۔ چہ جائیکہ پیدا ہونے کے وقت دیکھا ہو، اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 158–160

وَجَعَلُوْا بَیْنَـہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا ط وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ ۔ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ اِلاَّعِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 158 تا 160) (اور انھوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان ایک رشتہ جوڑ رکھا ہے اور جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ گرفتار کیے جائیں گے۔ اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ مگر اللہ کے وہ بندے جو چن لیے گئے ہیں۔ ) جنوں کا بھی اللہ تعالیٰ سے رشتہ جوڑ رکھا ہے مشرکین کی داستانِ شرک بہت دراز ہے۔ انھوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد مانی اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 150–163

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے شرک سے توبہ کی جس کے نتیجے میں عذاب سے بچ گئی۔ اہل مکہ کو اس واقعہ کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو شرک سے توبہ کرلو بصورت دیگر تباہی تمہارا مقدر ہوگی۔ قرآن مجید نے یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کس قسم کے شرک میں ملوث تھی۔ تاہم آیات کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی دیگر اقسام کے ساتھ یونس (علیہ السلام) کی قوم میں یہ شرک بھی پایا جاتا تھا کہ وہ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں خیال کرتے اور ان کے واسطے اور طفیل دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ جنّات کے بارے میں بھی ان کے ایسے ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

160: اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ (مگر جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں) ۔ فائدہ : یہ محضرین سے مستثنیٰ منقطع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مخلصین آگ سے نجات پانے والے ہیں۔ سبحان اللہ یہ مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ یصفونؔ کی وائو سے مستثنیٰ ہو یعنی یصفہ ھولاء بذلک ولکن المخلصین براء من ان یصفوہ بہٖ یہ لوگ تو اللہ تعالیٰ کے متعلق اس قسم کی بات کہتے ہیں مگر مخلص لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی باتیں کہنے سے بریٔ الذمہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

160، الا عباد اللہ المخلصین، استثناء متصل ہے۔ یعنی وہ لوگ اس وقت ان کو حاضر نہیں کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 158–163

158۔ 163۔ شعب الایمان بیہقی تفسیر سدی تفسیر کلبی تفسیر مقاتل وغیرہ میں قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ ایک روز حضرت ابوبکر صدیق اور کچھ مشرک لوگوں سے اس باب میں بحث ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اگر فرشتے اللہ کی بیٹاں ہیں۔ تو ان بیٹیوں کی ماں کون ہے قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے جواب دیا کہ جنوں کے سرداروں کی بیٹیوں سے نعوذ باللہ من ذلک اللہ تعالیٰ نے شادی کی اور اس شادی کے سبب سے یہ لڑکیاں پیدا ہوئیں جن کو فرشتے کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اور فرمایا اے رسول اللہ کے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 158–160

آیت 158 یعنی ان مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی نسبی تعلق جوڑ دیا ہے۔ ان کا زعم باطل ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹاں ہیں اور بڑے بڑے سردار جن ان کی مائیں ہیں، حالانکہ جنات بھی جانتے ہیں کہ وہ جزا و سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عاجز اور فروتر بندے ہیں۔ اگر ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ (سبحن اللہ) ان کا رب بادشاہ عظیم اور حلیم کامل ان تمام اوصاف سے منزہ اور پاک ہے جو مشرکین اس کے بارے میں بیان کر رہے ہیں، جو ان کے کفر و شرک نے اس کے متعلق واجب ٹھہرایا ہے۔ (الا عباد اللہ المخلصین) اللہ تعالیٰ کے مخلص…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 147–182

او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “ ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 160–165

105 صدق و اخلاص ذریعہ نجات و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مجرم لوگوں کو کل قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بارگہ میں پکڑا اور جکڑا ہوا حاضر کیا جائے گا سوائے اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے "۔ کہ وہ اس طرح کے شرکیہ عقائد سے بھی بچے رہیں گے اور اس کے نتیجے میں وہ دوزخ کے عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے اور نجات سے بہرہ ور ہوں گے۔ (المراغی، الجامع وغیرہ) ۔ سو یہ استثناء ۔ { اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ۔ سے ہے۔ کیونکہ " محضرون " کے اندر یہ مفہوم موجود ہے کہ مجرموں کو خدا کے حضور گرفتار کرکے پیش کیا جائے گا۔ اس لیے اس استثناء کے ذریعے یہ بات واضح فرما دی کہ اس سے صرف وہی لوگ بچ سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 149–166

کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 139–182

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 159–160

ف 4” وہ ایسی باتیں نہیں کرتے “ یا ” وہ عذاب میں پکڑے ہوئے نہیں آئیں گے “۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:160) الا عباد اللہ المخلصین ۔ المحضرون سے استثناء منقطع ہے۔ ای ولکن المخلصون ناجون لیکن اللہ کے برگزیدہ بندے (عذاب) سے بچے رہیں گے۔ المخلصین : اخلاص سے اسم مفعول جمع مذکر ہے۔ خالص کئے ہوئے۔ مخصوص لوگ چنے ہوئے بندے۔ برگزیدہ بندے۔ عباد اللہ مضاف مضاف الیہ۔ المخلصین ان کی صفت ہے۔ عباد اللہ میں مضاف منصوب ہے۔ کیونکہ مستثنیٰ منقطع ہمیشہ منصوب ہوتا ہے۔ جیسے سجد الملئکۃ الا ابلیس۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 149–166

لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 158–163

فرشتوں کو خدا کی اولاد کہنے کا الزام۔ (ف 1) شان نزول : بعض لوگوں نے بنی خزاعہ میں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے خاندان میں اپنی سسرالی کی بعض جنات کے ساتھ ملنے سے فرشتے پیدا ہوئے (معاذ اللہ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 158–182

[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 149–162

خدا کے بیٹیاں کیوں ہیں ؟ 1: خدا جانے کن وجوہ کی بناء پر مکہ والے ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ اور ان کے مجسموں کی پوجا کرتے تھے ۔ قرآن نے کئی مقامات پر اس عقیدے کو ذکر کیا ہے ۔ اور اس کی وضاحت کے ساتھ تردید فرمائی ۔ ان آیتوں سے مقصود بھی یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے عقیدے کی کمزوری ملاحظہ کریں ۔ فرمایا تم یہ تو سوچو ۔ کہ جب تم اپنے لئے لڑکیوں کے انتساب کو پسند کرتے ہو ۔ تو اللہ نے آخر بیٹیوں کو کیوں پسند کیا ۔ اگر اس کے اولاد ہے ۔ تو وہ اولاد ذکور کیوں نہیں ؟ غرض یہ ہے کہ جو چیزیں تمہارے لئے باعث فخر ہیں ۔ ان کو اگر تم اللہ کے لئے بھی باعث اعزاز سمجھتے ہو ۔ تو اس میں کچھ معقولیت ہوسکتی ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(160) مگر ہاں جو اللہ تعالیٰ کے مخلص اور چیدہ بندے ہیں وہ ان باتوں سے مستثنیٰ ہیں۔ یعنی یہ کفار یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی جناتنی سے شادی کی اس سے فرشتے پیدا ہوئے اس لئے جنات سے اللہ تعالیٰ کا رشتہ ناطہ قرار دیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ بیوی سے پاک ہے جب بیوی نہیں تو سسرال کی رشتہ داری کہاں جب زوجہ محال ہے تو صہریت وغیرہ کا نسب بھی محال اور جن جنات کو یہ خدا کا شریک اور رشتہ دار ٹھہراتے ہیں وہ جنات بھی خوب جانتے ہیں کہ وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے اور جب وہ مستحق عذاب ہیں تو رشتہ ناطہ کیسا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو باتیں یہ حضرت حق کی طرف منسوب کرتے ہیں مگر ہاں جو اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 157–163

ف 1۔ حاصل مقام کا یہ ہوا کہ جس کے تم مدعی ہو اس میں تین تو قبح ہیں اور دلیل ایک بھی نہیں، نہ مشاہدہ اور نہ عقل اور نہ نقل۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے مخلص بندے اس طرح کی باتیں نہیں بناتے : 160۔ اللہ کے مخلص بندے ان ہرزہ سرائیوں کے قریب بھی نہیں بھٹکتے نہ تو وہ اللہ کے ذمہ ایسی باتیں لگاتے ہیں جو اللہ کی الوہیت ہی کی منافی ہیں نہ ہی وہ جنوں اور اللہ کے درمیان اور نہ ہی جنوں اور فرشتوں کے درمیان اور نہ ہی وہ اللہ اور انسان کے درمیان اور نہ ہی وہ انسانوں اور فرشتوں کے درمیان رشتے جوڑتے ہیں اور نہ اس طرح کے نظریات و عقائد گھڑتے اور بیان کرتے ہیں کیونکہ اس طرح کی باتیں تو صریح ظلم ہے اور ظلم کرنے والا ہر حال میں ظالم ہوتا ہے خواہ وہ کوئی ہو خواہ کہیں ہو اور خواہ وہ کیسا ہو اور لاریب اللہ نہ تو خود ظالم ہے اور نہ ہی کسی ظالم کو پسند کرتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 158–166

In verse 158, it was said: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا (And they have made up between Him and the Jinns some kinship). There are two explanations of this sentence. According to the first Tafsir, this is a description of the false belief held by the Mushriks of Arabia that the daughters of the chieftains of the Jinns are mothers of the angels. As if, God forbid, the daughters of the chieftains of the Jinns have marital relations with Allah Ta’ ala and, as a result of this bond, angels have come to exist. Hence, it appears in an exegetical narration when the Mushriks of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 158–162

89 Though the word used is al jinnah instead of al-mala'ikah, some major commentators have opined that here the word jinn has been used for mala ikah in its literal sense (of hidden creation); mala ikah (angels) also are, in reality, a hidden creation, and the following theme also demands that al jinnah here be taken in the sense of al-mala'ikah

Read the full tafseer →