Explained with ayahs 11–19
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
سورة الصّٰٓفّٰت 10
یعنی عالم طلسمات کی باتیں ہیں۔ کوئی جادو کی دنیا ہے جس کا یہ شخص ذکر کر رہا ہے، جس میں مردے اٹھیں گے، عدالت ہوگی، جنت بسائی جائے گی اور دوزخ کے عذاب ہوں گے۔ یا پھر یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص دل چلوں کی سی باتیں کر رہا ہے، اس کی یہ باتیں ہی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کسی نے اس پر جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے بھلا چنگا آدمی یہ باتیں کرنے لگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ثبوت
(آیت) واذاراو ایة الخ میں ”آیة“ کے لغوی معنی نشانی کے ہیں، اور اس سے یہاں مراد معجزہ ہے۔ لہٰذا یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علاوہ بھی کچھ معجزات عطا فرمائے تھے، اور اس سے ان ملحدین کی تردید ہوجاتی ہے جو آنحضرت ﷺ کے معجزات کو حسی اسباب کے تابع قرار دے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ کے دست مبارک پر قرآن کریم کے سوا کوئی معجزہ ظاہر نہیں کیا گیا۔
چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا ہےواذا راو آیة یستسخرون (جب یہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اس کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں) بعض منکرین معجزات کہتے ہیں کہ یہاں ”آیة“ سے مراد معجزہ نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ء اذا مننا وکناتراباً و عظماً انا لمبعوثون اوآ بآء نا الالون (17-16)
یہ تعبیر ہے ان کے مذاق کی۔ فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ بھلا جب ہم مر جائیں گے اور سڑگل کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو اس کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائیں جائیں گے ؟ اور تعجب پر تعجب ان کو یہ ہے کہ کیا ان کے آباء اجداد بھی اٹھائے جائیں گے ! یہ باتیں ان کو عقل سے بالکل بعید معلوم ہوتی ہیں اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اس چیز سے ان کو ڈراتے ہیں وہ دیوانے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
18۔ 1 جس طرح دوسرے مقام پر بھی فرمایا (وَكُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ) 27۔ النمل :87) ' سب اس کی بارگاہ میں ذلیل ہو کر آئیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–27
6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
وقالوا ان ھذا۔۔۔۔ ابآؤنا الاولون (37: 15 – 17) ” اور وہ کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے۔ بھلا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مرچکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اس وقت ہم پھر زندہ کرکے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباواجداد بھی اٹھائے جائیں گے “۔
اپنے ماحول میں اللہ کی قدرت کے آثار کے دیکھنے سے یہ لوگ غافل ہیں ، خود اپنی ذات کے اندر اللہ کی قدرت کے آثار یہ دیکھ نہیں پاتے ۔ زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے اندر جو آثار پائے جاتے ہیں ، ان سے بھی یہ غافل ہیں۔ ستاروں ، سیاروں اور شہاب ثاقب پر بھی غور نہیں کرتے۔ ملائکہ ، شیاطین کی تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ خود اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
5 وہ ہی مرغے کی ایک ٹانگ گائے جاتے ہیں کہ صاحب جب ہمارا بدن خاک میں مل کر مٹی ہوگیا صرف ہڈیاں باقی رہ گئیں اور اس سے بھی بڑھ کر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے قرن گزر گئے۔ شاید ہڈیاں بھی باقی نہ رہی ہوں، ہم کس طرح مان لیں کہ یہ سب پھر ازسر نو زندہ کر کر کے کھڑے کردیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 16{ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ } ”وہ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟“
مرنے کے بعد انسانی گوشت تو جلد ہی گل سڑ کر مٹی میں مل جاتا ہے ‘ لیکن ہڈیوں کا الگ سے ذکر اس لیے ہوا ہے کہ یہ سخت ہوتی ہیں اور بوسیدہ { عِظَامًا نَّخِرَۃً } النّٰزعٰت ہوجانے کے باوجود بھی لمبے عرصے تک موجود رہتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
9 بلکہ عجیب باتیں تو یہ لوگ بناتے ہیں جو اللہ کی ان آیات کو کسی طلسماتی دنیا کی باتیں سمجھتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ جی اٹھیں گے۔ پھر ہم سب کے سب اللہ کی عدالت میں پیش ہوں گے پھر لوگوں کے اعمال کے فیصلے ہوں گے۔ پھر ایک طرف جہنم ہوگی جس کے یہ اور یہ اوصاف ہونگے۔ اور ایک طرف جنت ہوگی جس کے یہ اور یہ اوصاف ہوں گے۔ ایسی باتیں کسی خیالی دنیا کے متعلق تو کی جاسکتی ہیں۔ بھلا ایک بھلا چنگا اور درست عقل والا آدمی ایسی باتیں کیسے کہہ سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے جو یہ یک لخت ایسی تصوراتی اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
9۔ یہ منکرین بعث کی تقریر اور اس کا جواب مذکور ہوا۔ (آیت) ” وانتم داخرون “۔ منکرین کے جواب میں کہا جارہا ہے کہ ہاں اٹھائے تو بہرحال جاؤ گے، اور تم اپنی ان منکرانہ گستاخیوں کی پاداش میں ذلیل و خوار بھی کئے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
آیت نمبر 1 تا 21
ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…
Read the full tafseer →ء اذا متنا وکنا ترابا وعظاما ماء انا لمبعوثون۔ اور خاک اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(16۔ 18) بھلا کیا جب ہم مر کر پرانی ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور کیا ہماری طرح ہمارے آباؤ اجداد بھی۔
آپ ان سے فرما دیجیے ہاں ضرور تم زندہ ہوگے اور تم ذلیل بھی ہوگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ءَاِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا : ان آیات کی تفسیر اور ”ءَاِذَا مِتْنَا“ اور ”ءَاِنَّا“ میں دو دفعہ ہمزہ استفہام لانے کی حکمت کے لیے دیکھیے سورة نمل (67، 68)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
یعنی اہل مکہ سے پوچھیئے۔ یہ مفتی سے فتوی طلب کرنے سے ماخوذ ہے ام من خلقنا سے مراد آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اور سمندر ہیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس میں فرشتے اور سابقہ امتیں داخل ہیں اس پر یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اسے من کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ سعد بن جبیر نے کہا : اس سے مراد فرشتے ہیں۔ دوسرے علماء نے کہا : سے مراد سابقہ امتیں ہیں (3) جو ہلاک ہو چکیں وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے یہ آیت اشد بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی۔ اسے ابوارشد اس لیے کہا گیا کیونکہ اس کی پلڑ اور قوت بہت زیادہ تھی اس کا ذکر سورة البلد میں آئیگا اس کی مثل یہ آیت ہے : لخلق السموت والارض لازب من خلق الناس) مومن (57: اور اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں)
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی…
Read the full tafseer →ءَاِذَا مِتْنَا [کیا جب ہم مرگئے ] وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا [اور ہوگئے مٹی اور ہڈیاں ] ءَاِنَّا [تو کیا ہم ] لَمَبْعُوْثُوْنَ [ضرور اٹھائے جائیں گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(ءَ اِذَا مِتْنَا) (الآیتین) وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے کیا ہم پھر زندہ کیے جائیں گے اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی زندہ ہوں گے۔ (ان کی یہ بات استفہام انکاری کے طور پر ہے) (بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مٹی ہو کر اور ہڈیوں کا ریزہ ریزہ بن جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آتا ہم اسے نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔
یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
9:۔ وقالوا یویلنا الخ :۔ منکرین قیامت قیامت کا ہولناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بول اٹھیں گے مارے گئے ! یہ تو وہی روز جزا ہے جس سے ہمیں دنیا میں ڈرایا گیا۔ مگر ہم نے اس کا انکار کیا۔ ھذا یوم الفصل الخ، یہ بھی منکرین قیامت ہی کا کلام ہے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ یا یہ فرشتوں کا کلام ہے وہ کافروں سے مخاطب ہو کر توبیخ و تہدید کے طور پر یہ الفاظ کہیں گے (مدارک، روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–35
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے…
Read the full tafseer →ءَ اِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ 16ۙ
موت
أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة :
فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات
. نحو قوله تعالی:
يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] .
الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا
[ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] .
الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة .
نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
تفسیر : و اذا متنا وکناترابا یہاں سے پھر منکرین حشر کا قول نقل کرکے اس کا رد کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجاویں گے اور مر کر خاک ہوجاویں گے، ہم اور ہمارے باپ دادا زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو وہ اپنے نزدیک خدا تعالیٰ کی قدرت سے باہر جانتے ہوں گے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل نعم کہہ دے ہاں زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کفر و بدکاری کی وجہ سے تم ذلیل ہوگے اور اسی لیے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے تم انکار کرتے ہو۔ پھر حشر برپا ہونے کی کیفیت اور حشر کے بعد جرموں کی سزا پانے کی کیفیت اور وہاں بتوں سے نا امیدی اور اس بت پرستی کی باز پرس اور آپس میں گمراہ کرنے والوں اور ان کے مریدوں کی تھکا فضیحتی کا وما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ئَ اِذَا مِتْـنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَ اٰبـَـآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۔ (الصآفات : 16، 17)
(کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے۔ اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے۔ )
مزید وضاحت
یہ ان کی ذہنی پسماندگی کی دلیل ہے کہ قرآن کریم اور صاحب قرآن ﷺ ہر ممکن طریقے سے انھیں سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن وہ اپنے ذہنی افلاس اور فکری گھٹن سے نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ بار بار ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کہ جب ہمیں موت چاٹ جائے گی پھر ایک وقت آئے گا ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گے اور ہڈیاں بھی گل سڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
فہم القرآن
ربط کلام : زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج کے طلوع و غروب اور ستاروں کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔
سورة یٰس کا اختتام اس مسئلہ پر ہوا تھا کہ جس رب نے زمین آسمانوں کو بنایا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوسکتا ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں تین قسمیں کھا کر بتلایا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے جس نے زمین و آسمانوں کو بنایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا ا اور ان کے ذریعے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندوبست فرمایا ہے۔ اب انسان سے استفسار فرمایا ہے کہ وسیع و عریض زمین اور اتنے بڑے آسمانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا انسان کو دوبارہ پیدا کرنا…
Read the full tafseer →کفار کا قیامت پر استبعاد :
16: ئَ اِذَامِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ (بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم زندہ کیے جائیں گے)
نحو : ئَ اذا یہ استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کیا جب ہم مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15، وقالو ا ان ھذا الا سحرمبین، اس کا جادوہونا کھلاہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–23
11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–25
آیت 12
(بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
9 غفلت و لاپرواہی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : اور انسان کی غفلت و لاپرواہی کا ایک نمونہ، نشانی حق کا مذاق اڑانا ہے جو کہ باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب یہ لوگ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسکا مذاق اڑاتے ہیں "۔ یعنی کوئی ایسا معجزہ جس سے حق پوری طرح واضح ہوجائے۔ جیسے معجزئہ شق القمر اور شجر و حجر کا کلام کرنا وغیرہ وغیرہ۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، خازن، صفوہ وغیرہ) ۔ سو جب ان کی بےفکری، بےحسی اور لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ یہ معجزہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد سبق لینے اور صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی بجائے الٹا اسکا مذاق اڑاتے ہیں تو ان میں حق و ہدایت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
مرنے کے بعد زندہ ہونا
تشریحـ: جیسا کہ پہلے بھی مر کر زندہ ہونے اور حساب کتاب کا ذکر کئی دفعہ ہوچکا ہے یہاں اللہ کے بہترین نظام اور قادر مطلق ہونے کے حوالے سے پھر اس بات کو دہرایا گیا ہے۔ جو لوگ اتنے احمق ہیں کہ صاف دیکھ کر سن کر کسی صورت بھی اللہ و رسول پر ایمان لانے کو تیار نہیں تو وہ بھلا اتنی مشکل بات کو کیسے سمجھ اور مان سکتے ہیں لہٰذا ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے غصہ سے فرما دیا کہ کہہ دو کہ ” ہاں “ اور یہ بھی کہ ” تم ذلیل حالت میں اٹھائے جاؤ گے “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الصافات
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21:
اسرار و معارف :
قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ف 6 یا ” ًتم اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مقابلہ میں) بےبس اور حقیر ہو۔ جیسے فرمایا : ( وکل اتوہ واخرین) اور سب اس کے حضور بےبس ہو کر حاضر ہوں گے۔ ( نمل : 87)
Read the full tafseer →(37:16) ء اذا متنا وکنا ترابا عظاماء انا لمبعوثون۔ اصل میں عبارت ہے :۔
انبعث اذا متنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون۔ متن میں جملہ فعلیہ کی بجائے جملہ اسمیہ کو انکار کے لئے لایا گیا ہے۔ اور اذا ظرف زمان کو مقدم کیا گیا ہےء اذا ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے اس انکار کی تاکید کے لئےء انا میں ہمزہ استفہامیہ مکرر لایا گیا ہے۔ یہ ان کی شدت انکار کی حالت کے اظہار کے لئے ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک دوبارہ جی اٹھنا ہی فی نفسہ محال اور ناممکن تھا۔ اور مرنے کے گل سڑ کر جب جسم خاک بن جائے گا۔ اور ہڈیاں ہی ہڈیاں رہ جائیں گی تو اس صورت میں تو یہ بدرجہ اولیٰ ناممکن ہوگا۔ لمبعثون میں بھی لام تاکید کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–49
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–23
مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
[8] یعنی عالم بالا کی مخلوق۔ مراد اس سے فرشتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–26
ختم نبوت پر ایک دلیل
1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…
Read the full tafseer →(16) بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ف 6۔ واقع میں یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں۔
7۔ غرض جب مخلوقات قویہ صلبہ کے ابتداء خلق پر ہم قادر ہیں تو مخلوق ضعیف کے اعادہ پر قدرت کیوں نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →کیا ہم مر ‘ مٹ جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ :
16۔ ان کو کہا گیا کہ اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا اور پھر تم کو مارے گا اور دوبارہ زندہ کرے گا کہ تمہارے اعمال تم کو دکھائے اور ان کے نتیجہ سے تم کو دوچار کیا جائے تو وہ تعجب سے کہنے لگے کہ ہیں یہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم کو دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ نہیں نہیں ‘ ایسا کون کرے گا ؟ اور کون ہے جو ہم کو دوبارہ زندگی عطا کر دے گا ؟ ان کے اس تعجب کو قرآن کریم نے بار بار بیان کیا ہے اور ان کے اس تعجب کو طرح طرح کی مثالیں دے کر دور کرنے کی کوشش کی ہیں لیکن انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی کے باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
The proof of the miracles of the Holy Prophet ﷺ
The word: آيَةً ('ayt tan) in verse وَإِذَا رَأَوْا آيَةً (And when they see a sign) literally means 'sign' and at this place it means 'miracle.' Hence, this verse proves that Allah Taala had given to the Holy Prophet t some other miracles as well in addition to that of the noble Qur'an - which refutes those who take the miracles of the Holy Prophet ﷺ as effects of physical causes, and thereby claim that no miracle, other than that of the Qur'an, was shown at the blessed hands of the Holy Prophet ﷺ .
In this verse (14), Allah Ta’ ala has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
10 That is, "This person is talking of the world of magic in which the dead will rise, and will be produced before a court and sent to Heaven and Hell" or, it may also mean: "This person is talking like a madman. What he talks is a clear proof that somebody has worked magic on him; otherwise a sensible person could not talk such things.
Read the full tafseer →