Explained with ayahs 149–160
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–156
سورة الصّٰٓفّٰت 86
یہاں سے ایک دوسرا مضمون شروع ہوتا ہے۔ پہلا مضمون آیت نمبر 11 سے شروع ہوا تھا جس میں کفار مکہ کے سامنے یہ سوال رکھا گیا تھا " ان سے پوچھو، کیا ان کا پیدا کرنا زیادہ مشکل کام ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں "۔ اب انہی کے سامنے یہ دوسرا سوال پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلے سوال کا منشا کفار کو ان کی اس گمراہی پر متنبہ کرنا تھا کہ وہ زندگی بعد موت اور جزا و سزا کو غیر ممکن الوقوع سمجھتے تھے اور اس پر نبی ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے۔ اب یہ دوسرا سوال ان کی اس جہالت پر متنبہ کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کرتے تھے اور قیاسی گھوڑے دوڑا کر جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–157
خلاصہ تفسیر
(توحید کے دلائل تو اوپر بیان ہوچکے) سو (اب اس کے بعد) ان لوگوں سے (جو ملائکہ اور جنات کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں، اس طرح کہ ملائکہ کو نعوذ باللہ خدا کی بیٹیاں اور جنات کے سرداروں کی بیٹیوں کو ان فرشتوں کی مائیں قرار دیتے ہیں جس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے نسبی رشتہ ہے، اور جنات سے زوجیت کا تعلق ہے، سو ان سب سے) پوچھئے کہ کیا خدا کے لئے تو بیٹیاں (ہوں) اور تمہارے لئے بیٹے (ہوں، یعنی جب اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو تو عقیدہ مذکور میں خدا کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہو، پس اس عقیدے میں ایک خرابی تو یہ ہے اور) ہاں (دوسری بات سنو کہ) کیا ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
الا انھم من افکھم لیقولون، ولد اللہ فرانھم لکذبون (152-51)
یعنی دلیل ان کے پاس نہ کوئی عقلی ہے نہ نقلی اور نہ انہوں نے اس کا کوئی مشاہدہ کیا ہے بس اپنے جی سے گھر گھڑ کے یہ دعویٰ کے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
153۔ 1 جب کہ یہ خود اپنے لئے بیٹیاں نہیں، بیٹے پسند کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–157
29: جیسا کہ سورت کے شروع میں عرض کیا گیا، مکہ مکرمہ کے بت پرست، فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ یہاں سے ان کے اس بےہودہ عقیدے کی تردید ہورہی ہے۔ یہ بت پرست اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے، بلکہ ان میں سے کچھ لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اول تو یہ فرما رہے ہیں کہ یہ کیسے غضب کی بات ہے کہ تم اپنے لیے تو بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہو، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیوں کا عقیدہ رکھتے ہو۔ پھر آگے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی اولاد کی ضرورت نہیں ہے، نہ بیٹوں کی نہ بیٹیوں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
الا انھم من۔۔۔۔۔ لکذبون (37: 151 – 152) ” دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں کہ ” اللہ اولاد رکھتا ہے “ اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں “۔ یہ اپنے سماج کے مسلمہ رواج اور اپنی ثابت شدہ روایات کے خلاف یہ بات کرتے ہیں۔ یہ خود تو بیٹے چاہتے ہیں اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–152
10 یعنی انبیاء کا حال تو سن لیا کہ حضرت نوح، ابراہیم، اسماعیل، موسیٰ ، ہارون، الیاس، لوط، یونس (علیہم السلام) سب کی مشکلات اللہ کی امداد و اعانت سے حل ہوئیں۔ کوئی بڑے سے بڑا مقرب اس کی دستگیری سے بےنیاز نہیں۔ اب آگے تھوڑا سا فرشتوں اور جنوں کا حال سن لو۔ جن کی نسبت خدا جانے کیا کیا واہی تباہی عقیدے تراش کر رکھے ہیں۔ چناچہ عرب کے بعض قبائل کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ جب پوچھا جاتا کہ ان کی مائیں کون ہیں تو بڑے بڑے جنوں کی لڑکیوں کو بتلاتے۔ اس طرح (العیاذ باللہ) خدا کا ناطہ جنوں اور فرشتوں دونوں سے جوڑ رکھا تھا۔ آگے دونوں کا حال ذکر کیا جاتا ہے مگر اس سے پہلے بطور طوطیہ و تہمید کفار…
Read the full tafseer →وَلَدَ اللّٰہُ وَاِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ } ‘ کہ اللہ کے اولاد ہوئی اور یقینا یہ جھوٹے ہیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–156
89 قریش کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینا :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی انکار آخرت کے علاوہ دوسری بڑی گمراہی کا ذکر فرمایا ہے۔ جو شرک فی الذات یا شرک کی سب سے بڑی اور بدترین قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ بھی صاحب اولاد ہے۔ اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے جس کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ پھر اس عقیدہ میں بھی وہ کئی طرح کی بےانصافیاں کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ پھر ان کے خیالی مجسمے اور بت بنا کر ان کی پوجا بھی کرتے تھے۔ ان میں تین مجسموں کا ذکر قرآن میں مذکور ہے۔ (1) لات یہ الٰہ کا مؤنث ہے یعنی لات کا استھان یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
83۔ یعنی خدا کے صاحب اولاد ہونے کا عقیدہ کوئی بھی شائبہ حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →ولد اللہ وانھم لکاذبون اللہ صاحب اولاد ہے۔ قطعاً یہ بالکل جھوٹے ہیں۔
مِنْ اِفْکِھِمْ یعنی اپنے ایسے جھوٹ کی وجہ سے جس کا غلط ہونا ظاہر ہے اور تقاضاء عقل کے بھی خلاف ہے۔
لَکَاذِبُوْنَ یعنی تمام اہل دانش کے نزدیک جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
(152۔ 153) یہ اپنے قول میں بالکل جھوٹے ہیں کیا اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیاں زیادہ پسند کیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
اَلَآ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَيَقُوْلُوْنَ : فرمایا، سن لو ! ان کا یہ کہنا کہ اللہ نے اولاد جنی ہے صاف بہتان ہے اور یہ یقیناً جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–157
149 ۔ 157:۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تسلی کے لئے سابقہ قوموں کی خبروں کو ذکر کیا تو اب کفار کے قول کے خلاف استدلال کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں فاستفتہم سورت کے آغاز میں جو اس قسم کا کلام ہے اس پر معطوف ہے اگرچہ دونوں میں طویل مساف ہے اے محمد ! ﷺ اہل مکہ سے پوچھو ! کیا تیرے رب کی بیٹیاں ہیں : اس کی وجہ یہ تھی کہ جہینہ ‘ خزاعہ ‘ بنو ملیح ‘ بنو سلمہ اور بنو عبدالدار نے یہ گمان کیا تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بٹیاں ہیں ‘ یہ سوال زجر و توبیخ کے لئے ہے۔
شھدون کا معنی ہے جب ہم نے فرشتوں کو مٔونث بنایا اس وقت وہ حاضر تھے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–159
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاستفتھم “ یعنی اس سے سوال کیجئے یعنی قریش کے مشرکین سے (آیت ) ” الربک البنات ولھم البنون “ (کیا تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں) کیونکہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں اور انہوں نے کہا کہ فرشتے عورتیں ہیں، تو فرمایا (آیت ) ” ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون “ (کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے) اسی طرح فرمایا (آیت ) ” الا انھم من افکھم لیقولون (151) ولد اللہ وانہم لکذبون (152) اصطفی البنات علی البنین “ (خبردار وہ کہتے…
Read the full tafseer →وَلَدَ اللّٰهُ ۙ [بچہ ہوا اللہ کے ہاں ] وَاِنَّهُمْ [اور بیشک یہ لوگ ] لَكٰذِبُوْنَ [یقینا جھوٹ کہنے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–160
مشرکین کی تردید جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے
شیطان نے اپنی کوششوں سے انسانوں کو توحید سے ہٹایا اور شرک کا رواج ڈالا، اس سلسلہ میں اس کی جو کوششیں آگے بڑھیں ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے بتوں کی عبادت پر تو ڈالا ہی تھا جنات اور فرشتوں کے بارے میں بھی لوگوں کو یہ سمجھایا کہ ان میں اور خالق کائنات جل مجدہ کے درمیان رشتہ داری ہے چناچہ انہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتادیا، لوگ شیاطین کی بات مانتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ وہ باتیں لگا دیں جن سے وہ بری ہے اور پاک ہے۔
اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ہونا اس کی شان یکتا کے خلاف ہے، اس کی شان (لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ) ہے نہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔
(ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–158
62: وجعلوا الخ : یہ جنوں کے حال کا اعادہ ہے۔ بعض مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی (عیاذا باللہ) رشتہ قائم کر رکھا تھا ان کے خیال میں فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اور ان کی مائیں شاہان جنات کی شہزادیاں ہیں۔ قال مجاھد والسدی و مقاتل ایضا القائل بذلک کنانۃ و خزاعۃ قالوا ان اللہ خطب الی سادات الجن فزوجوہ من سروات بناتہم فالملائکۃ بنات اللہ من سروات بنات الجن (قرطبی ج 15 ص 135) ۔ یا نسب سے مراد مناسبت ہے۔ یعنی انہوں نے شیاطین کو اللہ کی عبادت میں شریک کرلیا۔ اور ان کو شفیع غالب سمجھنے لگے۔ او ارید جعلوا بینہ سبحانہ و بینہم مناسبۃ حیث اشرکوھم بہ تعالیٰ فی استحقاق العبادۃ (روح ج 23 ص 151) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
ربط آیات
اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…
Read the full tafseer →وَلَدَ اللہُ 0 ۙ وَاِنَّہُمْ لَكٰذِبُوْنَ 152
ولد
الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ،
( و ل د ) الولد
۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–163
فاستفتہم الربک البنات و لہم البنون انبیاء کے قصے بیان فرما کر مذاہب مشرکین اور اس کے قبح کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ عرب خصوصاً قریش کے چند قبائل سلیم ‘ خزاعہ ‘ جہینہ ‘ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان سے مدد مانگتے تھے اور ان کے نام کے بت بناکر پرستش کرتے تھے، ان کے رد میں فرماتا ہے کہ ان سے یہ تو پوچھو کہ بیٹیوں کا ہونا تم پسند نہیں کرتے ہو، بیٹوں کے مقابلہ میں پھر خدا کیوں پسند کرنے لگا ؟
دوم خود فرشتوں کا اناث ہونا ان کو یا تو حس سے معلوم ہوا، سو وہ بھی غلط ہے کس لیے کہ ان لوگوں نے ان کو دیکھا نہیں۔ چہ جائیکہ پیدا ہونے کے وقت دیکھا ہو، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
اَ لَآ اِنَّھُمْ مِّنْ اِفْـکِھِمْ لَیَقُوْلُوْنَ ۔ وَلَدَاللّٰہُ لا وَاِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ (الصآفات : 151، 152)
(خوب سن لو یہ لوگ محض من گھڑت طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔ کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ )
غلط بات کا ثبوت مزید غلط بات سے
وہ اوپر کی بات کا ثبوت تو کیا لائیں گے ان کی جہالت اور جسارت کا عالم یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد فرض کر رکھی ہے۔ نہ جانے کس کس کو اللہ تعالیٰ کی اولاد سمجھتے ہیں اور انھیں میں سے فرشتے بھی ہیں جن کو صرف اولاد ہی نہیں بلکہ اس کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ان کے پاس نہ کوئی عقلی ثبوت ہے اور نہ کوئی نقلی۔ بس اپنے جی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–163
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے شرک سے توبہ کی جس کے نتیجے میں عذاب سے بچ گئی۔ اہل مکہ کو اس واقعہ کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو شرک سے توبہ کرلو بصورت دیگر تباہی تمہارا مقدر ہوگی۔
قرآن مجید نے یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کس قسم کے شرک میں ملوث تھی۔ تاہم آیات کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی دیگر اقسام کے ساتھ یونس (علیہ السلام) کی قوم میں یہ شرک بھی پایا جاتا تھا کہ وہ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں خیال کرتے اور ان کے واسطے اور طفیل دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ جنّات کے بارے میں بھی ان کے ایسے ہی…
Read the full tafseer →152: وَلَدَ اللّٰہُ وَاِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ (کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے اور وہ یقینا جھوٹے ہیں) اپنی اس بات میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
151 ، الا انھم من افکھم، ایسے جھوٹ کی وجہ سے جس کا غلط ہونا ظاہر ہے۔ ، لیقولون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–157
149۔ 157۔ اوپر پہلے کے انبیاء اور ان کی نافرمان امتوں کا ذکر فرما کر تنبیہ کے طور پر قریش کی ایک نافرمانی کا یوں ذکر فرمایا۔ کہ اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے پوچھو کہ تم لوگ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں جو کہتے ہو۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے تو کیا اس وقت تم نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں۔ پھر فرمایا جب یہ بات نہیں ہے تو یہ ان لوگوں کا ایک جھوٹ ہے کہ یہ لوگ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرا کر اللہ کے لئے بیٹیاں اور اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ ان کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ یہ لوگ کیا بکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو بات یہ لوگ منہ سے نکالتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ نہیں ہے تو اس کے سچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–157
آیت 149
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ سے فرماتا ہے : (فاستفتھم) یعنی غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انہوں نے شرکت کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں۔ (الربک البنات ولھم البنون) ” کیا آپ کے رب کی بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں ؟ “ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنائی اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنادیں، حالانکہ وہ خود اپنے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–156
101 اللہ کے لیے اولاد ماننے والے قطعی طور پر جھوٹے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ محض اپنے من کی گھڑت اور افتراء سے کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد ٹھہرائی ہے۔ سو یہ لوگ قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔ تاکید در تاکید ملاحظہ ہو کہ حرف " اِنَّ " کی تاکید۔ پھر جملہ اسمیہ کی تاکید۔ پھر لام تاکید کا اضافہ۔ یعنی یہ لوگ پرلے درجے کے اور قطعی جھوٹے ہیں جو اللہ پاک کے لئے اولاد تجویز کرتے ہیں ۔ { فَتَعاَلَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا } ۔ نہ انکے پاس کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور نہ انہوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ بلکہ یہ لوگ محض اپنے جی سے گھڑ کر ایسا بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ سو یہ پرلے درجے کے جھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟
تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–156
ف 1 یعنی کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب آئی ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
(37:152) ولد اللہ۔ ولادۃ مصدر (باب ضرب) سے ولد یلد (عورت کا بچہ ) جننا۔ صاحب اولاد ہونا۔ جملہ ولد اللہ مفعول ہے یقولون کا۔ یعنی وہ یہ بات کہتے ہیں ” اللہ صاحب اولاد ہے “۔
وانہم لکذبون۔ جملہ حالیہ ہے اور حال یہ ہے کہ (اس قول میں) یہ بالتحقیق جھوٹے ہیں۔ لام تاکید کا ہے۔
اصطفے۔ اصل میں أاصطفی تھا۔ أ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے اس کو قائم رکھتے ہوئے ہمزہ وصل کو حذف کردیا گیا ہے : اصفی وصفو مادہ۔ اصطفے یصطفی اصطفاء (افتعال) سے مصدر۔ اس نے چن لیا۔ اس نے پسند کرلیا۔ اصطفی کیا اس نے (اپنے لئے بیٹوں کو چھوڑ کر بیٹیاں) پسند کی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–157
اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانا۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکین سے پوچھو کہ اتنی بڑی عظمت وقدرت والے اللہ کے لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے تم لوگ خدا کے لیے ایسی چیز پسند کرتے ہو جو اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اور یہ کہتے ہو کہ فرشتے عورتیں ہیں اور خدا کی لڑکیاں ہیں اس کا جواب اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے تم کو خوب معلوم ہے کیا تم اس وقت موجود تھے جو گواہی دیتے ہو بلکہ یہ لوگ اپنے شیطانی وسواس سے افتراء کرکے یہ کہتے ہیں کہ خدا کی اولاد ہے یہ جھوٹے ہیں کیا اس نے لڑکے چھوڑ کر لڑکیاں اپنے لیے بنائیں عورتوں کو اپنے لیے پسند کیا افسوس تمہارے حال و خیال پر، تم کیسے نامعقول حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–157
[35] یعنی کفار مکہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–162
خدا کے بیٹیاں کیوں ہیں ؟
1: خدا جانے کن وجوہ کی بناء پر مکہ والے ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ اور ان کے مجسموں کی پوجا کرتے تھے ۔ قرآن نے کئی مقامات پر اس عقیدے کو ذکر کیا ہے ۔ اور اس کی وضاحت کے ساتھ تردید فرمائی ۔ ان آیتوں سے مقصود بھی یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے عقیدے کی کمزوری ملاحظہ کریں ۔ فرمایا تم یہ تو سوچو ۔ کہ جب تم اپنے لئے لڑکیوں کے انتساب کو پسند کرتے ہو ۔ تو اللہ نے آخر بیٹیوں کو کیوں پسند کیا ۔ اگر اس کے اولاد ہے ۔ تو وہ اولاد ذکور کیوں نہیں ؟ غرض یہ ہے کہ جو چیزیں تمہارے لئے باعث فخر ہیں ۔ ان کو اگر تم اللہ کے لئے بھی باعث اعزاز سمجھتے ہو ۔ تو اس میں کچھ معقولیت ہوسکتی ہے ۔…
Read the full tafseer →(152) کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے اور اس نے جنا ہے اور اس کے ہاں اولاد ہوتی ہے اور یقین جانو کہ یہ لوگ سراسر جھوٹے ہیں۔ یہ باتیں جو کررہے ہیں ان کا مبنی دروغ گوئی اور بہتان طرازی ہے یہ کہنا کہ اللہ نے اولاد جنی اور اس کے ہاں اولاد ہوئی سراسر جھوٹ اور کذب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–156
ف 6۔ یعنی بلا دلیل فرشتوں پر انوثت کی تہمت رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ صاحب اولاد ہے ؟ اس نظریہ میں وہ سراسر جھوٹے ہیں :
152۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد قرار دیتا ہے خواہ وہ اولاد کی نسبت سے نرینہ اولاد قرار دے یا اناث کو اولاد تسلیم کرے وہ ایسا کہہ کر سراسر جھوٹ بولتا ہے اس لیے یہ لوگ جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے رہے ہیں سراسر جھوٹے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–157
Commentary
Events relating to the noble prophets described earlier provided some good counsel and some lessons to learn. Now, once again, the text turns to the essential subject of the affirmation of pure monotheism (tauhid) and the refutation of ascribing partners to the pristine divinity of Allah (shirk). Then, described at this particular place is the shirk of a particular kind. The disbelievers of Arabia believed that angels were the daughters of Allah Ta’ ala, and the daughters of the chieftains of Jinns were the mothers of angels. According to ` Allamah Whidi, this belief was not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–156
86 Another theme starts from here. In the preceding theme that started from v. 11, the Quraish had been put this question: "Ask them: what is more difficult: their own creation or of those things that We have created?" Now, they are being asked this second question. The object of the first question was to warn the disbelievers of their deviation because of which they regarded life-after-death and the meting out of rewards and punishments as impossible, and therefore, mocked the Holy Prophet for it. Now they are being asked this second question to warn them of their ignorance due to which they…
Read the full tafseer →