As-Saaffaat 37:139

As-Saaffaat · from ayah 139

37:139

وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۟ؕوَاِنَّ يُوۡنُسَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ‏

اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, Jonah was among the messengers.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:139

اور یقیناً یونسؑ بھی رسولوں میں سے تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بلاشبہ یونس ؑ نبیوں میں سے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یقینا یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یونس (علیہ السلام بھی) واقعی رسولوں میں سے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یونس یقینا رسولوں میں سے تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یونس بھی بلاشبہ رسولوں سے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ یونس بھی قطعی طور پر رسولوں میں سے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک یونس ؑ پیغمبروں میں تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقینا یونس ؑ بھی رسولوں میں سے تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یونس بھی رسولوں میں سے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

And Jonah too was one of the Messengers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And surely, Yunus (Jonah) is from among the messengers.

— Muhammad Taqi Usmani

And surely, Yunus (Jonah) is from among the messengers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, Yunus was one of the Messengers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! Jonah verily was of those sent (to warn)

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, Jonah was among the messengers.

— Saheeh International

Jonah was certainly a Messenger.

— Muhammad Sarwar

And Yunus was most surely of the apostles.

— Muhammad Habib Shakir

And verily Yunus was Of the sent ones.

— Abdul Majid Daryabadi

So also was Jonah among those sent (by Us).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:139

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 139–148

واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 77 یہ تیسرا موقع ہے جہاں حضرت یونس ؑ کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة یونس اور سورة انبیاء میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور ہم اس کی تشریح کرچکے ہیں (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، صفحہ 312۔ 313۔ جلد سوم، صفحہ 182۔ 183)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور بیشک یونس ؑ بھی پیغمبروں میں سے تھے (ان کا اس وقت کا قصہ یاد کیجئے) جبکہ (انہوں نے اپنی قوم سے ایمان نہ لانے پر بحکم الٰہی عذاب کی پیشنگوئی کی، اور خود وہاں سے چلے گئے اور جب متعین وقت پر عذاب کے آثار نمودار ہونے لگے تو قوم کو ایمان لانے کی غرض سے یونس ؑ کی تلاش ہوئی، جب وہ نہ ملے تو سب نے متفق ہو کر حق تعالیٰ کے سامنے گریہ وزاری کی اور اجمالی طور پر ایمان لے آئے، اور وہ عذاب ٹل گیا، یونس ؑ کو کسی ذریعہ سے یہ خبر معلوم ہوئی تو شرمندگی کی وجہ سے اپنے اجتہاد سے اللہ تعالیٰ کی صریح اجازت کے بغیر کہیں دور چلے جانے کا ارادہ کر کے اپنی جگہ سے) بھاگ کر (چلے، راہ میں دریا تھا، اس میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 139–140

فان یونس لمن المرسلین، اذا بق الی الفلک المشحون (140-139) حضرت یونس کی سرگزشت حضرت یونس ؑ کی سرگزشت سورة یونس اور سورة انبیاء وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ اس سرگزشت میں تورات کے راویوں نے جو خلط مبحث کردیا ہے اس پر اس کے محل میں ہم مفصل گفتگو کرچکے ہیں۔ یہ اہل نینوا کی طرف رسوال بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ان کی قوم نے ان کی دعوت کی ناقدری کی تو یہ غیرق حق کے جوش میں قوم کو چھوڑ کر ایک ایسے جہاز پر سوار ہوگئے جو کسی مقام کے سفر کے لئے بالکل تیار کھڑا تھا۔ راستے میں جہاز طوفان میں گھر گیا۔ جہاز رانوں نے اپنی روایت کے مطابق یہ فیصلہ کیا کہ جہاز میں کوئی ایسا شخص سوار ہوگیا ہے جو مجرم ہے اور جب تک وہ الگ کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 139–142

142۔ 1 حضرت یونس ؑ عراق کے علاقے نینوی (موجودہ موصل) میں نبی بنا کر بھیجے گئے، یہ آشوریوں کا پایہ تخت تھا، انہوں نے ایک لاکھ بنواسرائیلیوں کو قیدی بنایا ہوا تھا، چناچہ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت یونس ؑ کو بھیجا، لیکن یہ قوم آپ پر ایمان نہ لائی۔ بالآخر اپنی قوم کو ڈرایا کہ عنقریب تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ عذاب میں تاخیر ہوئی تو اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنے طور پر وہاں سے نکل گئے اور سمندر پر جا کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ اپنے علاقے سے نکل کر جانے کو ایسے لفظ سے تعبیر کیا جس طرح ایک غلام اپنے آقا سے بھاگ کر چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ بھی اللہ کی اجازت کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 138–139

25: اہل عرب اپنی تجارت کے لیے جب شام کا سفر کرتے تو ان اجڑی ہوئی بستیوں پر سے گزارا کرتے تھے جہاں حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب آیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 139–142

وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔ فمتعنھم الی حین (139 – 148) قرآن کریم اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ قوم یونس کہاں تھی۔ یہ بات قرآن سے صاف صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی ساحلی بستی میں آباد تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کی جانب سے مسلسل تکذیب کی وجہ سے ان کا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوم کو یہ وارننگ دے دی کہ جلد ہی تم پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے سخت غصہ ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ آپ سمندر کے ساحل پر چلے گئے۔ اور وہاں ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جو سواریوں سے بھری ہوئی تھی۔ سمندر کے درمیان میں کشتی کو طوفان نے آلیا اور وہ موجوں کی لپیٹ میں آگئی۔ لوگوں کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 139–141

4 کشتی دریا میں چکر کھانے لگی۔ لوگوں نے کہا اس میں کوئی غلام ہے اپنے مالک سے بھاگا ہوا۔ سب کے ناموں پر کئی مرتبہ قرعہ ڈالا۔ ہر مرتبہ ان کا نام نکلا۔ یہ قصہ سورة " یونس " اور سورة " انبیاء " میں مفصل گزر چکا ہے وہاں اس کی تحقیق ملاحظہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 139{ وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا یونس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 137–139

79 یہ علاقہ اس شاہراہ پر واقع تھا جہاں سے کفار مکہ کے تجارتی قافلے مکہ سے شام اور شام سے واپسی پر گزرتے تھے اور اس اجڑے ہوئے علاقہ کے تاریخی حالات بھی معلوم تھے۔ بسا اوقات دیکھتے بھی رہتے تھے۔ لیکن یہ سوچنے کی کبھی زحمت ہی گوارا نہ کرتے تھے کہ یہ علاقہ کیوں ہلاک کیا گیا تھا ؟ اور اگر ہم بھی اللہ کے نافرمان اور سرکش بن کر رہیں تو ہم پر بھی عذاب الٰہی نازل ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ یونس (علیہ السلام) اور آپ کے قصہ پر حاشیے بھی گزر چکے خصوصا سورة یونس (پ 11) میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 139–182

آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 139–140

(139۔ 140) یونس بھی پیغبروں میں سے تھے جبکہ وہ اپنی قوم کے پاس سے چل کر یا یہ کہ بھاگ کر ایک بھری ہوئی تیار کشتی کے پاس پہنچے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : ان کا نام حدیث میں یونس بن مَتّٰی آیا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ یَنْبَغِيْ لِعَبْدٍ أَنْ یَّقُوْلَ أَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (و إن یونس لمن المرسلین) : 3416 ] ”کسی بندے کے لائق نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن مَتّٰی سے بہتر ہوں۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 139–144

139 ۔ 144:۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 حضرت یونس ہی ذوالنون ہیں جو متی کے بیٹے ہیں یہ اسی بوڑھی کی بیٹے ہیں جس کے پاس حضرت الیاس (علیہ السلام) ٹھہرے تھے چھ ماہ تک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی والدہ خود ہی ان کی خدمت کرتی اور موانست کیا کرتی تھی اور جس پر بھی قادر ہوتی حضرت الیاس کی تکریم کی خاطر ذخیرہ نہ کرتی۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) گھر والوں کی تنگی سے اکتا گئے اور پہاروں کی طرف چل دیئے ‘ اس عورت کا بیٹا حضرت یونس فوت گیا وہ عورت حضرت الیاس کے پیچھے نکل کھڑی ہوئی وہ ان کے پیچھے پہاڑوں میں سرگرداں رہی یہاں تک کہ انہیں تلاش کرلیا اس عورت نے سوال کیا کہ وہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 139–148

1:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد فی الزہد وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان یونس لمن المرسلین (139) اذابق الفلک المشحون “ (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے جبکہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے یونس (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ تیری قوم پر فلاں دن اس طرح اور اس طرح عذاب آئے گا جب وہ دن آیا تو یونس وہاں سے چلے گئے تو ان کی قوم نے ان کو گم پایا تو وہ لوگ چھوٹے اور بڑے جانور اور ہر چیز کو لے کر (ایک میدان میں) نکلے پھر انہوں نے والدہ کو اس کے بچوں سے بکری کو اپنے بچے سے اور اونٹنی اور گائے کو اپنے بچوں سے الگ کردیا ان کو چیخ و پکار کی آواز سنی گئی اور ان کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّ يُوْنُسَ [اور بیشک یونس (علیہ السلام) ] لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [یقینا بھیجے ہوؤں میں سے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 139–148

حضرت یونس (علیہ السلام) کا کشتی سے سمندر میں کود پڑنا، پھر مچھلی کے پیٹ میں تسبیح میں مشغول رہنا ان آیات میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی بعثت اور مصیبت اور ان کی قوم کی ضلالت اور پھر ہدایت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جب وہ ایک عرصہ تک اپنی قوم کو تبلیغ کرتے رہے اور قوم نے نہ مانا انکار پر تلے رہے تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے فرما دیا کہ دیکھو تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا، اس کے بعد دو دن تک انتظار کیا، تیسرے دن بھی انتظار میں تھے لیکن عذاب کے آثار نہیں دیکھے، جب یہ صورت حال سامنے آئی تو یہ سمجھ کر کہ اگر عذاب نہ آیا تو میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 139–148

قصہ ششم یونس (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وان یونس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ فمتعنہم الی حین۔ یہ چھٹا قصہ یونس بن متی (علیہ السلام) کا ہے جو اس سورت کا آخری قصہ ہے کہ جو اپنی قوم کی ایذا پر صبر نہ کرسکے اور اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے اور یہی یونس (علیہ السلام) ذوالنون نبی ہیں جنہوں نے بحکم خداوندی اپنی قوم سے ایمان نہ لانے پر عذاب آنے کا وعدہ کیا تھا جب وہ ایمان نہ لائے اور برابر کفر اور تکذیب پر ڈٹے رہے تو سجھ گئے کہ انکار بھی وہی انجام ہوگا جو سرکشوں اور نافرمانوں کا ہوا کرتا ہے اس لئے سمجھ گئے کہ عنقریب عذاب آنے والا ہے تو بغیر انتظار وحی کے اور بغیر حکم خداوندی کے یونس (علیہ السلام) اپنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 134–139

56:۔ ان یونس الخ : یہ نفی شفاعت قہری کے لیے ساتواں قصہ ہے۔ یونس (علیہ السلام) کو مچھلی نے ہمارے حکم سے نگل لیا۔ یہ ایک انتباہ تھا۔ انہوں نے ہمیں پکارا تو ہم نے ان کو اس مصیبت سے نجات دی۔ اس لیے جو خود اس قدر محتاج و عاجز ہو وہ کسی طرح شفیع غالب نہیں ہوسکتا۔ اذ ابق الخ، حضرت یونس (علیہ السلام) نے جب قوم پر تبلیغ حق سے حجت قائم کردی۔ اور قوم تکذیب و انکار پر اڑی رہی تو انہوں نے اللہ کے حکم سے اعلان فرما دیا کہ اگر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو تین دن تک تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا حضرت یونس (علیہ السلام) قوم کے ایمان سے مایوس تھے اور تیسرے دن نزول عذاب کا بھی انہیں یقین تھا۔ اس لیے تیسرے دن اللہ کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 139–148

ربط آیات پہلے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا ، پھر الیاس (علیہ السلام) کا اور پھر لوط (علیہ السلام) کا۔ یہ سب اللہ کے نبی اور رسول تھے جنہوں نے ایمان اور توحید کی بات لوگوں تک پہنچائی ، مگر لوگوں نے تسلیم نہ کیا بلکہ شدید مخالفت کی اور طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ نوح (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی قوم کو غرق کیا ، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے مخالفین بھی بحر قلزم میں ڈوبے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو بعل کی پوجا سے منع کیا۔ وہ بھی باز نہ آئے تو اللہ نے ان پر بھی عذاب بھیجا۔ اللہ نے حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۝ 139ۭ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 139–148

وان یونس یہ چھٹا قصہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کا ہے جس کا مفصل بیان ہم سورة یونس میں کر آئے ہیں۔ یہ حضرت بھی بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ عبرانی میں ان کو یونہ کہتے ہیں۔ متی ان کے والد کا نام ہے۔ مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً آٹھ سو باسٹھ برس آگے ان کو حکم ہوا کہ شہر نینوہ میں جاکر منادی کرے۔ انہوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ حلیم و غفار ہے جس عذاب کا میں ان سے وعدہ کروں گا، اس کے موافق شاید ان پر بلا نہ پہنچے، میں جھوٹا پڑوں اس لیے وہاں سے بھاگ کر شہر ترسیس کو چلے اور یافہ سے جو جہاز ترسیس جانے کو تھا، اس میں سوار ہوگئے۔ راستہ میں سخت طوفان آیا، قرعہ ڈالا گیا کہ کس کے سبب سے یہ بلا آئی ہے ؟…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 139–142

وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ۔ فَسَاھَمَ فَـکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَ ۔ فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَھُوَ مُلِیْمٌ۔ (الصآفات : 139 تا 142) (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھا۔ یاد کرو جبکہ وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا۔ پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا پس وہ دھکیلا گیا۔ پھر اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ سزاوارِملامت تھا۔ ) حضرت یونس (علیہ السلام) کی سرگزشت کے اہم واقعات اس سے پہلے قرآن مجید میں سورة یونس اور سورة انبیاء میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے جب قرآن کریم میں آپ کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 139–149

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر گرامی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) بھی اللہ کے برگزیدہ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ انہیں نینوا کے علاقہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آبادی میں مبعوث کیا گیا۔ نہ معلوم حضرت یونس (علیہ السلام) نے کتنا عرصہ اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم سدھرنے کی بجائے بگڑتی چلی گئی۔ اس پر یونس (علیہ السلام) نے قوم کو انتباہ کیا کہ اگر تم راہ ہدایت پر نہ آئے تو فلاں دن تمہیں اللہ کا عذاب آلے گا لیکن اس دن عذاب نہ آیا جس پر قوم نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو طعنے دیئے اور جھوٹا قرار دیا جس پر یونس (علیہ السلام) پریشان ہو کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تذکرئہ یونس ( علیہ السلام) اور قوم سے ان کا نکل جانا : 139: وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 139–148

139۔ 148۔ یہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة الانبیا میں بھی گزر چکا ہے۔ تفسیر سدی تفسیر ابن ابی 2 ؎ حاتم مسند بزار اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ عبد اللہ بن مسعود کی صحیح روایت سے جو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ موصل شہر کی سر زمین میں نینویٰ بستی ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ہدایت کے واسطے حضرت یونس نبی ہوئے تھے جب وہاں کے لوگوں نے حضرت یونس کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبر سنائی۔ اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے۔ جب نینوا کے لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی کے دیکھے تو جنگل میں جا کر بہت روئے اور گڑگڑاتے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 133–147

آیت 133 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوط کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا، جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ (الا عجوزا فی الغبرین) سو اے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوط کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر تھی۔ (ثم دمرنا الاخرین) ” پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ “ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا : (آیت) ” ہم نے ان کی بستی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 139–140

93 حضرت یونس کی سرگزشت کا حوالہ و ذکر : سو اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کا وہ وقت خاص طور پر قابل ذکر ہے جبکہ وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی تک پہنچے "۔ " ابق "، " اباق " سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنیٰ غلام کے اپنے آقا سے بھاگ نکلنے کے ہیں۔ حضرت یونس (علیہ السلام) چونکہ اذن خداوندی ملنے سے پہلے ہی اپنی قوم سے مایوس ہو کر چلے گئے تھے اس لئے ان کے لئے یہ لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ (مدارک، و جیز وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت یونس کو اہل نینوا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ ان کی قوم نے جب مسلسل تکذیب ہی سے کام لیا تو یہ غیرت حق کے جوش میں وہاں سے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں آپ ایک ایسی کشتی پر سوار ہوگئے جو کسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 139–148

سیدنا یونس (علیہ السلام) کا کشتی میں بیٹھنا اور مچھلی کے پیٹ میں جانا تشریح : سیدنا یونس (علیہ السلام) کا قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے۔ مگر اس کا اندازذرا مختلف ہے۔ ہوا اس طرح کہ آپ کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا گیا۔ موصل کے علاقہ میں نینوا شہر میں آپ بھیجے گئے آپ نے سات سال تک لگا تار لوگوں کو سمجھایا مگر حسب معمول انہوں نے نافرمانی کی اس پر آپ نے لوگوں کو کہا کہ ” اب تم پر عذاب آنے والا ہے “۔ آپ نے دعا کی آپ اللہ کی اجازت یا مرضی کے بغیر شہر سے نکلے اور کشتی میں سوار ہوگئے۔ آپ سے انجانے میں غلطی ہوگئی تھی لہٰذا آپ کو اس کی سزا یوں دی گئی کہ کشتی ڈوبنے لگی جس پر یہ کہا گیا کہ کوئی غلام آقا کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 139–182

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 138–140

ف 2 یہاں بھاگنے کے لئے لفظ ” ابق “ استعمال ہوا ہے جو دراصل غلام کے اپنے آقا کے پاس سے بھاگ جانے کیلئے بولا جاتا ہے۔ حضرت یونس ( علیہ السلام) چونکہ اپنے آقا اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کئے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اس لئے ان کے چلے جانے ” ابق “ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ حضرت یونس ( علیہ السلام) اپنی قوم کو کب اور کیوں چھوڑ کر چلے گئے تھے اس کے لئے دیکھئے سورة یونس آیت 98، سورة انبیاء آیت 87 ( قرطبی) بھری ہوئی کشتی سے مراد سامان اور مسافروں سے بھری ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:139) حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ سورة الانبیاء میں بھی ملاحظہ ہو (21:87 ۔ 88) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 139–148

لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 148 :۔ ابق (وہ بھاگا ، دوڑا) المحشون ( بھری ہوئی) ساھم (قرعہ ڈالا گیا) المدحضین ( دھکیلے گئے ، الزام لگائے گئے) التقم ( نگل لیا) الحوت ( مچھلی) العرائ (چٹیل میدان ، صاف میدان) سقیم ( بیمار) یقطین ( بیل دار پودا) مائۃ الف (ایک لاکھ) متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) حین (زمانہ ، مدت) تشریح : آیت نمبر 139 تا 148 :۔ سورة الصافات میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے۔ حضرت یونس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 139–148

حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ۔ (ف 2) حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ہدایت کی جب ان کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبرسنائی اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے جب ان لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی دیکھے توجنگل میں جاکر بہت روئے اور گڑگڑائے اللہ نے ان کے حال پر رحم فرماکران سے عذاب نازل نہیں کیا، حضرت یونس کو معلوم ہوا کہ وقت مقررہ پر عذاب نہیں آیا تو اپنے دل میں سوچا کہ جس قوم کے نزدیک جھوٹا ٹھہرچکا ہوں اس قوم کی سرحد میں بھی ٹھہرنا مناسب نہیں، یہ سوچ کر آپ نے دریائی سفر کارادہ کیا کشتی پر سوار ہوئے کشی دریا میں چلنے لگی جب قرعہ ڈالا کہ کس شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 137–140

[30] خطاب اہل مکہ سے ہے جن کے تجارتی قافلے شام و فلسطین جاتے ہوئے قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گزرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 139–148

ف 1: حضرت یونس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یہ ارض نینوی کے نبی تھے انہوں نے قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا مگر یہ لوگ سرکشی اور تمرد میں بڑھتے چلے گئے ۔ حتیٰ کہ یہ مایوس ہوکر چل دیئے ۔ اور ہجرت کی نیت سے جب کشتی پر سوار ہوئے ۔ تو وہ دریا میں ڈگمگانے لگی ۔ انہوں نے قرعہ اندازی کرکے یہ معلوم کرنا چاہا ۔ کہ کون شخص اس کشتی میں ایسا ہے جس کی شامت اعمال سے کشتی ڈانواں ڈول ہورہی ہے ۔ تین دفعہ متواتر فرد حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر پڑا ۔ اس لئے ان کو دریا میں ڈال دیا گیا ۔ اور مچھلی نے انہیں نگل لیا ۔ یہ اصل میں اللہ کی طرف سے تادیب تھی ۔ کہ قوم سے مایوس ہوکر بغیر اذن الٰہی ان کو چھوڑ دینے کی یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(139) بلا شبہ یونس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھا۔ یعنی یونس (علیہ السلام) کو موصل سے نینوا بھیجا اللہ تعالیٰ نے تاکہ وہاں کے لوگوں کو رسالت کا پیغام پہنچائیں جب وہاں کے لوگ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کو عذاب سے ڈرایا اور عذاب کے آنے کا ایک دن مقرر کردیا اور خود وہاں سے نکل کر دوسری جگہ چلے گئے اور وہاں سے نینوا کی خبریں حاصل کرتے رہے یہاں یوم موعود پر عذاب کے آثار نمودار ہوئے لوگ گھروں سے نکل کر جنگل میں گئے وہاں جاکر توبہ کی ایمان لائے اور گڑ گڑائے اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب واپس ہوگیا۔ جب حضرت یونس کو یہ معلوم ہوا تو شرمندگی کے باعث نینوا میں واپس نہ آئے بلکہ ایک کشتی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 138–143

ف 2۔ صبح اور رات کا ذکر اس لئے کیا کہ عرب میں اکثر عادت رات کو صبح تک چلنے کی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ یونس (علیہ السلام) بھی ہمارے رسولوں میں سے ایک تھے : 139۔ یونس (علیہ السلام) کا ذکر اس جگہ تیسری بار آیا ہے قبل ازیں سورة یونس اور سورة الانبیاء میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور سورة یونس میں آپ کی مختصر سرگزشت بھی گزر چکی ہے ملاحظہ ہو عروۃ الوثقی جلد چہارم ص 499 تفصیل کے لیے تو سرگزشت کا مطالعہ ضروری ہے اور زیر نظر آیت میں بھی مختصر سا بیان موجود ہے ، یونس (علیہ السلام) نے نبوت سے پہلے بھی اپنی قوم کو سمجھانے کی بیحد کوشش کی لیکن جو قومیں نبیوں اور رسولوں کی دعوت پر ایمان لانے والی نہ ہوں وہ دوسروں کی بات سننے کے لیے کب تیار ہوتی ہیں یونس (علیہ السلام) نے قوم کے طعنوں سے تنگ آکر اپنے ملک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The last event described in this Sarah is that of Sayyidna Yunus (علیہ السلام) . This event, along with its details, has appeared towards the later part of Surah Yunus (please see Ma’ ariful-Qur’ an, English, Volume IV, pages 573-588). However, a few necessary comments about these particular verses are being given below. In the opening verse (139), it was said: وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْ‌سَلِينَ (And surely, Yunus (علیہ السلام) is from among the messengers). Was Sayyidna Yunus (علیہ السلام) ordained as a messenger much earlier than his encounter with the fish, or did it come…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

77 This is the third place where the Prophet Jonah (peace be upon him) has been mentioned in the Qur'an. Before this he has already been mentioned in Surah Yunus and Surah Al-Anbiya`. (For reference, please see yunus: 98 and AI-Anbiya`: 87-88 and the E.N.'s thereof).

Read the full tafseer →