As-Saaffaat 37:136

As-Saaffaat · from ayah 136

37:136

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۟ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ‏

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We destroyed the others.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:136

پھر باقی سب کو تہس نہس کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کر دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو مل یا میٹ کردیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر دوسروں کو ہم نے ہلاک فرمادیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر ڈالا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر باقی لوگوں کو ہم نے تباہ کردیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ہم نے تہس نہس کر کے رکھ دیا باقی سب کو

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر مارا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہم نے جڑ سے اکھاڑ کر پٹخ دیا باقیوں کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ہم نے دوسروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then We utterly destroyed the rest of them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

After that, We destroyed others

— Muhammad Taqi Usmani

After that, We destroyed others

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then We destroyed the rest.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then We destroyed the others.

— Saheeh International

Then We totally destroyed the others.

— Muhammad Sarwar

Then We destroyed the others.

— Muhammad Habib Shakir

Then We annihilated the others.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:136

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 133–138

قوم لوط ؑ ایک عبرت کا مقام۔ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت لوط ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے حضرت لوط ؑ کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وہ رہتے تھے وہاں ایک بدبو دار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 135–136

سورة الصّٰٓفّٰت 75 اس سے مراد حضرت لوط کی بیوی ہے جو ہجرت کا حکم آنے پر اپنے شوہر نامدار کے ساتھ نہ گئی بلکہ اپنی قوم کے ساتھ رہی اور مبتلائے عذاب ہوئی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 133–138

خلاصہ تفسیر اور بیشک لوط ؑ بھی پیغمبروں میں سے تھے (ان کا اس وقت کا قصہ قابل ذکر ہے) جب کہ ہم نے ان کو اور ان کے متعلقین کو سب کو نجات دی بجز اس بڑھیا (یعنی ان کی بیوی) کے کہ وہ (عذاب کے اندر) رہ جانے والوں میں رہ گئی، پھر ہم نے اور سب کو (جو لوط اور ان کے اہل کے سوا تھے) ہلاک کردیا (جن کا قصہ کئی جگہ آ چکا ہے) اور (اے اہل مکہ) تم تو ان کے (دیار و مساکن پر سفر شام میں کبھی) صبح ہوتے اور (کبھی) رات میں گزار کرتے ہو (اور آثار بربادی دیکھتے ہو) تو کیا (اس کو دیکھ کر) پھر بھی نہیں سمجھتے ہو (کہ کفر کا کیا انجام ہوا، اور جو آئندہ کفر کرے گا اس کے لئے بھی یہی اندیشہ ہے)۔ معارف و مسائل ان آیات میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 133–138

آیت حضرت لوط کی دعوت یہ حضرت لوط ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ وہ بھی ہمارے رسولوں میں سے تھا۔ اس کی قوم نے بھی اس کی تکذیب کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اس کو اس کے تمام باایمان اہل عیان کے ساتھ اپنے عذاب سے نجات دی اور بقیہ ساری قوم کو تباہ کردیا۔ اس کے اہل میں سے ایک بڑھیا … حضرت لوط کی بیوی … ایمان سے محروم رہ جانے کے باعث پیچھے رہ جانے والوں میں سے بنی چناچہ وہ بھی تباہ ہونے والوں کے ساتھ تباہ ہوئی۔ اس لئے کہ نبی کے ساتھ مجرور رشتہ داری کسی کے کام آنے الی چیز نہیں ہے بلکہ کام آنے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔ قریش کو ایک برمحل تنبیہ آخر میں اس ترجیح کے بجائے جو اوپر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 136–138

138۔ 1 یہ اہل مکہ سے خطاب ہے جو تجارتی سفر میں ان تباہ شدہ علاقوں سے آتے جاتے، گزرتے تھے ان کو کہا جارہا ہے کہ تم صبح کے وقت بھی اور رات کے وقت بھی ان بستیوں سے گزرتے ہو، جہاں اب مردار بحیرہ ہے، جو دیکھنے میں بھی نہایت کر یہ ہے اور سخت متعفن اور بدبودار۔ کیا تم انہیں دیکھ کر یہ بات نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے ان کا یہ بد انجام ہوا، تو تمہاری اس روش کا انجام بھی اس سے مختلف کیوں کر ہوگا ؟ جب تم بھی وہی کام کر رہے ہو، جو انہوں نے کیا تو پھر اللہ کے عذاب سے کیوں کر محفوظ رہو گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 135–137

24: اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے جو آخر وقت تک کافروں کا ساتھ دیتی رہی، اور انہی کے ساتھ عذاب میں ہلاک ہوئی۔ حضرت لوط ؑ کا مفصل واقعہ سورة ہود : 77 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 133–138

اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔ وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ” یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی لوط اور اس کے گھر والوں کے سوا دوسرے سب باشندوں پر بستی الٹ دی گئی۔ یہ قصہ پہلے کئی جگہ مفصل گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 136{ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ } ”پھر ہم نے جڑ سے اکھاڑ کر پٹخ دیا باقیوں کو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

78 یعنی سدوم اور اس کے مضافات کا پورا علاقہ ہی بلندی پر لے جا کر اور الٹا کر زمین پر پٹخ دیا گیا اوپر سے پتھروں کی بارش برسائی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 136–138

71۔ (کہ کفر وعدوان کا آخری انجام کیا ہوتا ہے) (آیت) ’ الاخرین “۔ یعنی لوط واہل لوط کے علاوہ اور جو لوگ تھے۔ (آیت) ” انکم “۔ خطاب قریش مکہ سے ہے، جن کے تجارتی قافلے ملک شام کو جاتے ہوئے برابر شرق اردن کے علاقوں سے گزرتے رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–138

آیت نمبر 114 تا 138 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم دمرنا الاخرین پھر ہم نے سب کو ہلاک کردیا۔ اِذْ نَجَّیْنٰہُ یعنی لوط کو قوم پر نازل ہونے والے عذاب سے بچا لیا۔ عَجُوْزًا سے مراد ہے حضرت لوط کی بیوی۔ الْغٰبِرِیْنَ یعنی عذاب میں رہ جانے والے۔ الْاٰخَرِیْنَ یعنی لوط کی قوم کے دوسرے سب لوگ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 133–138

(133۔ 138) اور لوط کو بھی ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ جبکہ ہم نے ان کو اور ان کی دونوں صاحبزادیوں زاعورا اور ایثا کو نجات دی سوائے ان کی منافقہ بیوی کے کہ وہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ رہ گئی۔ چناچہ ہم نے لو اور ان کے متعلقین کے علاوہ جو باقی بچے سب کو ہلاک کردیا۔ اور مکہ والو تم قوم لو کی بستیوں سدوم عمورا، صبور وادادوما پر سے کبھی صبح ہوتے گزرتے ہو اور کبھی رات میں گزرا کرتے ہو۔ کیا پھر بھی اس چیز کا اقرار نہیں کرتے کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تاکہ ان کی پیروی نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 133–136

وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود (77 تا 83) اور سورة حجر (57 تا 77)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 133–138

133 ۔ 138:۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ پہلے گزر چکا ہے یعنی بعد والوں کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا و انکم میں عربوں کو خطا ہے یعنی تم صبح کے وقت ان کے مکانات اور آثار کے پاس سے گزرتے رہتے ہو اور رات کے وقت بھی تم گزرتے رہتے ہو کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے اور تدبر نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 133–138

1:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا عجوزا فی الغبرین “ (سوائے ایک بڑھیا کے جو رہ جانے والوں میں رہ گئی) یعنی ان کی بیوی پیچھے رہ گئی تو وہ پتھر بنادی گئی اور اس کو ھیشفع کہتے ہیں۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا عجوزا فی الغبرین “ یعنی ہلاک ہونے والوں میں سے (آیت) ” وانکم لتمرون علیہم “ (اور تم گزرتے ہو ان پر) یعنی اپنے سفروں میں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانکم لتمرون علیہم مصبحین (137) وبالیل “ (اور تم ان پر صبح شام گزرتے ہو) فرمایا ہاں تم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 133–138

حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ اور قوم کا ہلاک ہونا اور بیوی کے علاوہ ان کے تمام اہل و عیال کا نجات پانا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بعثت اور ان کی اور ان کے اہل و عیال کی نجات اور ان کی قوم کی ہلاکت کا ذکر ہے، ان کی قوم کے لوگ کافر تو تھے ہی برے اعمال میں بھی بہت آگے بڑھے ہوئے تھے، مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے، حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا وہ لوگ نہ مانے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ اے لوط اگر تم اپنی بات سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں اپنی آبادی سے نکال باہر کردیں گے۔ ان لوگوں پر جس دن صبح صبح عذاب آنا تھا اللہ تعالیٰ نے اس صبح سے پہلے حضرت لوط (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 133–138

قصہ پنجم لوط (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وان لوطا لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔ یہ پانچواں قصہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے ان کی قوم لواطت اور بد فعلی میں مبتلا تھی اور یقیناً لوط (علیہ السلام) بھی خدا کے پیغمبروں میں سے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے سدوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا جہاں کے باشندے بت پرست اور لواطت اور قسم قسم کی بےحیائیوں اور بدکاریوں میں مبتلا تھے ان کی ہدایت کے لئے حضرت لوط (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جب قوم نے نہ مانا تو ان پر اللہ کا قہر اور عذاب آیا پس اے نبی آپ ﷺ اس وقت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 134–139

56:۔ ان یونس الخ : یہ نفی شفاعت قہری کے لیے ساتواں قصہ ہے۔ یونس (علیہ السلام) کو مچھلی نے ہمارے حکم سے نگل لیا۔ یہ ایک انتباہ تھا۔ انہوں نے ہمیں پکارا تو ہم نے ان کو اس مصیبت سے نجات دی۔ اس لیے جو خود اس قدر محتاج و عاجز ہو وہ کسی طرح شفیع غالب نہیں ہوسکتا۔ اذ ابق الخ، حضرت یونس (علیہ السلام) نے جب قوم پر تبلیغ حق سے حجت قائم کردی۔ اور قوم تکذیب و انکار پر اڑی رہی تو انہوں نے اللہ کے حکم سے اعلان فرما دیا کہ اگر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو تین دن تک تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا حضرت یونس (علیہ السلام) قوم کے ایمان سے مایوس تھے اور تیسرے دن نزول عذاب کا بھی انہیں یقین تھا۔ اس لیے تیسرے دن اللہ کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 114–138

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِيْنَ۝ 136 دمر قال : فَدَمَّرْناهُمْ تَدْمِيراً [ الفرقان/ 36] ، وقال : ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ [ الشعراء/ 172] ، وَدَمَّرْنا ما کانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَما کانُوا يَعْرِشُونَ [ الأعراف/ 137] ، والتدمیر : إدخال الهلاک علی الشیء، ويقال : ما بالدّار تَدْمُرِيٌّ وقوله تعالی: دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ محمد/ 10] ، فإنّ مفعول دمّر محذوف . ( د م ر ) التدمیر ( تفعیل ) کے معنی ہیں کسی چیز پر ہلاکت لاڈالنا ۔ قرآن میں ہے :َ فَدَمَّرْناهُمْ تَدْمِيراً [ الفرقان/ 36] اور ہم نے انہیں ہلاک کرڈالا ۔ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ [ الشعراء/ 172] پھر ہم نے اوروں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 133–138

وان لوطا لمن المرسلین یہ پانچواں قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے، بحیرہ مردار کے پاس چند بستیاں تھیں۔ سدوم عمورہ وغیرہ وہاں حضرت رہتے تھے، ان لوگوں کو بدفعلی کی عادت تھی، لڑکوں کے ساتھ لواطت کیا کرتے تھے۔ حضرت نے بہت کچھ سمجھایا۔ آخر نہ مانا خدا نے ان کو ہلاک کیا۔ لوط اور اس کا خاندان بجز بیوی کے سب بچے باقی سب برباد ہوگئے، وہ بستیاں الٹی گئیں۔ وانکم لتمرون قریش شام کے ملک میں تجارت کے لیے آیا جایا کرتے تھے، یہ الٹی ہوئی بستیاں ان کو رستے میں ملتی تھیں، کبھی قافلہ کو رات وہاں پڑتی تھی، کبھی صبح ہوتے قافلہ وہاں سے نکلتا تھا۔ یہ ہیں معنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 133–138

وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗٓ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ ۔ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۔ وَاِنَّـکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ ۔ وَبِالَّیْلِ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الصآفات : 133 تا 138) (بےشک لوط بھی یقینا پیغمبروں میں سے تھے۔ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی۔ بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔ پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔ بیشک تم ان کی بستیوں پر گزرتے ہو صبح کو بھی۔ اور رات کو بھی، تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت، قوم کا جواب، ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 133–138

فہم القرآن ربط کلام : حضرت الیاس (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے اہل کو ذلّت آمیز عذاب سے محفوظ رکھا البتہ ان کی بیوی اور دوسرے لوگوں کو ہلاک کردیا۔ اے عرب کے لوگو ! تم سفر کے دوران صبح و شام قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کے کھنڈرات کے قریب سے گزرتے اور انہیں دیکھتے ہو۔ لیکن پھر بھی عقل سے کام لینے کے لیے تیار نہیں ہو ؟۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے بارے میں قرآن مجید میں کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے اس لیے یہاں اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 133–138

133۔ 138۔ حضرت الیاس کے قصہ کے بعد یہ لوط (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا۔ یہ قصہ سورة الاعراف سورة ہود سورة شعراء اور سورة النمل میں گزر چکا ہے۔ حاصل اس قصہ کا یہی ہے کہ ان لوگوں نے لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کی عادت نکالی تھی۔ ملک شام کے شہروں میں ایک بستی سدوم سے وہاں یہ لوگ رہتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ابراہیم کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) جب ملک عراق سے ملک شام کو آئے تو سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لئے نبی مقرر ہوئے ایک مدت تک لوط (علیہ السلام) نے طرح طرح کی نصیحت سے ان لوگوں کو راہ راست پر لانا چاہا۔ مگر یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے آخر اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 133–147

آیت 133 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوط کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا، جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ (الا عجوزا فی الغبرین) سو اے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوط کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر تھی۔ (ثم دمرنا الاخرین) ” پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ “ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا : (آیت) ” ہم نے ان کی بستی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 135–137

91 لوط کی بیوی بھی ہلاک شدگان میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سوائے ایک ۔ بدبخت ۔ بڑھیا کے "۔ یعنی آپ کی بیوی جو کہ آنجناب پر ایمان نہیں لائی تھی اور وہ کافروں ہی کے ساتھ رہی تھی۔ یہاں تک کہ وہ انہی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ اپنا ایمان و عمل صحیح نہ ہو تو کوئی رشتہ کام نہیں آسکتا۔ یہاں تک کہ نبی کی زوجیت جیسا اہم ترین رشتہ بھی کچھ کام نہیں آسکتا۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ ورنہ حضرت لوط کی خود اپنی بیوی اس طرح ہلاکت و تباہی کے گھاٹ نہ اترتی۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 133–138

سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر تشریح : یہاں لوگوں کو غصے سے پوچھا جا رہا ہے کہ تم لوگ ان گزرے ہوئے لوگوں کی اجڑی ہوئی بستیوں سے سبق حاصل کیوں نہیں کرتے۔ دن رات ان کے پاس سے گزرتے ہو۔ دیکھو تو توبہ استغفار کرو اور نیکی کی راہیں اختیار کرو۔ کیونکہ ہر بری اور گنہگار قوم کا یہی حال ہوتا ہے جو تم ان تباہ و برباد بستی والوں کا انجام دیکھ رہے ہو۔ عقل سے کام لو اور پیغمبر کی دعوت پر غور کرو اور صالح بن جاؤ تاکہ اللہ تم سے خوش ہو اور تم پر اپنی برکتیں نازل فرمائے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 114–138

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138: اسرار و معارف : یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔ پھر الیاس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 131–137

ف 1 یعنی بغرض تجارت شام و فلسطین آتے جاتے، ان کی تباہ شدہ بستی سے دن رات گزرتے رہتے ہو۔ ( کذافی الموضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:136) ثم۔ پھر۔ دمرنا۔ ماضی جمع متکلم۔ دمر، یدمر تدمیر (تفعیل) مصدر سے۔ ہم نے ہلاک کردیا۔ ہم نے تباہ کردیا۔ ہم نے اکھاڑ مارا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 133–138

لغات القرآن : آیت نمبر 133 تا 138 :۔ عجوز ( بوڑھی عورت ، بڑھیا) الغبرین ( پیچھے رہ جانے والی) تمرون ( تم گزرتے ہو) مصبحین ( صبح کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 133 تا 138 :۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھیجتے تھے۔ اللہ نے آپ آپ کو سدوم اور عامورہ کی ان بستیوں کے لوگوں کی اصلاح کے لئے نبی بنا کر بھیجا تھا جنہوں نے بےحیائی اور بےغیرتی کے وہ کام کر رکھے تھے جو ان سے پہلے کسی قوم نے نہیں کئے تھے وہ پوری قوم خلاف فطرت فعل کرتی اور اس پر کسی شرمندگی کے بجائے جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعل بد سے روکنا چاہا تو ان پر طعن وطنز کے تیر چلانے کے ساتھ ساتھ یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 133–138

حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ۔ (ف 1) حضرت الیاس کے قصہ کے بعد یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا یہ قصہ سورة الاعراف ، سورة ہود، سورة الشعراء اور سورة النمل میں گزرچکا ہے حضرت لوط (علیہ السلام) جب ملک عراق سے ملک شام کو آئے تو سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لیے نبی مقرر ہوئے مدت تک حضرت لوط نے طرح طرح کی نصیحت سے ان لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی، ان لوگوں نے لڑکوں سے بدفعلی کی عادت نکالی تھی جب یہ لوگ اپنی عادت بد سے باز نہ آئے تو آخر اللہ کے حکم سے جبرائیل امین نے ان کی بستی کو الٹا دیا، یہ قریش کو فرمایا کہ مکہ سے شام کو جو قافلے آتے جاتے تھے قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 135–136

[29] یعنی لوط (علیہ السلام) کی نافرمان بیوی جو اپنی قوم کے ساتھ پیچھے رہ گئی اور مبتلائے عذاب ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 132–138

سدومیوں کی بداعمالیاں 2: سدومی لوگوں میں خواہشات نفس کی تکمیل کا مادہ حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا ۔ یہ دن رات ناپاک خیالات میں مستغرق رہتے اور اللہ کے قانون کو توڑتے ۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی تھی ۔ اس لئے ان میں جذبات جنسی کو پورا کرنے کا اندازہ ایک قلم بیہودہ اور غیر موزوں تھا ۔ حضرت لوط ان میں اس غرض کے لئے تشریف لائے کہ اس مرض مزمن کی اصلاح کریں ۔ اور ان کو بتائیں کہ اس جرم عظیم کے ہولناک نتائج کس صورت میں ظہور پذیر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ارتکاب غیر فطری ہے ۔ مضر ہے ۔ اور مہلک ہے ۔ تم اس سے بازآجاؤ۔ ان لوگوں میں قوت ارادی کی کمی تھی ۔ اور خبث عمل کا زہر ان کی رگوں میں پوری طرح سرایت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(136) پھر ہم نے اور سب کو ہلاک کردیا۔ یعنی حضرت لوط اور ان کے ساتھی مومنین کے سوا سب کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوسرے سارے لوگوں کو تہس نہس کردیا گیا : 136۔ لوط (علیہ السلام) پیغمبرانہ وعظ ونصیحت سے ان کو ڈراتے رہے لیکن قوم کے لوگوں کے تاریک دلوں پر ان کے کہنے کا مطلق اثر نہ ہوا اور وہ اپنی بداخلاقیوں پر اسی طرح قائم رہے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو یہاں تک غیرت دلائی کہ تم اس بات کو نہیں سوچتے کہ میں رات دن اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت وپیغام کے لیے تمہارے ساتھ حیران و سرگرداں ہوں کہ کبھی میں نے تم سے اس سعی و کوشش کا کوئی ثمرہ طلب کیا ؟ کیا کوئی اجرت مانگی ؟ کسی نذر ونیاز کا طالب ہوا ؟ میرے پیش نظر تو تمہاری دینی ودنیوی سعادت و فلاح کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے مگر تم ہو کہ اس کی مطلق توجہ نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 133–138

Commentary Mentioned in these verses is the fifth event that relates to Sayyidna Lut (علیہ السلام) . This event has appeared at several places earlier, therefore, no more details are needed. Here, the people of Makkah have been particularly admonished that they passed by the site of Sadum (Sodom) day and night while traveling with theirs trade caravans to the country of Syria, and Sadum was a place where this grave event came to pass, an event full of vital lessons, yet they failed to learn any. The time of morning and evening was particularly mentioned for the reason that the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 135–136

75 This implies the wife of the Prophet Lot, who did not migrate with her illustrious husband, but remained behind with her people and was punished.

Read the full tafseer →