Explained with ayahs 114–122
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔
اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–122
سورة الصّٰٓفّٰت 69
یعنی اس شدید مصیبت سے جس میں وہ فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر بھی احسان کیا (کہ ان کو نبوت اور دیگر کمالات عطا فرمائے) اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم (یعنی بنی اسرائیل) کو بڑے غم سے (یعنی فرعون کی جانب سے پہنچائی جانیوالی تکالیف سے) نجات دی اور ہم نے ان سب کی (فرعون کے مقابلے میں) مدد کی، سو (آخر میں) یہی لوگ غالب آگئے (کہ فرعون کو غرق کردیا گیا، اور یہ صاحب حکومت ہوگئے) اور ہم نے (فرعون کے غرق ہونے کے بعد) ان دونوں (صاحبوں) کو (یعنی موسیٰ ؑ کو اصالتاً اور ہارون ؑ کو تبعاً) واضح کتاب دی (مراد تورات ہے کہ اس میں احکام واضح طور پر مذکور تھے) اور ہم نے ان کو سیدھے رستہ پر قائم رکھا، (جس کا اعلیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
وترکنا علیھما فی الاخرین سلم علی موسیٰ وھرون انا کذلک نجزی المحسنین و انھما عن عبادنا المومنین (122-119)
یہ اسیمضمون کی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکا ہے اور جس کے ہر جزو کی وضاحت ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں رسولوں کا طریقہ بھی ان کے بعد قائم رہا۔ ان پر اللہ کی طرف سے برکت و سلامتی نازل ہوئی اور ان کے دشمن ذلیل و نامراد ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے خوب کار وفا شعار بندوں کو اسی طرح صلہ دیا کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج بھی جو لوگ خدا اور اس کے دین کے لئے اس صدق و الخصا کا ثبوت دیں گے اسی طرح وہ بھی خدا کی رحمت و برکت کے مستحق ٹھہریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے کام کو پائیداری بخشے گا ان کی دعوت کے حامل پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
123۔ 1 یہ حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے (بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–122
22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
7 یعنی ہمارے کامل ایماندار بندوں میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 122{ اِنَّہُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقیناوہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–124
71 یعنی ان دونوں نبیوں نے بھی راہ حق میں بیشمار قربانیاں دی تھیں۔ وہ اللہ کے حکم کے تحت اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر فرعون جیسے جابر اور ظالم فرمانروا کے پاس پہنچ گئے تھے۔ جبکہ سیدنا موسیٰ خود ان کے مجرم بھی تھے۔ پھر انہوں نے فرعون سے دعوت توحید کے بعد جو مطالبہ کیا تھا وہ بھی اسے سیخ پا کردینے والا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے انہیں ہمارے ہمراہ روانہ کردو۔ اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد انہوں نے اس بگڑی قوم کو سنوارنے کے لئے مقدور بھر کوششیں کی تھیں۔
ان کے ایسے ہی کارناموں کا صلہ ہم نے انہیں یہ دیا کہ رہتی دنیا تک انہیں بھلائی سے یاد کیا جائے۔ چناچہ یہود و…
Read the full tafseer →65۔ (اس لئے صلہ بھی کامل عطا ہوا) قرآن مجید نے پیغمبروں کے ذکر میں جو بار بار اس قسم کی تصریحات کی ہیں، ان کے مقصد دو (2) ہیں۔ ایک تو پیغمبروں کی مدح، ان کا مستحق دعا وثنا ہونا، ان کا قابل تقلید ہونا، اہل کتاب کی بدگوئی اور اتہام تراشیوں سے انہیں محفوظ رکھنا، اور ان کی طرف سے صفائی، ورنہ تو ریت موجودہ میں تو پیغمبروں کی وہ بری گت بنائی گئی ہے کہ اخلاقی ودینی، عملی واعتقادی کبائر میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ان کی جانب منسوب نہ کردئیے گئے ہوں، یہاں تک کہ (نعوذ باللہ) کفر وشرک بھی ! دوسری غرض اسکے بالمقابل یہ بھی رہی ہے کہ انہیں ان کے مرتبہ سے زیادہ نہ بڑھایا جائے، انہیں ہر حال میں بندہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
آیت نمبر 114 تا 138
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →انہما من عبادنا المؤمنین دونوں بلاشبہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔
ان جملوں کی تشریح سطور بالا میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–122
(117۔ 122) اور ہم نے ان دونوں کو توریت دی جو حلال و حرام کو واضح کرنے والی ہے اور ہم نے ان کو سچے اور سیدھے راستہ پر قائم رکھا اور ہم نے ان کے بعد آنے والے لوگوں میں ان کے لیے سلام اور نیکی رہنے دی ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ بیشک یہ دونوں ہمارے سچے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِي الْاٰخِرِيْنَ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیات (78 تا 81)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
114 ۔ 122:۔ جب اس امر کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح ہونے سے نجات دی اور نبوت کے بعد جوان پر احسان کیا ساتھ یہ بھی زکر کیا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ (علیہما السلام) پر جو احسان کیا۔ الکرب العظیم۔ سے مراد وہ غلامی ہے جو بنی اسرائیل کو لاحق ہوئی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فرعون غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس سے بچ گئے تھے۔
و نصرنھم فراء نے کہا : ضمیر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے لئے ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دو بھی جمع ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : و اتینھما اور و ھدینھما ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ھم ضمیر حضرت موسیٰ ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–122
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین “ (اور ہم نے اسحاق کی ان کی بشارت دی کہ نبی اور نیک لوگوں میں سے ہوں گے) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ذبح کے عوض فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت کی بشارت دی جو ان کے پیدا ہونے کے وقت نہ دی گئی تھی۔
2:۔ ابن ابی شبیہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق “ سے مراد ہے نبوت کی بشارت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی نبوت دی جب پیدا ہوئے اور جب نبی بنائے گئے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے جبیر بن شیبہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →اِنَّهُمَا [بیشک وہ دونوں ] مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ [ہمارے ایمان لانے والے بندوں میں سے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ
ان آیات میں حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں پر احسان کیا یعنی نبوت عطا کی اور اس بڑے انعام سے نوازا اور اس کے علاوہ بھی دوسری نعمتیں عطا فرمائیں، انہیں نعمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہیں اور ان کی قوم کو بڑی بےچینی سے نجات دی کیونکہ یہ لوگ مصر میں رہتے تھے جہاں کا صاحب اقتدار فرعون تھا وہ بڑا ظالم تھا اس کی حکومت میں بنی اسرائیل عاجز محض بنے ہوئے تھے (جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے) فرعون ان کے لڑکوں تک کو ذبح کردیتا تھا اور یہ چوں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
قصہ سوم حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام)
وقال تعالیٰ ولقد مننا علی موسیٰ وھرون۔۔۔ الی۔۔۔ انہما من عبادنا ال مومنین۔
(ربط) اب یہ تیسرا قصہ ہے جس میں ان انعامات خداوندی کا ذکر کرتے ہیں جو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر مبذول ہوئے اور پھر ان انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو کلیم اللہ کی اتباع کی برکت سے بنی اسرائیل پر مبذول ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور قہر اور ظلم وستم سے نجات دی اور قوم نوح کی طرح قوم فرعون کو غرق کیا اور ان کے اموال اور املاک کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا اور پھر ان کو توریت جیسی روشن کتاب عطا کی جو حدود اور احکام پر مشتمل تھی اور صراط مستقیم اور راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
53:۔ وان الیاس الخ، یہ پانچواں قصہ ہے جو نفی شفاعت قہری پر دلالت کرتا ہے۔ قوم نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کی تبلیغ توحید سے چڑ کر انہیں شہید کرنے کا ارادہ کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے ہاتھوں قتل اور رسوائی سے بچا لیا۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ اتدعون بعلا الخ : بعل قوم الیاس کے معبود کا نام ہے جس کا انہوں نے بت بنا رکھا تھا اور اس کی عبادت کرتے اور اس سے حاجات مانگتے تھے۔ وھوعلم لصنمہم لہم قالہ الضحاک والھسن وابن زید (بحر ج 7 ص 373) اتعبدونہ و تطلبون الخیر (ابو السعود ج 7 ص 161) ۔ یہ بت سونے کا تھا جس کی لمبائی چوبیس گز تھی۔ چار سو خدام اس پر مقرر تھے۔ شیطان اس بت کے اندر داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…
Read the full tafseer →اِنَّہُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ 122
عبد
والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب :
الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ
[ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] .
الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] .
والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة،
والناس في هذا ضربان :
عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کا قصہ :
یہ تیسرا قصہ حضرت موسیٰ و ہارون علی نبینا و علیھما السلام کا ہے جو آنحضرت ﷺ کے حال سے نہایت مناسبت رکھتا ہے، اس جگہ ان دونوں بھائیوں کی نسبت صرف یہی مقصود تھا کہ ان دونوں کو اور ان کی برکت سے ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے رہائی دی۔ شاہ مصر کی قید اور سخت تکلیف میں مبتلا تھے اور نہ صرف بلا سے بچایا بلکہ فرعونیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کرکے غالب کردیا کہ ان کا داؤ نہ چلا، صاف ملک مصر سے مصریوں کا مال و زیورات لے کر نکل آئے اور اے عرب ! تمہاری بہتری بھی محمد ﷺ کی اتباع میں ہے، تم بھی انہی کی برکت سے ملکوں کے مالک ہوجاؤ گے اور ان دونوں کو روشن کتاب یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
وَتَرَکْنَا عَلَیْہِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ سَلٰمٌ عَلٰی مُوْسٰی وَھٰـرُوْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ اِنَّھُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 119 تا 112)
(اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذکرخیر باقی رکھا۔ سلام ہے موسیٰ اور ہارون پر۔ ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیتے ہیں۔ بیشک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ )
یہ ترجیع کی آیات ہیں ان کا مفہوم گزر چکا ہے
یہ ترجیع کی آیات ہیں جو ایک ہی طرح کے مضمون کے بعد آتی ہیں۔ اس سے بتانا مقصود یہ ہوتا ہے کہ تم جن مقدس نفوس کا تذکرہ پڑھ رہے ہو ان کی بعض اقدار ایسی مشترک ہیں جو ان کی حقانیت کی علامت بھی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–122
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کا ذکر ہوتا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ کرنے سے پہلے ارشاد ہوا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر بہت احسان فرمایا جس کی تفصیل یوں بیان فرمائی کہ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے نجات دی۔ ہم نے ان کی مدد فرمائی جس بنا پر وہ اپنے دشمنوں پر غالب آئے۔ ہم نے انہیں کھلی کتاب سے سرفراز کیا اور ہم نے دونوں کی ٹھیک ٹھیک راہنمائی کی اور ہم نے ان کی سیرت اور جدوجہد کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنایا۔ موسیٰ…
Read the full tafseer →122: اِنَّھُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–122
117، واتینھما الکتاب المستبین ، یعنی ایسی کتاب دی جس میں اللہ کے احکام کھول کر بیان کیے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
114۔ 122۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہم السلام) پر کئے اول یہ کہ ان دونوں کو نبوت عطا کی دوسرے یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے۔ کہ ان کے لڑکوں کو مار ڈالتے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو نجات دی۔ اور مدد کی کہ یہ ان پر غالب ہوگئے۔ اور ان کی زمین اور مال سب کچھ ان کے ہاتھ لگا۔ اور ان کی آنکھوں کے رو برو ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر توراۃ شریف کو اتارا۔ اور بتائی ان کو راہ سیدھی اور پچھلی خلقت میں ان کا یہ ذکر خیر رکھا کہ سب ایماندار ان پر سلام بھیجتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
آیت 114
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہ اورن کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تو رات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انہیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ : (آیت) ” یعنی انکے بعد آنے والوں میں ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی
قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
82 نیکوکاری ذریعہ سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو "۔ کہ دنیا میں بھی بالآخر غلبہ انہی کا ہوتا ہے۔ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی نصرت و امداد انہی کے لئے ہوتی ہے۔ سچی عزت اور حقیقی و ابدی ناموری بھی انہی کو نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں ملنے والے اجر وثواب کا تو کہنا ہی کیا۔ سو احسان کی صفت ایک ایسی عظیم الشان صفت ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندوں کو اتنی خاص عنایات سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو لوگ اس کے دین کیلئے صدق و اخلاص کا ثبوت دیں گے انکو وہ ایسے ہی انعامات سے نوازے گا۔ سو نیکوکاری ذریعہ کامیابی اور وسیلہ سرفرازی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
سیدنا موسیٰ و سیدنا ہارون (علیہم السلام) کا تذکرہ
تشریح : لوگوں کو برائی سے ڈرانے اور نیکی کی طرف لانے کے لیے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں۔ جیسا کہ یہاں سیدنا نوح، سیدنا ابر اہیم، سیدنا اسماعیل و سیدنا اسحاق (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو نیکی صبر و استقامت اور فرمانبرداری کے بہترین نمونے تھے۔ ان کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں انعام و اکرام سے مالا مال کردیا گیا اور اسی لیے اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے۔ ” ہم یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں نیکو کاروں کو، بیشک وہ دونوں ہمارے ایماندار بندوں میں ہیں “۔ ( الصّافات : 121-122 )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138:
اسرار و معارف :
یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔
پھر الیاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
ف 5 اکثر مفسرین (رح) کے نزدیک حضرت الیاس ( علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ حضرت ہارون ( علیہ السلام) کی نسل میں سے تھے اور حضرت یوشع ( علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے نگران اعلی ہوئے۔ بعض کہتے ہیں کہ الیاس ( علیہ السلام) حضرت ادریس ( علیہ السلام) ہی کا دوسرا نام تھا مگر زیادہ صحیح بات پہلی ہی ہے۔ ( فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
(37: 119 ۔ 120 ۔ 121 ۔ 122) مناسب تغیر وتبدل کے ساتھ ملاحظہ ہو آیات نمبر 78 ۔ 79 ۔ 80 ۔ 81 ۔ متذکرہ بالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 122 :۔ مننا ( ہم نے احسان کیا ) المستبین (واضح اور صاف صاف) ھدینا (ہم نے ہدایت دی ، رہنمائی کی) ترکنا ( ہم نے چھوڑا) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں، جزا دیتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 114 تا 122 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر بڑے احسان اور کرم فرمائے انہیں اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو جو فرعونوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پسے چلے جا رہے تھے نجات عطاء فرمائی اور اس طرح ان کی مدد کی کہ وہی جو انتہائی کمزور اور بےبس ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون پر کیے اول یہ کہ ان دونوں کو نبوت عطا کی دوسرے یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے کہ ان لڑکوں کو مارڈالتے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو نجات دی اور مدد کی یہ ان پر غالب ہوگئے اور ان کی زمین اور مال سب کچھ ان کے ہاتھ ، لگا اور ان کی آنکھوں کے روبروان کے دشمنوں کو ہلاک کیا، پھر اللہ نے ان پر تورات کو اتارا اور ان کو سیدھی راہ بتائی اور پچھلی خلقت میں ان کا یہ ذکر خیر رکھا کہ سب ایماندار ان پر سلام بھیجتے ہیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–122
[23] یعنی اسماعیل (علیہ السلام) پر۔
[24] اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) دونوں کی اولاد خوب پھلی پھولی۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے قریش مکہ تھے جو اپنے وقت میں تمام عرب کے پیشوا اور سردار تھے۔ دوسری طرف اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں سے بنی اسرائیل ہوئے جن سے دنیا کے دو بڑے مذاہب یہودیت اور نصرانیت نکلے۔ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے بنی اسماعیل (یعنی قریش) اور بنی اسرائیل (یعنی یہود) کو یاد دلانا ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ کن پاکیزہ لوگوں کی اولاد ہیں، ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا تھا اور کہاں بھٹک رہے ہیں ان کے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
قرآن کا نظریہ فضیلت
1: غرض یہ ہے کہ جب کوئی اللہ کا بندہ مخلوقات کی مخالفت کی پرواہ نہ کرکے حقانیت کو قبول کرلیتا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے برکات کے دروازے کھول دیتے ہیں ۔ اسے دنیا اور دین کی ہر نعمت سے بہرہ مندی کا موقع دیتے ہیں ۔ دیکھئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب توحید کی آواز کو بلند کیا ۔ تو اس وقت وہ یکہ و تنہا تھے ۔ ساری قوم میں ہمنوانہ تھا ۔ اور ایسا بھی نہ تھا جو سنجیدگی کے ساتھ دعوت ابراہیمی کے متعلق سوچتا اور غوروفکر سے کام لیتا ۔ پھر ایک وقت آیا ۔ کہ اس دعوت کا احیاء ہوا ۔ مکہ کی وادیاں توحید کے زمزموں سے گونج اٹھیں ۔ اور حضرت ابراہیم دیرینہ خواب پورا ہوا ۔ حضرت اسحاق نے…
Read the full tafseer →(122) بلا شبہ وہ دونوں ہمارے ایمان دار بندوں میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–135
ف 7۔ فرعون غرق کردیا گیا، اور یہ صاحب حکومت ہوگئے۔
Read the full tafseer →دونوں ہی ہمارے مومن بندوں میں سے تھے :
122۔ یہ آیت بھی آیت 111 ہی ہے اور حاشیہ 111 میں مومن کی جو تشریح کی گئی ہے وہی اس جگہ دیکھ لی جائے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
Commentary
Described in the verses cited above is the third event relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Harun (علیہ السلام) . It has appeared in details at several places. Here it serves as an indicator. The purpose is to tell how Allah Ta’ ala helps out His sincere and obedient servants, and how He bestows so many of His rewards on them. Mentioned here are His favors bestowed upon Sayyidna Musa علیہ السلام and Harun (علیہ السلام) . These favors are of two kinds. First come positive favors that bring benefits as in: وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ (And We did bestow favors…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–122
69 "A great distress": the distress in which they were involved at the hands of Pharaoh and his people
Read the full tafseer →