As-Saaffaat 37:118

As-Saaffaat · from ayah 118

37:118

وَهَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۟ۚوَهَدَيۡنٰهُمَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ‌ۚ

اور ان کو سیدھا رستہ دکھایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We guided them on the straight path.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:118

اور ان کو سیدھا رستہ دکھایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہیں سیدھے راستہ پرقائم رکھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان دونوں کو سیدھے راستے کی ہدایت دی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کو سیدھی راہ دکھائی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ پر چلایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان دونوں کو سیدھے راستے پر چلایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انہیں راہ راست پر چلایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت بخشی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کو ہدایت کی تھی ہم نے سیدھی راہ کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے انہیں سیدھے راستہ پر قائم رکھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ان دونوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کو سیدھا رستہ دکھایا

— محترمہ رفعت اعجاز

and showed them the Straight Way,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and guided them to the straight path.

— Muhammad Taqi Usmani

and guided them to the straight path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And guided them to the right path.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We guided them on the straight path.

— Saheeh International

guided them to the right path,

— Muhammad Sarwar

And We guided them both on the right way.

— Muhammad Habib Shakir

And We led the twain on Unto the straight path.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:118

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 114–122

حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 115–122

سورة الصّٰٓفّٰت 69 یعنی اس شدید مصیبت سے جس میں وہ فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 114–122

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر بھی احسان کیا (کہ ان کو نبوت اور دیگر کمالات عطا فرمائے) اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم (یعنی بنی اسرائیل) کو بڑے غم سے (یعنی فرعون کی جانب سے پہنچائی جانیوالی تکالیف سے) نجات دی اور ہم نے ان سب کی (فرعون کے مقابلے میں) مدد کی، سو (آخر میں) یہی لوگ غالب آگئے (کہ فرعون کو غرق کردیا گیا، اور یہ صاحب حکومت ہوگئے) اور ہم نے (فرعون کے غرق ہونے کے بعد) ان دونوں (صاحبوں) کو (یعنی موسیٰ ؑ کو اصالتاً اور ہارون ؑ کو تبعاً) واضح کتاب دی (مراد تورات ہے کہ اس میں احکام واضح طور پر مذکور تھے) اور ہم نے ان کو سیدھے رستہ پر قائم رکھا، (جس کا اعلیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 117–118

واتینھما الکتب المستبین ھدینھما الصراط المستقیم (118-117) کتاب کی شکل میں تعلیم الٰہی کا آغاز تورات سے ہوا کتاب مستبین اور کتاب مبین دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ اس سے مراد تورات ہے اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کسی امت کو بھی شریعت ایک واضح کتاب کی شکل میں نہیں عطا فرمائی بلکہ لوگوں کو صرف زبانی تعلیم دی گئی تو رات کو یہ خاص امتیاز اصل ہے کہ اس میں شریعت ایک مرتب و روشن کتاب کی شکل میں دی گئی۔ تورات اگرچہ نازل تو ہوئی حضرت موسیٰ پر لیکن حضرت ہ اورن چونکہ باقاعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ ؑ کے شریک رسالت بنائے گئے تھے اس وجہ سے اس کے دیئے جانے کے شرف میں ان کو بھی شریک فرمایا اور ان دونوں ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 116–123

123۔ 1 یہ حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے (بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 107–122

22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 114–122

ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔ قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی افعال و اقوال میں استقامت بخشی۔ اور ہر معاملہ میں سیدھی راہ پر چلایا جو عصمت انبیاء کے لوازم میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 118{ وَہَدَیْنٰہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } ”اور ہم نے ان دونوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 118–120

70 فرعون اور آل فرعون کی غرقابی کے بعد ہی طور سینا کے مقام پر سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی۔ اس سے پیشتر سیدنا موسیٰ پر بھی صحیفے ہی نازل ہوتے رہے۔ تورات پہلی آسمانی کتاب ہے جس میں بنی اسرائیل کو زندگی سے متعلق واضح احکام دیئے گئے تھے۔ پھر اسی کتاب کی روشنی میں ان دونوں نبیوں نے بنی اسرائیل کی رہنمائی کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 117–118

63۔ (یہاں تک کہ وصف عصمت سے ممتاز کیا۔ جو ہدایت و استقامت کا بلند ترین مرتبہ) اس میں رد آگیا یہود ونصاری کا جو ہارون (علیہ السلام) کو بہت سے امور میں ضلالت وخطا پر سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ موجودہ توریت میں گوسالہ پرستی تک ان سے منسوب کردی گئی ہے۔ (آیت) ” اتینھما الکتب المستبین “۔ توریت موسیٰ (علیہ السلام) کو تو اصالۃ اور براہ راست عطاہوئی تھی، شریک رسالت حضرت ہارون بھی تھے، اس لیے تبعا وبالواسطہ ” توریت “ ان کی جانب بھی منسوب کی جاسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–138

آیت نمبر 114 تا 138 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وھدینھما الصراط المستقیم اور دونوں کو سیدھا راستہ دکھا دیا۔ یعنی ایسا راستہ دکھا دیا جو راہگیر کو حق تک پہنچانے والا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 117–122

(117۔ 122) اور ہم نے ان دونوں کو توریت دی جو حلال و حرام کو واضح کرنے والی ہے اور ہم نے ان کو سچے اور سیدھے راستہ پر قائم رکھا اور ہم نے ان کے بعد آنے والے لوگوں میں ان کے لیے سلام اور نیکی رہنے دی ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ بیشک یہ دونوں ہمارے سچے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهَدَيْنٰهُمَا الـصِّرَاطَ الْمُسْتَــقِيْمَ : صراط مستقیم کی ہدایت بہت بڑا احسان ہے، کیونکہ اسی پر نجاتِ اُخروی کا دارو مدار ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 114–122

114 ۔ 122:۔ جب اس امر کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح ہونے سے نجات دی اور نبوت کے بعد جوان پر احسان کیا ساتھ یہ بھی زکر کیا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ (علیہما السلام) پر جو احسان کیا۔ الکرب العظیم۔ سے مراد وہ غلامی ہے جو بنی اسرائیل کو لاحق ہوئی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فرعون غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس سے بچ گئے تھے۔ و نصرنھم فراء نے کہا : ضمیر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے لئے ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دو بھی جمع ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : و اتینھما اور و ھدینھما ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ھم ضمیر حضرت موسیٰ ‘…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 112–122

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین “ (اور ہم نے اسحاق کی ان کی بشارت دی کہ نبی اور نیک لوگوں میں سے ہوں گے) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ذبح کے عوض فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت کی بشارت دی جو ان کے پیدا ہونے کے وقت نہ دی گئی تھی۔ 2:۔ ابن ابی شبیہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق “ سے مراد ہے نبوت کی بشارت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی نبوت دی جب پیدا ہوئے اور جب نبی بنائے گئے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے جبیر بن شیبہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهَدَيْنٰهُمَا [اور ہم نے ہدایت دی ان دونوں کو ] الـصِّرَاطَ الْمُسْتَــقِيْمَ [اس سیدھے راستے کی ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 114–122

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں پر احسان کیا یعنی نبوت عطا کی اور اس بڑے انعام سے نوازا اور اس کے علاوہ بھی دوسری نعمتیں عطا فرمائیں، انہیں نعمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہیں اور ان کی قوم کو بڑی بےچینی سے نجات دی کیونکہ یہ لوگ مصر میں رہتے تھے جہاں کا صاحب اقتدار فرعون تھا وہ بڑا ظالم تھا اس کی حکومت میں بنی اسرائیل عاجز محض بنے ہوئے تھے (جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے) فرعون ان کے لڑکوں تک کو ذبح کردیتا تھا اور یہ چوں بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 114–122

قصہ سوم حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام) وقال تعالیٰ ولقد مننا علی موسیٰ وھرون۔۔۔ الی۔۔۔ انہما من عبادنا ال مومنین۔ (ربط) اب یہ تیسرا قصہ ہے جس میں ان انعامات خداوندی کا ذکر کرتے ہیں جو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر مبذول ہوئے اور پھر ان انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو کلیم اللہ کی اتباع کی برکت سے بنی اسرائیل پر مبذول ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور قہر اور ظلم وستم سے نجات دی اور قوم نوح کی طرح قوم فرعون کو غرق کیا اور ان کے اموال اور املاک کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا اور پھر ان کو توریت جیسی روشن کتاب عطا کی جو حدود اور احکام پر مشتمل تھی اور صراط مستقیم اور راہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 116–123

53:۔ وان الیاس الخ، یہ پانچواں قصہ ہے جو نفی شفاعت قہری پر دلالت کرتا ہے۔ قوم نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کی تبلیغ توحید سے چڑ کر انہیں شہید کرنے کا ارادہ کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے ہاتھوں قتل اور رسوائی سے بچا لیا۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ اتدعون بعلا الخ : بعل قوم الیاس کے معبود کا نام ہے جس کا انہوں نے بت بنا رکھا تھا اور اس کی عبادت کرتے اور اس سے حاجات مانگتے تھے۔ وھوعلم لصنمہم لہم قالہ الضحاک والھسن وابن زید (بحر ج 7 ص 373) اتعبدونہ و تطلبون الخیر (ابو السعود ج 7 ص 161) ۔ یہ بت سونے کا تھا جس کی لمبائی چوبیس گز تھی۔ چار سو خدام اس پر مقرر تھے۔ شیطان اس بت کے اندر داخل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 114–138

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہَدَيْنٰہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَــقِيْمَ۝ 118ۚ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 114–122

حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ تیسرا قصہ حضرت موسیٰ و ہارون علی نبینا و علیھما السلام کا ہے جو آنحضرت ﷺ کے حال سے نہایت مناسبت رکھتا ہے، اس جگہ ان دونوں بھائیوں کی نسبت صرف یہی مقصود تھا کہ ان دونوں کو اور ان کی برکت سے ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے رہائی دی۔ شاہ مصر کی قید اور سخت تکلیف میں مبتلا تھے اور نہ صرف بلا سے بچایا بلکہ فرعونیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کرکے غالب کردیا کہ ان کا داؤ نہ چلا، صاف ملک مصر سے مصریوں کا مال و زیورات لے کر نکل آئے اور اے عرب ! تمہاری بہتری بھی محمد ﷺ کی اتباع میں ہے، تم بھی انہی کی برکت سے ملکوں کے مالک ہوجاؤ گے اور ان دونوں کو روشن کتاب یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 117–118

وَاٰتَیْنٰـہُمَا الْـکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ ۔ وَھَدَیْنٰـہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۔ (الصآفات : 117، 118) (ہم نے ان کو نہایت واضح کتاب عطا کی۔ اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت بخشی۔ ) الْـکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ کا مفہوم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی، اسی طرح ایک واضح اور روشن کتاب بھی عطا فرمائی۔ اس کتاب سے یقینا کتاب تورات مراد ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو بطور خاص کتاب دیے جانے کا ذکر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کسی امت کو بھی شریعت کسی واضح کتاب کی شکل میں عطا نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 118–122

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کا ذکر ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ کرنے سے پہلے ارشاد ہوا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر بہت احسان فرمایا جس کی تفصیل یوں بیان فرمائی کہ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے نجات دی۔ ہم نے ان کی مدد فرمائی جس بنا پر وہ اپنے دشمنوں پر غالب آئے۔ ہم نے انہیں کھلی کتاب سے سرفراز کیا اور ہم نے دونوں کی ٹھیک ٹھیک راہنمائی کی اور ہم نے ان کی سیرت اور جدوجہد کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنایا۔ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

118: وَھَدَیْنٰھُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (اور ہم نے ان دونوں کو سیدھے راستہ پر قائم رکھا) اہل اسلام کا راستہ۔ اور وہ انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہے۔ جیسا کہ فرمایا۔ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ] الفاتحہ : 7[۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 117–122

117، واتینھما الکتاب المستبین ، یعنی ایسی کتاب دی جس میں اللہ کے احکام کھول کر بیان کیے گئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 114–122

114۔ 122۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہم السلام) پر کئے اول یہ کہ ان دونوں کو نبوت عطا کی دوسرے یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے۔ کہ ان کے لڑکوں کو مار ڈالتے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو نجات دی۔ اور مدد کی کہ یہ ان پر غالب ہوگئے۔ اور ان کی زمین اور مال سب کچھ ان کے ہاتھ لگا۔ اور ان کی آنکھوں کے رو برو ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر توراۃ شریف کو اتارا۔ اور بتائی ان کو راہ سیدھی اور پچھلی خلقت میں ان کا یہ ذکر خیر رکھا کہ سب ایماندار ان پر سلام بھیجتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 114–122

آیت 114 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہ اورن کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تو رات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انہیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ : (آیت) ” یعنی انکے بعد آنے والوں میں ان کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 118–120

81 حضرت موسیٰ اور ہارون کی صراط مستقیم سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ کی راہنمائی کی تھی "۔ یعنی اسلام اور توحید کی اس راہ حق و صواب کی جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور کامرانی سے ہمکنار کرتی ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ بھی اللہ پاک ہی کی ہدایت و راہنمائی کے محتاج ہیں۔ پس اس ارشاد سے ضمناً ان اتہامات کی بھی تردید فرما دی گئی جو یہود بےبہبود نے اپنی خست اور خباثت کی بنا پر ان حضرات پر لگائے تھے۔ اس ارشاد سے صراط مستقیم کی عظمت و اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ صراط مستقیم سے سرفرازی ہی وہ اصل اور اہم اساس و بنیاد ہے جس پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 114–122

سیدنا موسیٰ و سیدنا ہارون (علیہم السلام) کا تذکرہ تشریح : لوگوں کو برائی سے ڈرانے اور نیکی کی طرف لانے کے لیے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں۔ جیسا کہ یہاں سیدنا نوح، سیدنا ابر اہیم، سیدنا اسماعیل و سیدنا اسحاق (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو نیکی صبر و استقامت اور فرمانبرداری کے بہترین نمونے تھے۔ ان کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں انعام و اکرام سے مالا مال کردیا گیا اور اسی لیے اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے۔ ” ہم یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں نیکو کاروں کو، بیشک وہ دونوں ہمارے ایماندار بندوں میں ہیں “۔ ( الصّافات : 121-122 )

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 114–138

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138: اسرار و معارف : یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔ پھر الیاس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 118–123

ف 5 اکثر مفسرین (رح) کے نزدیک حضرت الیاس ( علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ حضرت ہارون ( علیہ السلام) کی نسل میں سے تھے اور حضرت یوشع ( علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے نگران اعلی ہوئے۔ بعض کہتے ہیں کہ الیاس ( علیہ السلام) حضرت ادریس ( علیہ السلام) ہی کا دوسرا نام تھا مگر زیادہ صحیح بات پہلی ہی ہے۔ ( فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 117–118

(37:117) اتینھما ہم نے ان کو دی ہما ضمیر تثنیہ مذکر غائب کا مرجع حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) ہیں۔ الکتب المستبین۔ موصوف وصفت۔ واضح کتاب، توراۃ۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ استبانۃ (استفعال) مصدر سے۔ بین مادہ ہے۔ البین کے معنی دوچیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :۔ وجعلنا بینہما زرعا (18:32) اور ہم نے ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی۔ محاورہ ہے بان کذا۔ کسی چیز کا الگ ہوجانا۔ اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہے۔ اس کا ظاہر ہوجانا۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اس آیت میں ظہور کے معنی میں آیا ہے۔ بان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 114–122

لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 122 :۔ مننا ( ہم نے احسان کیا ) المستبین (واضح اور صاف صاف) ھدینا (ہم نے ہدایت دی ، رہنمائی کی) ترکنا ( ہم نے چھوڑا) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں، جزا دیتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 114 تا 122 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر بڑے احسان اور کرم فرمائے انہیں اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو جو فرعونوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پسے چلے جا رہے تھے نجات عطاء فرمائی اور اس طرح ان کی مدد کی کہ وہی جو انتہائی کمزور اور بےبس ہوچکے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 114–122

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون پر کیے اول یہ کہ ان دونوں کو نبوت عطا کی دوسرے یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے کہ ان لڑکوں کو مارڈالتے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو نجات دی اور مدد کی یہ ان پر غالب ہوگئے اور ان کی زمین اور مال سب کچھ ان کے ہاتھ ، لگا اور ان کی آنکھوں کے روبروان کے دشمنوں کو ہلاک کیا، پھر اللہ نے ان پر تورات کو اتارا اور ان کو سیدھی راہ بتائی اور پچھلی خلقت میں ان کا یہ ذکر خیر رکھا کہ سب ایماندار ان پر سلام بھیجتے ہیں پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 113–122

[23] یعنی اسماعیل (علیہ السلام) پر۔ [24] اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) دونوں کی اولاد خوب پھلی پھولی۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے قریش مکہ تھے جو اپنے وقت میں تمام عرب کے پیشوا اور سردار تھے۔ دوسری طرف اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں سے بنی اسرائیل ہوئے جن سے دنیا کے دو بڑے مذاہب یہودیت اور نصرانیت نکلے۔ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے بنی اسماعیل (یعنی قریش) اور بنی اسرائیل (یعنی یہود) کو یاد دلانا ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ کن پاکیزہ لوگوں کی اولاد ہیں، ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا تھا اور کہاں بھٹک رہے ہیں ان کے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 113–119

ف 1: یہ ایک پرانا اختلاف ہے ۔ کہ ذبیچ کون ہے ۔ حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق ؟ صحیح اور محققانہ رائے یہ ہے کہ اس سعادت کا فخر حضرت اسماعیل کو حاصل ہوا ۔ دلائل یہ ہیں :۔ (1) قرآن کا انداز بیان اس پر شاہد ہے ۔ کیونکہ اس سارے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے ۔ وبشرناہ باسحاق یتبا من الصالحین ۔ کہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کی نبوت اور سعادت کی خوشخبری سنائی ۔ دوسری جگہ فرمایا ہے ۔ کہ ہم نے اس بات کی بھی بشارت دی تھی ۔ کہ حضرت اسحاق کی نسل بڑھے گی ۔ اور ان کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ۔ ومن وراء اسحاق یعقوب پھر یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ جس بیٹے کو آئندہ چل کر نبوت کا اعزاز حاصل کرنا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(118) اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ پر قائم رکھا۔ یعنی جو راہ ان کو دکھائی تھی اسی پر قائم رکھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی : 118۔ فرعون مصر کے اقتدار کا مالک تھا اس نے ایکبار نہیں بار بار اسکیمیں لڑائیں کہ کسی نہ کسی طرح ان دونوں قومی لیڈروں کو ٹھکانے لگا دیا جائے لیکن جب اس نے اس طرح کی کوئی اسکیم اختیار کی ہم نے اس کے دفاع کی سیدھی راہ اپنے رسولوں کو بتا دی جس سے اس کی ہر اسکیم فیل ہوگئی یہاں تک کہ ہم نے بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے فرعون اور اس کے سارے لشکروں کو ڈبو کر رکھ دیا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 114–122

Commentary Described in the verses cited above is the third event relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Harun (علیہ السلام) . It has appeared in details at several places. Here it serves as an indicator. The purpose is to tell how Allah Ta’ ala helps out His sincere and obedient servants, and how He bestows so many of His rewards on them. Mentioned here are His favors bestowed upon Sayyidna Musa علیہ السلام and Harun (علیہ السلام) . These favors are of two kinds. First come positive favors that bring benefits as in: وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُ‌ونَ (And We did bestow favors…

Read the full tafseer →