Al-Ahzaab 33:72

Al-Ahzaab · from ayah 72

33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ؕ— اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا ۟ۙاِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَ حَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوۡمًا جَهُوۡلًا

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بےشک وہ ظالم اور جاہل تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, we offered the Trust to the heavens and the earth and the mountains, and they declined to bear it and feared it; but man [undertook to] bear it. Indeed, he was unjust and ignorant.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 9 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:72

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بےشک وہ ظالم اور جاہل تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اسے اٹھا لیا، وه بڑا ہی ﻇالم جاہل ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے یہ امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی، تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا، اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کا بوجھ اٹھا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ظالم، بڑا نادان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی، بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نے (اِطاعت کی) امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اس (بوجھ) کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بیشک وہ (اپنی جان پر) بڑی زیادتی کرنے والا (ادائیگئ امانت میں کوتاہی کے انجام سے) بڑا بے خبر و نادان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بلاشبہ وہ ہمیشہ سے بہت ظالم، بہت جاہل ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے اپنی امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا۔ یقینا وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈرے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بیشک وہ ظلم کرنے وال اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک ہم نے پیش (اپنی) اس امانت کو آسمانوں زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے انکار کردیا اس کے اٹھانے سے اور وہ ڈر گئے اس (کی ذمہ داریوں کو نبھانے) سے مگر اس کو اٹھا لیا اس انسان (ضعیف البنیان) نے بیشک یہ بڑا ہی ظالم اور جاہل ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے (یہ) امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی۔ سو ان سب نے انکار کیا اس سے کہ اسے اٹھائیں اور وہ اس سے ڈرے۔ اور اسے انسان نے اپنے ذمہ لے ل یا۔ بیشک وہ بڑا ظالم ہے بڑا جاہل ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر تو ان سب نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔ یقینا وہ بڑا ظالم اور بڑا نادان تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے امانت کے بار کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا، بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We offered the trust to the heavens and the earth and the mountains, but they refused to carry it and were afraid of doing so; but man carried it. Surely he is wrong-doing, ignorant.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did offer the Trust to the heavens and the earth and the mountains, but they refused to bear its burden and were afraid of it, and man picked it up. Indeed he is unjust (to himself), unaware (of the end).

— Muhammad Taqi Usmani

We did offer the Trust to the heavens and the earth and the mountains, but they refused to bear its burden and were afraid of it, and man picked it up. Indeed he is unjust (to himself), unaware (of the end).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, We did offer the Amanah to the heavens and the earth, and the mountains, but they declined to bear it and were afraid of it. But man bore it. Verily, he was unjust and ignorant.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We offered the trust unto the heavens and the earth and the hills, but they shrank from bearing it and were afraid of it. And man assumed it. Lo! he hath proved a tyrant and a fool.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, we offered the Trust to the heavens and the earth and the mountains, and they declined to bear it and feared it; but man [undertook to] bear it. Indeed, he was unjust and ignorant.

— Saheeh International

We offered Our Trust (Our deputation) to the heavens, to the earth, and to the mountains, but they could not bear this burden and were afraid to accept it. Mankind was able to accept this offer but he was unjust to himself and ignorant of the significance of this Trust.

— Muhammad Sarwar

Surely We offered the trust to the heavens and the earth and the mountains, but they refused to be unfaithful to it and feared from it, and man has turned unfaithful to it; surely he is unjust, ignorant;

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! We offered the trust unto the heavens and the earth and the mountains, but they refused to bear it and shrank therefor. And man bore it; verily he was very iniquitous and very ignorant-

— Abdul Majid Daryabadi

We did indeed offer the Trust to the Heavens and the Earth and the Mountains; but they refused to undertake it, being afraid thereof: but man undertook it;- He was indeed unjust and foolish;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 72–73

فرائض، حدود امانت ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔ اسے حضرت آدم ؑ پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن وہ بار امانت نہ اٹھا سکے اور اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کیا۔ جناب باری عزاسمہ نے اسے اب حضرت آدم ؑ پر پیش کیا کہ یہ سب تو انکار کر رہے ہیں۔ تم کہو آپ نے پوچھا اللہ اس میں بات کیا ہے ؟ فرمایا اگر بجا لاؤ گے ثواب پاؤ گے اور برائی کی سزا پاؤ گے۔ آپ نے فرمایا میں تیار ہوں۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ امانت سے مراد فرائض ہیں دوسروں پر جو پیش کیا تھا یہ بطور حکم کے نہ تھا بلکہ جواب طلب کیا تھا تو ان کا انکار اور اظہار مجبوری گناہ نہ تھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 120 کلام کو ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ انسان کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کی حقیقی حیثیت کیا ہے اور اس حیثیت میں ہوتے ہوئے اگر وہ دنیا کی زندگی کو محض ایک کھیل سمجھ کر بےفکری کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو کس طرح اپنے ہاتھوں خود اپنا مستقبل خراب کرتا ہے۔ اس جگہ " امانت " سے مر اد وہی " خلافت " ہے جو قرآن مجید کی رو سے انسان کو زمین میں عطا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو طاقت و معصیت کی جو آزادی بخشی ہے، اور اس آزادی کو استعمال کرنے کے لیے اسے اپنی بیشمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات عطا کیے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے اختیاری اعمال کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ہم نے یہ امانت (یعنی احکام جو بمنزلہ امانت کے ہیں) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تھی (یعنی ان میں کچھ شعور پیدا کر کے جو کہ اب بھی ہے ان کے روبرو اپنے احکام اور بصورت ماننے کے اس پر انعام و اکرام اور بصورت نہ ماننے کے اس پر تعذیب و آلام پیش کر کے ان کو لینے نہ لینے کا اختیار دیا۔ اور حاصل اس پیش کرنے کا یہ تھا کہ اگر تم ان احکام کو اپنے ذمہ رکھتے ہو تو ان کے موافق عمل کرنے کی صورت میں تم کو ثواب ملے گا اور خلاف کرنے کی صورت میں عذاب ہوگا اور اگر نہیں لیتے تو مکلف نہ بنائے جاؤ گے، اور ثواب و عذاب کے بھی مستحق نہ ہو گے، تم کو دونوں اختیار ہیں کہ اس کو نہ لینے سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 72–73

انا عرضنا الاما نۃ علی السموات والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا واھملھا الانان انہ کان ظلوما جھولا لیعذب اللہ المنفقین والمنفقت والمشرکین والمشرکت ویتوب اللہ علی المومنین والمومنت وکان اللہ غفورا رحیما (72۔ 73) اب یہ انسان کا اصلی شرف واضح فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عہد اطاعت کا امین ہے۔ یہ عہد، اختیارو ارادہ کی آزادی پر مبنی ہے اس وجہ سے وہی اس کا سزا وار ٹھہرا۔ اس لئے کہ عہد کا اہل وہی ہوتا ہے جس کو اختیار و ارادہ کی آزادی حاصل ہو۔ جو مخلوقات مجبور و مقہور ہیں ان سے کسی عہد و میثاق کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے تمام ذریت آدم سے لیا ہے اور یہ عہد اس خلافت کی بنیاد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

72۔ 1 جب اللہ تعالیٰ نے اہل اطاعت کا اجر وثواب اور اہل مصیت کا وبال اور عذاب بیان کردیا تو اب شرعی احکام اور اس کی صعوبت کا تذکرہ فرما رہا ہے۔ امانت سے وہ احکام شرعیہ اور فرائض و واجبات مراد ہیں جن کی ادائیگی پر ثواب اور ان سے اعراض و انکار پر عذاب ہوگا۔ جب یہ تکالیف شرعیہ آسمان اور زمین پر پیش کی گئیں تو وہ ان کے اٹھانے سے ڈر گئے۔ لیکن جب انسان پر یہ چیز پیش کی گئی تو وہ اطاعت الٰہی (امانت) کے اجر وثواب اور اس کی فضیلت کو دیکھ کر اس بار گراں کو اٹھانے پر آمادہ ہوگیا۔ احکام شریعہ کو امانت سے تعبیر کر کے اشارہ فرما دیا کہ ان کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ پیش کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ اور آسمان اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 72–73

52: یہاں ”امانت“ کا مطلب ہے : ”اپنی آزاد مرضی سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی ذمہ داری لینا“۔ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے تکوینی احکام تو وہ ہیں جنہیں ماننے پر تمام مخلوقات مجبور ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کر ہی نہیں سکتیں، مثلاً موت اور زندگی کا فیصلہ وغیرہ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی مختلف مخلوقات کو یہ پیشکش فرمائی کہ بعض احکام کے معاملے میں انہیں یہ اختیار دیا جائے گا کہ اگر وہ چاہیں تو اللہ تعالیٰ کا حکم مان کر اس پر عمل کریں، اور اگر چاہیں تو حکم پر عمل نہ کریں۔ پہلی صورت میں ان کو جنت کی ابدی نعمتیں حاصل ہوں گی، اور دوسری صورت میں انہیں دوزخ کا عذاب دیا جائے گا۔…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انا عرضنا الامانۃ ۔۔۔۔۔۔ ظلوما جھولا (72) ” “۔ زمین و آسمان اور زمین کے اندر بڑے بڑے پہاڑ ، دراصل ایک عام انسان کے لیے عظیم مخلوق ہیں ، جن کا یہاں قرآن نے ذکر کیا ہے اور جن کے اندر انسان رہتا ہے ، ان کے مقابلے میں انسان بہت ہی ضعیف اور حقیر ہے۔ یہ مخلوقات اپنے خالق کو اچھی طرح جانتی ہے اور اللہ کے تکوینی نظام اور قانون کے مطابق چل رہی ہے۔ اللہ کے احکام کو براہ راست پاتی ہے اور ان پر عمل پیدا ہے۔ یہ اس ناموس فطرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے اس کے اندر جاری کیا ہے۔ آغاز تخلیق سے یہ کائنات یونہی ، نظام قضا و قدر کے مطابق جاری وساری ہے۔ نہ اللہ کی اطاعت سے نکلتی ہے اور نہ اللہ کے ناموس فطرت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی ستم کر دئیے، جو بوجھ آسمان، زمین اور پہاڑوں سے نہ اٹھ سکتا تھا اس نادان نے اپنے نازک کندھوں پر اٹھا لیا آسماں بار امانت نتوانست کشید قرہ فال بنام من دیوانہ زدند۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنی جان پر ترس نہ کھایا۔ امانت کیا ہے ؟ پرائی چیز رکھنی اپنی خواہش کو روک کر۔ آسمان و زمین وغیرہ میں اپنی خواہش کچھ نہیں، یا ہے تو وہ ہی ہے جس پر قائم ہیں۔ انسان میں خواہش اور ہے اور حکم خلاف اس کے۔ اس پرائی چیز (یعنی حکم) کو برخلاف اپنے جی کے تھامنا بڑا زور چاہتا ہے۔ اس کا انجام یہ ہے کہ منکروں کو قصور پر پکڑا جائے اور ماننے والوں کا قصور معاف کیا جائے۔ اب بھی یہ ہی حکم ہے کسی کی امانت کوئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72 { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ } ”ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر“ { فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا } ”تو ان سب نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے“ { وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا } ”اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔ یقینا وہ بڑا ظالم اور بڑا نادان تھا۔“ یعنی انسان نے ایک بھاری ذمہ داری قبول کر کے اپنے اوپر ظلم کیا اور بڑی نادانی کا ثبوت دیا۔ مذکورہ امانت کے بارے میں بہت سی آراء ہیں اور ہر رائے کے بارے میں مفسرین نے اپنے اپنے دلائل بھی دیے ہیں۔ یہاں ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

110 امانت کا بار جو انسان نے اٹھا لیا :۔ امانت سے مراد بار خلافت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں دنیا میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں اللہ تعالیٰ نے آسمان، زمین اور پہاڑوں جیسی عظیم الجثہ مخلوق کو پیدا کرکے ان سے پوچھا : بتاؤ اگر میں تمہیں قوت ارادہ و اختیار عطا کردوں اور تمہیں عقل وتمیز کی قوت بھی بخش دوں تو بتاؤ تم میرا خلیفہ بننے کو تیار ہو ؟ تمہیں وہی کام کرنا ہوگا جو میں کہوں تمہیں نافرمانی کے اختیار کے باوجود میرے احکام پر کاربند رہنا اور اسے نافذ کرنا ہوگا تو یہ تینوں قسم کی عظیم الجثہ مخلوق اس بار عظیم کو اٹھانے سے ڈرگئی اور اسے تسلیم نہ کیا۔ لیکن ان کے مقابلہ میں ضعیف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

153۔ (ان میں بقدر ضرورت شعور پیدا کرکے) (آیت) ’ الامانۃ “۔ کے معنی میں اختلاف بہت کچھ منقول ہے۔ لیکن بیشتر اختلاف ایسے ہیں کہ ان کے درمیان تطبیق آسانی ممکن ہے۔ مثلا راغب ہی نے اپنی لغت میں دو مختلف معنی لکھے ہیں، ایک توحید کے، دوسرے عقل کے اور ترجیح دوسرے معنی کو دی ہے۔ قیلھی کلمۃ التوحید، قیل العقل وھو صحیح ..... وبہ فضل علی کثیر ممن خلقہ۔ لیکن جس سیاق میں لفظ (آیت) ” امانۃ “۔ آیا ہے اس کے لحاظ سے توحید کی معرفت وشناخت کا آلہ و معیار، عقل وقوت امتیاز ہی کی بناء پر تو احکام الہی انسان پر فرض ہوتے ہیں۔ اسی امانت کا بار اٹھالینا ہی رحمت کا موجب ہے، اور اس کا ضائع کرنا ہی تعذیب کا سبب ہے۔ احکام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–73

آیت نمبر 69 تا 73 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے نبی کے ساتھ ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو مثلاً یہ کہہ کر ایذاء دی کہ موسیٰ کو ہمارے ساتھ (برہنہ) غسل کرنے سے سوائے اس کے کچھ مانع نہیں کہ وہ عظیم الخصیتین ہے پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے اس ان کو بری فرمادیا، اس طریقہ سے کہ (ایک روز) غسل کے ارادہ (موسیٰ نے) اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے، تو پتھر ان کے کپڑے لیکر فرار ہوگیا، اور بنی اسرائیل کے سرداروں کے درمیان جاکر رکا، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو وہاں جا کر پکڑا اور اس سے اپنے کپڑے لئے چناچہ ان لوگوں نے موسیٰ کو دیکھ لیا کہ ان کو عظیم الخصیتین ہونے کا مرض نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھاد اشفقن منھا وحملھا الانسان ان کان ظلومًا جھولاً . واقعہ یہ ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کے اور پہاڑوں کے سامنے امانت (کا بار اٹھانے کیلئے) رکھا لیکن سب نے اٹھانے سے انکار کردیا اور ڈر گئے اور انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا۔ اس آیت کی تشریح میں چند امور تنقیح طلب ہیں : (1) امانت سے کیا مراد ہے ؟ (2) آسمانوں سے اور زمین سے اور پہاڑوں سے مراد کیا ‘ آسمان ‘ زمین اور پہاڑ ہی ہیں یا ان کے باشندے بھی مراد ہوسکتے ہیں جیسے واسْءَلِ الْقَرْیَۃِ میں اہل القریہ مراد ہیں ؟ (3) پیش کرنے سے خطاب مقالی مراد ہے یا حالی ؟ (4) اٹھانے اور انکار کرنے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے یہ امانت یعنی اطاعت و عبادت آسمان والوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے علی وجہ الاختیار والتخصیص پیش کی تھی تو انہوں نے خوف عذاب کی وجہ سے احتمال ثواب سے بھی دست برداری کی اور اس کی ذمہ داری لیتے ڈر گئے۔ اور (انسان) حضرت آدم نے بوجہ اس ثواب و عذاب کے اس ذمہ داری کو اپنے ذمہ لے لیا وہ اس کی ذمہ داری لینے میں یا یہ کہ درخت میں سے کھانے کے بارے میں ظالم اور اس کے انجام سے لا علم تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ۔۔ : کائنات میں اللہ تعالیٰ کے دو قسم کے احکام جاری و ساری ہیں، ایک اس کا حکم ”کُنْ“ (ہو جا) ہے، جب وہ کسی چیز کو یہ حکم دیتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے، ممکن نہیں کہ وہ اس کے حکم کے مطابق نہ ہو۔ اسے کونی حکم کہتے ہیں۔ دوسرا حکم وہ ہے جس میں اس نے اختیار دے دیا ہے کہ جسے حکم دیا گیا ہے چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ ساتھ ہی تعمیل پر ثواب کا وعدہ اور عمل نہ کرنے پر عذاب کی وعید ہے، اسے شرعی حکم کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ان شرعی احکام و فرائض کا نام ”امانت“ ہے۔ جنّ و انس کو چھوڑ کر باقی پوری کائنات اللہ تعالیٰ کے کونی احکام کی پابند ہے۔ ان میں سے کسی کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں احکام کو بیان کیا جن احکام کو بھی بیان کیا تو اوامر کے التزام کا حکم دیا۔ امانت صحیح قول کے مطابق دین کے تمام فرائض کو عام ہے ؛ یہ جمہورکا قول ہے۔ ترمذی حکیم ابو عبداللہ نے اسماعیل بن نصر سے وہ صالح بن عبداللہ سے وہ محمد بن یزیدبن جوہر سے وہ ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے فرمایا : اے آدم ! میں نے آسمانوں اور زمین پر امانت کو پیش کیا تو وہ اس کو نہ اٹھاسکے کیا تو اس کو اٹھا سکتا ہے جو کچھ اس میں ہے ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے رب ! اس میں کیا ہے ؟ فرمایا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–73

احکام الٰہیہ کو قبول کرنے کی امانت 1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی کتاب الاضداد میں ابن عباس ؓ سے اس آیت انا عرضنا الامانۃ کے بارے میں روایت کیا کہ امانت سے مراد ہے فرائض اللہ تعالیٰ نے اس کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا اگر وہ اس کو ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بدلہ عطا فرمائیں گے۔ اور وہ اس کو ضائع کریں گے تو ان کو عذاب دوں گا تواں ہوں نے اس بات کو ناپسند کیا اور وہ ڈر گئے بغیر نافرمانی کے لیکن اللہ تعلایٰ کے دین کی عظمت کی خاطر کہ اسے بجا نہیں لائیں گے ایسا کہا پھر ان کو آدم (علیہ السلام) پر پیش کیا تو انہوں نے اس کو قبول کرلیا ان میں جو مشقتیں تھی اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّا عَرَضْنَا [بیشک ہم نے پیش کیا ] الْاَمَانَةَ [اس امانت کو ] عَلَي السَّمٰوٰتِ [آسمانوں پر ] وَالْاَرْضِ [اور زمین پر ] وَالْجِبَالِ [اور پہاڑوں پر ] فَاَبَيْنَ [تو سب نے انکار کیا ] اَنْ يَّحْمِلْنَهَا [کہ وہ اٹھائیں اس کو ] وَاَشْفَقْنَ [اور وہ سب ڈرگئے ] مِنْهَا [اس سے ] وَحَمَلَهَا [اور اٹھایا اس کو ] الْاِنْسَانُ ۭ [انسان نے ] اِنَّهٗ كَانَ [بیشک وہ ہے ] ظَلُوْمًا [بہت ظلم کرنے والا ] جَهُوْلًا [بڑا نادان ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت 72 میں امانت سے مراد خلافت ہے جو قرآن مجید کی رو سے انسان کو زمین میں عطاکی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو طاعت و معصیت کی جو آزادی بخشی ہے، اور اس آزادی کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں نے بار امانت اٹھانے سے انکار کردیا اور انسان نے اسے اٹھالیا یہ دو آیات کا ترجمہ ہے، پہلی آیت میں امانت سپرد کرنے کا اور دوسری آیت میں نافرمانوں کے لیے عذاب دینے کا اور اہل ایمان پر مہربانی فرمانے کا ذکر ہے۔ یہ جو فرمایا کہ ہم نے آسمانوں پر اور زمینوں پر اور پہاڑوں پر امانت پیش کی اور انہوں نے اس کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے انسان نے اس کو اٹھالیا۔ اس میں امانت سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں متعدد اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس سے حکم کی فرمانبرداری کرنا یعنی فرائض کا نجام دینا مراد ہے، آسمانوں سے اور زمین سے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 72–73

ترغیب برحفاظت امانت وترہیب از خیانت واضاعت قال اللہ تعالی۔ انا عرضنا الامانۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ غفورا رحیما۔ (ربط) گزشتہ آیات میں طاعت خداوندی اور رسول اور ایمان اور تقویٰ اور قول سدید کی تاکید اکید تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ طاعت خدا و رسول اللہ کی ایک امانت ہے جس کو ایمان لا کر تم نے قبول کیا ہے یا وہ عہد الست ہے جس کو تم نے بلی کہہ کر قبول کیا ہے وہ تمہارے پاس خدا کی امانت ہے اور ظاہر ہے کہ تمام خوبیوں کی جڑ صفت امانت ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ لا ایمان لمن لا امانۃ لہ اس لئے آئندہ آیت میں امانت کا مرتب اور اس کی عظمت اور فخامت اور کرامت کو بیان کرتے ہیں کہ امانت الٰہیہ اس قدر عظیم اور ثقیل ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

69:۔ انا عرضنا الخ، یہ منافقین و مشرکین پر زجر اور ان کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ہم نے زمین و آسمان پر ان کے مناسب حال جو احکام مقرر کیے انہوں نے ان کو بخوشی قبول کرلیا اور ان کی تعمیل کی۔ چناچہ ارشاد ہے۔ فقال لہا وللارض ائتیا طوعا او کرھا۔ قالتا اتینا طائعین (حم السجدہ رکوع 1) لیکن کافر و مشرک اور منافق انسان نے امانت میں خیانت کی اور احکام خداوندی کو پس پشت ڈال دیا۔ امانت سے مراد کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ سب سے بہتر اور جامع قول یہ ہے کہ اس سے تمام احکام الٰہی اور تکالیف شرعیہ مراد ہیں۔ قال ابن عباس یعنی بالامانۃ الطاعۃ (ابن کثیر ج 3 ص 522) ۔ قال مجاھد الامانۃ الفرائض و حدود الدین وقال ابو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 72–73

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اللہ اور اس کے رسول اور عام مومنوں کو ایذاء پہنچانے سے منع فرمایا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مثال دے کر سمجھایا۔ ان کو بھی لوگوں نے طرح طرح کے الزامات عائد کر کے تکلیف پہنچائی مگر اللہ نے آپ کو تمام الزامات سے پاک کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نزدیک بڑے باعزت تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہیں۔ اور ہمیشہ سیدھی اور سچی بات کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو درست فرما دے گا اور ان کی غلطیوں کو معاف کر دے گا۔ پھر اللہ نے حتمی طور پر اعلان فرمایا کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ۝ 0ۭ اِنَّہٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا۝ 72ۙ عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–73

ترکیب : الامانۃ مفعول لعرضنا علی السموات متعلق بہ ان یحملنہا ان مصدریہ والجملہ بتاویل المصدر مفعول لابین من ابی یابی بمعنی ان کر لیعذب اللام متعلق یحملہا ویتوب معطوف علی یعذب منصوب لدخول لام کی۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس کو دارین میں کامیابی حاصل ہوئی، اس جگہ اس طاعت باعث کامیابی کا حال بیان فرماتا ہے کہ یہ اس امانت کے ادا کرنے کے لیے ہے جو انسان کو سپرد ہوئی اور زمین و آسمان اس کو نہ لے سکے۔ پس جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے تو اس امانتِ الٰہی کو ادا کرتا ہے۔ فقال انا عرضنا الامانۃ علی السمٰوت والارض کہ ہم نے وہ امانت آسمانوں اور زمین کے آگے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 72–73

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ط اِنَّـہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلاً ۔ لِّیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ وَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 72، 73) ( اور ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی، تو انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈرے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا، بیشک وہ ظلم کرنے والا اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–73

فہم القرآن ربط کلام : جس نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی وہ کامیابی پائے گا اور وہی امانت کا حق ادا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے بارامانت کو آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کیا۔ لیکن انہوں نے اس بوجھ کو اٹھانے سے معذرت کی۔ کیونکہ وہ اس امانت کی ذمہ داری سے ڈر گئے لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بیشک انسان بڑا ظالم اور جاہل ہے۔ اہل علم کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ” اَلْاَمَانَۃَ “ سے مراد خلافت کی ذمہ داریاں ہیں۔ یہ ایسا اختیار اور ذمہ داری ہے جس کو اٹھانے سے آسمانوں نے اپنی وسعت وبلندی، زمین نے اپنی جسامت اور کشادگی، پہاڑوں نے اپنی بلندیوں اور مضبوطی کے باوجودعرض کی کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

امانت کی وضاحت : 72: اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (بےشک ہم نے امانت آسمانوں اور زمین) ۔ وَالْجِبَالِ (ور پہاڑوں پر پیش کی) امانت سے مراد اطاعت اللہ ہے۔ اور حمل امانت سے مراد خیانت ہے عرب کہتے ہیں فلان حامل الا مانۃ ومحتمل لھا ای لا یؤدیہا الی صاحبھا حتی تزول عن ذمتہٖ یعنی وہ اس کو ادا نہیں کر تاکہ مالک کو پہنچ کر اس کے ذمہ سے اتر جائے۔ اس لئے کہ امانت گویا کہ مؤتمن پر سوار ہوتی ہے اور وہ اس کی سواری ہوتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے رکبتہؔ الدیون، ولی علیہ حق، وہ اس کو ادا کر دے تو وہ اس پر سوار نہیں رہتی اور نہ وہ حامل کہلا سکتا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ اجسام عظام یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

71، انا عرضنا الا مانۃ علی السموات والارض والجبال ، امانت سے مراد طاعت ہے اور وہ فرائض جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نازل فرمائے ہیں ۔ ، عرضھا علی السموات والا رض والجبال ، کا مطلب ہے کہ اگر ان فرائض کو ان پر پیش کیا گیا تو کہا کہ اگر ان کو ادا کروگے ثواب کو پہنچ جائے گا اور اگر ان کو ضائع کیا عذاب دیاجائے گا۔ امانت سے کیا مراد ہے حضرت ابن مسعود نے فرمایا : امانت سے مراد ہے نماز اداکرنا، زکٰوۃ دینا ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج صدق مقال ، ناپ تول میں انصاف اور ان سب سے زیادہ سخت امانتوں کی حفاظت ۔ مجاہد نے کہا : امانت سے مراد اداء فرائض اور حفاظت دین۔ ابو العالیہ کے نزدیک تمام اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–73

73۔ اس آیت سے پہلی آیت میں امانت کا ذکر تھا آیت کے پہلے ٹکڑے میں جس امانت کا ذکر تھا آیت کے اس مخری ٹکڑے میں اس مانت کا یہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو منافق اور مشرک لوگ اس امانت میں خیانت کریں گے ان پر عذاب ہوگا اور جو ایماندار لوگ اس امانت کی شرط کو پورا کریں گے وہ اللہ کی رحمت کے قابل ٹھہریں گے منافق وہ تھے جو ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے اور باطن میں اسلام کے بدخواہ تھے مشرک وہ جو ظاہر اور باطن میں کھلم کھلا اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے پر اور اس کے رسول مقبول صلے ﷺ کی مخالفت کرنے پر ہر وقت آمادہ و تیار رہتے تھے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے معاذبن جبل ؓ کی حدیث 1 ؎ ایک جگہ گزر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 71–72

آیت 71 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ کھلے چھپے، اپنے تمام احوال میں تقویٰ کا التزام کریں اور درست بات کہنے پر خاص طور پر زور دیا ہے (القول السدید) اس قول کو کہتے ہیں جو صحیح اور حق کے موافق یا اس کے قریب تر ہو، مثلاً قرأت قرآن، ذکر الٰہی، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، علم کا سیکھنا پھر اس کی تعلیم دینا، علمی مسائل میں حق و صواب کے حصول کی حرص، ہر اس راستے پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا جو حق تک پہنچتا ہو اور وہ وسیلہ اختیار کرنا جو حق کے حصول میں مددگار ہو۔ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں نرم اور لطیف کلام بھی قول سدید کے زمرے میں آتا ہے، کوئی ایسی بات کہنا جو خیر خواہی کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–73

قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

143 اصل مطلوب اطاعت اختیاری ہے : سو اس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت بالاختیار کی عظمت شان کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ بندے سے اصل مطلوب اطاعت اختیاری ہی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے پیش کیا اس امانت کو ۔ یعنی اطاعت بالاختیار کی امانت کو ۔ آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر، مگر انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا "۔ یعنی ارادئہ و اختیار کی آزادی اور فطرت سلیمہ کی وہ امانت جس پر تمام تکالیف شرعیہ کا دارومدار ہے۔ اور جس سے اس پوری کائنات میں صرف حضرت انسان ہی کو مشرف فرمایا گیا ہے۔ اور اسی پر اس کے ثواب و عقاب کا دار و مدار ہے۔ ورنہ باقی تمام کائنات کی ہر چیز ہر وقت اللہ کی بندگی اور اس کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 72–73

انسان ظالم اور جاہل ہے تشریح : ان آیات میں امانت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اکثر مفسرین نے اس کو خلافت ارضی سے تعبیر کیا ہے۔ قران و حدیث میں یہ کہیں بھی نہیں کہ انسان خلیفۃ اللہ یعنی اللہ کا نائب ہے بلکہ خلیفہ کہا گیا ہے جس میں کئی احتمال ہیں انسان انسان کا نائب جیسا کہ سورة طہ میں ہے اسی طرح انسان اپنے سے پہلی مخلوق مثلا جنات وغیرہ کا نائب ہے یعنی زمین پر اللہ کا مقرر کردہ نائب اور اس لحاظ سے انسان کا درجہ بھی بڑھ گیا ہے۔ کیونکہ مخلوقات تو سبھی عقل و شعور اور زندگی رکھتی ہیں مگر انسان کو کیونکہ خلیفہ بنایا گیا ہے اس لیے اس کو نیا بت نبھانے کے لیے ایک دستور دیا گیا۔ وہ دستور کتاب مقدس قرآن پاک کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–73

آیات 69 تا 73 اسرارومعارف اے ایمان والو تم ایسے مت ہوجانا یا ایسا رویہ اختیار نہ کرنا جیسا کہ قوم موسیٰ نے کیا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی ایذا کا سبب بنے تھے کبھی اطاعت نہ کرکے اور کبھی ان پر الزام تراشی کر کے مگر اللہ نے انہیں ان سب باتوں سے بری کردیا فتوحات بھی نصیب ہوئیں الزامات سے بھی بچ گئے اس لیے کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت معزز تھے یعنی نبی تھے اور سب انبیاء بہت معزز ہوتے ہیں۔ اور اے مسلمانوں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو اور سیدھی کھری بات کہو کہ سچی بات کہنے والے کو اچھے کردار کی توفیق ہوتی ہے اور اللہ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے کہ کامیابی کا صرف یہی راستہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت اور اللہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 تمام مفسرین کے بقول اس جگہ امانت سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے فرائض و احکام کا ہار ہے جن کے بجا لانے پر ثواب اور خلاف ورزی کرنے پر عذاب مترتب ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے جو اس یک اور مطالب بیان کئے ہیں وہ دراصل اسی کی تفصیلات ہیں۔ ( شوکانی) زمین و آسمان اور پہاڑوں کو بار امانت پیش کرنا لغوی اور حقیقی معنی کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس بار عظیم کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے محض تمثیلی انداز میں یہ بات فرمائی گئی ہو۔ واللہ علم۔2 جو اس نے اس بار عظیم کی ذمہ داری تو لے لی مگر اسے نبھایا نہیں۔ یہ بات نوع انسانی کے اکثر افراد کے لحاظ سے فرمائی گئی ہے جنہوں نے اپنی فطرت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:72) عرضنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے پیش کیا۔ الامانۃ۔ الا من کے اصل معنی نفس کے مطمئن ہونے کے ہیں۔ امن۔ امانۃ امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے یہاں الامانۃ سے مراد بار امانۃ ہے جیسا کہ عرب کہتے ہیں حمل الامانۃ یعنی اس نے امانت واپس کرنے سے انکار کردیا اور اس کا بوجھ اٹھا لیا۔ اشفقن منھا۔ اشفقن ماضی صیغہ جمع مؤنث غائب ہے (سموت والارض والجبال) کے لئے آیا ہے۔ اشفاق (افعال) مصدر۔ الاشفاق اصل میں کسی کی خیر خواہی کے ساتھ اس پر تکلیف آنے سے ڈرنا۔ کے ہیں۔ جب یہ فعل حرف من کے واسطہ سے متعدی ہو تو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–73

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 73 لا تکونوا : تم نہ ہوجانا اذوا : تکلیف پہنچائی برا : اس نے بری کردیا وجیہ : باعزت و عظمت سدید : سیدھا فاز : کامیاب ہوگیا عرضنا : ہم نے پیش کردیا ابین : (سب نے) انکار کردیا ان یحمل : یہ کہ وہ اٹھائے اشفقن : (سب) ڈر گئے حمل : اٹھا لیا ظلوم : بہت ظالم جھول : بہت زیادہ جاہل یتوب : وہ متوجہ ہوتا ہے تشریح : آیت نمبر 69 تا 73 سورۃ الاحزاب جس میں زیادہ تر نبی کریم ﷺ کے آداب واحترام کے اصول سکھائے گئے ہیں اس سورت کے آخر میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح یہودوں نے حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو ستا یا تھا اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی تھیں ان پر جھوٹے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–73

(ف 1) اس آیت میں امانت کا جوذکر ہے اس سے مراد وہ باتیں ہیں جو اللہ نے انسان پر فرض کی ہیں، جس کے ادا کرنے سے انسان کی نجات ہے ۔ اس امانت کو اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین اور پہاڑوں کے روبرو پیش کرکے فرمایا تھا کہ اگر اس امانت کو تم پورے طور پر ادا کرو گے تو تم کو بڑا اجر ملے گا ورنہ تم کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا اور وہ اس شرط سے ڈرے ، اور اس امانت کو قبول نہیں کیا، پھر اللہ نے اس امانت کو حضرت آدم کے روبرو پیش کیا اور انہوں نے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے اس امانت کو قبول کرلیا، اللہ کو اپنے علم ازلی سے یہ بات معلوم تھی کہ حضرت آدم کی بہت سی اولاد اس امانت میں خیانت کرے گی اسی واسطے اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 72–73

[63] امانت سے مراد اطاعت و فرائض ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم انھیں اچھی طرح ادا کرو گے تو تمہیں اس کا صلہ دیا جائے گا اور اگر نافرمانی کرو گے تو عذاب دیا جائے گا۔ اگر قبول نہیں کرتے تو اس کے مکلف نہ بنائے جاؤ گے مگر اس صورت میں ثواب و عذاب کے بھی مستحق نہ ہو گے۔ انہوں نے عذاب کے سبب احتمال ثواب سے بھی دست برداری کی اور بار امانت اٹھانے سے انکار کردیا۔ یہی بات جب انسان سے پوچھی گئی تو اس نے اسے قبول کرلیا۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ آسمان، زمین اور پہاڑ جو غیر ذی روح اور بظاہر بےعلم و شعور ہیں ان کے سامنے پیش کرنے اور ان کے جواب…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 72–73

عرضِ امانت 1: اماتت سے مراد عقل و شریعت کی ذمہ داری ہے اور فرضنا سے مراد یہ ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے جب کائنات کو پیدا کیا ۔ تو دیکھا کہ کیا آسمانوں کی بلندیاں ، اور زمین کی وسعتیں اور پہاڑوں کا استحکام اس قابل ہے کہ ان چیزوں پر عقل و شریعت کی ذمہ داریاں ڈال دی جائیں ۔ اور ان کو اپنے صفات حسنہ کا مظہر بنایا جائے ان کی فطرت کو ٹٹولا گیا ۔ تو معلوم ہوا ۔ کہ ان سب میں یہ اہلیت نہیں ہے ۔ پھر انسانی مشت خاک پر نظر پڑی ۔ تو معلوم ہوا کہ یہ باوجود کائنات میں بہت زیادہ کمزور اور تحیف ہونے کے اپنی فطرت واطوار کے لحاظ سے اس قابل ضرور ہے ۔ کہ تکلیفات شرعیہ کو اٹھا کے اور دنیا میں خلافت الٰہیہ کا علم بردار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(72) ہم نے اپنی امانت یعنی احکام کی ذمہ داری آسمانوں کے اور زمین کے اور پہاڑوں کے روبرو پیش کی سو انہوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس امانت سے ڈر گئے اور انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا اور اپنے ذمہ لے لیا انسان بڑا ظالم اور بڑا ناعاقبت اندیش ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 72–73

ف 6۔ یہ کسی خاص انسان سے مثل آدم (علیہ السلام) کے نہیں پوچھا گیا، بلکہ مثل اخذ میثاق کے یہ عرض بھی عام ہوگا اور التزام بھی عام تھا، پس سموات و ارض و جبال مکلف نہ ہوئے اور یہ مکلف بنادیا گیا، آیت میں اس کا یاد دلانا غالبا اسی حکمت سے ہے جیسا میثاق یاد دلایا، یعنی ان احکام کا تم نے ازخود التزام کیا ہے پھر نباہنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ امانت آسمان و زمین پر ہم نے پیش کی لیکن وہ اس کا بوجھ سرداشت نہ کرسکے 72 ۔ آپس کے لین دین کے معاملوں میں جو اخلاقی جوہر مرکزی حیثیت رکھتا ہے وہ دیانتداری اور امانت ہے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے کاروبار میں ایماندار ہو اور جس کا جس کسی پر جتنا نکلتا ہے وہ اس کو پوری دیانت سے رتی رتی دے دے۔ اس کو عربی میں امانت کہتے ہیں۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شرعی تکلیف کو جسے اس نوع انسانی کے سپرد کیا ہے امانت ہی کے لفظ سے ادا کیا ہے جیسا کہ اس جگہ ارشاد فرمایا کہ ” ہم نے اپنی امانت آسمانوں پر ، زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا (کیونکہ وہ فطری طور پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Emphasis has been placed in this entire Surah on the reverence of the Messenger of Allah and on the obligation of obeying him. Now in the later part of the Surah, the great station and rank of this obedience has been identified. Here, the obedience to Allah and His Messenger and the implementation of their commands has been expressed through the word: amanah: (Trust), the reason of which will appear later. What does "amanah" mean? What is meant by the word: amanah at this place? many views of the leading exegetes among Sahabah and Tabi` in, and others, have been reported to answer…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–73

120 In the end, Allah wants man to realize his real position in the world; if in that position he regarded the life of the world as mere fun and sport and adopted a wrong attitude carelessly, he would only be working for his own doom. Here, the word 'amanat" (trust) implies khilafat (caliphate) which, according to the Qur'an, tnan has been granted in the earth. The inevitable result of the freedom given to man to choose between obedience and disobedience, and the powers and authority granted him over countless creations for using that freedom, is that he himself be held responsible for his…

Read the full tafseer →