Explained with ayahs 65–68
حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید
یہودی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور حضور ﷺ کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہوگیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ حضرت خلیل اللہ ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو ؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ، حضرت موسیٰ ؑ اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ ؑ کے بعد…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 59
اصل میں لفظ حنیف استعمال ہوا ہے جس سے مراد ایسا شخص ہے جو ہر طرف سے رخ پھیر کر ایک خاص راستہ پر چلے۔ اسی مفہوم کو ہم نے ”مسلم یک سو“ سے ادا کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
خلاصہ تفسیر
اے اہل کتاب کیوں حجت کرتے ہو (حضرت) ابراہیم ؑ کے بارے میں (کہ وہ طریق یہودیت پر تھے یا نصرانیت پر تھے) حالانکہ نہیں نازل کی گئی توراۃ اور انجیل، مگر ان کے (زمانہ کے بہت) بعد (اور یہ دونوں طریق ان دونوں کتابوں کے نزول کے بعد سے ظاہر ہوئے پہلے سے ان کا وجود ہی نہ تھا، پھر حضرت ابراہیم ؑ ان طریقوں پر کس طرح ہوسکتے ہیں) کیا (ایسی خلاف عقل بات منہ سے نکالتے ہو اور) پھر سمجھتے نہیں ہو، ہاں تم ایسے ہو کہ ایسی بات میں حجت کر ہی چکے تھے جس سے تم کو کسی قدر تو واقفیت تھی (گو اس میں ایک غلط مقدمہ لگا کر نتیجہ غلط نکالتے تھے مراد اس سے خوارق ہیں عیسیٰ ؑ کے کہ یہ مطابق واقع کے ہے۔ البتہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
تفسیر آیات 65 تا 68: ان آیات میں کوئی نحوی یا ادبی اشکال نہیں ہے۔ مضمون بھی ان کا پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں ہی کے مسلم خاندانی وروحانی پیشوا تھے اس وجہ سے یہود، نصاری اور مشرکین تینوں ہی گروہ اپنی اپنی بدعات کی حمایت میں ان کے نام کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہود کہتے کہ حضرت ابراہیم ہمارے طریقہ پر تھے۔ نصاری ان کو اپنے طریقہ پر بتاتے اور مشرکین عرب اپنے طریقہ پر، یوں تو یہ ادعائے فخر ان میں سے ہر گروہ کو ایک دوسرے کے مقابل میں ہمیشہ رہا لیکن اسلام کی دعوت شروع ہونے کے بعد اس کی مخالفت میں خاص حربہ جو…
Read the full tafseer →67۔ 1 خالص مسلمان۔ یعنی شرک سے بیزار اور صرف خدائے واحد کے پرستار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
27: یہاں آیتوں سے مراد تورات اور انجیل کی وہ آیتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی خبر دی گئی تھی، اور مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تم تورات اور انجیل کے من جانب اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہو، اور دوسری طرف ان پیشینگوئیوں کے مصداق یعنی آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہو جو بالواسطہ ان آیتوں کا انکار ہے۔
Read the full tafseer →ان حضرات کی بحث و تکرار کا پول کھولنے کے بعد اور اس بحث کی حیثیت ختم کردینے کے بعد اور انہیں مکمل طور پر ناقابل اعتبار کردینے کے بعد ‘ اب اللہ تعالیٰ وہ اصل حقیقت بیان فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ۔ کیونکہ تاریخ انسانی میں بہت زیادہ قدیم واقعات کی اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر جو دین نازل فرمایا گیا تھا ‘ اس کی حقیقت کو بھی اللہ ہی جانتا ہے ۔ اور اللہ کا فیصلہ بہرحال قاطع ہے ۔ اللہ کے فیصلے کے بعد کسی کے لئے کوئی بات کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔ الایہ کہ کوئی ہر صورت میں ‘ بغیر کسی دلیل وبرہان کے ‘ مجادلہ پر اتر آیاہو مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ…
Read the full tafseer →2 یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے تئیں حنیف یا مسلم کہا ہے۔ حنیف کے معنی ؟ " جو کوئی ایک راہ حق پکڑے اور سب باطل راہیں چھوڑ دے ــ"۔ اور مسلم کے معنی حکمبردار، اب خود اندازہ کرلو کہ آج کس نے سب سے ٹوٹ کر خدا کی راہ پکڑی اور اپنے کو خالص اسی کے سپرد کردیا ہے۔ وہ ہی ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ اقرب واشبہ ہوگا۔ (تنبیہ) یہاں " مسلماً " میں اسلام سے خاص شریعت محمدیہ مراد لینے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ تسلیم و تفویض اور فرمانبرداری کے معنی ہیں جو تمام انبیاء کا دین رہا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے خصوصیت سے اس نام و لقب کو بہت زیادہ روشن کیا۔ (اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ…
Read the full tafseer →آیت 67 مَا کَانَ اِبْرٰہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّلاَ نَصْرَانِیًّا وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا ط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔
نزول قرآن کے وقت عربوں میں جو تین طبقات موجود تھے ‘ یعنی مشرکین عرب ‘ یہودی اور نصرانی ‘ وہ تینوں اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب کرتے تھے۔ مشرکین عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی نسبت سے کہتے تھے کہ ہمارا رشتہ ابراہیم علیہ السلام سے ہے۔ اسی طرح یہودی اور نصرانی بھی ملت ابراہیمی علیہ السلام ہونے کے دعوے دار تھے۔ لیکن قرآن نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے ‘ نہ نصرانی تھے اور نہ ہی مشرکین میں سے تھے…
Read the full tafseer →60 یاد رکھو کہ حضرت ابراہیم خالصتاً ایک اللہ کا حکم ماننے والے تھے۔ کسی دوسری طاغوتی طاقت کے آگے جھکنے والے نہیں تھے۔ وہ خالصتاً موحد تھے مشرک نہیں تھے جبکہ تم دونوں مشرک ہو۔ یہود عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا، الٰہ اور تین خداؤں میں کا تیسرا سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں تم اللہ کے بھی سب احکام بجا نہیں لاتے۔ کتاب اللہ کو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ پھر تم حضرت ابراہیم کے متبع کیسے بن سکتے ہو۔ ؟ اور وہ تمہارے دین پر کیسے ہوسکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →158 ۔ (بلکہ شرک سے سخت بیزار تھے۔ اور دنیاء شرک میں توحید کے پہلے علمبردار) (آیت) ” حنیفا مسلما “۔ ٹھیٹھ اردو میں ” سیدھے سادھے مسلم “ (آیت) ” یھودیا ولا نصرانیا “۔ جس یہودیت اور جس نصرانیت کی نفی ہورہی ہے وہ مروجہ اور گھڑی ہوئی یہودیت اور نصرانیت تھی، ورنہ اصل حقیقت کے اعتبار سے جو دین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تھا، وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی تھا۔ حضرت (علیہ السلام) کی توحید پرستی یہود ونصاری دونوں کو مسلم تھا۔ حضرت (علیہ السلام) کے دین توحید پر حاشیہ پارہ اول کے رکوع آخر میں گزر چکے۔ فقیہ مفسر جصاص نے لکھا ہے کہ ان آیتوں سے دین حق کی حمایت میں دلائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
مَاکَانَ اِبْرَاھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّلًانَصْرَانِیًّا وَّلکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا۔ اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین حنیف تھا یعنی تمام باطلوں سے رخ موڑ کر دین حق کی طرف مائل ہونے والا۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) خود باطل سے نافر اور دین حق کی طرف مائل اور فرمانبردار تھے۔ نہ یہودی تھے نہ نصرانی، نہ اہل مکہ کے مانند مشرک۔ تمہارے خیالات اور عقائد ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں غلط اور باطل ہیں تمام انسانوں میں ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے وہ لوگ قریب تر ہیں جنہوں نے ان کے زمانہ میں ان کے دین اور ان کے سنت کی پیروی کی اور وہ محمد ﷺ ہیں اور ان پر…
Read the full tafseer →مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا : ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی یعنی دین ابراہیم بہت سے فرعی مسائل میں دین موسیٰ کے موافق تھا نہ شریعت عیسیٰ کے۔
وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا : بلکہ وہ تمام غلط عقائد سے رو گرداں تھے بعض علماء نے کہا ہے کہ حنیف وہ ہے جو موحد ہو قربانی کرے ختنہ کرائے اور کعبہ کی طرف (نماز میں) منہ کرے اور یہ باتیں نہ یہودیوں میں تھیں نہ عیسائیوں میں۔
مُّسْلِمًا : اللہ کے تمام احکام کی تعمیل کرنے والے تھے نفسانی خواہشات کے پیرو نہ تھے اور تم اللہ کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے تم اس پیغمبر کو ہی نہیں مانتے جس کا ذکر توریت و انجیل میں تمہارے پاس لکھا موجود ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
(65۔ 66۔ 67) چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیوں حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں حجت کرتے ہو، یہ کتابیں تو حضرت ابراہیم ؑ کے بہت بعد نازل ہوئی ہیں، توریت وانجیل میں کسی مقام پر یہ نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی یا نصرانی تھے، اے گروہ یہود اور نصاری ! تم اپنی کتاب میں تو حجت کرچکے ہو جس میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ رسول اکرم ﷺ نبی مرسل ہیں اور حضرت ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور پھر تم اس بات کا انکار کرتے ہو تو پھر امور میں کیوں حجت کرتے ہو جو تمہاری کتابوں میں موجود نہیں اور پھر جھوٹ بولتے ہو کہ حضرت براہیم ؑ یہودی یا نصرانی تھے اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ نہ…
Read the full tafseer →مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا۔۔ : اس آیت میں اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ ابراہیم ؑ کو اپنے اپنے گروہ میں شمار کرتے ہیں، حالانکہ یہ مشرک ہیں، کیونکہ انھوں نے اپنے مشائخ اور علماء کو رب اور ان کے اقوال کو شریعت بنا رکھا ہے اور عزیر و عیسیٰ ؑ کو اللہ کا بیٹا اور نبیوں اور ولیوں کی قبروں کو مسجدیں بنائے ہوئے ہیں، جب کہ ابراہیم ؑ ایک اللہ کی پرستش کرنے والے مسلم تھے، وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔ کچھ ایسا ہی حال اس امت کا بھی ہے کہ ہر فرقے والے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اپنے گروہ میں شامل کرتے ہیں، حالانکہ وہ سب گروہ بہت بعد میں بنے، اور انھوں نے اپنے اپنے سربراہوں کے اقوال کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 67۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے دعاوی سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پاکی اور برات بیان فرمائی اور یہ بیان فرمایا کہ وہ حنیفیہ اسلامیہ (خالص اسلامی دین) پر تھے اور وہ مشرک نہ تھے، اور حنیف وہ ہوتا ہے جو توحید کا اقرار کرتا ہے، حج ادا کرتا ہے، قربانی دیتا ہے، مختون ہوتا ہے، اور قبلہ شریف کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے مادہ اشتقاق کے بارے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے،
اور لغت میں مسلم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اس کی اطاعت و پیروی کرنے والا ہو، اور اسلام کا معنی سورة البقرہ میں بالتفصیل گزر چکا ہے، والحمد للہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(1) ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے دین پر تھے اور نصاری نے کہا کہ وہ ہمارے دین پر تھے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاردی لفظ آیت ” ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا اور ان کی دلیل کو باطل قرار دیا۔
(2) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت کعب ان کے ساتھ اور نصاری میں سے کچھ آدمیوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہم میں سے ہیں اور موسیٰ ہم میں سے ہیں اور انبیاء ہم میں سے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حینفا مسلما “
(3) ابن…
Read the full tafseer →[مَا کَانَ : نہیں تھے ] [اِبْرٰہِیْمُ : ابراہیم (علیہ السلام) ] [یَہُوْدِیًّا : یہودی ] [وَّلاَ نَصْرَانِیًّا : اور نہ ہی نصرانی ] [وَّلٰـکِنْ : اور لیکن (یعنی بلکہ) ] [کَانَ : وہ تھے ] [حَنِیْفًا : یکسو ] [مُّسْلِمًا : فرماں بردار ] [وَمَا کَانَ : اور وہ نہیں تھے ] [مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ : شرک کرنے والوں میں سے ]
ترکیب : ” یَھُوْدِیًّا۔ نَصْرَانِیًّا۔ حَنِیْفًا اور مُسْلِمًا “ یہ سب ” کَانَ “ کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ ” اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ “ میں ” اَوْلٰی “ تفضیل کل ہے اور یہ پورا فقرہ ” اِنَّ “ کا اسم ہے۔ ” لَـلَّذِیْنَ “ کا ” ل “ لامِ تاکید ہے۔ ” اِنَّ “ کی خبر اوّل ”…
Read the full tafseer →اہل کتاب کی بات کی تردید کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا نصرانی تھے
لباب النقول صفحہ 53 میں ہے (بحوالہ دلائل النبوۃ للبیہقی) حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نجران کے نصاریٰ اور یہودیوں کے علماء رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے اور آپ کے پاس جھگڑا کرنے لگے علماء یہود نے کہا کہ ابراہیم یہودی ہی تھے اور نصاریٰ کے کہا وہ تو نصرانی ہی تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی اور یہود و نصاریٰ دونوں جماعتوں کی سر زنش فرمائی کہ تم کو جو تھوڑا سا علم حضرت موسیٰ و عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں تھا اس کے متعلق تو تم نے کچھ حجت بازی کرلی لیکن جس چیز کا تمہیں بالکل ہی علم نہیں اس کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
ابطال دعوائے اہل کتاب دربارہ ملت ابراہیم (علیہ السلام)
قال تعالی، یا اھل الکتاب لم تحاجون۔۔۔ الی۔۔ ولی المومنین۔
ربط) ۔ جس طرح دعوائے توحید میں سب مشترک تھے اسی طرح حضرت ابراہیم کی تعظیم و تکریم میں سب شریک تھے اور یہود اور نصاری ہر ایک فرقہ یہ دعوی کرت تھا کہ حضرت ابراہیم ہمارے دین پر تھے عیسائی کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم نصرانی تھے اور ہم ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان سے زیادہ قریب ہیں یہود اور نصاری کے اس دعوے کے رد اور ابطال کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ تم سب غلط کہتے ہو تم کو ابراہیمی سے کیا واسطہ تم سب مشرک ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) موحد اور مسلم یعنی خدا کے فرمانبردار بندہ تھے ابراہیم…
Read the full tafseer →93 اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو حنیف مسلم تھے اور مشرک بھی نہیں تھے یہاں نفی اس یہودیت اور نصرانیت کی ہے جس کے مدعی یہود ونصاریٰ تھے۔ کیونکہ ان لوگوں نے تورات وانجیل کو محرف اور دین موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کو مسخ کر کے اس کی اصل شکل بالکل بگاڑ کر رکھ دی تھی اور شرک و بدعت کو دین کا حصہ بنا ڈالا تھا البتہ اصل دین جو حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) نے پیش کیا تھا وہ سراسر دین اسلام اور توحید پر مبنی تھا۔ مگر موجودہ یہود ونصاریٰ کو اس اصل دین سے سخت دشمنی تھی جسطرح آجکل کے غلط کار عاملوں اور یہودیوں نے اصل دین کو بگاڑ کر اس میں نئی نئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
ربط آیات : گذشتہ ادرس میں اہل کتاب کو اس کلمہ توحید کی دعوت دی گئی تھی ، جو تمام انبیاء (علیہم السلام) ، تمام کتب اور تمام شرائع کا متفق علیہ مسئلہ ہے۔ یعنی خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ اور ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار اور رہبان کو رب بنا لیا۔ اور رب بنانے سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کو مولوی اور درویش حلال قرار دے دیں اسے حلال سمجھ لیا جائے اور جسے حرام کہیں اس کو حرام ہی سمجھ لیں۔ گذشتہ درس میں اس بات کی وضاحت کردی گئی تھی کہ تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ ہے۔ اس کے سوا کسی کو حلال یا حرام قرار دینے کا…
Read the full tafseer →مَا كَانَ اِبْرٰہِيْمُ يَہُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا 0 ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 67
هَادَ ( یہودی)
فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا
[ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه، ثم يشتقّ منه . نحو : قولهم تفرعن فلان، وتطفّل : إذا فعل فعل فرعون في الجور، وفعل طفیل في إتيان الدّعوات من غير استدعاء، وتَهَوَّدَ في مشيه : إذا مشی مشیا رفیقا تشبيها باليهود في حركتهم عند القراءة، وکذا : هَوَّدَ الرّائض الدابّة : سيّرها برفق، وهُودٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
ترکیب : ان لا نعبد جملہ موضع خبر میں ہے بدل ہے کلمۃ سے ھا تنبیہ کے لئے انتم مبتداء ھولاء اس کی خبر حاججتم جملہ مستانفہ جملہ اولی کا مبین فیما ما بمعنی الذی علم مبتدا لکم خبر۔
تفسیر : تقلید آئمہ بروایت و درایت : اہل کتاب کے عقیدہ فاسدہ کا ابطال فرما کر اب ایک دوسرے عنوان سے کلام شروع ہوتا ہے کہ مقابل کو اس کے تسلیم کئے بغیر چارہ ہی نہ ہو۔ وہ یہ کہ اپنے اور اس کے مسلمات سے دلیل لائی جائے اور اگر مقاہل نہ مانے تو اس کو خود کہنا پڑے کہ میں خطاکار ہوں۔ وہ یہ کہ نصاریٰ بھی اس بات کو مانتے تھے کہ عبادت خالص اللہ ہی کی کرنی چاہیے اور اس کا کسی کو شریک نہ کرنا چاہیے۔ توحید پر قائم رہنا چاہیے اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
یٰٓـاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمَـآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰۃُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ م بَعْدِہٖ ط اَفلَاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَـکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ مَا کَانَ اِبْرٰہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّلاَ نَصْرَانِیًّا وَّلٰـکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا ط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَھٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔
(اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب یہ جاننے کے باوجود کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی اور عیسائی نہیں تھے۔ پھر بھی اپنے مذہب کو تقویت دینے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان کی شخصیت کا حوالہ دیتے ہیں۔ گمراہ فرقوں کی ایک یہ بھی نشانی ہوتی ہے کہ وہ دلائل کی کمزوری کو شخصیات سے نسبت اور ان کی عقیدت کے حوالے سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قرآن مجید مسلمانوں کو باربار اہل کتاب کی سازشوں اور عادتوں سے آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح تمہیں صراط مستقیم سے گمراہ کردیں۔ ان کی بد حرکتوں اور ان کے خبث باطن کے باوجود قرآن مجید انہیں سمجھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا۔ قرآن جب…
Read the full tafseer →67: مَاکَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِ یًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا۔ وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (کہ ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ حنیف مسلم تھے اور مشرکین میں سے بھی نہ تھے) گویا یہاں مشرکین سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ کیونکہ وہ عزیر و مسیح کو الوہیت میں شریک کرتے تھے۔ یا معنی یہ ہے کہ وہ مشرکین میں سے نہ تھے جیسا کہ یہود و نصاریٰ میں سے نہ تھے۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 67۔:
(آیت)” وما کان ابراھیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما وما کان من المشرکین “۔ حنیف جو ادیان باطلہ سے ادیان حقہ کی طرف مائل ہو ، بعض نے کہا کہ حنیف جو مؤحد ہو حج کرے، قربانی کرے اور ختنہ کرے اور کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے، یہ تمام ادیان میں سب سے آسان اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
(65 ۔ 68) ۔ بیہقی نے دلائل النبوہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک دن آنحضرت کے رو برو علماء یہود اور نجران کے پادریوں کا بڑا جھگڑا ہوا یہود کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم یہودی تھے کہ نہیں نصرانی تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ تورات اور انجیل جن دونوں کتابوں سے یہود اور نصاریٰ کا دین دنیا میں چلا ہے وہ تو حضرت ابراہیم کے بعد اتر ہے ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) میں ہزار برس کے قریب کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں تین ہزار برس کے قریب کا پھر حضرت ابراہیم یہودی یا نصرانی کیوں کر ہوسکتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ آپ عیسائی تھے۔ اس بارے میں وہ جھگڑتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث وجدال کا تین طریقوں سے جواب دیا ہے۔ اولاً : ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ان کا جھگڑا، ایسے معاملے میں ہے جس کے بارے میں انہیں علم حاصل نہیں، لہٰذا انہیں اس موضوع پر بحث ہی نہیں کرنی چاہیے جن سے ان کا تعلق ہی نہیں۔ تو رات و انجیل کے مسائل کے بارے میں تو انہوں نے بحث و مجادلہ کیا، خواہ ان کا موقف صحیح تھا یا غلط۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں بحث کرنے کا انہیں کوئی حق حاصل نہیں۔ ثانیاً : یہود تو رات کے اہخام و مسائل کی طرف منسوب ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
قول باری ہے (ومن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطاریؤدہ الیک، اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال ودولت کا ایک ڈھیر بھی دے دوتو وہ تمھارامال تمہیں اداکردے گا) یہاں لفظ (بقنطار) کے معنی، علی قنطار، کے ہیں اس لیے کہ اس جیسے موقع پر حرف باء اور حرف علی ایک دوسرے کے متعاقب ہوتے ہیں۔ مثلا آپ یہ کہتے ہیں، مررت بفلان ومررت علیہ، (میراگذرفلاں کے پاس سے ہوا، میراگذرفلاں پر ہوا) قنطار کے متعلق حسن سے مروی ہے کہ ایک ہزاردوسومثقال ہوتا ہے (ایک مثقال عرف میں ڈیڑھ درہم کے وزن کا ہوتا ہے) ابونضرہ کا قول ہے کہ بیل کی کھال میں بھرے ہوئے سونے کی مقدارکوقنطارکہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →140 حضرت ابراہیم کا مشرکین سے کوئی لگاؤ نہیں تھا : پس جو لوگ شرک کی نجاست و غلاظت سے ملوث ہیں ان کا ابراہیم سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ پس یہود و نصاری اور مشرکین میں سے ہر گروہ کا حضرت ابراہیم سے انتساب کا دعوی غلط اور بےبنیاد ہے کہ ان سب لوگوں کے دامن شرک کی گندگی سے ملوث اور آلودہ ہیں کہ یہود نے حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا قرار دیا اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کو۔ نیز انہوں نے تثلیث کا یہ شرکیہ عقیدہ گھڑا جو کہ توحید کی یکسر ضد اور اس کے بالکل برعکس ہے، جبکہ مشرکین مکہ نے طرح طرح کے بت گھڑ رکھے تھے۔ لہذا ان لوگوں کا ابراہیمی ہونے کا دعویٰ غلط اور بےبنیاد ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
اہل کتاب کے غلط عقیدے کی وضاحت
تشریح : یہودی اور عیسائی دونوں جھگڑا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ بھی وہی تھا جو ان کا عقیدہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اللہ کا حکم آنے پر ان کو سمجھایا کہ تمہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور مذہب کا علم کیسے ہوسکتا ہے ؟ تم تو خود اپنے بزرگوں کے عقائد کو ابھی اچھی طرح نہیں جانتے کیونکہ جو عقیدے تم رکھتے ہو۔ ان کی تعلیم نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی اور نہ ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے۔ پھر تم جھگڑا کرتے ہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت وہی تھی جو تمہاری ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس بارے میں نہ اللہ نے تمہیں کچھ خبر دی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
آیات 64- 71
اسرارومعارف
قل یا اھل الکتاب…………بانا مسلمون۔
آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! آئو ، ایک ایسی بات پر متفق ہوجائیں جو ہمارے تمہارے درمیان مسلم ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، نہ عبادت میں کسی کو اس کا شریک بنائیں۔ خواہ بت ہو یا شیطان ، فرشتہ ہو یا انسان۔ اور نہ کسی کو واجب الوجود ہونے میں اس کا شریک ٹھہرائیں۔ یعنی توحید کی دعوت تو ہر نبی نے دی ہے ہر کتاب میں موجود ہے تورات ہو یا انجیل۔ موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا عیسیٰ (علیہ السلام) ، ذات وصفات باری میں اس کی وحدانیت کا اقرار اور عبادات کا واحد مستحق صرف اللہ کا ہونا ، تمام شریکوں سے پاک اور بالاتر صرف اسی کی ذات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ف 1 اس آیت اشارہ ہے کہ یہود ونصایٰ اپنے آپ کو اہل کتاب کہلواتے ہیں مگر درحقیقت وہ مشرک ہیں۔ انہوں نے اپنے مشائخ اور علما کو خدا بنا رکھا ہے اور حضرت عزیر ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ (وحیدی) مطلب یہ کہ اگر تم اس معنی میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو یہود یا نصرانی کہتے ہو کہ ان کی شریعت سے ملتی چلتی ہے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ شریعت محمدی کو شریعت ابراہیمی سے زیادہ منا سب ہے۔ تو اس اعتبار سے مسلمانوں کو یہ کہنے کا تم سے زیادہ حق پہنچتا ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) ہمارے اسے طریق پر تھے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(3:67) حنیفا۔ سب باطل راہیں چھوڑ کر راہ حق کو پکڑنے والا۔ دیکھو 2:135 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–71
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 71
لم تحاجون (تم کیوں جھگڑتے ہو ؟ ) ھآ انتم (تم نے سنا) ھٰؤلآء (یہ سب) حاججتم (تم جھگڑچکے) حنیف (صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) اولی الناس (لوگوں میں زیادہ قریب) لویضلون (کاش وہ بھٹکاویں) لم تلبسون (تم کیوں ملاتے ہو ؟ ) ۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 71
یہود اور نصاریٰ جس طرح توحید کے دعویدار ہونے کے باوجود طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے اسی طرح ایک بات پر دونوں جماعتیں جھگڑتی رہتی تھیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے یا عیسائی۔ دونوں کا یہ دعوی تھا کہ وہ ہمارے فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور ہم دین ابراہمی اور ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں۔ ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ کے روبرو علماء یہود اور نجران کے پادریوں میں جھگڑا ہوا۔ یہود کہتے تھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور نصاریٰ کہتے تھے کہ نصرانی تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمادیا کہ توریت اور انجیل جن دونوں کتابوں سے یہود اور نصاریٰ کا دین دنیا میں چلا ہے۔ وہ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد اتری ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) میں ہزار برس کے قریب کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں تین ہزار برس کے قریب کا۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا نصرانی کیونکر ہو سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
[28] اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں مباہلہ ہے۔ مباہلہ میں ہر فریق اپنے کو اللہ کے سپرد کرتا ہے اور گڑگڑا کر دعا مانگنے کے بعد اس کے فیصلہ کا منتظر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مذہب :
(ف 1) مکہ کے مشرک ، مدینے کے یہودی اور جاہل عیسائی یہ سمجھتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں تقریبا ایک ہزار سال کا وقفہ ہے ، پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے ؟ مشرکین سے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پورے موحد تھے ان کا دین شرک کی آلودگیوں سے قطعا پاک تھا ۔ ان کی ساری عمر شرک کے خلاف جہاد کرنے میں گزری پھر یہ کیونکر قرین قیاس ہے کہ انہیں لات وہبل کے پرستاروں میں شامل کیا جائے ۔
بات یہ ہے کہ انبیاء کا مسلک ٹھیٹ اسلام ہوتا ہے ، وہ بجز توحید اور عدل و انصاف کے اور کسی چیز کے وادار نہیں ہوتے ،…
Read the full tafseer →ف 2۔ سنو ! تم لوگ ایسے ہو کہ ان چیزوں میں تو کٹ حجتی کیا ہی کرتے تھے جن کا تم کو تھوڑا بہت علم تھا اور تم ان کو تھوڑی بہت واقفیت رکھتے تھے پھر اب تم ایسی باتوں میں کیوں حجت کرتے ہو اور کیوں جھگڑتے ہو جن کا تم کو بالکل ہی علم نہیں اور تم ان سے کچھ بھی واقفیت نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ وہ نصرانی تھے بلکہ وہ ایک مخلص فرمانبرداری اور سیدھی راہ چلنے والے مسلمان تھے اور وہ ابراہیم (علیہ السلام) مشرکوں میں سے بھی نہ تھے۔
تھوڑے بہت علم کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
ف 1۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے، قبیح ذاتی تو کسی حال میں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار اور علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) کیا تھا ؟ وہ اللہ کا ایک برگزیدہ بندہ تھا جو شرک سے بہت بےزار تھا :
143: ابراہیم (علیہ السلام) تو ” حَنِیْفًا مُّسْلِمًا “ ایک سیدھا سادھا مسلم یعنی ایک فرمانبردار بندہ تھا۔ وہ نہ تو یہود تھا اور نہ نصرانی اس لیے کہ یہودیت و نصرانیت تو بعد میں آئی اور ابراہیم (علیہ السلام) پہلے ہوچکے اور پھر یہ بھی کہ موجودہ یہودیت و نصرانتی وہ ادیان بھی نہیں جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے اس لیے کہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی بنایا ہوا ہے اس میں سوائے نام کے کوئی مشابہت بھی موجود نہیں۔ ہاں ! اگر اصل دین جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے اس پر تم قائم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
Commentary
The argumentation referred to in verse 65 was to decide whether Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) followed the way of the Jews, or that of the Christians. The futility of their exercise already stood exposed as both these ways in religion appeared long after the revelation of the Old and New Testaments. These just did not exist before that. How, then, could it be claimed that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . It adhered To these ways?
Verse 66 points out to the hollowness of their approach when they indulged in their argumentation on the basis of incomplete knowledge. That they would…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
59. The word hanif denotes someone who turns his face away from all other directions in order to follow one particular course. We have tried to convey this sense through the expression: 'a Muslim, wholly devoted to God'.
Read the full tafseer →