Aal-i-Imraan 3:66

Aal-i-Imraan · from ayah 66

3:66

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ ؕ— وَاللّٰهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۟هٰۤاَنۡـتُمۡ هٰٓؤُلَآءِ حٰجَجۡتُمۡ فِيۡمَا لَـكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِيۡمَا لَـيۡسَ لَـكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ

دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Here you are - those who have argued about that of which you have [some] knowledge, but why do you argue about that of which you have no knowledge? And Allah knows, while you know not.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 7 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:66

تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو اُن میں تو خوب بحثیں کر چکے، اب ان معاملات میں کیوں بحث کرنے چلے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سنو! تم لوگ اس میں جھگڑ چکے جس کا تمہیں علم تھا پھر اب اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں؟ اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،

— مولانا محمد جوناگڑہی

دیکھو ! یہ تم ہی تو ہو جنہوں نے ان معاملات میں اپنی سی بحث کرلی ہے جن کا تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا۔ اب ان معاملات میں کیوں بحث کرتے ہو جن کا تمہیں سرے سے کوئی علم ہی نہیں ہے ؟ اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سنتے ہو یہ جو تم ہو اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا تو اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سن لو! تم وہی لوگ ہو جو ان باتوں میں بھی جھگڑتے رہے ہو جن کا تمہیں (کچھ نہ کچھ) علم تھا مگر ان باتوں میں کیوں تکرار کرتے ہو جن کا تمہیں (سرے سے) کوئی علم ہی نہیں، اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ تم نے اس بات میں جھگڑا کیا جس کے متعلق تمہیں کچھ علم تھا، تو اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم وہ لوگ ہو جو ان باتوں میں جھگڑا کرچکے ہو جن کا تمہیں کچھ علم تھا مگر ایسی باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔ انہیں اللہ ہی جانتا ہے، تم نہیں جانتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہیں لوگ ہو کہ تم نے حجت کی ان چیزوں کے بارے میں جن کے باب میں تمہیں کچھ علم تھا تو اس چیز کے بارے میں کیوں حجت کرتے ہو جس کے باب میں تمہیں کوئی علم نہیں۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہاں تم لوگ وہی ہو جو جھگڑا کرچکے ہو ایسی بات کے بارے میں جس کا تمہیں کچھ علم نہیں تھا مگر اب تم کیوں جھگڑا (اور حجت بازی) کرتے ہو اس چیز کے بارے میں جس کا تمہیں کچھ علم نہیں اور اللہ جانتا ہے (ہر چیز کو) اور تم نہیں جانتے،

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں تم لوگ وہی تو ہو جو اس امر میں جھگڑچکے ہو جس کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

دیکھو تم لوگ اب تک جو بھی بحث مباحثہ کرتے رہے ہو وہ ان چیزوں کے بارے میں ہے جن کا تمہیں کچھ علم ہے تو اب تم ایسی چیزوں کے ضمن میں حجت بازی کیوں کرتے ہو جن کے بارے میں تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں ؟ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

خبردار ! تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے تھے ان میں تو خوب بحثیں کرچکے، اب ان (معاملات) میں کیوں بحث کرنے لگے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, you are those who have disputed greatly concerning matters which you knew; why are you now disputing about matters that you know nothing about? Allah knows it whereas you do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Look, this is what you are — you have already argued about matters concerning which you have knowledge; why then do you argue about matters of which you have no knowledge? Allah knows and you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

Look, this is what you are — you have already argued about matters concerning which you have knowledge; why then do you argue about matters of which you have no knowledge? Allah knows and you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, you are those who have disputed about that of which you have knowledge. Why do you then dispute concerning that of which you have no knowledge It is Allah Who knows, and you know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! ye are those who argue about that whereof ye have some knowledge: Why then argue ye concerning that whereof ye have no knowledge? Allah knoweth. Ye know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Here you are - those who have argued about that of which you have [some] knowledge, but why do you argue about that of which you have no knowledge? And Allah knows, while you know not.

— Saheeh International

You even argue about what is already known to you. What can you learn from arguing about that which you have no knowledge? God knows but you do not know."

— Muhammad Sarwar

Behold! you are they who disputed about that of which you had knowledge; why then do you dispute about that of which you have no knowledge? And Allah knows while you do not know.

— Muhammad Habib Shakir

Ah! ye are those who fell to contending respecting that whereof ye had some knowledge, wherefore then should ye contend respecting that whereof ye have no knowledge! And Allah knoweth, and ye know not.

— Abdul Majid Daryabadi

Ah! Ye are those who fell to disputing (Even) in matters of which ye had some knowledge! but why dispute ye in matters of which ye have no knowledge? It is Allah Who knows, and ye who know not!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–68

حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید یہودی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور حضور ﷺ کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہوگیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ حضرت خلیل اللہ ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو ؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ، حضرت موسیٰ ؑ اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ ؑ کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–66

سورة اٰلِ عِمْرٰن 58 یعنی تمہاری یہ یہودیت اور یہ نصرانیت بہرحال تورات اور انجیل کے نزول کے بعد پیدا ہوئی ہیں، اور ابراہیم ؑ جس مذہب پر تھے وہ بہرحال یہودیت یا نصرانیت تو نہ تھا۔ پھر اگر حضرت ابراہیم ؑ راہ راست پر تھے اور نجات یافتہ تھے تو لامحالہ اس سے لازم آتا ہے کہ آدمی کا راہ راست پر ہونا اور نجات پانا یہودیت و نصرانیت کی پیروی پر موقوف نہیں ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ 135 و 141)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–68

خلاصہ تفسیر اے اہل کتاب کیوں حجت کرتے ہو (حضرت) ابراہیم ؑ کے بارے میں (کہ وہ طریق یہودیت پر تھے یا نصرانیت پر تھے) حالانکہ نہیں نازل کی گئی توراۃ اور انجیل، مگر ان کے (زمانہ کے بہت) بعد (اور یہ دونوں طریق ان دونوں کتابوں کے نزول کے بعد سے ظاہر ہوئے پہلے سے ان کا وجود ہی نہ تھا، پھر حضرت ابراہیم ؑ ان طریقوں پر کس طرح ہوسکتے ہیں) کیا (ایسی خلاف عقل بات منہ سے نکالتے ہو اور) پھر سمجھتے نہیں ہو، ہاں تم ایسے ہو کہ ایسی بات میں حجت کر ہی چکے تھے جس سے تم کو کسی قدر تو واقفیت تھی (گو اس میں ایک غلط مقدمہ لگا کر نتیجہ غلط نکالتے تھے مراد اس سے خوارق ہیں عیسیٰ ؑ کے کہ یہ مطابق واقع کے ہے۔ البتہ اس میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 65–68

تفسیر آیات 65 تا 68: ان آیات میں کوئی نحوی یا ادبی اشکال نہیں ہے۔ مضمون بھی ان کا پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں ہی کے مسلم خاندانی وروحانی پیشوا تھے اس وجہ سے یہود، نصاری اور مشرکین تینوں ہی گروہ اپنی اپنی بدعات کی حمایت میں ان کے نام کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہود کہتے کہ حضرت ابراہیم ہمارے طریقہ پر تھے۔ نصاری ان کو اپنے طریقہ پر بتاتے اور مشرکین عرب اپنے طریقہ پر، یوں تو یہ ادعائے فخر ان میں سے ہر گروہ کو ایک دوسرے کے مقابل میں ہمیشہ رہا لیکن اسلام کی دعوت شروع ہونے کے بعد اس کی مخالفت میں خاص حربہ جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

66۔ 1 تمہارے علم اور دیانت کا تو یہ حال ہے کہ جن چیزوں کا تمہیں علم ہے۔ یعنی اپنے دین اور اپنی کتاب کا اس کی بابت تمہارے جھگڑے بےاصل بھی ہیں اور بےعقلی کا مظہر بھی تو پھر تم اس بات پر کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں سرے سے علم ہی نہیں یعنی حضرت ابراہیم ؑ کی شان اور ان کی ملت حنفیہ کے بارے میں جس کی اساس توحید و اخلاص پر ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–66

26: یہودی کہا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ عیسائی تھے، اول تو قرآن کریم نے فرمایا کہ یہ دونوں مذہب تورات اور انجیل کے نزول کے بعد وجود میں آئے، جبکہ حضرت ابرہیم ؑ بہت پہلے گزر چکے تھے، لہذا یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے، اس کے بعد قرآن کریم نے فرمایا کہ جب تمہارے وہ دلائل جو کسی نہ کسی صحیح حقیقت پر مبنی تھے، تمہارے دعوؤں کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں یہ بےبنیاد اور جاہلانہ بات کیسے تمہارے دعوے کو ثابت کرسکتی ہے، مثلاً تمہیں یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور اس کی بنیاد پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مباحثہ کیا ‘ پھر انہوں نے بعض فقہی موضوعات پر بھی مجادلہ کیا ‘ اور جب انہیں دعوت دی گئی کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں تو انہوں نے روگردانی کی ۔ یہ دونوں موضوعات ایسے تھے ‘ جن کے بارے میں انہیں کچھ علم تھا۔ رہے وہ معاملات جو تمہارے وجود سے پہلے ہیں ‘ تمہاری کتابوں سے پہلے ہیں ۔ تمہارے اس دین سے پہلے ہیں جن پر تمہارا ایمان ہے ۔ تو اس بارے میں تمہارے پاس نہ علم ہے اور نہ سند ہے۔ اگرچہ ہماری سند ہو ‘ لہٰذا ان موضوعات پر تمہارا مباحثہ کرنا صرف بحث برائے بحث ہوگا۔ وہ محض تیر تکے چلانا ہوگا۔ کوئی بامقصد کام نہ ہوگا ۔ بلکہ محض مطلب براری اور نفس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 65–66

1 جیسے دعوائے اسلام و توحید سب میں مشترک تھا اسی طرح حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی تعظیم و تکریم میں بھی سب شریک تھے اور یہود و نصاریٰ میں سے ہر ایک فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے دین پر تھے یعنی معاذ اللہ یہودی تھے یا نصرانی، اسکا جواب دیا کہ تورات و انجیل جن کے پیرو یہودی یا نصرانی کہلائے ابراہیم (علیہ السلام) سے سینکڑوں برس بعد اتری۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو نصرانی یا یہودی کیسے کہہ سکتے ہیں بلکہ جس طرح کے تم یہودی یا نصرانی ہو، اس معنی سے تو خود موسیٰ یا عیسیٰ (علیہما السلام) کو بھی یہودی یا نصرانی نہیں کہا جاسکتا۔ اور اگر یہ مطلب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 66 ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ط ان چیزوں کے بارے میں تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ‘ کوئی علمی بنیاد نہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

59 یعنی ایسی باتوں میں تو تمہیں جھگڑا کرنے کا کسی حد تک حق پہنچتا ہے۔ جن کے متعلق تمہیں کچھ علم ہے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے واقعات یا رسول اللہ ﷺ کے متعلق جو تورات اور انجیل میں بشارات دی گئی ہیں۔ مگر جن باتوں کا تمہیں علم ہی نہیں ان میں تمہیں جھگڑا کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے ؟ تم دونوں فرقوں میں سے کسی نے بھی حضرت ابراہیم کو دیکھا نہ ان کا زمانہ پایا نہ ان کے حالات زندگی اور ان کی تعلیمات سے آگاہ ہوئے پھر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ یہودی تھے ؟ یا نصرانی تھے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

157 ۔ یعنی اس دین ابراہیمی سے متعلق۔ مراد یہ ہے کہ جب تم توریت وانجیل ہی کے مسائل میں بھٹکے اور ایسا بھٹکے، حالانکہ وہاں کچھ تو واقفیت اور علم تمہیں حاصل تھا تو اب دین ابراہیمی کے بارے میں کیوں کٹ حجتی پر تلے ہو جس کے بارے میں تو کوئی شائبہ علم ہی تمہیں حاصل نہیں (آیت) ” ھانتم “۔ میں ھاکا اشارہ مخاطبین کی تحقیر وتنقیص کے لیے ہے۔ والاشارۃ للتحقیر والتنقیص (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–67

مَاکَانَ اِبْرَاھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّلًانَصْرَانِیًّا وَّلکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا۔ اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین حنیف تھا یعنی تمام باطلوں سے رخ موڑ کر دین حق کی طرف مائل ہونے والا۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) خود باطل سے نافر اور دین حق کی طرف مائل اور فرمانبردار تھے۔ نہ یہودی تھے نہ نصرانی، نہ اہل مکہ کے مانند مشرک۔ تمہارے خیالات اور عقائد ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں غلط اور باطل ہیں تمام انسانوں میں ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے وہ لوگ قریب تر ہیں جنہوں نے ان کے زمانہ میں ان کے دین اور ان کے سنت کی پیروی کی اور وہ محمد ﷺ ہیں اور ان پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھٰٓاَنْتُمْ : کو فیوں کی قراءت پر پڑھا حرف تنبیہ اور انتم ضمیر مذکر مخاطب ہے اور قنبل و درش کی قراءت پر یہ لفظ بغیر مد کے ھَاَنْتم ہے جو اصل میں ءَ اَنْتُمْ تھا جیسے ھَرَقت اصل میں اَرَقْتُ تھا ہمزہ استفہامیہ کو ہ سے بدل دیا اس صورت میں جملہ استفہامیہ انکاریہ ہوگیا اور اوّل صورت میں مخاطب کو غفلت پر تنبیہ ہوگی۔ ھٰٓؤُلَاۗءِ : انتم مبتداء ہے اور ھولاءِ اس کی خبر ہے اور ائندہ جملہ اس جملہ کے مضمون کا بیان ہے۔ یا انتم مبتدا ہے اور حاججتم اس کی خبر اور ھٰولاء منادی ہے اور حرف نداء محذوف ہے یعنی اے لوگو ! تم نے باہم جھگڑا کیا ان امور میں جن کا تم کو علم ہے بعض لوگوں نیھٰؤلاءِ کو موصول کے معنی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 65–67

(65۔ 66۔ 67) چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیوں حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں حجت کرتے ہو، یہ کتابیں تو حضرت ابراہیم ؑ کے بہت بعد نازل ہوئی ہیں، توریت وانجیل میں کسی مقام پر یہ نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی یا نصرانی تھے، اے گروہ یہود اور نصاری ! تم اپنی کتاب میں تو حجت کرچکے ہو جس میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ رسول اکرم ﷺ نبی مرسل ہیں اور حضرت ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور پھر تم اس بات کا انکار کرتے ہو تو پھر امور میں کیوں حجت کرتے ہو جو تمہاری کتابوں میں موجود نہیں اور پھر جھوٹ بولتے ہو کہ حضرت براہیم ؑ یہودی یا نصرانی تھے اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ نہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ ۭ: یعنی اس دین ابراہیمی سے متعلق۔ مراد یہ ہے کہ جب تم تورات و انجیل ہی کے مسائل میں بھٹکے اور کیسے بھٹکے، حالانکہ وہاں کچھ علم تمہیں حاصل تھا، تو اب دین ابراہیمی کے بارے میں کیوں کٹ حجتی پر تلے ہو، جس کے بارے میں تو تمہیں علم کا شائبہ بھی حاصل نہیں ؟ (ماجدی) اس آیت میں نہ صرف غلط طور پر جھگڑا کرنے سے منع کیا گیا ہے، بلکہ مطلقاً جھگڑے سے گریز کی نصیحت بھی کی ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 66۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ھانتم ھولاء حاججتم “۔ یعنی تم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں جھگڑتے ہو کیونکہ وہ آپ ﷺ کی ان صفات کو جانتے تھے جو وہ اپنی کتاب میں پاتے تھے پس آپ کے بارے میں انہوں نے باطل اور غلط جھگڑا کیا۔ (آیت) ” فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم “۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے اس دعوی پر کہ وہ یہودی تھے یا عیسائی (کیوں جھگڑنے لگے ہو جبکہ تمہیں اس بارے کچھ علم ہی نہیں) (آیت) ” ھآنتم “۔ دراصل أأنتم تھا اس میں پہلے ہمزہ کو ھا سے بدل دیا گیا کیونکہ یہ اس کی اخت ہے، ابو عمرو بن العلاء اور اکفش سے یہی منقول ہے۔ نحاس نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–67

(1) ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے دین پر تھے اور نصاری نے کہا کہ وہ ہمارے دین پر تھے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاردی لفظ آیت ” ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا اور ان کی دلیل کو باطل قرار دیا۔ (2) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت کعب ان کے ساتھ اور نصاری میں سے کچھ آدمیوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہم میں سے ہیں اور موسیٰ ہم میں سے ہیں اور انبیاء ہم میں سے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حینفا مسلما “ (3) ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ھٰٓانتم : سن لو ! تم لوگ ] [ھٰٓؤُلَاۗءِ : وہ ہو ] [حَاجَجْتُمْ : جو حجت کرتے ہو ] [فِیْمَا : اس میں ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [بِہٖ : جس میں ] [عِلْمٌ : ایک علم ہے ] [فَلِمَ : پھر کیوں ] [تُحَآجُّوْنَ : تم لوگ حجت کرتے ہو ] [فِیْمَا : اس میں ] [لَـیْسَ : نہیں ہے ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [بِہٖ : جس میں ] [عِلْمٌ : کوئی علم ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یَعْلَمُ : جانتا ہے ] [وَاَنْتُمْ : اور تم لوگ ] [لاَ تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 64–66

اہل کتاب کو توحید کی دعوت اس آیت میں یہود و نصاریٰ کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے نزدیک مسلم ہے ہم بھی مانتے ہیں تم بھی مانتے ہو اور وہ یہ کہ ہم سب صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ یہود و نصاریٰ کو معلوم تھا کہ ہمارے دین کی اصل تعلیم یہی ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کریں۔ اگرچہ انہوں نے شرک اختیار کرلیا تھا لیکن ان کے دین میں جو صحیح بات تھی وہ ان کو معلوم تھی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ ان کو توحید کی طرف بلاؤ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–68

ابطال دعوائے اہل کتاب دربارہ ملت ابراہیم (علیہ السلام) قال تعالی، یا اھل الکتاب لم تحاجون۔۔۔ الی۔۔ ولی المومنین۔ ربط) ۔ جس طرح دعوائے توحید میں سب مشترک تھے اسی طرح حضرت ابراہیم کی تعظیم و تکریم میں سب شریک تھے اور یہود اور نصاری ہر ایک فرقہ یہ دعوی کرت تھا کہ حضرت ابراہیم ہمارے دین پر تھے عیسائی کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم نصرانی تھے اور ہم ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان سے زیادہ قریب ہیں یہود اور نصاری کے اس دعوے کے رد اور ابطال کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ تم سب غلط کہتے ہو تم کو ابراہیمی سے کیا واسطہ تم سب مشرک ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) موحد اور مسلم یعنی خدا کے فرمانبردار بندہ تھے ابراہیم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

92 یہاں اہل کتاب کی حماقت کا مزید اظہار فرمایا کہ پہلے تو تم حضرت مسوی اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے بارے میں جھگڑتے ہیں لیکن خیر ان کے بارے میں تو تمہیں کچھ ناقص سا علم تھا۔ لیکن اب یہ کیا حماقت ہے کہ تم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے بارے میں جھگڑا شروع کردیا حالانکہ تمہیں ان کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے بارے میں تم بالکل بیخبر ہو اور اللہ تعالیٰ کو ان کے دین کا خوب علم ہے اس لیے اب اللہ تعالیٰ کا اس بارے فیصلہ سن لو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–68

ربط آیات : گذشتہ ادرس میں اہل کتاب کو اس کلمہ توحید کی دعوت دی گئی تھی ، جو تمام انبیاء (علیہم السلام) ، تمام کتب اور تمام شرائع کا متفق علیہ مسئلہ ہے۔ یعنی خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ اور ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار اور رہبان کو رب بنا لیا۔ اور رب بنانے سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کو مولوی اور درویش حلال قرار دے دیں اسے حلال سمجھ لیا جائے اور جسے حرام کہیں اس کو حرام ہی سمجھ لیں۔ گذشتہ درس میں اس بات کی وضاحت کردی گئی تھی کہ تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ ہے۔ اس کے سوا کسی کو حلال یا حرام قرار دینے کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَاۗءِ حَاجَجْتُمْ فِـيْمَا لَكُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاۗجُّوْنَ فِيْمَا لَيْسَ لَكُمْ بِہٖ عِلْمٌ۝ 0 ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝ 66 حاجَّة والمُحاجَّة : أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] ، وقال تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 64–67

ترکیب : ان لا نعبد جملہ موضع خبر میں ہے بدل ہے کلمۃ سے ھا تنبیہ کے لئے انتم مبتداء ھولاء اس کی خبر حاججتم جملہ مستانفہ جملہ اولی کا مبین فیما ما بمعنی الذی علم مبتدا لکم خبر۔ تفسیر : تقلید آئمہ بروایت و درایت : اہل کتاب کے عقیدہ فاسدہ کا ابطال فرما کر اب ایک دوسرے عنوان سے کلام شروع ہوتا ہے کہ مقابل کو اس کے تسلیم کئے بغیر چارہ ہی نہ ہو۔ وہ یہ کہ اپنے اور اس کے مسلمات سے دلیل لائی جائے اور اگر مقاہل نہ مانے تو اس کو خود کہنا پڑے کہ میں خطاکار ہوں۔ وہ یہ کہ نصاریٰ بھی اس بات کو مانتے تھے کہ عبادت خالص اللہ ہی کی کرنی چاہیے اور اس کا کسی کو شریک نہ کرنا چاہیے۔ توحید پر قائم رہنا چاہیے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 65–68

یٰٓـاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمَـآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰۃُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ م بَعْدِہٖ ط اَفلَاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَـکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ مَا کَانَ اِبْرٰہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّلاَ نَصْرَانِیًّا وَّلٰـکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا ط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَھٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (اے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–69

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب یہ جاننے کے باوجود کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی اور عیسائی نہیں تھے۔ پھر بھی اپنے مذہب کو تقویت دینے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان کی شخصیت کا حوالہ دیتے ہیں۔ گمراہ فرقوں کی ایک یہ بھی نشانی ہوتی ہے کہ وہ دلائل کی کمزوری کو شخصیات سے نسبت اور ان کی عقیدت کے حوالے سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن مجید مسلمانوں کو باربار اہل کتاب کی سازشوں اور عادتوں سے آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح تمہیں صراط مستقیم سے گمراہ کردیں۔ ان کی بد حرکتوں اور ان کے خبث باطن کے باوجود قرآن مجید انہیں سمجھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا۔ قرآن جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

66: ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآ جُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ ۔ (دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم بھی تھا۔ (اس چیز میں جس کا تمہیں علم ہے) یعنی تورات و انجیل میں ان کو ذکر کردیا گیا۔ پھر کیوں جھگڑتے ہو اس بات میں جس کا تمہیں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے) نحوی تحقیق : ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآئِ (خبردار تم وہ لوگ ہو) : ھاؔ یہاں تنبیہ کیلئے ہے۔ اَنْتُمْ مبتداء اور ھٰٓؤُلَآء اسکی خبر ہے۔ حاججتم : نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے جسکی بناء پہلے جملے پر ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 66۔ (آیت)” ھا انتم “۔ دوہمزے آپس میں ملے ہوئے ہیں، ابو عمرو کے نزدیک اسی طرح ہے اور باقی قراء ہمزہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اس کی صرف تحقیق میں آئمہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک اس کی اصل ” انتم “ ہے اور ھاء تنبیہ ہے ، اخفش فرماتے ہیں اس کا اصل ” ا انتم “ پہلے ہمزہ کو ھاء سے بدل دیا ، جیسے ” ھرقت “ اصل میں ” ارقت “ تھا ہمزہ استفہامیہ کوہ سے بدل دیا ۔ ” ھولائ “ یہ اصل میں اولاء تھا اس میں ھاء تنبیہ کو داخل کیا جو ندا کی جگہ میں تھا ، عبارت یوں ہوگی : ” یاھولاء انتم “۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حاججتم فبما لکم بہ علم فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم “۔ تم ان امور کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تم کو کچھ علم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–68

(65 ۔ 68) ۔ بیہقی نے دلائل النبوہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک دن آنحضرت کے رو برو علماء یہود اور نجران کے پادریوں کا بڑا جھگڑا ہوا یہود کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم یہودی تھے کہ نہیں نصرانی تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ تورات اور انجیل جن دونوں کتابوں سے یہود اور نصاریٰ کا دین دنیا میں چلا ہے وہ تو حضرت ابراہیم کے بعد اتر ہے ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) میں ہزار برس کے قریب کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں تین ہزار برس کے قریب کا پھر حضرت ابراہیم یہودی یا نصرانی کیوں کر ہوسکتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 65–68

یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ آپ عیسائی تھے۔ اس بارے میں وہ جھگڑتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث وجدال کا تین طریقوں سے جواب دیا ہے۔ اولاً : ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ان کا جھگڑا، ایسے معاملے میں ہے جس کے بارے میں انہیں علم حاصل نہیں، لہٰذا انہیں اس موضوع پر بحث ہی نہیں کرنی چاہیے جن سے ان کا تعلق ہی نہیں۔ تو رات و انجیل کے مسائل کے بارے میں تو انہوں نے بحث و مجادلہ کیا، خواہ ان کا موقف صحیح تھا یا غلط۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں بحث کرنے کا انہیں کوئی حق حاصل نہیں۔ ثانیاً : یہود تو رات کے اہخام و مسائل کی طرف منسوب ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

بحث ومباحثہ بغیر علم کے فضول ہے قول باری ہے۔ (ھا انتم ھئولاء حاججتم فیمالکم بہ علم فلم تحاجون فیمالیس لکم بہ علم، تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو ان میں تو خوب بحثیں کرچکے ہو اب ان معاملات میں کیوں بحث کرنے چلے ہوں جن کا تمھارے پاس کچھ بھی علم نہیں) حق کی خاطر بحث ومباحثہ کرنے اور دلائل پیش کرنے کی صحت کی یہ آیت سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیئے کہ اگر ہر قسم کے بحث ومباحثہ کی ممانعت ہوتی تو علم کی بنیادپر اور علم کے بغیر بحث ومباحثہ کے درمیان فرق نہ کیا جاتا۔ قول باری (حاججتم فیمالکم بہ علم کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اس سے مراد باتیں ہیں جو انہیں اپنی کتابوں سے ملی تھی۔ جس بات کا انہیں علم نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

137 علم کے بغیربحث و مباحثہ اور حجت بازی کی مذمت : یعنی موسیٰ و عیسیٰ کے بارے میں کہ ان کے تم نام لیوا اور ان کے ماننے کے دعویدار ہو، اگرچہ ان کے بارے میں بھی تمہارا علم ناقص اور غیر صحیح تھا۔ جس کی بنا پر تم افراط وتفریط کے شکار ہوئے کہ ایک گروہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ کے نسب پر حملہ کیا اور ان کی پاکیزہ ہستی پر گندی تہمت لگائی ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ دوسرے گروہ نے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دے کر دین عیسوی کا حلیہ بگاڑ دیا۔ اور انہوں نے شرک کا حرام و ممنوع کاروبار شروع کردیا یا اسی طرح خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں بھی تمہیں کچھ علم تھا کہ ان کا ذکر تمہاری کتابوں میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–68

اہل کتاب کے غلط عقیدے کی وضاحت تشریح : یہودی اور عیسائی دونوں جھگڑا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ بھی وہی تھا جو ان کا عقیدہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اللہ کا حکم آنے پر ان کو سمجھایا کہ تمہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور مذہب کا علم کیسے ہوسکتا ہے ؟ تم تو خود اپنے بزرگوں کے عقائد کو ابھی اچھی طرح نہیں جانتے کیونکہ جو عقیدے تم رکھتے ہو۔ ان کی تعلیم نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی اور نہ ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے۔ پھر تم جھگڑا کرتے ہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت وہی تھی جو تمہاری ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس بارے میں نہ اللہ نے تمہیں کچھ خبر دی ہے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 64–71

آیات 64- 71 اسرارومعارف قل یا اھل الکتاب…………بانا مسلمون۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! آئو ، ایک ایسی بات پر متفق ہوجائیں جو ہمارے تمہارے درمیان مسلم ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، نہ عبادت میں کسی کو اس کا شریک بنائیں۔ خواہ بت ہو یا شیطان ، فرشتہ ہو یا انسان۔ اور نہ کسی کو واجب الوجود ہونے میں اس کا شریک ٹھہرائیں۔ یعنی توحید کی دعوت تو ہر نبی نے دی ہے ہر کتاب میں موجود ہے تورات ہو یا انجیل۔ موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا عیسیٰ (علیہ السلام) ، ذات وصفات باری میں اس کی وحدانیت کا اقرار اور عبادات کا واحد مستحق صرف اللہ کا ہونا ، تمام شریکوں سے پاک اور بالاتر صرف اسی کی ذات کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 66–67

ف 1 اس آیت اشارہ ہے کہ یہود ونصایٰ اپنے آپ کو اہل کتاب کہلواتے ہیں مگر درحقیقت وہ مشرک ہیں۔ انہوں نے اپنے مشائخ اور علما کو خدا بنا رکھا ہے اور حضرت عزیر ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ (وحیدی) مطلب یہ کہ اگر تم اس معنی میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو یہود یا نصرانی کہتے ہو کہ ان کی شریعت سے ملتی چلتی ہے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ شریعت محمدی کو شریعت ابراہیمی سے زیادہ منا سب ہے۔ تو اس اعتبار سے مسلمانوں کو یہ کہنے کا تم سے زیادہ حق پہنچتا ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) ہمارے اسے طریق پر تھے۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:66) ھا انتم ھولائ۔ ھا حرف تنبیہ۔ انتم ضمیر جمع مذکر حاضر مرفوع مبتدائ۔ ھؤلائ۔ یہ ھا اس ضمیر مرفوع پر آتی ہے جس کی خبر اسم اشارہ ہو یہاں اولاء خبر ہے۔ دیکھو تمہیں ہو وہ لوگ۔ حاججتم۔ حاج یحاج محاجۃ سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے حجت بازی کی۔ تم نے جھگڑا کیا ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–71

لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 71 لم تحاجون (تم کیوں جھگڑتے ہو ؟ ) ھآ انتم (تم نے سنا) ھٰؤلآء (یہ سب) حاججتم (تم جھگڑچکے) حنیف (صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) اولی الناس (لوگوں میں زیادہ قریب) لویضلون (کاش وہ بھٹکاویں) لم تلبسون (تم کیوں ملاتے ہو ؟ ) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 71 یہود اور نصاریٰ جس طرح توحید کے دعویدار ہونے کے باوجود طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے اسی طرح ایک بات پر دونوں جماعتیں جھگڑتی رہتی تھیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے یا عیسائی۔ دونوں کا یہ دعوی تھا کہ وہ ہمارے فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور ہم دین ابراہمی اور ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں۔ ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–68

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ کے روبرو علماء یہود اور نجران کے پادریوں میں جھگڑا ہوا۔ یہود کہتے تھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور نصاریٰ کہتے تھے کہ نصرانی تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمادیا کہ توریت اور انجیل جن دونوں کتابوں سے یہود اور نصاریٰ کا دین دنیا میں چلا ہے۔ وہ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد اتری ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) میں ہزار برس کے قریب کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں تین ہزار برس کے قریب کا۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا نصرانی کیونکر ہو سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–69

[28] اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں مباہلہ ہے۔ مباہلہ میں ہر فریق اپنے کو اللہ کے سپرد کرتا ہے اور گڑگڑا کر دعا مانگنے کے بعد اس کے فیصلہ کا منتظر رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 65–67

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مذہب : (ف 1) مکہ کے مشرک ، مدینے کے یہودی اور جاہل عیسائی یہ سمجھتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں تقریبا ایک ہزار سال کا وقفہ ہے ، پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے ؟ مشرکین سے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پورے موحد تھے ان کا دین شرک کی آلودگیوں سے قطعا پاک تھا ۔ ان کی ساری عمر شرک کے خلاف جہاد کرنے میں گزری پھر یہ کیونکر قرین قیاس ہے کہ انہیں لات وہبل کے پرستاروں میں شامل کیا جائے ۔ بات یہ ہے کہ انبیاء کا مسلک ٹھیٹ اسلام ہوتا ہے ، وہ بجز توحید اور عدل و انصاف کے اور کسی چیز کے وادار نہیں ہوتے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 65–66

ف 1۔ اے اہل کتاب تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑا کرتے ہو کہ وہ یہودیت مسلک رکھتے تھے یا نصرانیت حالانکہ توریت اور انجیل نہیں نازل ہوئی مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد تو کیا تم پھر اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ یعنی کیسے بیوقوف اور کم عقلی ہو کہ توریت جو یہودیت کا مخزن ہے اور انجیل جو نصرانیت کا سر چشمہ ہے جب یہ دونوں کتابیں ان کے زمانہ میں موجود ہی نہ تھیں بلکہ ان کی وفات کے بعد نازل ہوئیں ہیں تو ان کی یہودیت اور نصرانیت کا سوال ہی کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی لئے فرمایا افلا تعقلون تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود و نصاریٰ کا جھگڑا یہ تھا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–71

ف 1۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے، قبیح ذاتی تو کسی حال میں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار اور علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب سے کہا جا رہا ہے کہ ہر بات میں ٹانگ اڑانا تم نے کہاں سے سیکھ لیا ؟ 142: ” مٰا اَنْتُم “ میں ھا قائم مقام ہمزہ استفہام کے ہے اور استفہام اس جگہ تعجب کے لیے ہے۔ تم وہ لوگ ہو کہ ان باتوں میں بھی تم نے جھگڑا کیا جن کا تم کو علم تھا “ جا کا صاف صاف مطلب یہی ہے کہ تم نے جان بوجھ کر ٹانگ اڑانے کی کوشش کی۔ مراد اس سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات اور ان کی تعلیم ہے کہ یہود سیدنا عیسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اور نصاریٰ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جھگڑا کرچکے ہیں۔ یہود کے جھگڑوں کا ذکر سورة بقرہ میں بتفصیل گزر چکا اور نصاریٰ کے جھگڑے کا ذکر اس سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–68

Commentary The argumentation referred to in verse 65 was to decide whether Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) followed the way of the Jews, or that of the Christians. The futility of their exercise already stood exposed as both these ways in religion appeared long after the revelation of the Old and New Testaments. These just did not exist before that. How, then, could it be claimed that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . It adhered To these ways? Verse 66 points out to the hollowness of their approach when they indulged in their argumentation on the basis of incomplete knowledge. That they would…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–67

59. The word hanif denotes someone who turns his face away from all other directions in order to follow one particular course. We have tried to convey this sense through the expression: 'a Muslim, wholly devoted to God'.

Read the full tafseer →