Explained with ayahs 169–175
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
سورة اٰلِ عِمْرٰن 124
احد سے پلٹتے ہوئے ابو سفیان مسلمانوں کو چیلنج دے گیا تھا کہ آئندہ سال بدر میں ہمارا تمہارا پھر مقابلہ ہوگا۔ مگر جب وعدے کا وقت قریب آیا تو اس کی ہمت نے جواب دے دیا کیونکہ اس سال مکہ میں قحط تھا۔ لہٰذا اس نے پہلو بچانے کے لیے یہ تدبیر کی کہ خفیہ طور پر ایک شخص کو بھیجا جس نے مدینہ پہنچ کر مسلمانوں میں یہ خبریں مشہور کرنی شروع کیں کہ اب کے سال قریش نے بڑی زبردست تیاری کی ہے اور ایسا بھاری لشکر جمع کر رہے ہیں جس کا مقابلہ تمام عرب میں کوئی نہ کرسکے گا۔ اس سے مقصد یہ تھا کہ مسلمان خوفزدہ ہو کر اپنی جگہ رہ جائیں اور مقابلہ پر نہ آنے کی ذمہ داری انہی پر رہے۔ ابوسفیان کی اس چال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
تیسری آیت میں ان حضرات صحابہ کے اقدام جہاد اور حسبنا اللہ و نعم الوکیل کہنے کے فوائد وثمرات اور برکات کا بیان ہے، فرمایا ہے
فانقلبوا بنعمة من اللہ و فضل لم یمسھم سوء واتبعوا رضوان اللہ یعنی یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس آئے کہ انہیں کوئی ناگواری ذرا نہ پیش آئی اور یہ لوگ رضائے الٰہی کے تابع رہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو تین نعمتیں عطا کیں، پہلی نعمت تو یہ کہ کافروں کے قلوب میں رعب وہیبت ڈال دی اور وہ لوگ بھاگ گئے جس کی وجہ سے یہ حضرات قتل و قتال سے محفوظ رہے، اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نے نعمت ہی کے لفظ سے تعبیر فرمایا اور دوسری نعمت اللہ تعالیٰ نے یہ عطا فرمائی کہ ان حضرات کو حمراء…
Read the full tafseer →اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيْطٰنُ الایہ، یعنی یہ ڈراوے سب شیطان کی طرف سے تھے اور اس طرح وہ تم پر اپنا اور اپنے ساتھیوں اور دوستوں کا رعب جمانا چاہتا تھا تو تم شیطان اور اس کے ساتھیوں سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھی سے ڈرو، اگر تم سچے مومن ہو، ظاہر ہے کہ یہاں شیطان اور اس کے اولیا سے اشارہ قریش اور ان کے ساتھیوں کی طرف ہے اور ان سے جس ڈر کی ممانعت کی گئی ہے یہ وہ ڈر ہے جس کا ہوا منافقین دکھا رہے تھے کہ ان کے ڈر سے خدا کے دین کے احکام و مطالبات کو پس پشت ڈال دیا جائے۔
Read the full tafseer →175۔ 1 یعنی تمہیں اس وسوسے اور وہم میں ڈالتا ہے کہ وہ بڑے مضبوط اور طاقتور ہیں۔
175۔ 2 یعنی جب وہ تمہیں اس وہم میں مبتلا کرے تو تم صرف مجھ پر ہی بھروسہ رکھو اور میری ہی طرف رجوع کرو میں تمہیں کافی ہوجاؤں گا اور تمہارا ناصر ہوں گا، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ) 39:36 کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–179
60: آیت 176 سے 178 تک اس شبہ کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں تو انہیں دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی کیوں حاصل ہے ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آخرت میں تو کوئی حصہ ملنا نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ڈھیل دئیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے یہ مزید گناہوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت آنا ہے جب یہ اکٹھے عذاب میں دھر لیے جائیں گے۔ آیت 179 میں اس کے مقابل اس شبہ کا جواب ہے کہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ پسند ہیں، اس کے باوجود ان پر مصیبتیں کیوں آرہی ہیں ؟ اس کا ایک جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ آزمائشیں مسلمانوں پر اس لیے آرہی ہیں تاکہ مسلمانوں پر واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
اور پھر انجام کیا ہوگا ؟ وہی جو اللہ نے متوکلین کے لئے لکھ دیا ہے جو اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں اور جن کے لئے بس اللہ ہی کافی ہوتا ہے۔
فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
” آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ‘ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضاپر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہوگیا ‘ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “
وہ مشکلات سے بچ کر بغیر کسی تکلیف کے واپس ہوگئے ۔ اللہ کی رضامندی کے ساتھ واپس ہوئے اور کامیابی اور خوشی سے واپس ہوئے ۔ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ…
Read the full tafseer →4 یعنی جو ادھر سے آکر مرعوب کن خبریں پھیلاتا ہے وہ شیطان ہے یا شیطان کے اغواء سے ایسا کر رہا ہے جس کی غرض یہ ہے کہ اپنے چیلے چانٹوں اور بھائی بندوں کا رعب تم پر بٹھلا کر خوفزدہ کردے، سو تم اگر ایمان رکھتے ہو (اور ضرور رکھتے ہو جس کا ثبوت عملا ً دے چکے) تو ان شیطانوں سے اصلا مت ڈرو صرف مجھ سے ڈرتے رہو کہ ہر کہ ترسید از حق وتقویٰ گزید ترسدازوے جن وانس و ہر کہ دید
Read the full tafseer →آیت 175 اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَ ‘ ہٗص
وہ تو چاہتا ہے کہ اپنے ساتھی کفار یعنی حزب الشیطان کا خوف تم پر طاری کر دے۔ اس کے ایک معنی یہ بھی لیے گئے ہیں کہ شیطان اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے۔ یعنی شیطان کی اس تخویف کا اثر انہی پر ہوتا ہے جو اس کے ولی ہوتے ہیں ‘ لیکن جو اولیاء اللہ ہیں ان پر شیطان کی طرف سے اس قسم کی وسوسہ اندازی کا اثر نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →173 پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ ابو سفیان نے خود ہی غزوہ احد سے اگلے سال بدر کے میدان میں مقابلہ کے لیے چیلنج کیا۔ مگر بعد میں خود ہی ہمت ہار بیٹھا اور الزام مسلمانوں کے سر تھوپنے اور انہیں ڈرانے اور دہشت زدہ کرنے کے لیے ایک شخص نعیم بن مسعود کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ مدینہ جاکر مسلمانوں کو بتلائے کہ ابو سفیان نے اتنا لشکر جرار تیار کرنے کی ٹھانی ہے جو عرب بھر کے مقابلہ کو کافی ہوگا۔ اس طرح مسلمان خود خوف زدہ ہو کر بدر میں مقابلہ پر آنے کا ارادہ ترک کردیں گے۔ اس سارے ڈرامہ کو اللہ تعالیٰ نے شیطانی کھیل سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہاں شیطان سے مراد ابو سفیان بھی ہوسکتا ہے اور نعیم بن مسعود…
Read the full tafseer →360 ۔ شیطان کہیں اپنی اصلی صورت میں سامنے آکر حملہ نہیں کرتا جب وار کرتا ہے کسی نہ کسی انسانی شکل و قالب میں آکر اور یہی اولیاء الشیطان کہلاتے ہیں، یہاں اس جماعت کا لیڈر نعیم ثقفی تھا۔ اولیاء ای باولیاء ہ (قرطبی)
361 ۔ (کہ اللہ کے خوف کو مخلوق کے خوف پر غالب رکھنا لازمہ ایمان ہے) (آیت) ” لاتخافوھم۔ ھم۔ سے مراد ہیں شیطان کے دوست یا اللہ کے دشمن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–176
آیت نمبر 176 تا 180
ترجمہ : جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے (دوبارہ) قتال کے لیے نکلنے کے حکم پر لبیک کہہ دیا باوجودیکہ وہ احد میں زخم خوردہ ہوچکے تھے۔ (اور یہ اس وقت ہوا) کہ جب ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے پلٹ کر آنے کا ارادہ کیا۔ اور نبی ﷺ سے یوم احد کے بعد آئندہ سال بازار بدر کے موقع پر (مقابلہ آرائی) کا چیلنج کیا۔ اَلَّذِیْنَ مبتدا ہے اور اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ ، اس کی خبر ہے۔ ان میں سے جنہوں نے اس کی اطاعت کے ذریعہ نیکی اختیار کی اور اس کی مخالفت سے اجتناب کیا ان کے لیے اجر عظیم ہے اور وہ جنت ہے۔ اور یہ ایسے لوگ ہیں (الذین) سابق الذین سے بدل یا صفت ہے۔ کہ جب ان سے لوگوں یعنی نعیم بن…
Read the full tafseer →انما ذالکم بیشک وہ یعنینعیم یا ابو سفیان الشیطان شیطان ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ ذٰلکم کا اشارہ قول مذکور کی طرف بھی ہوسکتا ہے
اس صورت میں الشیطان سے پہلے مضاف محذوف ہوگا یعنی قول مذکور شیطان کا فعل ہے۔ شیطان نے ان کی زبانوں سے یہ بات کہلوائی ہے تاکہ وہ تم کو خوفزدہ بنادیں اور تم پست ہمت ہوجاؤ۔
یخوف اولیاءہ جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے یعنی ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو رسول اللہ کے ساتھ جہاد کو نہیں نکلے تھے یا اولیاء سے پہلے حرف جر محذوف ہے یعنی اپنے دوستوں (ابوسفیان کے ساتھیوں) سے تم کو ڈراتا ہے۔ سدی نے یہ مطلب بیان کیا کہ تمہارے دلوں میں اپنے دوستوں کو بڑا کرکے ظاہر کرتا ہے تاکہ تم ان سے ڈر…
Read the full tafseer →(175) بات یہ ہے کہ تم لوگوں کو نعیم بن مسعود اشجعی نے (اللہ تعالیٰ نے اس کو شیطان فرمایا) اپنے کافر دوستوں سے آکر ڈرانا چاہا، لہٰذا باہر نکلنے میں ان سے مت ڈرو اور گھروں میں بیٹھے رہنے میں مجھ سے ڈرو، اگر تم میری تصدیق کرنے والے ہو۔
Read the full tafseer →وہ شخص جو یہ افواہیں پھیلا رہا تھا اسے شیطان فرمایا اور بتایا کہ یہ اپنے منافق دوستوں سے ڈرا رہا ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر دل میں نہ لائیں۔ حقیقی شیطان بھی اپنے انسانی دوست شیطانوں کے دلوں میں مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے نئے سے نئے طریقے ڈالتا رہتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (112)۔ آج کل اخبار، ریڈیو، ٹیوی اور انٹرنیٹ جھوٹ پھیلانے اور خوف زدہ کرنے کے لیے شیطان کے آلات ہیں۔ مومن کو ان کی خبروں سے ڈرنے کے بجائے اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے اور ”اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ“ کے تحت ان کا علاج بھی کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 175۔
حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے ” یخوفکم اولیاء “ یعنی وہ تمہیں ڈراتا ہے اپنے دوستوں کے ساتھ یا اپنے دوستوں سے (2) (زادالمسیر جلد 1۔ 2، صفحہ 403) اس سے حرف جر (بایامن) حذف کردیا گیا ہے اور فعل کو اسم کے ساتھ ملا دیا گیا ہے اور اسے (اسم کو) نصب دی گئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” لینذر باسا شدیدا “۔ ای لینذر کم بب اس شدید، (تاکہ وہ تمہیں ڈرائے شدید قوت کے ساتھ) یعنی وہ مومن کو کافر سے ڈراتا ہے، اور حسن اور سدی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے وہ اپنے منافق دوستوں کو ڈراتا ہے، تاکہ وہ مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے بیٹھ جائیں (3) (ایضا، جلد 1، 2 صفحہ 404) اور رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
(1) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “ سے منافق لوگ مراد ہیں۔
(2) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “ سے کافر مراد ہیں۔
(3) ابن ابی حاتم نے مجاہد رحمۃ اللہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین اشتروا الکفر بالایمان “ سے منافق لوگ مراد ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →[اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ : یہ شیطان ] [یُخَوِّفُ : خوفزدہ کرتا ہے (تم لوگوں کو) ] [اَوْلِیَـآئَ ‘ ہٗ : اپنے چیلوں سے ] [فَلاَ تَخَافُوْہُمْ : پس تم لوگ مت ڈرو ان سے ] [وَخَافُوْنِ : اور ڈرو مجھ سے
اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ] [مُّـؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–175
صحابہ کی تعریف جنہوں نے زخم خوردہ ہونے کے باو جود اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانا
درمنثور صفحہ 101: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور اس کے ساتھی (غزوہ احد کے بعد) واپس ہوئے اور مشرکین کا آپس میں مشورہ ہوا کہ ہم شکست دے کر واپس آگئے (یہ تو کچھ بھی نہ ہوا) سب مسلمانوں کو ختم ہی کردیتے لہٰذا واپس چل کر پھر حملہ کریں، اس کی خبر آنحضرت ﷺ کو ہوگئی تو آپ اپنے صحابہ کو لے کر ان کے پیچھے چلے اور مقام حمراء الاسد تک ان کا پیچھا کیا جب ابو سفیان کو یہ پتہ چلا کہ آپ ہمارے پیچھے آ رہے ہیں تو ابو سفیان اپنے ساتھیوں کو لے کر چلا گیا، راستے میں بنی عبدالقیس کے چند سواروں سے ملاقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–175
قصہ غزوہ حمراء الاسد۔
قال تعالیٰ الذین استجابوا۔۔۔۔ الی۔۔۔ مومنین۔
ربط) گزشتہ آیات میں غزوہ احد کا قصہ بیان ہوا اب ان آیات میں غزوہ احد ہی کے متعلق ایک دوسرے سے غزوے کا ذکر فرماتے ہیں جو غزوہ حمراء الاسد کے نام سے مشہور ہے اور غزوہ احد سے متصل واقع ہے یا یوں کہو کہ گزشہ آیات میں شہداء احد کا ذکر تھا اب ان آیات میں شہداء احد کے ان اخوان مخلصین کا ذکر فرماتے ہیں جو، الذین لم یلحقوا بھم من خلفھم۔ آیت۔ کا مصداق ہیں یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی بشارت کا ذکر تھا اور اس آیت میں بھی غزوہ حمراء الاسد کے مجاہدین کے لیے انقلاب بنعمۃ من اللہ وفضل لم یمسسھم سوء۔ آیت۔ کی بشارت…
Read the full tafseer →267 یہ جملہ مستانفہ ہے اس میں شیطان کی شرارت و شیطینت کا ذکر فرمایا نیز ایمان والوں کو نصیحت فرمائی کہ جس طرح اس موقع پر وہ شیطان کے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوئے اور نہ اس سے ڈرے ہیں اسی طرح آئندہ بھی وہ شیطان کے چیلوں سے مت خوف کھائیں اور صرف مجھ سے ڈریں۔ ذَالِکُمْ میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اشارہ اس پروپیگنڈا کرنے والے کی طرف ہے جو مسلمانوں سے کفار کی جمعیت اور کثرت سامان کا ذکر کر کے ان کی ہمتیں پست کرنا چاہتا تھا۔ اور یُخَوِّفُکُمْ اَوْلِیَاءَہ (روح ج 4 ص 129، کبیر ج 3 ص 148) اور اَوْلِیَاءَہ میں ضمیر الشیطان کی طرف راجع ہے اور اَوْلِیَاءَ الشَّیْطٰنِ سے یہاں ابو سفیان و من معہ (بحر ج 3…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–175
ربط آیات : یہ آیات بھی غزوہ احد ہی کے ضمن میں ہیں۔ سابقہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کی فضیلت بیان فرمائی اور ان منافقوں کی مذمت کی جو کہتے تھے کہ اگر مسلمان ہماری بات مانتے ، لڑائی کے لیے باہر نہ نکلتے ، تو نہ مارے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے شہداء کو مردہ کہنے سے منع فرمایا ، بلکہ ان کی حیات جاودان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں روزی دی جا رہی ہے اور وہ صدق اور قرب کے مقام پر فائز ہیں۔ اپنے پس ماندگان کے متعلق انہیں بشارت ملتی ہے کہ اگر وہ بھی صراط مستقیم پر گامزن رہے ، تو شہداء کے ساتھ آ ملیں گے۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ وہ ایمان والوں کے اجر کسی صورت میں ضائع نہیں کرتا۔
یہ بات کسی گذشتہ درس…
Read the full tafseer →اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيْطٰنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَاۗءَہٗ 0۠ فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 175
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112]
( ش ط ن ) الشیطان
اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
ترکیب : ذلکم مبتدا الشیطان خبر ‘ یخوف جملہ حال ہے الشیطان سے ‘ والعامل الاشارۃ ای یخوفکم باولیائہ او یخوف اولیاءہ الذین کفروا فاعل ‘ لایحسبن الذین انما نملی لہم جملہ قائم مقام دو مفعولوں کے۔
تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ کفار اہل ایمان کو ڈراتے ہیں کہ تمہارے لئے فوجیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہاں فرماتا ہے کہ یہ ڈرانے والا (یعنی نعیم بن مسعود 1 ؎ یا جماعت کفار ابو سفیان وغیرہ) شیطان ہے کہ جو اپنے دوستوں یعنی مشرکین و کفار کی شوکت سے خدا کے دوستوں کو ڈرایا کرتا ہے اور دل میں وسوسہ ڈالا کرتا ہے یا یہ معنی کہ یہ شیطان اپنے یاروں کو ڈرایا کرتا ہے یعنی اس کا گذر زیادہ انہیں کے دل میں ہے۔ وہیں زیادہ وسوسہ ڈالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–175
اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْالِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ م بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ ج اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْجَمَعُوْا لَـکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا صلے ق وَّقَالُوْا حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ۔ فَانْقَلَـبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْٓئٌ لا وَّاتَّـبَـعُوْا رِضْوَانَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَظِیْمٍ ۔ اِنَّمَاذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَـآئَ ہٗ ص فَلاَ تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْـتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔
(جن لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
فہم القرآن
ربط کلام : احد میں مقابلہ یا اس کے بعد کفار کی دھمکیاں دراصل شیطانی ہتھکنڈے ہیں جن سے ڈرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔
اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے سمجھا دیا گیا کہ کبھی اور کسی حال میں بھی شیطان اور اس کے چیلوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مکرو فریب بظاہر بڑے مضبوط اور خوفناک نظر آتے ہیں لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور کامل ایمان کے ساتھ قائم رہو گے تو کفار کی سازشیں اور شرارتیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ شیطان اور غیروں کے خوف کی بجائے اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے سینوں میں جاگزیں کرو۔ جس کا خاصہ یہ ہے کہ آدمی بڑی سے بڑی طاقت اور سازش سے خوفزدہ نہیں…
Read the full tafseer →منافقین شیطان کے دوست ہیں :
175: اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآئَ ہٗ فَـلَا تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (بیشک یہ شیطان ہے )
نحو : ذٰلِکُمُ مبتداء اور الشَّیْطٰنُ اس کی خبر ہے۔ الشَّیْطٰنُ سے مراد نعیم ہے۔ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآئَ ہٗ (وہ اپنے دوستوں کو ڈرا رہا ہے) مراد منافقین ہیں۔ یہ جملہ مستانفہ ہے اور افواہ کا بیان ہے۔ یا الشَّیْطٰنُاسم اشارہ کی صفت ہے۔ اور یُخَوِّفُ اس کی خبر ہے۔ فَلَا تَخَافُوْھُمْ (تم ان سے مت ڈرو) یعنی اسکے دوستوں سے وَخَافُوْنِ اِنْ کُنتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اور مجھ ہی سے ڈرو اگر تم مومن ہو) کیونکہ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ خوف…
Read the full tafseer →(تفسیر) 175۔:
(آیت)” انما ذلکم الشیطان “۔ یعنی یہ جو انہوں نے کہا (آیت)” ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم “۔ یہ مذکورہ قول شیطان کا فعل ہے ، شیطان نے ان کی زبانوں سے یہ بات کہلوائی ہے تاکہ وہ تم کو خوفزدہ بنادیں اور تم پست ہمت ہوجاؤ ۔ (آیت)” یخوف اولیائ “۔ وہ تمہیں ان کے اولیاء (سرداروں) سے ڈراتا ہے اسی طرح ابی بن کعب ؓ کی قرات میں ہے پھر اس کا معنی ہے کہ مؤمنین کو ڈراتے ہیں کافروں سے ، سدی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ تمہارے دلوں میں اپنے دوستوں کو بڑا کرکے ظاہر کرتا ہے تاکہ تم ان سے ڈر جاؤ ، یہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرات ہے (آیت)” یخوفکم اولیاء ہ “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فلاتخافوھم وخافون “۔ میرے حکم کے ترک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–175
(172 ۔ 175) ۔ آیت یا ایھا الذین امنوا لا تاکلو الربوا (13/3) کی تفسیر میں گذر چکا ہے کہ احد کی لڑائی کے بعد مکہ کو واپس جاتے وقت اپنے ساتھ مشرکین سے ابو سفیان نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے سرگروہ (محمد ﷺ کا کام تمام نہ کیا اور مسلمانوں کی جوان جوان عورتیں لونڈیاں بنا کر نہ لائے اس کا بڑا افسوس ہے۔ یہ خبر آنحضرت ﷺ کو پہنچی آپ نے حکم دیا کہ کل کے روز احد کی لڑائی میں جو لوگ گئے تھے وہی لوگ آج پھر مشرکین کا پیچھا کریں اگرچہ احد کی لڑائی والے زخمی اور تھکے ہوئے تھے لیکن انہوں نے فورً اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کی۔ اور مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد ایک مقام ہے وہاں تک آنحضرت ﷺ ستر صحابہ کو ساتھ لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–176
آیت 172-175
جب رسول اللہ ﷺ احد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لئے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ” حمراء الاسد “ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا (ان الناس قد جمعوا لکم) اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمہیں مٹانے کے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انہوں نے کہا۔ (حسبنا اللہ) یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–180
نجیل آدمی خوداپنا دشمن ہوتا ہے
قول باری ہے (ولایحسبن الذین یبخلون بما اتاھم اللہ من فضلہ ھوخیرالھم بل ھوشرالھم، سیطوقون مابخلوابہ یوم القیامۃ، جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ نجیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں بہت بری ہے جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روزان کے گلے کا طوق بن جائے گا) سدی کا قول ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور زکوۃ ادا کرنے میں نجل کریں ان کے لیے یہ حکم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اہل کتاب کے متعلق ہے، انھوں نے اپنی کتاب میں درج شدہ احکام الٰہی کو لوگوں سے…
Read the full tafseer →372 انسانی لبادے میں شیطان اور اس کی کارستانی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ شخص شیطان تھا جو انسانی لبادے میں شیطان کی ڈیوٹی ادا کر رہا تھا۔ سو اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ شیطان انسانی لباس اور لبادے میں بھی ہوتے ہیں، جیسا کہ کتاب حکیم میں ایک دوسرے مقام پر شیاطین الانس والجن کے الفاظ سے اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ نیز فرمایا گیا { مِنَ الجِنَّۃ وَالنَّاسِ } اور دوسری بات یہاں سے یہ معلوم ہوئی کہ جھوٹ اور جھوٹا پروپیگنڈا دراصل شیطانی عمل ہے اگرچہ اس کے علمبردار و کارپرداز اپنے بارے میں بڑا زعم و گھمنڈ رکھتے اور بلند بانگ دعوے کرتے ہوں۔ کیونکہ یہاں پر جس شخص کو شیطان فرمایا گیا ہے اس نے…
Read the full tafseer →شیطان کا ڈرانا بیکار ہے
تشریح : پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے ابو سفیان ؓ نے بھیجے تھے تو اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ تو صرف شیطان کے بھائی بند ہیں ان سے ہرگز مت ڈرو اگر تم سچے اور پکے مسلمان ہو تو پھر کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں صرف رحمن واحد سے ڈرو جو قادر مطلق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–180
آیات 172- 180
اسرارو معارف
الذین استجابوا للہ والرسول………………ان کنتم مومنین۔
یہ جملہ فضائل ان لوگوں کو حاصل ہیں جنہوں نے لاکھوں مشکلات کے باوجود اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے منہ نہ موڑا۔ یہی لوگ نیک بھی ہیں اور پرہیزگار بھی۔ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔
قرآن حکیم ساری انسانیت کے لئے اور ہمیشہ کے لئے اللہ کی آخری کتاب ہے۔ اس لئے اصولی باتیں بیان فرماتا ہے کہ مصائب دنیا بھی دراصل ترقی درجات کا سبب بن جاتے ہیں کہ جس قدر مشکلات میں اطاعت کرے گا اسی قدر اجر میں زیادتی ہوگی۔ چونکہ مثالی اور معیاری مومن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اس لئے ذکر ان کا کیا جاتا ہے ، جیسے یہاں ارشاد ہے۔
صاحب تفسیر…
Read the full tafseer →ف 4 وہ شخص جو افواہیں پھیلا رہا تھا اسے شیطان فرمایا اور بتایا کہ یہ اپنے منا فق درستوں کو ڈرہا ہے مسلمانوں کا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا اندیشہ دل میں نہ لائیں (رازی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
(3:173) حسبنا اللہ۔ کافی ہے ہمارے لئے اللہ کی ذات ۔ اللہ ہی ہمارے لئے کافی ہے۔ حسب۔ مصدر۔ حسب یحسب (نصر) سے۔
وکیل۔ صفت مشبہ۔ وکل مصدر۔ (باب ضرب) کارساز۔ نگران ، نگہبان۔ ضامن ۔ ذمہ دار۔
آیۃ 172 میں اللہ اور اس کے رسول کا فرمان قبول کرنے والوں اور ان میں نیکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے اجر عظیم کی بشارت ہے یہی بشارت ان کے لئے بھی ہے جن کا ذکر آیۃ 173 میں ہوا ہے جو دشمن کی کثرت سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ ان کا ایمان اور مضبوط ہوگیا اور انہوں نے کلیۃً اللہ پر ڈوری ڈال دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–177
لغات القرآن آیت نمبر 165 تا 177
اصبتم (تم نے پہنچادیا) مثلیھا (اس سے دوگنا) ادفعوا (دور کرو) اقرب (زیادہ قریب) قعدوا (بیٹھے رہے) لواطاعونا (اگر ہماری بات مانتے) ادرء وا (تم دور کرو) یرزقون (رزق دیئے جاتے ہیں) فرحین (خوش ہوتے ہیں) یستبشرون (بشارت وخوش خبری دیتے ہیں) لم یلحقوا (نہیں ملے) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) یسارعون ( دوڑتے ہیں) حظ (حصہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 165 تا 177
غزوۂ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتماعی غلطی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تکلیف اٹھا نا پڑی اس پر اہل ایمان نے تو صبر اور برداشت سے کام لیا لیکن مناقفین کو بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–175
دوبارہ جنگ کی تیاری
جنگ احد سے واپس ہوتے ہوئے ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ سے پکار کر کہہ دیا تھا کہ اگلے سال ہماری آپ کے مقام بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور نے اس کے جواب میں انشاء اللہ ارشاد فرمایا۔ جب وہ وقت آیا اور ابو سفیان اہل مکہ کو لے کر جنگ کے لئے روانہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں خوف ڈالا، اور انہوں نے واپس ہوجانے کا ارادہ کیا۔ اس موقع پر ابو سفیان کی نعیم بن مسعود اشجعی سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا۔ ابو سفیان نے اس سے کہا کہ اے نعیم ! اس زمانہ میں میری لڑائی مقام بدر میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ طے ہوچکی ہے، اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاؤں، واپس چلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
[66] احد کے میدان سے جاتے ہوئے دشمن کہہ گئے تھے کہ آئندہ سال بدر میں فیصلہ کن مقابلہ ہوگا مگر جب وعدے کا وقت قریب آیا تو ان کی ہمت نے جواب دے دیا لیکن مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے اپنے آدمی پروپیگنڈا کرنے کے لئے چھوڑ دیئے جنہوں نے مدینہ پہنچ کر مسلمانوں میں یہ خبر پھیلانی شروع کردی کہ اب کے سال قریش نے اتنی زبردست تیاریاں کی ہیں اور ایسا بھاری لشکر جمع کیا ہے کہ اگر مسلمان مقابلے پر نکلے تو ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچے گا۔ اس پروپیگنڈے نے بجائے پست ہمتی پیدا کرنے کے مسلمانوں میں جوش ایمانی اور تیز کردیا۔ چناچہ پندرہ سو فدائین رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر پہنچ گئے لیکن دشمن مقابلے پر نہ آیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ خوف وحزن شیطان کی طرف سے ہے ۔ وہ رگوں کو بزدل بنا دیتا ہے اور عواقب ونتائج کی بھیانک اور خوفناک تصویر پیش کرکے کم حوصلہ اور پست ہمت لوگوں کو ولولہ جہاد سے روک دیتا ہے ، مگر وہ لوگ جو خدا پرست ہیں ‘ وہ بجز احکم الحاکمین کے اور کسی سے نہیں ڈرتے ، ان کا دل ہر قسم کے خوف وہراس اور ہر نوع کے حزن سے پاک ہوتا ہے ، وہ دنیا میں پوری بےخوفی سے رہتے ہیں ، وہ انجام سے بےپرواہ ہوتے ہیں ، وہ صرف یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فی الحال ان کے فرائض کیا ہیں وہ اس چیز کی مطلقا پرواہ نہیں کرتے کہ انہیں اس کے بعد کن نتائج و عواقب سے دوچار ہونا پڑے گا ، وہ پورا پورا یقین رکھتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →ف 1 چناچہ یہ لوگ واپس آئے اور اس شان کے ساتھ واپس آئے کہ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ لوٹے یعنی ثواب اور تجارت کے نفع سے مالا مال ہو کر واپس آئے اور ان کو ذرا بھی کوئی ناگوار بات پیش نہیں آئی اور کسی معمولی سی تکلیف نے بھی ان کو مس تک نہیں کیا اور وہ لوگ رضائے الٰہی اور اس کی مرضی کے تابع رہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔
مسلمانو ! سوائے اس کے کوئی بات نہیں کہ یہ بدخبر اور دہشت پھیلانے والا عملاًشیطان ہے جو اپنے ہم مذہب اور ہم مشرب دوستوں سے تم کو ڈراتا ہے لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو اور صرف اللہ ہی ہے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ مسلمان جو محسن بھی تھے اور متقی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–175
ف 1۔ اوپر منافقین کی بےوفائی اور بدخواہی کا ذکر تھا جناب رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر ان کی ان حرکات کا رنج ہوا ہوگا حق تعالیٰ آیت آئندہ میں آپ کو تسلی دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ضمنا وتبعا جمیع کفار کے معاملہ کے متعلق خواہ کوئی ہو آپ کی تسلی فرماتے ہیں تاکہ آپ کے قلب پر اب یا آئندہ ان کی اور دوسروں کی طرف سے کبھی ضد غالب نہ ہو۔
Read the full tafseer →مکی لشکر کی دوبارہ چڑھائی کی خبر دینے والا کون تھا ؟ شیطان
318: یہ افواہ کس نے پھیلائی کہ ابو سفیان اپنے لشکر کو دوبارہ تیار کر کے مدینہ پر بس ٹوٹ پڑنے والا ہے ؟ فرمایا یہ گیدڑ بھبکی شیطان کی تھی اور یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ شیطان کہیں بھی اپنی اصلی صورت میں سامنے آکر حملہ نہیں کرتا جب وار کرتا ہے کسی نہ کسی انسانی شکل و قالب میں آکر ہی وار کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کام اس کا ہے جس کی شکل تو انسانوں جیسی ہوتی ہے لیکن اپنے کاموں کے لحاظ سے وہ شیطان ہوتا ہے گویا ” شیاطین الانس “ میں سے کسی شیطان کا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو ” اولیاء الشیطن “ کہلاتے ہیں اور ان کا کام ہی خوف و ہراس پھیلانا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–175
The third verse (174) recounts the blessings which descended upon these noble Companions for their brave response to the call of Jihad and for saying: حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (Allah is all-sufficient for us, and the best one to trust in). It was said:
فَانقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّـهِ
So, they returned with bounty from Allah, and grace, with no evil having even touched them -- and submitted to the pleasure of Allah.
Allah Almighty bestowed on them three blessings:
1. Such awe and terror was placed in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
124. While returning from the Battle of Uhud, Abu Sufyan challenged the Muslims to another encounter at Badr the following year. But when the appointed time arrived, Abu Sufyan's courage failed him on account of the famine prevailing in Makka that year. As a face-saving device he arranged to send an agent to Madina who spread the rumour that tremendous war preparations were afoot among the Quraysh, and that they were trying to muster a huge army which would be so powerful that no other power in the whole of Arabia would resist it. The purpose of this rumour was to overawe the Muslims and…
Read the full tafseer →