Aal-i-Imraan 3:174

Aal-i-Imraan · from ayah 174

3:174

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ ۙ— وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ ؕ— وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ ۟فَانْقَلَبُوۡا بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوۡٓءٌ ۙ وَّاتَّبَعُوۡا رِضۡوَانَ اللّٰهِ ‌ؕ وَاللّٰهُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَظِيۡمٍ

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So they returned with favor from Allah and bounty, no harm having touched them. And they pursued the pleasure of Allah, and Allah is the possessor of great bounty.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 18 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:174

آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے، ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہو گیا، اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(نتیجہ یہ ہوا کہ) اللہ کی نعمت وفضل کے ساتھ یہ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہ پہنچی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی پیروی کی، اللہ بہت بڑے فضل واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

نتیجہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل لے کر اس طرح واپس آئے کہ انہیں ذرا بھی گزند نہیں پہنچی، اور وہ اللہ کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ (مسلمان) اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے انہیں کوئی گزند نہ پہنچی اور انہوں نے رضائے الٰہی کی پیروی کی اور اللہ بڑے فضل والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو وہ اللہ کی طرف سے عظیم نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انھیں کوئی برائی نہیں پہنچی اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی نعمت حاصل کرکے واپس آئے، انہیں کوئی تکلیف بھی نہ پہنچی، وہ اللہ کی رضا کے پیچھے لگے رہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

سو یہ لوگ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے، ان کو ذرا گزند نہ پہنچا، اور یہ اللہ کی خوشنودی کے طالب ہوئے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اس (ایمان و یقین اور صدق و اخلاص) کے نتیجے میں وہ اللہ (کی طرف) سے ملنے والی بڑی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس لوٹے، اس حال میں کہ کسی (تکلیف اور) برائی نے ان کو چھوا تک نہیں، اور انہیں اللہ کی رضا کی پیروی کا شرف بھی حاصل ہوگیا، اور اللہ بڑا ہی فضل فرمانے والا (اور نوازنے والا) ہے

— مولانا اسحاق مدنی

سو یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس آئے کہ انہیں کوئی ناگواری (ذرا) نہ پیش آئی اور یہ لوگ رضاء الہی کے تابع رہے۔ اور اللہ بڑا فضل والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس وہ لوٹ آئے اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ ان کو کسی قسم کا بھی ضرر نہ پہنچا اور انہوں نے تو اللہ کی رضا کی پیروی کی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو وہ اللہ کی طرف سے عظیم نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انھیں کوئی برائی نہیں پہنچی اور انہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

So they returned with a mighty favour and a great bounty from Allah having suffered no harm. They followed the good pleasure of Allah, and Allah is the Lord of great bounty.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, they returned with bounty from Allah, and grace, with no evil having even touched them, and submitted to the pleasure of Allah. Allah is the Lord of great bounty.

— Muhammad Taqi Usmani

So, they returned with bounty from Allah, and grace, with no evil having even touched them, and submitted to the pleasure of Allah. Allah is the Lord of great bounty.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So they returned with grace and bounty from Allah. No harm touched them; and they followed the pleasure of Allah. And Allah is the Owner of great bounty.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So they returned with grace and favour from Allah, and no harm touched them. They followed the good pleasure of Allah, and Allah is of Infinite Bounty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So they returned with favor from Allah and bounty, no harm having touched them. And they pursued the pleasure of Allah, and Allah is the possessor of great bounty.

— Saheeh International

They returned with the favors and the bounties of God untouched by evil and followed by the pleasure of God. God's favor is great.

— Muhammad Sarwar

So they returned with favor from Allah and (His) grace, no evil touched them and they followed the pleasure of Allah; and Allah is the Lord of mighty grace.

— Muhammad Habib Shakir

They then returned with a favour from Allah and His grace: no evil touched them: and they followed Allah's pleasure and Allah is Owner of mighty grace.

— Abdul Majid Daryabadi

And they returned with Grace and bounty from Allah: no harm ever touched them: For they followed the good pleasure of Allah: And Allah is the Lord of bounties unbounded.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:174

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 169–175

بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 174–175

سورة اٰلِ عِمْرٰن 124 احد سے پلٹتے ہوئے ابو سفیان مسلمانوں کو چیلنج دے گیا تھا کہ آئندہ سال بدر میں ہمارا تمہارا پھر مقابلہ ہوگا۔ مگر جب وعدے کا وقت قریب آیا تو اس کی ہمت نے جواب دے دیا کیونکہ اس سال مکہ میں قحط تھا۔ لہٰذا اس نے پہلو بچانے کے لیے یہ تدبیر کی کہ خفیہ طور پر ایک شخص کو بھیجا جس نے مدینہ پہنچ کر مسلمانوں میں یہ خبریں مشہور کرنی شروع کیں کہ اب کے سال قریش نے بڑی زبردست تیاری کی ہے اور ایسا بھاری لشکر جمع کر رہے ہیں جس کا مقابلہ تمام عرب میں کوئی نہ کرسکے گا۔ اس سے مقصد یہ تھا کہ مسلمان خوفزدہ ہو کر اپنی جگہ رہ جائیں اور مقابلہ پر نہ آنے کی ذمہ داری انہی پر رہے۔ ابوسفیان کی اس چال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 174–175

تیسری آیت میں ان حضرات صحابہ کے اقدام جہاد اور حسبنا اللہ و نعم الوکیل کہنے کے فوائد وثمرات اور برکات کا بیان ہے، فرمایا ہے فانقلبوا بنعمة من اللہ و فضل لم یمسھم سوء واتبعوا رضوان اللہ یعنی یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس آئے کہ انہیں کوئی ناگواری ذرا نہ پیش آئی اور یہ لوگ رضائے الٰہی کے تابع رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو تین نعمتیں عطا کیں، پہلی نعمت تو یہ کہ کافروں کے قلوب میں رعب وہیبت ڈال دی اور وہ لوگ بھاگ گئے جس کی وجہ سے یہ حضرات قتل و قتال سے محفوظ رہے، اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نے نعمت ہی کے لفظ سے تعبیر فرمایا اور دوسری نعمت اللہ تعالیٰ نے یہ عطا فرمائی کہ ان حضرات کو حمراء…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 173–174

تفسیر آیت 173۔ 174۔ اَلَّذِيْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ الایہ، میں مذکورہ اصحاب احسان کا بیان ہے کہ جب منافقین نے کو ہراساں کرنے کے لیے یہ افواہ پھیلائی کہ قریش نئے ساز و سامان کے ساتھ حملہ کی پھر تیاریاں کر رہے ہیں تو یہ خبر بجائے اس کے کہ ان کے اندر خوف و ہراس پیدا کرتی، ان کے عزم و ایمان کو بڑھانے کا سبب بن گئی۔ قاعدہ ہے کہ جس کنوئیں کے سوتے زور دار ہوں اس کے اندر سے جتنا ہی پانی نکالا جائے اتنا ہی اس کے سوتے اور زیادہ جوش کے ساتھ ابلتے ہیں۔ اسی طرح آگ اگر قوت ور ہو تو گیلی لکڑی بھی اس میں ڈالیے تو اس کو بھی اپنی غذا بنا کر مزید طاقت ور بن جاتی ہے۔ یہی حال اصحاب عزم و ایمان کا ہے۔ ان کو بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

174۔ 1 نِعْمَۃ، سے مراد سلامتی ہے اور فضل سے مراد نفع ہے جو بدر صغریٰ تجارت کے ذریعے حاصل ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے بدر صغریٰ میں ایک گزرنے والے قافلے سے سامان تجارت خرید کر فروخت کیا جس سے نفع حاصل ہوا اور آپ ﷺ نے مسلمانوں میں تقسیم کردیا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 174–179

60: آیت 176 سے 178 تک اس شبہ کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں تو انہیں دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی کیوں حاصل ہے ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آخرت میں تو کوئی حصہ ملنا نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ڈھیل دئیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے یہ مزید گناہوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت آنا ہے جب یہ اکٹھے عذاب میں دھر لیے جائیں گے۔ آیت 179 میں اس کے مقابل اس شبہ کا جواب ہے کہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ پسند ہیں، اس کے باوجود ان پر مصیبتیں کیوں آرہی ہیں ؟ اس کا ایک جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ آزمائشیں مسلمانوں پر اس لیے آرہی ہیں تاکہ مسلمانوں پر واضح…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 174–175

اور پھر انجام کیا ہوگا ؟ وہی جو اللہ نے متوکلین کے لئے لکھ دیا ہے جو اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں اور جن کے لئے بس اللہ ہی کافی ہوتا ہے۔ فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ ” آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ‘ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضاپر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہوگیا ‘ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “ وہ مشکلات سے بچ کر بغیر کسی تکلیف کے واپس ہوگئے ۔ اللہ کی رضامندی کے ساتھ واپس ہوئے اور کامیابی اور خوشی سے واپس ہوئے ۔ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اللہ کا فضل دیکھو نہ کچھ لڑائی کرنی پڑی نہ کانٹا چبھا، مفت میں ثواب کمایا، تجارت میں نفع حاصل کر کے اور دشمنوں پر دھاک بٹھلا کر خدا تعالیٰ کی خوشنودی لئے ہوئے صیحح سلامت گھر واپس آگئے۔ (تنبیہ) بدر صغریٰ کی طرح غزوہ حمراء الاسد میں بھی ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ سامان کی خریدو فروخت ہوئی تھی اور مسلمانوں نے بھاری نفع کمایا تھا غا لباً فضل سے یہ ہی مالی نفع مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 174 فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ ابوسفیان کو جب پتا چلا کہ محمد ﷺ ہمارے تعاقب میں آ رہے ہیں تو اس نے عافیت اسی میں سمجھی کہ سیدھا مکہ مکرمہ کی طرف رخ کرلیا جائے۔ بدرِصغریٰکی مہم میں بھی یہی ہوا کہ جب اس نے سنا کہ محمد رسول اللہ ﷺ تو اپنے پورے ساتھیوں کے ساتھ مقابلے پر آگئے ہیں تو وہ کنی کترا کر اور طرح دے کر نکل گیا اور مقابلے میں نہیں آیا۔ لَّمْ یَمْسَسْہُمْ سُوْءٌ لا انہیں اس مہم میں کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی جس میں وہ پورے اترے۔ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَان اللّٰہِ ط۔ انہیں اللہ کی رضا و خوشنودی پر چلنے کا شرف حاصل ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

172 یعنی صحابہ کرام ؓ ہر لحاظ سے فائدہ میں رہے۔ اللہ کی رضا بھی حاصل ہوگئی۔ جنگ کی سختی سے بھی بچ رہے۔ دشمن بھی مرعوب ہو کر واپس چلا گیا اور مالی فائدہ بھی حاصل ہوگیا اور ہر طرح سے کامیاب کامران واپس لوٹے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

358 ۔ (اور یہی رضاء الہی سر چشمہ ہے دنیوی اور اخروی ہر قسم کے نفع و راحت کا) (آیت) ” فانقلبوا “۔ یعنی مقام بدر تک جا کر مسلمان واپس آئے، اہل سیر وتاریخ کی زبان میں یہ واقعہ غزوۂ بدر ثانیہ کے نام سے موسوم ہے اور اس کا زمانہ شعبان 4 ؁ ہجری کا ہے۔ سیرت ابن ہشام میں ہے :۔” آپ ﷺ نے ابوسفیان کا انتظار آٹھ دن تک کیا اور ابوسفیان بھی مکہ والوں کو لے کر روانہ ہوا مگر نواحی ظہران میں پہنچا تو اس کی رائے مکہ واپس چلے آنے کی ہوئی اور اس نے قریش سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہارے سفر کے لیے تو ایسا موسم مناسب ہے جس میں تم اپنے جانوروں کو چرا بھی سکو اور دودھ بھی خوب پی سکو اور یہ موسم تو خشکی کا ہے سو میں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 170–176

آیت نمبر 176 تا 180 ترجمہ : جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے (دوبارہ) قتال کے لیے نکلنے کے حکم پر لبیک کہہ دیا باوجودیکہ وہ احد میں زخم خوردہ ہوچکے تھے۔ (اور یہ اس وقت ہوا) کہ جب ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے پلٹ کر آنے کا ارادہ کیا۔ اور نبی ﷺ سے یوم احد کے بعد آئندہ سال بازار بدر کے موقع پر (مقابلہ آرائی) کا چیلنج کیا۔ اَلَّذِیْنَ مبتدا ہے اور اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ ، اس کی خبر ہے۔ ان میں سے جنہوں نے اس کی اطاعت کے ذریعہ نیکی اختیار کی اور اس کی مخالفت سے اجتناب کیا ان کے لیے اجر عظیم ہے اور وہ جنت ہے۔ اور یہ ایسے لوگ ہیں (الذین) سابق الذین سے بدل یا صفت ہے۔ کہ جب ان سے لوگوں یعنی نعیم بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فانقلبوا بنعمۃ من اللہ پس وہ لوٹ آئے اللہ کی نعمت کے ساتھ یعنی ایمان ‘ عافیت ‘ مال اور عزت کے ساتھ جس کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے تھے۔ و فضل اور لوٹ آئے زیادتی کے ساتھ یعنی ثواب کی زیادتی سے ایمان میں ترقی ہوئی اور تجارتی نفع سے مال میں زیادتی ہوئی اور دشمن کی بزدلی سے عزت میں اضافہ ہوا۔ مال کی زیادتی کا تصور اسی وقت ہوسکتا ہے جب غزوہ بدر صغریٰ مراد لیاجائے کیونکہ وہیں پر مسلمانوں نے بازار لگایا اور تجارت کی اور نفع کمایا تھا غزوہ حمراء الاسد میں کوئی تجارت نہیں ہوئی۔ لم یمسسھم سوء کسی دکھ نے ان کو چھوا بھی نہیں۔ یعنی کسی حالت میں کوئی دکھ ان کو نہیں پہنچا نہ زخمی ہونے کا نہ قتل ہونے کا نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(174) اور اس جانے آنے میں ان حضرات کو نہ لڑائی کا سامنا ہوا اور نہ کسی قسم کی کوئی شکست ہوئی ان حضرات نے بدر صغری میں رسول اکرم ؓ کی اطاعت وپیروی کی اور اللہ تعالیٰ بڑے انعام و احسان والا ہے، ان سے دشمنوں کو دور کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس آیت سے اور ابن عباس ؓ کی حدیث سے کلمہ (وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ) کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ کس طرح ابراہیم ؑ ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ ہر قسم کی برائی سے محفوظ رہ کر اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی۔ اس لیے ہر مصیبت کے وقت اس وظیفہ کے معنی کا خیال کرتے ہوئے دل اور زبان کو ایک کر کے اسے کثرت سے پڑھنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 174۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : جب انہوں نے اپنے امور کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اور اپنے دلوں سے اس پر اعتماد کرلیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں چار طرح کی جزا عطا فرمائی : (یعنی) نعمت، فضل، برائی کو ان سے پھیر دینا، اور رضا کی پیروی کرنا، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رضا عطا فرمائی اور وہ ان سے راضی ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 173–176

(1) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “ سے منافق لوگ مراد ہیں۔ (2) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “ سے کافر مراد ہیں۔ (3) ابن ابی حاتم نے مجاہد رحمۃ اللہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین اشتروا الکفر بالایمان “ سے منافق لوگ مراد ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَانْقَلَـبُوْا : پھر وہ لوگ پلٹے ] [بِنِعْمَۃٍ : ایک ایسی نعمت کے ساتھ جو ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے تھی ] [وَفَضْلٍ : اور کچھ فضل کے ساتھ ] [لَّـمْ یَمْسَسْہُمْ : چھوا ہی نہیں ان کو ] [سُوْٓئٌ : کسی برائی نے ] [وَّاتَّـبَعُوْا : اور انہوں نے پیروی کی ] [رِضْوَانَ اللّٰہِ : اللہ کی خوشنودی کی ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ : عظیم فضل والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 172–175

صحابہ کی تعریف جنہوں نے زخم خوردہ ہونے کے باو جود اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانا درمنثور صفحہ 101: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور اس کے ساتھی (غزوہ احد کے بعد) واپس ہوئے اور مشرکین کا آپس میں مشورہ ہوا کہ ہم شکست دے کر واپس آگئے (یہ تو کچھ بھی نہ ہوا) سب مسلمانوں کو ختم ہی کردیتے لہٰذا واپس چل کر پھر حملہ کریں، اس کی خبر آنحضرت ﷺ کو ہوگئی تو آپ اپنے صحابہ کو لے کر ان کے پیچھے چلے اور مقام حمراء الاسد تک ان کا پیچھا کیا جب ابو سفیان کو یہ پتہ چلا کہ آپ ہمارے پیچھے آ رہے ہیں تو ابو سفیان اپنے ساتھیوں کو لے کر چلا گیا، راستے میں بنی عبدالقیس کے چند سواروں سے ملاقات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 172–175

قصہ غزوہ حمراء الاسد۔ قال تعالیٰ الذین استجابوا۔۔۔۔ الی۔۔۔ مومنین۔ ربط) گزشتہ آیات میں غزوہ احد کا قصہ بیان ہوا اب ان آیات میں غزوہ احد ہی کے متعلق ایک دوسرے سے غزوے کا ذکر فرماتے ہیں جو غزوہ حمراء الاسد کے نام سے مشہور ہے اور غزوہ احد سے متصل واقع ہے یا یوں کہو کہ گزشہ آیات میں شہداء احد کا ذکر تھا اب ان آیات میں شہداء احد کے ان اخوان مخلصین کا ذکر فرماتے ہیں جو، الذین لم یلحقوا بھم من خلفھم۔ آیت۔ کا مصداق ہیں یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی بشارت کا ذکر تھا اور اس آیت میں بھی غزوہ حمراء الاسد کے مجاہدین کے لیے انقلاب بنعمۃ من اللہ وفضل لم یمسسھم سوء۔ آیت۔ کی بشارت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

266 فَانْقَلَبُوْا میں فاء عاطفہ ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے و المعنی خرجوا فانقلبو (کبیر ج 3 ص 147) یعنی حضرت رسول خدا ﷺ اور مسلمان بدر صغریٰ کی طرف ابو سفیان کے وعدہ کے مطابق نکل پڑے اور خیر و عافیت سے واپس آئے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہوئی اور نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑا۔ وَ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللہِ ۔ جب مسلمانوں کو لشکر کفار کی کثرت تعداد اور کثرت ساز و سامان کی خبر ملی تو انہوں نے کسی قسم کی کمزوری اور بزدلی کا اظہار نہ کیا بلکہ اللہ پر توکل اور بھروسہ کیا۔ اور اس کی رضا جوئی کو ہر چیز پر ترجیح دی اور جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ لما بلغھم کثرۃ جموعھم لم یفتروا و لم یفتروا و لم یفشلوا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 172–175

ربط آیات : یہ آیات بھی غزوہ احد ہی کے ضمن میں ہیں۔ سابقہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کی فضیلت بیان فرمائی اور ان منافقوں کی مذمت کی جو کہتے تھے کہ اگر مسلمان ہماری بات مانتے ، لڑائی کے لیے باہر نہ نکلتے ، تو نہ مارے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے شہداء کو مردہ کہنے سے منع فرمایا ، بلکہ ان کی حیات جاودان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں روزی دی جا رہی ہے اور وہ صدق اور قرب کے مقام پر فائز ہیں۔ اپنے پس ماندگان کے متعلق انہیں بشارت ملتی ہے کہ اگر وہ بھی صراط مستقیم پر گامزن رہے ، تو شہداء کے ساتھ آ ملیں گے۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ وہ ایمان والوں کے اجر کسی صورت میں ضائع نہیں کرتا۔ یہ بات کسی گذشتہ درس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللہِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْھُمْ سُوْۗءٌ۝ 0ۙ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللہِ۝ 0ۭ وَاللہُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِيْمٍ۝ 174 انقلاب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، والِانْقِلابُ : الانصراف، قال : انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] ، وقال : إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں الانقلاب کے معنی پھرجانے کے ہیں ارشاد ہے ۔ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] تو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 172–174

ترکیب : الذین استجابوا موضع جر میں صفت ہے المؤمنین کی۔ اجر عظیم مبتدا موخر للذین احسنوا منہم خبر۔ الذین قال لہم بدل ہے الذین استجابوا سے۔ حسبنا ای فحسبنا مبتداء اللّٰہ خبرا و العکس بنعمتہ من اللہ لم یمسسہم بھی حال ہے ضمیر انقلبوا سے واتبعوا معطوف ہے انقلبوا پر۔ تفسیر : پہلی آیت میں شہیدوں کی مدح کے بعد یہ تھا کہ خدا مومنوں کے اجر ضائع نہیں کرتا۔ یہاں ان مومنوں کی تشریح کرتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں۔ یہ نہیں کہ برائے نام اسلام اختیار کرکے ان درجوں کا اپنے تئیں مستحق سمجھ بیٹھے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو لوگ شہید ہوگئے ہیں وہ تو منزل مقصود کو پہنچ ہی گئے مگر جو اس جماعت کے لوگ زندہ ہیں ٗ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 172–175

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْالِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ م بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ ج اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْجَمَعُوْا لَـکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا صلے ق وَّقَالُوْا حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ۔ فَانْقَلَـبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْٓئٌ لا وَّاتَّـبَـعُوْا رِضْوَانَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَظِیْمٍ ۔ اِنَّمَاذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَـآئَ ہٗ ص فَلاَ تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْـتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (جن لوگوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 173–175

فہم القرآن ربط کلام : احد میں مقابلہ یا اس کے بعد کفار کی دھمکیاں دراصل شیطانی ہتھکنڈے ہیں جن سے ڈرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے سمجھا دیا گیا کہ کبھی اور کسی حال میں بھی شیطان اور اس کے چیلوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مکرو فریب بظاہر بڑے مضبوط اور خوفناک نظر آتے ہیں لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور کامل ایمان کے ساتھ قائم رہو گے تو کفار کی سازشیں اور شرارتیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ شیطان اور غیروں کے خوف کی بجائے اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے سینوں میں جاگزیں کرو۔ جس کا خاصہ یہ ہے کہ آدمی بڑی سے بڑی طاقت اور سازش سے خوفزدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بدر سے بسلامت واپسی : 174: فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْئٌ وَّ اتَّبَعُوْارِضْوَانَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَظِیْمٍ ۔ (پس وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کے ساتھ لوٹے) یعنی سلامتی اور دشمن پر رعب کے ساتھ لوٹے وَفَضْلٍ (اور فضل کے ساتھ ) ۔ فضل سے مراد تجارت ہے ان کو دوگنا نفع ہوا۔ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْئٌ (ان کو کوئی تکلیف دشمن کی مکاریوں سے نہ پہنچی) ۔ نحو : یہ انقلبوا کی ضمیر سے حال ہے اور اسی طرح بنعمۃ بھی ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے فرجعو امن بدرٍ منعمین بریئین من سوئٍ ۔ وَّ اتَّبَعُوْارِضْوَانَ اللّٰہِ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی اتباع کی) ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

174۔ (آیت)” فانقلبوا “۔ پس وہ لوٹ آئے ۔ (آیت)” بنعمۃ من اللہ “ اپنی عافیت کے ساتھ جس کو دشمن کی طرف سے کوئی خوف نہ پہنچا ہو ۔ ” وفضل “ تجارت اور نفع کے ساتھ جو انہوں نے بازار سے حاصل کیا تھا (آیت)” لم یمسسھم سوئ “۔ نہ ان کو کوئی مصیبت پہنچی اور نہ ہی تکلیف پہنچی ۔ (آیت)” واتبعوا رضوان اللہ “۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ یہ جہاد ہوگا اس پر اللہ نے انکو جہاد کا ثواب عطا فرمایا اور ان سے راضی ہوا (آیت)” واللہ ذوفضل عظیم “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 172–175

(172 ۔ 175) ۔ آیت یا ایھا الذین امنوا لا تاکلو الربوا (13/3) کی تفسیر میں گذر چکا ہے کہ احد کی لڑائی کے بعد مکہ کو واپس جاتے وقت اپنے ساتھ مشرکین سے ابو سفیان نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے سرگروہ (محمد ﷺ کا کام تمام نہ کیا اور مسلمانوں کی جوان جوان عورتیں لونڈیاں بنا کر نہ لائے اس کا بڑا افسوس ہے۔ یہ خبر آنحضرت ﷺ کو پہنچی آپ نے حکم دیا کہ کل کے روز احد کی لڑائی میں جو لوگ گئے تھے وہی لوگ آج پھر مشرکین کا پیچھا کریں اگرچہ احد کی لڑائی والے زخمی اور تھکے ہوئے تھے لیکن انہوں نے فورً اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کی۔ اور مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد ایک مقام ہے وہاں تک آنحضرت ﷺ ستر صحابہ کو ساتھ لے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 172–176

آیت 172-175 جب رسول اللہ ﷺ احد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لئے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ” حمراء الاسد “ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا (ان الناس قد جمعوا لکم) اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمہیں مٹانے کے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انہوں نے کہا۔ (حسبنا اللہ) یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 174–180

نجیل آدمی خوداپنا دشمن ہوتا ہے قول باری ہے (ولایحسبن الذین یبخلون بما اتاھم اللہ من فضلہ ھوخیرالھم بل ھوشرالھم، سیطوقون مابخلوابہ یوم القیامۃ، جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ نجیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں بہت بری ہے جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روزان کے گلے کا طوق بن جائے گا) سدی کا قول ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور زکوۃ ادا کرنے میں نجل کریں ان کے لیے یہ حکم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اہل کتاب کے متعلق ہے، انھوں نے اپنی کتاب میں درج شدہ احکام الٰہی کو لوگوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 173–174

369 غزوہ بدر صغریٰ اور اس کے حال و مآل کا ذکر : سو یہ اشارہ ہے غزوہ بدرصغریٰ کی طرف۔ ابوسفیان نے احد سے لوٹتے وقت آنحضرت ﷺ سے چیلنج کے طور پر کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اگلے سال بدر کے مقام پر ہمارا پھر مقابلہ ہو۔ اس سے مقصد اس کا یہ تھا کہ ہم احد کی طرح وہاں بھی مسلمانوں کے بڑے بڑے سرداروں کو مار کر بدر میں قتل ہونے والے اپنے سرداروں کا بدلہ لینگے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کے اس چیلنج کو قبول فرما لیا۔ سال پورا ہونے پر ابوسفیان دوہزار کا لشکر لے کر بدر کی طرف چل پڑا جس میں دوسرے ساز و سامان کے علاوہ پچاس گھوڑے بھی اس کے ہمراہ تھے۔ مگر " مرالظہران " کے راستے جب وہ " مجنہ " کے مقام پر پہنچا، تو قدرت کی طرف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 172–174

اللہ پر بھروسہ اور اللہ کا فضل تشریح : ان آیات کا تعلق بھی غزوہ احد سے ہی ہے۔ اس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب ابو سفیان ؓ اپنے لشکر کے ساتھ مکہ پلٹ گیا تو راستہ میں اس کو خیال آیا کہ یہ اچھا موقعہ تھا مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کا، لہٰذا اس نے دوبارہ حملہ کا ارادہ کیا تو اس ارادے کا علم نبی ﷺ کو ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دشمن کا پیچھا کون کرے گا، اس پر 70 صحابہ کرام تیار ہوگئے، حالانکہ وہ زخموں اور نقصانات کی وجہ سے نڈھال ہو رہے تھے۔ اسی پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ وہ اسلام کے سچے مجاہد زخم کھا کر بھی رسول اللہ ﷺ کی پکار پر فوراً تیار ہوگئے ان میں نیک، پرہیزگار اور مخلص…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 172–180

آیات 172- 180 اسرارو معارف الذین استجابوا للہ والرسول………………ان کنتم مومنین۔ یہ جملہ فضائل ان لوگوں کو حاصل ہیں جنہوں نے لاکھوں مشکلات کے باوجود اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے منہ نہ موڑا۔ یہی لوگ نیک بھی ہیں اور پرہیزگار بھی۔ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ قرآن حکیم ساری انسانیت کے لئے اور ہمیشہ کے لئے اللہ کی آخری کتاب ہے۔ اس لئے اصولی باتیں بیان فرماتا ہے کہ مصائب دنیا بھی دراصل ترقی درجات کا سبب بن جاتے ہیں کہ جس قدر مشکلات میں اطاعت کرے گا اسی قدر اجر میں زیادتی ہوگی۔ چونکہ مثالی اور معیاری مومن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اس لئے ذکر ان کا کیا جاتا ہے ، جیسے یہاں ارشاد ہے۔ صاحب تفسیر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 173–175

(3:173) حسبنا اللہ۔ کافی ہے ہمارے لئے اللہ کی ذات ۔ اللہ ہی ہمارے لئے کافی ہے۔ حسب۔ مصدر۔ حسب یحسب (نصر) سے۔ وکیل۔ صفت مشبہ۔ وکل مصدر۔ (باب ضرب) کارساز۔ نگران ، نگہبان۔ ضامن ۔ ذمہ دار۔ آیۃ 172 میں اللہ اور اس کے رسول کا فرمان قبول کرنے والوں اور ان میں نیکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے اجر عظیم کی بشارت ہے یہی بشارت ان کے لئے بھی ہے جن کا ذکر آیۃ 173 میں ہوا ہے جو دشمن کی کثرت سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ ان کا ایمان اور مضبوط ہوگیا اور انہوں نے کلیۃً اللہ پر ڈوری ڈال دی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 165–177

لغات القرآن آیت نمبر 165 تا 177 اصبتم (تم نے پہنچادیا) مثلیھا (اس سے دوگنا) ادفعوا (دور کرو) اقرب (زیادہ قریب) قعدوا (بیٹھے رہے) لواطاعونا (اگر ہماری بات مانتے) ادرء وا (تم دور کرو) یرزقون (رزق دیئے جاتے ہیں) فرحین (خوش ہوتے ہیں) یستبشرون (بشارت وخوش خبری دیتے ہیں) لم یلحقوا (نہیں ملے) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) یسارعون ( دوڑتے ہیں) حظ (حصہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 165 تا 177 غزوۂ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتماعی غلطی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تکلیف اٹھا نا پڑی اس پر اہل ایمان نے تو صبر اور برداشت سے کام لیا لیکن مناقفین کو بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 172–175

دوبارہ جنگ کی تیاری جنگ احد سے واپس ہوتے ہوئے ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ سے پکار کر کہہ دیا تھا کہ اگلے سال ہماری آپ کے مقام بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور نے اس کے جواب میں انشاء اللہ ارشاد فرمایا۔ جب وہ وقت آیا اور ابو سفیان اہل مکہ کو لے کر جنگ کے لئے روانہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں خوف ڈالا، اور انہوں نے واپس ہوجانے کا ارادہ کیا۔ اس موقع پر ابو سفیان کی نعیم بن مسعود اشجعی سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا۔ ابو سفیان نے اس سے کہا کہ اے نعیم ! اس زمانہ میں میری لڑائی مقام بدر میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ طے ہوچکی ہے، اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاؤں، واپس چلا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 174–175

(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ خوف وحزن شیطان کی طرف سے ہے ۔ وہ رگوں کو بزدل بنا دیتا ہے اور عواقب ونتائج کی بھیانک اور خوفناک تصویر پیش کرکے کم حوصلہ اور پست ہمت لوگوں کو ولولہ جہاد سے روک دیتا ہے ، مگر وہ لوگ جو خدا پرست ہیں ‘ وہ بجز احکم الحاکمین کے اور کسی سے نہیں ڈرتے ، ان کا دل ہر قسم کے خوف وہراس اور ہر نوع کے حزن سے پاک ہوتا ہے ، وہ دنیا میں پوری بےخوفی سے رہتے ہیں ، وہ انجام سے بےپرواہ ہوتے ہیں ، وہ صرف یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فی الحال ان کے فرائض کیا ہیں وہ اس چیز کی مطلقا پرواہ نہیں کرتے کہ انہیں اس کے بعد کن نتائج و عواقب سے دوچار ہونا پڑے گا ، وہ پورا پورا یقین رکھتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 173–174

ف 3 یہ کہنا ماننے والے اور جہاد کو قبول کرنے والے ایسے مخلص لوگ ہیں کہ کچھ لوگوں نے یعنی عبدالقیس والوں نے یا نعیم بن مسعود نے جب ان سے کہا کہ ان کافروں نے تمہارے مقابلہ کے لئے بڑا سامان جمع کیا ہے اور اب کے حملہ پوری تیاری سے ہوگا لہٰذا تم ان سے ڈرتے رہنا اور تم کو ان سے خوف کرنا چاہئے۔ تو اس خبر نے ان کے ایمان کو اور قوی کردیا اور ان کے جوش ایمانی اور کمال ایمانی کو اور بڑھا دیا اور انہوں نے نہایت استقلال سے بےخوف ہو کر جواب دیا کہ تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ ہم کو کافی اور بس ہے اور جملہ امور کے لئے وہی بہتر وکیل اور کار ساز ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ابوسفیان نے چاہا کہ حضرت وعدے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 172–175

ف 1۔ اوپر منافقین کی بےوفائی اور بدخواہی کا ذکر تھا جناب رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر ان کی ان حرکات کا رنج ہوا ہوگا حق تعالیٰ آیت آئندہ میں آپ کو تسلی دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ضمنا وتبعا جمیع کفار کے معاملہ کے متعلق خواہ کوئی ہو آپ کی تسلی فرماتے ہیں تاکہ آپ کے قلب پر اب یا آئندہ ان کی اور دوسروں کی طرف سے کبھی ضد غالب نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب کہنا اور کرنا ایک جیسا ہوجائے تو اللہ کا فضل ہوجاتا ہے : 317: ان مجاہدین اسلام کی زبانوں پرحَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ کا ورد تھا اور ہاتھوں میں اسلحہ تھامے میدان جنگ کی طرف رواں دواں تھے وہ سروں پر کفن باندھے بےدھڑک نکلے تھے اس طرح جب ان کا کہنا اور کرنا ایک ہوگیا تو اللہ نے ان پر بیک وقت تین انعامات فرمادیئے۔ پہلا انعام یہ ہوا کہ کافروں کے قلوب میں ایسا رعب اور اتنی ہیبت ڈال دی کہ وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے جس کی وجہ سے اس دفعہ قتل و قتال کی نوبت ہی نہ آئی اور اس انعام کو اللہ تعالیٰ نے خود ایک نعمت فرمایا ہے ” پھر یہ لوگ بےخوف ہو کر نکلے اور اللہ ” نعمت “ سے شاد کان واپس آگئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 174–175

The third verse (174) recounts the blessings which descended upon these noble Companions for their brave response to the call of Jihad and for saying: حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (Allah is all-sufficient for us, and the best one to trust in). It was said: فَانقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِ‌ضْوَانَ اللَّـهِ So, they returned with bounty from Allah, and grace, with no evil having even touched them -- and submitted to the pleasure of Allah. Allah Almighty bestowed on them three blessings: 1. Such awe and terror was placed in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 173–175

124. While returning from the Battle of Uhud, Abu Sufyan challenged the Muslims to another encounter at Badr the following year. But when the appointed time arrived, Abu Sufyan's courage failed him on account of the famine prevailing in Makka that year. As a face-saving device he arranged to send an agent to Madina who spread the rumour that tremendous war preparations were afoot among the Quraysh, and that they were trying to muster a huge army which would be so powerful that no other power in the whole of Arabia would resist it. The purpose of this rumour was to overawe the Muslims and…

Read the full tafseer →