Explained with ayahs 144–148
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–149
سورة اٰلِ عِمْرٰن 108
یعنی جس کفر کی حالت سے تم نکل کر آئے ہو اسی میں تمہیں پھر واپس لے جائیں گے۔ منافقین اور یہودی احد کی شکست کے بعد مسلمانوں میں یہ خیال پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ محمد ﷺ اگر واقعی نبی ہوتے تو شکست کیوں کھاتے۔ یہ تو ایک معمولی آدمی ہیں۔ ان کا معاملہ بھی دوسرے آدمیوں کی طرح ہے۔ آج فتح ہے تو کل شکست۔ خدا کی جس حمایت و نصرت کا انہوں نے تم کو یقین دلا رکھا ہے وہ محض ایک ڈھونگ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
ربط آیات
سابقہ آیات میں غزوہ احد میں پیش آنے والی بعض کوتاہیوں پر مسلمانوں کو تنبیہ اور ملامت تھی، ان آیات میں بھی اس کا تکملہ پچھلی امتوں کے بعض حالات و واقعات کی طرف اشارہ کر کے کیا گیا ہے کہ وہ کس طرح میدان جنگ میں ثابت قدم استقلال کے ساتھ رہے، تمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔
بعض لغات کی تشریح
(ربیون) بکسر راء و تشدید باء مک سورة و ضم یاء رب کی طرف منسوب ہے، جیسے ربانی معنی ہیں رب والے، اس میں حرف راء مفتوح کی بجائے مکسور خلاف قیاس استعمال ہوا ہے، (روح) بعض حضرات نے ربیون کے معنی بہت سی جماعتوں کے کئے ہیں، ان کے نزدیک یہ ربہ بکسر راء بمعنی الجماعۃ کی طرف منسوب ہے، ربیون (اللہ والے) سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
تفسیر آیت 148-149: وَمَا كَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا الایہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں جب مصیبتیں اور آزمائشیں پیش آئیں تو انہوں نے اس طرح کی باتیں نہیں بنائیں جس طرح کی باتیں آج کمزور قسم کے مسلمان اور منافق لوگ بنا کر پیغمبر کے خلاف طرح طرح کے شبہات دلوں میں پیدا کر رہے ہیں، بلکہ جو افتاد انہیں پیش آئی اس کو انہوں نے خدا، اور رسول کی طرف منسوب کرنے کے بجائے خود اپنی کمزوری اور اپنے تجاوز پر محمول کیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے قصوروں کی معافی مانگی۔ اس کا صلہ ان کو یہ ملا کہ دنیا میں بھی خدا نے ان کو اقتدار اور حکومت سے سرفراز فرمایا اور آخرت میں بھی ان کے لیے نہایت اعلی صلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–150
150۔ 1 یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے، یہاں پھر دہرایا جا رہا ہے کیونکہ احد کی شکست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض کفار یا منافقین مسلمانوں کو یہ مشورہ دے رہے تھے کہ تم اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ آؤ۔ ایسے میں مسلمانوں کو کہا گیا کہ کافروں کی اطاعت ہلاکت و خسران کا باعث ہے۔ کامیابی اللہ کی اطاعت میں ہی ہے اور اس سے بہتر کوئی مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–152
49: ”پسندیدہ چیز“ سے یہاں مراد مال غنیمت ہے جسے دیکھ کر عقبی ٹیلے کے اکثر حضرات اپنے امیر کے حکم کے خلاف ٹیلہ چھوڑ گئے تھے۔
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (147)
” ان کی دعا بس یہ تھی کہ ” اے ہمارے رب ! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما ‘ ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو تجاوز ہوگیا ہے ‘ اسے معاف کردے ‘ ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “
ان کا سوال کسی دولت ونعمت کے لئے نہ تھا ‘ بلکہ انہوں نے اجروثواب وجزا کا مطالبہ بھی نہیں کیا نہ انہوں نے ثواب دنیا کا مطالبہ کیا اور نہ ہی ثواب آخرت کا ۔ وہ تو جناب باری میں بڑے ادب سے کھڑے تھے ۔ وہ ذات باری کی طرف متوجہ…
Read the full tafseer →1 یعنی مصائب و شدائد کے ہجوم میں نہ گھبراہٹ کی کوئی بات کہی نہ مقابلہ سے ہٹ جانے اور دشمن کی اطاعت قبول کرنے کا ایک لفظ زبان سے نکالا۔ بولے تو یہ ہی بولے کہ خدا وندا ! تو ہم سب کی تقصیرات اور زیادتیوں کو معاف فرما دے ہمارے دلوں کو مضبوط و مستقل رکھ، تاکہ ہمارا قدم جادہ حق سے نہ لڑکھڑائے اور ہم کو کافروں کے مقابلہ میں مدد پہنچا وہ سمجھے کہ بسا اوقات مصیبت کے آنے میں لوگوں کے گناہوں اور کوتاہیوں کو دخل ہوتا ہے اور ہم میں کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس سے کبھی کوئی تقصیر نہ ہوئی ہوگی۔ بہرحال بجائے اس کے کہ مصیبت سے گھبرا کر مخلوق کی طرف جھکتے اپنے خالق ومالک کی طرف جھکے۔
Read the full tafseer →آیت 147 وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا ربَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ
حضرت طالوت کے ساتھیوں کی بھی یہی دعا تھی اور سورة البقرۃ کے اختتام پر آنے والی دعا کے الفاظ بھی یہی تھے : فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
135 یعنی اہل ایمان کا بھروسہ محض سامان جنگ اور قوت کار یا اپنی کارکردگی پر ہی نہیں ہوتا بلکہ ساتھ ساتھ وہ میدان جنگ میں بھی اللہ کو یاد رکھتے، اس سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے اور اپنی ثابت قدمی اور دشمن پر غالب آنے کی دعا بھی مانگتے ہیں۔ میدان بدر میں خود رسول اللہ ﷺ نے ساری رات اللہ کے حضور دشمن پر فتح و نصرت کی دعا میں گزاری تھی۔ ایسی ہی دعا طالوت کے لشکر نے بھی کی تھی جس کا ذکر سورة بقرہ کی آیت نمبر 250 میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →290 ۔ (آیت) ” وما کان قولھم “۔ اس سے اشارہ ہوگیا کہ ان لوگوں کے عمل میں تو لغزش کیا ہوتی، زبان تک بھی ان کی کلمات تحمید وتمجید اور اعتراف عجزوقصور کے لیے وقف رہی (آیت) ” ذنوبنا۔ اسرافنا “۔ ذنوب سے یہاں مراد صغائر سے لی گئی ہے اور اسراف سے کبائر مراد ہیں۔ ذنوبنا یعنی مراد صغائر سے لی گئی ہے اور اسراف سے کبائر مراد ہیں۔ ذنوبنا یعنی الصغائر واسرافنا یعنی الکبائر (قرطبی) ابن فورک نے کہا ہے کہ اس سے قدریہ کا رد بھی نکل رہا ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ افعال عبد کا خالق نہیں ہے (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
آیت نمبر 149 تا 155
ترجمہ : اے ایمان والو اگر تم کافروں کی باتیں مانو گے تو وہ تم کو تمہاری ایڑیوں کے بل کفر کی طرف پلٹا دیں گے (یعنی مرتد بنادیں گے) اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے بلکہ اللہ ہی تمہارا مددگار ہے اور وہی تمہارا بہترین مددگار ہے لہٰذا اسی کی اطاعت کرو نہ کہ دوسروں کی۔ ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈالدیں گے (رعب) عین کے سکون اور ضمہ کے ساتھ ہے یعنی خوف۔ احد سے پلٹنے کے بعد انہوں نے (احد) واپس آنے اور مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کیا تھا مگر مرعوب ہوگئے جس کی وجہ سے واپس نہیں آئے اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرنے کی وجہ سے جن کے بارے میں ان کی عبادت پر (اللہ نے)…
Read the full tafseer →و ما کان قولھم الا ان قالوا ربنا اغفرلنا ذنوبنا قَوْلَھُمْ کَانَکی خبر ہے اور اَنْ قَالُوْا کَانَ کا اسم ہے
کیونکہ اسم کو خبر سے اعرف ہونا چاہئے اور قالوا چونکہ فاعلی نسبت اور زمانہ پر دلالت کررہا ہے اس لیے قَوْلَھُمْ سے (جو صرف نسبت پر دلالت کرتا ہے) معرفہ ہونے میں زیادہ ہے۔ ذنوب سے مراد ہیں صغیرہ گناہ۔
و اسرافنا فی امرنا اسراف حد عبدیت سے تجاوز۔ امر حال، معاملہ، اسراف سے مراد ہیں کبیرہ گناہ۔ یعنی شدائد و مصائب میں مبتلا ہونے کے بعد بھی ان کا قول (بجائے شکوہ و شکایت اور آہ و بکا و بےصبری کے) صرف یہ تھا کہ اے رب ہمارے چھوٹے بڑے گناہ معاف کردے۔
و ثبت اقدامنا اور ہمارے پاؤں اپنے سیدھے راستہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–149
(147۔ 148۔ 149) اور ان مومنین کی تو اپنے نبی کے شہید ہوجانے کے بعد بارگاہ الہی میں یہ دعا تھی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو معاف فرما نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں بھی فتح وغنیمت دی اور آخرت میں بھی جنت عطا کی اور اللہ تعالیٰ ایسے مومنین کو جو جہاد میں ثابت قدم رہتے ہیں پسند فرماتے ہیں، ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ حذیفہ ؓ اور عمار ؓ اگر تم کعب اور اس کے ساتھیوں کا کہا مانوگے تو وہ تمہیں تمہارے سابقہ دین کفر کی طرف واپس پھیر دیں گے اور اس لوٹنے کے بعد تم دنیا وآخرت کی بربادی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
آیت 146 تا 148 : ربیون : یہ ”رِبِّیٌّ“ کی جمع ہے، جو ”رَبَّانِیٌّ“ کا ہم معنی ہے۔ (کشاف) ایک معنی اور بھی اہل علم نے کیا ہے کہ یہ ”رِبَّۃٌ“ کی طرف منسوب ہے، جس کا معنی کثیر جماعت ہے، یعنی ان کے ہمراہ بہت سی جماعتیں تھیں۔ (قرطبی)
”وَھْنٌ، ضُعْفٌ اور اِسْتِکَانَۃٌ“ یہ تینوں لفظ قریب المعنی ہیں، کمزوری کے معنی میں یہ بالترتیب واقع ہوتے ہیں۔ ”وَہْنٌ“ دل سے ہمت ہارنا، ”ضُعْفٌ“ عام کمزوری اور ”اِسْتِکَانَۃٌ“ دشمن کے سامنے عاجزی کا اظہار۔ ان تینوں آیتوں سے مقصود ان لوگوں پر عتاب اور تنبیہ ہے جو احد کے دن شکست کے آثار دیکھ کر ہمت ہار بیٹھے اور رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی افواہ سن کر بالکل ہی پست ہوگئے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
آیت نمبر 146 تا 147۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر “۔ زہری نے بیان کیا ہے : غزوہ احد کے دن شیطان نے چیخ کر کہا : قتل محمد (محمد ﷺ قتل کردیئے گئے) تو اس سے مسلمانوں کی ایک جماعت شکست خوردہ ہوگئی، حضرت کعب بن مالک ؓ نے بیان کیا : میں پہلا آدمی تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کو پہچانا، میں نے خود کے نیچے سے آپ ﷺ کی آنکھوں کو چمکتے ہوئے دیکھا، تو میں نے اپنی بلند آواز کے ساتھ پکار کر کہا : یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، تو آپ ﷺ نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ تو خاموش رہ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر، فماوھنو لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–149
(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا “ سے مراد ہے کہ تم یہود نصاریٰ کی نصیحت قبول نہ کرو اپنے دین کے بارے میں اور نہ تم ان کی تصدیق کرو کسی چیز کے بارے میں اپنے دین میں۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا “ سے مراد ہے کہ اگر تم ابو سفیان بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں ” یایھا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردوکم علی اعقابکم “ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس سے مراد عربوں کے عادات و فضائل اختیار کرنا ہے ؟ تو…
Read the full tafseer →[وَمَا کَانَ : اور نہیں تھا ] [قَوْلَہُمْ : ان کا کہنا ] [اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ربَّـنَا : اے ہمارے رب ] [اغْفِرْ : تو بخش دے ] [لَـنَا : ہمارے لیے ] [ذُنُوْبَنَا : ہمارے گناہوں کو ] [وَاِسْرَافَنَا : اور ہمارے حد سے تجاوز کرنے کو ] [فِیْ اَمْرِنَا : ہمارے کام میں ] [وَثَـبِّتْ : اور تو جما دے ] [اَقْدَامَنَا : ہمارے قدموں کو ] [وَانْصُرْنَا : اور تو ہماری مدد کر ] [عَلَی الْقَوْمِ الْـکٰفِرِیْنَ : کافروں کی قوم (کے مقابلہ) پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے ساتھیوں کے مجاہدات اور ان کی ریاضتیں دنیا میں عہد قدیم سے ایمان اور کفر کی جنگ رہی ہے۔ سیدنا حضرت ابو البشر آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں جب سے اہل کفر کا وجود ہوا اسی وقت سے اہل ایمان اور اہل کفر کا آپس میں مقابلہ اور مقاتلہ ہوتا رہا ہے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ساتھی تھے ان کو اپنے اپنے زمانہ میں کافروں سے جنگ کرنی پڑی۔ دشمن کے مقابلہ میں ان حضرات نے جانوں کی بازی لگائی۔ ان آیات میں ان حضرات کی تعریف فرمائی کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے میں نہ ہمت ہاری نہ سستی دکھائی نہ دشمن کے سامنے عاجزی ظاہر کی۔ صبر و ثبات اور استقامت کے ساتھ جنگ کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
قال تعالیٰ وکاین من نبی۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ المحسنین۔ آیت۔
ربط) گزشہ آیات میں مسلمانوں کی کمزوری پر شکایت اور ملامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ ذکر کرتے ہیں خہ پہلے زمانہ میں بھی انبیاء سابقین کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے کافروں سے جہاد و قتال کیا اور امت کے سامنے ان کے نبی شہید ہوئے لیکن وہ لوگ ثابت قدم رہے اور خوف زدہ ور سست نہیں ہوئے تم کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے اور تم تو خیرالامم ہو تم کو تو ان سے بڑھ کر صبر اور استقامت کا ثبوت دینا چاہیے چناچہ فرماتے ہیں اور کتنے ہی نبی گزرے ہیں کہ جن کے ساتھ ہو کر خدا پرستوں اور اللہ والوں نے کافروں کے ساتھ جہاد کیا مگر ان تکلیفوں کی وجہ سے جو ان کو…
Read the full tafseer →218 یہ ماقبل کا تتمہ اور تاکید ہے حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ پہلی امتوں کے جان نثار مجاہدین جہاد میں سستی بزدلی اور کمزور دکھانے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے اس طرح صبر و استقامت کی دعائیں اور گناہوں کی معافی کے لیے درخواستیں کیا کرتے تھے اس لیے تمہارا طرز عمل بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
ربط آیات :
غزوہ احد میں اہل اسلام کو نقصان اٹھانا پڑا حتی کہ خود حضور نبی کریم ﷺ کی شہادت کی خبر اڑ گئی اور مسلمانوں میں بددلی پیدا ہوگئی تھی۔ گذشتہ درس میں ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی۔ کہ ایسے مواقع پر ایمان پر مضبوط رہیں اور کمزوری کا احساس پیدا نہ ہونے دیں۔ بات سمجھائی کہ اللہ کا رسول خدا نہیں ہے ، جو ازلی ابدی ہو۔ بلکہ عام انسانوں کی طرح رسول نے بھی موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اگر اللہ کا رسول تم میں موجود نہ رہے ، تو کیا تم دین کو چھوڑ جاؤ گے دین تو اللہ کا ہے۔ جو حیی اور قیوم ہے ، قائم و دائم ہے ، لہذا اس کے دین کی جدوجہد ہمیشہ جاری رہنی چاہئے۔
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِيْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ 147
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–151
ترکیب : ان تموت اسم کان الا باذن اللّٰہ خبر کتابا مفعول مطلق ہے ای کتب ذلک کتابا ‘ مؤجلا اس کی صفت ہے۔ کاین اصل میں اے تھا کاف اس پر داخل ہوگیا اور نون خلاف قیاس تنوین کا لکھ دیا اب یہ بمعنی کم ہے۔ من نبی اس کا بیان قتل نبی کی صفت یہ کاین مبتدا اور خبر محذوف ای فی الدنیا قولہم اسم کان الا ان قالوا خبر وقیل العکس۔ ان شرطیہ تطیعوا شرط یردوکم جواب اللّٰہ مبتداء مولاکم خبر بما اشرکوا بسنلقی سے متعلق ہے اور ما مصدریہ مثوی مفعل ہے ثویت سے لام کلمہ ی ہے۔
تفسیر : جنگ احد میں جبکہ وہ جماعت تیر اندازوں کی کہ جس کو نبی ﷺ نے گھاٹی پر بٹھایا تھا مشرکین کے پیچھے لوٹ کے لئے دوڑ پڑی۔ ادھر سے خالد بن ولید جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
وَکَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰـتَلَ لا مَعَہٗ رِبِّـیُّـوْنَ کَثِیْرٌ ج فَمَا وَھَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَـکَانُوْا ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ ۔ وَمَا کَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْٓ اَمْرِنَا وَثَـبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ فَاٰتٰـھُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَۃِ ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ ع
(اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہوکربہت سے اللہ والوں نے جنگ کی، تو نہ تو وہ پست ہمت ہوئے اس مصیبت کی وجہ سے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–149
فہم القرآن
ربط کلام : جب تمہارے دشمن احد میں تمہیں عظیم نقصان پہنچا چکے اور تمہیں کافر بنانے کے درپے ہیں تو ان سے خیر کی توقع کا کیا معنٰی ؟ مسلمانوں تمہارا مولیٰ اور خیر خواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے بس اس پر بھروسہ رکھو۔
سورۃ آل عمران کی آیت 100 میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم کفار اور منافقین کے پیچھے چلو گے تو وہ تمہیں کافر بناکر چھوڑیں گے۔ اب دوبارہ تاکید کی جارہی ہے کہ اے مومنو ! تم کافروں کے پیچھے لگو گے تو وہ تمہیں یکسر الٹے پاؤں پھیر دیں گے جس سے تمہیں دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یاد رکھو ! صرف اللہ ہی تمہاری مدد کرنے والا ہے عنقریب وہ کفار کے دلوں میں تمہارا رعب اور…
Read the full tafseer →میدانِ جنگ میں دعا مستقل ہتھیار ہے :
147: وَمَاکَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَ امَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (اورا ن کی بات یہی تھی کہ اے ہمارے رب تو ہمارے گناہوں کو بخش دے) یعنی انہوں نے یہی بات کہی۔
ربانیین ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے نفوس کی طرف گناہوں کی اضافت کی تاکہ نفس کی بڑائی مٹ جائے۔ وَاِسْرَافَنَا فِیْٓ اَمْرِنَا (اور ہمارا اپنے معاملے میں حد سے تجاوز کرنا) اسراف حد عبودیت سے تجاوز کو کہتے ہیں۔ وَثَبِّتْ اَقْدَ امَنَا تو ہمارے قدموں کو (لڑائی میں) مضبوط کر دے۔ وَانْصُرْنَا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 147۔:
(آیت)” وما کان قولھم “ کان کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا اسم ” ان قالوا “ ہے اس صورت میں اس کا معنی ہوگا اور ان کے نبی کے قتل ہونے پر وہ یہی کہتے (آیت)” الا ان قالوا ربنا اغفرلنا ذنوبنا “۔ اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں ، (آیت)” واسرافنا فی امرنا “۔ اسراف سے مراد کبیر گناہ ہیں ، (آیت)” وثبت اقدامنا “۔ ہمارے قدموں کو اللہ کے راستے میں جمائے رکھ پھسلانا نہیں۔ (آیت)” وانصرنا علی القوم الکافرین “۔ تو ہ کہتے کہ کاش تم اس طرح کرتے اور تم اس طرح کہتے اے اصحاب محمد ﷺ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–148
(144 ۔ 148) ۔ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اور ابن نذر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں جو کچھ اس آیت کے شان نزول بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب احد کی لڑائی میں شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہوگئے تو مسلمانوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں کچھ لوگ تو یہ کہتے تھے کہہ اگر آپ نبی ہوتے تو زندہ رہتے۔ اور کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ دین تو اللہ کا ہے اگر آپ شہید بھی ہوگئے تو جس دین کے واسطے آپ لڑتے تھے ہم کو بھی ضرور لڑنا چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اس شان نزول کی روایت کے چند طریقے ہیں اس لئے ایک کو دوسرے سے قوت ہوجاتی ہے۔ حاصل معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
آیت 144-145
(وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل) یعنی وہ رسولوں میں سے کوئی انوکھا رسول نہیں ہیں بلکہ وہ ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی ذمہ داری اپنے رب کا پیغام پہنچانا اور اس کے احکام کا نفاذ تھا۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ تھے اور نہ ان کی بقاء اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کے لئے کوئی شرط تھی۔ بلکہ تمام امتوں پر یہ چیز فرض تھی کہ وہ ہر وقت اور ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم) ” کیا پس اگر ان کو موت آگئی یا قتل کردیئے گئے، تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے ؟ “ یعنی یہ نبی ایمان اور جہاد…
Read the full tafseer →قول باری ہے (وماکان قولھم الا ان قالواربنا اغفرلنا ذنوبنا۔ ان کی دعابس یہ تھی کہ اے ہمارے رب ہماری غلطیوں اور کو تا ہیوں سے درگزرفرما) تاآخرایت ۔ اس آیت میں انبیاء سابقین کے خدا پرست متبعین کی دعا کی حکایت ہے۔ نیز ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ میدان جنگ میں معرکہ آرائی کے موقعہ پر ہم بھی اس قسم کی دعامانگیں۔ اس لیے دشمن کے خلاف صف آراہو کر مسلمانوں کو اسی قسم کی دعامانگنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان خدا پرستوں کی یہ دعا ان کی تعریف اور اپنی پسند ید گی کے اظہار کے طور پر نقل فرمائی ہے تاکہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر ان کی طرح تعریف خداوندی کے مستحق قرارپائیں۔
Read the full tafseer →294 مومن کا اصل سرمایہ رجوع الی اللہ اور اسی کے حضور دعاء والتجا : سو مومن صادق میدان معرکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ اور ہمیں ان پر فتح و غلبہ نصیب فرما۔ سو اس طرح انہوں نے اپنی اس دعاء والتجا سے یہ درس بھی پچھلے آنے والوں کے لئے چھوڑا کہ مومن صادق کا اصل بھروسہ، اسلحہ، اور سامان حرب و ضرب وغیرہ کے ظاہری اسباب و وسائل پر نہیں ہوتا، بلکہ اپنے خالق ومالک کی مدد اور اس کی توفیق و عنایت پر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ بقدر امکان ہر طرح کے ظاہری اسباب و وسائل جمع کردینے کے باوجود، سب سے پہلے اپنے رب ہی کی طرف رجوع کرتا، اور اسی سے دعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
انبیاء اور مجاہدین کی دعائیں
تشریح : ان آیات میں ذکر کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بیشمار انبیاء گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر ان کی قوم نے دشمن کا مقابلہ کیا۔ فتح و شکست تو جنگ میں ہوتی ہی رہتی ہے۔ وہ اللہ والے تن من، دھن لگانے سے باز نہیں آتے تھے، سستی نہیں دکھاتے تھے، کمزور نہیں پڑتے تھے، دبتے نہیں تھے، ثابت قدم رہتے تھے۔ اپنے نیک کاموں پر کبھی فخر اور غرور نہیں کرتے تھے بلکہ عجز و انکساری سے ہمیشہ اللہ رب العزت سے دعا کرتے رہتے تھے اللہ ثابت قدم رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ اللہ والے اللہ سے دعا کرتے رہتے تھے۔ ” اے ہمارے رب ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ ہمارے کام میں جو زیادتی ہم سے ہوگئی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–148
آیات 144- 148
اسرارو معارف
وما محمد الارسول………………وسنجزی الشکرین۔
نیز محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہی تو ہیں اللہ کے کسی بھی وصف ہیں شریک نہیں کہ صفات الوہیت کے حامل ہوں بلکہ ان سے قبل بھی بہت سے اللہ کے رسول گزر چکے ہیں کہ رسول دنیا میں اللہ کا پیغام بندوں تک لاتے ہیں اور اپنا فریضہ ادا فرما کر قانون قدرت کے مطابق اس دارفانی سے گزر جاتے ہیں۔
اگر آپ ﷺ کا انتقال ہوجائے یا آپ ﷺ شہید ہوجائیں تو آپ کا پیغام اور آپ کا لایا ہوا دین تو چھوڑ نہ دیا جائے گا۔ بلکہ اس پر عمل بدستور جاری رہے گا اور فیوضات وبرکات مرتب ہوتے رہیں گے یہ تو درست نہیں کہ پیغمبر کی موت کے بعد اس کا اتباع ترک کردیا جائے تو کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–149
ف 3 احد کی شکست کے بعد کفار نے جن میں منافقین یہود و نصاری اور مشرکین سبھی شامل تھے۔ مسلمانوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شکو کو شبہاے پیدا کر کے ان کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی متنبہ کیا کفار کے فریب میں مت آنا ورنہ تم خسارے میمن پڑجا و گے پس یہ آیت بھی آیات کا تتمہ ہے یادر رہے کہ دنیا میں سب سے بڑ اخسارہ یہ ہے یہ کہ کوئی انسان اپنے دشمن کے سامنے سپر انداز ہوجائے اور آخرت کا خسارہ ثواب سے محرومی اور عذاب میں گرفتاری ہے پس خسارہ عام ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(3:147) اسرافنا۔ ہماری زیادتی۔ (افعال) اسراف سے جس کا مطلب کسی کام میں انسان کا حد سے تجاوز کرنا ہے۔ حد سے زیادہ خرچ کرنے کو بھی اسراف کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–148
لغات القرآن آیت نمبر 144 تا 148
افان (پھر اگر) مات (مرگیا (مرجاتا) انقلبتم (کیا تم پلٹ جاتے) ینقلب (پلٹ جائے گا) سیجزی (عنقریب وہ بدلہ دے گا) کتابا مؤجلا (مدت لکھی ہوئی ہے (مدت مقرر کردی گئی ہے) نؤت (ہم دیتے ہیں) کاین (کتنے ہی) ربیون (اللہ والے) ماوھنوا (نہ وہ سست ہوئے) ما استکانوا (نہ وہ تھکے) اسرافنا (ہماری زیادتی) ثبت (ثابت رکھ) حسن (بہترین) ۔
تشریح : آیت نمبر 144 تا 148
یہ آیات غزوۂ احد کے فوراً بعد 3 ھ میں اس وقت نازل ہوئیں جب کچھ صحابہ ؓ کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے وقتی طور پر فتح شکست میں بدل گئی اور رسول اللہ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور صحابہ کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–148
جب احد کی لڑائی میں شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہوگئے تو مسلمانوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔ کچھ لوگ تو یہ کہتے تھے اگر آپ نبی ہوتے تو زندہ رہتے اور کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ دین تو اللہ کا ہے اگر آپ شہید ہو بھی گئے تو جس دین کے واسطے آپ لڑے تھے ہم کو بھی ضرور لڑنا چاہئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی اس آیت کا یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں انبیاء اور ان کے ساتھ کے لوگ لڑے اور امت کے لوگوں کے سامنے بعضے نبی شہید ہوگئے، لیکن وہ لوگ اسی طرح ثابت قدم رہے۔ جس طرح اپنے نبی کے رو برو تھے، اسی طرح تم کو بھی چاہیے۔
مسائل القرآن : اس آیت سے معلوم ہوا کہ موت اپنے مقررہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–151
[52] جنگ احد میں جب رسول اکرم ﷺ زخمی ہوگئے تو کسی مخالف نے یہ افواہ اڑا دی کہ نعوذ باللہ آپ مارے گئے۔ یہ سن کر بہت سے مسلمانوں کے دل بیٹھ گئے۔ بعضوں نے کہا کہ جب پیغمبر نہ رہے تو اب لڑنے سے کیا فائدہ۔ جو منافق تھے انہوں نے علانیہ کہنا شروع کردیا کہ یہ اگر نبی ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ جنگ میں مارے جاتے۔ یہاں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
اللہ والوں کا جہاد :
(ف 2) جس طرح ایک مادہ پرست انسان کے نصب العین میں زمین وآسمان کا فرق اسی طرح ان کے طریق کار ہیں اور عام لوگوں کی روش میں عظیم امتیاز پایا جاتا ہے ، مادیت پرست لوگ مادی خواہشات کے حصول کے لئے لڑتے ہیں اور اللہ والے بلند نصب العین کے ماتحت میدان جہاد میں کودتے ہیں ۔
دنیا داروں کے سامنے خدا کی بادشاہت پھیلانے کا مقصد ہوتا ہے ، ظالم اپنے نفس امارہ کے لئے لڑتے ہیں اور خدائی مجاہد اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ، پھر جس طرح ان کے مقاصد میں اختلاف ہے ، اسی طرح ان کے طریق جنگ میں بھی اختلاف ہے ۔
دنیا کے قیاصر واکاسرہ مادی قوتوں کو جمع کرتے ہیں اور اقلیم ایمان عقیدت کے شہنشاہ بصیرت ونیاز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
ف 3 اور بغیر اذن الٰہی اور بدون اللہ تعالیٰ کے حکم کے کسی جاندار کا مرنا اس کو موت آنا ممکن نہیں خواہ طبعاً مرے یا قتل کیا جائے ہر ایک کی موت کا وقت لکھا ہوا ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی اور جو شخص اپنے اعمال کا بدلہ اور نتیجہ دنیا میں حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کو دنیا کے حصہ میں سے اپنی مشیت کے موافق دیدیتے ہیں اور جو شخص آخرت کا ثواب اور اخری بدلہ چاہتا ہے تو ہم اس کو آخرت کے ثواب کا حصہ دیدیتے ہیں اور ہم عنقریب ایسے شکر گزاروں کو اچھا بدلہ اور نیک صلہ عطا فرمائیں گے۔ (تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ موت کا ایک مقررہ وقت لکھا ہوا ہے اور کوئی کسی طرح میرے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–150
ف 1۔ پس اسی کی دوستی پر اکتفاء کرو اور اسی کا مددگار سمجھو دوسرا مخالف اگر نصرت کی بھی تدبیر بتلائے خلاف حکم خداوندی تو عمل مت کرو۔
Read the full tafseer →وہ مجاہدین بھی ایسے تھے کہ جہاد کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرتے تھے :
269: اس آیت میں گویا اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان لوگوں کے عمل میں تو کیا لغزش ہوتی زبان تک بھی ان کی کلمات تحمید و تمجید اور اعتراف عجزو قصور کے لئے وقف رہی اور وہ اپنے رب سے اس طرح دعائیں کرتے رہے کہ :
اے اللہ ! ہمارے پچھلے گناہ معاف فرما دے
اے اللہ ! اس عمل جہاد میں ہم سے جو کوتاہی ہوگی ہو اس کو معاف فرما دے۔
اے اللہ ! منکرین حق کے گروہ پر ہمیں فتح مند کر دے۔
اللہ کے نیک بندوں کی اند دعاؤں میں ہمارے لئے کتنے ہی سبق محفوظ کر دئے گئے اگر ہم یاد کرنے والے ہوں اور اللہ کرے کہ ہم کو یاد رہیں۔
1 ۔ یہ کہ حقیقت شناس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
Connected with previous verses where Muslims were admonished for some of their shortcomings during the battle of Uhud, the present verses cite examples set by men of Allah from earlier communities showing how steadfast they were on the battlefield, something which should be emulated by the present addressees.
The explanation of some words:
1. رِبِّيُّونَ Ribbiyun): a derivation from Rabb (رَبّ ) like Rabbani (رَبّانی) meaning 'of the رَبّ Rabb or Lord' which has been rendered as men of Allah in the present translation. According to Ruh al-Ma‘ani, here the use of the vowel sound 'i' in place…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–149
108. That is, they would push them back into the same state of unbelief from which they had extricated themselves. Since the Battle of Uhud the hypocrites and the Jews had constantly propagated the idea that, had Muhammad been a true Prophet, he would not have suffered the reverse that he encountered in that battle. This reverse was offered as proof that Muhammad (peace be on him) was an ordinary person whose fortunes varied, like those of other men, between victory and defeat. They further contended that the support and patronage of God which Muhammad claimed to enjoy was a sham.
Read the full tafseer →