Explained with ayahs 137–143
شہادت اور بشارت
چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–140
سورة اٰلِ عِمْرٰن 100
اشارہ ہے جنگ بدر کی طرف۔ اور کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس چوٹ کو کھا کر کافر پست ہمت نہ ہوئے تو اس چوٹ پر تم کیوں ہمت ہارو۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 101
اصل الفاظ ہیں وَیَتَّخِذَ مِنْکُم شُھَدَآءَ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تم میں سے کچھ شہید لینا چاہتا تھا، یعنی کچھ لوگوں کو شہادت کی عزت بخشنا چاہتا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے اس مخلوط گروہ میں سے جس پر تم اس وقت مشتمل ہو، ان لوگوں کو الگ چھانٹ لینا چاہتا تھا جو حقیقت میں شُھَدَآ عَلَی النَّاس ہیں، یعنی اس منصب جلیل کے اہل ہیں جس پر ہم نے امت مسلمہ کو سرفراز کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–143
لہذا فرمایا (ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ وتلک الایام نداولھا بین الناس) یعنی اگر تم کو زخم پہنچا تو ان کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور ہم ان ایام کو باری باری بدلتے رہتے ہیں، جس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اس آیت میں ایک اہم ضابطہ اور اصول کی طرف رہنمائی فرمائی وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عادت اس عالم میں یہی ہے کہ وہ سختی، نرمی، دکھ، سکھ، تکلیف و راحت کے دنوں کو لوگوں میں ادل بدل کرتے ہیں، اگر کسی وجہ سے کسی باطل قوت کو عارضی فتح و کامرانی حاصل ہوجائے تو جماعت حقہ کو اس سے بد دل نہیں ہونا چاہئے، اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم کو اب ہمیشہ شکست ہی ہوا کرے گی، بلکہ اس شکست کے اسباب کا…
Read the full tafseer →’ القوم ‘ سے مراد : ’ القوم ‘ کا لفظ اس سیاق وسباق میں جب آتا ہے تو اس سے مراد حریف مقابل اور دشمن ہوتا ہے۔ یہاں اشارہ کفار قریش کی طرف ہے۔
’ الایام ‘ سے مراد : الایام جب اس طرح جمع کی شکل میں آتا ہے تو اس سے مراد تاریخ کے وہ دن ہوتے ہیں جن میں بڑے بڑے واقعات و حوادث پیش آئے ہوں۔ ایام العرب سے مراد اہل عرب کی جنگیں ہیں۔ قرآن میں ہے وذکرہم بایام اللہ یعنی دنیا میں قوموں پر اللہ کی رحمت اور اس کے عذاب کے جو بڑے بڑے واقعات پیش آئے ہیں ان کے ذریعہ سے لوگوں کو یاد دہانی کرو۔ آیت زیر بحث میں بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس طرح کے فتح وشکست کے جو واقعات پیش آتے ہیں، یہ ہر قوم کو پیش آتے…
Read the full tafseer →140۔ 1 ایک اور انداز سے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر جنگ احد میں تمہارے کچھ لوگ زخمی ہوئے تو کیا ہوا ؟ تمہارے مخالف بھی تو (جنگ بدر میں) اور احد کی ابتداء میں اسی طرح زخمی ہوچکے ہیں اور اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ فتح و شکست کے ایام کو ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ کبھی غالب کو مغلوب اور کبھی مغلوب کو غالب کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →46: جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے جس میں کفار مکہ کے ستر سردار مارے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے۔
Read the full tafseer →إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الأيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا
” اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے ۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا تھا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سے سچے مومن کون ہیں۔ “
کشادگی کے بعد سختی اور سختی کے بعد کشادگی ‘ وہ حالات ہیں جو نفس انسانی کی خفیہ صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں ‘ اس سے لوگوں کے مزاج معلوم ہوجاتے ہیں اور یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کون نظریاتی لحاظ سے…
Read the full tafseer →5 مسلمانوں کو جنگ میں جو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا، اس سے سخت شکستہ خاطر تھے۔ مزید برآں منافقین اور دشمنوں کے طعنے سن کر اور زیادہ اذیت پہنچتی تھی۔ کیونکہ منافقین کہتے تھے کہ محمد ﷺ سچے پیغمبر ہوتے تو یہ نقصانات کیوں پہنچتے یا تھوڑی دیر کے لئے بھی عارضی ہزیمت کیوں پیش آتی۔ حق تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی کہ اگر اس لڑائی میں تم کو زخم پہنچا یا تکلیف اٹھانی پڑی تو اس طرح کے حوادث فریق مقابل کو پیش آچکے ہیں۔ احد میں تمہارے پچھتر آدمی شہید اور بہت سے زخمی ہوئے، تو ایک سال پہلے بدر میں انکے ستّر جہنم رسید اور بہت سے زخمی ہوچکے ہیں اور خود اس لڑائی میں بھی ابتداً انکے بہت آدمی مقتول و…
Read the full tafseer →آیت 140 اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ ط
اہل ایمان کو غزوۂ احد میں اتنی بڑی چوٹ پہنچی تھی کہ ستر صحابہ رض ‘ شہید ہوگئے۔ ان میں حضرت حمزہ رض بھی تھے اور مصعب بن عمیر رض بھی۔ انصار کا کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا جس کا کوئی فرد شہید نہ ہوا ہو۔ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان جب مدینہ واپس آئے تو ہر گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔ اس وقت تک میت پر بین کرنے کی ممانعت نہیں ہوئی تھی۔ عورتیں مرثیے کہہ رہی تھیں ‘ بینَ کر رہی تھیں ‘ ماتم کر رہی تھیں۔ اس حالت میں خود آنحضور ﷺ کی زبان مبارک سے الفاظ نکل گئے : لٰکِنَّ حَمْزَۃَ لَا بَوَاکِی لَہٗ ! 1 ہائے حمزہ کے لیے تو کوئی رونے والیاں…
Read the full tafseer →126 جنگ بدر میں کافروں کو اس سے زیادہ صدمہ پہنچا تھا۔ اسوقت کافروں کے ستر سردار قتل ہوئے تو ستر گرفتار بھی ہوئے۔ جب کہ غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوگئے اور اللہ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کا ایک آدمی بھی گرفتار نہ ہوا۔ کیونکہ با لآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا اور قریش مکہ کو پسپا ہونا پڑا تھا۔ اس آیت میں شکستہ دل مسلمانوں کو ڈھارس بندھائی جارہی ہے۔ پھر اس شکست کی بعض حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ خوشی اور غمی، فتح و شکست، کامرانی و ناکامی، خوشحالی و تنگدستی ایسی چیزیں ہیں جو لوگوں میں ہر کسی کو پیش آتی رہتی ہیں۔ اس لیے اگر مسلمانوں کو وقتی طور پر شکست ہو بھی گئی تو غمزدہ اور…
Read the full tafseer →275 ۔ (تو تمہاری کسی افتاد سے ان مخالفوں کو کیا تسلی ہوسکتی ہے، انہیں تو ایسی ہی افتاد پیش آچکی ہے) (آیت) ” ان یمسسکم قرح “۔ اشارہ ہے ہونے والی جنگ احد کی طرف۔ (آیت) ” مس القوم قرح مثلہ “۔ اشارہ ہے جنگ بدر کی طرف، اس میں قریش کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔
276 ۔ (مصالح تکوینی کے اعتبار سے) سو مجرد فتح وشکست کو حق و باطل کا معیار نہ سمجھا جائے۔ (آیت) ” تلک الایام “۔ یعنی فتح وظفر کا زمانہ۔ والمراد بالایام اوقات الظفر والغلبۃ (کشاف)
277 ۔ (سو ظالموں کے بر سر حق ہونے کا تو گمان بھی نہ کیا جائے، خواہ تکوینی مصلحتوں کی بنا پر انہیں عارضی اور ہنگامی کامیابیاں کیسی ہی حاصل ہوجائیں) (آیت) ” لیعلم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–144
آیت نمبر 144 تا 148
ترجمہ : اور آئندہ آیت صحابہ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب یہ بات مشہور ہوگئی کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے، اور صحابہ (مخلصین) سے منافقین نے کہا اب جب کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو اپنے (سابق) دین کی طرف پلٹ جاؤ۔ تو (وَمَا محمدٌ اِلاّ رسول الخ) نازل ہوئی۔ اور محمد تو بس ایک رسول ہیں، اور ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے ؟ یعنی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے ؟ اور آخری جملہ استفہام انکاری کے محل میں ہے۔ یعنی وہ معبود نہیں تھے (کہ اس کی موت کی وجہ سے) تم پلٹ جاؤ اور جو کوئی الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جائے گا…
Read the full tafseer →ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ قَرْحٌاور قُرْحٌ ہتھیار وغیرہ کی چوٹ جس سے بدن زخمی ہوجائے۔ (قاموس) فراء نے کہا قرح بفتح قاف زخم اور بضم قاف زخم کی تکلیف یعنی احد کے دن تم کو زخم لگے اور تکلیف ہوئی تو بدر کے دن کفارقریش کو بھی ایسے ہی زخم لگے اور تکلیف ہوئی تھی مگر وہ دوبارہ تم سے لڑنے کے لیے آنے سے بےہمت نہ ہوئے پس تم تو اس کے زیادہ مستحق ہو۔ مسلمان جب دکھ اور رنج کے ساتھ احد سے لوٹے تو مسلمانوں کو تسلی دینے اور کافروں کے مقابلہ میں حوصلہ بڑھانے کے لیے اس آیت کا نزول ہوا۔
و تلک الایام نداولھا بین الناس اور ایام فتح کو ہم لوگوں میں باری باری سے گھماتے پھیرتے رہتے ہیں یعنی ہماری عادت یونہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
(140۔ 141) اگر غزوہ احد کے دن تمہیں کوئی صدمہ پہنچ جائے تو اسی طرح کا صدمہ وغم مکہ والوں کو بدر کے دن پہنچ چکا ہے، کیوں کہ ہمارا دستور ہے کہ دنیا کے حالات کو ہم اسی طرح بدلتے رہتے ہیں، کبھی مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ دے دیا اور کبھی کفار کو غلبہ دے دیا تاکہ میدان جہاد میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دیکھ لیں، پھر جس کو وہ چاہیں شہادت کی وجہ سے عزت و شرافت عطا فرما دیں اور حق تعالیٰ مشرکین اور ان کے دین اور ان کی دولت کو پسند نہیں کرتے، اور تاکہ اللہ تعالیٰ جہاد میں جو باتیں پیش آئیں ان پر اللہ اہل ایمان کی مغفرت فرمائے اور لڑائی میں کفار کو ملیامیٹ کردے۔
شان نزول : (آیت) ”ویتخذ منکم شہدآء“۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ یعنی اگر ”احد“ کے دن تمہیں مشرکین کے ہاتھوں نقصان پہنچا ہے تو تم بھی بدر کے دن انھیں اسی قسم کا نقصان پہنچا چکے ہو اس لیے یہ زیادہ پریشانی کی بات نہیں۔ ”اَلْحَرْبُ سِجَالٌ“ (لڑائی میں باریاں ہوتی ہیں) جب بھی دو گروہوں میں جنگ ہوئی ہے تو کبھی ایک کا پلڑا بھاری رہا ہے، کبھی دوسرے کا۔
وَتِلْكَ الْاَيَّامُ : جنگ احد میں مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچا۔ یہود اور منافقین کے طعنے مزید دل دکھانے کا باعث بنے۔ منافق کہتے تھے کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہوتے تو مسلمان یہ نقصان اور ہزیمت کی ذلت کیوں اٹھاتے وغیرہ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ فتح و شکست تو ادلتی بدلتی چیز…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 140۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یمسسکم قرح “۔ قرح کا معنی زخم، چوٹ ہے اس میں کسائی اور اخفش سے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ دونوں لغتیں منقول ہیں (یعنی قرح اور قرح) مثلا عقر اور عقر۔ اور فراء نے کہا ہے : فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی زخم ہے اور ضمہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی زخم کا درد ہے، اور معنی یہ ہے کہ اگر احد کے دن تمہیں زخم لگا ہے تو بدر کے دن (تمہاری دشمن) قوم کو بھی اسی کی مثل زخم لگا ہے، اور محمد بن سمیقع نے مصدر کی بنا پر فا اور را کے فتحہ کے ساتھ قرح پڑھا ہے۔ (آیت) ” وتلک الایام نداولھا بین الناس “۔ کہا گیا ہے : یہ جنگ میں ہوتا ہے، ایک بار مومنین کے لئے ہوتی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یمسسکم “ سے مراد ہے اگر تم کو (تکلیف) پہنچ جائے۔
(2) عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ “ یعنی ان دونوں میں ” ق “ کو رفع کے ساتھ پڑھا۔
(3) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یمسسکم قرح “ سے مراد ہے زخمی ہونا اور قتل ہونا۔
(4) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ “ سے مراد ہے اگر تم میں سے احد کے دن قتل کئے گئے تو تحقیق تم ان میں سے بدر کے…
Read the full tafseer →[اِنْ یَّمْسَسْکُمْ : اگر لگا تم لوگوں کو ] [قَرْحٌ : کوئی چرکا ] [فَقَدْ مَسَّ : تو لگ چکا ہے ] [الْقَوْمَ : اس قوم کو ] [قَرْحٌ : ایک چرکا ] [مِّثْلُہٗ : اس کے جیسا ] [وَتِلْکَ الْاَیَّامُ : اور یہ دن ‘] [نُدَاوِلُہَا : ہم گردش دیتے ہیں ان کو ] [بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان ] [وَلِیَعْلَمَ : اور (یہ اس لیے) کہ جان لے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَیَتَّخِذَ : اور تاکہ وہ بنائے ] [مِنْکُمْ : تم میں سے ] [شُہَدَآئَ : گواہ ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [لاَ یُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [الظّٰلِمِیْنَ : ظالموں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
مسلمانوں کو تسلی
ان آیات میں اول تو مسلمانوں کو تسلی دی اور فرمایا کہ اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے تمہارے دشمنوں کو بھی اس جیسا زخم پہنچ چکا ہے (کہ بدر میں ان کے بھی ستر آدمی مارے جا چکے ہیں) پھر یہ بیان فرمایا کہ ہم اہل زمانہ کا حال یکساں نہیں رکھتے یہ ایام باری باری سے بدلتے رہتے ہیں کبھی کسی کا پلہ بھاری ہوجاتا ہے اور کبھی اس کے مقابل دشمن کو غلبہ ہوجاتا ہے، اسی معمول کے مطابق پچھلے سال تمہارے دشمن مغلوب ہوگئے اور اس سال انہوں نے غلبہ پا لیا اور تم کو ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑا۔
واقعہ احد کی حکمتیں :
اس کے بعد واقعہ احد کی بعض حکمتیں بیان فرمائیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–145
رجوع بسوئے قصہ احد وتسلیہ اہل اسلام بہ گونہ گوں۔
قال اللہ تعالی۔ قد خلت من قبلکم۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الشاکرین۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں واقعہ احد کا بیان تھا اب پھر قصہ احد کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں کی ہزیمت کے اسباب کو بھی بیان فرمایا کہ صبر اور تقوی اور اطاعت رسول میں تقصیر کی وجہ سے فتح کے بعد تم کو یہ ہزیمت پیش آئی مگر ساتھ ہی ساتھ بار بار تسلی بھی دی گئی کہ تم مت گھبراؤ فی الحال اگرچہ کفار کو غلبہ ہوا مگر انجام کار تم ہی غالب رہو گے اور بار بار حضرات صحابہ کی اس لغزش کے عفو اور معافی کا اعلان فرمایا تاکہ حضرات صحابہ کے ٹوٹے ہوئے دل دوبارہ جڑجائیں اور محبین اور مخلصین کو جو…
Read the full tafseer →208 یہ جہاد سے متعلق مذکورہ شبہ کا علی سبیل الترقی جواب ہے اور القوم سے مشرکین مراد ہیں۔ اور فَقَدْ مَسَّ الْقَوْم جزائے محذوف کے قائم مقام ہے مثلاً فَلَا تَحْزَنُوْا یعنی اگر احد میں تم نے مشرکین کی طرف سے زتو اس کا غم مت کرو وہ بھی تو بدر میں تمہارے ہاتھوں شکست کھاچکے ہیں۔ اگر احد میں تم کو شکست ہوئی تو یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی یہ بھی ممکن ہے کہ جزائے محذوف فلا تضعفوا (بحر ص 62 ج 3، مدارک ص 143 ج 1) یعنی اگر احد میں تم کو شکست ہوئی ہے تو تم اس سے شکستہ خاطر نہ ہوجاؤ اور نہ آئندہ کے لیے جہاد میں کمزوری دکھاؤ تم دیکھتے نہیں کہ بدر میں مشرکین کو تمہارے ہاتھوں بری طرح شکست ہوئی مگر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
ربط آیات :
غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں میں جو کمزوری واقع ہوگئی تھی۔ اس کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بعض احکام نازل فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے سود خوری سے منع فرمایا۔ غلطیوں اور کوتاہیوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ غصے کو دبانے اور لوگوں کو معاف کرنے کی تعلیم دی۔ ہر خوشی اور تکلیف میں راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی۔ اور پھر اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے تائب ہونے کا طریقہ بتلایا۔ کہ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کی وعید کو یاد کرکے اس سے بخشش طلب کرے ، گناہ کی معافی مانگے اور آئندہ کے لیے ایسی برائی سے رک جائے ، اس پر اصرار نہ کرے۔ جو کوئی ان احکام پر عمل پیرا ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش…
Read the full tafseer →اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ 0 ۭ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ 0 ۚ وَلِيَعْلَمَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُہَدَاۗءَ 0 ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِـمِيْنَ 140 ۙ
مسس
المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد
والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ،
( م س س ) المس کے
معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش
کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–144
ترکیب : من قبلکم خلت سے متعلق ہے ‘ ولا تہنوا ماضی وہن سے ہے و حذف ہے کیونکہ وہ کسری اوری کے بیچ میں آگیا تھا۔ الاعلون اس کا مفرد اعلیٰ ہے التقاء ساکنین کی وجہ سے الف حذف کرکے اس کا یادگار فتح چھوڑ دیا گیا ہے۔ قرح مصدر قرحۃ بمعنی زخم ہے اور قرح بالضم زخم۔ تلک مبتداء الایام خبر نداولہا جملہ حال ہے ولیعلم معطوف ہے محذوف پر ای نداولہا لیکون کیت وکیت ولیعلم اللہ تاکہ معلوم ہو کہ اس گردش ایام کی چند علتیں ہیں۔ منجملہ ان کے یہ اور ہے ولیمحص معطوف ہے ولیعلم پر ام منقطعۃ بمعنی بل۔
تفسیر : پیشین گوئی : جبکہ خدا تعالیٰ نے عالم آخرت کی رغبت اور جنت کا شوق دلایا اور جہاد پر جو اصلاح عالم کا باعث ہے آمادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْـلُـہٗ وَ تِلْـکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ ج وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْـکُمْ شُہَدَآئَ ط وَاللّٰہُ لاَ یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ۔ لا وَلِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَمْحَقَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔
(اگر تمہیں کوئی زخم لگا ہے تو دشمن قوم کو بھی اسی طرح کی چوٹ لگی ہے۔ یہ ایام اسی طرح ہم لوگوں کے درمیان الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تمہارا امتحان کرے اور ممیز کر دے ایمان والوں کو اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور تاکہ اللہ مومنوں کو چھانٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–142
فہم القرآن
ربط کلام : آزمائش سے قوموں کے کردار میں پختگی پیدا ہوتی ہے احد کی عارضی شکست اسی سلسلہ کی کڑی سمجھنا چاہیے۔
دنیا کی یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ آدمی کا مقصد جتنا بلند اور اہم ہوتا ہے اتنی ہی وہ محنت اور اس کے لیے تکلیف اٹھاتا ہے۔ مومن کی زندگی کا مقصد دین کو سر بلند کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا ہے جس کا ما حصل جنت ہے۔ یہ مقصد عظیم خالی دعوؤں اور کھوکھلے نعروں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے مال لٹانا، پیٹ پر پتھر باندھنا ‘ گھر بار چھوڑنا ‘ اولاد قربان کرنا اور جسم کٹواتے ہوئے صابر و شاکر رہنا پڑتا ہے تب جا کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ممکن ہوا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے…
Read the full tafseer →تسلیٔ مؤمنین :
140: اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثلُہٗ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُھَدَآئَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْن۔ اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ (اگر تم کو زخم لگا)
قراءت : قُرْح تمام مقامات پر پڑھا جائے گا۔ حفص کے علاوہ دیگر تمام کو فی قراء کے ہاں۔ قَرْحٌ حفص اور دیگر تمام قراء نے پڑھا۔ یہ دو لغتیں ہیں جیسا کہ َضعف اور ُ ضعف۔
بعض نے کہا۔ قَرح ہو تو معنی زخم اور قرح ہو تو معنی زخم کی ٹیس۔ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثلُہٗ (پس تحقیق قوم کو اسی طرح کا زخم پہنچا)…
Read the full tafseer →(تفسیر) 140۔ـ:
(آیت)” ولا تھنوا ولا تحزنوا “۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو جہاد پر ابھارنا مقصود ہے اور صبر کی تعلیم دینا ہے کہ احد کے دن جو آپ کو مصائب اور تکالیف پہنچیں ان پر صبر کریں ، (آیت)” ولا تھنوا “ کا مطلب یہ ہے کہ تم کمزور مت ہو اپنے دشمنوں سے جہاد کرنے میں بزدل مت ہو جو مصیبت تم کو پہنچی ہے اس کے بدلے میں احد کی لڑائی میں پانچ مہاجر حضرت حمزہ ؓ ، اور حضرت مصعب بن عمیر ؓ ، اور ستر انصاری ؓ شہید ہوئے ، (آیت)” ولا تحزنوا “ اور جو تم سے چھین گیا اس پر غمگین نہ ہوں ۔ (آیت)” وانتم الاعلون “۔ تمہیں بلندی عطا کی جائے گی مدد ونصرت کے ساتھ اور اپنے دشمنوں پر کامیابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–142
(137 ۔ 142) ۔ احد کی لڑائی میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مسلمانوں کو یہ خیال گذرا کہ ہم اسلام کی تائید میں لڑتے ہیں اور حق پر ہیں اور ہمارے دشمن اور مخالف لوگ ناحق پر ہیں اور دین الٰہی کو مٹانا چاہتے ہیں پھر ہماری شکست اور ان کی فتح کیوں اور کس مصلحت الٰہی سے ہوئی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تسلی اور کافروں کی تنبیہ میں یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کی درگاہ میں ہر وقت کام کا وقت مقرر ہے ابھی ان دین الٰہی کے دشمنوں کی تباہی کا وقت نہیں آیا ہے جب وقت مقرر آجائے تو کچھ ان میں سے اپنے حال کی اصلاح کر کے مسلمان ہوجائیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہیں گے فورا جس طرح اگلے لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
آیت 139-142
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لئے فرماتا ہے : (ولاتھنوا ولاتحزنوا) یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلاء پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمہارے لئے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لئے سخت جان ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–145
جہاد کی ترغیب
قول باری ہے (وماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ کتبامؤجلا، کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے) آیت میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اس لیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی تو پھر جہاد پر جانے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونی چاہیے۔ آیت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی وفات کی صورت میں لوگوں کو پہنچنے والے صدمے کو یہ کہہ کر زائل کیا گیا ہے کہ آپ کی وفات بھی تو اللہ کے اذن سے ہوئی ہے۔ آیت سے یہ پہلو اس لیے احتد کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں گزرچکا ہے ومامحمد الارسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مّات او قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
282 مسلمانوں کیلئے استقامت و ثابت قدمی کا درس : جبکہ اس موقع پر کفار کے ستر صنادید مارے گئے تھے، اور اتنے ہی قید ہوگئے تھے۔ اور اس طرح ان کی ناک کٹ گئی تھی۔ ان کی کمر ٹوٹ گئی تھی۔ اور ان کا غرور خاک میں مل گیا تھا۔ مگر اس کے باوصف اور کفر و باطل پر ہونے کے باوجود وہ لوگ اپنی اس شکست خوردگی سے ہمت نہیں ہارے۔ تو پھر تم لوگ اے مسلمانو ! کیوں ہمت ہارتے ہو ؟ جبکہ تم ہو بھی حق پر اور تمہارے ہر عمل اور ہر حال پر تمہیں اجر وثواب بھی ملتا ہے۔ اور تمہارے لئے کسی بھی صورت میں ناکامی نہیں کہ مومن کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے۔ تو پھر تمہارا ہمت ہارنا یا کمزوری دکھانا کس طرح درست ہے ہوسکتا ہے۔ سو اس ارشاد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
عارضی شکست اور مسلمانوں کا غلبہ
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں کہ احد کی جنگ میں اگر تمہیں نقصان پہنچا ہے تو فکر نہ کرو اگر تم اللہ وحدہ لاشریک کے فرمانبردار بن کر رہو گے تو یقین رکھو رب العالمین تمہیں ضرور فتح عطا کرے گا اور اللہ رب العزت نے فرمایا کہ زندگی نام ہے دکھ اور سکھ کا کیونکہ اللہ کے اس کام میں بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اگر تمہیں نقصان ہوا ہے تو کافروں کو بھی بےحد نقصان اٹھانا پڑا ہے اگر وہ اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں تو تم کیوں ہمت ہار رہے ہو ؟ ایمان کو مضبوط رکھو اور دکھ پریشانی سے ہرگز نہ گھبراؤ۔ اللہ پر بھروسہ رکھو کیونکہ تمہارے پاس تو توکل کا بہت بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–143
آیات 130- 143
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔
توکل :
نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔
زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اگر احد کے دن تمہیں ان مشرکین کے ہا تھوں نقصان پہنچا ہے تو تم بدر کے دن انہیں اسی قسم کا نقصان پہنچا چکے ہو اور یہ کچھ پریشانی کی بات نہیں الحرب سجال جب بھی دو گروہوں میں جنگ ہوئی ہے تو کبھی ایک کا پلڑا بھارہا ہے اور کبھی دوسرے کا۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )
Read the full tafseer →(3:140) یمسسکم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ تم کو لگتا ہے ۔ تم کو پہنچتا ہے۔ تم کو چھوتا ہے۔
قرح۔ کسی بیرونی سے سے پہنچنے والا زخم۔ مثلاً تلوار کا زخم۔ القرح۔ اندر سے پیدا ہونے والا زخم۔ مثلاً پھوڑا۔ پھنسی کا زخم۔ اول متعدی ہے اور باب فتح سے آتا ہے دوم لازم ہے اور باب سمع سے آتا ہے لیکن کبھی باب فتح سے آتا ہے۔ جیسے قرح قلبہ۔ اس کا دل زخمی ہوگیا۔ قرح مصدر بھی ہے۔ زخمی کرنا۔ قرح اس دکھ اور تکلیف کر بھی کہتے ہیں جو کسی زخم سے پیدا ہو۔ یہاں زخمی ہونا اور دکھ پانا مراد ہے
(3:140) نداولہا۔ جمع متکلم مضارع۔ مداولہ (مفاعلۃ) ھا ضمیر واحد مؤنث مفعول ہم اس کو ادلتے بدلتے رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 143
لاتھنوا (تم سست نہ ہو) لاتحزنوا (تم رنجیدہ نہ ہو) الاعلون (بلند (رہوگے) ان یمسسکم ( اگر تمہیں پہنچا ہے) قرح (زخم) مس القوم (پہنچا ایک قوم کو) نداول (ہم گھماتے رہتے ہیں) لیمحص (تاکہ وہ نکھاردے) یمحق (وہ مٹاتا ہے) ام حسبتم (کیا تم سمجھ
بیٹھے) ان تلقوہ (یہ کہ تم اس سے ملو) رایتموہ (تم نے اس کو دیکھ لیا)
تشریح : آیت نمبر 139 تا 143
ان آیتوں میں مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ انبیاء کی سنت اور ان کے ماننے والوں کا طریقہ ہی یہ ہے کہ جب ان پر مشکل حالات آتے ہیں تو وہ ہمت نہیں ہارتے بلکہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے سینہ سپرہوجاتے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اے مسلمانو ! تم ہمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–142
حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
[84] اشارہ ہے جنگ احد کی طرف
[94] اشارہ ہے جنگ بدر کی طرف جس میں کفار کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
[05] یعنی فتح و شکست چلتی پھرتی چھاؤں ہے کبھی کسی پر کبھی کسی پر۔ بس یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کی وجہ سے تم ہمت ہار بیٹھو۔
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیات میں بزدل مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، جیسے چوٹیں تم نے کھائی ہیں ‘ ویسے ہی تمہارے دشمن بھی زخمی ہوئے ہیں اور یہ عارضی غلبہ جو کفار کو ہوگیا ہے ، اس لئے ہے ، تاکہ مخلصین کا امتحان ہوجائے ،
(آیت) ” تلک الایام نداولھا بین الناس “۔ سے مراد یہ نہیں کہ غلبہ کبھی تمہیں میسر ہوتا ہے اور کبھی کفار کو بلکہ مقصود یہ ہے کہ یہ تکلیف کے دن اور آزمائش کی گھڑیاں سب کے لئے یکساں ہیں ، مومن کے لئے ابتلا ہے اور کافر کے لئے عذاب ، ورنہ اصل نصرت وفتح صرف مسلمانوں کے لئے مختص ہے ۔
حل لغات :
قرح : زخم ۔ چوٹ ۔
یمحص : مصدر تمحیص ۔ خالص بنانا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
ف 2 یہ مضمون مذکور عام لوگوں کے لئے ایک کافی بیان ہے اور ہدایت و نصیحت کا موجب ہے ان لوگوں کے لئے خدا سے جو ڈرنے والے ہیں اور تم جو اس وقت مغلوب ہوگئے ہو اس سے ہمت نہ ہارو اور جو لوگ شہید ہوگئے ہیں ان پر غمگین نہ ہو حالانکہ انجام کار تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ پورے پورے مومن رہے اور تمہارا ایمان صحیح رہا۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے کہ جائو اور جا کر کار کا انجام دیکھ لو یہ بیان عبرت حاصل کرنے کو لوگوں کے لئے کافی ہے اور ہدایت و بصیرت ہے اور موعظت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو خدا سے ڈرنے والے ہیں اس میں متقیوں کی دونوں قسمیں آگئیں گویا عوام کی عبرت کے لئے کافی بیان ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–143
ف 2۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ سال گزشتہ بعض صحابہ جو بدر میں شہید ہوئے تھے اور ان کے بڑے فضائل معلوم ہوئے تو بعض نے تمنا کی کاش ہم کو بھی کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ اس دولت شہادت سے مشرف ہوں آخر یہ احد کا غزوہ پیش ہوا توپاوں اکھڑ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →آج جس دکھ میں تم مبتلا ہو کل دشمنوں کو بھی تم ایسے ہی دکھ میں مبتلا کرچکے ہو :
256: اس آیت میں ایک دوسرے انداز میں مسلمانوں کو تسلی کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اس لڑائی میں تم کو زخم پہنچایا تکلیف اٹھانی پڑی تو اس طرح کے حوادث تمہارے فریق مخالف کو بھی پیش آ چکے ہیں اگر احد میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوئے ہیں اور بہت سے زخمی بھی تو ایک ہی سال پہلے تم ان کے ستر آدمی جہنم رسید کرچکے ہو اور بہت سے زخم بھی کھاچکے ہیں اور اس سے لڑائی میں بھی لڑائی شروع ہوتے ہی تمہارے ہاتھوں میں وہ قتل ہوچکے ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ ہم ان ایام کو باری باری بدلتے رہتے ہیں جس میں بہت سی چیزیں پوشیدہ ہیں۔
اس دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–143
The second verse that follows gives consolation to Muslims from another angle. It has been said that if Muslims were wounded or hurt in that particular battle, so also were those fighting against them. If seventy Muslim men were martyred with many wounded, is it not that they had condemned an identical number of their enemies to Hell, and wounded many, a year ago? Then, in this very battle, many a men from the enemy ranks were killed and wounded initially. So, when the text says:
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–140
100. This alludes to the Battle of Badr. The intention is to point out to the Muslims that if the unbelievers were not demoralized by the setback they suffered at Badr then the Muslims should not be disheartened by the setback thev suffered in the Battle of Uhud.
101. The actual words of this verse, can be interpreted in two ways. One meaning could be that God wanted to select some of them so that He could bestow upon them the honour of martyrdom. The second meaning could be that out of the hotch-potch of true believers and hypocrites which their community consisted of at that moment, God…
Read the full tafseer →