Explained with ayahs 137–143
شہادت اور بشارت
چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–140
سورة اٰلِ عِمْرٰن 100
اشارہ ہے جنگ بدر کی طرف۔ اور کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس چوٹ کو کھا کر کافر پست ہمت نہ ہوئے تو اس چوٹ پر تم کیوں ہمت ہارو۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 101
اصل الفاظ ہیں وَیَتَّخِذَ مِنْکُم شُھَدَآءَ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تم میں سے کچھ شہید لینا چاہتا تھا، یعنی کچھ لوگوں کو شہادت کی عزت بخشنا چاہتا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے اس مخلوط گروہ میں سے جس پر تم اس وقت مشتمل ہو، ان لوگوں کو الگ چھانٹ لینا چاہتا تھا جو حقیقت میں شُھَدَآ عَلَی النَّاس ہیں، یعنی اس منصب جلیل کے اہل ہیں جس پر ہم نے امت مسلمہ کو سرفراز کیا ہے۔
Read the full tafseer →ربط آیات
ان آیات میں پھر قصہ احد کے متعلق مسلمانوں کو تسلی دینے کا مضمون ہے کہ ہمیشہ سے یہی طریق الہی چلا آیا کہ انجام کار کفار ہی خائب و خاسر ہوتے ہیں اگرچہ تم اس وقت اپنی بےعنوانی سے مغلوب ہوگئے، لیکن اگر اپنے مقتضیات ایمان یعنی ثبات وتقوی پر قائم رہے تو اخیر میں کفار ہی مغلوب ہوں گے۔
خلاصہ تفسیر
اور تم (اگر اس وقت مغلوب ہوگئے تو کیا ہوا) ہمت مت ہارو اور رنج مت کرو اور آخر تم ہی غالب رہو گے اگر تم پورے مومن رہے (یعنی اس کے مقتضیات پر ثابت) اگر تم کو زخم (صدمہ) پہنچ جاوے (جیسا احد میں ہوا) تو (کوئی گھبرانے کی بات نہیں کیونکہ اس میں چند حکمتیں ہیں، ایک تو یہ کہ) اس قوم کو بھی (جو کہ تمہارے…
Read the full tafseer →’ وھن ‘ کا مفہوم : ’ دھن ‘ کے معنی ضعف کے ہیں۔ عام اس سے کہ یہ ضعف عمل کا ہو یا ارادے کا، جسم کا ہو یا کردار و اخلاق کا۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ ؓ سے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ تم سیلاب کے خس و خاشاک کے مانند ہوجاؤگے۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ یا رسول اللہ ! اس کا کیا سبب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا تمہارے اندر ’ وہن ‘ پیدا ہوجائے گا۔ لوگوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ ! وہن کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا، حب الدنیا و کراھۃ الموت، دنیا کی محبت اور موت کا ڈر، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عزم و حوصلہ اور عمل و ارادہ کی وہ پستی جو دنیا اور دنیا کی زندگی کی محبت اور موت کے خوف سے پیدا ہوتی ہے اور انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
139۔ 1 گذشتہ جنگ میں تمہیں جو نقصان پہنچا ہے، اس سے نہ سست ہو اور نہ اس پر غم کھاؤ کیونکہ اگر تمہارے اندر ایمانی قوت موجود رہی تو غالب اور کامران تم ہی رہو گے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی قوت کا اصل راز اور ان کی کامیابی کی ایک بنیاد واضح کردی ہے۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ اس کے بعد مسلمان ہر معرکے میں سرخرو ہی رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–139
45: جنگ احد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا، آنحضرت ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیر انداز صحابہ کا ایک دستہ میدان جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے، جب دشمن پسپا ہوا اور میدان جنگ خالی ہوگیا تو صحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز و سامان مال غنیمت کے طور پر اکھٹا کرنا شروع کردیا، تیر اندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہوچکی ہے اور ہمیں مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے، ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان…
Read the full tafseer →اس کے بعد روئے سخن مسلمانون کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کی دلجوئی کی جاتی ہے ‘ تسلی دی جاتی ہے اور ثابت قدمی کی تلقین کی جاتی ہے۔ وَلا تَهِنُوا وَلا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الأعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ…………… ” دل شکستہ نہ ہو ‘ غم نہ کرو ‘ تم ہی غالب رہوگے ‘ اگر تم مومن ہو۔ “ وَلا تَهِنُوا………… یہ لفظ وہن سے نکلا ہے ‘ جس کے معنی ضعیفی کے ہیں اور غم نہ کرو ‘ یعنی ان مصائب پر جو تمہیں پیش آرہے ہیں یا ان مفادات کے لئے جو تم سے چھوٹ گئے ۔ تم غالب اور برتر ہو ‘ اس لئے کہ تمہارا نظریہ حیات برتر ہے ۔ تم صرف اللہ وحدہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہو اور وہ لوگ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے سامنے جھکتے…
Read the full tafseer →4 یہ آیات جنگ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ جب مسلمان مجاہدین زخموں سے چور چور ہو رہے تھے، انکے بڑے بڑے بہادروں کی لاشیں آنکھوں کے سامنے مثلہ کی ہوئی پڑی تھیں۔ پیغمبر (علیہ السلام) کو بھی اشقیاء نے مجروح کردیا تھا اور بظاہر کامل ہزیمت کے سامان نظر آرہے تھے۔ اس ہجوم شدائد و یاس میں خداوند قدوس کی آواز سنائی دی۔ (وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :139) دیکھنا ! سختیوں سے گھبرا کر دشمنان خدا کے مقابلہ میں نامردی اور سستی پاس نہ آنے پائے، پیش آمدہ حوادث و مصائب پر غمگین ہو کر بیٹھ رہنا مومن کا شیوہ نہیں۔ یاد رکھو آج بھی تم ہی معزز…
Read the full tafseer →آیت 139 وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
یہ آیت بہت اہم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پختہ وعدہ ہے کہ تم ہی غالب و سربلند ہو گے ‘ آخری فتح تمہاری ہوگی ‘ بشرطیکہ تم مؤمن ہوئے۔ یہ آیت ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ آج دنیا میں جو ہم ذلیل ہیں ‘ غالب و سربلند نہیں ہیں ‘ تو نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ یہ کہ ہمارے اندر ایمان نہیں ہے ‘ ہم حقیقی ایمان سے محروم ہیں۔ ہم جس ایمان کے مدعی ہیں وہ محض ایک موروثی عقیدہ ہے ‘ یقین قلبی اور conviction والا ایمان نہیں ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ امت کے اندر حقیقی ایمان موجود ہو اور پھر بھی وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہو۔
Read the full tafseer →125 ان ہدایات و ارشادات کے بعد اب پھر غزوہ احد کا بیان ہو رہا ہے اور یہ آیت غالباً اس وقت نازل ہوئی جب غزوہ احد میں مسلمان ایک دفعہ شکست کھا کر مایوسی و بددلی کا شکار ہو رہے تھے۔ اگرچہ اس کا روئے سخن بظاہر مجاہدین احد کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے ایک کلیہ بیان فرما دیا کہ اگر تم فی الواقعہ مومن ہو اور سست اور غمزدہ ہونے کے بجائے اللہ پر توکل اور صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ یقینا تمہیں غلبہ عطا کرے گا اور اگر تم مغلوب و مقہور ہو تو وہ وجوہ تلاش کرو جن کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →274 ۔ (اے ایمان والو) (آیت) ” ان کنتم مومنین “۔ وعدۂ غلبہ کے لیے شرط ایمان پر ثبات کی لگی ہوئی ہے، یہ خوب خیال رہے۔ (آیت) ” الاعلون “۔ یہ علو و غلبہ “ کا وعدہ ہر قسم کے علووغلبہ کو حاوی ہے۔ خواہ وہ مادی ہو یا روحانی، گوبیان پر نظر کرکے غلبہ مادی ہی اغلب ہے۔ یعنی الغالبین علی الاعداء (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–144
آیت نمبر 144 تا 148
ترجمہ : اور آئندہ آیت صحابہ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب یہ بات مشہور ہوگئی کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے، اور صحابہ (مخلصین) سے منافقین نے کہا اب جب کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو اپنے (سابق) دین کی طرف پلٹ جاؤ۔ تو (وَمَا محمدٌ اِلاّ رسول الخ) نازل ہوئی۔ اور محمد تو بس ایک رسول ہیں، اور ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے ؟ یعنی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے ؟ اور آخری جملہ استفہام انکاری کے محل میں ہے۔ یعنی وہ معبود نہیں تھے (کہ اس کی موت کی وجہ سے) تم پلٹ جاؤ اور جو کوئی الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جائے گا…
Read the full tafseer →و لا تھنوا اور احد کے دن تمہارے جو آدمی قتل یا زخمی ہوگئے ان کی وجہ سے تم دشمنوں کے مقابلہ سے کمزور اور بےہمت نہ ہو۔
و لاتحزنوا اور مقتولوں کے قتل کا رنج نہ کرو۔
و انتم الاعلون حالانکہ تم ہی ان سے اونچے ہو کیونکہ اس مصیبت کے اجر وثواب کے تم امید وار ہو اور کافروں کو آئندہ ثواب کی امید نہیں۔ تمہارے مقتولین جنت میں ہیں اور ان کے مقتول دوزخ میں۔ احد کی لڑائی میں پانچ مہاجر حضرت حمزہ اور حضرت مصعب وغیرہ اور ستر انصاری شہید ہوئے تھے۔ یہی مفہوم ہے ایک اور آیت کا جس میں فرمایا ہے : وَ لَا تَھِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ اِنْ تَکُوْنُوْا تَالَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ یَاْلَمُوْنَ کَما تَاْلَمُوْنَ وَ…
Read the full tafseer →(139) غزوہ احد میں مسلمانوں کو جو پریشانی لاحق ہوئی اللہ تعالیٰ اس کی تسلی فرماتے ہیں کہ دشمنوں کے مقابلہ میں کمزوری مت دکھاؤ، احد کے دن جو مال غنیمت وغیرہ تم سے چھوٹ گیا اور جو تمہیں پریشانی لاحق ہوئی اس پر دل چھو ٹا مت کرو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس پر تمہیں ثواب دے گا اور دنیا میں غلبہ حاصل ہوگا بشرطیکہ اس بات پر یقین ہو کہ غلبہ اور غنیمت سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
Read the full tafseer →وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا۔۔ : اوپر کی آیت ”ۭقَدْ خَلَتْ“ اس بشارت کی تمہید تھی اور ”وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ“ کے لیے ایک طرح کی دلیل کہ پہلی امتوں کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اہل باطل کو اگرچہ غلبہ حاصل ہوا مگر عارضی، آخر کار وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ یہی حال تمہارا ہے، اس لیے کسی قسم کے ”وَھْنٌ“ (کمزوری) سے کام نہ لو، غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تمھی غالب رہو گے۔ چناچہ اس کے بعد ہر لڑائی میں مسلمان غالب ہوتے رہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 139۔
غزوہ احد میں مومنین کو اپنے شہداء اور زخمی ہونے والے افراد کے سبب جو تکلیف اور غم لاحق ہوا اس آیت میں اس پر انہیں حوصلہ اور تسلی دلائی جا رہی ہے، اور اس میں انہیں اپنے دشمن کے خلاف جہاد پر ابھارا جارہا ہے اور انہیں عجز اور بزدلی دکھانے سے منع کیا جارہا ہے، پس فرمایا (آیت) ” ولا تھنوا “۔ یعنی اے اصحاب محمد ﷺ کمزوری نہ دکھاؤ اور اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے سے بزدلی کا اظہار نہ کرو اس تکلیف کی وجہ سے جو تمہیں پہنچی۔
(آیت) ” ولا تحزنوا “ اور اپنی پشتوں پر غم سوار نہ کرو، اور نہ ہی اس ہزیمت اور مصیبت کے سبب غمزدہ ہو جو تمہیں پہنچی، (آیت) ” ان کنتم مؤمنین “۔ یعنی اگر تم میرے…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ محمد ﷺ کے اصحاب ؓ قتل ہونا اور زخمی ہونا بہت ہوگیا یہاں تک کہ ان میں سے ہر صحابی خوف زدہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کے ساتھ جو ہمدردی فرمائی اس سے بہتر ایمان والوں کے ساتھ ہمدردی فرمائی اور فرمایا لفظ آیت ” ولا تھنوا ولا تحزنوا “ سے لے کر ” لبرز الذین کتب علیہم القتل الی مضاجعہم “۔
(2) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ خالد بن ولید متوجہ ہوئے اس بات کا ارادہ کرتے ہوئے کہ وہ سب لوگ پہاڑ پر چڑھ جائیں حملہ کے لیے نبی ﷺ نے فرمایا سے اللہ ! وہ لوگ ہم پر پہاڑ کے اوپر سے غالب نہ…
Read the full tafseer →[وَلاَ تَهِنُوْا : اور تم لوگ ہمت مت ہارو ] [وَلاَ تَحْزَنُوْا : اور تم لوگ غمگین مت ہو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [
اَنْتُمُ : تم لوگ ] [الْاَعْلَوْنَ : برتر ہو ] [اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [مُّؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والے ہو ]
و ھـ ن
وَھَنَ (ض) وَھْنًا : (1) جسمانی طور پر کمزور ہونا ‘ سست ہونا۔ (2) ارادہ اور ہمت کا کمزور ہونا ‘ ہمت ہارنا۔ { وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ } (مریم :4) ” کمزور ہوئی ہڈی مجھ سے یعنی میری۔ “{ فَمَا وَھَنُوْا لِمَا اَصَابَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } (آل عمران :146) ” تو وہ لوگ ہمت نہیں ہارے اس سے جو مصیبت آئی انہیں اللہ کی راہ میں۔ “
وَھْنٌ (اسم ذات) : کمزوری ‘ تکلیف۔…
Read the full tafseer →تم ہی بلند ہو گے اگر مومن ہو
اسباب النزول صفحہ 120 میں علامہ واحدی حضرت ابن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ جب غزوۂ احد میں صحابہ کو شکست ہوگئی تو خالد بن ولید (جو اس وقت مشرکین کے لشکر میں تھے) مشرکین کے لشکر کو لے کر آگے بڑھے ارادہ یہ تھا کہ پہاڑ کے اوپر سے چڑھ کر پھر حملہ کردیا جائے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اس موقعہ پر یوں دعا کی :
اَللّٰھُمَّ لاَ یَعْلُوْنَ عَلَیْنَا اَللّٰھُمَّ لاَ قُوَّۃَ لَنَا الاَّ بِا للّٰہِ اَللّٰھُمَّ لَیْسَ یَعْبُدُکَ بِھٰذَہ الْبَلَدَۃِ غَیْرَ ھٰٓؤُلَآء النَّفَرِ
” اے اللہ یہ ہم پر بلند نہ ہوجائیں اے اللہ ہمارے پاس کوئی قوت نہیں سوائے آپ کے اس شہر میں ان چند آدمیوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–145
رجوع بسوئے قصہ احد وتسلیہ اہل اسلام بہ گونہ گوں۔
قال اللہ تعالی۔ قد خلت من قبلکم۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الشاکرین۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں واقعہ احد کا بیان تھا اب پھر قصہ احد کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں کی ہزیمت کے اسباب کو بھی بیان فرمایا کہ صبر اور تقوی اور اطاعت رسول میں تقصیر کی وجہ سے فتح کے بعد تم کو یہ ہزیمت پیش آئی مگر ساتھ ہی ساتھ بار بار تسلی بھی دی گئی کہ تم مت گھبراؤ فی الحال اگرچہ کفار کو غلبہ ہوا مگر انجام کار تم ہی غالب رہو گے اور بار بار حضرات صحابہ کی اس لغزش کے عفو اور معافی کا اعلان فرمایا تاکہ حضرات صحابہ کے ٹوٹے ہوئے دل دوبارہ جڑجائیں اور محبین اور مخلصین کو جو…
Read the full tafseer →207 یہاں پھر مضمون جہاد کا اعادہ کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ رکوع 18 میں فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ تک چلا گیا ہے۔ اس ٓیت میں اللہ تعالیٰ نے تشجیع علی القتال اور ترغیب الی الجہاد کی کے ساتے ساتھ مسلمانوں کو جنگ احد کے نقصانات کے بارے میں تسلی بھی دی ہے اور انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرمائی ہے۔ عزاھم وسلاھم بما نالھم یوم احد من القتل والجراح وحثھم علی قتال عدوھم ونھاھم عن العجز و الفشل (قرطبی ص 216 ج 4) لَاتَھِنُوْا، وَھْنٌ سے ہے جس کے معنی کمزور دکھانے کے ہیں یعنی اے ایمان والو دشمن کے مقابلہ میں کمزوری اور بدلی مت دکھاؤ اور احد میں جو کچھ ہوچکا اب اس کا غم اور افسوس چھوڑ دو اور یاد رکھو اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
ربط آیات :
غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں میں جو کمزوری واقع ہوگئی تھی۔ اس کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بعض احکام نازل فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے سود خوری سے منع فرمایا۔ غلطیوں اور کوتاہیوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ غصے کو دبانے اور لوگوں کو معاف کرنے کی تعلیم دی۔ ہر خوشی اور تکلیف میں راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی۔ اور پھر اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے تائب ہونے کا طریقہ بتلایا۔ کہ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کی وعید کو یاد کرکے اس سے بخشش طلب کرے ، گناہ کی معافی مانگے اور آئندہ کے لیے ایسی برائی سے رک جائے ، اس پر اصرار نہ کرے۔ جو کوئی ان احکام پر عمل پیرا ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش…
Read the full tafseer →وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 139
هين
الْهَوَانُ علی وجهين :
أحدهما : تذلّل الإنسان في نفسه لما لا يلحق به غضاضة، فيمدح به نحو قوله : وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ونحو ما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم :«المؤمن هَيِّنٌ ليّن»
الثاني : أن يكون من جهة متسلّط مستخفّ بهفيذمّ به . وعلی الثاني قوله تعالی: الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] ، فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] ، وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] ، وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–144
ترکیب : من قبلکم خلت سے متعلق ہے ‘ ولا تہنوا ماضی وہن سے ہے و حذف ہے کیونکہ وہ کسری اوری کے بیچ میں آگیا تھا۔ الاعلون اس کا مفرد اعلیٰ ہے التقاء ساکنین کی وجہ سے الف حذف کرکے اس کا یادگار فتح چھوڑ دیا گیا ہے۔ قرح مصدر قرحۃ بمعنی زخم ہے اور قرح بالضم زخم۔ تلک مبتداء الایام خبر نداولہا جملہ حال ہے ولیعلم معطوف ہے محذوف پر ای نداولہا لیکون کیت وکیت ولیعلم اللہ تاکہ معلوم ہو کہ اس گردش ایام کی چند علتیں ہیں۔ منجملہ ان کے یہ اور ہے ولیمحص معطوف ہے ولیعلم پر ام منقطعۃ بمعنی بل۔
تفسیر : پیشین گوئی : جبکہ خدا تعالیٰ نے عالم آخرت کی رغبت اور جنت کا شوق دلایا اور جہاد پر جو اصلاح عالم کا باعث ہے آمادہ…
Read the full tafseer →وَلاَ تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْـتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْـتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔
(اور پست ہمت نہ بنو اور غم نہ کھائو اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو) (139)
مسلمانوں کے خیالات کی اصلاح اور حوصلہ افزائی
احد کی شکست سے کمزور قسم کے لوگوں میں جو دل شکستگی پیدا ہوئی اس سے ایک طرف تو کمزور مسلمانوں کے دماغوں میں بہت سے وسوسوں نے جگہ بنا لی اور دوسری طرف منافقین اور یہود کو باتیں بنانے کا موقع مل گیا۔ کمزور مسلمان یہ سوچتے تھے کہ ہم اگر حق پر ہیں اور ہم میں واقعی اللہ کے رسول موجود ہیں تو پھر ہمیں شکست کیوں ہوئی اور منافقین اور یہود مسلمانوں کے دلوں میں مزیدوسوسے پیدا کرتے تھے کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
فہم القرآن
ربط کلام : احد کی ہزیمت کے بعد تسلی دینے کے ساتھ کامیابی کی مشروط ضمانت دی گئی ہے۔
غزوۂ احد میں مسلمانوں کے ستر (70) زعماء شہید ہوئے۔ جن میں شیر دل اور بہادر جوان حضرت حمزہ ؓ بھی شامل تھے جنہوں نے معرکۂ بدر میں سب سے زیادہ کفار کو نقصان پہنچایا تھا۔ انہیں احد میں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کی شہادت کے بعد آتش انتقام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کفار نے ان کے جسد اطہر کا مثلہ کیا اور سینہ مبارک چیر کر کلیجہ چبانے کی کوشش کی گئی۔ اس بھاری جانی نقصان کے ساتھ رسول محترم ﷺ کی ذات گرامی کو شدید زخم آئے۔ درّہ والوں کی کوتاہی کی وجہ سے یہ سب کچھ آنًا فاناً ہوا۔ اس شدید نقصان کے بارے میں مسلمان…
Read the full tafseer →تکالیف احد پر تسلی :
139: وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَلَا تَھِنُوْا (تم سستی نہ کرو) جہاد سے اس بناء پر کہ تم کو شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ وَلَا تَحْزَنُوْا ( اور نہ غم کرو) اس غنیمت پر جو تم سے فوت ہوگئی یا اپنے میں سے شہید ہونے والوں پر یا آنے والے زخموں پر۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ اور ایمان والوں کیلئے تسلی ہے۔ ان تکالیف پر جو غزوئہ احد کے موقع پر پیش آئیں اور ان کے دلوں کو تقویت دی جارہی ہے۔
علو کی تفسیر :
وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ (حالانکہ تم ان سے اعلیٰ اور اغلب ہو) کیونکہ تم نے بدر میں ان کے زیادہ آدمی قتل…
Read the full tafseer →139۔ ” ھذا یہ قرآن ” بیان اللناس “ تمام لوگوں کے لیے ” وھدی “ گمراہی سے ہدایت ہے (آیت)” موعظۃ للمتقین “۔ خاص طور پر پرہیزگاروں کے لیے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–142
(137 ۔ 142) ۔ احد کی لڑائی میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مسلمانوں کو یہ خیال گذرا کہ ہم اسلام کی تائید میں لڑتے ہیں اور حق پر ہیں اور ہمارے دشمن اور مخالف لوگ ناحق پر ہیں اور دین الٰہی کو مٹانا چاہتے ہیں پھر ہماری شکست اور ان کی فتح کیوں اور کس مصلحت الٰہی سے ہوئی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تسلی اور کافروں کی تنبیہ میں یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کی درگاہ میں ہر وقت کام کا وقت مقرر ہے ابھی ان دین الٰہی کے دشمنوں کی تباہی کا وقت نہیں آیا ہے جب وقت مقرر آجائے تو کچھ ان میں سے اپنے حال کی اصلاح کر کے مسلمان ہوجائیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہیں گے فورا جس طرح اگلے لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
آیت 139-142
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لئے فرماتا ہے : (ولاتھنوا ولاتحزنوا) یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلاء پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمہارے لئے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لئے سخت جان ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–145
جہاد کی ترغیب
قول باری ہے (وماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ کتبامؤجلا، کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے) آیت میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اس لیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی تو پھر جہاد پر جانے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونی چاہیے۔ آیت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی وفات کی صورت میں لوگوں کو پہنچنے والے صدمے کو یہ کہہ کر زائل کیا گیا ہے کہ آپ کی وفات بھی تو اللہ کے اذن سے ہوئی ہے۔ آیت سے یہ پہلو اس لیے احتد کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں گزرچکا ہے ومامحمد الارسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مّات او قتل…
Read the full tafseer →281 غلبہ اہل ایمان ہی کا مقدر ہے : سو یہاں پر دو لفظوں میں ایک عظیم الشان حقیقت کا اظہار وبیان فرما دیا ۔ سبحان اللہ ! ! ۔ اتنے مختصر لفظوں میں کتنی بڑی حقیقت کو آشکارا فرما دیا گیا کہ غلبہ اے مسلمانو ! تمہارا، اور صرف تمہارا ہی ہے، کیونکہ { اَنْتُمْ } اور { اَلاَعْلَوْنَ } دونوں معرفہ ہیں۔ اور قاعدہ کے مطابق جب مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں، تو اس میں حصر کا مفہوم پیدا ہوجا تا ہے۔ پس غلبہ بہرحال مسلمان ہی کیلئے ہے، مگر شرط صرف یہ ہے کہ تم سچے مومن اور واقعی ایماندار ہوؤ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ایمانی قوت حقیقی غلبہ و کامیابی کیلئے شہ کلید ہے۔ اور ایمانی کمزوری سب خرابیوں اور کمزوریوں کی جڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
عارضی شکست اور مسلمانوں کا غلبہ
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں کہ احد کی جنگ میں اگر تمہیں نقصان پہنچا ہے تو فکر نہ کرو اگر تم اللہ وحدہ لاشریک کے فرمانبردار بن کر رہو گے تو یقین رکھو رب العالمین تمہیں ضرور فتح عطا کرے گا اور اللہ رب العزت نے فرمایا کہ زندگی نام ہے دکھ اور سکھ کا کیونکہ اللہ کے اس کام میں بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اگر تمہیں نقصان ہوا ہے تو کافروں کو بھی بےحد نقصان اٹھانا پڑا ہے اگر وہ اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں تو تم کیوں ہمت ہار رہے ہو ؟ ایمان کو مضبوط رکھو اور دکھ پریشانی سے ہرگز نہ گھبراؤ۔ اللہ پر بھروسہ رکھو کیونکہ تمہارے پاس تو توکل کا بہت بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–143
آیات 130- 143
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔
توکل :
نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔
زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…
Read the full tafseer →ف 10 اوپر کی آیت : قد خلت الخ اس بشارت کی تمہید تھی اور انتم الا علون کے لیے بمنزلہ دلیل کی امم سابقہ کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اہل باطل کو گو عارضی غلبہ حاصل ہو امگر آخر کار وہ تباہ برباد ہوگئے یہی حال تمہار ہے اس لیے کسی قسم کے دھن اور ضعف سے کام نہ لو۔ آخرکار غلب رہوگے چناچہ اس کے بعد ہر لڑائی میں مسلمان غالب ہوتے رہے کبیر، وحیدی)
Read the full tafseer →(3:139) لا تھنوا۔ وھن سے۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تم سست مت ہو۔ تم بزدل مت ہو۔ تم کمزور مت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 143
لاتھنوا (تم سست نہ ہو) لاتحزنوا (تم رنجیدہ نہ ہو) الاعلون (بلند (رہوگے) ان یمسسکم ( اگر تمہیں پہنچا ہے) قرح (زخم) مس القوم (پہنچا ایک قوم کو) نداول (ہم گھماتے رہتے ہیں) لیمحص (تاکہ وہ نکھاردے) یمحق (وہ مٹاتا ہے) ام حسبتم (کیا تم سمجھ
بیٹھے) ان تلقوہ (یہ کہ تم اس سے ملو) رایتموہ (تم نے اس کو دیکھ لیا)
تشریح : آیت نمبر 139 تا 143
ان آیتوں میں مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ انبیاء کی سنت اور ان کے ماننے والوں کا طریقہ ہی یہ ہے کہ جب ان پر مشکل حالات آتے ہیں تو وہ ہمت نہیں ہارتے بلکہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے سینہ سپرہوجاتے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اے مسلمانو ! تم ہمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–142
حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–139
[47] جنگ احد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس لئے حکیم مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لئے زر پرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خوری سے باز آؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے اندر حرص بیحد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی اور سود دینے والوں میں سود خوروں کیخلاف نفرت و غصہ اور بغض۔ احد کی شکست میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
انتم الاعلون :
(ف 1) اس آیت میں مسلمانوں کو بشارت دائمی کی خبر سنائی ہے کہ مسلمان اگر مسلمان ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ کفر سے مغلوب رہے اور یہ اس لئے کہ اسلام نام ہی ایک ایسے زندہ طرز عمل کا ہے جو فلاح دارین کا کفیل وضامن ہے ، اس کے اصول اتنے پاکیزہ اور حیات بخش ہیں کہ مان لینے کے بعد علو واختیار کی تمام نصیحتیں از خود حاصل ہوجاتی ہیں ، مگر شرط وہی ایمان کامل ہے جس سے عمل پہیم الگ نہیں ، قرآن حکیم کی اصطلاح میں ” مومن “ صرف چند اصول و فروع کو مان لینے والے کا نام نہیں ‘ بلکہ ایسے زبردست خدا پرست انسان کا نام ہے جس کی رگوں میں خون کی بجائے اسلام کی کہریائی رو دوڑ رہی ہو ‘ جو بےچین اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
ف 2 یہ مضمون مذکور عام لوگوں کے لئے ایک کافی بیان ہے اور ہدایت و نصیحت کا موجب ہے ان لوگوں کے لئے خدا سے جو ڈرنے والے ہیں اور تم جو اس وقت مغلوب ہوگئے ہو اس سے ہمت نہ ہارو اور جو لوگ شہید ہوگئے ہیں ان پر غمگین نہ ہو حالانکہ انجام کار تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ پورے پورے مومن رہے اور تمہارا ایمان صحیح رہا۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے کہ جائو اور جا کر کار کا انجام دیکھ لو یہ بیان عبرت حاصل کرنے کو لوگوں کے لئے کافی ہے اور ہدایت و بصیرت ہے اور موعظت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو خدا سے ڈرنے والے ہیں اس میں متقیوں کی دونوں قسمیں آگئیں گویا عوام کی عبرت کے لئے کافی بیان ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–143
ف 2۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ سال گزشتہ بعض صحابہ جو بدر میں شہید ہوئے تھے اور ان کے بڑے فضائل معلوم ہوئے تو بعض نے تمنا کی کاش ہم کو بھی کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ اس دولت شہادت سے مشرف ہوں آخر یہ احد کا غزوہ پیش ہوا توپاوں اکھڑ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →مومن کون ہے ؟ وہی جو نہ ہمت ہارے اور نہ دل چھوڑے :
255: ” یاد رکھو کہ نہ ہمت ہارو اور نہ غمگین ہو اور تم ہی سربلند ہو اگر تم سچے مومن ہو۔ “ انسان جو کچھ کھو دے اس پر غمگین ہو کر بیٹھ رہے اور جو کچھ مل جائے اس پر بغلیں بجانا شروع کر دے تو یہ ایک عقل مند اور سمجھ سوچ رکھنے والا آدمی نہیں ہو سکتا۔ غزوہ احد کا واقعہ پیچھے چلتا آ رہا ہے اور یہ بات پہلے معلوم ہوچکی ہے کہ اس جہاد میں مسلمانوں کی بعض کوتاہیوں کے سبب ابتدائی فتح کے بعد پھر مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کے نتیجہ میں ستر صحابہ کرام ؓ شہید ہوئے اور نبی کریم ﷺ کو بھی زخم آئے مگر یہ سب کچھ ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنگ کا پانسہ بدل دیا اور…
Read the full tafseer →Once again, Muslims are being consoled through these verses about what happened to them at the Battle of Uhud. They are being told that, under the customary practice of Allah, the disbelievers are the ultimate losers; it does not matter if Muslims have not scored a victory at this time because of their strategic mistake, but should they stick to the demands of their Faith, that is, perseverance and fear of Allah, it will be the disbelievers who shall be the ultimate losers.
Commentary:
The Battle of Uhud has been fully described earlier in this Surah through which we already know that the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–140
100. This alludes to the Battle of Badr. The intention is to point out to the Muslims that if the unbelievers were not demoralized by the setback they suffered at Badr then the Muslims should not be disheartened by the setback thev suffered in the Battle of Uhud.
101. The actual words of this verse, can be interpreted in two ways. One meaning could be that God wanted to select some of them so that He could bestow upon them the honour of martyrdom. The second meaning could be that out of the hotch-potch of true believers and hypocrites which their community consisted of at that moment, God…
Read the full tafseer →