Explained with ayahs 137–143
شہادت اور بشارت
چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–140
سورة اٰلِ عِمْرٰن 100
اشارہ ہے جنگ بدر کی طرف۔ اور کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس چوٹ کو کھا کر کافر پست ہمت نہ ہوئے تو اس چوٹ پر تم کیوں ہمت ہارو۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 101
اصل الفاظ ہیں وَیَتَّخِذَ مِنْکُم شُھَدَآءَ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تم میں سے کچھ شہید لینا چاہتا تھا، یعنی کچھ لوگوں کو شہادت کی عزت بخشنا چاہتا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے اس مخلوط گروہ میں سے جس پر تم اس وقت مشتمل ہو، ان لوگوں کو الگ چھانٹ لینا چاہتا تھا جو حقیقت میں شُھَدَآ عَلَی النَّاس ہیں، یعنی اس منصب جلیل کے اہل ہیں جس پر ہم نے امت مسلمہ کو سرفراز کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–138
ارشاد ہے
والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی مافعلوا وھم یعلمون) جس میں ایک تو یہ ہدایت کی گئی کہ گناہوں میں مبتلا ہونا اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر سے غفلت کے سبب ہوتا ہے، اس لئے جب کوئی گناہ سرزد ہو اللہ تعالیٰ کی یاد کو فورا تازہ کرنا چاہئے، اور ذکر اللہ میں مشغول ہونا چاہئے۔
دوسری یہ ہدایت ہے کہ گناہوں کی معافی کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں، ایک پچھلے گناہوں پر ندامت اور اس سے معافی مانگنا اور مغفرت کی دعا کرنا، دوسرے آئندہ کے لئے اس کے پاس نہ جانے کا عزم مکمل کرنا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم کے بتلائے ہوئے اخلاق فاضلہ…
Read the full tafseer →’ سنن ‘ کا مفہوم : ’ سنن ‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ ضابطے اور قاعدے ہیں جن کے تحت وہ قوموں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ ایک قوم اگر اللہ تعالیٰ کے احکام و ہدایات کی تعمیل اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کی پیروی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو برومند اور کامیاب کرتا ہے۔ برعکس اس کے اگر کوئی قوم خدا کے احکام و قوانین کی نافرمانی اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ کردیتا ہے۔ اس سنت کے مظاہر خدا کی زمین میں بیشمار ہیں۔ سرزمینِ عرب میں بھی، جس کے بسنے والے اس آیت میں مخاطب ہیں، اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے مظاہر عاد، ثمود، اہل مدین، قوم لوط وغیرہ کے آثار کی شکل میں موجود تھے۔ عدلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
137۔ 1 جنگ احد میں مسلمانوں کا لشکر سات سو افراد پر مشتمل تھا جس میں 50 تیر اندازوں کا ایک دستہ آپ نے عبد اللہ بن جبیر ؓ کی قیادت میں ایک پہاڑی پر مقرر فرما دیا اور انہیں تاکید کردی کہ چاہے ہمیں فتح ہو یا شکست تم یہاں سے نہ ہلنا اور تمہارا کام یہ ہے کہ جو گھڑ سوار تمہاری طرف آئے تیروں سے اسے پیچھے دھکیل دینا لیکن مسلمان فتح یاب ہوگئے اور مال اسباب سمیٹنے لگے تو اس دستے میں اختلاف ہوگیا کچھ کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ کے فرمان کا مقصد تو یہ تھا جب تک جنگ جاری رہے یہیں جمے رہنا لیکن جب یہ جنگ ختم ہوگئی ہے اور کفار بھاگ رہے ہیں تو یہاں رہنا ضروری نہیں۔ چناچہ انہوں نے بھی وہاں سے ہٹ کر مال و اسباب جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–139
45: جنگ احد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا، آنحضرت ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیر انداز صحابہ کا ایک دستہ میدان جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے، جب دشمن پسپا ہوا اور میدان جنگ خالی ہوگیا تو صحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز و سامان مال غنیمت کے طور پر اکھٹا کرنا شروع کردیا، تیر اندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہوچکی ہے اور ہمیں مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے، ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان…
Read the full tafseer →اس غزوہ میں مسلمانوں نے سخت چوٹ کھائی تھی ۔ وہ ایک بڑی تعداد میں قتل ہوئے تھے اور انہیں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی ۔ انہیں عظیم روحانی اور جسمانی اذیت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ ان میں سے ستر صحابی قتل ہوگئے تھے ‘ رسول کریم ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوگئے تھے ۔ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا تھا۔ آپ ﷺ کو مشرکین نے گھیرے میں لے کر تنگ کیا اور صحابہ کرام کو گہرے زخم آئے ۔ اس شکت کی وجہ سے اہل اسلام سخت جھنجھوڑ دیئے گئے ۔ اس لئے یہ ایک ایسا صدمہ تھا جو جنگ بدر کی عجیب فتح کے بعد شاید بالکل ہی غیر متوقع تھا ۔ یہاں تک کہ جب اہل اسلام کو یہ حادثہ پیش آیا تو وہ بےساختہ کہنے لگے ‘ یہ سب کچھ کیسے ہوا ‘ ہم مسلمان ہوتے…
Read the full tafseer →2 یعنی تم سے پہلے بہت قومیں اور ملتیں گزر چکیں۔ بڑے بڑے واقعات پیش آچکے، خدا تعالیٰ کی عادت بھی بار بار معلوم کرا دی گئی کہ ان میں سے جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی عداوت اور حق کی تکذیب پر کمر باندھی اور خدا اور رسول کی تصدیق و اطاعت سے منہ پھیر کر حرام خوری اور ظلم و عصیان پر اصرار کرتے رہے، انکا کیسا برا انجام ہوا۔ یقین نہ ہو تو زمین میں چل پھر کر ان کی تباہی کے آثار دیکھ لو جو آج بھی تمہارے ملک کے قریب موجود ہیں۔ ان واقعات میں غور کرنے سے معرکہ " احد " کے دونوں حریفوں کو سبق لینا چاہیئے۔ یعنی مشرکین جو پیغمبر خدا کی عداوت میں حق کو کچلنے کے لئے نکلے اپنی تھوڑی سے عارضی کامیابی پر مغرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
آیت 137 قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ لا فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ
قریش کے تجارتی قافلے شام کی طرف جاتے تھے تو راستے میں قوم ثمود کا مسکن بھی آتا تھا اور وہ بستیاں بھی آتی تھیں جن میں کبھی حضرت لوط علیہ السلام نے تبلیغ کی تھی۔ ان کے کھنڈرات سے عبرت حاصل کرو کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہوا۔
Read the full tafseer →123 یہ مضمون قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر آیا ہے اور ایسی آیات میں لوگوں کو عام دعوت دی گئی ہے کہ ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جن لوگوں نے انبیاء کو اور اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا تھا۔ ان کا کیا انجام ہوا تھا اور اس انجام کی تفصیل بھی قرآن میں متعدد مقامات پر دی گئی ہے۔ مثلاً قوم عاد کا کیا حشر ہوا۔ قوم ثمود کا کیا، اور قوم نوح، اصحاب مدین، اصحاب الحجر، قوم سبا وغیرہ وغیرہ کا کیا حشر ہوا۔ اسی طرح بعض اشخاص کا بھی ذکر آتا ہے۔ مثلاً فرعون اور آل فرعون، کا کیا حشر ہوا۔ اس مضمون کو شرعی اصطلاح میں تذکیر بایام اللہ کہتے ہیں۔ یعنی جن لوگوں یا قوموں پر انبیاء اور آیات الٰہی کو جھٹلانے کی…
Read the full tafseer →272 ۔ (آیت) ” سنن “۔ یعنی مختلف طور طریقہ اور ان طور طریقوں پر عمل کرنے والے، مختلف مسلکوں اور مشربوں کے لوگ، مشرک و کافر بھی، موحد و مومن بھی، قال الزجاج والمعنی اھل سنن فحذف المضاف (قرطبی) ساری گزشتہ امتوں اور قوموں کی طرف جامع اشارہ ان الفاظ میں آگیا۔ اور سنۃ کے معنی خود امۃ کے بھی کیے گئے ہیں، اس لیے سنن، امم کا مرادف ہوگا، السنۃ الامۃ والسنن الامم (قرطبی) وقال الفضل ان المراد بھا الامم وقد جاءت السنۃ بمعنی الامۃ فی کلامھم (روح) (آیت) ” سیروا۔ فانظروا “۔ دونوں صیغہ امر کے ہیں۔ لیکن مقصود سیاحت نہیں بلکہ سرکش جاہلی قوموں سے عبرت حاصل کرنا ہے۔ خواہ جس ذریعہ سے بھی حاصل ہو، سیاحت سے، تاریخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–144
آیت نمبر 144 تا 148
ترجمہ : اور آئندہ آیت صحابہ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب یہ بات مشہور ہوگئی کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے، اور صحابہ (مخلصین) سے منافقین نے کہا اب جب کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو اپنے (سابق) دین کی طرف پلٹ جاؤ۔ تو (وَمَا محمدٌ اِلاّ رسول الخ) نازل ہوئی۔ اور محمد تو بس ایک رسول ہیں، اور ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے ؟ یعنی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے ؟ اور آخری جملہ استفہام انکاری کے محل میں ہے۔ یعنی وہ معبود نہیں تھے (کہ اس کی موت کی وجہ سے) تم پلٹ جاؤ اور جو کوئی الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جائے گا…
Read the full tafseer →قد خلت من قبکم سنن فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (سُنَنٌ سنَّۃٌکی جمع ہے اور) سنت کا معنی ہے اچھائی یا برائی کا وہ راستہ جس کی پیروی کی جائے۔ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے اچھا طریقہ نکالا اس کو خود اس طریقہ پر چلنے کا ثواب بھی ملے گا اور ان لوگوں کا بھی جو اس طریقہ کے موافق عمل کریں گے مگر ان (عمل کرنے والوں) کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے برا طریقہ ایجاد کیا اس پر خود اپنا بھی گناہ ہوگا اور ان لوگوں کا بھی جو اس طریقہ پر عامل ہوں گے مگر ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں سے کچھ کمی نہیں کیا جائے گی۔ سننٌ سے مضاف محذوف ماننا بھی جائز ہے یعنی سنن سے مراد ہیں اہل…
Read the full tafseer →(137) پہلی امتوں سے یہ طریقہ چلا آرہا ہے کہ توبہ کرنے والے کے لیے مغفرت وثواب ہے اور جو توبہ نہ کرے اس کے لیے ہلاکت و بربادی ہے، غور کرو جن لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اپنی اس تکذیب سے توبہ نہیں کی، ان کا آخری انجام کیا ہوا۔
Read the full tafseer →قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر اور ان کی نافرمانی سے توبہ پر بخشش اور جنت کا وعدہ فرمایا، اب یہاں اطاعت اور توبہ کی ترغیب کے لیے پہلی امتوں کی تاریخ پر غور و فکر کا حکم دیا ہے، تاکہ ان میں سے مطیع اور نافرمان کے احوال پر غور کر کے انسان اپنے لیے سامان عبرت حاصل کرے۔ سُنَنٌ کا مفرد ”سُنَّۃٌ“ ہے اس کے معنی طریق مستقیم اور اس نمونے کے ہیں جس کی اتباع کی جاتی ہے۔ یہ ”فُعْلَۃٌ“ بمعنی ”مَفْعُوْلَۃٌ“ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فعل چونکہ مسلمان کے لیے نمونہ اور طریق مستقیم ہوتا ہے، اس لیے اسے سنت کہتے ہیں۔
جنگ احد میں جب ستر مسلمان شہید اور کچھ زخمی ہوئے تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 137۔
یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنین کے لئے تسلی ہے، اور سنن سنۃ کی جمع ہے اور اس سے مراد صراط مستقیم ہے، (کہا جاتا ہے) فلان علی السنۃ یعنی فلاں سیدھے راستے پر ہے وہ خواہشات نفسانی میں سے کسی شے کی طرف جھکتا نہیں۔
ہذلی نے کہا ہے :
فلا تجزعن من سنۃ انت سر تھا فاؤل راض سنۃ من یسیرھا :
تو اس راستے سے خوفزدہ اور پریشان نہ ہو جس پر تو چلا کیونکہ جو اس پر چلتا ہے وہ پہلے اس راستے سے راضی ہوتا ہے۔
اور سنۃ سے مراد وہ امام ہے جس کی اتباع اور اقتدا کی جائے، کہا جاتا ہے : سن فلان سنۃ حسنۃ وسیئۃ جب وہ کوئی ایسا کام کرے جس کی اقتدا اور پیروی کی جائے اس میں خیر ہو یا شر۔
لبید نے کہا ہے :
من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
(1) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قد خلت “ سے مراد ہے ” مضت “ یعنی گذر چکی ہیں
(2) عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین “ سے مراد ہے پہلے والوں کا انجام اور تم سے پہلے امتوں کا انجام ان کا انجام برا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تھوڑا سا نفع دیا پھر وہ جہنم کی طرف چل نکلے۔
Read the full tafseer →قَدْ خَلَتْ : گزرے ہیں ] [مِنْ قَبْلِکُمْ : تم لوگوں سے پہلے ] [سُنَنٌ : کچھ طریقے ] [فَسِیْرُوْا : تو تم لوگ چلو پھرو ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [فَانْظُرُوْا : پھر دیکھو ] [کَیْفَ : کیسا ] [کَانَ : تھا ] [عَاقِـبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ : جھٹلانے والوں کا انجام ]
Read the full tafseer →امم سابقہ سے عبرت :
پھر فرمایا (قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ) (یعنی تم سے پہلے بہت سے طریقے گزر چکے ہیں۔ لہٰذا تم چلو زمین میں پھر دیکھو کیا انجام ہے جھٹلانے والوں کا) مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلی امتوں کے واقعات گزر چکے ہیں جنہوں نے اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا اور جھٹلانے والے انجام کے اعتبار سے مغلوب اور معذوب اور ہلاک ہوئے دنیا میں چل پھر کر ان کا انجام اپنی نظروں سے دیکھ لو۔ کتنی قومیں تھیں کہاں کہاں آباد تھیں ان کی بربادی کے نشانات ابھی تک دنیا میں موجود ہیں جو آنکھوں والوں کو عبرت کے لیے کافی ہیں۔ (قال صاحب الروح صفحہ 25: ج 4 ای وقائع فی الامم الملکذبۃ اجراھا اللّٰہ تعالیٰ حسب عادتہ)
اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–145
رجوع بسوئے قصہ احد وتسلیہ اہل اسلام بہ گونہ گوں۔
قال اللہ تعالی۔ قد خلت من قبلکم۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الشاکرین۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں واقعہ احد کا بیان تھا اب پھر قصہ احد کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں کی ہزیمت کے اسباب کو بھی بیان فرمایا کہ صبر اور تقوی اور اطاعت رسول میں تقصیر کی وجہ سے فتح کے بعد تم کو یہ ہزیمت پیش آئی مگر ساتھ ہی ساتھ بار بار تسلی بھی دی گئی کہ تم مت گھبراؤ فی الحال اگرچہ کفار کو غلبہ ہوا مگر انجام کار تم ہی غالب رہو گے اور بار بار حضرات صحابہ کی اس لغزش کے عفو اور معافی کا اعلان فرمایا تاکہ حضرات صحابہ کے ٹوٹے ہوئے دل دوبارہ جڑجائیں اور محبین اور مخلصین کو جو…
Read the full tafseer →205 یہ تخویف دنیوی ہے اور سُنَنٌ کے سے مراد گذشتہ مکذبین کے واقعات ہیں ای وقائع فی الامم المکذبۃ (روح ص 64 ج 4) یعنی اللہ کی توحید اور خدا کے پیغمبروں کو جھٹلانے والوں کی تباہی و بربادی کے کئی واقعات تم سے پہلے وقوع پذیر ہوچکے ہیں ان سے اندازہ لگا لو کہ مکذبین کا کیا حشر ہوا۔ اس سے مسلمانوں کو گناہوں (مثلا ً سود خوری، میدان جنگ میں بزدلی دکھانے اور میر کی اطاعت سے سرتابی کرنے وغیرہ سے بچنے اور طاعات (مثلاً جہاد، انفاق، اطاعت امیر وغیرہ) بجالانے کی ترغیب دینا مقصود ہے (روح )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–138
ربط آیات :
اس سے پیشتر سود خوری کی ممانعت کا تذکرہ ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچاؤ کا ذکر کیا۔ اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا تاکہ لوگوں پر رحم کیا جائے پھر اللہ تعالیٰ نے بہشت ، مغفرت اور بخشش طلب کرنے میں سبقت حاصل کرنے کا حکم دیا۔ یہ بہشت جن متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ان کے اوصاف کو بیان فرمایا یعن متقی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق میں سے خوشی کی حالت میں بھی اور تکلیف کی حالت میں خرچ کرتے ہیں ، غصے کو دباتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔ نیز یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔ اب ان آیات میں دوسرے درجہ کے لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے کہ ان کے لیے…
Read the full tafseer →قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ 0 ۙ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُكَذِّبِيْنَ 137
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90]
وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة .
نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ .
و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–144
ترکیب : من قبلکم خلت سے متعلق ہے ‘ ولا تہنوا ماضی وہن سے ہے و حذف ہے کیونکہ وہ کسری اوری کے بیچ میں آگیا تھا۔ الاعلون اس کا مفرد اعلیٰ ہے التقاء ساکنین کی وجہ سے الف حذف کرکے اس کا یادگار فتح چھوڑ دیا گیا ہے۔ قرح مصدر قرحۃ بمعنی زخم ہے اور قرح بالضم زخم۔ تلک مبتداء الایام خبر نداولہا جملہ حال ہے ولیعلم معطوف ہے محذوف پر ای نداولہا لیکون کیت وکیت ولیعلم اللہ تاکہ معلوم ہو کہ اس گردش ایام کی چند علتیں ہیں۔ منجملہ ان کے یہ اور ہے ولیمحص معطوف ہے ولیعلم پر ام منقطعۃ بمعنی بل۔
تفسیر : پیشین گوئی : جبکہ خدا تعالیٰ نے عالم آخرت کی رغبت اور جنت کا شوق دلایا اور جہاد پر جو اصلاح عالم کا باعث ہے آمادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ لا فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ ھٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ ھُدًی وَّمَوْعِظَۃٌ لِّـلْمُتَّقِیْنَ ۔
(تم سے پہلے بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں تو زمین میں چلوپھرو اور دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ یہ تنبیہ ہے لوگوں کے لیے اور ہدایت اور نصیحت ہے ڈرنے والوں کے لیے) (137 تا 138)
سُنَنٌ … سنت کی جمع ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ ضابطے اور قاعدے ہیں جن کے تحت وہ قوموں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اس کی مثالیں ساری دنیا میں بکھری ہوئی ہیں۔ قرآن کریم کے چونکہ براہ راست مخاطب عرب ہیں اس لیے جزیرئہ عرب اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–137
فہم القرآن
ربط کلام : اگر لوگ گناہوں سے بچنے ‘ جنت میں داخل ہونے ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس سے معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں تو ظالم کو اپنی عارضی کامیابی پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ اس کا انجام برا ہی ہوا کرتا ہے۔
اُحد کی عارضی فتح پر کفار نے بڑے گھمنڈ اور غرور کا مظاہرہ کیا۔ ابو سفیان نے نعرہ لگاتے ہوئے کہا ’ ہبل زندہ باد ‘ پھر اس نے احد کے معرکہ کو بدر کا بدلہ قرار دیا جس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس کا فوری جواب دیا جائے۔ چناچہ صحابہ نے جواباً نعرہ لگایا : ( اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ ) ” اللہ بلند وبالا اور عظمت والا ہے “ حضرت عمر ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ احد بدر…
Read the full tafseer →سنن کی مراد وقائع :
137: قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ قَدْخَلَتْ (تحقیق گزرے) مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ تم سے پہلے بہت طریقے۔ اس سے مراد جھٹلانے والی امتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش آنے والے وقائع ہیں۔ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (پس زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا) پھر ان سے عبرت حاصل کرو۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 137۔:
(آیت)” اولئک جزاء ھم ۔۔۔۔ ونعم اجر العاملین “۔ سے مراد اطاعت گزار بندے ہیں ، اسماء بن حکم فزاری (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں جب کسی انسان سے آپ ﷺ کی حدیث کے متعلق سنتا ہوں جس سے اللہ چاہتا مجھ کو نفع دیتا تو وہ مجھ کو نفع دیتا اور جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے کوئی میرے سامنے حدیث بیان کرتا تو میں اس سے قسم اٹھواتا ، جب وہ قسم اٹھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرلیتا ۔ مجھے ابوبکر صدیق ؓ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی بندہ مؤمن گناہ کرتا ہے پھر وہ اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–142
(137 ۔ 142) ۔ احد کی لڑائی میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مسلمانوں کو یہ خیال گذرا کہ ہم اسلام کی تائید میں لڑتے ہیں اور حق پر ہیں اور ہمارے دشمن اور مخالف لوگ ناحق پر ہیں اور دین الٰہی کو مٹانا چاہتے ہیں پھر ہماری شکست اور ان کی فتح کیوں اور کس مصلحت الٰہی سے ہوئی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تسلی اور کافروں کی تنبیہ میں یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کی درگاہ میں ہر وقت کام کا وقت مقرر ہے ابھی ان دین الٰہی کے دشمنوں کی تباہی کا وقت نہیں آیا ہے جب وقت مقرر آجائے تو کچھ ان میں سے اپنے حال کی اصلاح کر کے مسلمان ہوجائیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہیں گے فورا جس طرح اگلے لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–137
آیت 131-136
اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندہ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامرو نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندہ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کرسکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہوجائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–145
جہاد کی ترغیب
قول باری ہے (وماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ کتبامؤجلا، کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے) آیت میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اس لیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی تو پھر جہاد پر جانے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونی چاہیے۔ آیت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی وفات کی صورت میں لوگوں کو پہنچنے والے صدمے کو یہ کہہ کر زائل کیا گیا ہے کہ آپ کی وفات بھی تو اللہ کے اذن سے ہوئی ہے۔ آیت سے یہ پہلو اس لیے احتد کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں گزرچکا ہے ومامحمد الارسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مّات او قتل…
Read the full tafseer →276 سیر و سیاحت کا اصل مقصد عبرت پذیری : تاکہ اس سے تم لوگ عبرت پکڑو اور سبق لو، تاکہ تم کو راہ حق اور طریق صدق و صواب کی راہنمائی مل سکے۔ سو زمین پر چلنے پھرنے اور سیرو سیاحت کا اصل مقصد اور حقیقی غرض وغایت یہی ہے کہ اس سے عبرت پکڑی جائے اور درس بصیرت لیا جائے۔ مگر افسوس کہ آج اہل دنیا کی اور خود مسلمانوں کی سیر و سیاحت سے عبرت پذیری کا یہی عنصر غائب اور مفقود ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ آج ہلاک شدہ اقوام کے آثار اور کھنڈرات کی حفاظت کیلئے تو کروڑوں اربوں روپے دنیا بھر میں خرچ کئے جا رہے ہیں، مگر ان سے عبرت پکڑنے اور سبق لینے کی طرف کوئی توجہ نہیں، کہ یہ کون لوگ تھے ؟ کیوں ہلاک ہوئے ؟ ان کو کس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
عبرت حاصل کرنے کی تاکید
تشریح : تم سے پہلے بہت سے لوگ گزر چکے ہیں۔ ان میں اچھے بھی تھے اور برے بھی۔ تمام قوموں کا ذکر اور ان کا انجام قرآن میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ تاکہ ان واقعات سے عقل مند لوگ نصیحت حاصل کریں اور اس طرح اپنی اصلاح کرسکیں قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت، ہدایت اور عبرت کا سبق لے کر آیا ہے۔ اس میں گزشتہ قوموں کا جو ذکر کیا گیا ہے تو وہ صرف قصہ کہانی کے لیے نہیں کیا گیا، بلکہ وعظ ونصیحت اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ نیک لوگ اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور اپنے اعمال کو اور بھی زیادہ اچھا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–143
آیات 130- 143
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔
توکل :
نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔
زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
ف 8 اوپر کی آیات میں طاعت اور معصیت سے توبہ پر غفران اور جنت کا وعدہ فرمایا۔ اب یہاں طاعت اور توبہ کی ترغیب کے لیے پہلی امتوں کی تاریخ پر غور فکر کا حکم دیا ہے تاکہ ان مطیع اور عاصی کے احوال پر غور کر کے انسان اپنے لیے سامان عبرت حاصل کرے۔ (کبیر۔ ابن کثیر) سنت کے معنی طریق مستقیم اور اس نمونے کے ہیں جس کی اتباع کے لیے نمونہ اور طریق مستقیم ہوتا ہے اس لیے اسے سنت کہا جاتا ہے۔ ّ (کبیر) جنگ احد میں جب ستر مسلمان شہید ہوگئے اور کچھ زخمی ہوئے تو اس شکست سے مسلمانوں کو قدرتی طو پر بہت تکلیف ہوئی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تسلی کہ اس شکست اسے افسردہ خاطر نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بات تو امم سابقہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
(3:137) سنن۔ سنۃ کی جمع۔ طریقے۔ راہیں۔ مثالیں۔ سنت۔ قانون شرعی۔ طورو اطوار۔ عادت۔ دستور۔ طریقہ جاریہ۔ یہاں مراد مختلف قوموں کے عروج و زوال۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–138
لغات القرآن آیت نمبر 130 تا 138
اضعافاً (دوگنا) مضاعفة (دوگنے سے بھی زیادہ) سارعوا (تم دوڑو) عرضھا (اس کا پھیلاؤ) السرآء (خوشی، راحت) الضراء (تکالیف، پریشانیاں) الکاظمین (برداشت کرنے والے، پی جانے والے) العافین (معاف کردینے والے) فاحشة (بےحیائی) ظلموا انفسھم (اپنے نفسوں پر ظلم و زیادتی کی) لم یصروا (ضد نہیں کرتے) علیٰ مافعلوا (اس پر جو انہوں نے کیا) نعم (بہترین) اجرالعٰلمین (کام کرنے والوں کا بدلہ) سنن (طریقے) سیروا (تم چلوپھرو) عاقبة (انجام) بیان (وضاحت) ۔
تشریح : آیت نمبر 130 تا 138
گذشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ صبر وتقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–142
حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–139
[47] جنگ احد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس لئے حکیم مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لئے زر پرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خوری سے باز آؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے اندر حرص بیحد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی اور سود دینے والوں میں سود خوروں کیخلاف نفرت و غصہ اور بغض۔ احد کی شکست میں ان…
Read the full tafseer →(3) اس آیت میں مسلمان کو تلقین کی ہے کہ وہ عبرت وبصائر کو ڈھونڈے اور تلاش کرے اور دیکھے کہ وہ لوگ جو آسمانی ہدایات کو نہیں مانتے اور اخلاق واصلاح کی مخالفت کرتے ہیں ان کا کتنا عبرت ناک حشر ہوتا ہے اور کس طرح وہ آنے والی نسلوں کے لئے سرمایہ بصیرت بنتے ہیں اور زبان حال سے کہتے ہیں ۔
ان اثار ما تدل علینا فانظروا بعدنا الی الاثار :
حل لغات :
سنن : طریق ۔ رستے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
ف 1 یقینا تم سے پہلے بھی بہت سے واقعات ہوچکے ہیں اور مختلف دور گزر چکے ہیں اور مختلف طریقوں کے لوگ ہوچکے ہیں اگر تم ان کے حالات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہو تو زمین میں چلو پھر و اور چل پھر کر دیکھ لو کہ میری اور میرے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا یعنی کفار کس طرح ہلاک وہ برباد ہوئے۔
سنن سنتہ کی جمع ہے جس کے معنی طریقہ ہے۔ یہاں مراد ہے۔ اہل طریقہ، یا دور یا حالات و وقائع ہم نے تیسیر میں سب کا لحاظ ہے چناچہ مطلب یہ ہے کہ پہلے زمانے میں بھی اچھے برے لوگ گزر چکے ہیں اور تم سے پہلے دور میں بھی مختلف الخیال لوگ ہوئے ہیں اور ان میں قتل و قتال بھی ہوتے رہے ہیں لیکن نتیجے اور انجام کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–143
ف 2۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ سال گزشتہ بعض صحابہ جو بدر میں شہید ہوئے تھے اور ان کے بڑے فضائل معلوم ہوئے تو بعض نے تمنا کی کاش ہم کو بھی کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ اس دولت شہادت سے مشرف ہوں آخر یہ احد کا غزوہ پیش ہوا توپاوں اکھڑ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →حق جھٹلانے والوں کا انجام نگاہ میں رکھو اور اپنا انجام سمجھ جاؤ :
252: ” سُنَنٌ “ سنۃ کی جمع ہے ، ” سنت “ طریقہ کو کہتے ہیں اور عرف اسلام میں رسول اللہ ﷺ کے دیے گئے احکام یا کیے گئے کاموں کو کہا جاتا ہے اس جگہ مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلے بہت سی قومیں آئیں اور ان کے انبیاء نے ان کو اللہ کا پیغام پہنچایا لیکن بہت ہی کم تھے جنہوں نے اس پیغام کو قبول کیا اور بہت سے لوگوں نے انکار کردیا۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ اس کے متعلق انہوں نے کون کون سی راہیں اختیار کی ہیں اور کیا کیا طریقے اختیار کیے اور آخرکار ان کا انجام کیا ہوا ؟ یعنی امم سابقہ کی ہلاکت اور استیصال کے طریقے کیا تھے ؟
مختصر یہ کہ آیت زیر نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–138
Upto this point, the text describes qualities of character that relate to the fulfillment of human rights. Following this, come qualities that relate to the rights of Allah where it has been said that true Muslims do not disobey Allah. Should they ever fall in sin under the compulsions of human weakness, they immediately turn to Allah, repent, seek His forgiveness and resolve to abstain from that sin in future.
This character of true Muslims appears in the text in the following words:
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–140
100. This alludes to the Battle of Badr. The intention is to point out to the Muslims that if the unbelievers were not demoralized by the setback they suffered at Badr then the Muslims should not be disheartened by the setback thev suffered in the Battle of Uhud.
101. The actual words of this verse, can be interpreted in two ways. One meaning could be that God wanted to select some of them so that He could bestow upon them the honour of martyrdom. The second meaning could be that out of the hotch-potch of true believers and hypocrites which their community consisted of at that moment, God…
Read the full tafseer →