Aal-i-Imraan 3:136

Aal-i-Imraan · from ayah 136

3:136

اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ— وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ ۟ؕاُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَؕ

ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those - their reward is forgiveness from their Lord and gardens beneath which rivers flow [in Paradise], wherein they will abide eternally; and excellent is the reward of the [righteous] workers.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 14 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:136

ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وه ہمیشہ رہیں گے، ان نیک کاموں کے کرنے والوں کا ﺛواب کیا ہی اچھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ہیں وہ لوگ جن کا صلہ ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے، اور وہ باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے، جن میں انہین دائمی زندگی حاصل ہوگی، کتنا بہترین بدلہ ہے جو کام کرنے والوں کو ملنا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ وہ لوگ ہیں جن کی جزا ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور (نیک) عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا صلہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ لوگ ہیں جن کی جزا ان کے رب کی طرف سے بڑی بخشش اور ایسے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں اور (یہ) عمل کرنے والوں کا اچھا اجر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسے لوگوں کی جزا ان کے پروردگار کے ہاں یہ ہے کہ وہ انہیں معاف کردے گا اور ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ (اچھے) عمل کرنے والوں کا کیسا اچھا بدلہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ ہیں کہ ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور کیا ہی خوب صلہ ہے کارگزاروں کے لیے !۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایسے لوگوں کا بدلہ (اور انکی جزاء) ان کے رب (کی طرف) سے ملنے والی بخشش اور ایسی عظیم الشان جنتیں ہیں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی (عظیم الشان) نہریں جن میں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا اور بڑا ہی عمدہ بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا

— مولانا اسحاق مدنی

ایسے لوگوں کی جزا ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے اور (بہشت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ (ہمیش) رہیں گے اور کام کرنے والوں کے لیے کیسا اچھا معاوضہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ہیں وہ لوگ کہ جن کا بدلہ ہے ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ باغات کہ جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور کیا ہی اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لئے

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall be recompensed by forgiveness from their Lord and by gardens beneath which rivers flow; there they shall abide. How good is the reward of those who labour!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Their reward is forgiveness from their Lord and gardens beneath which rivers flow where they shall live forever. And excellent is the reward of those who work.

— Muhammad Taqi Usmani

Their reward is forgiveness from their Lord and gardens beneath which rivers flow where they shall live forever. And excellent is the reward of those who work.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For such, the reward is forgiveness from their Lord, and Gardens with rivers flowing underneath (Paradise), wherein they shall abide forever. How excellent is this reward for the doers (of good).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The reward of such will be forgiveness from their Lord, and Gardens underneath which rivers flow, wherein they will abide for ever - a bountiful reward for workers!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those - their reward is forgiveness from their Lord and gardens beneath which rivers flow [in Paradise], wherein they will abide eternally; and excellent is the reward of the [righteous] workers.

— Saheeh International

Their reward will be forgiveness from their Lord and gardens wherein streams flow and wherein they will live forever. How blessed is the reward of those who labor.

— Muhammad Sarwar

(As for) these-- their reward is forgiveness from their Lord, and gardens beneath which rivers flow, to abide in them, and excellent is the reward of the laborers.

— Muhammad Habib Shakir

Those! their meed is forgiveness from their Lord and Gardens whereunder rivers flow; they shall be abiders therein. Excellent is the hire of the workers!

— Abdul Majid Daryabadi

For such the reward is forgiveness from their Lord, and Gardens with rivers flowing underneath,- an eternal dwelling: How excellent a recompense for those who work (and strive)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:136

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 130–136

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 135–140

سورة اٰلِ عِمْرٰن 100 اشارہ ہے جنگ بدر کی طرف۔ اور کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس چوٹ کو کھا کر کافر پست ہمت نہ ہوئے تو اس چوٹ پر تم کیوں ہمت ہارو۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 101 اصل الفاظ ہیں وَیَتَّخِذَ مِنْکُم شُھَدَآءَ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تم میں سے کچھ شہید لینا چاہتا تھا، یعنی کچھ لوگوں کو شہادت کی عزت بخشنا چاہتا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے اس مخلوط گروہ میں سے جس پر تم اس وقت مشتمل ہو، ان لوگوں کو الگ چھانٹ لینا چاہتا تھا جو حقیقت میں شُھَدَآ عَلَی النَّاس ہیں، یعنی اس منصب جلیل کے اہل ہیں جس پر ہم نے امت مسلمہ کو سرفراز کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 135–138

ارشاد ہے والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی مافعلوا وھم یعلمون) جس میں ایک تو یہ ہدایت کی گئی کہ گناہوں میں مبتلا ہونا اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر سے غفلت کے سبب ہوتا ہے، اس لئے جب کوئی گناہ سرزد ہو اللہ تعالیٰ کی یاد کو فورا تازہ کرنا چاہئے، اور ذکر اللہ میں مشغول ہونا چاہئے۔ دوسری یہ ہدایت ہے کہ گناہوں کی معافی کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں، ایک پچھلے گناہوں پر ندامت اور اس سے معافی مانگنا اور مغفرت کی دعا کرنا، دوسرے آئندہ کے لئے اس کے پاس نہ جانے کا عزم مکمل کرنا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم کے بتلائے ہوئے اخلاق فاضلہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 135–136

تفسیر 135-136۔ انفاق کی ایک راہ کی ایک مزاحمت : یہ راہ انفاق کی ایک نہایت اہم مزاحمت کا بیان ہے جس طرح سود خوری کی علت روپے کی ایسی تونس پیدا کردیتی ہے کہ آدمی کے لیے کسی اچھے کام میں خرچ کرنا پہاڑ ہوجاتا ہے اسی طرح بدکاری اور عیاشی کی چاٹ بھی کسی نیکی کے کام میں خرچ کرنے کی راہ بند کردیتی ہے۔ جو لوگ اس راہ پر چل پڑتے ہیں وہ اپنی خواہشوں کے ہاتھوں اس طرح بےبس ہوجاتے ہیں کہ ان کو کسی اور طرف نگاہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ اس وجہ سے قرآن نے انفاق کی تعلیم کے سلسلے میں جہاں سود خوری سے روکا ہے وہین بدکاری و بےحیائی اور اس کے لازمی نتیجہ اسراف و تبذیر سے بھی روکا ہے۔ بقرہ کی آیت 268 کے تحت ہم اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 136–137

137۔ 1 جنگ احد میں مسلمانوں کا لشکر سات سو افراد پر مشتمل تھا جس میں 50 تیر اندازوں کا ایک دستہ آپ نے عبد اللہ بن جبیر ؓ کی قیادت میں ایک پہاڑی پر مقرر فرما دیا اور انہیں تاکید کردی کہ چاہے ہمیں فتح ہو یا شکست تم یہاں سے نہ ہلنا اور تمہارا کام یہ ہے کہ جو گھڑ سوار تمہاری طرف آئے تیروں سے اسے پیچھے دھکیل دینا لیکن مسلمان فتح یاب ہوگئے اور مال اسباب سمیٹنے لگے تو اس دستے میں اختلاف ہوگیا کچھ کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ کے فرمان کا مقصد تو یہ تھا جب تک جنگ جاری رہے یہیں جمے رہنا لیکن جب یہ جنگ ختم ہوگئی ہے اور کفار بھاگ رہے ہیں تو یہاں رہنا ضروری نہیں۔ چناچہ انہوں نے بھی وہاں سے ہٹ کر مال و اسباب جمع…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 131–139

45: جنگ احد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا، آنحضرت ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیر انداز صحابہ کا ایک دستہ میدان جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے، جب دشمن پسپا ہوا اور میدان جنگ خالی ہوگیا تو صحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز و سامان مال غنیمت کے طور پر اکھٹا کرنا شروع کردیا، تیر اندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہوچکی ہے اور ہمیں مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے، ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ارتکاب معصیت سے استغفار کرکے وہ محض منفی کام نہیں کررہے ‘ اور نہ وہ خوشحالی اور بدحالی میں انفاق کرکے محض منفی کام کررہے ہیں یا غصہ پی کر اور لوگوں سے عفو و درگزر کرکے وہ محض منفی کام کررہے ہیں ‘ بلکہ وہ مثبت کام بھی کرتے ہیں اور نیک عمل کرنے والے ہیں ‘ اس لئے ان کے لئے ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ ایسے باغات میں رہیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور مغفرت کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے محبت کا اعزاز بھی حاصل ہوگا ۔ یہاں ان کے نفس کی گہرائیوں میں بھی عمل ہے اور ظاہری زندگی میں بھی عمل ہے ۔ دونوں عمل ہیں ‘ دونوں میں حرکت ہے اور دونوں میں ترقی ہے ۔ یہ تمام صفات جن کا یہاں ذکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی خدا کی عظمت و جلال، اسکے عذاب وثواب، اسکے حقوق و احکام، اسکی عدالت کی پیشی اور وعد و عید کو دل سے یاد کر کے زبان سے بھی اسکی یاد شروع کردی۔ خوفزدہ اور مضطرب ہو کر اسے پکارا، اسکے سامنے سر بسجود ہوئے (جیسا کہ " صلوٰۃ التوبہ " کی حدیث میں آیا ہے) پھر جو شرعی طریقہ گناہوں کے معاف کرانے کا ہے اس کے موافق معافی اور بخشش طلب کی۔ مثلا اہل حقوق کے حقوق ادا کئے یا ان سے معاف کرائے اور خدا کے سامنے توبہ و استغفار کیا (کیونکہ اصل بخشنے والا تو وہی ہے) جو گناہ بمقتضائے بشریت ہوگیا تھا اس پر اڑے نہیں۔ بلکہ یہ جان کر کہ حق تعالیٰ بندوں کی سچی توبہ قبول کرتا ہے، ندامت و اقلاع کے ساتھ توبہ کرتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 135–136

آیت 135 وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمْ قف یہ مضمون سورة النساء میں آئے گا کہ کسی مسلمان شخص سے اگر کوئی خطا ہوجائے اور وہ فوراً توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر واجب ٹھہرا لیا ہے کہ اس کی توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔ وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ الاَّ اللّٰہُ قف وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ یعنی ایسا نہیں کہ گناہ پر گناہ کرتے چلے جا رہے ہیں کہ موت آنے پر توبہ کرلیں گے۔ اس وقت کی توبہ توبہ نہیں ہے۔ ایک مسلمان سے اگر جذبات کی رو میں بہہ کر یا بھول چوک میں کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 135–136

121 آیت کے الفاظ سے صاف واضح ہے کہ پرہیزگار لوگ دیدہ دانستہ نہ کوئی برا کام کرتے ہیں اور نہ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں بلکہ سہواً بہ تقاضائے بشریت ان سے ایسے کام سرزد ہوجاتے ہیں اور جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور معافی مانگنے لگتے ہیں اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ یقینا معاف بھی کردیتا ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ اگر اس برے کام یا غلطی کا اثر صرف اپنی ذات تک محدود ہو تو پھر اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ وہ یقینا معاف فرما دے گا۔ لیکن اگر اس کا اثر دوسروں کے حقوق پر پڑتا ہو تو اس کی تلافی کرنا یا اس شخص سے قصور معاف کروانا ضروری ہے اور یہ استغفار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

271 ۔ (آیت) ” اولٓئک “۔ کا اشارہ صاف انہی لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر ابھی آچکا ہے، غلطیاں، خطائیں، لغزشیں بھی ان سے صادر ہوتی رہتی ہیں، اور ساتھ ہی وہ ان کی تلافی اور تدارک بھی کرتے رہتے ہیں، انہی کے لیے یہ جنت کی نعمتیں بیان ہورہی ہیں، (آیت) ” عاملین “۔ لفظی معنی عمل کرنے والے کے ہیں، محاورۂ قرآنی میں اس سے مراد عمل صالح کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 136–144

آیت نمبر 144 تا 148 ترجمہ : اور آئندہ آیت صحابہ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب یہ بات مشہور ہوگئی کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے، اور صحابہ (مخلصین) سے منافقین نے کہا اب جب کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو اپنے (سابق) دین کی طرف پلٹ جاؤ۔ تو (وَمَا محمدٌ اِلاّ رسول الخ) نازل ہوئی۔ اور محمد تو بس ایک رسول ہیں، اور ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے ؟ یعنی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے ؟ اور آخری جملہ استفہام انکاری کے محل میں ہے۔ یعنی وہ معبود نہیں تھے (کہ اس کی موت کی وجہ سے) تم پلٹ جاؤ اور جو کوئی الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولءِک جزاء ھم مغفرۃ من ربھم و جنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ان سب تقویٰ رکھنے والوں اور توبہ کرنے والوں کی یا انہی توبہ کرنے والوں کی جزاء مغفرت الٰہی ہے اور ایسے باغ ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان جنتوں میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ جنّٰت کی تنوین بتارہی ہے کہ وہ اہل تقویٰ جو اوصاف مذکورہ کے حامل ہیں ان کی جزاء سے ان مغفور گناہگاروں کا ثواب کم درجہ کا ہوگا اسی لیے اہل تقویٰ کی جزاء والی آیت کا تتمہوَ اللہ ُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ کے ساتھ کیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اہل احسان محبت خداوندی کے مستحق ہیں اور مغفور اہل معصیت کے ثواب کا بیان ذیل کی آیت پر ختم کیا۔ و…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(136) ان حضرات کے لیے بطور باغات ایسے باغات ہیں جہاں گھروں اور درختوں کے نیچے سے شہد، دودھ، شراب اور پانی کی نہریں ہیں، یہ لوگ جنت میں ہمیشہ رہیں گے تو بہ کرنے والوں کا نعم البدل جنت ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 136۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم کے ساتھ گناہوں کی بخشش کو ان کے لئے لازم کیا ہے جو اپنی توبہ میں مخلص ہیں اور اپنے گناہ پر مصر نہیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قصہ احد کے ساتھ متصل ہو، یعنی جو بھاگے پھر توبہ کرلی اور اصرار نہ کیا تو ان کے لئے مغفرت ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 136–137

(1) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قد خلت “ سے مراد ہے ” مضت “ یعنی گذر چکی ہیں (2) عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین “ سے مراد ہے پہلے والوں کا انجام اور تم سے پہلے امتوں کا انجام ان کا انجام برا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تھوڑا سا نفع دیا پھر وہ جہنم کی طرف چل نکلے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [جَزَآؤُہُمْ : جن کی جزا ] [مَّغْفِرَۃٌ : مغفرت ہے ] [مِّنْ رَّ بِّہِمْ : ان کے رب (کی طرف) سے ] [وَجَنّٰتٌ : اور ایسے باغات ہیں ] [تَجْرِیْْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِہَا : جن کے نیچے سے ] [الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [خٰلِدِیْنَ : (وہ لوگ داخل ہوں گے) ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِیْہَا : ان میں ] [وَنِعْمَ : اور کیا ہی اچھا ہے ] [اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ : عمل کرنے والوں کا اجر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

نیک بندوں کا ثواب : پھر نیک بندوں کی جزاء بیان فرمائی کہ (اُولٰٓءِکَ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ ) (الآیۃ) یعنی ان کے اعمال کا بدلہ مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ پھر اس بدلہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعَامِلِیْنَ ) (کیا ہی خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 130–136

ترہیب وتحذیر از نار آخرت وترغیب براعمال جنت۔ قال اللہ تعالی۔ یا ایھا الذین امنو لا تاکلو۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ العالمین۔ (ربط) ظاہر میں ان آیات کا ماقبل سے کوئی تعلق معلوم ہوتا ہے اس لیے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ جداگانہ اور مستقل کلام ہے جس میں اللہ نے امرونہی اور ترغیب وترہیب کو جمع کیا ہے مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کو بیان فرمایا ہے اور بعض علماء نے ان آیات کا ماقبل کے ساتھ اتصال اور ربط بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں صبر اور تقوی کا حکم تھا اور کفار کے ساتھ دوستی اور خلط ملط اور ان کو راز دار بنانے کی ممانعت تھی اب ان آیات میں پھر صبر اور تقوی کو بیان کرتے ہیں کہ صبر اور تقوی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

204 یہ دونوں فریقوں کے لیے مشترکہ اخروی بشارت ہے کہ ان کو گناہوں کی معافی مل جائے گی۔ اور بطور انعام جنت کی پر عیش اور دائمی زندگی نصیب ہوگی اس معافی نامہ میں وہ تمام مسلمان بھی داخل ہیں جن سے جنگ احد میں مختلف شکلوں میں غلطیاں اور کو تاہیاں سرزد ہوگئی تھیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 135–138

ربط آیات : اس سے پیشتر سود خوری کی ممانعت کا تذکرہ ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچاؤ کا ذکر کیا۔ اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا تاکہ لوگوں پر رحم کیا جائے پھر اللہ تعالیٰ نے بہشت ، مغفرت اور بخشش طلب کرنے میں سبقت حاصل کرنے کا حکم دیا۔ یہ بہشت جن متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ان کے اوصاف کو بیان فرمایا یعن متقی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق میں سے خوشی کی حالت میں بھی اور تکلیف کی حالت میں خرچ کرتے ہیں ، غصے کو دباتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔ نیز یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔ اب ان آیات میں دوسرے درجہ کے لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے کہ ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ جَزَاۗؤُھُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا۝ 0 ۭ وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ۝ 136 ۭ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 130–136

ترکیب : اضعافا حال ہے الربوا سے عرضہا جملہ موضع جر میں ہے تقدیر الکلام عرضہا مثل عرض السٰمٰوت۔ اعدت صفت جنت کی ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے الذین ینفقون اور اسی طرح والذین اذا فعلوا اور الکاظمین اور العافین سب متقین کی صفت میں واقع ہے۔ ذکروا اللّٰہ جواب ہے اذا کا ‘ ومن مبتداء خبر ‘ وھم یعلمون حال ہے ضمیر لم یصروا سے۔ تفسیر : پہلی آیت میں خدا نے اپنی مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان ہمارے قبضہ میں ہیں ہم جس کو چاہتے ہیں معاف کرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں عذاب دیتے ہیں۔ اس لئے یہاں پیشتر سود خوری سے منع کیا کیونکہ جب خدا تمہیں بخشتا اور تم پر رحم کرتا ہے تو تم بھی اپنے زیر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 135–136

وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمْ قف وَمَنْ یَّغْفِرُالذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ قف ص وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَاالْاَنْہَارُخٰلِدِیْنَ فِیْہَا ط وَنِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِیْنَ ۔ ط (اور (متقی) وہ لوگ ہیں کہ جب کسی کھلی برائی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جان پر ظلم توڑتے ہیں تو اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخشے اور یہ جانتے بوجھتے اپنے کیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 135–137

فہم القرآن ربط کلام : اگر لوگ گناہوں سے بچنے ‘ جنت میں داخل ہونے ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس سے معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں تو ظالم کو اپنی عارضی کامیابی پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ اس کا انجام برا ہی ہوا کرتا ہے۔ اُحد کی عارضی فتح پر کفار نے بڑے گھمنڈ اور غرور کا مظاہرہ کیا۔ ابو سفیان نے نعرہ لگاتے ہوئے کہا ’ ہبل زندہ باد ‘ پھر اس نے احد کے معرکہ کو بدر کا بدلہ قرار دیا جس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس کا فوری جواب دیا جائے۔ چناچہ صحابہ نے جواباً نعرہ لگایا : ( اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ ) ” اللہ بلند وبالا اور عظمت والا ہے “ حضرت عمر ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ احد بدر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بخشش کے مستحقین : 136: اُولٰٓپکَ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَنِعْمَ اَجْرُ الْعَامِلِیْنَ ۔ (جنکی مذکورہ بالا صفات ہیں) ۔ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ (انکا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے) انکی توبہ کے سبب وَجَنّٰتٌ (اور باغات) اس کی رحمت کے باعث۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِِیْنَ (جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور کام کرنے والوں کا بدلہ بہت خوب ہے) نحو : نعم کا مخصوص بالمدح محذوف ہے اور وہ ذٰلک ہے یعنی مغفرت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 136۔: (آیت)” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “۔ ابن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ مؤمنین مسلمین نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہم سے بنی اسرائیل ہی اللہ کی نظر میں زیادہ عزت والے تھے ، ان میں سے اگر کوئی رات کو گناہ کرلیتا تو وہ گناہ صبح کو اس کے دروازے کی چوکھٹ پر اس کا کفارہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ اپنا ناک یا کان کاٹ ڈال یا ایسا کرلے ، حضور ﷺ یہ سن کر خاموش ہوگئے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت تیھان تمار کے متعلق نازل ہوئی جس کی کنیت ابو معبد تھی ، اس کے پاس ایک خوبصورت عورت آئی یہ شخص کھجوروں کا کاروبار کرتا تھا ، اس عورت کو صحابی نے کہا کہ اندر کمرے میں جید کھجوریں پڑی ہیں ،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 135–136

(135 ۔ 136) ۔ جس طرح اوپر کی آیت کو لڑائی سے ایک طرح کا تعلق تھا جس کی تفصیل اوپر بیان ہوچکی ہے اسی طرح اس آیت کو بھی لڑائی سے ایک تعلق ہے۔ چناچہ ابی صالح نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی انصاری اور دوسرے ثقفی میں دینی بھائی چارہ کرا دیا تھا۔ اتفاق سے ثقفی تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ لڑائی پر گیا اور انصاری مدینہ میں رہا اور اس ثقفی نے لڑائی پر جاتے وقت اپنی بی بی کی خبر گیری انصاری کو سونپی یہ انصاری اپنے دینی بھائی کی بی بی کو سواد سلف بازار سے لادیا کرتا تھا۔ ایک دن انصاری نے بازار سے گوشت لاکر کواڑ کی جہری میں سے دیا۔ اور اس عورت نے کواڑ کی دراز میں سے ہاتھ نکال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 131–137

آیت 131-136 اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندہ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامرو نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندہ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کرسکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہوجائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 135–145

جہاد کی ترغیب قول باری ہے (وماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ کتبامؤجلا، کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے) آیت میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اس لیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی تو پھر جہاد پر جانے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونی چاہیے۔ آیت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی وفات کی صورت میں لوگوں کو پہنچنے والے صدمے کو یہ کہہ کر زائل کیا گیا ہے کہ آپ کی وفات بھی تو اللہ کے اذن سے ہوئی ہے۔ آیت سے یہ پہلو اس لیے احتد کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں گزرچکا ہے ومامحمد الارسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مّات او قتل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

275 جنت کے انسانی عمل کا بدلہ ہونے کا مطلب ؟ : یعنی جنت اور اس کی سدا بہار نعمتیں، اہل جنت کو اگرچہ محض اللہ پاک کی رحمت و عنایت سے نصیب ہو نگی، نہ کہ انسانی عمل سے۔ کہ انسان کے پاس اتنا اور ایسا عمل ہو ہی کیسے سکتا ہے جو جنت اور اس کی بےنہایت نعمتوں کی قیمت اور ان کا مول بن سکے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ایک مشہور ارشاد گرامی میں فرمایا کہ " تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ عرض کیا گیا، اللہ کے نبی آپ بھی ؟ فرمایا ہاں میں بھی۔ الا یہ کہ اللہ کی رحمت مجھے ڈھانپ لے " مگر اس سب کے باوجود مختلف آیات و نصوص میں بتایا گیا کہ جنت اہل جنت کے اعمال صالحہ کا صلہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 134–136

نیک لوگوں کی صفات تشریح : پچھلی آیات میں جنت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نیک اور صالح لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے ان آیات میں نیک اور صالح انسانوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ متقی انسان کی صفات یہ ہیں۔ -1 وہ امیر ہوں یا غریب، خوشحال ہوں یا تنگ حال اپنا مال اور طاقت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ -2 غصہ پی جاتے ہیں اور قوی تر شخص وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو پالے۔ -3 وہ خطا کرنے والے کو معاف کردیتے ہیں وہ جانتے ہیں اللہ معاف کرنیوالا ہے اور وہ معاف کرنے والوں کو بےحد پسند کرتا ہے۔ -4 وہ احسان کرکے جتاتے نہیں۔ -5 اگر وہ بھول کر کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ سے معافی مانگ لیتے ہیں۔ -6 جانتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–143

آیات 130- 143 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔ توکل : نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔ زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 136–137

ف 8 اوپر کی آیات میں طاعت اور معصیت سے توبہ پر غفران اور جنت کا وعدہ فرمایا۔ اب یہاں طاعت اور توبہ کی ترغیب کے لیے پہلی امتوں کی تاریخ پر غور فکر کا حکم دیا ہے تاکہ ان مطیع اور عاصی کے احوال پر غور کر کے انسان اپنے لیے سامان عبرت حاصل کرے۔ (کبیر۔ ابن کثیر) سنت کے معنی طریق مستقیم اور اس نمونے کے ہیں جس کی اتباع کے لیے نمونہ اور طریق مستقیم ہوتا ہے اس لیے اسے سنت کہا جاتا ہے۔ ّ (کبیر) جنگ احد میں جب ستر مسلمان شہید ہوگئے اور کچھ زخمی ہوئے تو اس شکست سے مسلمانوں کو قدرتی طو پر بہت تکلیف ہوئی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تسلی کہ اس شکست اسے افسردہ خاطر نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بات تو امم سابقہ اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 135–136

(3:135) لم یصروا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ انہوں نے اصرار نہیں کیا۔ جمے نہیں رہے۔ اڑے نہیں رہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–138

لغات القرآن آیت نمبر 130 تا 138 اضعافاً (دوگنا) مضاعفة (دوگنے سے بھی زیادہ) سارعوا (تم دوڑو) عرضھا (اس کا پھیلاؤ) السرآء (خوشی، راحت) الضراء (تکالیف، پریشانیاں) الکاظمین (برداشت کرنے والے، پی جانے والے) العافین (معاف کردینے والے) فاحشة (بےحیائی) ظلموا انفسھم (اپنے نفسوں پر ظلم و زیادتی کی) لم یصروا (ضد نہیں کرتے) علیٰ مافعلوا (اس پر جو انہوں نے کیا) نعم (بہترین) اجرالعٰلمین (کام کرنے والوں کا بدلہ) سنن (طریقے) سیروا (تم چلوپھرو) عاقبة (انجام) بیان (وضاحت) ۔ تشریح : آیت نمبر 130 تا 138 گذشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ صبر وتقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جب بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 135–136

گناہوں کی توبہ کا طریقہ شان نزول : ابی صالحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی انصاری اور دوسرے ثقفی میں دینی بھائی چارہ کرادیا تھا۔ ثقفی تو آحضرت ﷺ کے ساتھ لڑائی پر گیا اور انصاری مدینہ میں رہا۔ ثقفی نے جاتے وقت اپنی بیوی کی خبر گیری انصاری کو سونپی جو سودا سلف لا کردیا کرتا تھا۔ ایک دن انصاری نے گوشت لا کر کو اڑ کی جھری میں سے دیا۔ عورت نے ہاتھ نکال کر گوشت لے لیا۔ اس عورت کا ہاتھ دیکھ کر انصاری کی نیت بگڑ گئی اور وہ گھر میں گھس گیا اور عورت کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ اتنے میں خدا نے ہدایت کی فوراً باہر چلا آیا اور بہت نادم ہوا۔ سر پر خاک ڈالی اور جنگل اور پہاڑوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 130–139

[47] جنگ احد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس لئے حکیم مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لئے زر پرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خوری سے باز آؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے اندر حرص بیحد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی اور سود دینے والوں میں سود خوروں کیخلاف نفرت و غصہ اور بغض۔ احد کی شکست میں ان…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ستہ ضروریہ : (ف 2) ان آیات میں چھ ان صفات کی توضیح کی گئی ہے جن سے مغفرت کا حصول ہوتا ہے ، (1) عسرویسر حالت میں خدا کی راہ میں خرچ کرنا ۔ (2) مقدر وقوت کے باوجود غصہ کو ضبط کرلینا ، مبروجو بڑے نجومی ہیں ‘ کہتے ہیں کظلم کا لفظ اس وقت بولا جاتا جب مشکیزہ بھر جائے اور بہتے ہوئے پانی کو بند کیا جائے چناچہ کظم السقاء کے معنی ہوتے ہیں ، کتم علی امتلائہ منہ “ یعنی خوبی جب ہے جب غصہ سے آنکھوں میں خون اتر آئے ، بدن میں کپکپی اور تھرتھری پیدا ہوجائے اور پھر خدا کا ڈر اور حسن سلوک کا جذبہ تمہیں انتقام سے روک دے ، یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں بہادر بنا دیتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ پہلوان وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 4 یہی وہ لوگ ہیں جن کی جزا اور صلہ مغفرت اور بخشش ہے ان کے رب کی جانب سے اور ایسے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے یہ کیا خوب مزدوری اور اچھا حق الخدتم ہے ان کا م کرنے والوں کا۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ کم درجے کے ہیں کیونکہ کبھی کبھی کبائر و صغائر اور حقوق العباد اور حقوق اللہ میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں لیکن چونکہ اسی کے ساتھ اللہ کو یاد بھی کرتے اور توبہ کرلیتے ہیں اس لئے ان کو بھی مغفرت سے نوازا جائے گا اور وہ جنت جو متقیوں کے لئیتیار کی گئی ہے ان کو بھی اس میں داخل کیا جائے گا وہ باغ اور ان کے محلات کے نیچے نہریں بہتی ہونگی آخر میں اجر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 134–143

ف 2۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ سال گزشتہ بعض صحابہ جو بدر میں شہید ہوئے تھے اور ان کے بڑے فضائل معلوم ہوئے تو بعض نے تمنا کی کاش ہم کو بھی کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ اس دولت شہادت سے مشرف ہوں آخر یہ احد کا غزوہ پیش ہوا توپاوں اکھڑ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس شخص نے جنت حاصل کرلی گویا وہ صحیح معنوں میں کامیاب ہوگیا : 251: اس طرح کے وہ سارے متقی لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور بخشش حاصل کرلیں گے اور اس انعام خداوندی کو جیت جائیں گے جس کے صلہ میں ان کو جنت الفردوس کا وارث بنا دیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ جنت کیا ہے ؟ وہ باغات ہیں جن میں ہر طرح کے پھل اور ہر طرح کی آسانیاں وہاں میسر ہوں گی۔ ” اُوْلٰٓئِکَ “ کا اشارہ صاف انہی لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ غلطیاں ، خطائیں اور لغزشیں بھی ان سے صادر ہوتی رہتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ ان کی تلافی اور تدارک بھی کرتے رہتے ہیں بس انہی کے لیے یہ جنت کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 135–138

Upto this point, the text describes qualities of character that relate to the fulfillment of human rights. Following this, come qualities that relate to the rights of Allah where it has been said that true Muslims do not disobey Allah. Should they ever fall in sin under the compulsions of human weakness, they immediately turn to Allah, repent, seek His forgiveness and resolve to abstain from that sin in future. This character of true Muslims appears in the text in the following words: وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُ‌وا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُ‌وا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 135–140

100. This alludes to the Battle of Badr. The intention is to point out to the Muslims that if the unbelievers were not demoralized by the setback they suffered at Badr then the Muslims should not be disheartened by the setback thev suffered in the Battle of Uhud. 101. The actual words of this verse, can be interpreted in two ways. One meaning could be that God wanted to select some of them so that He could bestow upon them the honour of martyrdom. The second meaning could be that out of the hotch-potch of true believers and hypocrites which their community consisted of at that moment, God…

Read the full tafseer →