Ash-Shu'araa 26:75

Ash-Shu'araa · from ayah 75

26:75

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ ۟ۙقَالَ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ

ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "Then do you see what you have been worshipping,

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:75

اس پر ابراہیمؑ نے کہا "کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی ہے جنہیں تم پوج رہے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

ابراہیم نے کہا : بھلا کبھی تم نے ان چیزوں کو غور سے دیکھا بھی جن کی تم عبادت کرتے رہے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا تو کیا تم دیکھتے ہو یہ جنہیں پوج رہے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا تم نے (کبھی ان کی حقیقت میں) غور کیا ہے جن کی تم پرستش کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا تو کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ابراہیم نے کہا : بھلا دیکھو تو جن کو تم پوجتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا، کیا تم نے ان چیزوں پر غور کیا ہے جن کو تم پوجتے ہے ہو ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر ابراہیم نے فرمایا کیا تم لوگوں نے کبھی آنکھیں کھول کر ان چیزوں کو دیکھا بھی جن کی پوجا تم لوگ کیے جا رہے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ابراہیم ؑ نے کہا : بھلا دیکھوتو ! یہ جنہیں تم لوگ پوجتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereupon, Abraham said: "Have you seen (with your eyes) those whom you have been worshipping,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Have you then ever considered what you have been worshipping,

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Have you then ever considered what you have been worshipping,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Do you observe that which you have been worshipping --"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: See now that which ye worship,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "Then do you see what you have been worshipping,

— Saheeh International

They said, "No, but our fathers worshipped them."

— Muhammad Sarwar

He said: Have you then considered what you have been worshipping:

— Muhammad Habib Shakir

He said: have ye observed that which ye worship

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Do ye then see whom ye have been worshipping,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–77

ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 75–76

سورة الشُّعَرَآء 54 یعنی کیا ایک مذہب کی صداقت کے لیے بس یہ دلیل کافی ہے کہ وہ باپ دادا کے وقتوں سے چلا آ رہا ہے ؟ کیا نسل پر نسل بس یونہی آنکھیں بند کر کے مکھی پر مکھی مارتی چلی جائے اور کوئی آنکھیں کھول کر نہ دیکھے کہ جن کی بندگی ہم بجا لا رہے ہیں ان کے اندر واقعی خدائی کی کوئی صفت پائی بھی جاتی ہے یا نہیں اور وہ ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے کچھ اختیارات رکھتے بھی ہیں یا نہیں ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–83

خلاصہ تفسیر اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجئے (تاکہ ان کو شرک کی مذمت کے دلائل معلوم ہوں، خصوص ابراہیم ؑ سے منقول ہو کر، کیونکہ یہ مشرکین عرب اپنے کو ملت ابراہیمیہ پر بتلاتے ہیں اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کیا کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت) پر جمے بیٹھے رہتے ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو (اپنی عرض حاجت کے وقت) پکارا کرتے ہو یا (تم جو ان کی عبادت کرتے ہو تو کیا) یہ تم کو کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا (اگر تم ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 75–77

آیت 77-75 حضرت ابراہیم کا اعلان برأت افرء یتم کے اسلوب میں تعجب اور اظہار نفرت و بیزاری کا مضمون پایا جاتا ہے۔ یعنی ذرا ان چیزوں پر نگاہ تو ڈالو جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے رہے اور جن کی پرستش پر تمہیں بھی ناز ہے۔ یہ بالکل بےحقیقت چیزیں ہیں۔ ان کے بارے میں میرا یہ فیصلہ سن لو کہ یہ ساری چیزیں میری دشمن ہیں اور میں ان سے بیزار ہوں۔ میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی چیز کی پرستش نہیں کرتا۔ ”یہ چیزیں میری دشمن ہیں“ یعنی یہ شیطان کے ایجاد کئے ہوئے پھندے ہیں اور شیطان بنی نوع انسان کا دشمن ازلی ہے جس کا اصل کام ہی یہ ہے کہ وہ خلق خدا کو صراط مستقیم سے روکے۔ یہ حضرت ابراہیم کا وہ اعلان برأت ہے جس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–79

16: یعنی فرعون کے لشکر نے جب دیکھا کہ سمندر کے درمیان راستے بنے ہوئے ہیں، تو اس نے بھی اس راستے سے گذرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اپنی اصل حالت پر لوٹا دیا، اور فرعون اور اس کے ساتھی اسی سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ تفصیل سورة یونس :91، 92 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–77

قال افرئیتم ……الاقدمون (76) فانھم ……العلمین (77) یوں انہوں نے اعلان کیا کہ میرا باپ اور میری قوم بھی ان کی پرستش کرتی ہے مگر ان میں ان عقائد کو نہ صرف ترک کرنے کا اعلان کرتا ہوں بلکہ ان کا دشمن ہوں۔ ان الموں کا دشمن ہوں ، آباء پرستی کا دشمن ہوں اور پانی پرانی تاریخ اور قدیم سے قدمی ترین اجداد کا دشمن ہوں۔ یوں قرآن مجید اہل ایمان کو تعلیم دیتا ہے کہ سچائی کے مقابلے میں اگر باپ آجائے ، قوم آجائے ، آبائو اجداد کی روایات آجائیں سب کو ٹھکرانا لازمی ہے کیونکہ اسلام کے بعد تمام انسانی رباطوں کو کاٹ کر صرف اسلامی رابطہ اور تعلق اپنا نا فرض ہے۔ سالام میں ایمان اور نظریہ کو اولیت حصال ہے اور باقی سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 75–76

13 یعنی ان کا پوجنا ایک پرانی حماقت ہے، ورنہ جس کے اختیار اور قبضہ میں ذرہ برابر نفع نقصان نہ ہو اس کی عبادت کیسی ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 75–77

آیت 77 فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ” حضرت ابراہیم علیہ السلام نے گویا علی الاعلان کہہ دیا کہ تمہارے اور تمہارے آباء و اَجداد کے ان معبودوں سے میری دشمنی ہے۔ میرا معبود اور مدد گار صرف وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ میرا تکیہ اورّ توکل بس اسی کی ذات پر ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 75–77

52 حضرت ابراہیم نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ بت تمہارے دشمن ہیں بلکہ یوں فرمایا کہ یہ میرے دشمن ہیں۔ تاکہ قوم کے لوگ چڑ نہ جائیں اور ضد بازی پر نہ اتر آئیں۔ اور ان کے دشمن ہونے کا ذکر سورة مریم کی آیت نمبر 82 میں موجود ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو آمنے سامنے لا حاضر کرے گا تو یہی معبود خواہ وہ جاندار ہوں یا بےجان، اپنے عبادت کرنے والوں کے دشمن بن جائیں گے اور کہیں گے کہ احمقو ! تمہیں ہم کب نے کب کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر ہماری عبادت کیا کرو۔ یہ تو آخرت میں دشمنی ہوئی اور آج یہ میرے دشمن ہیں۔ لہذا یہ میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہیں میں حاضر ہوں، میں دیکھوں گا کہ میرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 75–77

59۔ یعنی یہ معبود اور میرا سہارا تو کیا ہوتے، یہ تو اور دشمن ہیں، انہیں کے ذریعہ سے گمراہی پھیل رہی ہے۔ یہ تو واسطہ شرک اور باعث تباہی و بربادی ہیں۔ عدو کا لفظ صدیق کی طرح واحد وجمع دونوں موقعوں پر آجاتا ہے۔ یہاں جمع کے معنی میں ہے۔ والعدو والصدیق یجیئان فی معنی الوحدۃ والجماعۃ (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–104

آیت نمبر 69 تا 104 ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال افرء یتم ما کنتم تعبدون۔ ابراہیم نے کہا کیا تم نے (غور کیا اور) دیکھا کہ چیز کو پوجتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–76

(75۔ 76) حضرت ابرہیم ؑ نے فرمایا بھلا تم نے کبھی ان کی حالت پر غور بھی کیا جن کی تم اور تمہارے آباؤ اجداد بھی عبادت کرتے ہیں میں ان تمام لوگوں سے برأت ظاہر کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 75–76

قَالَ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ۔۔ : ”َاٰبَاۗؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ“ کے الفاظ سے ابراہیم ؑ یہ باور کروا رہے ہیں کہ کسی دین کے حق ہونے کے لیے بس یہ دلیل کافی نہیں کہ وہ قدیم آبا و اجداد کے وقت سے چلا آ رہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کام میں پہلے لوگوں کی غلطی ثابت ہوجائے تو اسے فوراً چھوڑ دیتے ہو، تو کیا دین ہی اتنا بےحیثیت ہے کہ غلط جان کر بھی نسلوں کی نسلیں آنکھیں بند کرکے اس پر چلتی جائیں اور مکھی پر مکھی مارتی جائیں ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–77

(واتل علیھم نبا۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ المستدرک للحاکم، جلد 2 ص 439، دارالکتب العلمیۃ واتل علیھم نبا ابراہیم مشرکوں کو ان کی انتہائی جہالت پر آگاہ کیا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اعتقاد و دین سے اعراض کرنے والے تھے جب کہ وہ ان کے جد اعلیٰ تھے۔ نبا کا معنی خبر ہے یعنی اے محمد ! ان پر اس کی خبر، اس کی گفتگو اور قوم جن کی عبادت کرتی تھی اس پر عیب لگانے کو بیان کر دیجئے۔ یہ اس لیے فرمایا تاکہ ان پر حجت لازم کردی جائے۔ جمہور قراء دوسرے ہمزے میں تخفیف کرتے ہیں، یہ بہترین توجیہ ہے، کیونکہ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ایک کلمہ میں دوسرے ہمزہ میں تخفیف کرتے ہیں جس طرح آدم۔ اگر تو چاہے تو دونوں کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 69–77

ابراہیم کا اپنے والد سے مکالمہ 1۔ عبد بن حید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فنظل لہا عکفین “ یعنی عبادت کرنے والے آیت ” قال ہل یسمعونکم اذ تدعون “ یعنی کیا تمہارے معبودوں نے تم کو کوئی جواب دیا جب تم ان کو پکارتے ہو۔ 2۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یسمعونکم “ یعنی کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] اَفَرَءَيْتُمْ [ تو کیا تم لوگوں نے غور کیا ] مَّا [ ان پر جن کی ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] تَعْبُدُوْنَ [ عبادت کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–83

اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعاؤں کا تذکرہ فرمایا (رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا) (اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما) لفظ حکم کی تفصیل میں کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے حکمت مراد ہے یعنی قوت علمیہ کا کمال مراد ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی خیر کا علم عطا فرمائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حکم سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اور اس کے تمام احکام کا علم مراد ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حکم سے نبوت مراد ہے لیکن یہ بات اس صورت میں تسلیم کی جاسکتی ہے جبکہ دعائے مذکور کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے ہوں (راجع روح المعانی ج 19 ص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–104

قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 72–75

35:۔ جب مشرکین نے اپنے معبودوں کے عجز کا اعتراف کرلیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا جن معبودوں کی تم اور تمہارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے چونکہ وہ نہ اپنے پجاریوں کی پکار سنتے ہیں، نہ ان کا نفع نقصان ان کے اختیار میں ہے اس لیے مجھے ایسے معبودوں کی عبادت سے سخت نفرت اور عداوت ہے ” الا رب العلمین “ مستثنی منقطع ہے ہاں رب العالمین کی عبادت اور پکار سے نفرت نہیں کیونکہ وہ تو اپنے پجاریوں کا والی ہے، سب کا کارساز اور سب کے نفع نقصان کا مختار ہے، اس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفتیں ذکر کی ہیں جو معبودانِ باطلہ میں نہیں پائی جاتیں تو اس سے ثابت ہوا کہ اللہ کے سوا کوئی برکات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–77

ربط آیات گزشتہ تین رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات باتفصیل بیان فرمائے۔ اس سورة مبارکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات ان کی فرعون کی طرف روانگی سے شروع ہوئے۔ اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی ظالم قوم کو میرا پیغام توحید سنائو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کی تائید چاہی اور ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا ، شدید کہ وہ مجھے بھی نہ مار ڈالیں ۔ اللہ نے تسلی دی تو آپ فرعون کے پاس پہنچے ۔ اپنی رسالت کا اعلان کیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا ۔ فرعون نے آپ پر بچپن میں کیے گئے احسانات یا دلائے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ۝ 75ۙ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–94

1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–77

قَالَ اَفَرَئَ یْـتُمْ مَّا کُنْـتُمْ تَعْبُدُوْنَ ۔ اَنْـتُمْ وَاٰبَـآؤُ کُمُ الْاَقْدَمُوْنَ ۔ فَاِنَّھُمْ عَدُوٌّلِّیْٓ اِلاَّ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 75 تا 77) (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم نے ان چیزوں پر غور کیا ہے جن کی تم پرستش کیا کرتے ہو۔ تم بھی اور تمہارے گزشتہ آبائواجداد بھی۔ یہ سب میرے تو دشمن ہیں بجز اللہ رب العالمین کے۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اعلانِ براء ت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں سے کہا کہ جس طرح تمہاری ہر بات کسوٹی پر، پرکھی جاتی ہے، اسی طرح تمہارے آبائواجداد بھی نقدوجرح سے گزرتے ہیں۔ سب کے لیے رہنمائی غور و فکر میں ہے۔ کسی بھی بات کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 70–77

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کی نفی کرنے کے بعد رب العالمین کا تعارف کرواتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے رب العالمین کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہنمائی فرمائی وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ میں جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ وہی مجھے مارے گا اور وہی مجھے دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس موقع پر رب العالمین کی نو صفات کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذات باری تعالیٰ کے احترام کے پیش نظر بیماری کو اپنی طرف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 75–76

75، 76: قَالَ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ اَنْتُمْ وَاٰبَآ ؤُکُمُ الْاَقْدَمُوْنَ (ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ تم خود اور تمہارے اگلے باپ دادا کس چیز کو پوجتے ہیں) اقدمونؔ کا معنی پہلے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 74–75

74۔ قالوا بل وجدنا آباء نا کذالک یفعلون۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی کی بات نہیں مانتے اور نہ کسی کو نفع پہنچاتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس راستے پر پایا ہے یہی تمہاری تقلید کے ابطال کی دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–85

69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–104

آیت 69 سے 104 فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–81

45 حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بعض اہم صفات کا ذکر اور ان کا مقتضیٰ : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں اور ان کے شرک اور شرکاء سے اظہار بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خالق ومالک کی بعض ایسی اہم صفات کا ذکر فرمایا جو سب دنیا کے سامنے موجود ہیں مگر دنیا توجہ نہیں کرتی۔ سو حضرت ابراہیم نے ان کو ذکر کر کے مشرکوں کے شرک کی جڑ نکال دی اور ان کے سامنے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا یہ سوال رکھ دیا کہ جب ان صفات میں سے کسی میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ معلوم ہوا کہ ان صفات میں سے کسی صفت کو بھی مخلوق میں سے کسی کے لئے ماننا شرک ہے مگر افسوس صد افسوس کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–104

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔ انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–104

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 75–77

8 ۔ وہ ایسا نہیں ہے۔ اس لئے وہی دنیا و آخرت میں میرا دوست، مربی اور مالک ہے اور وہی اس چیز کا مستحق ہے کہ میں اس کی عبادت کروں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ” رب العالمین “ کے کسی شریک بغیر لائق عبادت ہونے پر دلائل دینا شروع کئے جن کا ذکر اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:75) افرأیتم۔ الف استفہامیہ توبیخ کے لئے ہے ۔ کیا تم نے کبھی (آنکھیں کھول کر) دیکھا بھی (جن کی تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا پرستش کرتے رہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–104

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 : اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–86

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 68–77

[15] یعنی میں ان کی عبادت میں سراسر اپنا نقصان دیکھتا ہوں۔ یہ تو باعث تباہی و بربادی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–76

حل لغات :۔ اصناما ۔ صنم کی جمع ہے بمعنی بت عکفین ۔ غکیف سے ہے بعض کسی بات پر جم جانا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

75۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا بھلا تم نے ا ن کو دیکھا بھی اور ان پر غور بھی کیا جن کو تم پوجتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–77

ف 6۔ یعنی اگر ان کی عبادت کی جاوے، خواہ نعوذ باللہ میں کروں یا تم کرو، تو بجز ضرر کے اور کوئی نتیجہ نہیں۔ 7۔ وہ ایسا ہے کہ وہ اپنے عابدین کا دوست ہے، اور اس کی عبادت سرتاسر نافع ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا کہا تم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ تم انکی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ : 75۔ کاش کہ آج ہمارے مناظرین وجارحین بھی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے انداز مناظرہ اور طریقہ جرح پر غور کرتے تو آج ہمارے مناظروں کی یہ کیفیت نہ ہوتی جو ہو چلی ہے ۔ کسی کے دلائل کا ماننا نہ ماننا اپنی مرضی لیکن انداز بیان کا ایک اپنا مقام ہے مخالف کو مخالف سمجھ کر اس پر پل پڑنا اور ایک دوسرے پر طعنہ زنی اور گالی گلوچ کرنے سے آخر فائدہ ؟ مناظرہ اور جرح کا مطلب تو یہ ہے کہ اپنے مدمقابل کی دانست کے مطابق بات کی جائے اور اس کو مدلل اور مسکت جواب دیا جائے اور خصوصا جس سطح کے لوگوں سے بات کی جارہی ہو اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–83

The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–76

54 That is, "Is it enough to say that a religion is true only because it has been held as such by their ancestors ? Should people, generation after generation, go on following their ancestors in their footsteps blindly without ever caring to see whether the deities they worship possess any divine attribute or not, and whether they have any power to influence their destinies? "

Read the full tafseer →