Ash-Shu'araa 26:73

Ash-Shu'araa · from ayah 73

26:73

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ ۟اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ

یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do they benefit you, or do they harm?"

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:73

یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا تمہیں کوئی فائدہ یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا تمہارا کچھ بھلا برا کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا وہ تمہیں نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا تمہیں فائدہ دیتے، یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا تمہیں کچھ فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یا تمہیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یا یہ تمہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

یا یہ تم کو کچھ نفع پہنچا تے ہیں یا ضرر پہنچا سکتے ہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یا وہ تمہیں کوئی نفع یا کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا تمہیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

or do they cause you any benefit or harm?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

or do they bring benefit to you or harm?

— Muhammad Taqi Usmani

or do they bring benefit to you or harm?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Or do they benefit you or do they cause harm"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or do they benefit you, or do they harm?"

— Saheeh International

He asked them, "Can the idols hear you when you pray to them

— Muhammad Sarwar

Or do they profit you or cause you harm?

— Muhammad Habib Shakir

Or, benefit they you or hurt they you?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–77

ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 72–74

سورة الشُّعَرَآء 53 یعنی ہماری اس عبادت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ ہماری مناجاتیں اور دعائیں اور فریادیں سنتے ہیں یا ہمیں نفع اور نقصان پہنچاتے ہیں اس لیے ہم نے ان کو پوجنا شروع کردیا ہے، بلکہ اصل وجہ اس عبادت کی یہ ہے کہ باپ دادا کے وقتوں سے یوں ہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس طرح انہوں نے خود یہ اعتراف کرلیا کہ ان کے مذہب کے لیے باپ دادا کی اندھی تقلید کے سوا کوئی سند نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آخر تم نئی بات ہمیں کیا بتانے چلے ہو ؟ کیا ہم خود نہیں دیکھتے کہ یہ لکڑی اور پتھر کی مورتیں ہیں ؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ لکڑیاں سنا نہیں کرتیں اور پتھر کسی کا کام بنانے یا بگاڑنے کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–83

خلاصہ تفسیر اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجئے (تاکہ ان کو شرک کی مذمت کے دلائل معلوم ہوں، خصوص ابراہیم ؑ سے منقول ہو کر، کیونکہ یہ مشرکین عرب اپنے کو ملت ابراہیمیہ پر بتلاتے ہیں اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کیا کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت) پر جمے بیٹھے رہتے ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو (اپنی عرض حاجت کے وقت) پکارا کرتے ہو یا (تم جو ان کی عبادت کرتے ہو تو کیا) یہ تم کو کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا (اگر تم ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 72–74

آیت 74-73 حضرت ابراہیم ؑ نے ان بتوں کی بےحقیقتی واضح کرنے کے لئے سوال کیا کہ جب تم ان سے دعا فریاد کرتے ہو تو کیا یہ تمہاری دا فریاد سنتے ہیں یا تمہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں یا پہنچا سکتے ہیں تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم انکی پرستش کرتے ہو ! قوم کے لوگوں نے جواب دیا کہ یہ باتیں ہم نہیں جانتے۔ بس ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے، سو ہم اسی طرح کرتے رہیں گے۔ اپنے آباء و اجداد کے طریقے کو ہم تمہارے کہنے سے نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت کے اس دور کی باتیں نقل ہو رہی ہیں۔ جب وہ تمام عقلی و نقلی اور آفاقی و انفسی دلائل سے اپنی قوم پر حجت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 72–73

73-1یعنی اگر تم ان کی عبادت ترک کردو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچاتے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–79

16: یعنی فرعون کے لشکر نے جب دیکھا کہ سمندر کے درمیان راستے بنے ہوئے ہیں، تو اس نے بھی اس راستے سے گذرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اپنی اصل حالت پر لوٹا دیا، اور فرعون اور اس کے ساتھی اسی سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ تفصیل سورة یونس :91، 92 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 72–73

قال ھل ……یضرون (73) کسی الہہ کی کم از کم جو خاصیت ہونا چاہئے کہ وہ سنے اور سوال و جواب کرے۔ کم از کم کوئی اپنے اس بندے جیسا تو ہونا چاہئے جو اس کی عبادت کر رہا ہے اور اس کے سامنے گڑ گڑارہا ہے۔ یہ الہہ تو نہ سنتے ہیں اور نہ گویا ہیں اور نہ ہی کوئی نفع و ضرور دے سکتے ہیں۔ اگر یہ سن ہی نہیں سکتے ، بہرے ہیں تو پھر نفع و نقصان کیسے دیں گے۔ اس لئے ان کو کسی صورت میں پکارنا جائز نہیں ہے۔ لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوالات میں سے کسی کا جواب نہ دیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم ان کے ساتھ سخت مذاق کر رہے ہیں اور ان کے بتوں اور ان کی روش پر تنقید کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی کیا پوجنے پر کچھ نفع یا نہ پوجنے کی صورت میں کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ ظاہر ہے جو اپنے اوپر سے مکھی تک نہ اڑا سکیں وہ دوسرے کو کیا نفع نقصان پہنچا سکیں گے ؟ پھر ایسی عاجز و لایعقل چیز کو معبود بنانا کہاں کی عقلمندی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 اَوْ یَنْفَعُوْنَکُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ ” وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان منطقی سوالات کا اس کے علاوہ کوئی جواب نہ دے سکے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 72–73

50 حضرت ابراہیم کا اگلا سوال یہ تھا کہ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ کوئی جواب دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہی ہوسکتا تھا۔ بھلا پتھر کے خود ساختہ بتوں کا سننے یا سن کر جواب دینے سے کیا کام ؟ حضرت ابراہیم نے اگلا سوال یہ کیا کہ یہ بت تمہارا کچھ سنوار یا بگاڑ سکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہی ہوسکتا تھا بھلا جو بت اپنے وجود، اپنی حفاظت اور اپنے وجود کی بقا تک کے لئے اپنے عقیدت مندوں کے محتاج ہوں۔ یہ سنتے ہوں نہ بولتے ہوں۔ وہ اپنے عقیدت مندوں کو کون سی حاجت پوری کرسکتے ہیں یا ان کی کوئی تکلیف رفع کرسکتے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 72–73

57۔ یہ جرحین بڑی وسعت واطلاق رکھتی ہیں، دنیا میں کسی بت پرست کے پاس انکا کوئی جواب نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–104

آیت نمبر 69 تا 104 ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 72–73

(72۔ 73) حضرت ابرہیم ؑ نے ان لوگوں سے فرمایا کیا یہ تمہارے معبود تمہیں جواب دیتے ہیں جب تم ان کو پکارتے ہو یا جب تم ان کی اطاعت کرتے ہو تو یہ تمہاری ضروریات زندگی میں تمہیں کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا اگر تم ان کی نافرمانی شروع کر دو تو یہ تمہیں کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 72–73

قَالَ هَلْ يَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَ۔۔ : ابراہیم ؑ نے کسی بھی ذات کی عبادت کے لیے اس میں پائی جانے والی تین صفات ذکر کرکے فرمایا کہ کیا ان میں یہ تینوں یا کوئی ایک صفت پائی جاتی ہے ؟ کیا جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ تمہاری بات سنتے ہیں ؟ یا تمہیں کوئی فائدہ پہنچاتے ہیں ؟ یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں، تو ان کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–77

(واتل علیھم نبا۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ المستدرک للحاکم، جلد 2 ص 439، دارالکتب العلمیۃ واتل علیھم نبا ابراہیم مشرکوں کو ان کی انتہائی جہالت پر آگاہ کیا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اعتقاد و دین سے اعراض کرنے والے تھے جب کہ وہ ان کے جد اعلیٰ تھے۔ نبا کا معنی خبر ہے یعنی اے محمد ! ان پر اس کی خبر، اس کی گفتگو اور قوم جن کی عبادت کرتی تھی اس پر عیب لگانے کو بیان کر دیجئے۔ یہ اس لیے فرمایا تاکہ ان پر حجت لازم کردی جائے۔ جمہور قراء دوسرے ہمزے میں تخفیف کرتے ہیں، یہ بہترین توجیہ ہے، کیونکہ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ایک کلمہ میں دوسرے ہمزہ میں تخفیف کرتے ہیں جس طرح آدم۔ اگر تو چاہے تو دونوں کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 69–77

ابراہیم کا اپنے والد سے مکالمہ 1۔ عبد بن حید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فنظل لہا عکفین “ یعنی عبادت کرنے والے آیت ” قال ہل یسمعونکم اذ تدعون “ یعنی کیا تمہارے معبودوں نے تم کو کوئی جواب دیا جب تم ان کو پکارتے ہو۔ 2۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یسمعونکم “ یعنی کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَوْ [ یا ] يَنْفَعُوْنَكُمْ [ وہ فائدہ دیتی ہیں تم کو ] اَوْ يَضُرُّوْنَ [ یا نقصان پہنچاتی ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–83

اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعاؤں کا تذکرہ فرمایا (رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا) (اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما) لفظ حکم کی تفصیل میں کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے حکمت مراد ہے یعنی قوت علمیہ کا کمال مراد ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی خیر کا علم عطا فرمائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حکم سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اور اس کے تمام احکام کا علم مراد ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حکم سے نبوت مراد ہے لیکن یہ بات اس صورت میں تسلیم کی جاسکتی ہے جبکہ دعائے مذکور کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے ہوں (راجع روح المعانی ج 19 ص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–104

قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 72–75

35:۔ جب مشرکین نے اپنے معبودوں کے عجز کا اعتراف کرلیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا جن معبودوں کی تم اور تمہارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے چونکہ وہ نہ اپنے پجاریوں کی پکار سنتے ہیں، نہ ان کا نفع نقصان ان کے اختیار میں ہے اس لیے مجھے ایسے معبودوں کی عبادت سے سخت نفرت اور عداوت ہے ” الا رب العلمین “ مستثنی منقطع ہے ہاں رب العالمین کی عبادت اور پکار سے نفرت نہیں کیونکہ وہ تو اپنے پجاریوں کا والی ہے، سب کا کارساز اور سب کے نفع نقصان کا مختار ہے، اس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفتیں ذکر کی ہیں جو معبودانِ باطلہ میں نہیں پائی جاتیں تو اس سے ثابت ہوا کہ اللہ کے سوا کوئی برکات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–77

ربط آیات گزشتہ تین رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات باتفصیل بیان فرمائے۔ اس سورة مبارکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات ان کی فرعون کی طرف روانگی سے شروع ہوئے۔ اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی ظالم قوم کو میرا پیغام توحید سنائو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کی تائید چاہی اور ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا ، شدید کہ وہ مجھے بھی نہ مار ڈالیں ۔ اللہ نے تسلی دی تو آپ فرعون کے پاس پہنچے ۔ اپنی رسالت کا اعلان کیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا ۔ فرعون نے آپ پر بچپن میں کیے گئے احسانات یا دلائے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوْ يَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ يَضُرُّوْنَ۝ 73 نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( نع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ۔ ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–94

1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 70–74

قَالَ ھَلْ یَسْمَعُوْنَـکُمْ اِذْ تَدْعُوْنَ ۔ اَوْیَنْـفَـعُـوْنَـکُمْ اَوْیَضُرُّوْنَ ۔ قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَـآ اٰبَـآئَ نَا کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 72 تا 74) (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا، کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انھیں پکارتے ہو۔ یا وہ تمہیں کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں یا ضرر پہنچا سکتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔ ) دعوت ایک قدم آگے اور مخالفین کا جواب لوگوں کی حمیت جاہلی کو دیکھتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بات کو آگے بڑھایا کہ تمہاری اپنی جاہلیت پر استقامت اپنی جگہ، میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہتا، البتہ یہ تو بتایئے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 70–77

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کی نفی کرنے کے بعد رب العالمین کا تعارف کرواتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے رب العالمین کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہنمائی فرمائی وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ میں جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ وہی مجھے مارے گا اور وہی مجھے دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس موقع پر رب العالمین کی نو صفات کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذات باری تعالیٰ کے احترام کے پیش نظر بیماری کو اپنی طرف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

73: اَوْ یَنْفَعُوْنَکُمْ (یا وہ تمہیں فائدہ دیتے ہیں) اگر تم ان کی عبادت کرتے ہو اَوْ یَضُرُّوْنَ (یا وہ تمہیں نقصان پہنچاتے ہیں) اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 72–73

72۔ قال ھل یسمعولکم، کیا یہ تمہاری پکار کو سنتے ہیں۔ اذ تدعون، جب تم انکو پکارتے ہو۔ ابن عباس کا قول ہے کہ کیا یہ تمہاری بات کو سنتے ہیں۔ اوینفعونکم، اس سے مراد رزق ہے۔ اویضرون، اگر تم ان کی عبادت کو ترک کردو کیا یہ تمہیں سزا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–85

69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–104

آیت 69 سے 104 فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 72–74

44 باپ دادا کی اندھی تقلید کا قدیم مرض : سو حضرت ابراہیم کے سوال کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسے ہی کرتے پایا۔ اس لیے ہم بھی ایسے ہی کیے جا رہے ہیں۔ یعنی ہم تو لکیر کے فقیر ہیں اور بس۔ اپنے بڑے بزرگوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ جہاں انہوں نے کبھی کوئی مکھی ماری تھی ہم بھی وہاں پر مکھی مارے چلے جا رہے ہیں۔ عقل و خرد کو اس میں دخل دینے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یعنی بڑوں کی وہی اندھی تقلید جس میں آج کا کلمہ گو مشرک بھی گرفتار اور پوری اور بری طرح گرفتار ہے اور پوچھنے پر اس کا جواب بھی یہی ہوتا ہے کہ بڑوں نے ایسے کیا تھا اور بس ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کل کے ان کھلے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–104

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔ انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–104

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 71–73

5 ۔ اگر نہیں، اور ظاہر ہے کہ نہیں تو ان کی پوجا کرنے سے کیا فائدہ اور نہ کرنے سے کیا نقصان ؟

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–104

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 : اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–86

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 68–77

[15] یعنی میں ان کی عبادت میں سراسر اپنا نقصان دیکھتا ہوں۔ یہ تو باعث تباہی و بربادی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–76

حل لغات :۔ اصناما ۔ صنم کی جمع ہے بمعنی بت عکفین ۔ غکیف سے ہے بعض کسی بات پر جم جانا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

73۔ یا یہ تم کو کچھ نفع اور فائدہ پہونچاتے ہیں یا یہ تمہارا کچھ نقصان کرسکتے ہیں یعنی تینوں باتیں ایسی دریافت فرمائیں جن کا جواب سوائے نفی کے اور کچھ نہیں ہوسکتا تھا نفع نقصان کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کرو اور ان کی پوجا کرو تو تمہارا بھلا کریں اور پوجا چھوڑ دو تو تمہارا کچھ بگاڑیں اور تم کو نقصان پہونچادیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 65–73

ف 5۔ یعنی استحقاق الوہیت کے لئے علم اور قدرت کاملہ تو ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) کا دوسرا سوال جو پہلے سوال کے ساتھ ہی منسلک تھا : 73۔ سوال ایک ہی تھا لیکن تفصیل کے لئے آپ جزجز کرکے اس کی وضاحت طلب کی تاکہ انکی بتائی ہوئی وضاحت کے مطابق سوالات کا مزید سلسلہ آگے بڑھ سکے ، آپ نے اپنے سوال کے دوسرے جزء میں یہ استفسار فرمایا کہ کیا تم کو یہ کوئی نفع ونقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس طرح گویا اس بات کا فیصلہ خود بخود ہوجائے گا کہ آیا وہ نفع ونقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں یا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ اگر وہ نفع ونقصان پہنچا سکتے ہیں تو وہ اختیار بھی رکھتے ہوں گے ، رہی یہ بات کہ نفع کے لئے تو خیر پکارا نقصان کرانے کے لئے کسی کو کوئی کیا پکارے گا ؟ تو اس کا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–83

The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–74

53 That is, "We do not worship and serve them because they hear our prayers and supplications, or that they can harm and benefit us, but because we have seen our elders worshipping and serving them." Thus, they themselves admitted that the only reason of their worshipping the idols was the blind imitation of their forefathers. In other words, they meant this: "There is nothing new in what you are telling us, We know that these are idols of stone and wood, which do not hear anything, nor can haran or do good; but we cannot believe that our elders who have been worshipping them since centuries,…

Read the full tafseer →