Explained with ayahs 60–68
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا
فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
سورة الشُّعَرَآء 49
یعنی قریش کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہٹ دھرم لوگ کھلے کھلے معجزات دیکھ کر بھی کس طرح ایمان لانے سے انکار ہی کیے جاتے ہیں اور پھر اس ہٹ دھرمی کا انجام کیسا درد ناک ہوتا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم کے تمام سرداروں اور ہزارہا لشکریوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ سالہا سال تک جو نشانیاں ان کو دکھائی جاتی رہیں ان کو تو وہ نظر انداز کرتے ہی رہے تھے، آخر میں عین غرق ہونے کے وقت بھی ان کو یہ نہ سوجھا کہ سمندر اس قافلے کے لیے پھٹ گیا ہے، پانی پہاڑوں کی طرح دونوں طرف کھڑا ہے اور بیچ میں سوکھی سڑک سی بنی ہوئی ہے۔ یہ صریح علامتیں دیکھ کر بھی ان کو عقل نہ آئی کہ موسیٰ ؑ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
اور وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ میرے ساتھ میرا پروردگار ہے جو مجھے راستہ دے گا۔ ایمان کا امتحان ایسے ہی مواقع میں ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ پر ذرا ہراس نہیں تھا، وہ گویا راستہ بچنے کا آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اسی طرح کا بعینہ واقعہ ہجرت کے وقت غار ثور میں چھپنے کے وقت رسول کریم ﷺ کو پیش آیا تھا کہ دشمن جو آپ کے تعاقب میں تھے اس غار کے دہانے پر آکھڑے ہوئے ذرا نیچے نظر کریں تو آپ ان کے سامنے آجائیں اس وقت صدیق اکبر کو گھبراہٹ ہوئی تو آپ نے بعینہ یہی جواب دیا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ان دونوں واقعات میں ایک بات یہ بھی قابل نظر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
آیت 66-63
یہ حرت موسیٰ اور ان کی قوم کے اعتماد علی اللہ کا امتحان تھا۔ اس امتحان میں بنی اسرائیل تو اپنی روایت کے مطابق بالکل ناکام رہے لیکن حضرت موسیٰ سو فیصد کامیاب ہوئے۔ اس امحتان سے گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا۔ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد ایسی ہوا چلی کہ سمندر کا پانی پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گاک۔ دونوں طرف پانی کی دیوار کھڑی ہوگئی اور بیچ میں سے خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر اس راستہ پر چلے۔ تدبیر الٰہی فرعونیوں کو بھی اسی مقام پر لائی اور انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
66-2موسیٰ ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہم نے نجات دی اور فرعون اور اس کا لشکر جب انہی راستوں سے گزرنے لگا تو ہم نے سمندر کو دوبارہ حسب دستور رواں کردیا، جس سے فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–79
16: یعنی فرعون کے لشکر نے جب دیکھا کہ سمندر کے درمیان راستے بنے ہوئے ہیں، تو اس نے بھی اس راستے سے گذرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اپنی اصل حالت پر لوٹا دیا، اور فرعون اور اس کے ساتھی اسی سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ تفصیل سورة یونس :91، 92 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)
یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔
واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
5 یعنی فرعونی لشکر بھی قریب آگیا اور دریا میں راستے بنے ہوئے دیکھ کر بنی اسرائیل کے بعد بےسوچے سمجھے گھس پڑا۔ جب تمام لشکر دریا کی لپیٹ میں آگیا، فوراً خدا کے حکم سے پانی کے پہاڑ ایک دوسرے سے مل گئے۔ یہ قصہ پہلے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
آیت 67 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ”
اس آیت میں حضور ﷺ اور اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اگر مشرکین مکہّ کو کوئی نشانی چاہیے تو وہ اس واقعہ کو دیکھ لیں۔ اور اگر انہیں اس میں کوئی نشانی نظر نہیں آتی تو پھر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کی آنکھیں نہیں کھول سکے گا۔ چناچہ آپ ﷺ خواہ کتنی ہی کوشش کریں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
46 یعنی اس واقعہ میں ہر طرح کے لوگوں کے لئے نشانی ہے۔ ظالموں کے لئے یہ نشانی ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت انھیں ایسے راستوں سے مقام ہلاکت کی طرف کھینچ لاتا ہے جن کا انھیں وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ لہذا اے معاندین قریش تم بھی اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ کہیں تمہیں بھی ایسے انجام بد سے دوچار نہ ہونا پڑے اور اس واقعہ میں ایمان لانے والوں کے لئے بھی نشانی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو آزماتا ضرور ہے۔ انھیں تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں۔ بالاخر اللہ تعالیٰ مظلوموں کی ہی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
52۔ بحر قلزم کے کنارے فرعونیوں کے غرق ہونے پر مفصل حاشیے سورة بقرہ پ 1 میں گزر چکے ،” کالطود العظیم “۔ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ صحابیوں، اور متعدد تابعین سے معنی یہی بڑی پہاڑی کے منقول ہیں۔ اے کالجبل الکبیر قالہ ابن مسعود وابن عباس ؓ ومحمد بن کعب وقتادۃ والضحاک وغیرہ (ابن کثیر) (آیت) ” ثم “۔ یعنی وہیں۔ اسی مقام تک، اے ھنالک قال ابن عباس وعطاء الخراسانی وقتادۃ والسدی (ابن کثیر) (آیت) ” الاخرین “۔ یعنی فرعون اور فرعونیوں کو۔ یعنی قوم فرعون (معالم) فرعون و جنودہ (ابن کثیر) (آیت) ” فاوحینا “۔ الخ، صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ حق تعالیٰ تو بغیر عصائے موسیٰ (علیہ السلام) کی ضرب کے بھی سمندر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیت نمبر 52 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…
Read the full tafseer →وانجینا موسیٰ ومن معہ اجمعین۔ اور ہم نے موسیٰ کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے سب کو بچا لیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(65۔ 66) اور ہم نے موسیٰ ؑ اور ان کے سب ساتھیوں کو غرق ہونے سے بچا لیا پھر فرعون اور اس کی قوم کو دریا میں غرق کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
وَاَنْجَيْنَا مُوْسٰي وَمَنْ مَّعَهٗٓ۔۔ : یعنی اس وقت وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب تھے کہ ہم نے اس پانی سے موسیٰ ؑ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا کر نکال لیا، پھر ہم نے اسی پانی کے ساتھ دوسروں کو غرق کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ )
واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔
3۔ عبدبن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کہ آیت ” الطود “ سے مراد ہے پہاڑ۔
4۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وازلفنا ثم الاخرین “ سے فرعون کی قوم مراد ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو قریب کیا یہاں تک کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔
5۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت کہے جب سمندر پھٹ گیا تھا میں نے…
Read the full tafseer →وَاَنْجَيْنَا [ اور ہم نے نجات دی ] مُوْسٰي [ موسیٰ (علیہ السلام) کو ] وَمَنْ [ اور ان کو جو ] مَّعَهٗٓ [ ان کے ساتھ تھے ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بلاشبہ آپ کا رب عزت والا ہے رحمت والا ہے) وہ گرفت فرمانے پر بھی قادر ہے اور رحم بھی فرماتا ہے مومن بندوں کو اس کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے اور اس کی رحمت کا امید وار رہنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل
قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
33:۔ یہ دوسری نقلی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی برکات دہندہ نہیں۔ اس سے تخویف دنیوی مطلوب نہیں۔ کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم پر انکار دعوی کی وجہ سے اس وقت عذاب نہیں آیا۔ ” اذ قال لابیہ وقومہ الخ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے سوال کیا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم تو تھا وہ کس چیز کی عبادت کرتے ہیں لیکن وہ اس مکالمے سے ان پر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ جن معبودوں کی وہ عبادت و دعاء میں مصروف ہیں وہ معبود ہونے کے مستحق نہیں ہیں۔ و ابراہیم (علیہ السلام) یعلم انہم عبدۃ الاصنام ولکنہ سالھم لیریھم ان ما یعبدونہ لیس بمستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
ربط آیات
گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں اور ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ فرعون کا لشکر آپ کا تعاقب کرے گا ۔ حسب حکم موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ جیسا کہ پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل ہر سال خاص دنوں میں اپنا قومی میلہ منایا کرتے تھے ۔ حسب معمول اس سال بھی انہوں نے باہر جا کر جشن منانے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں بعض نے قبضیوں سے زیورات بھی مانگے جو انہوں نے بخوشی دے دیے۔ پروگرام کے مطابق موسیٰ علیہ السلم بمع قوم بنی اسرائیل مصر سے نکل گئے اور چلتے چلتے…
Read the full tafseer →وَاَنْجَيْنَا مُوْسٰي وَمَنْ مَّعَہٗٓ اَجْمَعِيْنَ 6 5ۚ
نجو
أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53]
( ن ج و )
اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔
وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
1 ؎ زبردست ایسا کہ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا رحیم ایسا کہ بیچارے بنی اسرائیل کو بچا لیا یا یہ کہ زبردست ہے سزا دینے پر آئے تو کوئی بچ نہیں سکتا مگر رحیم بھی ہے کہ فی الفور سزا نہیں دیتا درگزر کرجاتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
فَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْبَحْرَ ط فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِالْعَظِیْمِ ۔ وَاَزْلَفْنَا ثُمَّ الْاٰخَرِیْنَ ۔ وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰی وَمَنْ مَّعَـہٗٓ اَجْمَعِیْنَ ۔ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 64 تا 66)
(پس ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو، سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک عظیم پہاڑ کی مانند بن گیا۔ اور ہم قریب لائے وہیں دوسروں کو۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے، ہم نے نجات دی۔ اور پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا۔ )
قدرتِ خداوندی کا کرشمہ
بنی اسرائیل کی گھبراہٹ اور چیخ و پکار میں حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی کشمکش کا مختصربیان۔
اہل مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں جابجا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت اور ان کی بےمثال اور لازوال جدوجہد کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ آخر تم ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے اعتکاف اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پے درپے ان سے تین…
Read the full tafseer →65: وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ اَجْمَعِیْنَ (اور ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں تمام کو نجات دی) یعنی ڈوبنے سے نجات دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
64۔ وازلفنا، قریب لے آئے۔ ثم الاخرین، اس سے مراد فرعون کی قوم ہے۔ وہ یہ کہنے لگے کہ وہ سمندر تک پہنچ گئے اور ہلاکت کے قریب ہوگئے۔ ابوعبیدہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ہم نے ان دونوں کو جمع کردیا۔ اسی سے لیلہ المزدلفہ ہے اس رات کو لیلۃ الجمع بھی کہتے ہیں۔ واقعہ میں آیا ہے کہ حضرت جبرائیل قوم موسیٰ اور قوم فرعون کے درمیان تھے اور وہ بنی اسرائیل کو کھینچ رہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے اس شخص سے اچھا کوئی نہیں دیکھا، اور فرعون کی قوم کو ڈرا رہے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اس شخص سے زیادہ کوئی شخص نہیں دیکھا جو ڈرارہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
39 نجات دہندہ سب کا اللہ ہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حاجت روا و مشکل کشا اور سب کے نجات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا موسیٰ کو بھی اور ان سب کو بھی جو انکے ساتھ تھے کہ نجات دہندہ اور سب کے حاجت روا و مشکل کشا ہم ہی ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ بچانا اور نجات دینا صرف اور صرف اللہ پاک کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ نہ کہ کسی مخلوق کی۔ حضرات انبیاء و رسل کی پاکیزہ اور مقدس ہستیاں بھی اسی کی محتاج ہیں اور جب انبیاء و رسل اور موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اسی نجات دہندہ کے محتاج و منتظر ہیں تو پھر اور کون ہے جو دوسروں کا حاجت روا و مشکل کشا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیات 52 تا 68
اسرار و معارف
جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
1 ۔ کیونکہ وہ بھی سمندر میں راستہ دیکھ کر اس میں گھس پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کے دونوں ٹکڑوں کو مل جانے کا حکم دیا جب وہ مل گئے تو یہ لوگ غرق ہوگئے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
(26:65) انجینا ماضی جمع متکلم۔ انجاء مصدر (باب افعال) سے ہم نے بچا لیا ہم نے نجات دی۔ نجو مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 :
اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 :
جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔
(ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–67
[14] نشانی اللہ کی قدرت و حکمت کی اور مخالفین کی سزا یابی کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
اذلفنا ۔ قریب کرنا ۔
Read the full tafseer →65۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے بچالیا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ہمراہی دریا سے پار ہوگئے اور غرق سے بچالئے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
ف 5۔ یعنی استحقاق الوہیت کے لئے علم اور قدرت کاملہ تو ضروری ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم بنی اسرائیل کو بچالیا :
65۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مع آپ کی قوم کے بخیریت پار کردیا لیکن فرعون اور اس کے پورے لشکر کو ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کر کے رکھ دیا اور اس طرح اپنی سنت کو پورا کر دکھایا کہ میرے رسولوں کی مخالفت کرنے والے کبھی میرے عذاب سے بچ نہیں سکتے بلاشبہ فرعون اور اسکے اعوان وانصار نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک عرصہ تک نہایت حد تک تنگ رکھا لیکن جو کچھ انہوں نے کیا صرف زور اور طاقت سے کیا لیکن انجام کا وقت آیا تو کامیابی کس کے حصہ میں آئی ؟ ہر وہ شخص جو اس واقعہ کو پڑے گا کہے گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حصہ میں ۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–83
The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
48 That is, Pharaoh and his army.
Read the full tafseer →