Explained with ayahs 1–9
تعارف قرآن کریم
پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة الشُّعَرَآء 4
یعنی جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ معقولیت کے ساتھ ان کو سمجھانے اور راہ راست دکھانے کی جو کوشش بھی کی جائے اس کا مقابلہ بےرخی و بےالتفاتی سے کریں، ان کا علاج یہ نہیں ہے کہ ان کے دل میں زبردستی ایمان اتارنے کے لیے آسمان سے نشانیاں نازل کی جائیں، بلکہ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ جب ایک طرف انہیں سمجھانے کا حق پورا پورا ادا کردیا جائے اور دوسری طرف وہ بےرخی سے گزر کر قطعی اور کھلی تکذیب پر، اس سے بھی آگے بڑھ کر حقیقت کا مذاق اڑانے پر اتر آئیں، تو ان کا انجام بد انہیں دکھا دیا جائے۔ یہ انجام بد اس شکل میں بھی انہیں دکھایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں وہ حق ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ ، علامہ زمخشری نے فرمایا کہ اصل کلام فظلوا لھا خاضعین ہے یعنی کفار اس بڑی نشانی کو دیکھ کر تابع ہوجاویں اور جھک جائیں لیکن یہاں اعناق کا لفظ یہ ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ موضوع خضوع ظاہر ہوجائے کیونکہ جھکنا وغیرہ اور عاجزی کرنا سب سے پہلے گردن پر ظاہر ہوتا ہے۔ مضمون اس آیت کا یہ ہے کہ ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ اپنی توحید اور قدرت کاملہ کی کوئی نشانی ظاہر کردیں جس سے احکام شرعیہ اور حقائق الہیہ بدیہی ہو کر سامنے آجائیں اور کسی کو مجال انکار نہ رہے مگر حکمت کا مقتضا یہ ہے کہ یہ احکام و معارف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 6-5
دو ایسے مریض کی بیزاری اور اس کا انجام
یہ ذرا مختلف الفاظ میں وہی مضمن ہے جو سورة فرقان کی آخری آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکیر وتعلیم کے اس سارے اہتمام سے جو رب رحمان نے ان کے لئے کیا مقصود یہی تھا کہ یہ لوگ سوچیں سمجھیں اور زندگی کی صحیح روش اختیار کریں لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جتنی ہی ان کے علاج کی تدبیر کی گئی اتنی ہی دوا اور طبیب سے ان کی نفرت پڑھتی گئی۔ اللہ نے تازہ بتازہ نوبنو اسلوبوں سے ان کو یاد دہانی کی لیکن وہ اعراض کرنے والے ہی بنے رہے اور قرآن و رسول دونوں کا انہوں نے مذاق اڑایا ان کی اس روش کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6۔-1یعنی تکذیب کے نتیجے میں ہمارا عذاب عنقریب انھیں اپنی گرفت میں لے لے گا جسے وہ ناممکن سمجھ کر استہزاء و مذاق کرتے ہیں یہ عذاب دنیا میں بھی ممکن ہے جیسا کہ کئی قومیں تباہ ہوئیں بصورت دیگر آخرت میں تو اس سے کسی صورت چھٹکارا نہیں ہوگا ماکانوا عنہ معرضین نہیں کہا بلکہ ماکانوا بہ یستھزؤن کہا کیونکہ استہزا ایک تو اعراض و تکذیب کو بھی مستلزم ہے دوسرے یہ اعراض و تکذیب سے زیادہ بڑا جرم ہے۔ فتح القدیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کردیتا، لیکن اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسے زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ بلکہ انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ کسی زور زبردستی کے بغیر اپنی عقل کو استعمال کر کے اور دلائل پر غور کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ آزمائش ہے جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو آپ کو اتنا صدمہ نہیں کرنا چاہیے کہ اپنی جان کو ہلکان کرلیں۔
Read the full tafseer →فقد ……یستھزء ون (6)
اور یہ تہدید نہایت خفیہ اور مجمل ہے اور عذاب مجہول ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان دھمکیوں کو ایک مذاق سمجھنے تھے ، اس لئے اللہ نے دھمکی کا انداز بیان بھی استہزائیہ کردیا۔
فسیاتیھم انبواما کانوا بہ یستھزون (26 : 6) ” عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ “ یعنی اس عذاب کی خبریں ان تک پہنچ جائیں گی۔ جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ان لوگوں تک اس عذاب کی صرف خبریں ہی نہ پہنچیں گی بلکہ یہ لوگ عذاب چکھیں گے بھی اور یہ بذات خود خبر بن جائیں گے۔ اور ان پر جو مصیبت آئے گی لوگ گلی کوچوں میں اس کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے رہیں گے۔ یہ چونکہ مذاق اڑاتے تھے ، اس…
Read the full tafseer →5 یعنی صرف معمولی اعراض ہی نہیں۔ تکذیب و استہزاء بھی ہے سو عنقریب دنیا اور آخرت میں اپنی کرتوت کی سزا بھگتیں گے۔ تب اس چیز کی حقیقت کھلے گی جس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 6 قَدْ کَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ ”
یعنی عذاب الٰہی کے ذریعے عنقریب ان کی پکڑ ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →5 یہ لوگ تو بارہ بار سمجھانے کے باوجود اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور مخالفت پر اڑے بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کا علاج یہ نہیں کہ کوئی معجزہ ان پر نازل کیا جائے کہ وہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں۔ بلکہ اب ان کا علاج صرف یہ باقی رہ گیا ہے کہ انھیں جوتوں سے سیدھا کیا جائے۔ اور عنقریب انھیں ایسی بھی خبریں ملتی رہیں گی۔ جس سے ان کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ جن باتوں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہی باتیں برحق اور درست تھیں۔ اس کی ایک شکل تو یہ تھی کہ ان کی تمام تر معاندانہ کوششوں کے باوجود اسلام کو غلبہ نصیب ہوتا چلا گا اور یہ ہر ہر میدان میں مات کھاتے رہے اور ان کے لواحقین ایسی خبریں سنتے اور غم کے گھونٹ پیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4۔ (پیام حق، اور پیامبربرحق دونوں کو) یہ تکذیب انتہائی درجہ ہے اس ابتدائی اعراض یا بےاعتنائی کا۔ پھر تکذیب بھی جب استہزاء کے ساتھ ملی جلی ہو ! جرم کے یہاں تینوں مرتبے بیان کردیئے گئے ہیں۔ پہلے اعراض پھر تکذیب اور پھر استہزاء (آیت) ” محدث “۔ ذکر رحمانی کے لیے یہاں جو صفت محدث کی آئی ہے یہ حدوث ذات باری وصفات باری کے اعتبار سے، کہ وہ قدیم ہیں ممتنع ہے، اور وہ یہاں مراد بھی نہیں، البتہ باعتبار مخلوق بالکل جائز ہے، اور وہی یہاں مراد ہے اور یہیں سے معتزلہ کے قول کی کمزوری معلوم ہوگئی، جنہوں نے (آیت) ” محدث “۔ کو (آیت) ” ذکر من الرحمن “۔ سے متعلق کرکے اس کے اتیان کو قرآن کے مخلوق وحادث ہونے ثبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ طٰسٓمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ یعنی یہ آیات کتاب مبین (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی ہیں، اور اٰیٰتُ الکِتابِ میں اضافت بمعنی مِنْ ہے شاید اے محمد آپ تو اس غم کے سبب سے کہ اہل مکہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کھو دیں گے، اور لَعَلَّ کے یہاں اشفاق کے معنی ہے یعنی اس غم میں تخفیف کرکے اپنے اوپر رحم کیجئے، اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں ظَلَّتْ بمعنی مضارع ہے ای تَدُوْمُ پھر وہ ایمان لے آئیں، جبکہ…
Read the full tafseer →فقد کذبوا پھر یقیناً انہوں نے تکذیب کی۔ یعنی ذکر کی طرف سے روگرداں ہونے کے بعد انہوں نے ذکر کو جھوٹا قرار دیا اور تکذیب میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ذکر کا مذاق بنانے لگے۔ فَقَدْ کَذَّبُوْاکے اندر استہزاء کا مفہوم ضمنی طور پر آگیا آئندہ آیت اس پر دلالت کر رہی ہے۔
فسیاتیہم اثبوا ما کانوا بہ یستہزء ون۔ (بدر کے دن یا قیامت کے دن) آئندہ ان کو اس (ذکر) کی
اطلاعات مل جائیں گی جس ذکر کا وہ مذاق اڑا رہے تھے۔ یعنی یہ بات سامنے آجائے گی کہ وہ ذکر جس کا وہ مذاق بناتے تھے یا باطل اور تصدیق و تعظیم کا مستحق تھا یا تکذیب و تحقیر و استہزاء کے لائق۔
Read the full tafseer →(6) یہاں تک کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو جھٹلایا۔
سو ان کو عنقریب عذاب کی حقیقت معلوم ہوجائے گی یا یہ کہ قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کے ساتھ جو مذاق کرتے تھے اس کی سزا کی حقیقت ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گی ،
Read the full tafseer →فَقَدْ كَذَّبُوْا۔۔ : یعنی یہ لوگ صرف اعراض تک ہی نہیں رہے بلکہ انھوں نے صاف جھٹلا دیا اور اس سے بڑھ کر ان چیزوں کا مذاق بھی اڑانے لگے جن کے آنے کی رسول ﷺ نے خبر دی تھی، جیسا کہ ”مكَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ“ سے معلوم ہو رہا ہے۔
فَسَيَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ : یعنی پیغمبر نے انھیں جن چیزوں کے واقع ہونے کی خبریں دیں، جن کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے، وہ بہت جلد ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گی اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ حق تھیں۔ اس میں کفار کے لیے سخت وعید ہے۔ دیکھیے سورة انعام (4، 5)۔
اَنْۢبٰۗـؤُا ”نَبَأٌ“ کی جمع ہے، کسی بڑے واقعہ کی خبر کو ”نَبَأٌ“ کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
(طسم۔ تلک ایت الکتب۔۔۔۔ )
طسم۔ اعمش، یحییٰ ، ابو بکر، مفصل، حمزہ، کسائی اور خلف نے اس سورت اور اس جیسی سورتوں میں طاء کو امالہ اور اشباع کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابو جعفر، شیبہ اور زہری نے دو لفظوں کے درمیان پڑھا ہے : ابو عبیدہ اور حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ اشباع کی صورت میں پڑھا ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تمام فصیح لغتیں ہیں۔ سورة طہٰ میں نحاس کا قول اس بارے میں گزر چکی ہے، نحاس نے کہا : مدینہ طیبہ کے قاریوں، ابو عمرو، عاصم اور کسائی نے طسم نون کو میم میں ادغام کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ فراء نے نون کے اخفاء کے ساتھ کہا اعمش اور حمزہ نے طسین میم، نون کے اظہار کے ساتھ قرأت کی۔ نحاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ لعلک باخع نفسک “ سے مراد ہے شاید کہ تو قتل کرنے والا ہے اپنے آپ کو آیت ” الا یکونو مومنین “ (یعنی وہ ایمان کیوں نہیں لائے) آیت ” ان نشاء ننزل علیہم من السماء اٰیۃ فظلت ا 4 عناقہم لہا خضعین “ یعنی اگر اللہ چاہے تو ان پر ایسی نشانی نازل فرماتا ہے کہ جس کے سامنے وہ اطاعت والے بن جاتے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی گردن کو نہ موڑتا اللہ کی نافرمانی کی طرف آیت ”’ وما یاتیہم من ذکر من الرحمن محدث یعنی ان کے پاس کوئی چیز اللہ کی کتاب میں سے نہیں آئی مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں آیت ” فسیاتیہم “ یعنی قیامت…
Read the full tafseer →فَقَدْ كَذَّبُوْا [ پس یہ لوگ جھٹلا چکے ] فَسَيَاْتِيْهِمْ [ تو آئیں گی ان کے پاس ] اَنْۢبٰۗـؤُا مَا [ اس کی خبریں جس کا ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی شان ربوبیت کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے زمین سے ہر قسم کی عمدہ عمدہ چیزیں نکالی اور اگائی ہیں جنہیں بنی آدم اور حیوانات کھاتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں آخر میں فرمایا (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر اور کمال پر بڑی نشانی ہے اور اکثر لوگ مانتے نہیں ہیں اور انکار پر تلے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ذکر حقانیت کتاب مبین و تہدید معاندین و مستہزئین
قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایت الکتب المبین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ سورت کا آغاز حقانیت قرآن سے ہوا اور اختتام مکذبین کی وعید پر ہوا اسی طرح اس سورت کا آغاز حقانیت قرآن اور مکذبین کی وعید اور تہدید سے فرماتے ہیں طسم واللہ اعلم بمرادہ۔ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی جس کا اعجزا اور سرچشمہ ہدایت ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔
اے نبی اگر یہ بدنصیب ایمان نہیں لاتے تو آپ ﷺ ان کے غم میں کیوں گھٹے جاتے ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ اپنی جان کو اس گھٹن میں ہلاک کردیں کہ یہ لوگ ایمان لانے والے کیوں نہیں بنتے جو شخص اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ یہ توحید پر عقلی دلیل ہے۔ وہ زمین کو نہیں دیکھتے کہ ہم اس میں انواع و اقسام کی پیداوار اگاتے ہیں جس میں ان کے لیے گوناگوں فوائد ہیں۔ ” ان فی ذلک لایۃ “ یہ اس بات کی واضح اور کافی دلیل ہے کہ سارے جہاں کا کارساز اور برکات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ دلائل تو اور بھی بہت ہیں لیکن اگر وہ غور و تدبر سے کام لیں تو حق سمجھنے کے لیے یہی ایک دلیل ہی کافی ہے۔ لیکن ان کی اکثریت کے دلوں پر ضد وعناد کی وجہ سے مہر جباریت لگ چکی، اس لیے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ آگے ہر نقلی دلیل کے بعد اس آیت کا اعادہ کیا گیا ہے جس سے یہ تنبیہ مقصود ہے کہ ان میں سے ہر دلیل فی نفسہ مستقل اور عبرت و نصیحت کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ربط آیات
اس سورة کا نام سورة الشعراء ہے اس کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے شعر و شاعری اور شاعروں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ۔ اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام لکھا گیا ہے۔ البتہ امام مالک (رح) کے قول کے مطابق اس سورة کا ایک نام سورة الجاثیۃ بھی ہے کیونکہ یہ نصیحت کی جہت سی باتوں کو جمع کرنے والی سورة ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی بعض کے مطابق اس سورة کا نزول سورة واقعہ کے بعد ہوا یعنی ہجرت سے دو یا تین سال قبل ۔ اس کی چھوٹی چھوٹی 722 آیات اور گیارہ رکوع ہیں ۔ یہ سورة 7221 الفاظ اور 2455 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
اس سورة میں مختلف مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت و…
Read the full tafseer →فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَيَاْتِيْہِمْ اَنْۢــبٰۗـؤُا مَا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ 6
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی
يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
واذا نادی ربک موسیٰ الخ اب یہاں سے انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرہ عبرت انگیز شروع ہوتے ہیں (1) یہ قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے جس میں ان کا فرعون کے پاس جانا اور خدا کا پیغام پہنچانا اور طرح طرح کے معجزات دکھانا اور اس کا نہ ماننا اور انجام کار دریائِ قلزم میں مع لشکر غرق ہونا مذکور ہے۔
ولانیطق لسانی فرعون کے گھر جب موسیٰ ( علیہ السلام) تھے اور ان کے فرزندوں کی طرح پرورش پاتے تھے ایک بار فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ جس پر خفا ہو کر اس نے قتل کا حکم دیا اس کی بیوی نے سفارش کی کہ نادان بچہ ہے اس کے نزدیک آگ اور جواہرات برابر ہیں دونوں لا کر سامنے رکھے گئے تو آگ مونہہ میں ڈال لی تھی جب سے لکنت…
Read the full tafseer →فَـقَدْکَذَّبُوْا فَسَیَاْ تِیْھِمْ اَنْـبٰٓـؤُا مَاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الشعرآء : 6)
(بلاشبہ وہ تکذیب کرچکے تو آجائیں گی ان کے پاس اطلاعات اس چیز کی جس کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے۔ )
مخالفین کا علاج غلبہ دین
جن لوگوں کا مرض یہ صورت اختیار کرجائے کہ وہ ہر نصیحت کا تمسخر اڑائیں اور عذاب کی تنبیہ کو مذاق سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی تبلیغ و دعوت کے مقابلے میں ناشائستہ حرکتیں کریں۔ ان کا علاج یہ نہیں کہ ان پر ایسی نشانیاں اتاری جائیں جسے دیکھ کر وہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں بلکہ ان کا علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ لیکن یہ اس صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : نئی نشانیاں اور معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کو جواب۔
رسول کریم ﷺ سے نئی نئی نشانیاں اور معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کو سمجھایا گیا کہ اگر تم حقیقتاً ہدایت کے طالب ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات اور قدرت کو پہچاننے کے لیے کیا کافی نہیں کہ جس دھرتی پر تم رہتے ہو اس پر غور کرو ؟ اگر تم اخلاص کی نظر سے دیکھو اور غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدے کے لیے زمین میں کس قدر عمدہ چیزیں پیدا فرمائی ہیں غور کرنے والے کے لیے یقیناً اس میں عظیم نشانی ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر غالب ہے کہ وہ حقائق ٹھکرانے…
Read the full tafseer →6: فَقَدْ کَذَّبُوْا (پس یقینا انہوں نے تکذیب کی) محمد ﷺ کی ان باتوں میں جو آپ ان کے پاس لے کر آئے۔ فَسَیَاْ تِیْہِمْ (پس عنقریب ان کے پاس آجائیں گی) عنقریب وہ جان لیں گے۔ اَنْچبٰٓـؤُا (خبریں) مَاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ (اس کی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے) ماؔ سے مراد قرآن ہے۔ اس میں ان کے لئے وعید اور انداز ہے۔ عنقریب ان کو علم ہوگا جب ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب چھوئے گا۔ بدر کے دن اور قیامت کے دن کہ وہ کس چیز کا انکار کرتے تھے اور عنقریب ان کے سامنے وہ خبریں اور حالات آجائیں گے جو ان پر مخفی تھے۔
Read the full tafseer →6۔ فقد کذبو فسیاتھیم۔ عنقریب وہ ان کے پاس آئے گا، انبائ، اس کے متعلق خبر اور اس کا انجام ، ماکانوا بہ یستھزون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–22
(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تفسیر سورة الشعراء
آیت 1 سے 9
اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غور و فکر کرنے والے کے لئے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلند ترین معانی ہر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 منکرین و مکذبین کے لیے آخری جواب نتیجہ وانجام کا انتظار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عنقریب ہی آجائے گی انکے پاس حقیقت اس چیز کی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے تھے " تب ان کو اپنے اعراض و انکار کا نتیجہ وانجام خود معلوم ہوجائے گا۔ یعنی جب آنکھ بند ہوتے ہی عالم آخرت کے وہ غیبی حقائق خود بخود روز روشن کی طرح ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گے اور وہ سب کچھ یہ لوگ خود بخود اور بچشم سر دیکھ لیں گے تب ان کو پتہ چل جائے گا۔ اور اس وقت یہ خوب سنیں اور مانیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا } ۔ ( مریم :38) " کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قرآن روشن کتاب ہے
تشریح : ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب ” کتاب “ کی تعریف یوں کرتے ہیں۔
-1 ” جس کے پانے سے تمام خیروکمال وابستہ ہوں۔
-2 تصورِ کائنات موجودہ حالات ماضی حال اور مستقبل کے احکامات کا وہ جائزہ جس کی بنیاد پر نصب العین کا حصول ‘ معیار کا تعین ہو۔
-3 وہ مقام یا حیثیت جس کے حوالے کے بغیر اعمال کا موازنہ (جانچنا) اور تخمینہ مقصود نہ ہو سکے۔
-4 وہ عمل جسے اتمام (تکمیل) تک پہنچانے پر کوئی جماعت مأمور ہو۔
-5 لائحہ عمل پہلے سے ترتیب دیا ہوا فرائض و اعمال کا وہ گوشوارہ جو اپنے اندر مطلوبہ نتائج تک پہنچانے کی ضمانت رکھتا ہو۔
-6 معیار وہ نمونہ کمال یا اصول جس کے حوالے سے ہر عمل کو پرکھا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر اسرار التنزیل جلد 05
سورۃ شعراء
اسرار و معارف
سورۃ شعراء بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور گزشتہ مضمون یعنی کفار کے انکار پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جو رحمت للعالمین ﷺ پر وارد ہوتی تھی رسول اللہ ﷺ بھی تو یہ بات خوب جانتے تھے کہ ان کا نہ ماننا ان کی ان برائیوں کا نتیجہ ہے جس سے ان کی فطری صلاحیت تباہ ہوگئی اور آپ کا یہ ایمان بھی تھا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ منوانا چاہے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا نیز آپ ﷺ کو یہ علم بھی تھا کہ آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں مگر اس کے باوجود جب کفار انکار کی راہ اختیار کرتے تو آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
10 ۔ یہاں ” انبار “ سے مراد وہ دنیوی یا اخروی عذاب ہیں جن کے وہ مستحق تھے اور قرآن نے چونکہ اس عذاب کی خبر دی ہے اس لئے اسے ” انبا “ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی یہ لوگ چونکہ اعراض و تکذیب سے تجاوز کر کے استہزا پر اتر آئے ہیں سو عنقریب دنیا یا آخرت میں ہمارے عذاب دیکھیں گے اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبر جو دعوت پیش کرتے ہیں اور جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے، واقعی حق تھی۔ اس میں سخت وعید ہے۔ راجع، الانعام آیت 5 و ایضا، ص :88 ۔ کذافی الشوکانی)
Read the full tafseer →(26:6) فقد کذبوا۔ منجملہ دیگر خواص کے قد ماضی کو ماضی قریب کے معنی میں کردیتا ہے اور کبھی تحقیق کے معنی دیتا ہے ۔ فقد کذبوا تحقیق یہ لوگ (پیام حق اور پیام برحق دونوں کو) جھٹلا چکے ہیں یا انہوں نے جھٹلا دیا ہے۔ یہاں حق سے انکار کی مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ اولا :۔ حق سے اعراض روگردانی۔ کبھی حق کو جادو کہہ کر۔ کبھی اس کو اساطیر الاولین گردان کر اور کبھی اس کو شعر گوئی بیان کرکے۔ پھر اس اعراض اور روگردانی کو آگے بڑھایا۔ اور کہہ دیا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ پھر اس پر ہی اکتفاء نہ کیا۔ بلکہ خفیۃ واعلانا خلوت میں اور جلوت میں قولا فعلا اس کے استہزاء میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔
فسیاتیہم :تعقیب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 9 :
الکتاب المبین (کھلی اور واضح کتاب) باخع (گھلا ڈالنے والا) ظلت ( ہوگئی (ہوجائیں) ‘ اعناق (عنق) (گردنیں) ‘ خضعین (جھکنے والے) ‘ محدث (نئی بات۔ نئی نصیحت) ‘ انبئوا (خبریں) ‘ انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ زوج کریم (عمدہ پاکیزہ جوڑے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 :
سورۃ الشعراء کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ اس سے پہلے وضاحت کردی گئی ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں ان حروف کو لایا گیا ہے۔ ان حروف کے کیا معنی ہیں ؟ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ان حروف کے معنی کا علم اللہ رب العزت کو ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(ف 3) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکوں نے قرآن کی آیتوں کو جھٹلانے کے طور پر مسخراپن سے یہ کہا تھا کہ اگر یہ دین اور قرآن حق ہے تو ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کامینہ برسے۔ آخر اس شرارت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں زیادہ ذلیل ہوناپڑا۔ اس بات کی حقیقت معلوم ہوگئی جس کو وہ ٹھٹھوں میں اڑایا کرتے تھے پھر فرمایا کیا منکروں نے زمین کی نشانی کو نہیں دیکھا ہے کہ اس پروردگار کی قدرت جس نے زمین میں قسم قسم کی چیزیں عمدہ سے عمدہ اگائی ہیں یہ منکرین اگر خدا کی نشانیاں دیکھنا چاہیں تو ہر وقت دیکھ سکتے ہیں زمین کی جڑی بوٹیوں کو دیکھیں کہ کس حکمت سے کس کاریگر نے پیدا کی ہیں باوجود ایسی نشانیوں کے دیکھنے کے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
[3] زبردست ہے کہ چاہے تو مجرموں کو فوراً سزا دے دے لیکن ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے کہ باوجود قدرت انتقام کے وہ سوچنے اور سنبھلنے کی مہلت دئیے جاتا ہے اور عمربھر کی نافرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
ف 1: مقصد یہ ہے ۔ کہ مکہ والوں کی گھٹی میں انکار و اتحاد کے جراثیم ہیں ۔ ان کے لئے قرآن حکیم کی کوئی آیت بھی موجب ہدایت و برکت نہیں ۔ جب قرآن نازل ہوتا ہے ۔ ان کا اغراض اور پہلو تہی بڑھتی جاتی ہے ۔ اور یہ مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ اور ہنسی دل لگی میں حقائق کو ٹال دیتے ہیں ۔
ارشاد ہے کہ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اللہ کے کلام سے استہزاء کرنے کی سزا کس درجہ کڑی اور سخت ہے ۔
اولم یروا الی الارض ۔ سے مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ بہت کوتاہ نظر ہیں ۔ اگر یہ زمین کی گونا گوں انگڑرایوں پر غور کرتے اور نباتات کے انواع و اقسام اور نفاست کو دیکھتے ۔ تو انہیں معلوم ہوجاتا ۔ کہ فطرت ہمہ افادہ ہے ۔ اور اس کی پیدا…
Read the full tafseer →(6) بہرحال ! یہ تکذیب کرچکے اب عنقریب ان کو اس بات کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس بات کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے اور جس چیز سے یہ تمسخر اور ہنسی کیا کرتے تھے۔
یعنی اس بےرخی اور اعراض کا نتیجہ یہ ہوا کہ صریح تکذیب کرنے لگے اور تکذیب کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمسخر اور ہنسی پر اتر آئے جیسا کہ ہر برے کام میں ہوا کرتا ہے بہرحال جب موت کے وقت یا قیامت میں عذاب کا معائنہ کریں گے اس وقت آنکھیں کھلیں گی کہ پیغمبروں نے سچ کہا تھا اور ہم غلطی اور اپنی آبائی جہالت میں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ف 3۔ معلوم ہوا کہ ان کے عناد نے ان کی فطرت کو بالکل مختل کردیا، پھر ایسوں کے پیچھے کیوں جان کھوئی جائے۔
Read the full tafseer →اگر وہ جھٹلا رہے ہیں تو ہم نے جھٹلانے والوں کی خبریں بھی ان کو بتا دیں ہیں :
6۔ جب انہوں نے دین حق کو معقولیت کے ساتھ سمجھانے کے باوجود اسے جھٹلادیا ہے اور اس کا مذاق اڑایا ہے عنقریب جزاوسزا کے روز انہیں قرآن کریم اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی تکذیب کی حقیقت مختلف طریقوں سے معلوم ہوجائے گی ۔ کیونکہ نہ تو آپ ﷺ رسول کوئی نئے رسول ہیں اور نہ وہ امت کوئی نئی امت ہے جو آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کے ساتھ ہوا وہی آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہوگا اور جو پہلی امتیں کرتی رہی ہیں وہی یہ لوگ بھی کر رہے ہیں اس لئے یقینی بات ہے کہ نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو گزشتہ دعوت کا نکل چکا ہے ، آپ ﷺ سے کوئی نئی بات نہیں کہی جارہی یہ تو ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ
If We so will, We can send down to them a sign from the sky before which their necks will stay bent in submission. - 26:4
Allamah Zamakhshari has explained that the real intent of the text is to say that the disbelievers themselves will stay in submission, but the act of submission is attributed in the verse to their "necks", so that the initial object of submission is pinpointed, because yielding or bowing in humility initially appears on the neck. The substance of the message of this verse is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4 That is, the people who show lack of feeling and interest for every rational attempt made to bring them to the right way, cannot be made to believe forcibly by sending down Signs from heaven. They only deserve to be shown their evil end after they have been duly warned and shown guidance, which they not Only treated with indifference but rejected scornfully. This evil end can be shown to them in several ways:
(1) The Truth which they have bitterly opposed and scoffed at should prevail in the world in front of their very eyes in spite of their antagonism.
(2) They should be visited by a…
Read the full tafseer →