Explained with ayahs 52–59
فرعونیوں کا انجام
موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 45
بعض مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ جن باغوں، چشموں، خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے یہ ظالم لوگ نکلے تھے ان ہی کا وارث اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کردیا۔ یہ مطلب اگر لیا جائے تو اس کے معنی لازماً یہ ہونے چاہییں کہ فرعون کے غرق ہوجانے پر بنی اسرائیل پھر مصر واپس پہنچ گئے ہوں اور آل فرعون کی دولت و حشمت ان کے قبضے میں آگئی ہو۔ لیکن یہ چیز تاریخ سے بھی ثابت نہیں ہے اور خود قرآن مجید کی دوسری تصریحات سے بھی اس آیت کا یہ مفہوم مطابقت نہیں رکھتا۔ سورة بقرہ، سورة مائدہ، سورة اعراف اور سورة طٰہٰ میں جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی غرقابی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
معارف و مسائل
وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، اس آیت میں بظاہر یہ تصریح ہے کہ قوم فرعون کی چھوڑی ہوئی املاک اور جائیداد، باغات و خزائن امالک غرق فرعون کے بعد بنی اسرائیل کو بنادیا گیا، لیکن اس میں ایک تاریخی اشکال یہ ہے کہ خود قرآن کی متعدد آیات اس پر شاہد ہیں کہ قوم فرعون کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل مصر کی طرف نہیں لوٹے بلکہ اپنے اصلی وطن ارض مقدس شام کی طرف روانہ ہوئی، وہیں ان کو ایک کافر قوم سے جہاد کر کے ان کے شہر کو فتح کرنے کا حکم ملا، جس کی تعمیل سے بنی اسرائیل نے انکار کردیا اس پر بطور عذاب کے اس کھلے میدان میں جس میں بنی اسرائیل موجود تھے ایک قدرتی جیل خانہ بنادیا گیا کہ وہ…
Read the full tafseer →ایک بلیغ حذف
کذلک کے بعد نفعن بالمجرمین یا اس کے ہم معنی الفاظ محذوف ہیں۔ یعنی ہم مجرموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ اس حذف سے کلام میں جو زور پیدا ہوگیا ہے وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔
ضمیر استعمال کا ایک مخصوص اسلوب
وادرتنھا بنی آسرائیل میں ضمیمہ معفول سے مراد بعینیہ وہی نعمتیں نہیں ہیں جن سے قبطیوں کو اللہ تعالیٰ نے نکالا بلکہ اسی نوع کی وہ نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے بعد سر زمین فلسطین میں حاصل ہوئیں۔ چناچہ دوسرے مقام میں اس کی تصریح بھی ہے۔ فرمایا … واورثنا لقوم لذین کانو یستضعفون مشارق الارض ومغاریھا التی برکنا فیھا …(الاعراف 137) (اور وہ…
Read the full tafseer →59-1یعنی جو اقتدار اور بادشاہت فرعون کو حاصل تھی، وہ اس سے چھین کر ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصر جیسا اقتدار اور دنیاوی جاہ جلال ہم نے بنی اسرائیل کو بھی عطا کیا۔ کیونکہ بنی اسرائیل، مصر سے نکل جانے کے بعد مصر واپس نہیں آئے۔ نیز سورة دخان میں فرمایا کہ ' ہم نے اس کا وارث کسی دوسری قوم کو بنایا ' (أیسر التفاسیر) اول الذکر اہل علم کہتے ہیں کہ قوما آخرین میں قوم کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں سورة شعراء میں جب بنی اسرائیل کو وارث بنانے کی صراحت آگئی ہے تو اس سے مراد بھی قوم بنی اسرائیل ہی ہوگی۔ مگر خود قرآن کی صراحت کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد بنو اسرائیل کو ارض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
13: اس کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 137 کا حاشیہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
قبل اس کے کہ آخری منظر پیش کیا جائے ، یہاں قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی کی وجہ سے ان نعمتوں ، ان باغات اور مکانات عالی شان اور اس عیش و عشرت سے نکال دیا اور یہ مقام اختیار و اقتدار بنی اسرائیل جیسے مستصفعین کو دے دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
12 یعنی اس طرح قبطی گھر بار، مال ودولت، باغ اور کھیتاں چھوڑ کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں ایک دم نکل پڑے۔ جنہیں پھر لوٹنا نصیب نہ ہوا۔ گویا اس تدبیر سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نکال باہر کیا۔
1 یا تو اس کے بعد ہی یہ چیزیں بنی اسرائیل کے ہاتھ لگیں اور یا ایک مدت بعد سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں ملک مصر بھی ان کی سلطنت میں شامل ہوا۔ واللہ اعلم۔ پہلے اس کے متعلق اختلاف گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 59 کَذٰلِکَط وَاَوْرَثْنٰہَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”
اس کا یہ مطلب نہیں کہ بنی اسرائیل نے بعد میں واپس آکر ان سب چیزوں پر قبضہ کرلیا ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ بعد میں بنی اسرائیل کو ہم نے دنیوی مال و دولت اور اقتدار سے نوازا اور ایک وقت آیا کہ یہی تمام چیزیں انہیں مل گئیں۔
Read the full tafseer →41 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ مصر میں بھی رہ گئے تھے سارے کے سارے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ روانہ نہیں ہوئے تھے۔ جب فرعون اور اس کے جملہ اعیان سلطنت غرق ہو کر ہلاک ہوگئے تھے۔ تو ساتھ ہی آل فرعون کا اقتدار بھی ختم ہوگیا تھا اور یہی پیچھے رہنے والے بنی اسرائیل ان کے محلوں اور باغات پر قابض ہوگئے تھے۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل مصر کے کچھ حصہ پر قابض ہوئے ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں اس عہد کی طرف اشارہ ہو۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت مصر تک پھیل گئی اور بنی اسرائیل ہی فرعونیوں کے محلات اور باغات پر قابض ہوگئے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب
Read the full tafseer →48۔” ھا “ کی ضمیر مطلق باغوں اور چشموں اور علامات امارت وغیرہ کی جانب ہے، خاص مصر ہی کے باغ اور چشمے مراد نہیں چناچہ اسرائیلیوں کو ایک عرصہ کے بعد فلسطین میں حکومت مل گئی، اور داؤد وسلیمان (علیہما السلام) کی زبردست بادشاہتیں قائم ہوگئیں، اور اگر مصر ہی کے باغ اور چشمے مراد لیے جائیں، جب بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصر کے علاقے دارالسلطنت میں شامل ہوگئے تھے۔ اور یرمیاہ نبی کے زمانہ میں تو مصر یہود کا وطن از سر نو بن گیا تھا۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیت نمبر 52 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…
Read the full tafseer →کذلک واقعہ یونہی ہوا۔ بات ایسی ہی ہوئی۔
واورثنہا بنی اسرائیل اور بنی اسرائیل کو ہم نے ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔ کیونکہ جب فرعون اور اس کا سارا
لشکر ڈوب گیا تو بنی اسرائیل مصر کو لوٹ گئے اور فرعونیوں کے چھوڑے ہوئے مال متاع اور جائیداد اور باغات پر قابض ہوگئے (یہ خیال حضرت مفسر کا ہے اہل تاریخ کا قوی قول یہ ہے کہ بنی اسرائیل اس وقت لوٹ کر نہیں آئے بلکہ صحراء سینا میں گھس پڑے اور اسی بیابان میں پھنس گئے ‘ من وسلویٰ کا نزول بھی یہیں ہوا اور حضرت موسیٰ کو توریت بھی یہیں ملی اور بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی بھی یہیں کی۔ آخر حضرت موسیٰ اور حضرت موسیٰ سے پہلے حضرت ہارون کی وفات بھی اسی صحرا میں ہوئی…
Read the full tafseer →(59) اور جو ہماری نافرمانی کرتا ہے ہم اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں اور فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد بنی اسرئیل کو مصر کا مالک بنا دیا۔
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ”كَذٰلِكَ“ کو مبتدا محذوف کی خبر بنالیں ”أَيْ اَلْأَمْرُ کَذٰلِکَ“ یا فعل محذوف کا فاعل ”أَيْ وَقَعَ کَذٰلِکَ“ یعنی اگرچہ یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے، مگر ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان باغوں، چشموں، خزانوں اور عالی شان جگہوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل مصر کی سر زمین کے مالک بن گئے، جب کہ بنی اسرائیل جہاد سے انکار کی پاداش میں چالیس برس تو صحرا ہی میں دھکے کھاتے رہے، اس کے بعد بھی معروف یہی ہے کہ ان کی پیش قدمی شام کی طرف ہوئی اور شام ہی یوشع بن نون اور بعد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ )
واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–62
بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا حکم
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ نکل جاءٰں اور فرمایا آیت ” ان اسر بعبادی لیلا “ (الدخان آیت (23) یعنی میرے بندوں کو رات کو لے کر چل دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو نکلنے کا حکم فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ قبط یعنی فرعون کے خاندان والوں عاریتا زبور لے لیں اور حکم فرمایا کوئی بھی اپنے ساتھی کو آواز نہ دے اور صبح تک اپنے گھروں میں چراغ جلائے رکھیں اور جو آدمی ان میں سے نکلے تو اپنے دروازے کے آگے خون لگادے یہاں تک کہ وہ جان لیا جائے کہ وہ نکل چکا ہے…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ ۭ [ اسی طرح ہے ] وَاَوْرَثْنٰهَا [ اور ہم نے وارث بنایا ان (چیزوں) کا ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ نبی اسرائیل کو ]
نوٹ۔ 2: واورثنھا میں ضمیر مفعولی ھا سے مراد بعینہ وہی نعمتیں نہیں ہیں جن سے فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے نکالا بلکہ اسی نوع کی وہ نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین میں حاصل ہوئیں۔ چناچہ الاعراف کی آیت ۔ 137 ۔ میں اس کی تصریح بھی ہے۔ اس آیت میں ارض مبارک سے مراد فلسطین ہے۔ مصر سے نکلنے اور صحرا نور دی کا دور ختم ہونے کے بعد یہی زرخیز علاقہ بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا ہے ۔ مصر کے کسی علاقے پر بنی اسرائیل کا قبضہ تاریخ سے ثابت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ عربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
(اِِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ) (بلاشبہ میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے ضرور راہ بتائے گا) موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ سمندر میں اپنی لاٹھی مار دو چناچہ انہوں نے لاٹھی دریا پر مار دی، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ سمندر پھٹ گیا اور جگہ جگہ پانی ٹھہر گیا اور راستے نکل آئے پانی کے ٹھہرنے سے جگہ جگہ جو ٹکڑے بنے وہ اتنے بڑے تھے جیسے کوئی بڑا پہاڑ ہو ان ٹکڑوں کے درمیان راستے نکل آئے اور بنی اسرائیل کے قبیلے ان راستوں سے پار ہوگئے فرعون جو اپنے لشکر کے ساتھ پیچھے آ رہا تھا اس نے یہ نہ سوچا کہ یہ سمندر تو کبھی ٹھہرا نہیں اس میں کبھی راستے نہیں بنے یہ راستے کیسے بن گئے ؟ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل
قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
30:۔ جب سورج طلوع ہورہا تھا اس وقت فرعون مع قوم ان کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ بنی اسرائیل بحیرہ قلزم کے کنارے پہنچے تو پیچھے سے فرعونیوں نے ان کو آلیا۔ ” فلما تراء الجمعن “ جب دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو بنی اسرائیل نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ” قال کلا الخ “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہرگز نہیں۔ میرا رب حافظ و ناصر ہے وہ دریا کو عبور کرنے کی مجھے کوئی تدبیر بتائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ تو یقین تھا کہ فرعون انہیں پکڑ نہیں سکے گا اور وہ دریا کو صحیح سلامت عبور کر جائیں گے لیکن ابھی تک انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اس کی صورت کیا ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
ربط آیات
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ حق کا آغاز کیا تو فرعون نے آپ پر جادوگری کا الزام لگایا اور آپ سے مقابلہ کے لیے ملک بھر کے جادوگروں کو اکٹھا کیا ۔ فرعونیوں کے قومی میلے کے دن سب لوگ ایک کھلے میدان میں جمع ہوگئے ۔ جہاں جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنا تھا۔ جادوگروں نے پہل کی اور کچھ رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں جو دوڑتے ہوئے سانپ نظر آنے لگیں ۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گئی اور جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل گئی ۔ یہ معجزہ دیکھ کر جادوگر تو ایمان لے آئے مگر فرعون اور اس کے حواری اپنی ضد پر اپڑے رہے۔ فرعون نے جادوگروں…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ 0ۭ وَاَوْرَثْنٰہَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 59ۭ
ورث
الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي :
أصله وبقيّته، قال الشاعر :
461-
فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ
«3» ويقال : وَرِثْتُ مالًا عن زيد، ووَرِثْتُ زيداً :
قال تعالی: وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ [ النمل/ 16] ، وَوَرِثَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
1 ؎ ان چیزوں کا یعنی باغوں اور چشموں اور خزانوں اور عمدہ مکانوں کا شام میں لاکر بنی اسرائیل کو مالک کردیا ان چیزوں کے مالک کرنے سے یہ مراد نہیں کہ انہیں فرعونیوں کے باغوں کا مالک بنا دیا کس لیے کہ بنی اسرائیل کے بعد بھی فرعونیوں کی سلطنت ملک مصر پر قائم رہی ہے۔ کوئی بنی اسرائیل مصر کا بادشاہ نہیں ہوا خصوصاً وہ اسرائیل جو موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ تھے وہ تو برسوں تیہ میں ٹکراتے پھرے ہیں جہاں من وسلوی اترا اور کیا کیا احکام فرض ہوئے اور کیا کیا واقعات گزرے جس نے خاص وہی فرعونی باغ سمجھ کر قرآن پر دروغ بیانی اور تاریخی واقعات کے خلاف ہونے کا الزام لگایا ہے یہ اس کی غلط فہمی ہے اور جو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فَاَخْرَجْنٰـھُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ وَّکُنُوْزٍوَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ۔ کَذٰلِکَ ط وَاَوْرَثْـنٰـھَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 57، 58، 59)
(سو اس طرح ہم نے نکالا انھیں ان کے باغوں اور چشموں سے اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے۔ (ہم اسی طرح کرتے ہیں، اور ہم نے ان چیزوں کا وارث بنایا بنی اسرائیل کو۔ )
مفسرین کا اختلاف اور آیت کا مفہوم
بعض مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ جن باغوں، چشموں، خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے یہ ظالم لوگ نکلے تھے انہی کا وارث اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کردیا۔ یہ مطلب اگر لیا جائے تو اس کا مفہوم لازماً یہ ہونا چاہیے کہ فرعون کے غرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے لشکروں کا بنی اسرائیل کا تعاقب کرنا۔
فرعون نے اپنے لوگوں کی قیادت کرتے ہوئے صبح کے وقت بنی اسرائیل کا تعاقب شروع کیا اور تیز رفتاری کے ساتھ چلتے ہوئے بنی اسرائیل کو پالیا۔ بنی اسرائیل نے فرعون اور اس کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم تو گھیرے گئے۔ سامنے سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور پیچھے سے فرعون نے آلیا ہے۔ جائیں تو کدھر جائیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پورے اعتماد کے ساتھ فرمایا گھبراؤ نہیں فرعون ہمارے قریب نہیں پھڑک سکتا۔ یقیناً میرا رب میرے ساتھ ہے وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنا خطاب ختم کرچکے تو اللہ…
Read the full tafseer →59: کَذٰلِکَ ( اور واقعہ یونہی ہوا) اس میں نصب کا احتمال ہے جب کہ اخرجنا کے ما تحت ہو ای خرجنا ھم مثل ذلک الاخراج الذی وصفنا۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہو تو مرفوع ہے ای الامرکذلک وَاَوْرَثْنٰھَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا) قول حسن (رح) : جب سمندر پار گزر گئے تو واپس لوٹے اور انہوں نے اپنے مکانات و اموال واپس لے لئے ( مگر یہ محل نظر ہے بنی اسرائیل و شام و فلسطین کی حکومت ملنے کے بعد بطور اقتدار لوٹنا ممکن ہے ثابت ہو فافہم)
Read the full tafseer →59۔ کذالک، اسی وصف کے ساتھ، وارثناھا، ہم نے ان کو ہلاک کردکھا، بنی اسرائیل، یہ اس وجہ سے ہوا کہ جب فرعون اور اس کی قوم غرق ہوگئی تو بنی اسرائیل کو وہ تمام اشیاء لوٹادیں جو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تھیں۔ ان کے سونے، ان کے مکانات اور دیگراشیاء بنی اسرائیل کے ہاتھوں آگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →37 بنی اسرائیل کی آزادی اور ان کی نعمتوں سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے وارث بنادیا بنی اسرائیل کو ایسی ہی چیزوں کا "۔ یعنی انہی جیسی چیزوں کا جبکہ ان کو ایک آزاد قوم کی طرح فلسطین کی ارض مقدسہ میں آباد ہونے کا موقعہ ملا۔ اور یہ ہم نے اس لئے کہا کہ تاریخی اعتبار سے ان لوگوں کی مصر واپسی کے لئے کوئی قطعی ثبوت نہیں ملتا اگرچہ عام طور پر مفسرین کرام اس آیت کریمہ کے ظاہر مفہوم کے اعتبار سے یہی کہتے ہیں کہ یہ فلسطینی فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد واپس آ کر مصر میں ان چیزوں کے مالک بن گئے تھے۔ اور قرطبی وغیرہ نے اس بارے میں حضرت حسن ؓ سے ایک روایت بھی نقل کی ہے۔ لیکن محققین کا کہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیات 52 تا 68
اسرار و معارف
جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
11 ۔ یعنی اس طرح وہ لوگ اپنے گھر بار مال و دولت، باغ اور کھیتیاں چھوڑ کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں یکایک نکل کھڑے ہوئے۔
12 ۔ یا تو اسی زمانہ میں فرعون کے غرق۔ ہوجانے کے بعد یا ایک مدت کے بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →(26:59) کذلک۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے ۔ ای الامر کذلک بات یوں ہوئی یوں ہی ہوا۔
اور ثنھا بنی اسرائیل۔ میں ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب ۔ باغوں، چشموں، خزانوں، عمدہ مکانوں کی طرف راجع ہے۔ بنی اسرائیل مفعول ثانی۔ ہم نے بنی اسرائیل کو ان کا مالک بنادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 :
اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 :
جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔
(ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
[13] مراد بعینہٖ وہی نعمتیں نہیں ہیں جن سے فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے نکالا بلکہ اس نوع کی وہ نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے بعد سرزمین فلسطین میں حاصل ہوئیں۔ سورة اعراف کی آیت 137 میں اس کی تصریح ہے۔ مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین کا زرخیز علاقہ ہی بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا۔ مصر پر بنی اسرائیل کا قبضہ تاریخ سے ثابت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
لغائظون ۔ غیظ وغضب ۔
Read the full tafseer →59۔ ہم نے ان کے ساتھ اسی طرح کیا اور آخر میں ان سب مذکورہ بالا چیزوں کا مالک ہم نے بنی اسرائیل کو بنادیا۔ یعنی قبطی سب چھوڑ چھاڑ بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل گئے اور اس تدبیر سے اللہ تعالیٰ نے ان کی مملوکہ اشیا دوسروں کے سپرد کردیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
ف 2۔ یعنی قریب پہنچ گئے، اس وقت بنی اسرائیل دریائے قلزم میں اترنے کی کفر میں تھے کہ کیا سامان کریں۔
Read the full tafseer →دراصل اس طرح ہم بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنانا چاہتے تھے :
59۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ہم انبیاء ورسل کے مخالفین کے ساتھ ایسا ہی کرتے آئے ہیں ، فرعون نے اپنی طرف سے بڑی چالاکی اور ہوشیاری دکھائی اور سارا لاؤ لشکر اکٹھا کرکے بنی اسرائیل کو سبق سکھانے کے لئے نکلا تھا اور ہم نے اس کو اس ترکیب کے ساتھ مرمٹنے کے لئے نکال باہر کیا تھا اور پھر صرف اسی کو نہیں بلکہ اس کے اعوان وانصار کو بھی کیونکہ وہ اپنے حصے کی عیش و عشرت کرچکا تھا اور جو نئے نئے قانون بنی اسرائیل کے لئے اس نے بنانے تھے وہ بنا چکا تھا اب اس کے حصے کی کوئی بات باقی نہیں رہ گئی تھی جو اس نے کرنا تھا کرچکا تھا اس کے پروگرام تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
Commentary
وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
And We made the children of Isra it inherit all these. [ 59]
Apparently it is elucidated in this verse that Bani Isra'il were made the owners of all the material wealth and property left by the people of the Pharaoh after their drowning. But there is a historical issue involved in this statement. The issue is that many Qur'anic verses indicate the Bani Isra'il did not return to Egypt after the drowning of the Pharaoh's people. As a matter of fact they went back towards their original home, the holy land of Syria. There they were commanded to…
Read the full tafseer →45 Some commentators have interpreted this verse to mean that Allah made the Children of Israel to inherit the gardens, water-springs, treasure-houses and fine dwellings vacated and left behind by Pharaoh and his people. This would inevitably mean that after the drowning of Pharaoh, the Israelites returned to Egypt and took possession of the wealth and properties of Pharaoh's people. This interpretation, however, is neither supported by history nor by other verses of the Qur'an. The relevant verses of Surahs AI-Baqarah, AI-Ma'idah, AI-A`raf and Ta Ha confirm that after the destruction of…
Read the full tafseer →