Explained with ayahs 52–59
فرعونیوں کا انجام
موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
سورة الشُّعَرَآء 44
یعنی فرعون نے تو یہ کام اپنے نزدیک بڑی عقلمندی کا کیا تھا کہ دور دور سے فوجیں طلب کر کے بنی اسرائیل کو دنیا سے مٹا دینے کا سامان کیا، لیکن خدائی تدبیر نے اس کی چال اس پر یوں الٹ دی کہ دولت فرعونیہ کے بڑے بڑے ستون اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر اس جگہ جا پہنچے جہاں انہیں اور ان کے سارے لاؤ لشکر کو ایک ساتھ غرق ہونا تھا۔ اگر وہ بنی اسرائیل کا پیچھا نہ کرتے تو نتیجہ صرف اتنا ہی ہوتا کہ ایک قوم ملک چھوڑ کر نکل جاتی۔ اس سے بڑھ کر ان کا کوئی نقصان نہ ہوتا اور وہ حسب سابق اپنے عیش کدوں میں بیٹھے زندگی کے مزے لوٹتے رہتے۔ لیکن انہوں نے کمال درجہ کی ہوشیاری دکھانے کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–58
خلاصہ تفسیر
اور (جب فرعون کو اس واقعہ سے بھی ہدایت نہ ہوئی اور اس نے بنی اسرائیل کی آزار دہی نہ چھوڑی تو) ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم بھیجا کہ میرے (ان) بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو) شبا شب (مصر سے باہر) نکال لے جاؤ (اور فرعون کی جانب سے) تم لوگوں کا تعاقب (بھی) کیا جاوے گا (چنانچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے صبح یہ خبر مشہور ہوئی تو) فرعون نے (تعاقب کی تدبیر کرنے کے لئے جا بجا آس پاس کے) شہروں میں چپراسی دوڑا دیئے (اور یہ کہلا بھیجا) کہ یہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل ہماری نسبت) تھوڑی سی جماعت ہے (ان کے مقابلہ سے کوئی اندیشہ نہ کرے) اور انہوں نے (اپنی کارروائی سے) ہم کو بہت غصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
آیت 58-57
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی اس تدبیر سے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے باغوں اور چشموں اور اپنے خزانوں اور دولت کدوں سے نکلیں اور اپنے تمام لائو لشکر او سرو سامان سمیت سمندر میں غرق ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
58-1یعنی فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں کیا نکلا، کہ پلٹ کر اپنے گھروں اور باغات میں آنا نصیب ہی نہیں ہوا، یوں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و مشیت سے انھیں تمام نعمتوں سے محروم کر کے ان کا وارث دوسروں کو بنادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
12: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے ”سجدے میں گرگئے“ کے بجائے ”سجدے میں گرا دئیے گئے“ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا، وہ اس درجہ موثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
قبل اس کے کہ آخری منظر پیش کیا جائے ، یہاں قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی کی وجہ سے ان نعمتوں ، ان باغات اور مکانات عالی شان اور اس عیش و عشرت سے نکال دیا اور یہ مقام اختیار و اقتدار بنی اسرائیل جیسے مستصفعین کو دے دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
12 یعنی اس طرح قبطی گھر بار، مال ودولت، باغ اور کھیتاں چھوڑ کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں ایک دم نکل پڑے۔ جنہیں پھر لوٹنا نصیب نہ ہوا۔ گویا اس تدبیر سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نکال باہر کیا۔
1 یا تو اس کے بعد ہی یہ چیزیں بنی اسرائیل کے ہاتھ لگیں اور یا ایک مدت بعد سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں ملک مصر بھی ان کی سلطنت میں شامل ہوا۔ واللہ اعلم۔ پہلے اس کے متعلق اختلاف گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
آیت 58 وَّکُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ”
اس صورت حال میں انہیں اپنے باغات ‘ چشمے ‘ گھر بار ‘ جاگیریں وغیرہ جن میں وہ خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگیاں بسر کر رہے تھے ‘ سب کچھ چھوڑ کر نکلنا پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
40 چند دنوں میں فرعون نے بنی اسرائیل کے تعاقب اور ان سے نپٹنے کے لئے ایک لشکر جرار اکٹھا کرلیا اور ان کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوگئے۔ ان کا تو یہی خیال تھا کہ چند دنوں میں ہم انھیں گرفتار کرکے واپس لے آئیں گے اور جو مقابلہ پر آئیں گے انھیں قتل کر ڈالیں گے۔ انھیں کیا معلوم تھا کہ جن محلوں اور باغوں سے نکل کر وہ ان کے تعاقب میں جارہے ہیں ان محلوں اور باغوں کو دوبارہ دیکھنا بھی ان کے نصیب میں نہ ہوگا۔ اور بنی اسرائیل کا شکار کرنے والا یہ لشکر خود موت کے ہاتھوں شکار بن جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
47۔ یعنی ظالم فرعونیوں کی حکومت، ثروت، اقبال مندی سب مٹ کر رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیت نمبر 52 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…
Read the full tafseer →فاخرجنہم من جنت وعیون۔ پھر ہم ان کو نکال کرلے آئے باغوں اور چشموں سے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(57۔ 58) غرض کہ ہم نے فرعونیوں کو باغوں سے، پاکیزہ پانی کے چشموں سے اور مالوں کے خزانوں اور عمدہ مکانات سے نکال باہر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ۔۔ : چند ہی دنوں میں فرعون نے بنی اسرائیل کے تعاقب کے لیے ایک لشکر جرار تیار کرلیا۔ اس کے نزدیک تو یہ کام نہایت عقل مندی کا تھا کہ اس نے پورے ملک سے اپنی ساری قوت اکٹھی کرلی، تاکہ بنی اسرائیل کو زبردستی دوبارہ اپنی غلامی میں واپس لے آئے، یا انھیں دنیا سے مٹا دے، مگر اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب ہے۔ اس نے فرعون کی چال اسی پر پلٹ دی، اس کی سلطنت کے بڑے بڑے ستون پورے ملک سے اکٹھے ہوگئے، تمام فوجیں بھی یکجا ہوگئیں اور ایک ہی وقت میں سمندر میں غرق کردی گئیں۔ اگر وہ بنی اسرائیل کے لیے فوجیں جمع نہ کرتا تو زیادہ سے زیادہ ایک قوم اس کے ہاتھ سے نکل جاتی، مگر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ )
واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–62
بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا حکم
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ نکل جاءٰں اور فرمایا آیت ” ان اسر بعبادی لیلا “ (الدخان آیت (23) یعنی میرے بندوں کو رات کو لے کر چل دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو نکلنے کا حکم فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ قبط یعنی فرعون کے خاندان والوں عاریتا زبور لے لیں اور حکم فرمایا کوئی بھی اپنے ساتھی کو آواز نہ دے اور صبح تک اپنے گھروں میں چراغ جلائے رکھیں اور جو آدمی ان میں سے نکلے تو اپنے دروازے کے آگے خون لگادے یہاں تک کہ وہ جان لیا جائے کہ وہ نکل چکا ہے…
Read the full tafseer →فَاَخْرَجْنٰهُمْ [ پھر ہم نے نکالا ان کو ] مِّنْ جَنّٰتٍ [ باغوں سے ] وَّعُيُوْنٍ [ اور چشموں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
(اِِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ) (بلاشبہ میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے ضرور راہ بتائے گا) موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ سمندر میں اپنی لاٹھی مار دو چناچہ انہوں نے لاٹھی دریا پر مار دی، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ سمندر پھٹ گیا اور جگہ جگہ پانی ٹھہر گیا اور راستے نکل آئے پانی کے ٹھہرنے سے جگہ جگہ جو ٹکڑے بنے وہ اتنے بڑے تھے جیسے کوئی بڑا پہاڑ ہو ان ٹکڑوں کے درمیان راستے نکل آئے اور بنی اسرائیل کے قبیلے ان راستوں سے پار ہوگئے فرعون جو اپنے لشکر کے ساتھ پیچھے آ رہا تھا اس نے یہ نہ سوچا کہ یہ سمندر تو کبھی ٹھہرا نہیں اس میں کبھی راستے نہیں بنے یہ راستے کیسے بن گئے ؟ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل
قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
29:۔ فاء فصیحہ ہے۔ فرعون مع لاؤ لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں چل نکلا، اس طرح ہم نے ان کو باغوں اور ٹھنڈے چشموں سے، دولت سے لبریز خزانوں اور شاندار محلات سے نکال باہر کی اور باقیماندہ بنی اسرائیل کو ان کی تمام املاک کا مالک بنا دیا۔ ” کذالک “ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یعنی قوم فرعون کو سلطنت اور تمام املاک سے محروم کرنا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنا دینا ہمارا ہی کام تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
ربط آیات
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ حق کا آغاز کیا تو فرعون نے آپ پر جادوگری کا الزام لگایا اور آپ سے مقابلہ کے لیے ملک بھر کے جادوگروں کو اکٹھا کیا ۔ فرعونیوں کے قومی میلے کے دن سب لوگ ایک کھلے میدان میں جمع ہوگئے ۔ جہاں جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنا تھا۔ جادوگروں نے پہل کی اور کچھ رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں جو دوڑتے ہوئے سانپ نظر آنے لگیں ۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گئی اور جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل گئی ۔ یہ معجزہ دیکھ کر جادوگر تو ایمان لے آئے مگر فرعون اور اس کے حواری اپنی ضد پر اپڑے رہے۔ فرعون نے جادوگروں…
Read the full tafseer →فَاَخْرَجْنٰہُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 57ۙ
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔
جَنَّةُ :
كلّ بستان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
1 ؎ ان چیزوں کا یعنی باغوں اور چشموں اور خزانوں اور عمدہ مکانوں کا شام میں لاکر بنی اسرائیل کو مالک کردیا ان چیزوں کے مالک کرنے سے یہ مراد نہیں کہ انہیں فرعونیوں کے باغوں کا مالک بنا دیا کس لیے کہ بنی اسرائیل کے بعد بھی فرعونیوں کی سلطنت ملک مصر پر قائم رہی ہے۔ کوئی بنی اسرائیل مصر کا بادشاہ نہیں ہوا خصوصاً وہ اسرائیل جو موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ تھے وہ تو برسوں تیہ میں ٹکراتے پھرے ہیں جہاں من وسلوی اترا اور کیا کیا احکام فرض ہوئے اور کیا کیا واقعات گزرے جس نے خاص وہی فرعونی باغ سمجھ کر قرآن پر دروغ بیانی اور تاریخی واقعات کے خلاف ہونے کا الزام لگایا ہے یہ اس کی غلط فہمی ہے اور جو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فَاَخْرَجْنٰـھُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ وَّکُنُوْزٍوَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ۔ کَذٰلِکَ ط وَاَوْرَثْـنٰـھَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 57، 58، 59)
(سو اس طرح ہم نے نکالا انھیں ان کے باغوں اور چشموں سے اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے۔ (ہم اسی طرح کرتے ہیں، اور ہم نے ان چیزوں کا وارث بنایا بنی اسرائیل کو۔ )
مفسرین کا اختلاف اور آیت کا مفہوم
بعض مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ جن باغوں، چشموں، خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے یہ ظالم لوگ نکلے تھے انہی کا وارث اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کردیا۔ یہ مطلب اگر لیا جائے تو اس کا مفہوم لازماً یہ ہونا چاہیے کہ فرعون کے غرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے ذمہ دار لوگ بنی اسرائیل کے تعاقب میں
فرعون کے حکم کے مطابق انتظامیہ کے لوگ اور بڑے بڑے لیڈر اپنے گھروں سے نکل کر اجتماعی شکل میں بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے ہیں۔ ان کے نکلنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں ان کے باغات، چشموں، خزانوں اور عمدہ مکانوں سے نکالا اور اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنایا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے وقت سرکاری طور پر جو اعلان کیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے کہ لوگو ! اپنے اپنے شہروں سے باہر نکلو بیشک بنی اسرائیل تھوڑے ہیں لیکن ان کا پوری طرح تعاقب کرو یہ لوگ جانے نہ پائیں۔…
Read the full tafseer →57: فَاَخْرَجْنٰھُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ (اور ہم نے ان کو باغات سے نکال دیا) وَّ عُیُوْنٍ ( اور چشموں سے) جاری نہروں سے۔
Read the full tafseer →57۔ فاخرجناھم ، من جنات۔ وہ باغات جو دریاؤں کے کنارے تھے۔ ان کو خیرآباد کیا اور گھرکو بھی چھوڑ دیا۔ وعیون ، جاری نہروں سے نکال کر لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
36 خداوند قدوس کے دست غیب کی کارستانی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح نکال باہر کیا ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے اور خزانوں و عمدہ مکانوں سے۔ خداوند قدوس کو اپنے احکام و فرامین کی تنفیذ کے لئے دنیاوی بادشاہوں کی طرح ظاہری فوجوں اور پولیس وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اس طرح کام کرتا ہے کہ اگلوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ { فَاٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبْ } ۔ (الحشر : 2) اور اس کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ { وَمَا یَعْلَمُ جُلُوْدَ رَبِّک اِلَّا ھُو } ۔ (المدثر : 31) ۔ ذرا سوچیئے کہ کیا دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی حکومت بھی اس طرح کرسکتی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیات 52 تا 68
اسرار و معارف
جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
11 ۔ یعنی اس طرح وہ لوگ اپنے گھر بار مال و دولت، باغ اور کھیتیاں چھوڑ کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں یکایک نکل کھڑے ہوئے۔
12 ۔ یا تو اسی زمانہ میں فرعون کے غرق۔ ہوجانے کے بعد یا ایک مدت کے بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →(26:57) فاخرجناھم من جنت وعیون۔ پس ہم نے ان کو نکال باہر کیا باغوں اور چشموں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 :
اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 :
جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔
(ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
[13] مراد بعینہٖ وہی نعمتیں نہیں ہیں جن سے فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے نکالا بلکہ اس نوع کی وہ نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے بعد سرزمین فلسطین میں حاصل ہوئیں۔ سورة اعراف کی آیت 137 میں اس کی تصریح ہے۔ مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین کا زرخیز علاقہ ہی بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا۔ مصر پر بنی اسرائیل کا قبضہ تاریخ سے ثابت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
لغائظون ۔ غیظ وغضب ۔
Read the full tafseer →57۔ آخر کار ہم نے فرعون والوں کو باغوں سے اور چشموں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
ف 2۔ یعنی قریب پہنچ گئے، اس وقت بنی اسرائیل دریائے قلزم میں اترنے کی کفر میں تھے کہ کیا سامان کریں۔
Read the full tafseer →اس زعم میں ہم نے ان کو چشموں اور باغوں سے نکال باہر کیا :
57۔ کہاوت ہے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں۔ بلاشبہ یہ بات صحیح ہے ، قدرت نے ان کو ایک ایسی مار دینی تھی کہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں کھائی تھی وہ سمجھتے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جیت ہم نے ہار میں بدل کر رکھ دی ہے اور اس وقت تو حالات ہی اس وقت سے بالکل مختلف ہیں اب ان کو پکڑنا اور مار مار کر ان کو سبق یاد کرانا آخر کونسا مشکل کام ہے ۔ وہ ایسی باتیں کیوں کررہا تھا ؟ فرمایا اس لئے کہ ہماری سکیم تھی کہ وہ ان کو لاشیء سمجھ کر ان کے پیچھے لگ جائے تو ہم نے اپنی تدبیر سے اس کو مصر سے نکل کھڑا ہونے پر آمادہ ہی نہیں کیا بالکل نکال باہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–58
قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
They said, "There is no harm. We are to return to our Lord. (26:50)
When the Pharaoh threatened the magicians to kill them, and to cut their limbs and to crucify them, the magicians replied rather indifferently, the gist of their reply was, ` You do whatever you can. We shall lose nothing. Even if we are killed we will go back to our Lord, where there is nothing but comfort'.
It is worth noting here that the magicians who had involved all their lives practicing the sinful sorcery and who believed in the Pharaoh's claim to be a god,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
44 The genera'. mobilization ordered by Pharaoh was aimed to crush the Israelites completely, but God's device turned the tables on him and drew out all his chiefs and courtiers from their dwelling places and drove them to the place where they and their hosts were to be drowned aII together. Had they not pursued the Israelites, nothing would have happened save that a community would have left the country quietly and they would have continued to enjoy life in their fine dwellings as before. But they in fact had cleverly planned not to allow the Israelites go away peacefully, but to attack the…
Read the full tafseer →