Explained with ayahs 52–59
فرعونیوں کا انجام
موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
سورة الشُّعَرَآء 43
یہ باتیں فرعون کی اس چھپی ہوئی خوف زدگی کو ظاہر کرتی ہیں جس پر وہ بےخوفی کا نمائشی پردہ ڈال رہا تھا۔ ایک طرف وہ جگہ جگہ سے فوجیں بھی فوری امداد کے لیے بلا رہا تھا جو اس بات کی کھلی علامت تھی کہ اسے بنی اسرائیل سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ دوسری طرف وہ اس بات کو چھپانا بھی چاہتا تھا کہ مدت ہائے دراز کی دبی اور پسی ہوئی قوم، جو انتہائی ذلت کی غلامی میں زندگی بسر کر رہی تھی، اس سے فرعون جیسا قاہر فرماں روا کوئی خطرہ محسوس کر رہا ہے حتّیٰ کہ اسے فوری امداد کے لیے فوجیں طلب کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے۔ اس لیے وہ اپنا پیغام اس انداز میں بھجتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل بیچارے چیز ہی کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–58
خلاصہ تفسیر
اور (جب فرعون کو اس واقعہ سے بھی ہدایت نہ ہوئی اور اس نے بنی اسرائیل کی آزار دہی نہ چھوڑی تو) ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم بھیجا کہ میرے (ان) بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو) شبا شب (مصر سے باہر) نکال لے جاؤ (اور فرعون کی جانب سے) تم لوگوں کا تعاقب (بھی) کیا جاوے گا (چنانچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے صبح یہ خبر مشہور ہوئی تو) فرعون نے (تعاقب کی تدبیر کرنے کے لئے جا بجا آس پاس کے) شہروں میں چپراسی دوڑا دیئے (اور یہ کہلا بھیجا) کہ یہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل ہماری نسبت) تھوڑی سی جماعت ہے (ان کے مقابلہ سے کوئی اندیشہ نہ کرے) اور انہوں نے (اپنی کارروائی سے) ہم کو بہت غصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
آیت 56-53
فرعن خود اپنی تدبیر کے جال میں
چناچہ فرعون نے سرداروں اور فوجیوں کو اکٹھا کرنے کے لئے مملکت کے تمام شہروں میں اپنے آدمی دوڑا دیئے اور چونکہ قبطی حضرت موسیٰ کے کارناموں سے بہت مرعوب تھے اس وجہ سے ان کا حوصلہ بلند کرنے کے لئے یہ پروپگینڈا بھی زور و شور سے کیا گیا کہ اسرائیلیوں کی حیثیت ہے کیا ! وہ مٹھی بھر تو ہیں، لیکن ہاتھی سے گنا کھانے چلے ہیں ! وہ اپنی حرکتوں سے ہمیں غصہ دلا رہے ہیں، لیکن ہم ایک بھاری جمعیت کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے پوری طرح چوکس اور بیدار ہیں ! ہم ہرگز ان کو اس بات کا موقع نہیں دیں گے کہ وہ ملک میں کوئی گڑ بڑ پیدا کریں یا ہمارے قابو سے باہر نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
54-1یہ بطور تحقیر کے کہا، ورنہ ان کی تعداد چھ لاکھ بتلائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
12: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے ”سجدے میں گرگئے“ کے بجائے ”سجدے میں گرا دئیے گئے“ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا، وہ اس درجہ موثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
اب اہل ایمان کے خلاف فرعون کی تدابیر کا ایک منظر اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی راہنمائی کا ایک منظر :
واوحینآ الی ……حذرون (56)
اب یہاں واقعات اور زمانے کے اعتبار سے ایک بڑا اور طویل خلا ہے۔ بیچ میں سے طویل زمانے اور واقعات کو حذف کردیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) بھی مصر میں کام کرتے رہے اور سورت اعراف میں جن دوسرے معجزات کا ذکر ہوا ہے وہ بھی اس عرصہ میں رونما ہئے اور آخر کار وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ لیکن اس سورت میں ان تمام واقعات کو لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور قصہ مسویٰ کے…
Read the full tafseer →9 یعنی ان تھوڑے سے آدمیوں نے تم کو تنگ کر رکھا ہے۔ حالانکہ ان کی ہستی کیا ہے جو تمہارے مقابلہ میں عہدہ برآ ہو سکیں۔ یہ باتیں قوم کو غیرت اور جوش دلانے کے لیے کہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
آیت 55 وَاِنَّہُمْ لَنَا لَغَآءِظُوْنَ ”
بنی اسرائیل کے مصر سے نکل بھاگنے کی حرکت نے ہمیں غضب ناک کردیا ہے۔ اب ہم انہیں عبرتناک سزا دیں گے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ”ان کے اندر ہماری وجہ سے غصہ ہے“۔ یعنی اگرچہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں لیکن ہم انہیں جو تکالیف پہنچا تے رہے ہیں اس وجہ سے وہ ہم پر بھرے بیٹھے ہیں۔ چناچہ یہ دل جلے لوگ ہمارے خلاف کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
39 اس مقام پر بہت سے واقعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ یہ بات بھی پوری طرح معلوم نہیں ہوسکی کہ آیا فرعون نے ان جادوگروں پر بعض مصلحتوں کی بنا پر سولی چڑھانے کی دھمکی ہی دی تھی یا فی الواقعہ چڑھایا بھی تھا۔ غالب گمان یہی ہے کہ اس نے یہ کام ضرور کیا ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ باطل پرست جب دلائل کے میدان میں شکست کھا جاتے ہیں تو تشدد اور اوچھے ہتھیاروں پر اتر آتے ہیں۔ پھر بھی ان کا غصہ رفع نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایسے مظالم کے نتائج بسا اوقات توقع کے خلاف نکلتے ہیں اور جس کو جتنی قوت سے دبانے کی کوشش کی جائے اتنی ہی قوت سے ابھرتی اور اپنی جڑیں مضبوط بنا لیتی ہے۔ مصر میں بھی یہی کچھ ہوا۔ بیشمار اسرائیل حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
46۔ (امن عامہ کی خاطر ان کا قلع قمع فورا کردینا چاہیے) آج بھی قاہر اور چنگیزی حکومتیں اسی قسم کے اعلان شائع کرتی رہتی ہیں کہ بس ایک مٹھی بھر لوگ ہماری خلاف شورش پھیلا رہے ہیں اور طرح طرح کی حرکتیں امن سوزی اور قانون شکنی کی کررہے ہیں، اس لیے امن عامہ کی خاطر انہیں دباہی دینا چاہیے۔ (آیت) ” قلیلون “۔ سے اشارہ علاوہ قلت تعداد کے، ان لوگوں کی بےوقعتی اور کم حیثیتی کا بھی نکلتا ہے۔ یجوز ان یرید بالقلۃ الذلۃ لاقلۃ العدد والمعنی انھم بقلتھم لایبالی بھم ولا یتوقع علیھم وعلوھم (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیت نمبر 52 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…
Read the full tafseer →ان ہولآء لشر ذمۃ یہ (بنی اسرائیل) تھوڑے سے ہیں شِرْ ذِمَۃٌ آدمیوں کی قلیل تعداد اس کی تائید اگلے فقرہ۔
قلیلون۔ سے کردی۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ وہ روایت جس میں بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار
بتائی گئی ہے غلط ہے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کو قلیل التعداد اپنے لشکر کے مقابلہ میں قرار دیا بعض روایات میں فرعون کے لشکر کے مقدمہ (اگلے حصہ) کی تعداد سات لاکھ بیان کی گئی ہے۔ اسی پر ساقہ (پچھلا حصّہ) اور دونوں بازوؤں (یمین و یسار) اور قلب (وسط) کو قیاس کرلیا جائے لیکن یہ تعداد بھی خلاف عقل و روایت ہے مصر کا ملک ہی کتنا تھا بڑی بڑی حکومتوں اور سلطنتوں کی فوج کی تعداد بھی اتنی نہیں ہوتی۔
میں کہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
(53 تا 56) چناچہ فرعون نے شہروں میں چپڑاسی دوڑائے اور یہ کہلا بھیجا حضرت موسیٰ ؑ کے ماننے والے تھوڑی سی جماعت ہے اور ان لوگوں نے ہمیں بہت غصہ دلایا ہے اور ہم سب ایک مسلح جماعت ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيْلُوْنَ : ”شِرْ ذِمَۃٌ“ چھوٹا سا گروہ، اس نے انھیں مزید حقیر اور بےوقعت بتانے کے لیے ”قَلِيْلُوْنَ“ کے ساتھ تاکید کی، جو جمع قلت کا صیغہ ہے۔ ”هٰٓؤُلَاۗءِ“ کے ساتھ اشارہ بھی حقارت کے اظہار کے لیے ہے کہ یہ لوگ ایک چھوٹی سی جماعت اور تھوڑے سے لوگ ہیں، ہمیں ان کی کیا پروا ہے، ہم آسانی سے انھیں نیست و نابود کرسکتے ہیں اور چاہیں تو معمولی وسائل کے ساتھ انھیں واپس لاسکتے ہیں۔ ان الفاظ کے ساتھ وہ اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو دلیری دے رہا تھا، جب کہ اس سے اس کا سخت خوف زدہ ہونا ظاہر ہو رہا تھا کہ اگر واقعی وہ اتنے ہی قلیل اور بےوقعت ہیں تو تمہیں اتنی فوجیں اکٹھی کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ )
واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–62
بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا حکم
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ نکل جاءٰں اور فرمایا آیت ” ان اسر بعبادی لیلا “ (الدخان آیت (23) یعنی میرے بندوں کو رات کو لے کر چل دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو نکلنے کا حکم فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ قبط یعنی فرعون کے خاندان والوں عاریتا زبور لے لیں اور حکم فرمایا کوئی بھی اپنے ساتھی کو آواز نہ دے اور صبح تک اپنے گھروں میں چراغ جلائے رکھیں اور جو آدمی ان میں سے نکلے تو اپنے دروازے کے آگے خون لگادے یہاں تک کہ وہ جان لیا جائے کہ وہ نکل چکا ہے…
Read the full tafseer →اِنَّ [ بیشک ] هٰٓؤُلَاۗءِ [ یہ لوگ ] لَشِرْذِمَةٌ قَلِيْلُوْنَ [ یقینا ایک تھوڑی سی جماعت ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
(اِِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ) (بلاشبہ میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے ضرور راہ بتائے گا) موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ سمندر میں اپنی لاٹھی مار دو چناچہ انہوں نے لاٹھی دریا پر مار دی، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ سمندر پھٹ گیا اور جگہ جگہ پانی ٹھہر گیا اور راستے نکل آئے پانی کے ٹھہرنے سے جگہ جگہ جو ٹکڑے بنے وہ اتنے بڑے تھے جیسے کوئی بڑا پہاڑ ہو ان ٹکڑوں کے درمیان راستے نکل آئے اور بنی اسرائیل کے قبیلے ان راستوں سے پار ہوگئے فرعون جو اپنے لشکر کے ساتھ پیچھے آ رہا تھا اس نے یہ نہ سوچا کہ یہ سمندر تو کبھی ٹھہرا نہیں اس میں کبھی راستے نہیں بنے یہ راستے کیسے بن گئے ؟ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل
قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
29:۔ فاء فصیحہ ہے۔ فرعون مع لاؤ لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں چل نکلا، اس طرح ہم نے ان کو باغوں اور ٹھنڈے چشموں سے، دولت سے لبریز خزانوں اور شاندار محلات سے نکال باہر کی اور باقیماندہ بنی اسرائیل کو ان کی تمام املاک کا مالک بنا دیا۔ ” کذالک “ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یعنی قوم فرعون کو سلطنت اور تمام املاک سے محروم کرنا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنا دینا ہمارا ہی کام تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
ربط آیات
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ حق کا آغاز کیا تو فرعون نے آپ پر جادوگری کا الزام لگایا اور آپ سے مقابلہ کے لیے ملک بھر کے جادوگروں کو اکٹھا کیا ۔ فرعونیوں کے قومی میلے کے دن سب لوگ ایک کھلے میدان میں جمع ہوگئے ۔ جہاں جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنا تھا۔ جادوگروں نے پہل کی اور کچھ رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں جو دوڑتے ہوئے سانپ نظر آنے لگیں ۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گئی اور جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل گئی ۔ یہ معجزہ دیکھ کر جادوگر تو ایمان لے آئے مگر فرعون اور اس کے حواری اپنی ضد پر اپڑے رہے۔ فرعون نے جادوگروں…
Read the full tafseer →اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ لَشِرْذِمَۃٌ قَلِيْلُوْنَ 54ۙ
شرذم
الشِّرْذِمَةُ : جماعة منقطعة . قال تعالی: إِنَّ هؤُلاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
[ الشعراء/ 54] ، وهو من قولهم : ثوب شَرَاذِمُ ، أي : متقطّع .
( ش ر ذ م ) الشرذمۃ ۔ تھوڑی سی جماعت جو لوگوں سے الگ ہوگئی ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ هؤُلاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ [ الشعراء/ 54] یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہیں یہ ثوب شراذم کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی پھٹے پرانے چیتھڑوں کے ہیں ۔
قل
القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
1 ؎ ان چیزوں کا یعنی باغوں اور چشموں اور خزانوں اور عمدہ مکانوں کا شام میں لاکر بنی اسرائیل کو مالک کردیا ان چیزوں کے مالک کرنے سے یہ مراد نہیں کہ انہیں فرعونیوں کے باغوں کا مالک بنا دیا کس لیے کہ بنی اسرائیل کے بعد بھی فرعونیوں کی سلطنت ملک مصر پر قائم رہی ہے۔ کوئی بنی اسرائیل مصر کا بادشاہ نہیں ہوا خصوصاً وہ اسرائیل جو موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ تھے وہ تو برسوں تیہ میں ٹکراتے پھرے ہیں جہاں من وسلوی اترا اور کیا کیا احکام فرض ہوئے اور کیا کیا واقعات گزرے جس نے خاص وہی فرعونی باغ سمجھ کر قرآن پر دروغ بیانی اور تاریخی واقعات کے خلاف ہونے کا الزام لگایا ہے یہ اس کی غلط فہمی ہے اور جو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَ ۔ اِنَّ ھٰٓـؤُلَآئِ لَشِرْ ذِمَۃٌ قَلِیْلُوْنَ ۔ وَاِنَّھُمْ لَنَا لَغَـآئِظُوْنَ ۔ وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 53 تا 56)
(پس فرعون نے شہروں میں (فوجیں جمع کرنے کے لیے) ہر کارے بھیجے۔ (اور کہلابھیجا) کہ یہ لوگ مٹھی بھر ہیں۔ اور بیشک انھوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے۔ اور ہم ایک مستعد جمعیت ہیں۔ )
لَشِرْ ذِمَۃٌ … الجمع القلیل المختصر … مختصر اور حقیر گروہ کو شرذمۃ کہتے ہیں۔ اس کی جمع الشراذم ہے۔
تعاقب کے لیے فرعون کی تدبیریں
چناچہ فرعون نے سرداروں اور فوجیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے مملکت کے تمام شہروں میں اپنے آدمی دوڑا دیئے۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے ذمہ دار لوگ بنی اسرائیل کے تعاقب میں
فرعون کے حکم کے مطابق انتظامیہ کے لوگ اور بڑے بڑے لیڈر اپنے گھروں سے نکل کر اجتماعی شکل میں بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے ہیں۔ ان کے نکلنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں ان کے باغات، چشموں، خزانوں اور عمدہ مکانوں سے نکالا اور اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنایا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے وقت سرکاری طور پر جو اعلان کیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے کہ لوگو ! اپنے اپنے شہروں سے باہر نکلو بیشک بنی اسرائیل تھوڑے ہیں لیکن ان کا پوری طرح تعاقب کرو یہ لوگ جانے نہ پائیں۔…
Read the full tafseer →54: اِنَّ ھٰٓؤُلَآ ئِ لَشِرْذِمَۃٌ قَلِیْلُوْنَ (بیشک یہ تھوڑے سے آدمی ہیں) لشرذمہؔ چھوٹی جماعت۔ ان کو اسی نام سے ذکر کیا جو قلت کو ظاہر کرتا ہے پھر اس کی صفت قلیلونؔ لائے اور اس کو جمع قلت لائے گویا اس کے ہر گروہ کو بہت کم تعداد میں ظاہر کرنا مقصود ہے۔ نمبر 2۔ قلت سے مراد ذلت ہے تعداد کی قلت مراد نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ذلیل ہیں اس لئے ان کے غلبہ کی کوئی توقع ہی نہیں ہے اس نے قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو قلیل قرار دیا حالانکہ ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تھی کیونکہ فرعونیوں کی تعداد ان کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھی ان کی تعداد بقول ضحاک سات کروڑ تھی۔
Read the full tafseer →54۔ ان ھوء لاء لشرذمہ۔ جماعت ہے۔ قلیلون، لوگوں کی ایک قلیل تعداد اس کی جمع شر اذم آتی ہے۔ بعض روایا ت میں ہے کہ اس کے لشکر کی تعداد ایک لاکھ چھ ہزار بتائی جاتی ہے ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اس کے لشکر کی تعداد چھ لاکھ سترہزار تھی فرعون کے لشکر کو کوئی بھی شمار نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
35 اور ہماری بھاری جمعیت کو بہرحال چوکنا رہنا ہے : سو ایسا فرعون نے اپنی خفت کو مٹانے اور حواس باختگی پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا کہ جمعیت تو ہماری بلاشبہ بہت بڑی ہے مگر ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت بہرحال ہے۔ سو ہم ایک بھاری جمعیت ہیں جو ہر طرح کے ذرائع و وسائل اور اسباب قوت رکھتے ہیں۔ لہذا ہم اس " شرذمہ قلیلہ " یعنی چھوٹے سے گروہ سے نمٹنے کیلئے پوری طرح چوکس اور تیار ہیں۔ ہم ان کو کبھی یہ موقع نہیں دے سکتے کہ یہ ہمارے اس ملک میں گڑبڑ پھیلائیں اور ہمارے امن وامان کیلئے خطرہ بنیں اور ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں۔ سو یہ تو اس طاغیہ کی بڑھکیں تھیں جو وہ اپنے اندر کے خوف کو چھپانے اور اپنی قول کے مورال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیات 52 تا 68
اسرار و معارف
جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
9 ۔ جو ہماری اجازت کے بغیر نکل کھڑے ہوئے۔
Read the full tafseer →(26:54) لشرزمۃ۔ تھوڑی سی جماعت جو لوگوں سے الگ ہوگئی ہو۔ اس کی جمع شراذم، شراذیم ہے لام تاکید کا ہے۔ ثوب شراذم کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی پھٹے پرانے چیتھڑوں کے ہیں۔
قلیلون۔ قلیل کی جمع۔ تھوڑے ۔ کم۔ شرزمۃ کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 :
اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 :
جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔
(ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
[13] مراد بعینہٖ وہی نعمتیں نہیں ہیں جن سے فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے نکالا بلکہ اس نوع کی وہ نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے بعد سرزمین فلسطین میں حاصل ہوئیں۔ سورة اعراف کی آیت 137 میں اس کی تصریح ہے۔ مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین کا زرخیز علاقہ ہی بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا۔ مصر پر بنی اسرائیل کا قبضہ تاریخ سے ثابت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
المدائن ۔ مدینہ کی جمع ۔ بمعنی شہر ۔
Read the full tafseer →54۔ کہ یہ بنی اسرائیل ایک تھوڑی سی جماعت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 1۔ اس لئے ان کے مقابلہ سے کوئی اندیشہ نہ کرے۔
Read the full tafseer →اس نے دانت پیس کر کہا اس چھوٹی سی جماعت نے ہماری نرمی سے خوب فائدہ اٹھایا :
54۔ چونکہ ملک بھر سے لوگوں کو اکھٹا کرنا بہت ہی بڑے خطرہ کا الارم معلوم ہوتا تھا اس لئے اس نے اس خطرہ کو ٹالنے کے لئے عام تاثر یہی دیا کہ اس بار تو اس چھوٹی سی جماعت کو پیس کر رکھ دینا ہے قبل ازیں بھی جو مہلت ان کو دی گئی وہ ہماری غلطی تھی اس تحریک کا سر تو پہلے ہی روز کچل دینا چاہئے تھا بہرحال گزشتہ آنچہ گزشت اس دفعہ تو ان کو وہ مار دیں گے کہ ان کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا موسیٰ کے ساتھ نرمی کا سلوک ہمیں بہت مہنگا پڑا ان لوگوں نے ہماری نرمی سے بہت غلط فائدہ اٹھایا ہے اس وقت وہ گویا صحیح معنوں میں برافروختہ ہوگیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–58
قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
They said, "There is no harm. We are to return to our Lord. (26:50)
When the Pharaoh threatened the magicians to kill them, and to cut their limbs and to crucify them, the magicians replied rather indifferently, the gist of their reply was, ` You do whatever you can. We shall lose nothing. Even if we are killed we will go back to our Lord, where there is nothing but comfort'.
It is worth noting here that the magicians who had involved all their lives practicing the sinful sorcery and who believed in the Pharaoh's claim to be a god,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
43 All this shows that Pharaoh in fact was terror-stricken, but was trying to hide his fear under cover of fearlessness. On the one hand, he was mobilizing forces to face the situation; on the other, he wanted to show that he was undaunted and undeterred, for a despotic ruler like Pharaoh could have no danger from a suppressed and slave community which had been living in disgrace for centuries. That is why his heralds made the people believe that the Israelites were just a handful of people, who could do them no harm, but had to be punished for the provocation they had caused. As for…
Read the full tafseer →