Ash-Shu'araa 26:52

Ash-Shu'araa · from ayah 52

26:52

وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰی مُوْسٰۤی اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ ۟وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِىۡۤ اِنَّكُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We inspired to Moses, "Travel by night with My servants; indeed, you will be pursued."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:52

ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ "راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ : میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ، تمہارا پیچھا یقینا کیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے موسٰی کو وحی بھیجی کہ راتوں را ت میرے بندو ں کو لے نکل بیشک تمھارا پیچھا ہو نا ہے، ف۵۵)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے موسٰی ؑ کی طرف وحی بھیجی کہ تم میرے بندوں کو راتوں رات (یہاں سے) لے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو رات کو لے چل، یقینا تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ : راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ۔ تمہارا تعاقب کیا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی، ہمارے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو۔ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ادھر جب فرعون بنی اسرائیل کی آزادی پر آمادہ نہ ہوا تو ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو کہ راتوں رات نکل جاؤ میرے بندوں کو لے کر، بیشک تمہارا پوری طرح پیچھا کیا جائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی بھیجی کہ شباشب میرے (ان) بندوں کو لے کر نکل جاؤ تم لوگوں کا پیچھا (بھی) کیا جائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے وحی کردی موسیٰ ؑ کی جانب کہ میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعون کی طرف سے) تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We revealed to Moses: "Set forth with My servants by night for you will be pursued."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We revealed to Musa saying, :Make My servants travel at night. You will be pursued.

— Muhammad Taqi Usmani

And We revealed to Musa saying, :Make My servants travel at night. You will be pursued.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We revealed to Musa, saying: "Depart by night with My servants, verily, you will be pursued."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We inspired Moses, saying: Take away My slaves by night, for ye will be pursued.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We inspired to Moses, "Travel by night with My servants; indeed, you will be pursued."

— Saheeh International

We hope that our Lord will forgive us for our sins; we were not believers at first."

— Muhammad Sarwar

And We revealed to Musa, saying: Go away with My servants travelling by night, surely you will be pursued.

— Muhammad Habib Shakir

And We revealed unto Musa saying: go by night with My bondmen verily ye shall be pursued.

— Abdul Majid Daryabadi

By inspiration we told Moses: "Travel by night with my servants; for surely ye shall be pursued."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–59

فرعونیوں کا انجام موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 41 اوپر کے واقعات کے بعد ہجرت کا ذکر شروع ہوجانے سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے بعد بس فوراً ہی حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل سمیت مصر سے نکل جانے کے احکام دے دیے گئے۔ دراصل یہاں کئی سال کی تاریخ بیچ میں چھوڑ دی گئی ہے جسے سورة عراف رکوع 15۔ 16، اور سورة یونس رکوع 9 میں بیان کیا جا چکا ہے، اور جس کا ایک حصہ آگے سورة مومن رکوع 2۔ 5 اور الزُّخرف رکوع 5 میں آ رہا ہے۔ یہاں چونکہ سلسلہ کلام کی مناسبت سے صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جس فرعون نے صریح نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود یہ ہٹ دھرمی دکھائی تھی اس کا انجام آخر کار کیا ہوا۔ اور جس دعوت کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی طاقت تھی وہ کس طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–58

خلاصہ تفسیر اور (جب فرعون کو اس واقعہ سے بھی ہدایت نہ ہوئی اور اس نے بنی اسرائیل کی آزار دہی نہ چھوڑی تو) ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم بھیجا کہ میرے (ان) بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو) شبا شب (مصر سے باہر) نکال لے جاؤ (اور فرعون کی جانب سے) تم لوگوں کا تعاقب (بھی) کیا جاوے گا (چنانچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے صبح یہ خبر مشہور ہوئی تو) فرعون نے (تعاقب کی تدبیر کرنے کے لئے جا بجا آس پاس کے) شہروں میں چپراسی دوڑا دیئے (اور یہ کہلا بھیجا) کہ یہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل ہماری نسبت) تھوڑی سی جماعت ہے (ان کے مقابلہ سے کوئی اندیشہ نہ کرے) اور انہوں نے (اپنی کارروائی سے) ہم کو بہت غصہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت موسیٰ کی ہجرت اور فرعن کی کان سے ان کا تعاقب یہاں سرگزشت کا کچھ حصہ محذوف ہے۔ ہم دوسرے محل میں، قرآن اور تورات دونوں کی روشنی میں، یہ واضح کرچکے ہیں کہ اس مقابلے میں شکست کھا جانے کے بعد حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان ایک عرصے تک کشمکش چلتی رہی۔ اس دوران میں مصر پر بہت سی آفتیں نازل ہوئیں جن سے ملک تباہی کے کنارے آ لگا ان مصائب سے تنگ آ کر فرعون کے درباریوں نے اس کو مشورہ دیا کہ بنی اسرائیل جہاں جانا چاہتے ہیں ان کو وہاں جانے کی اجازت دے دی جائے ورنہ ملک تباہ ہوجائے گا بالاخر فرعون نے مجبور ہو کر اجازت تو دے دی لیکن جب حضرت موسیٰ اپنی پوری قوم کو ساتھ لے کر نکلے تو اس کی رائے بدل گئی، اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52-1جب مصر میں حضرت موسیٰ ؑ کا قیام لمبا ہوگیا اور ہر طرح سے انہوں نے فرعون اور اس کے درباریوں پر حجت قائم کردی۔ لیکن اس کے باوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں ہوئے، تو اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ انھیں عذاب سے دوچار کر کے سامان عبرت بنادیا جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جائیں، اور فرمایا کہ فرعون تمہارے پیچھے آئے گا، گھبرانا نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–58

12: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے ”سجدے میں گرگئے“ کے بجائے ”سجدے میں گرا دئیے گئے“ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا، وہ اس درجہ موثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 52–56

اب اہل ایمان کے خلاف فرعون کی تدابیر کا ایک منظر اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی راہنمائی کا ایک منظر : واوحینآ الی ……حذرون (56) اب یہاں واقعات اور زمانے کے اعتبار سے ایک بڑا اور طویل خلا ہے۔ بیچ میں سے طویل زمانے اور واقعات کو حذف کردیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) بھی مصر میں کام کرتے رہے اور سورت اعراف میں جن دوسرے معجزات کا ذکر ہوا ہے وہ بھی اس عرصہ میں رونما ہئے اور آخر کار وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ لیکن اس سورت میں ان تمام واقعات کو لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور قصہ مسویٰ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جب ایک مدت مدید تک سمجھانے اور آیات دکھلاتے رہنے کے بعد بھی فرعون نے حق کو قبول نہ کیا اور " بنی اسرائیل " کو ستانا نہ چھوڑا، تو ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو لے کر رات میں یہاں سے ہجرت کر جاؤ۔ اور دیکھنا یہ فرعونی لوگ تمہارا پیچھا کریں گے (گھبرانا نہیں) ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 52–53

آیت 53 فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْْمَدَآءِنِ حٰشِرِیْنَ ” بنی اسرائیل کے تعاقب کی غرض سے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے پورے ملک میں پھر ڈھنڈورچی اور ہر کارے بھیج دیے گئے ‘ یہ کہہ کر کہ :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 52–56

39 اس مقام پر بہت سے واقعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ یہ بات بھی پوری طرح معلوم نہیں ہوسکی کہ آیا فرعون نے ان جادوگروں پر بعض مصلحتوں کی بنا پر سولی چڑھانے کی دھمکی ہی دی تھی یا فی الواقعہ چڑھایا بھی تھا۔ غالب گمان یہی ہے کہ اس نے یہ کام ضرور کیا ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ باطل پرست جب دلائل کے میدان میں شکست کھا جاتے ہیں تو تشدد اور اوچھے ہتھیاروں پر اتر آتے ہیں۔ پھر بھی ان کا غصہ رفع نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایسے مظالم کے نتائج بسا اوقات توقع کے خلاف نکلتے ہیں اور جس کو جتنی قوت سے دبانے کی کوشش کی جائے اتنی ہی قوت سے ابھرتی اور اپنی جڑیں مضبوط بنا لیتی ہے۔ مصر میں بھی یہی کچھ ہوا۔ بیشمار اسرائیل حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

45۔ اب یہ قصہ بعد کا ہے، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ کرتے ایک عرصہ گزر گیا، اور فرعون کی طرف سے اسرائیلیوں پر سلسلہ آزار جاری رہا تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم الہی یہ ملا کہ ایک روز راتی رات اپنی قوم کو لے کر نکل جاؤ اگرچہ فرعون تمہارا تعاقب زبردست کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–68

آیت نمبر 52 تا 68 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی انکم متبعون۔ اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو رات کو نکال لے جا کیونکہ (دن میں) تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔ یعنی رات کو نکال لے جانے کی علت یہ ہے کہ (دن کو) فرعون اور اس کی قوم والے تمہارا تعاقب کریں گے تاکہ تم کو مصر سے نکلنے سے روکیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے حضرت موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کے ہر چار گھر والوں کو ایک گھر میں جمع کرو پھر بھیڑ کے بچوں کو ذبح کر کے ان کا خون گھروں کے دروازوں پر لگا دو میں فرشتوں کو حکم دوں گا جس گھر پر خون کا نشان ہوگا اس میں داخل نہ ہوں گے پھر میں فرشتوں کو حکم دوں گا وہ قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو حکم بھیجا کہ بنی اسرائیل میں سے میرے ان بندوں کو جو کہ آپ پر ایمان لائے ہیں، شباشب (مصر) سے باہر لے جاؤ تم لوگوں کا فرعون اور ان کی قوم تعاقب کرے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْٓ۔۔ : اوپر کے واقعات کے بعد بنی اسرائیل کی ہجرت کا ذکر شروع ہوتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد فوراً ہی موسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل سمیت مصر سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا، بلکہ یہاں کئی سال کی تاریخ چھوڑ دی گئی ہے، جس کا ذکر سورة اعراف (127 تا 135) اور سورة یونس (83 تا 89) میں گزر چکا ہے اور جس کا ایک حصہ آگے سورة مؤمن (23 تا 46) اور سورة زخرف (46 تا 56) میں آ رہا ہے۔ یہاں چونکہ سلسلہ کلام کی مناسبت سے صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جس فرعون نے صریح نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود یہ ہٹ دھرمی دکھائی تھی اس کا انجام آخر کار کیا ہوا۔ 3 ان آیات میں ایک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–68

(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ ) واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–62

بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا حکم 1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ نکل جاءٰں اور فرمایا آیت ” ان اسر بعبادی لیلا “ (الدخان آیت (23) یعنی میرے بندوں کو رات کو لے کر چل دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو نکلنے کا حکم فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ قبط یعنی فرعون کے خاندان والوں عاریتا زبور لے لیں اور حکم فرمایا کوئی بھی اپنے ساتھی کو آواز نہ دے اور صبح تک اپنے گھروں میں چراغ جلائے رکھیں اور جو آدمی ان میں سے نکلے تو اپنے دروازے کے آگے خون لگادے یہاں تک کہ وہ جان لیا جائے کہ وہ نکل چکا ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَوْحَيْنَآ[ اور ہم نے وحی کی ] اِلٰى مُوْسٰٓي [ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ] اَنْ اَسْرِ [ کہ آپ (علیہ السلام) رات میں لے کر نکلیں ] بِعِبَادِيْٓ [ میرے بندوں کو ] اِنَّكُمْ [ بیشک تم لوگ ] مُّتَّبَعُوْنَ [ پیچھا کیے جانے والے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–52

بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–68

ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

28:۔ جب قوم فرعون پر حجت خداوندی تام ہوگئی اور قوم فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات و آزادی کا وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم راتوں رات بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر شام کی طرف روانہ ہوجاؤ۔ فرعون لاؤ لشکر کے ساتھ تمہارا تعاقب کرے گا۔ ” فارسل فرعون “ جب فرعون کو معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل کو موسیٰ لے بھاگا ہے تو ان کا تعاقب کرنے کے لیے ملک کے تمام بڑے شہروں سے آدمی اکٹھے کیے۔ ” ان ھؤلاء الخ “ یہ ہیں کیا چیز تھوڑے سے تو ہیں لیکن ہمارے غلام اور ماتحت ہو کر ہماری اجازت کے بغیر ہی نکل کھڑے ہوئے ہیں جس سے ہمارا غضب جوش میں آگیا ہے۔ ” وانا لجمیع حاذرون “ اور اب ہم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 52–59

ربط آیات جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ حق کا آغاز کیا تو فرعون نے آپ پر جادوگری کا الزام لگایا اور آپ سے مقابلہ کے لیے ملک بھر کے جادوگروں کو اکٹھا کیا ۔ فرعونیوں کے قومی میلے کے دن سب لوگ ایک کھلے میدان میں جمع ہوگئے ۔ جہاں جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنا تھا۔ جادوگروں نے پہل کی اور کچھ رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں جو دوڑتے ہوئے سانپ نظر آنے لگیں ۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گئی اور جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل گئی ۔ یہ معجزہ دیکھ کر جادوگر تو ایمان لے آئے مگر فرعون اور اس کے حواری اپنی ضد پر اپڑے رہے۔ فرعون نے جادوگروں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْٓ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ۝ 52 وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–52

تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَوْحَیْنَـآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنْ اَسْرِبِعِبَادِیْٓ اِنَّـکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 52) (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، بیشک آپ کا تعاقب کیا جائے گا۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کا دوسرا باب، آپ ( علیہ السلام) کی ہجرت گزشتہ رکوع کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جادوگروں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مقابلے میں جب جادو معجزے کے سامنے بری طرح ناکام ہوا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ہاتھ پر حق کو فتح عطا فرمائی تو فرعون نے لوگوں کو یہ تأثر دینے کے لیے کہ یہ باطل پر حق کی فتح نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور انھوں نے فرعون کی دھمکیوں کے مقابلہ میں پوری استقامت کا مظاہرہ کیا جس پر فرعون کے مظالم میں انتہا درجہ کی تیزی آئی جس وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہجرت کا حکم ہوا۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد نہ معلوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کتنی مدت تک شب و روز دعوت کے کام میں مصروف رہے لیکن حالات دن بدن دگرگوں ہوتے گئے۔ جن کا ہولناک منظر قرآن مجید کی آیات کے حوالہ سے ملاحظہ فرمائیں۔ ” جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بد ترین عذاب دیتے تھے۔ وہ تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے اس میں تمہارے رب کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنی اسرائیل کو رات نکلنے کا حکم : 52: وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنْ اَسْرِ (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو رات کو نکال کرلے جا) قراءت : حجازی نے ہمزہ وصل سے پڑھا۔ ای اَنِ اَسْرِ ۔ ِبِعِبَادِیْ (میرے بندوں کو) مراد بنی اسرائیل۔ ان کو اپنے بندے ہونے کی نسبت سے نوازا اس لئے کہ وہ خدا کے رسول پر ایمان لائے تھے۔ اسرؔ کا معنی ان کو رات کو لے کر جائو۔ یہ حکم جادوگروں کے ایمان لانے کے عرصہ بعد ہوا۔ اِنَّکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ (تمہارا پیچھا کیا جائے گا) فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھا کریں گے رات کو چلنے کے حکم کی علت فرعون اور اس کے لشکر کے تعاقب کو قرار دیا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 52۔ واوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی انکم متبعون۔ فرعون اور اس کے لشکر تمہارا پیچھا کر گے تاکہ وہ تمہیں مصر سے نکلنے سے روکے ۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو جمع کریں اروبنی اسرائیل کے ہر چارگھروالوں کو ایک گھر میں جمع کرو پھر بھیڑ کے بچوں کو ذبح کرکے ان کا خون گھروں کے دروازوں پر لگادو، میں فرشتوں کو حکم دوں گا، کہ جس گھر پر خون کانشان ہوگا اس میں داخل نہیں ہوں گے پھر میں فرشتوں کو حکم دوں گا وہ قوم فرعون کے بچوں کو مار ڈالیں گے اور ان کو مالی نقصان پہنچائیں گے پھر تم روٹیاں بناکرساتھ لے لینا، پھر راتوں رات میرے بندوں کو لے کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–68

(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 52–56

35 اور ہماری بھاری جمعیت کو بہرحال چوکنا رہنا ہے : سو ایسا فرعون نے اپنی خفت کو مٹانے اور حواس باختگی پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا کہ جمعیت تو ہماری بلاشبہ بہت بڑی ہے مگر ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت بہرحال ہے۔ سو ہم ایک بھاری جمعیت ہیں جو ہر طرح کے ذرائع و وسائل اور اسباب قوت رکھتے ہیں۔ لہذا ہم اس " شرذمہ قلیلہ " یعنی چھوٹے سے گروہ سے نمٹنے کیلئے پوری طرح چوکس اور تیار ہیں۔ ہم ان کو کبھی یہ موقع نہیں دے سکتے کہ یہ ہمارے اس ملک میں گڑبڑ پھیلائیں اور ہمارے امن وامان کیلئے خطرہ بنیں اور ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں۔ سو یہ تو اس طاغیہ کی بڑھکیں تھیں جو وہ اپنے اندر کے خوف کو چھپانے اور اپنی قول کے مورال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 52–68

آیات 52 تا 68 اسرار و معارف جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:52) اسر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تورات کو لے کر چل۔ اسراء (افعال) جس کے معنی رات کو لے کر چلنے اور رات کو سفر کرنے کے ہیں۔ سری مادہ۔ سری یسری (ضرب) بھی انہی معنوں میں مستعمل ہے۔ باب افعال سے ہے۔ سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا (17:1) پاک ذات ہے وہ جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا۔ اسری بعبادی۔ تم راتوں رات میرے بندوں کو (یہاں سے) بےجاؤ۔ انکم متبعون۔ یہ وجہ ہے راتوں رات لے جانے کی۔ تحقیق تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔ متبعون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ متبع واحد اتباع (افتعال) مصدر۔ متبع وہ شخص جس کس پیچھا کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 52–68

لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 : جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–68

فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔ (ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–52

[12] یہ ذکر اس وقت کا ہے جب حضرت موسیٰ کو تبلیغ کرتے ایک عرصہ گزر گیا اور فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل پر سلسلہ آزار جاری رہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا ۔ کہ اگر بنی اسرائیل کی نجات چاہتے ہو ۔ تو ان کو مصر سے لے کر نکل جاؤ۔ یقینا تمہارا تعاقب ہوگا ۔ اور پیچھا کیا جائے گا مگر گھبراو نہیں ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل کھڑے ہوئے ۔ فرعون کو پتہ چلا ۔ تو اس نے فوراً اپنے آدمی دوڑا دیئے اور کہنے گا ۔ کہ یہ چھوٹی سی جماعت ہے ۔ مگر اس نے ہمیں بہت پریشان کررکھا ہے ۔ ہم ان کی حرکت سے بہت نالاں ہیں ۔ ہم سب کے سب مسلح ہیں ۔ مگر پھر بھی نہ جانے کیا بات ہے ۔ کہ یہ لوگ بالکل ہم سے نہیں ڈرتے ۔ یہ پوری جماعت کی جماعت مصر سے تعاقب کے لئے نکل کھڑی ہوئی ۔ اور اس ترکیب سے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

52۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی اور حکم بھیجا کہ تو میرے بندوں کو راتوں رات لیکر نکل چل بلاشبہ ! تمہار پیچھا کیا جائے گا اور تمہارا تعاقب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 45–52

ف 4۔ یعنی بنی اسرائیل کو۔ 5۔ چناچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے مع قوم بنی اسرائیل ہجرت کرنے کا حکم : 52۔ اس جگہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے ہجرت کرنے کا حکم ہو رہا ہے اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونا چاہئے کہ اس واقعہ کے ساتھ ہی ہجرت کا حکم مل گیا ‘ نہیں ! ہرگز نہیں بلکہ ابھی تو میں فرعون کے مقابلہ میں اس خدائی جماعت کا قیام قرار پایا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اور حیثیت سے لوگ متعارف ہوئے تھے اگرچہ آپ کے تعارف کے پہلے روز فرعون مکمل شکست کھا گیا تھا لیکن اس نے اپنی چالاکی اور ہوشیاری سے اپنی شکست کے نقصان کو ایک حد تک بچالیا بلاشبہ وہ دشمن تھا لیکن حکومت کی صلاحتیں ضرور رکھتا تھا اس نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–58

قَالُوا لَا ضَيْرَ‌ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَ‌بِّنَا مُنقَلِبُونَ They said, "There is no harm. We are to return to our Lord. (26:50) When the Pharaoh threatened the magicians to kill them, and to cut their limbs and to crucify them, the magicians replied rather indifferently, the gist of their reply was, ` You do whatever you can. We shall lose nothing. Even if we are killed we will go back to our Lord, where there is nothing but comfort'. It is worth noting here that the magicians who had involved all their lives practicing the sinful sorcery and who believed in the Pharaoh's claim to be a god,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

41 The mention of migration here does not mean that Prophet Moses and the Israelites were immediately ordered to leave Egypt. The history of the intervening period has been related in Al-A`raf: 127-135 and Yunus: 83-89, and a part of it has been mentioned in Al-Mu`min: 23-46 and Az-Zukhruf: 46-56. Here the story is being cut short and only the final phase of the conflict between Pharaoh and Prophet Moses is given to show the tragic end of Pharaoh who had remained obdurate even after witnessing clear Signs and the ultimate success of Moses who had Divine support behind his message. 42 The…

Read the full tafseer →