Explained with ayahs 38–48
مناظرہ کے بعد مقابلہ
مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 33
یہ فقرہ اس خیال کی تصدیق کرتا ہے کہ جن حاضرین دربار نے حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھا تھا اور باہر جن لوگوں تک اس کی معتبر خبریں پہنچی تھیں ان کے عقیدے اپنے دین آبائی پر سے متزلزل ہوئے جا رہے تھے، اور اب ان کے دین کا دارو مدار بس اس پر رہ گیا تھا کہ کسی طرح جادوگر بھی وہ کام کردکھائیں جو موسیٰ ؑ نے کیا ہے۔ فرعون اور اس کے احیان سلطنت اسے خود ایک فیصلہ کن مقابلہ سمجھ رہے تھے۔ ان کے اپنے بھیجے ہوئے آدمی عوام الناس کے ذہن میں یہ بات بٹھاتے پھرتے تھے کہ اگر جادوگر کامیاب ہوگئے تو ہم موسیٰ کے دین میں جانے سے بچ جائیں گے ورنہ ہمارے دین و ایمان کی خیر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
خلاصہ تفسیر
(حضرت موسیٰ ؑ کے جو یہ معجزات ظاہر ہوئے تو) فرعون نے اہل دربار سے جو اس کے آس پاس (بیٹھے) تھے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بڑا ماہر جادوگر ہے اس کا (اصل) مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو (کے زور) سے (خود رئیس ہوجاوے اور) تم کو تمہاری زمین سے باہر کر دے (تاکہ بلا مزاحمت غیر اپنی قوم کو لے کر ریاست کرے) سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو (چندے) مہلت دیجئے اور (اپنے ملک کے حدود کے) شہروں میں (گرد اوروں کو یعنی) چپراسیوں کو (حکمنامے دے کر) بھیج دیجئے کہ وہ (سب شہروں سے) سب ماہر جادوگروں کو (جمع کر کے) آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں، غرض وہ جادوگر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت 40-38
حضرت موسیٰ سے مقابلہ کی تیاری
درباریوں کے اسی مشورے پر عمل کیا گیا۔ ایک خاص دن میں، ایک معین وقت پر، ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو مرکز میں جمع کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ دور سے مقام میں یہ تصریح بھی ہے کہ ایک دن میلہ کا اور وقت چاشت کا مقرر ہوا اور مقابلہ کے لئے میدان ایک ایسا منتخب ہوا جس میں ہر سمت کے لوگوں کو پہنچنے میں یکساں سہولت ہو۔ مزید برآں وقت موعود پر لوگوں کو جمع ہونے کے لئے خوب ابھارا بھی گیا کہ ہمارے ساحر اس وقت ملک کو ایک بہت بڑے خطرے سے بچانے کے لئے جمع ہور ہے ہیں۔ اس وجہ سے ہر شخص کا فرض ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی اور ان کا ساتھ دینے کے لئے اس موقع پر ضرور موجود ہو۔ ھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
43-1حضرت موسیٰ علیہ کی طرف سے جادوگروں کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کے لئے کہنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایک تو ان پر یہ واضح ہوجائے کہ اللہ کے پیغمبر اتنی بڑی تعداد میں نامی گرامی جادوگروں کے اجتماع اور ان کی ساحرانہ شعبدہ بازیوں سے خوف زدہ نہیں ہے۔ دوسرا یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ جب اللہ کے حکم سے یہ ساری شعبدہ بازیاں آن واحد میں ختم ہوجائیں گی تو دیکھنے والوں پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہونگے اور شاید اس طرح زیادہ لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، بلکہ جادوگر ہی سب سے پہلے ایمان لے آئے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
10: یعنی چمک دار ہوگیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فجمع السحرۃ لمیاقت ……الغلبین (40)
فرعون کی ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جادوگروں کی حمایت میں لوگوں کے اندر زبردست جوش و خروش پیدا کر رہا ہے۔
ھل انتم مجتمعون (39) لعلنا نتبع السحرۃ (30) ” تم اجتماع میں چلو گے شاید کہ ہم جادوگروں کے دین پر ہی رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔ “ یعنی کیا تم مقابلے کے دن ضرور آئو گے اور ہرگز پیچھے نہیں رہو گے۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ جادوگر یہ میدان کس طرح مارتے ہیں اور موسیٰ اسرائیل کے مقابلے میں مصری کس طرح غالب ہوتے ہیں اور عوام الناس ہمیشہ ایسے معاملات میں جمع ہوا کرتے ہیں لیکن ان کو اصل حقیقت کا پتہ نہیں ہوتا ہے کہ حکمرانوں عوام الناس کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
6 یعنی سب کو اکٹھا ہونا چاہیے۔ امید قوی ہے کہ ہمارے جادوگر غالب آئیں گے۔ اس وقت ہم موسیٰ کی شکست اور مغلوبیت دکھلانے کے لیے اپنے ساحرین ہی کی راہ پر چلیں گے۔ تو یا یہ ظاہر کرنا تھا کہ اس میں ہماری کوئی خود غرضی نہیں۔ جب مقابلہ میں ہمارا پلہ بھاری رہے گا تو انصافاً کسی کو ہمارے طریقہ سے منحرف ہونے کی گنجائش نہیں رہ سکتی۔
Read the full tafseer →آیت 40 لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ اِنْ کَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِیْنَ ”
کہ موسیٰ علیہ السلام اگر اپنے جادو کے زور سے ہمیں مرعوب و مغلوب کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں کیوں نہ ہم اپنی قوم کے جادوگروں کی سرداری قبول کر کے ان کی پیروی کریں اور موسیٰ علیہ السلام کے بجائے ان کی پناہ میں آجائیں !
Read the full tafseer →31 فرعون نے لوگوں کو اس اجتماع میں شمولیت کی عام دعوت اس امید پر دی تھی کہ چوٹی کے جادوگروں کی اتنی بڑی تعداد جمع ہوگی پھر اعیان سلطنت بھی وہاں موجود ہوں گے تو ان کے دبدبہ اور رعب سے بھی موسیٰ مرعوب ہو کر رہ جائے گا۔ اپنی اس توقع کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ کہنے لگا کہ امید قومی یہی ہے کہ ہمارے جادوگر غالب آئیں گے۔ اس صورت میں ہمیں اپنے جادوگروں ہی کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ موسیٰ کی شکست اور مغلوبیت پوری طرح سب لوگوں پر کھل کر واضح ہوجائے۔ گویا وہ لوگوں کو تاثر یہ دینا چاہتا تھا کہ جب مقابلہ میں ہمارا پلہ بھاری رہے گا تو اس کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آجائے گا کہ ہمارا ہی دین درست ہے اور اس سے منحرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
34۔ جادوگردار السلطنت میں آکر اکٹھے ہوئے، مقابلہ کا وقت ومقام طے پا گیا، اور عام منادی سرکاری کی طرف سے کردی گئی کہ سب لوگ آکر غلبہ حق (یعنی سرکاری مذہب کے غلبہ) کا تماشا دیکھیں۔ (آیت) ’ نتبع السحرۃ “۔ ساحروں کی راہ کے اتباع پر حیرت نہ ہو یہی ساحر دین مصری کے اعیان واساطین تھے۔ ساحر مصری تمدن میں باکمال ماہرین سائنس اور محققین مذہب دونوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ (آیت) ” ان ..... الغلبین “۔ فرعون کو تو یقین تھا کہ ہامرے ہی جادوگروں کی پارٹی کامیاب رہے گی۔ اور اسی کو صداقت وحقانت کا معیار قرار دے کر اس نے پکار کرا دی تھی کہ آؤ سب لوگ اپنے ملکی اور سرکاری ماہرین فن کے کمالات کا مشاہدہ کرو اور مشاہدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیت نمبر 34 تا 51
ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…
Read the full tafseer →لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ہم الغلبین۔ تاکہ جادوگر اگر غالب ہوجائیں تو ہم ان کی راہ پر رہیں۔ جادوگروں سے مراد ہیں وہ جادوگر جن کو فرعون نے موسیٰ کے مقابلے کے لئے بلوایا تھا۔
لَعَلَّ امید ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور امید کا لفظ اسی کی تائید کر رہا ہے کہ جادوگروں سے مراد ہیں فرعون کے جمع کئے ہوئے جادوگر۔ (حضرت مؤلف نے کہا) جادوگروں سے مراد ہیں موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) اور ان کی قوم والے اور اتباع سے مراد ہے اتباع دینی۔ اس وقت امید کا (حقیقی اصلی معنیٰ مراد نہ ہوگا بلکہ) مطلب یہ ہوگا کہ اگر موسیٰ اور ہارون غالب ہوگئے تو شاید ہم ان کے دین پر چلنے لگیں ‘ یعنی ہم ان کے دین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(38 تا 40) چناچہ بہتر جادوگر ایک معروف دن کے خاص وقت پر حاضر کیے گئے۔
اور وہ میلے یا ان کی عید کا دن یا نیروز تھا اور لوگوں میں بھی اعلان کرا دیا گیا کہ اگر جادوگر موسیٰ ؑ پر غالب آگئے تو ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيْقَاتِ۔۔ : سورة طٰہٰ (59) میں اس مقرر کردہ وقت اور مقام کا ذکر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ )
قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →لَعَلَّنَا [ شاید کہ ہم ] نَتَّبِعُ [ پیروی کریں ] السَّحَرَةَ [ جادوگروں کی ] اِنْ [ اگر ] كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ [ وہ لوگ ہی غالب ہونے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا
سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ
قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔
فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
22:۔ جادوگروں نے فرعون کے پاس پہنچ کر سب سے پہلے یہ سوال کیا حضور ! اگر ہم مقابلے میں غالب آگئے اور موسیٰ وہارون کو ہم نے ہرا دیا تو کیا ہمیں اس پر کچھ انعام بھی ملے گا ؟ ” قال نعم الخ “ فرعون نے کہا ضرور۔ انعام بھی ملے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمہیں مقربین دربار میں شامل کرلیا جائے گا۔ ظالم و جابر حکمران ہمیشہ اہل حق کے مقابلے کے لیے اس قسم کے کرایہ کے علماء کو اپنے گرد جمع رکھا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…
Read the full tafseer →لَعَلَّنَا نَتَّبِـــعُ السَّحَرَۃَ اِنْ كَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِيْنَ 40
لعل
لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40]
( لعل ) لعل
( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فَجُمِعَ السَّحَرَۃُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ وَّقِیْلَ لِلنَّاسِ ھَلْ اَنْـتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَ ۔ لَعَلَّـنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ اِنْ کَانُوْا ھُمُ الْغٰلِبِیْنَ ۔ (الشعرآء : 38، 39، 40 )
(چنانچہ ایک روز مقررہ وقت پر جادوگر اکٹھے کرلیے گئے۔ اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم (مقابلہ دیکھنے کے لیے) جمع ہو گے۔ تاکہ ہم جادوگروں کا ساتھ دیں، اگر وہ غالب رہنے والے ثابت ہوں۔ )
مقابلے کی تیاری
درباریوں کے مشورے پر پورے ملک میں جادوگروں کو جمع کرنے کے لیے لوگ پھیلا دیئے گئے اور وہ پورے ملک سے جادوگروں کو ایک معین دن اور معین وقت پر جمع کرکے لے آئے۔ وہ معین دن سورة طٰہٰ کی صراحت کے مطابق قبطیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
فہم القرآن
ربط کلام : جادوگروں اور موسیٰ (علیہ السلام) کا آپس میں آمنا سامنا۔
سورۃ طٰہٰ آیت 61 تا 65 میں قدرے تفصیل موجود ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ جادوگروں کے سامنے تشریف لائے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ افسوس تم پر کہ تمہیں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اگر تم اپنے مفاد کی خاطر اس بات پر ڈٹے رہے تو تمہیں اللہ کا عذاب رسوا کر دے گا۔ جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا وہ ناکام ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قدر دل سوز اور مؤثر انداز میں انھیں خطاب فرمایا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہوئے اور قریب تھا کہ ان کے درمیان موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →40: لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ (تاکہ ہم جادوگروں کی راہ پر چلیں) ان کے دین کے سلسلہ میں اِنْ کَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِیْنَ (اگر وہ غلبہ پانے والے ہوں) موسیٰ کو اس کے دین کے سلسلہ میں مغلوب کردیں اس سے ان کی غرض ساحروں کی اتباع نہیں بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ وہ موسیٰ کی اتباع نہ کریں انہوں نے کنایہ کے انداز میں بات کی کہ جب وہ جادوگروں کے پیرو ہونگے تو کم ازکم موسیٰ کی پیروی تو نہ کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
36 تا 49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان کر کے فوعون کو باتوں سے قائل کیا اور عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھا کر بھی اس کو قائل کیا تو فرعون نے اپنے سرداروں کو ابھارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے یہ تمہاری بادشاہت تمہارا ملک چھین لیویں ان کے جادو سے بچنے کی تمہاری کیا صلاح اور مصلحت ہے بیان کرو انہوں نے فرعون کی عملداری کی سب بستیوں کے بڑے بڑے جادوگروں کو بلوانے کی صلاح دی اور وہ جادوگر آئے اور مقابلہ ہو کر آخر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب رہے یہاں بعضے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
26 فرعون کے مستقبل کی وابستگی جادوگروں کے کرتب سے : سو فرعون نے اپنے مستقبل کو جادوگروں کے کرتب سے وابستہ کرتے ہوئے کہا کہ " شاید ہم جادوگروں کی پیروی کریں اگر وہ غالب رہیں "۔ یعنی ظاہر ہے کہ ملک بھر کے ماہر جادوگروں کے مقابلے میں تنہا موسیٰ (علیہ السلام) کیا ٹھہر سکے گا۔ جیت بہرحال ہماری ہی ہوگی۔ اس لئے ہم الزام اتارنے کے لئے سب لوگوں کے سامنے آسانی سے کہہ دیں گے کہ لو جی ہم تو حق ہی کی پیروی کرتے ہیں جو کہ اس مقابلے میں جادوگروں کی فتح کی صورت میں سامنے آگیا۔ لیکن اس کو کیا خبر تھی کہ نتیجہ اس کے برعکس اور ہی صورت میں نکلے گا اور غلبہ حق ہی کا ہوگا اور ان کو ذلت اور رسوائی سے دوچار ہونا پڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیات 34 تا 51
اسرار و معارف
تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
9 ۔ یعنی ان کے دین پر برقرار رہیں گے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
(26:40) لعلنا نتبع السحرۃ۔ (اگر ہمارے جادوگر غالب رہے یعنی یہ مقابلہ جیت گئے تو) شاید ہم جادو گروں کی راہ پر ہی رہ جائیں (اور موسیٰ کے دین سے بچ جائیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 :
ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
(ف 1) فرعون سے سرداروں نے یہ کہا کہ ان دونوں کو مہلت دیدو، کیونکہ فرعون نے موسیٰ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جوان کو زندہ رکھنا مناسب نہیں خیال کیا۔ اس لیے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) ان دونوں جادوگروں سے مقابلہ کرانا ہے اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے۔ اور اپنی بادشاہت کے شہروں میں نقبیوں کو بھیج دے تاکہ وہ تیرے پاس بڑے جادوگر واقف کاروں کو لے آئیں تب فرعون نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
[10] فرعون کو یقین تھا کہ اس کے جادوگروں کی پارٹی کامیاب رہے گی اور اسی کو صداقت و حقانیت کا معیار قرار
دے کر منادی کرا دی تھی کہ سب لوگ اپنے ملکی اور سرکاری ماہرین کے کمالات کا مشاہدہ کریں اور مشاہدے کے بعد اپنے دین فرعونی پر اور زیادہ جم جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
حل لغات :۔ ارجہ ۔ ڈھیل دیجئے ۔ یا توقف کیجئے ۔ ارجہ سے امر ہے جسے معنے تاخیرہ تعویق میں ڈالنے کے ہیں
Read the full tafseer →(40) تاکہ اگر جادوگر غالب آئیں تو ہم سب انہی کے پرور رہیں یعنی اگر جادوگروں کا غلبہ حاصل ہوجائے جیسا کہی ہی امید ہے تو پھر کہم سب اسی دین کے پرور ہیں جو جادوگروں کا دین ہے یعنی وہی دین جو فرعون نے اپنی خدائی کے لئے بنا رکھا ہے اور جس میں اہل فرعون کو اقتدار اور غلبہ حاصل ہے اور جس کے ماننے والے یہ جادوگر بھی ہیں بہرحال۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 2۔ مطلب یہ کہ جمع ہو کر دیکھو، امید ہے کہ جادوگر غالب رہیں گے، تو ہم لوگوں کے طریق کا حق ہونا حجت سے ثابت ہوجاوے گا۔
Read the full tafseer →فرعون کو یقین تھا کہ ہمارے باپ دادا کا دین ہی کامیاب قرار پائے گا :
40۔ جادوگر دارالسلطنت میں آکر اکٹھے ہونا شروع ہوگئے مقابلہ کا وقت ومقام طے پا گیا اور عام منادی گورنمنٹ کی طرف سے کردی گئی کہ سب لوگ غلبہ قومی حاصل کرنے کے لئے اس میں شرک کریں ، قرآن کریم کے ایک ایک لفظ پر غور کریں اس لئے کہ اس کے ایک ایک لفظ میں مضمون کا دریا بندہوتا ہے قرآن کریم کے الفاظ اس سلسلہ میں کیا ہیں ؟ فرمایا (آیت) ” لعلنا نتبع السحرۃ “۔ تاکہ ہم اپنے جادوگروں کی پیروی کریں ۔ اس جملہ نے ساری حقیقت واضح کردی کہ یہ جادوگر کون تھے اور یہ جادو کا کھیل کیا کھیل تھا اس طرح وہ کونسا اژدھا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →33 This sentence confirms the idea that those who had witnessed the miracle of Moses in the royal court and those who had heard of it reliably outside were losing faith in their ancestral religion, and now the strength of their faith depended on this that their own magicians also should give a performance similar to that of Moses. That is why Pharaoh and his chiefs themselves regarded this contest as a decisive one, and their heralds were busy moving about in the land, impressing on the people that if the magicians won the day, they would yet be secured against the risk of being won over to…
Read the full tafseer →