Ash-Shu'araa 26:36

Ash-Shu'araa · from ayah 36

26:36

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ وَابْعَثْ فِی الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِیْنَ ۟ۙقَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ وَابۡعَثۡ فِى الۡمَدَآئِنِ حٰشِرِيۡنَۙ

انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Postpone [the matter of] him and his brother and send among the cities gatherers

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:36

انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : ان کو اور ان کے بھائی کو کچھ مہلت دیجیے، اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ بولے انہیں ان کے بھائی کو ٹھہرائے رہو اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیجو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے کہ تو اسے اور اس کے بھائی (ہارون کے حکمِ سزا سنانے) کو مؤخر کر دے اور (تمام) شہروں میں (جادوگروں کو بلانے کے لئے) ہرکارے بھیج دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو مؤخر رکھ اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : اس کے اور اس کے بھائی کے معاملہ کو التوا میں ڈال دیجئے اور شہروں میں ایسے آدمی بھیج دیجئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا کہ اس کو اور اس کے بھائی کو ابھی ٹالیے اور شہروں میں ہر کارے بھیجے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے کہا کہ مہلت دو اس کو بھی اور اس کے بھائی کو بھی اور دوسری طرف یہ کہ بھیج دو ہر کارے سب بڑے بڑے شہروں میں

— مولانا اسحاق مدنی

درباریوں نے) کہا کہ آپ اسے اور اس کے بھائی کو کچھ مہلت دیجیے اور شہروں میں ہر کاروں کو بھیج دیجیے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا کہ اس کو اور اس کے بھائی کو کچھ مہلت دے دیں اور بھیج دیں تمام شہروں میں نقیب

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا اس کے اور اس کے بھائی کو کچھ مہلت دیں اور شہروں میں اعلان کروا دیجیے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: "Detain him and his brother for a while and send forth heralds to the cities

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Leave him and his brother alone for some time, and send heralds to the cities,

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Leave him and his brother alone for some time, and send heralds to the cities,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Put him off and his brother (for a while), and send callers to the cities;"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Put him off, (him) and his brother, and send into the cities summoners

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Postpone [the matter of] him and his brother and send among the cities gatherers

— Saheeh International

They said, "Hold him and his brother off for a while

— Muhammad Sarwar

They said: Give him and his brother respite and send heralds into the cities

— Muhammad Habib Shakir

They said: put off him and his brother, and send unto the cities callers.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Keep him and his brother in suspense (for a while), and dispatch to the Cities heralds to collect-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–37

فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 36–38

سورة الشُّعَرَآء 31 سور طٰہٰ میں گزر چکا ہے کہ اس مقابلے کے لیے قبطیوں کی قومی عید کا دن (یوم الزینۃ) مقرر کیا گیا تھا تاکہ ملک کے گوشے گوشے سے میلوں ٹھیلوں کی خاطر آنے والے سب لوگ یہ عظیم الشان " دنگل " دیکھنے کے لیے جمع ہوجائیں، اور اس کے لیے وقت بھی دن چڑھے کا طے ہوا تھا تاکہ روز روشن میں سب کی آنکھوں کے سامنے فریقین کی طاقت کا مظاہرہ ہو اور روشنی کی کمی کے باعث کوئی شک و شبہہ پیدا ہونے کی گنجائش نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–42

خلاصہ تفسیر (حضرت موسیٰ ؑ کے جو یہ معجزات ظاہر ہوئے تو) فرعون نے اہل دربار سے جو اس کے آس پاس (بیٹھے) تھے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بڑا ماہر جادوگر ہے اس کا (اصل) مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو (کے زور) سے (خود رئیس ہوجاوے اور) تم کو تمہاری زمین سے باہر کر دے (تاکہ بلا مزاحمت غیر اپنی قوم کو لے کر ریاست کرے) سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو (چندے) مہلت دیجئے اور (اپنے ملک کے حدود کے) شہروں میں (گرد اوروں کو یعنی) چپراسیوں کو (حکمنامے دے کر) بھیج دیجئے کہ وہ (سب شہروں سے) سب ماہر جادوگروں کو (جمع کر کے) آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں، غرض وہ جادوگر ایک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 36–37

37-36 درباریوں کا مشورہ درباریوں نے مشورہ دیا کہ بہتر ہے کہ ان کے جادو کا توڑ جادو ہی سے کیا جائے لیکن عام جادوگروں سے ان کا مقابلہ کرانا قرین مصلحت نہیں ہے۔ اس میں شکست اور جگ ہنسائی کا اندیشہ ہے۔ اس وجہ سے ربوقت تو ان کو ٹالیے اور مملکت کے تمام شہروں میں اپنے خاص آدمیوں کو بھیج کر تمام ماہر جادوگروں کو ہلو انیے اور ان سے ان کا مقابلہ کرائیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 36–37

37-1یعنی ان دونوں کو فی الحال اپنے حال پر چھوڑ دو ، اور تمام شہروں سے جادوگروں کو جمع کرکے ان کا باہمی مقابلہ کیا جائے تاکہ ان کے کرتب کا جواب اور تیری تائید و نصرت ہوجائے۔ اور یہ اللہ ہی کی طرف سے سب انتطام تھا تاکہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوجائیں اور دلائل کا بہ چشم خود مشاہدہ کریں، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عطا فرمائے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–37

قالوآ ارجہ واخاہ وابعث فی المدآئن حشیرین (36) یاتوک بکل سحار علیم (7) 3 یعنی ان کو اور ان کے بھائی کو روک لیں اور مصر کے بڑے بڑے شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔ ماہر ترین جادوگروں کو جمع کرلیں اور حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان کھلا مقابلہ ہو۔ یہاں وہ گرتا ہے اور پھر جادوگروں کے گروہ نمودار ہوتے ہیں اور عوام الناس مقابلے کے لئے دوڑے آ رہے ہیں ۔ بادشاہ اور بادشاہ کے حامی عوام جادوگروں کے حق میں نعرے لگاتے آ رہے ہیں۔ اب حق و باطل کے درمیان کھلا مقابلہ ہے۔ ایمان اور کفر کے درمیان رسہ کشی شروع ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت 37 یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ ” ہرکارے شاہی پیغام لے کر پورے ملک میں پھیل جائیں ‘ ہر جگہ ڈھنڈورا پیٹیں اور جہاں جہاں سے کوئی ماہر جادو گر ملے سب کو اکٹھا کر کے دربار شاہی میں پیش کردیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 درباری حضرات عموماً جی حضور کہنے اور بڑی سرکار کی ہاں میں ہاں ملانے کے عادی تھے۔ اور اسی میں ان کی عافیت ہوتی ہے۔ فوراً کہنے لگے۔ واقعی یہ بہت بڑا جادوگر ہے اور ہمیں جادو کا مقابلہ جادور ہی سے کرنا چاہئے۔ آپ یوں کیجئے کہ جلدی میں کچھ فیصلہ نہ کیجئے۔ بلکہ ملک بھر کے چوٹی کے جادوگروں کو اپنے ہاں بلا لیجئے۔ جو اس کا مقابلہ کرسکیں۔ فرعون اپنے درباریوں سے ایسا ہی جواب سننا چاہتا تھا۔ کیونکہ وہ خود اپنے درباریوں اور اپنی رعایا کو اسی چکر میں ڈالنا اور یہی کچھ ذہین نشین کرانا چاہتا تھا کہ موسیٰ اور اس کا بھائی اللہ کے رسول نہیں بلکہ محض جادوگر ہیں۔ چناچہ فرعون نے اپنے درباریوں سے مشورہ کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 36–37

33۔ (اور پھر وہ جادوگر مقابلہ کرکے اس نئے ساحر کا زور توڑیں) (آیت) ” سحار “۔ صیغہ مبالغہ ہے ساحر کا، یعنی بڑے ماہر فن ساحر، علیم اسی صفت کو اور بڑھا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سرکاری ماہرین فن بڑے بڑے باکمال تھے۔ سحر مصری تمدن میں آج کل کی طرح کوئی حقیر وبے حقیقت چیز نہ تھی، سائنس کی اعلی شاخوں کی طرح اس کا شمار علوم عالیہ میں تھا۔ اور ساحر کا مرتبہ وہ تھا جو آج سائنس کے کسی اکسپرٹ کا ہوتا ہے۔ (آیت) ” حشرین “۔ یعنی وہ جو جمع کرکے لائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 34–51

آیت نمبر 34 تا 51 ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا ارجہ واخارہ وابعث فی المدآئن حشرین۔ مصاحبین نے کہا (اس وقت تو) موسیٰ کو اور اس کے بھائی کو ٹال دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والوں کو بھیج دیجئے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 36–37

(36۔ 37) درباریوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو کچھ مہلت دیجیے اور ان کو قتل نہ کیجیے اور شہروں میں چپراسیوں کے ذریعے جادوگروں کے نام حکم نامے بھیج دیجیے کہ وہ سب ماہر جادوگروں کو لاکر حاضر کردیں تاکہ وہ موسیٰ ؑ کی طرح اپنا جادو دکھائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 36–37

قَالُوْٓا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ۔۔ : ان آیات کی تفسیر سورة اعراف (111، 112) میں گزر چکی ہے، فرق یہ ہے کہ وہاں ”اَرْسِلْ“ ہے اور یہاں ”ابْعث“ ہے، دونوں ہم معنی ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں ”سَحَّارٍ عَلِيْمٍ“ ہے اور یہاں ”سٰحِرٍ عَلِيْمٍ“ ہے، یہاں مبالغہ کا صیغہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے : ”کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔“ جبکہ وہاں ترجمہ ہے ”کہ وہ تیرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے آئیں۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–51

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَرْجِهْ [ تو ٹال دے اس کو ] وَاَخَاهُ [ اور اس کے بھائی کو ] وَابْعَثْ [ اور تو بھیج ] فِي الْمَدَاۗىِٕنِ [ شہروں میں ] حٰشِرِيْنَ [ جمع کرنے والوں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–52

بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–51

ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 35–36

21:۔ مقربین دربار نے مشورہ دیا کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ اس سے فتنے کا اندیشہ ہے۔ بلکہ فی الحال ان کو مہلت دو اور ان کے مقابلے کے لیے ملک کے کونے کونے سے ماہر جادوگروں اور ان کے استادوں کو جمع کرو جن کے مقابلے میں یہ مات کھا کر خود بخود رسوا ہوجائیں گے اور اپنی نبوت و رسالت کا نام بھی نہ لیں گے۔ ” فجمع السحرۃ الخ “ چناچہ مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کردیا گیا اور ملک بھر سے جادوگروں کو اکٹھا کرلیا گیا اور لوگوں کو بھی ترغیب دی گئی کہ وہ بھی مقررہ وقت پر جائے معہود میں پہنچ جائیں تاکہ وہ بھی یہ دلچسپ مقابلہ دیکھ سکیں۔ ” ھل انتم مجتمعون الاستفہام مجاز عن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–51

ربط آیات گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ وَابْعَثْ فِي الْمَدَاۗىِٕنِ حٰشِرِيْنَ۝ 36ۙ رَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد : إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عوامل ووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] ، وأَرْجَتِ النّاقة : دنا نتاجها، وحقیقته : جعلت لصاحبها رجاء في نفسها بقرب نتاجها . والْأُرْجُوَانَ : لون أحمر يفرّح تفریح الرّجاء . اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–52

تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 36–37

قَالُوْٓا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ وَابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَ ۔ یَاْ تُوْکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 36، 37) (وہ بولے کہ اسے اور اس کے بھائی کو ابھی ٹالیے اور شہروں میں ہر کارے بھیج دیجیے۔ جو آپ کے پاس تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں۔ ) درباریوں کا مشورہ درباریوں نے مشورہ دیا کہ آپ کے خیال میں یہ ایک بہت بڑا جادوگر ہے تو اس کے جادو کا توڑ تو جادو ہی سے کیا جاسکتا ہے اور ملک میں جادوگروں کی کمی نہیں۔ اس شہر میں بھی ان کی ایک بڑی تعداد ہوگی، لیکن مقابلہ چونکہ ایک بڑے جادوگر سے ہے اس لیے ہمیں صرف مقامی جادوگروں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ملک بھر میں اپنی طرف سے ہر شہر میں ہر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–43

فہم القرآن ربط کلام : جادوگروں اور موسیٰ (علیہ السلام) کا آپس میں آمنا سامنا۔ سورۃ طٰہٰ آیت 61 تا 65 میں قدرے تفصیل موجود ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ جادوگروں کے سامنے تشریف لائے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ افسوس تم پر کہ تمہیں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اگر تم اپنے مفاد کی خاطر اس بات پر ڈٹے رہے تو تمہیں اللہ کا عذاب رسوا کر دے گا۔ جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا وہ ناکام ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قدر دل سوز اور مؤثر انداز میں انھیں خطاب فرمایا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہوئے اور قریب تھا کہ ان کے درمیان موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سرداروں کا فتویٰ : 36: قَالُوْا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ (انہوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دے دو ) ان کے ہر معاملے کو ملتوی کردو۔ اور فتنہ کے خطرہ کی وجہ سے ان کے قتل پر برانگیختہ مت کرو۔ وَابْعَثْ فِی الْمَدَآپنِ حٰشِرِیْنَ (اور شہروں میں جمع کرنے والے مقرر کرو) پولیس کے اہل کار جو جادوگروں کو جمع کر لائیں انہوں نے فرعون کے قول ان ھذا لساحرٌ علیم کا اس قول سے معارضہ کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–48

36 تا 49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان کر کے فوعون کو باتوں سے قائل کیا اور عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھا کر بھی اس کو قائل کیا تو فرعون نے اپنے سرداروں کو ابھارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے یہ تمہاری بادشاہت تمہارا ملک چھین لیویں ان کے جادو سے بچنے کی تمہاری کیا صلاح اور مصلحت ہے بیان کرو انہوں نے فرعون کی عملداری کی سب بستیوں کے بڑے بڑے جادوگروں کو بلوانے کی صلاح دی اور وہ جادوگر آئے اور مقابلہ ہو کر آخر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب رہے یہاں بعضے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 36–38

25 جادوگروں کے حق کے مقابلے میں جمع کر لانے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جمع کردیا گیا جادوگروں کو وقت مقررہ پر "۔ یعنی ان کے جشن کے دن اور چاشت کے وقت۔ جیسا کہ سورة طہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ اور اس کیلئے ایک بڑے کھلے میدان کا انتخاب کیا گیا۔ اور لوگوں کو وہاں حاضری کی ترغیب بھی دی گئی کہ یہ ہماری قومی سلامتی اور ہمارے اجتماعی وقار کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک اور ہماری تہذیب کو اس وقت بہت بڑا خطرہ درپیش ہے۔ اس لیے ہم سب کا یہ فریضہ اور قومی اور اجتماعی فریضہ بنتا ہے کہ ہم پورے ذوق و شوق اور جوش و خروش سے وہاں جمع ہوں اور اپنے جادوگروں کی حوصلہ افزائی کریں۔ دوسری طرف قدرت کے غیبی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–51

آیات 34 تا 51 اسرار و معارف تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:36) ارجہ : ارج فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ارجی یرجی ارجاء (افعال) ۔ الامر۔ کام کو مؤخر کرنا۔ کام کو ٹال دینا۔ ڈھیل دینا۔ رجی مادہ رجاء رجو ورجاۃ ورجاء ۃ مصدر ہیں۔ ثلاثی مجرد سے رجا یرجوا (باب نصر) بمعنی امید رکھنا ، امید کرنا۔ خوف کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ارجہ تو اس کو ڈھیل دے۔ اس ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ ابعث امر واحد مذکر حاضر تو بھیج، تو روانہ کر، بعث یبعث (فتح) بعث سے جس کے معنی کسی چیز کا اٹھا کھڑا کرنے اور روانہ کرنے ہے ہیں ۔ قرآن مجید میں روانہ کرنا اور اٹھا کھڑا کرنے ہر دو معنی میں آیا ہے۔ مثلاً فبعث اللہ غرابا (5:31) اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیجا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–51

لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 : ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–48

(ف 1) فرعون سے سرداروں نے یہ کہا کہ ان دونوں کو مہلت دیدو، کیونکہ فرعون نے موسیٰ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جوان کو زندہ رکھنا مناسب نہیں خیال کیا۔ اس لیے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) ان دونوں جادوگروں سے مقابلہ کرانا ہے اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے۔ اور اپنی بادشاہت کے شہروں میں نقبیوں کو بھیج دے تاکہ وہ تیرے پاس بڑے جادوگر واقف کاروں کو لے آئیں تب فرعون نے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–40

[10] فرعون کو یقین تھا کہ اس کے جادوگروں کی پارٹی کامیاب رہے گی اور اسی کو صداقت و حقانیت کا معیار قرار دے کر منادی کرا دی تھی کہ سب لوگ اپنے ملکی اور سرکاری ماہرین کے کمالات کا مشاہدہ کریں اور مشاہدے کے بعد اپنے دین فرعونی پر اور زیادہ جم جائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–43

حل لغات :۔ ارجہ ۔ ڈھیل دیجئے ۔ یا توقف کیجئے ۔ ارجہ سے امر ہے جسے معنے تاخیرہ تعویق میں ڈالنے کے ہیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(36) سرداروں نے جواب دیا کہ تو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو اس وقت کچھ مہلت دے دے اور تو مختلف شہروں میں اپنے ہر کارے اور چوبدار بھیجدے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–38

ف 1۔ معین دن سے رماد یوم الزنیة ہے اور خاص وقت سے مراد وقت ضحی ہے جیسا سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں اس کا متعین ہونا مقابلہ کے لئے مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع کی گئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

درباریوں کا فرعون کو مشورہ کہ ان کو کچھ مہلت دے کر اس کے جادو کا توڑ کرنا چاہئے : 36۔ حکمران کا سارا انحصار اس کے مشیروں پر ہوتا ہے اور مشیر جو چاہیں اس کو کرنا پڑتا ہے ۔ درباریوں نے مشورہ دیا کہ ہمارے خیال میں تو بہتر چیز یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ دیر مہلت دے کر اس کے پیش کئے گئے دلائل کا سر کچلنا چاہئے اور اس کے ظاہر کردہ سانپ اور یدبیضاء کا واضح توڑ جب تک نہیں ہوگا یہ قضیہ ختم نہیں ہوگا کسی تحریک کو بزور دبانے کا نتیجہ دبانے والے کے حق میں کبھی اچھا نہیں نکلا اس لئے ہم تو یہی کہیں گے کہ اپنے ملک سے ماہرین بلا کر اس کے جادو کا مکمل طور پر توڑ کرا دو تاکہ آئندہ کسی کو نبوت و رسالت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–42

أَنْ أَرْ‌سِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17) Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi) An example of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–38

31 As already mentioned in Surah Ta Ha (v. 59), the day fixed for the purpose was the day of the national festivities of the Egyptians so that large crowds of people coming to the festivals from every part of the country should also witness the grand "contest which was to be held in the broad daylight so that the spectators could see the performances clearly.

Read the full tafseer →