Explained with ayahs 29–37
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ
جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
سورة الشُّعَرَآء 29
دونوں معجزوں کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ یا تو ایک لمحہ پہلے وہ اپنی رعیت کے ایک فرد کو برسر دربار رسالت کی باتیں اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کرتے دیکھ کر پاگل قرار دے رہا تھا (کیونکہ اس کے نزدیک ایک غلام قوم کے فرد کا اس جیسے با جبروت بادشاہ کے حضور ایسی جسارت کرنا پاگل پن کے سوا اور کچھ نہ ہوسکتا تھا) اور اسے دھمکی دے رہا تھا کہ اگر تو نے میرے سوا کسی کو معبود مانا تو جیل میں سڑا سڑا کر مار دوں گا، یا اب ان نشانیوں کو دیکھتے ہی اس پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ اسے اپنی بادشاہی اور اپنا ملک چھننے کا خطرہ لاحق ہوگیا اور بد حواسی میں اسے یہ بھی احساس نہ رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
خلاصہ تفسیر
(حضرت موسیٰ ؑ کے جو یہ معجزات ظاہر ہوئے تو) فرعون نے اہل دربار سے جو اس کے آس پاس (بیٹھے) تھے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بڑا ماہر جادوگر ہے اس کا (اصل) مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو (کے زور) سے (خود رئیس ہوجاوے اور) تم کو تمہاری زمین سے باہر کر دے (تاکہ بلا مزاحمت غیر اپنی قوم کو لے کر ریاست کرے) سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو (چندے) مہلت دیجئے اور (اپنے ملک کے حدود کے) شہروں میں (گرد اوروں کو یعنی) چپراسیوں کو (حکمنامے دے کر) بھیج دیجئے کہ وہ (سب شہروں سے) سب ماہر جادوگروں کو (جمع کر کے) آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں، غرض وہ جادوگر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت 35-34
معجزات کی قاہری اور فرعون کی ہوشیاری
ان معجزات کی قاہری ایسی نمایاں تھی کہ فرعن اور اس کے درباری سب ہک دک رہ گئے۔ لیکن فرعن نے نہایت ہوشیاری سے لوگوں کو مرعوبیت سے بچانے کی کوشش کی۔ اس نے حضرت موسیٰ کے اس کارنامے کی تو داد دی اس لئے کہ اس سے مضر نہیں تھا لیکن ساتھ ہی یہ تاثر بھی لوگوں کو دینے کی کوشش کی کہ یہ محض فن جادوگری میں مہارت کا کرشمہ ہے۔ اس کو نبوت و رسالت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مزید برآں حضرت موسیٰ کے خلاف ایک سیاسی بدگمانی پیدا کرنے کے لئے ذہنوں میں یہ وسوسہ بھی ڈال دیا کہ یہ شخص اپنے جادو کے زور سے لوگوں کو اپنے حق میں ہموار کرنا اور ہم کو اس ملک سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔…
Read the full tafseer →34-1فرعون بجائے اس کے کہ ان معجزات کو دیکھ کر، حضرت موسیٰ ؑ کی تصدیق کرتا اور ایمان لاتا، اس نے جھٹلانے اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور حضرت موسیٰ ؑ کی بابت کہا کہ یہ کوئی بڑا فنکار جادوگر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
10: یعنی چمک دار ہوگیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
قال للملا ……تامرون (35)
فرعون کے اس تبصرے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی مانتا ہے کہ یہ معجزہ غیر معملوی معجزہ ہے۔ اگرچہ وہ اسے سحر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ ساحر علیم ہے۔ اس کی بوکھلاہٹ کا اظہار اسی سے ہوتا ہے کہ قوم بھی معجزے سے متاثر ہوگئی ہے۔
یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ (26 : 25) ” وہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اندر سے شکست کھا گیا ہے۔ اب یہ اپنی قوم کے ساتھ نہایت مہذب انداز میں گفتگو کرتا ہے حالانکہ ان لوگوں کو وہ کہتا ہے کہ میں تمہارا الہہ ہوں اور وہ اس کے سامنے سجدے کرتے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
4 یا تو خدائی کے دعوے تھے، یا اتنی جلد ایسا حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے غلاموں اور پرستاروں کے احکام پر چلنے کے لیے آمادہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت 34 قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَہٓٗ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ ”
کہ یہ اتنا عرصہ جہاں کہیں بھی رہا ہے ‘ جادو سیکھتا رہا ہے اور لگتا ہے کہ اس فن میں اس نے خوب مہارت حاصل کرلی ہے۔۔ اور اب :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
27 فرعون اگرچہ خود بھی ان نشانیوں سے متاثر ہوچکا تھا تاہم اس نے درباریوں کے ذہن سے یہ اثر زائل کرنے کے لئے یوں کہا دیا کہ یہ تو بہت بڑا جادوگر معلوم ہوتا ہے۔ اور چاہتا یہ ہے کہ تمہیں اس طرح مرعوب اور دہشت زدہ کرکے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے اور خود اس ملک پر قبضہ جما لے۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ فرعون کی ان دونوں باتوں میں کھلا تضاد ہے پہلی بات تو اس نے درباریوں اور عام لوگوں کو الو بنانے کے لئے کہی تھی کیونکہ جادوگر تو ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور ملک مصر میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ مگر کسی جادوگر میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ جادو کے زور سے کوئی ملک تو بڑی چیز ہے کوئی چھوٹی سی بستی ہی فتح کرکے دکھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
32۔ (اور خود مع اپنی قوم کے حکومت کرے) انسان اپنے ہی نفس پر دوسروں کو قیام کرتا ہے، اور اپنے ہی ظرف کے پیمانہ سے سب کو ناپتا ہے۔ خارق عادت کی کوئی توجیہ ان مشرکوں کے ذہن میں آہی نہیں سکتی تھی بجز سحر وساحری کے۔ اور تبلیغ دین حق کا کوئی محرک ان کے خیال میں اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا بجز ہوس ملک گیری واقتدار دنیوی کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیت نمبر 34 تا 51
ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…
Read the full tafseer →قال للملا حولہ ان ہذا لسحر علیم۔ اپنے گرد جمع شدہ سرداروں سے کہنے لگا یہ بڑا جاننے والا جادوگر ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(34۔ 35) اس پر فرعون نے اہل دربار سے کہا کہ یہ رسول ماہر جادوگر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سرزمین مصر سے تمہیں نکال باہر کرے تم اس بارے میں مجھے کیا مشورہ دیتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗٓ۔۔ : ابھی خدائی کے دعوے تھے اور ابھی اپنے وزیروں اور درباریوں سے پوچھنے پر اتر آیا کہ بتاؤ کیا کیا جائے، اس آئی بلا کو کیونکر ٹالا جائے ؟ اس نے اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتے دیکھ کر یہ رویہ اختیار کیا۔ یہاں یہ ذکر ہے کہ یہ بات فرعون نے کہی، جب کہ سورة اعراف (109، 110) میں ہے کہ یہ بات فرعون کے سرداروں نے کہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات فرعون نے کہی تو اس کے سرداروں نے بھی وہی بات دہرا دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ )
قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗٓ [ اپنے اردگرد کے سرداروں سے ] اِنَّ ھٰذَا [ بیشک یہ ] لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ [ یقینا ایک عالم (یعنی ماہر) جادوگر ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ
قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔
فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
20:۔ اب فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیش کردہ عقلی دلائل اور معجزوں کے سامنے بالکل بےبس اور لاجواب ہوچکا تھا اور اس نے خطرہ محسوس کیا کہ کہیں اہل دربار موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مائل نہ ہوجائیں اس لیے اس نے فورًا اپنے درباریوں اور مقربوں سے کہا اب حقیقت واضح ہوگئی کہ موسیٰ پیغمبر نہیں ہے وہ ایک ماہر جادوگر ہے جو جادو کے زور سے تمہارے ملک پر اور تخت و تاج پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اب تم مشورہ دو کہ اب اس سے نجات پانے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ قال ھذا القول علی سبیل التنفیر لا یقبلوا قول موسیٰ (خازن) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…
Read the full tafseer →قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَہٗٓ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ 34ۙ
ملأ
المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ،
( م ل ء ) الملاء
۔ وی جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو مظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔
سحر
والسِّحْرُ يقال علی معان :
الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
قَالَ لِلْمَلَاِحَوْلَـہٗٓ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ۔ یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہٖ صلے ق فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 34، 35)
(فرعون نے اپنے اردگرد کے سرداروں سے کہا، بیشک یہ شخص بڑا ہی ماہر جادوگر ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو۔ )
معجزات کی قاہری اور فرعون کی ہشیاری
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی اپنے عصا اور اپنے یدبیضا کے دو معجزے دکھائے تو سب دیکھنے والے حیران و ششدر اور ہک دک رہ گئے۔ کسی کے تصور میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ وہ موسیٰ جو فرعون کے گھر میں پلے بڑھے اور پھر دس سال پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگروں کے ساتھ مقابلہ کا چیلنج دیا۔
انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سیرت اور جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ جب بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی تو سب سے پہلے انھیں پاگل اور جادو گر کہا گیا تھا۔ یہی الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر لگے کہ یہ بہت بڑا جادوگر ہے۔ حالانکہ فرعون جانتا تھا کہ جادوگر اس سیرت کے حامل لوگ نہیں ہوتے۔ جس سیرت سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سرفراز فرمایا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر فرعون نے سیاسی حربہ استعمال کرتے ہوئے اپنے وزیروں،…
Read the full tafseer →فرعون کی سیاسی چال :
34: قَالَ (فرعون کہنے لگا) لِلْمَلَاِ حَوْلَہٗ (اپنے اردگرد کے سرداروں کو )
نحو : اس پر دو نصب ہیں لفظوں میں منصوب ہے اور اس کا عامل ظرف میں مقدر فعل ہے اور محلاً منصوب ہے کیونکہ یہ الماء سے حال ہے۔ ای کائنین حو لہ اور اس کا عامل قال ؔ ہے۔
اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ (بیشک یہ پڑھا لکھا جادو گر ہے) یہ جادو کو جاننے والا ہے پھر اپنی قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف برانگیختہ کیا۔ یہ کہتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
34۔ قال، فرعون نے کہا، للملائ، حولہ ان ھذالساحر علیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
(31‘ 35) فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا وہ حق اور ناحق کی کھول دینے والی کیا چیز ہے اسے لا اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو ڈال دیا تو وہ ایک ناگ ہوگیا جس کے پاؤں اور بڑا سا منہ اور خوفناک صورت ‘ اور نکالا موسیٰ (علیہ السلام) نے ہاتھ اپنا گریبان میں سے تو ناگہاں وہ ایک سفید اس طرح چمکنے والا تھا جس طرح سورج کا ٹکڑا یہ دوسرا معجزہ دکھایا تو فرعون بدبحت نے اس کے جھٹلانے کی طرف جلدی کر کے کہا یہ تو ایسا جادوگر ہے جو اور جادوگروں سے زیادہ علم والا ہے یہ بات فرعون نے کہہ کر ان کو بہکا دیا اور یہ سوجھا دیا کہ موسیٰ کا یہ کام جادو کی قسم سے ہے معجزہ نہیں ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
24 معجزئہ موسوی کی ضرب کاری اور فرعون کی عیاری : سو یہ دونوں کھلے معجزے دیکھنے کے باوجود فرعون نے حق کو تسلیم کرنے اور اس کے آگے جھکنے کی بجائے اپنے حواریوں اور درباریوں سے کہا اور پوری ڈھٹائی سے کہا کہ یہ شخص تو یقینا ایک بڑا ماہر جادوگر ہے جو اپنے جادو کے زور سے تم لوگوں کو تمہارے ملک سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے۔ تو تم لوگ کیا حکم دیتے ہو ؟ سو یہاں پر حق کی ضرب کاری کا اثر و نتیجہ ملاحظہ ہو کہ کہاں فرعون کی وہ شورا شوری اور اکڑفوں کہ ۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } ۔ کے نعرے لگ رہے ہیں اور کہاں یہ خوفزدگی اور حواس باختگی کہ اپنے ماتحتوں اور درباریوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم مجھے کیا حکم دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیات 34 تا 51
اسرار و معارف
تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…
Read the full tafseer →5 ۔ اور خود یہاں کا حکمران بن بیٹھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(26:34) ملا۔ اسم جمع سرداروں کی یا بڑوں کی جماعت۔ ملأ بمعنی بھر دینا۔ قوم کے سردار یا اہل الرائے اشخاص اپنی رائے کی خوبی اور ذاتی محاسن کے اعتبار سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں اس لئے ان کو ملأ کہا جاتا ہے۔ جو لوگ زینت محاسن کے اعتبار سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں اس لئے ان کو ملأ کہا جاتا ہے۔ جو لوگ زینت محفل ہوں دلوں کو ہیبت و عظمت سے اور آنکھوں کو ظاہری حسن و جمال سے بھر دیں ملأ کہلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 :
ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
جادوگروں کا ایمان لانا۔
(ف 1) فرعون نے کہا اگر تم سچے ہو تو نشانی لاؤ، پس حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو ڈال دیا اور وہ فورا ایک اژدھا بن گیا جو ایک خوفناک صورت تھی پھر حضرت موسیٰ نے اپناہاتھ گریبان میں دے کر باہر نکالاتو وہ ہاتھ سفید ہوگیا اور اس طرح چمکنے لگا جس طرح سورج کا ٹکڑا یہ دوسرا معجزہ دکھایا تو فرعون بدبخت نے اس کو جھٹلانے کی طرح سے گھبرا کر کہا یہ تو ایسا جادوگر ہے جو اور جادوگروں سے زیادہ علم والا ہے۔ یہ بات فرعون نے سرداروں سے کہہ کر ان کو بہکا دیا اور یہ کہہ دیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کام جادو کی قسم ہے معجزہ نہیں ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–35
[9] رب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اتنی جلدی حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے ماتحتوں کے احکام پر چلنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
جادوگروں سے مقابلہ
1: فرعون نے جب موسیٰ کے معجزات کو دیکھا ۔ تو اپنے ہالی موالی سے کہنے لگا ۔ یہ تو بہت سمجھ دار جادوگر ہے ۔ اور چاہتا ہے کہ تم کو بسحر وجادو کے زور سے تمہارے ملک سے نکال دے ۔ اور بنی اسرائیل کو مصر کی حکومت سونپ دے ۔ یہ انقلاب پسند اور باغی ہے ۔ کہو تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا ۔ حضور ان دونوں کو چند مہلت دیجئے اور اس اثنا میں شہروں سے اور دیہات میں کارندے دوڑا دیجئے ۔ تاکہ وہ تمام بڑے بڑے جادوگروں کو لے آئیں ۔ فرعون کو یہ تجویز پسند آئی ۔ اس کے ملک کے ہر گوشہ سے جادو گر بلائے ۔ اور ایک دن مقابلے کے لئے مقرر کیا ۔ تمام لوگوں میں اعلان کے ذریعے مشتہر کردیا گیا ۔ کہ سب…
Read the full tafseer →(34) فرعون نے اپنے گردو پیش اور آس بیٹھنے والے سرداروں سے کہا کہ واقعی یہ شخص کوئی بڑا ماہر اور سمجھ دار جادوگر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
ف 1۔ معین دن سے رماد یوم الزنیة ہے اور خاص وقت سے مراد وقت ضحی ہے جیسا سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں اس کا متعین ہونا مقابلہ کے لئے مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع کی گئی۔
Read the full tafseer →فرعون نے اپنے سرداروں کو اکٹھا کیا اور ان کو بتایا کہ یہ دونوں ماہر جادوگر ہیں :
34۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل اتنے وزنی تھے کہ فرعون اور فرعون والوں کے پاس اس کا کوئی توڑ موجود نہیں تھا اور اس سانپ کا سروہ دلائل کے ساتھ نہیں کچل سکتا تھا اسی لئے فرعون نے نہایت چالاکی اور ہوشیاری سے لوگوں کو اس مرعوبیت سے بچانے کی کوشش کی اور کہا کہ دیکھو یہ دونوں تو بہت ہی ماہر جادوگر ہیں کہ انہوں نے اپنے من گھڑت دلائل سے ہمیں کچھ آنے جانے ہی نہیں دیا اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈال دی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
29 The impact of the two miracles can be judged from the fact that a moment before this Pharaoh was calling Moses a mad man, because he had claimed to be a Prophet and had had the boldness to openly demand release of the Israelites. He was also threatening Moses that if he took somebody else as Lord instead of him, he would cast him into the prison for life. But, after he had seen the Signs, he became so terror-stricKen that he felt his kingdom to be at stake, and in his contusion he did not realize that he was talking meaninglessly to his servants in the court. Two men from the oppressed…
Read the full tafseer →