Ash-Shu'araa 26:220

Ash-Shu'araa · from ayah 220

26:220

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ

بےشک وہ سننے اور جاننے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, He is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:220

وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک وہ سننے اور جاننے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین رکھو کہ وہی ہے جو ہر بات سنتا ہر چیز جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہی سنتا جانتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یقینا وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلاشبہ وہی ہے ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک وہ بڑا ہی سننے والا جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً وہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He is All-Hearing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, He is the All-Hearing, the All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, He is the All-Hearing, the All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! He, only He, is the Hearer, the Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, He is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

He is All-hearing and All-knowing."

— Muhammad Sarwar

Surely He is the Hearing, the Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

Verily He! He is the Hearer, the Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

For it is He Who heareth and knoweth all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:220

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 213–220

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 220–222

سورة الشُّعَرَآء 140 مراد ہیں کاہن، جوتشی، فال گیر، رمّال، اور " عامل " قسم کے لوگ جو غیب دانی کا ڈھونگ رچاتے پھرتے ہیں۔ گول مول لچھے دار باتیں بنا کر لوگوں کی قسمتیں بتاتے ہیں، یا سیانے بن کر جنوں اور روحوں اور مؤکلوں کے ذریعہ سے لوگوں کی بگڑی بنانے کا کاروبار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 214–223

وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ، عشیرہ کے معنے کنبہ اور خاندان اقربی کی قید سے ان میں سے بھی قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تبلیغ رسالت اور انذار پوری امت کے لئے فرض ہے اس جگہ خاندان کے لوگوں کی تخصیص میں کیا حکمت ہے ؟ غور کیا جائے تو اس میں تبلیغ و دعوت کے آسان اور موثر بنانے کا ایک خاص طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے آثار دور رس ہیں۔ وہ یہ کہ اپنے کنبہ اور خاندان کے لوگ اپنے سے قریب ہونے کی بناء پر اس کے حقدار بھی ہیں کہ ہر خیر اور اچھے کام میں ان کو دو رسوں سے مقدم کیا جائے اور باہمی تعلقات اور ذاتی واقفیت کی بناء پر ان میں کوئی جھوٹا دعویدار نہیں کھپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 218–220

آیت 220-218 یہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی شب خیزی، فکرمندی اور طلب رضائے الٰہی میں سرگرمی و مستعدی کی نہایت شاندار ودل نواز انداز میں تعریف و تحسین ہے کہ اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھو جو تمہیں اس وقت دیکھتا ہے جب تم شب میں تہجد کے لئے اٹھتے ہو اور اس سے دعا و مناجات کی برکتوں اور سعادتوں سے بہرہ مند ہوں۔ تمہاری یہ ساری سرگرمیاں تمہارے رب کے علم میں ہیں۔ وہ سمیع وعلیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کے علم میں ہیں تو یہ ضائع جانے والی نہیں۔ تمہارا رب عزیز و رحیم ہر مشکل میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ حین تقوم کی تاویل میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں اور ان میں سے ہر قول کی صحت کا احتمال ہے لیکن تقلبک فی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 220–222

222-1یعنی اس قرآن کے نزول میں شیطان کا کوئی دخل نہیں ہے، کیونکہ شیطان تو جھوٹوں اور گنہگاروں (یعنی کاہنوں، نجومیوں وغیرہ) پر اترتے ہیں نہ کہ انبیاء صالحین پر۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 214–222

50: یہ وہ آیت ہے جس کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو سب سے پہلی بار تبلیغ کا حکم ہوا اور یہ ہدایت دی گئی کہ تبلیغ کا آغاز اپنے قریبی خاندان کے لوگوں سے فرمائیں، چنانچہ اسی آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو جمع کرکے ان کو دین حق کی دعوت دی، اس میں یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ اصلاح کرنے والے کو سب سے پہلے اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 217–220

و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 220–222

10 یہاں پھر قرآن کے صدق اور عظمت شان پر تنبیہ فرمائی۔ یعنی ایسے ساجدی اور تہجد گزاروں کے امام کو جو اللہ کے معاملہ میں اپنے اور بیگانے کی کوئی پرواہ نہ کرے اور ساری دنیا سے ٹوٹ کر اکیلے خدا پر بھروسہ رکھے، کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ (معاذ اللہ) شیطان ان پر وحی لاتا تھا ؟ آؤ ! میں تم کو بتاؤں کہ شیطان کی وحی کس قسم کے لوگوں پر آتی ہے۔ وہ آتی ہے جھوٹوں پر، بدمعاشوں اور بدکاروں پر، کیونکہ شیطان سچے اور نیک آدمیوں سے بیزار ہے کہ یہ اس کو برا جانتے ہی۔ جھوٹے دغابازوں سے خوش ہے جو اس کی مرضی کے موافق ہیں۔ بھلا سب سچوں سے زیادہ سچے اور تمام نیکوں سے بڑھ کر نیک انسان کو شیطانی وحی سے کیا نسبت، حضور ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 220–221

آیت 221 ہَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ ” اے وہ لوگو ! جو سمجھتے ہو کہ یہ قرآن جناتّ اور خبیث روحوں کا بنایا ہوا ہے ‘ آؤ ! میں تمہیں بتاؤں کہ یہ شیاطین جو ہیں وہ کن لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 220–222

132 پہلے یہ بیان ہو رہا تھا کہ قرآن جیسی عظیم الشان کتاب کی تنزیل شیطانوں کے بس کا روگ نہیں اور یہ بات ناممکنات سے کہ وہ اس جیسی ایک آیت بھی لاسکیں۔ اس آیت میں یہ بتلایا جارہا ہے۔ شیطان کیسی چیز اتارتے ہیں اور کیسے لوگوں پر اترتے ہیں۔ شیطان صرف جھوٹوں، بدمعاشوں اور بدکاروں پر اترتے ہیں۔ و دیانتدار، راست باز اور نیک لوگوں سے بیزار ہوتے ہیں اور انھیں برا جانتے ہیں۔ وہ جھوٹے اور دغا باز قسم کے لوگوں پر خوش ہوتے ہیں اور یہی لوگ ان کی مرضی کے موافق ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ شیطانوں کے القاء کے مطابق کہانت کا کاروبار چلاتے ہیں اور ان سے مراد کاہن، جوتشی، فال نکالنے والے، رمال، جنار اور حامل قسم کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

117۔ آپ کی دعاؤں کا خوب سننے والا۔ آپ کے پاکیزہ حالات کا خوب جاننے والا ہے، آپ کے دشمنوں کی کھلی اور چھپی ہوئی دشمنی اس پر عیاں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انہ ہو السمیع العلیم۔ بلاشبہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے اقوال کو سنتا اور افعال کو نیتوں کو اور تمام امور کے انجام کو جانتا ہے لہٰذا اسی پر توکل کرنا مناسب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 214–220

(214 تا 220) اور آپ اپنے نزدیک کے کنبہ کو ڈرائیے اور مومنین کے ساتھ مشفقانہ پیش آئیے اور اگر یہ قریش آپ کا کہنا نہ مانیں تو آپ صاف فرما دیجیے کہ میں تمہارے افعال واقوال سے بیزار ہوں اور آپ اس اللہ پر جو کہ دشمنوں کو سزا دینے پر قادر اور آپ پر اور تمام مسلمانوں پر مہربان ہے توکل رکھیے، آپ جس وقت کہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور نماز شروع کرنے کے بعد قیام رکوع و سجود میں نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشت وبرخاست کو دیکھتا ہے یا یہ کہ جب کہ آپ اپنے آباء کی اصلاب اطہار میں رہے اس سے واقف ہے۔ وہ ان کی باتوں کو خوب سننے والا اور ان کو اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ واخفض جناحک…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 218–220

الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ۔۔ : یعنی اس عزیز و رحیم پر بھروسا رکھ جو ہر وقت تجھے دیکھ رہا ہے، اس وقت بھی جب تو کھڑا ہوتا ہے، رات قیام میں کھڑا ہو یا دعوت و جہاد کے فریضے کی ادائیگی کے لیے، یا کسی بھی کام کے لیے اور تیرے صحابہ میں تیرے گھومنے پھرنے کو بھی دیکھ رہا ہے جن کا خاص وصف ساجدین ہے، فرمایا : (تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا ۡ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ) [ الفتح : 29 ] ”تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 214–220

( وانذر عشیرتک الا قربین۔۔۔۔۔ ) وانذر عشیرتک الا قربین اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ ڈرانے میں قریبی رشتہ داروں کو خاص کیا ہے تاکہ قبیلہ اور اجنبی لوگوں کی طمع ختم ہوجائے جب ان کے شرک پر رہتے ہوئے آپ انہیں چھوڑ جائیں۔ قربی عشیرہ سے مراد قریش ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مراد بنو عبد مناف ہیں۔ صحیح مسلم میں حدیث واقع ہے ” اپنے قریبی رشتہ داروں اور مخلص ساتھیوں کو ڈرائیں “ (1) اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہ قرآن تھا جو تلاوت کیا جاتا تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا کیونکہ مصحف میں نقل ثابت نہیں اور نہ ہی یہ تواتر سے ثابت ہے اس کے ثبوت پر اشکال لازم آتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ کسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 218–220

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یراک حین تقوم “ (یعنی وہ تم کو دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو) نماز کے لیے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یراک حین تقوم “ (یعنی جب تم کھڑے ہوتے ہو) اپنے بستر سے یا اپنی مجلس سے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یرک حین تقوم “ (یعنی وہ تم کو دیکھتا ہے) جہاں بھی تو ہوتا ہے۔ 4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یرک حین تقوم “ (یعنی جب تو کھڑا ہوتا ہے) اپنی نماز میں آیت ” الذی یرک حین تقوم “ یعنی جیسے انبیاء چلتے پھرتے تھے تجھ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ وہ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 214–222

شیاطین ہر جھوٹے پر نازل ہوتے ہیں، اور شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں مشرکین کہا کرتے ہیں کہ ایک جن محمد ﷺ کو سکھاتا اور بتاتا ہے وہی باتیں آپ ہمیں بتا دیتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ (ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِیْنُ ) (کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں) (یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَکْثَرُھُمْ کَاذِبُوْنَ ) (جو کان لگا کر سنتے ہیں اور اکثر ان میں جھوٹ بولنے والے ہیں) یعنی ان جھوٹے لوگوں کے کانوں میں جو شیاطین باتیں ڈالتے ہیں یہ ان کی طرف خوب کان لگا کر سنتے ہیں اور شیاطین سے سن کر جو باتیں نقل کرتے ہیں ان میں بھی اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 210–223

ابطال کہانت وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 219–221

76:۔ یہ پہلے جواب ہی سے متعلق ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر شیاطین کا نازل ہونا محال ہے۔ یعنی شیاطین تو کاہنوں کے پاس آتے ہیں جو بڑے ہی جھوٹے اور بد عمل ہوتے ہیں۔ وہ شیطانوں کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور ان کی اکثر باتیں جھوٹی اور بےاصل ہوتی ہیں۔ لیکن اس کے برعکس محمد ﷺ سراپا صدق و صفا ہیں، انہوں نے آج تک ساری زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کا کردار بھی آئینے کی مانند پاک اور شفاف ہے اس لیے شیاطین کا آپ کے پاس آنا ناممکن اور محال ہے۔ وحیث کانت ساحۃ رسول اللہ ﷺ منزھۃ عن ان یحوم حولھا شائبۃ شیء من تلک الاوصاف اتضح استحالۃ تنزلھم علیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (ابو السعود ج 6 ص 564) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 210–223

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 220–221

اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ 220 ہَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰي مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ۝ 2 21ۭ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 220–223

واکثرہم کاذبون اور اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔ سفلی عملیات کے عامل اکثر ناپاک اور گندے رہا کرتے ہیں تاکہ شیاطین ان کے پاس خوشی خوشی آویں۔ اب رہے شاعر ان کا یہ حال ہے والشعراء الخ کہ ان کے پیچھے تو بدراہوں کی جماعت ہوا کرتی ہے یہ کوئی مضمون نظم کرتے وہ اس کو نقل کرتے پھرتے ہیں مگر اس سے مراد وہ شاعر ہیں کہ جو آنحضرت ﷺ کی ہجو کیا کرتے تھے جیسا کہ ہبیرہ بن وہب وامیۃ بن ابی الصلت اور لوگوں کو جمع کر کے سناتے تھے اور وہ لوگوں سے بیان کرتے پھرتے تھے۔ الم تر الخ یہ ان کی بدراہی کی دلیل ہے کہ ہر میدان سخن میں ٹکراتے پھرتے ہیں کیا کیا جھوٹی اور مبالغہ آمیز بندشیں باندھتے ہیں وانہم یقولون منہ سے کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 217–220

وَتَوَکَّلْ عَلَی الْعَزِیْزِالرَّحِیْمِ ۔ الَّذِیْ یَرٰ کَ حِیْنَ تَـقُوْمُ ۔ وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الشعرآء : 217 تا 220) (اور بھروسہ کیجیے خدائے عزیزورحیم پر۔ جو آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جس وقت آپ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور دیکھ رہا ہوتا ہے آپ کی آمد وشد کو سجدہ کرنے والوں میں۔ بیشک وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی نافرمانوں سے اعلانِ براءت کے بعد یقینا دشواریوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن آپ ﷺ کے لیے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ ﷺ اس ذات پر بھروسہ کیجیے جو عزیز بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ اس نے پہلے بھی ہر مشکل وقت میں آپ ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 217–221

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کا رسالت مآب ﷺ پر یہ الزام تھا کہ آپ پر شیطان نازل ہوتا ہے جو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں آپ پر پڑھتا ہے۔ اسی سورة 210 تا 212 میں کفار کے الزام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ پر شیطان نہیں اترتے نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو دعوت اور اس کا طریقہ کار بتلایا گیا ہے۔ اب کفار کے الزام کا دوسرے انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ میرے نبی ﷺ پر نزول شیطان کا الزام لگانے والو ! سنو میں تمہیں بتلاؤں کہ شیطان کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں ہر جھوٹے اور گناہ گار پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ وہی شیطان کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور ان کی اکثریت جھوٹے لوگوں پر مشتمل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عبادت کی مشقت آسان کردی : 220: اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ (بیشک وہ ہر بات کو سننے والا) جو تم کہتے ہوالْعَلِیْمُ (اور ہر بات کو جاننے والا ہے) جس کی تم نیت کرتے ہو اور جس پر عمل کرتے ہو۔ اس میں عبادات کی مشقتیں آپ پر آسان کردی۔ وہ اس طرح کہ آپ کو خبر دی کہ آپ ہماری نگاہ میں ہیں۔ اب اس پر کیا مشقت ہوگی جو یہ جانتا ہو کہ میرا مولا مجھے دیکھ رہا ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ کہا جائے بعینی مایتحمل لمتحمّلون من اجلی میری خاطر جو برداشت کرنے والے برداشت کرتے ہیں وہ میری نگاہ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 219–220

219۔ وتقلبک فی الساجدین۔ یعنی نماز کے اندر قیام اور رکوع اور سجود اور قعود کی طرف تمہارے منتقل ہونے کو وہ دیکھ رہا ہے۔ عکرمہ ، عطیہ نیابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فی الساجدین کا ترجمہ، فی المصلین، سے کیا ہے۔ مقاتل کلبی کا بیان ہے کہ فی المصلین، یعنی مع المصلین، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم تنہا نماز پڑھتے ہو اور اس وقت بھی دیکھتا ہے جب نمازیوں کے ساتھ جماعت کی نماز پڑھتے ہو۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جو نمازیوں کی طرف نظر گھما تے پھرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے اللہ اس کو دیکھتا ہے کہ رسول اللہ جس طرح سامنے سے دیکھتے تھے اسی طرح پشت کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 215–224

(215 تا 224) اوپر رشتہ داروں کو ڈرسنانے کا حکم تھا اب فرمایا بازو جھکادے ان کے لیے جو تیرے ساتھ ہوں ایماندار مطلب یہ ہے کہ ایمان والے خواہ اپنے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ان کے ساتھ تو شفقت سے رہ اور جو تیری نافرمانی کرے وہ کوئی کیوں نہ ہو اس سے جدارہ اور کہہ کہ میں بیزار ہوں تمہاری حرکتوں سے اور بھروسہ کر اس زبر دست رحم والے پر جو تجھ کو دیکھتا ہے جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور پھرتا ہے سجدہ کرنے والوں میں ان کی خبر کو کہ غافل ہیں یا یاد الٰہی میں مشغول ہیں بیشک وہ پروردگار ہر ایک بات کو سنتا جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے جب تم صحابہ ؓ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع سجود اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 217–220

آیت 217 سے 220 جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسا اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لئے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چناچہ فرمایا : ( و توکل علی العزیز الرحیم) ” اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔ “ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لئے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 220–221

116 شیاطین کن لوگوں پر اترتے ہیں ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا میں تم لوگوں کو نہ بتادوں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں ؟ "۔ اوپر فرمایا گیا تھا کہ اس کتاب مبارک کو نہ شیطان لاسکتے ہیں اور نہ ہی وہ اس قابل ہیں۔ اب یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ آؤہم تمہیں بتائیں کہ شیطان کس قماش کے لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔ وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں اور ان کی امتیازی صفات کیا ہوتی ہیں ؟ کافر لوگ حضور ﷺ کیخلاف یہ پروپیگنڈہ کرتے تھے کہ آپ ﷺ ۔ نعوذ باللہ ۔ کاہن ہیں۔ اور جس طرح کاہنوں پر ان کے شیاطین غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں اسی طرح آپ ﷺ پر بھی یہ شیاطین اس کلام کا القاء کرتے ہیں جس کو یہ صاحب وحی کے نام سے ہمارے سامنے پیش کرتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 219–222

10 ۔ جیسے کاہن، جوتشی، نجومی، فال گیر اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنیوالا وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 218–220

(26:218) تقوم مضارع واحد مذکر حاضر۔ قیام مصدر۔ (باب نصر) تو کھڑا ہوتا ہے تو اٹھتا ہے۔ ای تقوم الی الصلوۃ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ تقلبک۔ مضاف مجاف الیہ۔ تقلب بروزن (تفعیل) مصدر ہے۔ پھرنا۔ آنا جانا ۔ گھومنا۔ الٹنا پلٹنا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تیرا گھومنا۔ تیرا پھرنا ۔ تیرا آنا جانا۔ تقلب منصوب بوجہ مفعول یری کے ہے۔ السجدین۔ سجدہ کرنے والے بمعنی نمازی۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 214–227

لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 : عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 214–223

(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ اپنے نزدیکی قرابت داروں کو بھی ڈراؤ چناچہ نبی ﷺ نے قریب کے رشتہ دار بنی ہاشم اور بنی مطلب کو علی الاعلان ڈرایاجیسا کہ بخاری ومسلم میں وارد ہے آگے فرمایا کہ اے محبوب جو ایمان والے تمہارے تابع ہیں ان کے لیے اپنی رحمت کا بازو بچھائے رکھو، یعنی شفقت سے پیش آیا کرو اور جو تمہاری نافرمانی کریں تو فرمادو کہ میں تمہارے افعال سے بری الذمہ ہون اور خدائے زبردست مہربان پر بھروسہ رکھو جو تم کو دیکھتا ہے نماز تہجد میں تم جس وقت اٹھتے ہو اور جب تم صحابہ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع و سجود دیکھتا ہے بیشک آپ کا رب خوب سننے والا اور جاننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 220–223

[38] یعنی شیاطین فرشتوں سے کچھ سن گن لے کر اس میں بہت سا جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اپنے کاہن دوستوں کو پہنچاتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ مطلب لیا ہے کہ جھوٹے لپاٹیے کاہن شیاطین سے کچھ باتیں سن لیتے ہیں اور پھر اپنی طرف سے بہت سا جھوٹ ملا کر لوگوں کے کانوں میں پھونکتے پھرتے ہیں۔ یہ کفار کے اس الزام کا جواب ہے کہ وہ نبی ﷺ کو کاہن کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(220) کیونکہ وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے یعنی جب وہ عزیز بھی ہے اور تم پر مہربان بھی سننے والا اور جاننے والا بھی ہے اور آپ کے رات کو اٹھنے اور نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشست و برخاست سے بھی باخبر ہے لہٰذا آپ کو اس ہی پر بھروسہ رکھناچاہئے اور آپ اسی پر توکل کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 215–220

ف 1۔ پس جب اس کو علم بھی کامل ہے اور آپ پر مہربان بھی ہے اور اس کو سب کچھ قدرت ہے تو ضرور وہ لائق توکل ہے، وہ آپ کو ضرر حقیقی سے بچاوے گا۔ (فائدہ) جو ضرر متوکل کو پہنچتا ہے وہ صوری ہوتا ہے جس کے تحت میں ہزاروں منافع ہوتے ہیں، جن کا کبھی دنیا میں کبھی آخرت میں ظہور ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ تیرا رب سب کچھ سنتا اور جانتا ہے : 220۔ اوپر دیکھنے کا ذکر کیا تھا کہ اللہ رب العزت تیرا نماز کے اندر اس طرح والہانہ طرز سے اٹھنا اور گرنا اور گرنا اور اٹھنا خوب دیکھ رہا ہے اور اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ وہ سننے والا اور جاننے والا بھی ہے یعنی آپ کی اس کیفیت کو بھی دیکھتا ہے اور آپ ﷺ کی تسبیح وتہلیل کو بھی سنتا ہے اور اس کا نتیجہ بھی وہ جانتا ہے کہ کیا نکلنا چاہئے کیونکہ سارے نتائج کا اعلان کرنے والا وہ خود ہے آپ ﷺ کی نماز کی حرکتیں اذکار پر فوقیت رکھتی ہیں اور آپ ﷺ کی نماز کے اذکار آپ ﷺ کی نماز کی حرکتوں پر ‘ گویا دونوں باتیں ہی ایک دوسرے سے سوائی ہیں اور آپ ﷺ کو انعام بھی اسی طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 214–223

وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ ﴿214﴾ And warn the nearest people of your clan, -26:214. ` Ashirah'o, عَشِيرَ‌ۃ means clan and by limiting it with 'aqrabin (the nearest people) it is used for close relatives. It is worth noting here that the mission of the Holy Prophet ﷺ as a messenger is universal to the whole Ummah, then what is the wisdom in making it special for the members of the clan? But if we look at it rather closely, we will notice in it an easy and effective way for preaching, which would have far-reaching effect. One's own family members having the privilege of closeness…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 220–222

140 This implies the sorcerers, astrologers, fortune-tellers and conjurers who pose as knowers of the unseen and tell the people their future, or as wise men who have control over jinns and spirits and can make the destinies of the people through them.

Read the full tafseer →